حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غُرَابٍ، أَنَّ عَمَّةً لَهُ حَدَّثَتْهُ، أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ: إِنَّ زَوْجَ إِحْدَانَا يُرِيدُهَا فَتَمْنَعُهُ نَفْسَهَا، إِمَّا أَنْ تَكُونَ غَضَبَى أَوْ لَمْ تَكُنْ نَشِيطَةً، فَهَلْ عَلَيْنَا فِي ذَلِكَ مِنْ حَرَجٍ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، إِنَّ مِنْ حَقِّهِ عَلَيْكِ أَنْ لَوْ أَرَادَكِ وَأَنْتِ عَلَى قَتَبٍ لَمْ تَمْنَعِيهِ، قَالَتْ: قُلْتُ لَهَا: إِحْدَانَا تَحِيضُ، وَلَيْسَ لَهَا وَلِزَوْجِهَا إِلاَّ فِرَاشٌ وَاحِدٌ أَوْ لِحَافٌ وَاحِدٌ، فَكَيْفَ تَصْنَعُ؟ قَالَتْ: لِتَشُدَّ عَلَيْهَا إِزَارَهَا ثُمَّ تَنَامُ مَعَهُ، فَلَهُ مَا فَوْقَ ذَلِكَ، مَعَ أَنِّي سَوْفَ أُخْبِرُكِ مَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ كَانَ لَيْلَتِي مِنْهُ، فَطَحَنْتُ شَيْئًا مِنْ شَعِيرٍ، فَجَعَلْتُ لَهُ قُرْصًا، فَدَخَلَ فَرَدَّ الْبَابَ، وَدَخَلَ إِلَى الْمَسْجِدِ، وَكَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ أَغْلَقَ الْبَابَ، وَأَوْكَأَ الْقِرْبَةَ، وَأَكْفَأَ الْقَدَحَ، وَأطْفَأَ الْمِصْبَاحَ، فَانْتَظَرْتُهُ أَنْ يَنْصَرِفَ فَأُطْعِمُهُ الْقُرْصَ، فَلَمْ يَنْصَرِفْ، حَتَّى غَلَبَنِي النَّوْمُ، وَأَوْجَعَهُ الْبَرْدُ، فَأَتَانِي فَأَقَامَنِي ثُمَّ قَالَ: ”أَدْفِئِينِي أَدْفِئِينِي“، فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي حَائِضٌ، فَقَالَ: ”وَإِنْ، اكْشِفِي عَنْ فَخِذَيْكِ“، فَكَشَفْتُ لَهُ عَنْ فَخِذَيَّ، فَوَضَعَ خَدَّهُ وَرَأْسَهُ عَلَى فَخِذَيَّ حَتَّى دَفِئَ. فَأَقْبَلَتْ شَاةٌ لِجَارِنَا دَاجِنَةٌ فَدَخَلَتْ، ثُمَّ عَمَدَتْ إِلَى الْقُرْصِ فَأَخَذَتْهُ، ثُمَّ أَدْبَرَتْ بِهِ. قَالَتْ: وَقَلِقْتُ عَنْهُ، وَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَادَرْتُهَا إِلَى الْبَابِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”خُذِي مَا أَدْرَكْتِ مِنْ قُرْصِكِ، وَلاَ تُؤْذِي جَارَكِ فِي شَاتِهِ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
عمارہ بن غراب سے روایت ہے کہ انہیں ان کی ایک پھوپھی نے بتایا کہ اس نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: ہم میں سے کسی عورت کا خاوند اس کا ارادہ کرتا ہے، یعنی ہم بستری کے لیے بلاتا ہے اور وہ اسے روک دیتی ہے، غصے کی وجہ سے یا اس کا دل نہیں چاہتا، تو کیا اس صورت میں ہم پر گناہ ہو گا؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! خاوند کا تجھ پر حق ہے کہ اگر وہ تجھے مباشرت کے لیے بلائے تو اسے مت روکو، خواہ تم کجاوے کی لکڑی پر ہی ہو۔ وہ (راویہ) کہتی ہیں: میں نے ان سے کہا: ہم میں سے اگر کوئی عورت حالت حیض میں ہو، اور اس کا اور اس کے خاوند کا ایک ہی بستر کا لحاف ہو تو اس صورت میں کیا کرے؟ انہوں نے فرمایا: وہ اپنا تہبند اچھی طرح باندھ لے اور خاوند کے ساتھ سو جائے، اس کے لیے تہبند کے اوپر سے استمتاع جائز ہے۔ میں تمہیں بتاتی ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا کیا۔ ایک رات میری باری تھی۔ میں نے کچھ جَو پیس کر ٹکیہ بنائی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے اور دروازہ بند کر کے مسجد چلے گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سونے کا ارادہ فرماتے تو دروازہ بند کر دیتے، مشکیزے کا تسمہ باندھ دیتے، پیالے کو الٹ دیتے اور چراغ بجھا دیتے۔ میں آپ کی واپسی کا انتظار کرتی رہی کہ آپ کو وہ ٹکیہ کھلاؤں لیکن آپ (جلد) واپس تشریف نہ لائے اور مجھے نیند آ گئی۔ جب آپ کو سردی محسوس ہوئی تو آپ میرے پاس آئے اور مجھے اٹھایا پھر فرمایا: ”مجھے گرماؤ، مجھے گرماؤ۔“ میں نے عرض کیا: مجھے حیض آ رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ذرا اپنی ران کھول دو۔“ میں نے آپ کے لیے اپنی ران کھول دی۔ آپ نے اپنا رخسار اور سر میری ران پر رکھ دیا یہاں تک کہ آپ گرم ہو گئے۔ اتنے میں ہمارے ہمسائے کی بکری کا بچہ اندر گھس آیا اور ٹکیہ کی طرف بڑھ کر اسے پکڑ لیا اور پھر چلا گیا۔ وہ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) فرماتی ہیں: مجھے بڑی تشویش ہوئی۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی جاگ گئے تو میں جلدی سے دروازے کی طرف گئی (تاکہ وہ ٹکیہ بکری کے بچہ سے پکڑ سکوں) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تیری ٹکیہ جتنی بچی ہے وہ پکڑ لو اور ہمسائی کو بکری کی وجہ سے تکلیف نہ پہنچانا۔“ [الادب المفرد/كِتَابُ الْجَارِ/حدیث: 120]
تخریج الحدیث
«ضعيف: أخرجه ابن أبى عمر كما فى المطالب العاليه: 488/11 و أبوداؤد: 270 و البيهقي فى الكبرىٰ: 313/1، مختصرًا»
الحكم: ضعيف