بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
گھر واپس آجانے والی (طلاق یافتہ) بیٹی کی کفالت کرنے کی فضیلت
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب گھر واپس آجانے والی (طلاق یافتہ) بیٹی کی کفالت کرنے کی فضیلت
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 80 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِسُرَاقَةَ بْنِ جُعْشُمٍ‏:‏ ”أَلاَ أَدُلُّكَ عَلَى أَعْظَمِ الصَّدَقَةِ، أَوْ مِنْ أَعْظَمِ الصَّدَقَةِ‏؟“‏ قَالَ‏:‏ بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ‏:‏ ”ابْنَتُكَ مَرْدُودَةٌ إِلَيْكَ، لَيْسَ لَهَا كَاسِبٌ غَيْرُكَ‏.“‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
علی بن رباح سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے عظیم صدقے کی خبر نہ دوں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تیری وہ بیٹی (جو طلاق کے بعد یا شوہر کی وفات کے بعد) واپس آ جائے، جس کے لیے تیرے علاوہ کوئی کمانے والا نہ ہو (جب تو اس پر خرچ کرے گا تو یہ بہت بڑا صدقہ ہو گا۔) [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 80]
تخریج الحدیث
«ضعيف: أخرجه أحمد: 17586 و ابن ماجه: 3667 - الضعيفة: 4822 - المشكاة: 5002»
قال الشيخ الألباني
ضعيف
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 81 الادب المفرد
حَدَّثَنَا بِشْرٌ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا مُوسَى قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ أَبِي، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ جُعْشُمٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”يَا سُرَاقَةُ“ مِثْلَهُ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
علی بن رباح سیدنا سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے سراقہ، پھر مذکور حدیث کی طرح بیان کیا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 81]
تخریج الحدیث
«ضعيف: أخرجه أحمد: 131/4، 132، 175/4»
قال الشيخ الألباني
ضعيف
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 82 الادب المفرد
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ‏:‏ ”مَا أَطْعَمْتَ نَفْسَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ، وَمَا أَطْعَمْتَ وَلَدَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ، وَمَا أَطْعَمْتَ زَوْجَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ، وَمَا أَطْعَمْتَ خَادِمَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا: جو تو خود کھائے وہ تیرے لیے صدقہ ہے، اور جو تو اپنی اولاد کو کھلائے وہ تیرے لیے صدقہ ہے، جو تو اپنی بیوی کو کھلائے وہ تیرے لیے صدقہ ہے، اور جو تو اپنے نوکر کو کھلائے وہ بھی تیرے لیے صدقہ ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 82]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه أحمد: 17179 و النسائي فى الكبرىٰ: 9141 و الطبراني فى الكبير: 268/20 - الصحيحة: 492»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح