حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّ رَجُلا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ذَهَبَ بَصَرُهُ، فَعَادُوهُ، فَقَالَ: كُنْتُ أُرِيدُهُمَا لأَنْظُرَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَّا إِذْ قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَاللَّهِ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ مَا بِهِمَا بِظَبْيٍ مِنْ ظِبَاءِ تَبَالَةَ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک صحابی کی بینائی جاتی رہی تو انہوں نے اس کی عیادت کی۔ تو وہ فرمانے لگے: میں آنکھوں کا اس لیے خواہش مند تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھتا رہوں۔ اب جبکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وفات پا چکے ہیں تو اللہ کی قسم اب مجھے یہ بھی پسند نہیں کہ ان کے بدلے مجھے تبالہ کے ہرنوں کی آنکھیں بھی ملیں۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 533]
تخریج الحدیث
«ضعيف: أخرجه ابن أبى الدنيا فى المتمنين: 149 و ابن سعد فى الطبقات: 313/2»
الحكم: ضعيف