حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ حَسَّانَ الْعَنْبَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ عَاصِمٍ، وَكَانَ حَرْمَلَةُ أَبَا أُمِّهِ، فَحَدَّثَتْنِي صَفِيَّةُ ابْنَةُ عُلَيْبَةَ، وَدُحَيْبَةُ ابْنَةُ عُلَيْبَةَ، وَكَانَ جَدَّهُمَا حَرْمَلَةُ أَبَا أَبِيهِمَا، أَنَّهُ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ خَرَجَ حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ عِنْدَهُ حَتَّى عَرَفَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا ارْتَحَلَ قُلْتُ فِي نَفْسِي: وَاللَّهِ لَآتِيَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَزْدَادَ مِنَ الْعِلْمِ، فَجِئْتُ أَمْشِي حَتَّى قُمْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقُلْتُ مَا تَأْمُرُنِي أَعْمَلُ؟ قَالَ: ”يَا حَرْمَلَةُ، ائْتِ الْمَعْرُوفَ، وَاجْتَنَبِ الْمُنْكَرَ“، ثُمَّ رَجَعْتُ، حَتَّى جِئْتُ الرَّاحِلَةَ، ثُمَّ أَقْبَلْتُ حَتَّى قُمْتُ مَقَامِي قَرِيبًا مِنْهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا تَأْمُرُنِي أَعْمَلُ؟ قَالَ: ”يَا حَرْمَلَةُ، ائْتِ الْمَعْرُوفَ، وَاجْتَنَبِ الْمُنْكَرَ، وَانْظُرْ مَا يُعْجِبُ أُذُنَكَ أَنْ يَقُولَ لَكَ الْقَوْمُ إِذَا قُمْتَ مِنْ عِنْدِهِمْ فَأْتِهِ، وَانْظُرِ الَّذِي تَكْرَهُ أَنْ يَقُولَ لَكَ الْقَوْمُ إِذَا قُمْتَ مِنْ عِنْدِهِمْ فَاجْتَنِبْهُ“، فَلَمَّا رَجَعْتُ تَفَكَّرْتُ، فَإِذَا هُمَا لَمْ يَدَعَا شَيْئًا.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا حرملہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ گھر سے نکلے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جان پہچان ہو گئی، جب وہ واپس جانے لگے تو انہوں نے دل میں کہا: اللہ کی قسم! میں اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا کروں گا تاکہ علم میں اضافہ ہو۔ پھر میں پیدل چلا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: آپ مجھے کیا کرنے کا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اے حرملہ! نیک کام کرو اور گناہ سے بچو۔“ پھر میں لوٹا اور اپنی سواری کے پاس آیا، پھر میں دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف متوجہ ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب جا کر عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے کس کام کا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اے حرملہ! نیک کام کرو اور گناہ سے بچو، اور ایسا کام کرو جس کے بارے میں تم سمجھتے ہو کہ تم لوگوں کے پاس سے اٹھو گے تو وہ اس پر تمہاری پسند کا تبصرہ کریں گے (یا جس پر تمہیں تعریف کی امید ہو)۔ اور ایسے کام سے بچو جس کے بارے میں تم سمجھتے ہو کہ تمہارے اٹھنے کے بعد لوگ اس پر تمہاری ناپسند کا تبصرہ کریں گے۔“ جب میں واپس آیا تو میں نے سوچا کہ ان دونوں نصیحتوں نے کوئی بات نہیں چھوڑی (ہر خیر اور شر کے بارے میں بتا دیا)۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الْمَعْرُوفِ/حدیث: 222]
تخریج الحدیث
«ضعيف: الضعيفة: 1489 - أخرجه الطيالسي: 1303 و أحمد: 18720 و عبد بن حميد: 433 و الطبراني فى الكبير: 6/4»
الحكم: ضعيف