جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
جب زمین پوری شدت سے ہلا ڈالی جائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
جب زمین سخت ہلا دی جائے گی، اس کا سخت ہلایا جانا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مرحلہ وار قیامت ٭٭
زمین اپنے نیچے سے اوپر تک کپکپانے لگے گی اور جتنے مردے اس میں ہیں سب نکال پھینکے گی۔ جیسے اور جگہ ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ» ۱؎ [22-الحج:1] یعنی ’ لوگو اپنے رب سے ڈرو یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ اس دن کا بھونچال بڑی چیز ہے ‘۔ اور جگہ ارشاد ہے «وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ» * «وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ» ۱؎ [84-الانشقاق:3-4] یعنی ’ جبکہ زمین کھینچ کھانچ کر برابر ہموار کر دی جائیگی اور اس میں جو کچھ ہے وہ اسے باہر ڈال دے گی اور بالکل خالی ہو جائیگی ‘۔ صحیح مسلم شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”زمین اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو اگل دے گی، سونا چاندی مثل ستونوں کے باہر نکل پڑے گا، قاتل اسے دیکھ کر افسوس کرتا ہوا کہے گا کہ ہائے اسی مال کے لیے میں نے فلاں کو قتل کیا تھا، آج یہ یوں ادھر ادھر بکھر رہا ہے کوئی آنکھ بھر کر دیکھتا بھی نہیں، اسی طرح صلہ رحمی توڑنے والا بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں آ کر رشتہ داروں سے میں سلوک نہیں کرتا تھا، چور بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں میں نے ہاتھ کٹوا دئیے تھے غرض وہ مال یونہی بکھرا پھرے گا کوئی نہیں لے گا“ ۱؎ [صحیح مسلم:1013] ، انسان اس وقت ہکا بکا رہ جائے گا اور کہے گا یہ تو ہلنے جلنے والی نہ تھی بلکہ ٹھہری ہوئی بوجھل اور جمی ہوئی تھی اسے کیا ہو گیا کہ یوں بید کی طرح تھرانے لگی اور ساتھ ہی جب دیکھے گا کہ تمام پہلی پچھلی لاشیں بھی زمین نے اگل دیں تو اور حیران و پریشان ہو جائے گا کہ آخر اسے کیا ہو گیا ہے؟ پس زمین بالکل بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب لوگ اس قہار اللہ کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے زمین کھلے طور پر صاف صاف گواہی دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں فلاں زیادتی اس شخص پر کی ہے۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا: ”جانتے بھی ہو کہ زمین کی بیان کردہ خبریں کیا ہوں گی“، لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی کو علم ہے، تو آپ نے فرمایا: ”جو جو اعمال بنی آدم نے زمین پر کیے ہیں وہ تمام وہ ظاہر کر دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں نیکی یا بدی فلاں جگہ فلاں وقت کی ہے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3353:قال الشيخ الألباني:ضعيف الإسناد] امام ترمذی اس حدیث کو حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں معجم طبرانی میں ہے کہ { آپ نے فرمایا: ”زمین سے بچو یہ تمہاری ماں ہے جو شخص جو نیکی بدی اس پر کرتا ہے یہ سب کھول کھول کر بیان کر دے گی“ }۔ ۱؎ [طبرانی:4596:ضعیف] یہاں «وحی» سے مراد حکم دینا ہے «اوحی» اور اس کے ہم معنی افعال کا صلہ حرف «لام» بھی آتا ہے «الی» بھی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ اسے فرمائے گا کہ بتا اور وہ بتاتی جائیگی اس دن لوگ حساب کی جگہ سے مختلف قسموں کی جماعتیں بن بن کر لوٹیں گے کوئی بد ہو گا کوئی نیک کوئی جنتی بنا ہو گا کوئی جہنمی۔ یہ معنی بھی ہیں کہ یہاں سے جو الگ الگ ہوں گے تو پھر اجتماع نہ ہو گا یہ اس لیے کہ وہ اپنے اعمال کو جان لیں اور بھلائی برائی کا بدلہ پا لیں گے اسی لیے آخر میں بھی بیان فرما دیا۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ گھوڑوں والے تین قسم کے ہیں، ایک اجر پانے والا، ایک پردہ پوشی والا اور ایک بوجھ اور گناہ والا اجر والا تو وہ ہے جو گھوڑا پالتا ہے جہاد کی نیت سے اگر اس کے گھوڑے کی اگاڑی پچھاڑی ڈھیلی ہو گئی اور یہ ادھر ادھر سے چرتا رہا تو یہ بھی گھوڑے والے کے لیے اجر کا باعث ہے اور اگر اس کی رسی ٹوٹ گئی اور یہ ادھر ادھر چلا گیا تو اس کے نشان قدم اور لید کا بھی اسے ثواب ملتا ہے اگر یہ کسی نہر پر جا کر پانی پی لے چاہے پلانے کا ارادہ نہ ہو تو بھی ثواب مل جاتا، یہ گھوڑا تو اس کے لیے سراسر اجر و ثواب ہے دوسرا وہ شخص جس نے اس لیے پال رکھا ہے کہ دوسروں سے بےپرواہ اور کسی سے سوال کی ضرورت نہ ہو لیکن اللہ کا حق نہ تو اس بارے میں بھولتا ہے نہ اس کی سواری میں پس یہ اس کے لیے پردہ ہے تیسرا وہ شخص ہے جس نے فخر و ریا کاری اور ظلم و ستم کے لیے پال رکھا ہے پس یہ اس کے ذمہ بوجھ اور اس پر گناہ کا بار ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ گدھوں کے بارے میں کیا حکم ہے آپ نے فرمایا: ”مجھ پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے سوائے تنہا اور جامع آیت کے اور کچھ نازل نہیں ہوا کہ ذرہ برابر نیکی یا بدی ہر شخص دیکھ لے گا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:987]
سیدنا صعصعہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ آیت سن کر کہہ دیا کہ صرف یہی آیت کافی ہے اور زیادہ اگر نہ بھی سنوں تو کوئی ضرورت نہیں۔ [مسند احمد:59/5:صحیح] صحیح بخاری میں بروایت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ { آگ سے بچو اگرچہ آدھی کھجور کا صدقہ ہی ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1413] اسی طرح صحیح حدیث میں ہے کہ { نیکی کے کام کو ہلکا نہ سمجھو گو اتنا ہی کام ہو کہ تو اپنے ڈول میں سے ذرا سا پانی کسی پیاسے کو پلوا دے یا اپنے کسی مسلمان بھائی سے کشادہ روئی اور خندہ پیشانی سے ملاقات کر لے }۔ ۱؎ [مسند احمد:63/5:صحیح] دوسری ایک صحیح حدیث میں ہے، { اے ایمان والی عورتو! تم پڑوسن کے بھیجے ہوئے تحفے یا ہدئے کو حقیر نہ سمجھو گو ایک کھر ہی آیا ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2566] اور حدیث میں ہے کہ { سائل کو کچھ نہ کچھ دے دو گو جلا ہوا کھر ہی ہو }۔ ۱؎ [مسند احمد:435/6] مسند احمد کی حدیث میں ہے، { اے عائشہ! گناہوں کو حقیر نہ سمجھو یاد رکھو کہ ان کا بھی حساب لینے والا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:70/6] ابن جریر میں ہے کہ { سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ یہ آیت اتری تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھانے سے ہاتھ اٹھا لیا اور پوچھنے لگے کہ یا رسول اللہ! کیا میں ایک ایک ذرے برابر کا بدلہ دیا جاؤں گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے صدیق دنیا میں جو جو تکلیفیں تمہیں پہنچی ہیں یہ تو اس میں آ گئیں اور نیکیاں تمہارے لیے اللہ کے ہاں ذخیرہ بنی ہوئی ہیں اور ان سب کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن تمہیں دیا جائے گا“ }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37747] ابن جریر کی ایک اور روایت میں ہے کہ { یہ سورت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں نازل ہوئی تھی آپ اسے سن کر بہت روئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبب پوچھا: تو آپ نے فرمایا: مجھے یہ سورت رلا رہی ہے آپ نے فرمایا: ”اگر تم خطا اور گناہ نہ کرتے کہ تمہیں بخشا جائے اور معاف کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کسی اور امت کو پیدا کرتا جو خطا اور گناہ کرتے اور اللہ انہیں بخشتا“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:37760:حسن]
{ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ آیت سن کر پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا مجھے اپنے سب اعمال دیکھنے پڑیں گے آپ نے فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: بڑے بڑے، فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: اور چھوٹے چھوٹے بھی، فرمایا: ”ہاں“، میں نے کہا، ہائے افسوس! آپ نے فرمایا: ”ابوسعید خوش ہو جاؤ، نیکی تو دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ تک اللہ جسے چاہے دے گا ہاں گناہ اسی کے مثل ہوں گے یا اللہ تعالیٰ اسے بھی بخش دے گا، سنو! کسی شخص کو صرف اس کے اعمال نجات نہ دے سکیں گے“، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا: ”نہ مجھے ہی مگر یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے“ }۔ (اسنادہ ضعیف: اس کی سند ابن لہیعہ کی وجہ سے ضعیف ہے ـ) اس کے راویوں میں ایک ابن لہیعہ ہیں یہ روایت صرف انہی سے مروی ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب آیت «وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا» [76-الإنسان:8] نازل ہوئی یعنی مال کی محبت کے باوجود مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں تو لوگ یہ سمجھ گئے کہ اگر ہم تھوڑی سی چیز راہ اللہ دیں گے تو کوئی ثواب نہ ملے گا مسکین ان کے دروازے پر آتا لیکن ایک آدھ کھجور یا روٹی کا ٹکڑا وغیرہ دینے کو حقارت خیال کر کے یونہی لوٹا دیتے تھے کہ اگر دیں تو کوئی اچھی محبوب و مرغوب چیز دیں ادھر تو ایک جماعت یہ تھی، دوسری جماعت وہ تھی جنہیں یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں پر ہماری پکڑ نہ ہو گی مثلا کبھی کوئی جھوٹ بات کہہ دی کبھی ادھر ادھر نظریں ڈال لیں، کبھی غیبت کر لی وغیرہ جہنم کی وعید تو کبیرہ گناہوں پر ہے تو یہ آیت «فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ» [99-الزلزلہ:7] نازل ہوئی۔ اور انہیں بتایا گیا کہ چھوٹی سی نیکی کو حقیر نہ سمجھو یہ بڑی ہو کر ملے گی اور تھوڑے سے گناہ کو بھی بےجان نہ سمجھو کہیں تھوڑا تھوڑا مل کر بہت نہ بن جائے «ذرہ» کے معنی چھوٹی چیونٹی کے ہیں، یعنی نیکیوں اور برائیوں کو چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی اپنے نامہ اعمال میں دیکھ لے گا بدی تو ایک ہی لکھی جاتی ہے نیکی ایک کے بدلے دس بلکہ جس کے لیے اللہ چاہے اس سے بھی بہت زیادہ بلکہ ان نیکیوں کے بدلے برائیاں بھی معاف ہو جاتی ہیں ایک ایک کے بدلے دس دس بدیاں معاف ہو جاتی ہیں پھر یہ بھی ہے کہ جس کی نیکی برائی سے ایک ذرے کے برابر بڑھ گئی وہ جنتی ہو گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”گناہوں کو ہلکا نہ سمجھا کرو یہ سب جمع ہو کر آدمی کو ہلاک کر ڈالتے ہیں“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان برائیوں کی مثال بیان کی کہ جیسے کچھ لوگ کسی جگہ اترے پھر ایک ایک دو دو لکڑیاں چن لائے تو لکڑیوں کا ڈھیر لگ جائے گا پھر اگر انہیں سلگایا جائے تو اس وقت اس آگ پر جو چاہیں پکا سکتے ہیں (اسی طرح تھوڑے تھوڑے گناہ بہت زیادہ ہو کر آگ کا کام کرتے ہیں اور انسان کو جلا دیتے ہیں) } ۱؎۔ [مسند احمد:402/1:صحیح لغیرہ] سورۃ اذازلزلت کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
جب زمین پوری طرح جھنجھوڑ دی جائے گی (1)
انس بن مالک اور ابن عباس رضی اللہ عنھم سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ زلزال کو قرآن کے نصف کے برابر قرار دیا ہے، مگر شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے ان روایات کو منکر اور ضعیف قرار دیا ہے۔ [ دیکھیے سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ و الموضوعۃ: ۱۳۴۲ ] (آیت 1){ اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا: ”زَلْزَلَ يُزَلْزِلُ زَلْزَلَةً وَ زِلْزَالًا“} (فعللہ) سخت ہلانا۔ یہاں {”زِلْزَالٌ“} مصدر مفعول کے معنی میں ہے، یعنی سخت ہلایا جانا۔ اس سے مراد دوسرے نفخہ کے ساتھ آنے والا زبردست زلزلہ ہے، کیونکہ دوسرے نفخہ کے ساتھ ہی مردے قبروں سے نکلیں گے، فرمایا: «ثُمَّ نُفِخَ فِيْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِيَامٌ يَّنْظُرُوْنَ» [ الزمر: ۶۸ ] ” پھر اس میں دوسری دفعہ پھونکا جائے گا تویک لخت وہ کھڑے ہو کر دیکھ رہے ہوں گے۔“ {” زِلْزَالَهَا “} (اپنے زلزلے) سے مراد یہ ہے کہ زمین کو سخت ہلا دینے کے لیے جتنا زبردست زلزلہ ہونا چاہیے اس قسم کے زلزلے کے ساتھ وہ سخت ہلا دی جائے گی۔
اور زمین اپنے اندر کے سارے بوجھ نکال کر باہر ڈال دے گی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اپنے بوجھ باہر نکال پھینکے گی
احمد رضا خان بریلوی
اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک دے
علامہ محمد حسین نجفی
اور زمین اپنے بوجھوں کو باہر نکال دے گی۔
عبدالسلام بن محمد
اور زمین اپنے بوجھ نکال باہر کرے گی ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مرحلہ وار قیامت ٭٭
زمین اپنے نیچے سے اوپر تک کپکپانے لگے گی اور جتنے مردے اس میں ہیں سب نکال پھینکے گی۔ جیسے اور جگہ ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ» ۱؎ [22-الحج:1] یعنی ’ لوگو اپنے رب سے ڈرو یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ اس دن کا بھونچال بڑی چیز ہے ‘۔ اور جگہ ارشاد ہے «وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ» * «وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ» ۱؎ [84-الانشقاق:3-4] یعنی ’ جبکہ زمین کھینچ کھانچ کر برابر ہموار کر دی جائیگی اور اس میں جو کچھ ہے وہ اسے باہر ڈال دے گی اور بالکل خالی ہو جائیگی ‘۔ صحیح مسلم شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”زمین اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو اگل دے گی، سونا چاندی مثل ستونوں کے باہر نکل پڑے گا، قاتل اسے دیکھ کر افسوس کرتا ہوا کہے گا کہ ہائے اسی مال کے لیے میں نے فلاں کو قتل کیا تھا، آج یہ یوں ادھر ادھر بکھر رہا ہے کوئی آنکھ بھر کر دیکھتا بھی نہیں، اسی طرح صلہ رحمی توڑنے والا بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں آ کر رشتہ داروں سے میں سلوک نہیں کرتا تھا، چور بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں میں نے ہاتھ کٹوا دئیے تھے غرض وہ مال یونہی بکھرا پھرے گا کوئی نہیں لے گا“ ۱؎ [صحیح مسلم:1013] ، انسان اس وقت ہکا بکا رہ جائے گا اور کہے گا یہ تو ہلنے جلنے والی نہ تھی بلکہ ٹھہری ہوئی بوجھل اور جمی ہوئی تھی اسے کیا ہو گیا کہ یوں بید کی طرح تھرانے لگی اور ساتھ ہی جب دیکھے گا کہ تمام پہلی پچھلی لاشیں بھی زمین نے اگل دیں تو اور حیران و پریشان ہو جائے گا کہ آخر اسے کیا ہو گیا ہے؟ پس زمین بالکل بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب لوگ اس قہار اللہ کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے زمین کھلے طور پر صاف صاف گواہی دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں فلاں زیادتی اس شخص پر کی ہے۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا: ”جانتے بھی ہو کہ زمین کی بیان کردہ خبریں کیا ہوں گی“، لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی کو علم ہے، تو آپ نے فرمایا: ”جو جو اعمال بنی آدم نے زمین پر کیے ہیں وہ تمام وہ ظاہر کر دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں نیکی یا بدی فلاں جگہ فلاں وقت کی ہے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3353:قال الشيخ الألباني:ضعيف الإسناد] امام ترمذی اس حدیث کو حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں معجم طبرانی میں ہے کہ { آپ نے فرمایا: ”زمین سے بچو یہ تمہاری ماں ہے جو شخص جو نیکی بدی اس پر کرتا ہے یہ سب کھول کھول کر بیان کر دے گی“ }۔ ۱؎ [طبرانی:4596:ضعیف] یہاں «وحی» سے مراد حکم دینا ہے «اوحی» اور اس کے ہم معنی افعال کا صلہ حرف «لام» بھی آتا ہے «الی» بھی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ اسے فرمائے گا کہ بتا اور وہ بتاتی جائیگی اس دن لوگ حساب کی جگہ سے مختلف قسموں کی جماعتیں بن بن کر لوٹیں گے کوئی بد ہو گا کوئی نیک کوئی جنتی بنا ہو گا کوئی جہنمی۔ یہ معنی بھی ہیں کہ یہاں سے جو الگ الگ ہوں گے تو پھر اجتماع نہ ہو گا یہ اس لیے کہ وہ اپنے اعمال کو جان لیں اور بھلائی برائی کا بدلہ پا لیں گے اسی لیے آخر میں بھی بیان فرما دیا۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ گھوڑوں والے تین قسم کے ہیں، ایک اجر پانے والا، ایک پردہ پوشی والا اور ایک بوجھ اور گناہ والا اجر والا تو وہ ہے جو گھوڑا پالتا ہے جہاد کی نیت سے اگر اس کے گھوڑے کی اگاڑی پچھاڑی ڈھیلی ہو گئی اور یہ ادھر ادھر سے چرتا رہا تو یہ بھی گھوڑے والے کے لیے اجر کا باعث ہے اور اگر اس کی رسی ٹوٹ گئی اور یہ ادھر ادھر چلا گیا تو اس کے نشان قدم اور لید کا بھی اسے ثواب ملتا ہے اگر یہ کسی نہر پر جا کر پانی پی لے چاہے پلانے کا ارادہ نہ ہو تو بھی ثواب مل جاتا، یہ گھوڑا تو اس کے لیے سراسر اجر و ثواب ہے دوسرا وہ شخص جس نے اس لیے پال رکھا ہے کہ دوسروں سے بےپرواہ اور کسی سے سوال کی ضرورت نہ ہو لیکن اللہ کا حق نہ تو اس بارے میں بھولتا ہے نہ اس کی سواری میں پس یہ اس کے لیے پردہ ہے تیسرا وہ شخص ہے جس نے فخر و ریا کاری اور ظلم و ستم کے لیے پال رکھا ہے پس یہ اس کے ذمہ بوجھ اور اس پر گناہ کا بار ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ گدھوں کے بارے میں کیا حکم ہے آپ نے فرمایا: ”مجھ پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے سوائے تنہا اور جامع آیت کے اور کچھ نازل نہیں ہوا کہ ذرہ برابر نیکی یا بدی ہر شخص دیکھ لے گا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:987]
سیدنا صعصعہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ آیت سن کر کہہ دیا کہ صرف یہی آیت کافی ہے اور زیادہ اگر نہ بھی سنوں تو کوئی ضرورت نہیں۔ [مسند احمد:59/5:صحیح] صحیح بخاری میں بروایت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ { آگ سے بچو اگرچہ آدھی کھجور کا صدقہ ہی ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1413] اسی طرح صحیح حدیث میں ہے کہ { نیکی کے کام کو ہلکا نہ سمجھو گو اتنا ہی کام ہو کہ تو اپنے ڈول میں سے ذرا سا پانی کسی پیاسے کو پلوا دے یا اپنے کسی مسلمان بھائی سے کشادہ روئی اور خندہ پیشانی سے ملاقات کر لے }۔ ۱؎ [مسند احمد:63/5:صحیح] دوسری ایک صحیح حدیث میں ہے، { اے ایمان والی عورتو! تم پڑوسن کے بھیجے ہوئے تحفے یا ہدئے کو حقیر نہ سمجھو گو ایک کھر ہی آیا ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2566] اور حدیث میں ہے کہ { سائل کو کچھ نہ کچھ دے دو گو جلا ہوا کھر ہی ہو }۔ ۱؎ [مسند احمد:435/6] مسند احمد کی حدیث میں ہے، { اے عائشہ! گناہوں کو حقیر نہ سمجھو یاد رکھو کہ ان کا بھی حساب لینے والا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:70/6] ابن جریر میں ہے کہ { سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ یہ آیت اتری تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھانے سے ہاتھ اٹھا لیا اور پوچھنے لگے کہ یا رسول اللہ! کیا میں ایک ایک ذرے برابر کا بدلہ دیا جاؤں گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے صدیق دنیا میں جو جو تکلیفیں تمہیں پہنچی ہیں یہ تو اس میں آ گئیں اور نیکیاں تمہارے لیے اللہ کے ہاں ذخیرہ بنی ہوئی ہیں اور ان سب کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن تمہیں دیا جائے گا“ }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37747] ابن جریر کی ایک اور روایت میں ہے کہ { یہ سورت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں نازل ہوئی تھی آپ اسے سن کر بہت روئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبب پوچھا: تو آپ نے فرمایا: مجھے یہ سورت رلا رہی ہے آپ نے فرمایا: ”اگر تم خطا اور گناہ نہ کرتے کہ تمہیں بخشا جائے اور معاف کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کسی اور امت کو پیدا کرتا جو خطا اور گناہ کرتے اور اللہ انہیں بخشتا“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:37760:حسن]
{ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ آیت سن کر پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا مجھے اپنے سب اعمال دیکھنے پڑیں گے آپ نے فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: بڑے بڑے، فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: اور چھوٹے چھوٹے بھی، فرمایا: ”ہاں“، میں نے کہا، ہائے افسوس! آپ نے فرمایا: ”ابوسعید خوش ہو جاؤ، نیکی تو دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ تک اللہ جسے چاہے دے گا ہاں گناہ اسی کے مثل ہوں گے یا اللہ تعالیٰ اسے بھی بخش دے گا، سنو! کسی شخص کو صرف اس کے اعمال نجات نہ دے سکیں گے“، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا: ”نہ مجھے ہی مگر یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے“ }۔ (اسنادہ ضعیف: اس کی سند ابن لہیعہ کی وجہ سے ضعیف ہے ـ) اس کے راویوں میں ایک ابن لہیعہ ہیں یہ روایت صرف انہی سے مروی ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب آیت «وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا» [76-الإنسان:8] نازل ہوئی یعنی مال کی محبت کے باوجود مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں تو لوگ یہ سمجھ گئے کہ اگر ہم تھوڑی سی چیز راہ اللہ دیں گے تو کوئی ثواب نہ ملے گا مسکین ان کے دروازے پر آتا لیکن ایک آدھ کھجور یا روٹی کا ٹکڑا وغیرہ دینے کو حقارت خیال کر کے یونہی لوٹا دیتے تھے کہ اگر دیں تو کوئی اچھی محبوب و مرغوب چیز دیں ادھر تو ایک جماعت یہ تھی، دوسری جماعت وہ تھی جنہیں یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں پر ہماری پکڑ نہ ہو گی مثلا کبھی کوئی جھوٹ بات کہہ دی کبھی ادھر ادھر نظریں ڈال لیں، کبھی غیبت کر لی وغیرہ جہنم کی وعید تو کبیرہ گناہوں پر ہے تو یہ آیت «فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ» [99-الزلزلہ:7] نازل ہوئی۔ اور انہیں بتایا گیا کہ چھوٹی سی نیکی کو حقیر نہ سمجھو یہ بڑی ہو کر ملے گی اور تھوڑے سے گناہ کو بھی بےجان نہ سمجھو کہیں تھوڑا تھوڑا مل کر بہت نہ بن جائے «ذرہ» کے معنی چھوٹی چیونٹی کے ہیں، یعنی نیکیوں اور برائیوں کو چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی اپنے نامہ اعمال میں دیکھ لے گا بدی تو ایک ہی لکھی جاتی ہے نیکی ایک کے بدلے دس بلکہ جس کے لیے اللہ چاہے اس سے بھی بہت زیادہ بلکہ ان نیکیوں کے بدلے برائیاں بھی معاف ہو جاتی ہیں ایک ایک کے بدلے دس دس بدیاں معاف ہو جاتی ہیں پھر یہ بھی ہے کہ جس کی نیکی برائی سے ایک ذرے کے برابر بڑھ گئی وہ جنتی ہو گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”گناہوں کو ہلکا نہ سمجھا کرو یہ سب جمع ہو کر آدمی کو ہلاک کر ڈالتے ہیں“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان برائیوں کی مثال بیان کی کہ جیسے کچھ لوگ کسی جگہ اترے پھر ایک ایک دو دو لکڑیاں چن لائے تو لکڑیوں کا ڈھیر لگ جائے گا پھر اگر انہیں سلگایا جائے تو اس وقت اس آگ پر جو چاہیں پکا سکتے ہیں (اسی طرح تھوڑے تھوڑے گناہ بہت زیادہ ہو کر آگ کا کام کرتے ہیں اور انسان کو جلا دیتے ہیں) } ۱؎۔ [مسند احمد:402/1:صحیح لغیرہ] سورۃ اذازلزلت کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
