بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

الادب المفرد

حدیث نمبر: 1135 — جب کسی سے حال دریافت کیا جائے تو کیسے جواب دے؟
کتب الادب المفرد كتاب الرسائل جب کسی سے حال دریافت کیا جائے تو کیسے جواب دے؟ حدیث 1135
حدیث نمبر: 1135 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْجَارُودِ الْهُذَلِيُّ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ وَهْبٍ قَالَ‏:‏ قَالَ لِي أَبُو الطُّفَيْلِ‏:‏ كَمْ أَتَى عَلَيْكَ‏؟‏ قُلْتُ‏:‏ أَنَا ابْنُ ثَلاَثٍ وَثَلاَثِينَ، قَالَ‏:‏ أَفَلاَ أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ‏:‏ إِنَّ رَجُلاً مِنْ مُحَارِبِ خَصَفَةَ، يُقَالُ لَهُ‏:‏ عَمْرُو بْنُ صُلَيْعٍ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، وَكَانَ بِسِنِّي يَوْمَئِذٍ وَأَنَا بِسِنِّكَ الْيَوْمَ، أَتَيْنَا حُذَيْفَةَ فِي مَسْجِدٍ، فَقَعَدْتُ فِي آخِرِ الْقَوْمِ، فَانْطَلَقَ عَمْرٌو حَتَّى قَامَ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ‏:‏ كَيْفَ أَصْبَحْتَ، أَوْ كَيْفَ أَمْسَيْتَ يَا عَبْدَ اللهِ‏؟‏ قَالَ‏:‏ أَحْمَدُ اللَّهَ، قَالَ‏:‏ مَا هَذِهِ الأَحَادِيثُ الَّتِي تَأْتِينَا عَنْكَ‏؟‏ قَالَ‏:‏ وَمَا بَلَغَكَ عَنِّي يَا عَمْرُو‏؟‏ قَالَ‏:‏ أَحَادِيثُ لَمْ أَسْمَعْهَا، قَالَ‏:‏ إِنِّي وَاللَّهِ لَوْ أُحَدِّثُكُمْ بِكُلِّ مَا سَمِعْتُ مَا انْتَظَرْتُمْ بِي جُنْحَ هَذَا اللَّيْلِ، وَلَكِنْ يَا عَمْرُو بْنَ صُلَيْعٍ، إِذَا رَأَيْتَ قَيْسًا تَوَالَتْ بِالشَّامِ فَالْحَذَرَ الْحَذَرَ، فَوَاللَّهِ لاَ تَدَعُ قَيْسٌ عَبْدًا لِلَّهِ مُؤْمِنًا إِلاَّ أَخَافَتْهُ أَوْ قَتَلَتْهُ، وَاللَّهِ لَيَأْتِيَنَّ عَلَيْهِمْ زَمَانٌ لاَ يَمْنَعُونَ فِيهِ ذَنَبَ تَلْعَةٍ، قَالَ‏:‏ مَا يَنْصِبُكَ عَلَى قَوْمِكَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ذَاكَ إِلَيَّ، ثُمَّ قَعَدَ‏.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیف بن وہب سے روایت ہے کہ ابو طفیل نے مجھ سے پوچھا: تمہاری عمر کتنی ہے؟ میں نے کہا: میں تینتیس سال کا ہوں۔ انہوں نے کہا: کیا تمہیں ایک حدیث نہ سناؤں جو میں نے سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ قصہ یوں ہے کہ بنو محارب بن خصفہ کے ایک آدمی جنہیں عمرو بن صلیع رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، اور انہیں شرفِ صحابیت بھی حاصل تھا۔ ان کی عمر اتنی تھی جتنی آج میری ہے، اور میں آج تمہاری عمر کا ہوں۔ ہم سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس مسجد میں آئے اور میں لوگوں کے آخر میں بیٹھ گیا، اور عمرو آگے بڑھ کر ان کے سامنے جا کر کھڑے ہوئے اور کہا: اے عبداللہ! آپ نے صبح کس حال میں کی؟ یا کہا: آپ نے شام کس حال میں کی؟ انہوں نے فرمایا: میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔ عمرو نے کہا: آپ کے حوالے سے ہمیں کیا باتیں پہنچ رہی ہیں؟ انہوں نے فرمایا: اے عمرو! تمہیں میرے حوالے سے کیا پہنچا ہے؟ انہوں نے کہا: ایسی احادیث جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نہیں سنیں۔ انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر میں وہ (سب کچھ) تمہیں بیان کروں جو میں نے سنا ہے تو تم رات ہونے تک بھی میرا انتظار نہ کرو۔ لیکن اے عمرو بن صلیع! جب تم دیکھو کہ قیس شام میں برسرِ اقتدار آگئے ہیں تو بچ کر رہنا۔ اللہ کی قسم! بنو قیس کسی مومن بندے کو نہیں چھوڑیں گے مگر یا تو اسے ڈرائیں گے یا قتل کر دیں گے۔ اللہ کی قسم! ان پر ایک زمانہ آئے گا کہ ہر طرف ان کا قبضہ ہوگا۔ انہوں نے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے، آپ اپنی قوم کی کیا مدد کریں گے؟ انہوں نے فرمایا: یہ مجھ پر رہا (کہ میں نے کیا کرنا ہے؟) پھر وہ بیٹھ گئے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الرَّسَائِلِ‏/حدیث: 1135]
تخریج الحدیث
«ضعيف: أخرجه معمر فى جامعه: 19889 و الحاكم: 516/4 مطولًا و الطيالسي فى مسنده: 421 و ابن أبى شيبة: 37400 و أحمد: 23316 و الطبراني فى مسند الشاميين: 1952 مختصرًا فالأثر صحيح»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (1134) باب پر واپس اگلی حدیث (1136) →