حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شُبْرُمَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ: ”أُمَّكَ“، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ”أُمَّكَ“، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ”أُمَّكَ“، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ”أَبَاكَ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! میں کس سے حسنِ سلوک کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی ماں سے۔“ (سائل نے) کہا: پھر کس سے حسنِ سلوک کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی ماں سے۔“ اس نے کہا: پھر کس کے ساتھ حسنِ سلوک کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی ماں سے۔“ اس نے کہا: پھر کس کے ساتھ حسنِ سلوک کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے باپ سے۔“ [الادب المفرد/كِتَابُ الْوَالِدَيْنِ/حدیث: 5]
تخریج الحدیث
«صحیح: بخاري، الأدب، باب من أحق الناس بحسن الصحية: 5971 و مسلم: البر والصلة والأدب، رقم: 6500»
الحكم: صحیح