بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
(حسن سلوک کا عطیے میں) پڑوسی سے ابتدا کرنے کا بیان
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب الجار (حسن سلوک کا عطیے میں) پڑوسی سے ابتدا کرنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 104 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ‏:‏ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جبریل مجھے پڑوسی کے متعلق برابر وصیت کرتے رہے حتی کہ مجھے گمان گزرا کہ وہ اسے وارث قرار دے دیں گے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الْجَارِ/حدیث: 104]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، الأدب، باب الوصاة بالجار: 6015 و مسلم: 2625 - الإرواء: 891»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 105 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلامٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ شَابُورَ، وَأَبِي إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ ذُبِحَتْ لَهُ شَاةٌ، فَجَعَلَ يَقُولُ لِغُلاَمِهِ‏:‏ أَهْدَيْتَ لِجَارِنَا الْيَهُودِيِّ‏؟‏ أَهْدَيْتَ لِجَارِنَا الْيَهُودِيِّ‏؟‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ‏:‏ ”مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ان کے لیے ایک بکری ذبح کی گئی تو وہ اپنے غلام سے کہنے لگے: کیا تو نے ہمارے یہودی ہمسائے کو کچھ (گوشت) بھیجا ہے؟ کیا تو نے یہودی پڑوسی کو کچھ ہدیہ بھیجا ہے؟ (پھر کہنے لگے) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جبریل مجھے پڑوسی کے بارے میں برابر وصیت کرتے رہے حتی کہ مجھے خیال گزرا کہ عن قریب اسے وارث بنا دیں گے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الْجَارِ/حدیث: 105]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه أبوداؤد، الأدب، باب فى حق الجوار: 5152 و الترمذي: 1943 - الإرواء: 891»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 106 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلامٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ‏:‏ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ، أَنَّ عَمْرَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ‏:‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ‏:‏ ”مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ لَيُوَرِّثُهُ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا: جبریل مجھے ہمسایوں کے متعلق برابر وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے خیال گزرا کہ وہ انہیں ضرور وارث قرار دے دیں گے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الْجَارِ/حدیث: 106]
تخریج الحدیث
«صحيح: انظر الحديث: 101»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح