حَدَّثَنَا عَارِمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سِنَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسٌ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَيْنَا، أَهْلَ الْبَيْتِ، فَدَخَلَ يَوْمًا، فَدَعَا لَنَا، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: خُوَيْدِمُكَ أَلا تَدْعُو لَهُ؟ قَالَ: ”اللَّهُمَّ، أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَأَطِلْ حَيَاتَهُ، وَاغْفِرْ لَهُ“، فَدَعَا لِي بِثَلاثٍ، فَدَفَنْتُ مِائَةً وَثَلاثَةً، وَإِنَّ ثَمَرَتِي لَتُطْعِمُ فِي السَّنَةِ مَرَّتَيْنِ، وَطَالَتْ حَيَاتِي حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ مِنَ النَّاسِ، وَأَرْجُو الْمَغْفِرَةَ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے گھر والوں کے پاس تشریف لایا کرتے تھے۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے اور ہمارے لیے دعا کی۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ اپنے ننھے خادم کے لیے دعا نہیں کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ، أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَأَطِلْ حَيَاتَهُ، وَاغْفِرْ لَهُ» ”اے اللہ! اسے مال اور اولاد کی کثرت سے نواز، اس کی عمر لمبی فرما اور اسے بخش دے۔“ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین چیزوں کی میرے لیے دعا کی۔ چنانچہ میں اپنی اولاد سے ایک سو تین کو دفن کر چکا ہوں۔ اور مال کی کثرت کا حال یہ ہے کہ میرے پھل سال میں دو مرتبہ کھائے جاتے ہیں اور عمر اس قدر دراز ہوئی کہ اب مجھے لوگوں سے شرم آتی ہے اور میں مغفرت کی امید بھی رکھتا ہوں۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 653]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه ابن سعد فى الطبقات: 19/7 و رواه البخاري: 1982 و مسلم مختصرًا: 2481 - انظر الصحيحة: 2241، 2541»
الحكم: صحيح