حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُكَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَيْسٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: مَنْ نَزَلَ بِهِ هَمٌّ أَوْ غَمٌّ أَوْ كَرْبٌ أَوْ خَافَ مِنْ سُلْطَانٍ، فَدَعَا بِهَؤُلاءِ اسْتُجِيبَ لَهُ: ”أَسْأَلُكَ بِلا إِلَهَ إِلا أَنْتَ، رَبُّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ، وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، وَأَسْأَلُكَ بِلا إِلَهَ إِلا أَنْتَ، رَبُّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ، وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ، وَأَسْأَلُكَ بِلا إِلَهَ إِلا أَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَالأَرَضِينَ السَّبْعِ وَمَا فِيهِنَّ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ“، ثُمَّ سَلِ اللَّهَ حَاجَتَكَ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جسے کوئی پریشانی، غم یا بے چینی لاحق ہو یا اسے کسی بادشاہ کے ظلم کا ڈر ہو تو وہ ان کلمات کے ساتھ دعا کرے، وہ دعا ضرور قبول ہو گی: ”میں تجھ سے «لا إله إلا أنت» کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں جو رب ہے ساتوں آسمانوں کا، اور رب ہے عرش عظیم کا۔ اور میں سوال کرتا ہوں «لا إله إلا أنت» کے وسیلے سے جو رب ہے سات آسمانوں کا اور رب ہے عرش کریم کا۔ اور میں سوال کرتا ہوں «لا إله إلا أنت» کی وساطت سے جو رب ہے سات آسمانوں اور سات زمینوں اور جو کچھ ان میں ہے۔ بلاشبہ تو ہر چیز پر قادر ہے۔“ پھر اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجت کا سوال کرے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 709]
تخریج الحدیث
«ضعيف:»
الحكم: ضعيف