بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
کوئی آدمی اپنے باپ کو نام لے کر نہ بلائے، اور نہ اس سے پہلے بیٹھے، اور نہ اس کے آگے چلے
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب الوالدين کوئی آدمی اپنے باپ کو نام لے کر نہ بلائے، اور نہ اس سے پہلے بیٹھے، اور نہ اس کے آگے چلے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 44 الادب المفرد
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ زَكَرِيَّا، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ ‏,‏ أَوْ غَيْرِهِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَبْصَرَ رَجُلَيْنِ، فَقَالَ لأَحَدِهِمَا‏:‏ مَا هَذَا مِنْكَ‏؟‏ فَقَالَ‏:‏ أَبِي، فَقَالَ‏:‏ لاَ تُسَمِّهِ بِاسْمِهِ، وَلاَ تَمْشِ أَمَامَهُ، وَلا تَجْلِسْ قَبْلَهُ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے دو آدمی کو (اکٹھا) دیکھا تو ایک سے دریافت کیا: اس دوسرے شخص سے تمہارا کیا رشتہ ہے؟ اس نے کہا: یہ میرے والد ہیں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: انہیں نام لے کر مت بلاؤ، اور نہ ان کے آگے چلو، اور نہ ان کے بیٹھنے سے پہلے (مجلس میں) بیٹھو۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الْوَالِدَيْنِ/حدیث: 44]
تخریج الحدیث
«صحيح: مجمع: 137/8، سني: 289»
قال الشيخ الألباني
صحیح
الحكم: صحیح