حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمًا: وَاللَّهِ مَا عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ رَجُلٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ عُمَرَ، فَلَمَّا خَرَجَ رَجَعَ فَقَالَ: كَيْفَ حَلَفْتُ أَيْ بُنَيَّةُ؟ فَقُلْتُ لَهُ، فَقَالَ: أَعَزُّ عَلَيَّ، وَالْوَلَدُ أَلْوَطُ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ایک روز سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے روئے زمین پر عمر سے بڑھ کر کوئی محبوب نہیں۔ یہ کہہ کر باہر نکلے، واپس آئے تو فرمایا: بیٹی! میں نے کیسے قسم اٹھائی تھی؟ میں نے ان سے کہا: (آپ نے ایسے قسم اٹھائی تھی) پھر فرمایا: (عمر) مجھے سب سے زیادہ عزیز ہیں، تاہم (محبوب بننے کے) اولاد زیادہ لائق ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 84]
تخریج الحدیث
«حسن: رواه ابن أبى داؤد فى مسند عاشر: 47 و اللالكائي فى السنة: 2502 و ابن عساكر فى تاريخه: 247/44»
الحكم: حسن