حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَيْبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ، عَنْ عِصَامِ بْنِ زَيْدٍ، (وَأَثْنَى عَلَيْهِ ابْنُ شَيْبَةَ خَيْرًا) ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَقَى الْمِنْبَرَ، فَلَمَّا رَقَى الدَّرَجَةَ الأُولَى، قَالَ: ”آمِينَ“، ثُمَّ رَقَى الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: ”آمِينَ“، ثُمَّ رَقَى الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: ”آمِينَ“، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَمِعْنَاكَ تَقُولُ: ”آمِينَ“ ثَلاثَ مَرَّاتٍ؟ قَالَ: ”لَمَّا رَقِيتُ الدَّرَجَةَ الأُولَى جَاءَنِي جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: شَقِيَ عَبْدٌ أَدْرَكَ رَمَضَانَ، فَانْسَلَخَ مِنْهُ وَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ، فَقُلْتُ: آمِينَ، ثُمَّ قَالَ: شَقِيَ عَبْدٌ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا فَلَمْ يُدْخِلاهُ الْجَنَّةَ، فَقُلْتُ: آمِينَ، ثُمَّ قَالَ: شَقِيَ عَبْدٌ ذُكِرْتَ عِنْدَهُ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ، فَقُلْتُ: آمِينَ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منبر پر جلوہ افروز ہوئے۔ جب پہلی سیڑھی پر چڑھے تو فرمایا: ”آمین۔“ پھر دوسری پر چڑھے تو فرمایا: ”آمین“، پھر تیسری پر چڑھے تو فرمایا: ”آمین۔“ صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو تین مرتبہ ”آمین“ کہتے ہوئے سنا؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جب میں پہلی سیڑھی پر چڑھا تو جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور کہا: بدبخت ہے وہ شخص جس نے رمضان کا مہینہ پایا، پھر وہ گزر گیا اور اس کی بخشش نہ ہوئی، تو میں نے کہا: آمین۔ پھر کہا: بدنصیب ہے وہ بندہ جس نے اپنے والدین یا دونوں میں سے ایک کو پایا اور انہوں نے اس کو جنت میں داخل نہ کرایا، تو میں نے کہا: آمین۔ پھر کہا: کم بخت ٹھہرا وہ شخص جس کے سامنے آپ کا ذکر ہوا اور اس نے آپ پر درود نہ پڑھا۔ میں نے کہا: آمین۔“ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 644]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه الطبراني فى الكبير: 243/2 و البيهقي فى شعب الإيمان: 3622 - انظر صحيح الترغيب: 2491»
الحكم: صحيح