بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

الادب المفرد

حدیث نمبر: 85 — اولاد بخل اور بزدلی کا سبب ہے
کتب الادب المفرد كتاب اولاد بخل اور بزدلی کا سبب ہے حدیث 85
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ قَالَ‏:‏ كُنْتُ شَاهِدًا ابْنَ عُمَرَ إِذْ سَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ دَمِ الْبَعُوضَةِ‏؟‏ فَقَالَ‏:‏ مِمَّنْ أَنْتَ‏؟‏ فَقَالَ‏:‏ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، فَقَالَ‏:‏ انْظُرُوا إِلَى هَذَا، يَسْأَلُنِي عَنْ دَمِ الْبَعُوضَةِ، وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ‏:‏ ”هُمَا رَيْحَانَيَّ مِنَ الدُّنْيَا‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
عبدالرحمن بن ابو نعم سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا۔ ایک آدمی نے سوال کیا کہ مچھر کو مارنا کیسا ہے (جائز ہے یا ناجائز؟) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تو کہاں سے آیا ہے؟ اس نے کہا: عراق سے۔ تب سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اسے دیکھو! مچھر کے مارنے کے جائز یا ناجائز ہونے کے بارے میں پوچھتا ہے، حالانکہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لخت جگر کو شہید کیا (تو انہیں ذرا خیال نہ آیا)، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا: وہ دونوں (سیدنا حسن و سیدنا حسین رضی اللہ عنہما) دنیا میں میرے پھول ہیں۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 85]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، فضائل أصحاب النبى صلى الله عليه و آله وسلم: 3753 و الترمذي: 3770 - الصحيحة: 2494»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (84) باب پر واپس اگلی حدیث (86) →