بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
اولاد بخل اور بزدلی کا سبب ہے
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب اولاد بخل اور بزدلی کا سبب ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 84 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ‏:‏ كَتَبَ إِلَيَّ هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ‏:‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمًا‏:‏ وَاللَّهِ مَا عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ رَجُلٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ عُمَرَ، فَلَمَّا خَرَجَ رَجَعَ فَقَالَ‏:‏ كَيْفَ حَلَفْتُ أَيْ بُنَيَّةُ‏؟‏ فَقُلْتُ لَهُ، فَقَالَ‏:‏ أَعَزُّ عَلَيَّ، وَالْوَلَدُ أَلْوَطُ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ایک روز سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے روئے زمین پر عمر سے بڑھ کر کوئی محبوب نہیں۔ یہ کہہ کر باہر نکلے، واپس آئے تو فرمایا: بیٹی! میں نے کیسے قسم اٹھائی تھی؟ میں نے ان سے کہا: (آپ نے ایسے قسم اٹھائی تھی) پھر فرمایا: (عمر) مجھے سب سے زیادہ عزیز ہیں، تاہم (محبوب بننے کے) اولاد زیادہ لائق ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 84]
تخریج الحدیث
«حسن: رواه ابن أبى داؤد فى مسند عاشر: 47 و اللالكائي فى السنة: 2502 و ابن عساكر فى تاريخه: 247/44»
قال الشيخ الألباني
حسن
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 85 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ قَالَ‏:‏ كُنْتُ شَاهِدًا ابْنَ عُمَرَ إِذْ سَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ دَمِ الْبَعُوضَةِ‏؟‏ فَقَالَ‏:‏ مِمَّنْ أَنْتَ‏؟‏ فَقَالَ‏:‏ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، فَقَالَ‏:‏ انْظُرُوا إِلَى هَذَا، يَسْأَلُنِي عَنْ دَمِ الْبَعُوضَةِ، وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ‏:‏ ”هُمَا رَيْحَانَيَّ مِنَ الدُّنْيَا‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
عبدالرحمن بن ابو نعم سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا۔ ایک آدمی نے سوال کیا کہ مچھر کو مارنا کیسا ہے (جائز ہے یا ناجائز؟) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تو کہاں سے آیا ہے؟ اس نے کہا: عراق سے۔ تب سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اسے دیکھو! مچھر کے مارنے کے جائز یا ناجائز ہونے کے بارے میں پوچھتا ہے، حالانکہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لخت جگر کو شہید کیا (تو انہیں ذرا خیال نہ آیا)، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا: وہ دونوں (سیدنا حسن و سیدنا حسین رضی اللہ عنہما) دنیا میں میرے پھول ہیں۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 85]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، فضائل أصحاب النبى صلى الله عليه و آله وسلم: 3753 و الترمذي: 3770 - الصحيحة: 2494»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح