حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الأَوْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي عُمَرَ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: شَكَا رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَارَهُ، فَقَالَ: ”احْمِلْ مَتَاعَكَ فَضَعْهُ عَلَى الطَّرِيقِ، فَمَنْ مَرَّ بِهِ يَلْعَنُهُ“، فَجَعَلَ كُلُّ مَنْ مَرَّ بِهِ يَلْعَنُهُ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا لَقِيتُ مِنَ النَّاسِ؟ فَقَالَ: ”إِنَّ لَعْنَةَ اللهِ فَوْقَ لَعْنَتِهِمْ“، ثُمَّ قَالَ لِلَّذِي شَكَا: ”كُفِيتَ“ أَوْ نَحْوَهُ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حضور اپنے پڑوسی کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا سامان اٹھاؤ اور راستے پر رکھ دو، جو گزرے گا اسے لعن طعن کرے گا۔“ (اس نے ایسے ہی کیا) تو جو بھی وہاں سے گزرتا اسے برا بھلا کہتا۔ وہ (تنگ کرنے والا) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: یہ لوگ میرے ساتھ کیا برتاؤ کر رہے ہیں؟ (کہ ہر شخص مجھ پر لعنت کر رہا ہے) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ان کی لعنت کے ساتھ ساتھ اللہ کی لعنت بھی تجھ پر ہے۔“ (اس نے دوبارہ ایسا نہ کرنے کا وعدہ کیا) پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شکایت کرنے والے سے فرمایا: ”(اب اپنا سامان اٹھا لو) تیری خلاصی ہو گئی۔“ [الادب المفرد/كِتَابُ الْجَارِ/حدیث: 125]
تخریج الحدیث
«حسن صحيح: أخرجه الحاكم: 166/4 و البيهقي فى شعب الإيمان: 9548 و الطبراني فى الكبير: 134/22 - صحيح الترغيب: 2559»
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
الحكم: حسن صحيح