حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْوَرْدِ، عَنِ اللَّجْلاجِ، عَنْ مُعَاذٍ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تَمَامَ النِّعْمَةِ، قَالَ: ”هَلْ تَدْرِي مَا تَمَامُ النِّعْمَةِ؟“ قَالَ: ”تَمَامُ النِّعْمَةِ دُخُولُ الْجَنَّةِ، وَالْفَوْزُ مِنَ النَّارِ“، ثُمَّ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصَّبْرَ، قَالَ: ”قَدْ سَأَلْتَ رَبَّكَ الْبَلاءَ، فَسَلْهُ الْعَافِيَةَ“، وَمَرَّ عَلَى رَجُلٍ يَقُولُ: يَا ذَا الْجَلالِ وَالإِكْرَامِ، قَالَ: ”سَلْ“.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے، وہ دعا کر رہا تھا: اے اللہ! میں تجھ سے پوری نعمت کا سوال کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: ”تم جانتے ہو پوری نعمت کیا ہے؟“ اس نے کہا: پوری نعمت یہ ہے کہ بندہ جنت میں داخل ہو جائے اور دوزخ سے بچ جائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو کہہ رہا تھا: اے اللہ! میں تجھ سے صبر کا سوال کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اپنے رب سے مصیبت کا سوال کیا ہے، اس کے بجائے عافیت کا سوال کرو۔“ ایک اور شخص کے پاس سے گزرے جو کہہ رہا تھا: اے بزرگی و اکرام والے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اللہ سے کچھ مانگو۔“ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 725]
تخریج الحدیث
«ضعيف: أخرجه الترمذي، كتاب الدعوات: 3527 - انظر الضعيفة: 3416»
الحكم: ضعيف