بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

الادب المفرد

حدیث نمبر: 3 — والدہ کے ساتھ حسن سلوک کا بیان
کتب الادب المفرد كتاب الوالدين والدہ کے ساتھ حسن سلوک کا بیان حدیث 3
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قُلْتُ‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، مَنْ أَبَرُّ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”أُمَّكَ“، قُلْتُ‏:‏ مَنْ أَبَرُّ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”أُمَّكَ“، قُلْتُ‏:‏ مَنْ أَبَرُّ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”أُمَّكَ“، قُلْتُ‏:‏ مَنْ أَبَرُّ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”أَبَاكَ، ثُمَّ الأَقْرَبَ فَالأَقْرَبَ‏.“‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
حضرت بہز بن حکیم اپنے باپ کے واسطے سے اپنے دادا (سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں کس سے حسنِ سلوک کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنی ماں سے۔ میں نے کہا: (پھر) کس سے حسنِ سلوک کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنی ماں سے۔ میں نے کہا: پھر کس سے حسنِ سلوک کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنی ماں سے۔ میں نے کہا: پھر کس سے حسنِ سلوک کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنے باپ سے، پھر اس کے بعد جو تیرا زیادہ قریبی رشتہ دار ہو، پھر جو اس کے بعد زیادہ قریبی ہو۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الْوَالِدَيْنِ/حدیث: 3]
تخریج الحدیث
«حسن: الارواء: 2232، 829، الترمذي، كتاب البر والصلة، باب ماجاء فى بر الوالدين، رقم: 1897»
قال الشيخ الألباني
حسن
الحكم: حسن
← پچھلی حدیث (2) باب پر واپس اگلی حدیث (4) →