حَدَّثَنَا ابْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، عَنِ الْوَصَّافِيِّ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: إِنَّمَا سَمَّاهُمُ اللَّهُ أَبْرَارًا، لأَنَّهُمْ بَرُّوا الْآبَاءَ وَالأَبْنَاءَ، كَمَا أَنَّ لِوَالِدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، كَذَلِكَ لِوَلَدِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ان کا نام (قرآن میں) ابرار رکھا ہے، کیونکہ انہوں نے اپنے آباء و اجداد اور بچوں سے حسنِ سلوک کیا ہے۔ جس طرح تیرے والدین کا تجھ پر حق ہے، اسی طرح تیری اولاد کا بھی تجھ پر حق ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 94]
تخریج الحدیث
«ضعيف: رواه الطبراني فى الكبير مرفوعًا: 13814 و أبونعيم فى الحلية: 32/10 - الضعيفة: 3221»
الحكم: ضعيف