حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَيْبَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الْفُدَيْكِ قَالَ: حَدَّثَنِي مُوسَى، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ، مَوْلَى أُمِّ هَانِئِ ابْنَةِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ رَكِبَ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ إِلَى أَرْضِهِ بِالْعَقِيقِ فَإِذَا دَخَلَ أَرْضَهُ صَاحَ بِأَعْلَى صَوْتِهِ: عَلَيْكِ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ يَا أُمَّتَاهُ، تَقُولُ: وَعَلَيْكَ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، يَقُولُ: رَحِمَكِ اللَّهُ رَبَّيْتِنِي صَغِيرًا، فَتَقُولُ: يَا بُنَيَّ، وَأَنْتَ فَجَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا وَرَضِيَ عَنْكَ كَمَا بَرَرْتَنِي كَبِيرًا قَالَ مُوسَى: كَانَ اسْمُ أَبِي هُرَيْرَةَ: عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ابو مرہ نے بتایا کہ میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سوار ہو کر عقیق علاقے میں ان کی زمین کی طرف گیا۔ جب وہ اپنی زمین میں داخل ہوئے تو انہوں نے بآواز بلند کہا: اے میری ماں تجھ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔ ان کی والدہ نے جواب میں ایسے ہی کلمات کہے۔ پھر سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تجھ پر رحم فرمائے جس طرح بچپن میں تو نے میری پرورش کی ہے۔ ان کی والدہ نے فرمایا: میرے بیٹے! اللہ آپ کو بہترین بدلہ دے اور آپ سے راضی اور خوش ہو، جیسے تو نے بڑے ہو کر میرے ساتھ حسنِ سلوک کیا۔ راوی حدیث موسیٰ بن یعقوب کہتے ہیں: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا نام عبداللہ بن عمرو ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الْوَالِدَيْنِ/حدیث: 14]
تخریج الحدیث
«حسن: انظر الحديث: 12»
الحكم: حسن