حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ: مَا اسْمُكَ؟ فَقُلْتُ: شُعْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو شُعْبَةَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ الْمُزَنِيِّ، وَرَأَى رَجُلاً لَطَمَ غُلاَمَهُ، فَقَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الصُّورَةَ مُحَرَّمَةٌ؟ رَأَيْتُنِي وَإِنِّي سَابِعُ سَبْعَةِ إِخْوَةٍ، عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا لَنَا إِلاَّ خَادِمٌ، فَلَطَمَهُ أَحَدُنَا، فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُعْتِقَهُ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا سوید بن مقرن المزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس نے اپنے غلام کو تھپڑ مارا ہے، تو فرمایا: تمہیں معلوم نہیں کہ چہرے پر مارنا حرام ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور میں دیکھا کہ ہم سات بھائی تھے، اور ہماری صرف ایک خادمہ تھی۔ ہم میں سے کسی نے اسے طمانچہ مارا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے آزاد کر دیں۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 179]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه مسلم، كتاب الإيمان: 1658 و أبوداؤد: 5166»
الحكم: صحيح