بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

الادب المفرد

حدیث نمبر: 40 — والد کے تعلق داروں سے اچھا برتاؤ کرنا
کتب الادب المفرد كتاب الوالدين والد کے تعلق داروں سے اچھا برتاؤ کرنا حدیث 40
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ‏:‏ مَرَّ أَعْرَابِيٌّ فِي سَفَرٍ، فَكَانَ أَبُو الأعْرَابِيِّ صَدِيقًا لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لِلأَعْرَابِيِّ‏:‏ أَلَسْتَ ابْنَ فُلاَنٍ‏؟‏ قَالَ‏:‏ بَلَى، فَأَمَرَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ بِحِمَارٍ كَانَ يَسْتَعْقِبُ، وَنَزَعَ عِمَامَتَهُ عَنْ رَأْسِهِ فَأَعْطَاهُ‏.‏ فَقَالَ بَعْضُ مَنْ مَعَهُ‏:‏ أَمَا يَكْفِيهِ دِرْهَمَانِ‏؟‏ فَقَالَ‏:‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”احْفَظْ وُدَّ أَبِيكَ، لاَ تَقْطَعْهُ فَيُطْفِئَ اللَّهُ نُورَكَ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک اعرابی کسی سفر میں (میرے) قریب سے گزرا۔ اس اعرابی کا باپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا دوست تھا، تو اس نے اعرابی کو کہا: کیا تم فلاں کے بیٹے نہیں ہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ پھر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے (اس پہچان کی وجہ سے) ایک گدھا دینے کا حکم دیا۔ اور اپنے سر سے پگڑی اتار کر بھی اسے دے دی۔ آپ کے بعض ہم سفروں نے عرض کیا: اس کو دو درہم دے دینے کافی نہیں تھے؟ آپ نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان ہے: اپنے والد کی دوستی کا خیال رکھو، اس کو مت توڑو ورنہ اللہ تمہارا نور بجھا دے گا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الْوَالِدَيْنِ/حدیث: 40]
تخریج الحدیث
«ضعيف: أخرجه أحمد فى المسند: 3/5، زيادة من شعب الإيمان للبيهقي: 7898 و الطبراني الكبير: 394/11 و مسلم: 2552، الضعيفة: 2089»
قال الشيخ الألباني
ضعیف
الحكم: ضعیف
← پچھلی حدیث (39) باب پر واپس اگلی حدیث (41) →