بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

الادب المفرد

حدیث نمبر: 80 — گھر واپس آجانے والی (طلاق یافتہ) بیٹی کی کفالت کرنے کی فضیلت
کتب الادب المفرد كتاب گھر واپس آجانے والی (طلاق یافتہ) بیٹی کی کفالت کرنے کی فضیلت حدیث 80
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِسُرَاقَةَ بْنِ جُعْشُمٍ‏:‏ ”أَلاَ أَدُلُّكَ عَلَى أَعْظَمِ الصَّدَقَةِ، أَوْ مِنْ أَعْظَمِ الصَّدَقَةِ‏؟“‏ قَالَ‏:‏ بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ‏:‏ ”ابْنَتُكَ مَرْدُودَةٌ إِلَيْكَ، لَيْسَ لَهَا كَاسِبٌ غَيْرُكَ‏.“‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
علی بن رباح سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے عظیم صدقے کی خبر نہ دوں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تیری وہ بیٹی (جو طلاق کے بعد یا شوہر کی وفات کے بعد) واپس آ جائے، جس کے لیے تیرے علاوہ کوئی کمانے والا نہ ہو (جب تو اس پر خرچ کرے گا تو یہ بہت بڑا صدقہ ہو گا۔) [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 80]
تخریج الحدیث
«ضعيف: أخرجه أحمد: 17586 و ابن ماجه: 3667 - الضعيفة: 4822 - المشكاة: 5002»
قال الشيخ الألباني
ضعيف
الحكم: ضعيف
← پچھلی حدیث (79) باب پر واپس اگلی حدیث (81) →