بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جس نے ہمسائے کو اتنی تکلیف دی کہ وہ اپنے گھر سے نکل گیا
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب الجار جس نے ہمسائے کو اتنی تکلیف دی کہ وہ اپنے گھر سے نکل گیا
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 127 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَرْطَاةُ بْنُ الْمُنْذِرِ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ، يَعْنِي أَبَا عَامِرٍ الْحِمْصِيَّ، قَالَ‏:‏ كَانَ ثَوْبَانُ يَقُولُ‏:‏ مَا مِنْ رَجُلَيْنِ يَتَصَارَمَانِ فَوْقَ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ، فَيَهْلِكُ أَحَدُهُمَا، فَمَاتَا وَهُمَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الْمُصَارَمَةِ، إِلاَّ هَلَكَا جَمِيعًا، وَمَا مِنْ جَارٍ يَظْلِمُ جَارَهُ وَيَقْهَرُهُ، حَتَّى يَحْمِلَهُ ذَلِكَ عَلَى أَنْ يَخْرُجَ مِنْ مَنْزِلِهِ، إِلاَّ هَلَكَ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جو دو اشخاص تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کرتے ہیں، پھر ان دونوں میں سے ایک فوت ہو جاتا ہے (یا پھر اس صورت میں کہ) دونوں مر جائیں اور وہ ابھی تک ایک دوسرے سے قطع تعلقی اختیار کیے ہوں تو وہ دونوں تباہ ہو گئے، یعنی عذاب اور جہنم کے مستحق ٹھہرے۔ اور کوئی شخص جو اپنے پڑوسی پر ظلم و زیادتی کرتا ہے یہاں تک کہ وہ اس ظلم و زیادتی سے تنگ آ کر گھر چھوڑنے پر مجبور ہو جاتا ہے، تو وہ شخص بھی یقیناً تباہ ہو گیا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الْجَارِ/حدیث: 127]
تخریج الحدیث
«صحيح:» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح