حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”أَلاَ أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ؟“ ثَلاَثًا، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: ”الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَجَلَسَ وَكَانَ مُتَّكِئًا أَلاَ وَقَوْلُ الزُّورِ“، مَا زَالَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى قُلْتُ: لَيْتَهُ سَكَتَ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں بہت بڑے گناہوں کے متعلق نہ بتاؤں؟“ تین بار آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا۔ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ضرور بتلایئے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔“ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے اور سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور (فرمایا): ”خبردار! جھوٹ بولنا!“ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کو بار بار فرماتے رہے یہاں تک کہ میں نے (دل میں) کہا: کاش کہ آپ خاموش ہو جاتے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الْوَالِدَيْنِ/حدیث: 15]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، الأدب، باب عقوق الوالدين من الكبائر: 5976 و مسلم: 143، غاية المرام: 277»
الحكم: صحیح