2۔ 1 یعنی زمین میں جتنے انسان دفن ہیں، وہ زمین کا بوجھ ہیں، جنہیں زمین قیامت والے دن باہر نکال پھینکے گی اور اللہ کے حکم سے سب زندہ ہو کر باہر نکل آئیں گے۔ یہ دوسرے نفخے میں ہوگا، اسی طرح زمین کے خزانے بھی باہر نکل آئیں گے۔
(آیت2) {وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَا: ” أَثْقَالٌ “ ”ثَقَلٌ“} کی جمع ہے، مسافر کا سامان اور نفیس چیزیں جن کی وہ حفاظت کرتا ہے، یعنی زمین نے جو کچھ سنبھال کر رکھا ہوا ہے اسے باہر نکال دے گی۔ یا {”ثِقْلٌ“} کی جمع ہے جو حمل کو کہتے ہیں، جیسے فرمایا: «فَلَمَّاۤ اَثْقَلَتْ» [ الأعراف: ۱۸۹ ] ”پس جب وہ (عورت) بھاری ہو گئی۔“ اس صورت میں زمین کو حاملہ کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے، یعنی اتنا شدید زلزلہ ہوگا کہ زمین پھٹ جائے گی اور اس میں جو فوت شدہ لوگ ہیں یا جو کچھ بھی زمین نے سنبھال کر رکھا ہوا ہے باہر نکال کر خالی ہو جائے گی، جیسا کہ فرمایا: «وَ اَلْقَتْ مَا فِيْهَا وَ تَخَلَّتْ» [الانشقاق: ۴ ] ” اور اس میں جو کچھ ہے باہر پھینک دے گی اور خالی ہو جائے گی۔“
زمین اپنے نیچے سے اوپر تک کپکپانے لگے گی اور جتنے مردے اس میں ہیں سب نکال پھینکے گی۔ جیسے اور جگہ ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ» ۱؎ [22-الحج:1] یعنی ’ لوگو اپنے رب سے ڈرو یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ اس دن کا بھونچال بڑی چیز ہے ‘۔ اور جگہ ارشاد ہے «وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ» * «وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ» ۱؎ [84-الانشقاق:3-4] یعنی ’ جبکہ زمین کھینچ کھانچ کر برابر ہموار کر دی جائیگی اور اس میں جو کچھ ہے وہ اسے باہر ڈال دے گی اور بالکل خالی ہو جائیگی ‘۔ صحیح مسلم شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”زمین اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو اگل دے گی، سونا چاندی مثل ستونوں کے باہر نکل پڑے گا، قاتل اسے دیکھ کر افسوس کرتا ہوا کہے گا کہ ہائے اسی مال کے لیے میں نے فلاں کو قتل کیا تھا، آج یہ یوں ادھر ادھر بکھر رہا ہے کوئی آنکھ بھر کر دیکھتا بھی نہیں، اسی طرح صلہ رحمی توڑنے والا بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں آ کر رشتہ داروں سے میں سلوک نہیں کرتا تھا، چور بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں میں نے ہاتھ کٹوا دئیے تھے غرض وہ مال یونہی بکھرا پھرے گا کوئی نہیں لے گا“ ۱؎ [صحیح مسلم:1013] ، انسان اس وقت ہکا بکا رہ جائے گا اور کہے گا یہ تو ہلنے جلنے والی نہ تھی بلکہ ٹھہری ہوئی بوجھل اور جمی ہوئی تھی اسے کیا ہو گیا کہ یوں بید کی طرح تھرانے لگی اور ساتھ ہی جب دیکھے گا کہ تمام پہلی پچھلی لاشیں بھی زمین نے اگل دیں تو اور حیران و پریشان ہو جائے گا کہ آخر اسے کیا ہو گیا ہے؟ پس زمین بالکل بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب لوگ اس قہار اللہ کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے زمین کھلے طور پر صاف صاف گواہی دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں فلاں زیادتی اس شخص پر کی ہے۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا: ”جانتے بھی ہو کہ زمین کی بیان کردہ خبریں کیا ہوں گی“، لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی کو علم ہے، تو آپ نے فرمایا: ”جو جو اعمال بنی آدم نے زمین پر کیے ہیں وہ تمام وہ ظاہر کر دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں نیکی یا بدی فلاں جگہ فلاں وقت کی ہے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3353:قال الشيخ الألباني:ضعيف الإسناد] امام ترمذی اس حدیث کو حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں معجم طبرانی میں ہے کہ { آپ نے فرمایا: ”زمین سے بچو یہ تمہاری ماں ہے جو شخص جو نیکی بدی اس پر کرتا ہے یہ سب کھول کھول کر بیان کر دے گی“ }۔ ۱؎ [طبرانی:4596:ضعیف] یہاں «وحی» سے مراد حکم دینا ہے «اوحی» اور اس کے ہم معنی افعال کا صلہ حرف «لام» بھی آتا ہے «الی» بھی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ اسے فرمائے گا کہ بتا اور وہ بتاتی جائیگی اس دن لوگ حساب کی جگہ سے مختلف قسموں کی جماعتیں بن بن کر لوٹیں گے کوئی بد ہو گا کوئی نیک کوئی جنتی بنا ہو گا کوئی جہنمی۔ یہ معنی بھی ہیں کہ یہاں سے جو الگ الگ ہوں گے تو پھر اجتماع نہ ہو گا یہ اس لیے کہ وہ اپنے اعمال کو جان لیں اور بھلائی برائی کا بدلہ پا لیں گے اسی لیے آخر میں بھی بیان فرما دیا۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ گھوڑوں والے تین قسم کے ہیں، ایک اجر پانے والا، ایک پردہ پوشی والا اور ایک بوجھ اور گناہ والا اجر والا تو وہ ہے جو گھوڑا پالتا ہے جہاد کی نیت سے اگر اس کے گھوڑے کی اگاڑی پچھاڑی ڈھیلی ہو گئی اور یہ ادھر ادھر سے چرتا رہا تو یہ بھی گھوڑے والے کے لیے اجر کا باعث ہے اور اگر اس کی رسی ٹوٹ گئی اور یہ ادھر ادھر چلا گیا تو اس کے نشان قدم اور لید کا بھی اسے ثواب ملتا ہے اگر یہ کسی نہر پر جا کر پانی پی لے چاہے پلانے کا ارادہ نہ ہو تو بھی ثواب مل جاتا، یہ گھوڑا تو اس کے لیے سراسر اجر و ثواب ہے دوسرا وہ شخص جس نے اس لیے پال رکھا ہے کہ دوسروں سے بےپرواہ اور کسی سے سوال کی ضرورت نہ ہو لیکن اللہ کا حق نہ تو اس بارے میں بھولتا ہے نہ اس کی سواری میں پس یہ اس کے لیے پردہ ہے تیسرا وہ شخص ہے جس نے فخر و ریا کاری اور ظلم و ستم کے لیے پال رکھا ہے پس یہ اس کے ذمہ بوجھ اور اس پر گناہ کا بار ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ گدھوں کے بارے میں کیا حکم ہے آپ نے فرمایا: ”مجھ پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے سوائے تنہا اور جامع آیت کے اور کچھ نازل نہیں ہوا کہ ذرہ برابر نیکی یا بدی ہر شخص دیکھ لے گا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:987]
سیدنا صعصعہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ آیت سن کر کہہ دیا کہ صرف یہی آیت کافی ہے اور زیادہ اگر نہ بھی سنوں تو کوئی ضرورت نہیں۔ [مسند احمد:59/5:صحیح] صحیح بخاری میں بروایت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ { آگ سے بچو اگرچہ آدھی کھجور کا صدقہ ہی ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1413] اسی طرح صحیح حدیث میں ہے کہ { نیکی کے کام کو ہلکا نہ سمجھو گو اتنا ہی کام ہو کہ تو اپنے ڈول میں سے ذرا سا پانی کسی پیاسے کو پلوا دے یا اپنے کسی مسلمان بھائی سے کشادہ روئی اور خندہ پیشانی سے ملاقات کر لے }۔ ۱؎ [مسند احمد:63/5:صحیح] دوسری ایک صحیح حدیث میں ہے، { اے ایمان والی عورتو! تم پڑوسن کے بھیجے ہوئے تحفے یا ہدئے کو حقیر نہ سمجھو گو ایک کھر ہی آیا ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2566] اور حدیث میں ہے کہ { سائل کو کچھ نہ کچھ دے دو گو جلا ہوا کھر ہی ہو }۔ ۱؎ [مسند احمد:435/6] مسند احمد کی حدیث میں ہے، { اے عائشہ! گناہوں کو حقیر نہ سمجھو یاد رکھو کہ ان کا بھی حساب لینے والا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:70/6] ابن جریر میں ہے کہ { سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ یہ آیت اتری تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھانے سے ہاتھ اٹھا لیا اور پوچھنے لگے کہ یا رسول اللہ! کیا میں ایک ایک ذرے برابر کا بدلہ دیا جاؤں گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے صدیق دنیا میں جو جو تکلیفیں تمہیں پہنچی ہیں یہ تو اس میں آ گئیں اور نیکیاں تمہارے لیے اللہ کے ہاں ذخیرہ بنی ہوئی ہیں اور ان سب کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن تمہیں دیا جائے گا“ }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37747] ابن جریر کی ایک اور روایت میں ہے کہ { یہ سورت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں نازل ہوئی تھی آپ اسے سن کر بہت روئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبب پوچھا: تو آپ نے فرمایا: مجھے یہ سورت رلا رہی ہے آپ نے فرمایا: ”اگر تم خطا اور گناہ نہ کرتے کہ تمہیں بخشا جائے اور معاف کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کسی اور امت کو پیدا کرتا جو خطا اور گناہ کرتے اور اللہ انہیں بخشتا“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:37760:حسن]
{ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ آیت سن کر پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا مجھے اپنے سب اعمال دیکھنے پڑیں گے آپ نے فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: بڑے بڑے، فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: اور چھوٹے چھوٹے بھی، فرمایا: ”ہاں“، میں نے کہا، ہائے افسوس! آپ نے فرمایا: ”ابوسعید خوش ہو جاؤ، نیکی تو دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ تک اللہ جسے چاہے دے گا ہاں گناہ اسی کے مثل ہوں گے یا اللہ تعالیٰ اسے بھی بخش دے گا، سنو! کسی شخص کو صرف اس کے اعمال نجات نہ دے سکیں گے“، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا: ”نہ مجھے ہی مگر یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے“ }۔ (اسنادہ ضعیف: اس کی سند ابن لہیعہ کی وجہ سے ضعیف ہے ـ) اس کے راویوں میں ایک ابن لہیعہ ہیں یہ روایت صرف انہی سے مروی ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب آیت «وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا» [76-الإنسان:8] نازل ہوئی یعنی مال کی محبت کے باوجود مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں تو لوگ یہ سمجھ گئے کہ اگر ہم تھوڑی سی چیز راہ اللہ دیں گے تو کوئی ثواب نہ ملے گا مسکین ان کے دروازے پر آتا لیکن ایک آدھ کھجور یا روٹی کا ٹکڑا وغیرہ دینے کو حقارت خیال کر کے یونہی لوٹا دیتے تھے کہ اگر دیں تو کوئی اچھی محبوب و مرغوب چیز دیں ادھر تو ایک جماعت یہ تھی، دوسری جماعت وہ تھی جنہیں یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں پر ہماری پکڑ نہ ہو گی مثلا کبھی کوئی جھوٹ بات کہہ دی کبھی ادھر ادھر نظریں ڈال لیں، کبھی غیبت کر لی وغیرہ جہنم کی وعید تو کبیرہ گناہوں پر ہے تو یہ آیت «فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ» [99-الزلزلہ:7] نازل ہوئی۔ اور انہیں بتایا گیا کہ چھوٹی سی نیکی کو حقیر نہ سمجھو یہ بڑی ہو کر ملے گی اور تھوڑے سے گناہ کو بھی بےجان نہ سمجھو کہیں تھوڑا تھوڑا مل کر بہت نہ بن جائے «ذرہ» کے معنی چھوٹی چیونٹی کے ہیں، یعنی نیکیوں اور برائیوں کو چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی اپنے نامہ اعمال میں دیکھ لے گا بدی تو ایک ہی لکھی جاتی ہے نیکی ایک کے بدلے دس بلکہ جس کے لیے اللہ چاہے اس سے بھی بہت زیادہ بلکہ ان نیکیوں کے بدلے برائیاں بھی معاف ہو جاتی ہیں ایک ایک کے بدلے دس دس بدیاں معاف ہو جاتی ہیں پھر یہ بھی ہے کہ جس کی نیکی برائی سے ایک ذرے کے برابر بڑھ گئی وہ جنتی ہو گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”گناہوں کو ہلکا نہ سمجھا کرو یہ سب جمع ہو کر آدمی کو ہلاک کر ڈالتے ہیں“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان برائیوں کی مثال بیان کی کہ جیسے کچھ لوگ کسی جگہ اترے پھر ایک ایک دو دو لکڑیاں چن لائے تو لکڑیوں کا ڈھیر لگ جائے گا پھر اگر انہیں سلگایا جائے تو اس وقت اس آگ پر جو چاہیں پکا سکتے ہیں (اسی طرح تھوڑے تھوڑے گناہ بہت زیادہ ہو کر آگ کا کام کرتے ہیں اور انسان کو جلا دیتے ہیں) } ۱؎۔ [مسند احمد:402/1:صحیح لغیرہ] سورۃ اذازلزلت کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
3۔ 1 یعنی دہشت زدہ ہو کر کہے گا کہ اسے کیا ہوگیا ہے یہ کیوں اس طرح ہل رہی ہے اور اپنے خزانے اگل رہی ہے۔
(آیت 3){ وَ قَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَا:} ہر انسان ہی اچانک پیش آنے والے واقعات سے دہشت زدہ ہو کر یہ الفاظ کہے گا۔ خصوصاً کافر جو قیامت کا منکر تھا، اس کے لیے تو یہ بات حد سے بڑھ کر تعجب انگیز ہوگی۔
اُس روز وہ اپنے (اوپر گزرے ہوئے) حالات بیان کرے گی
مولانا محمد جوناگڑھی
اس دن زمین اپنی سب خبریں بیان کردے گی
احمد رضا خان بریلوی
اس دن وہ اپنی خبریں بتائے گی
علامہ محمد حسین نجفی
اس دن وہ اپنی تمام خبریں بیان کرے گی۔
عبدالسلام بن محمد
اس دن وہ اپنی خبریں بیان کرے گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مرحلہ وار قیامت ٭٭
زمین اپنے نیچے سے اوپر تک کپکپانے لگے گی اور جتنے مردے اس میں ہیں سب نکال پھینکے گی۔ جیسے اور جگہ ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ» ۱؎ [22-الحج:1] یعنی ’ لوگو اپنے رب سے ڈرو یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ اس دن کا بھونچال بڑی چیز ہے ‘۔ اور جگہ ارشاد ہے «وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ» * «وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ» ۱؎ [84-الانشقاق:3-4] یعنی ’ جبکہ زمین کھینچ کھانچ کر برابر ہموار کر دی جائیگی اور اس میں جو کچھ ہے وہ اسے باہر ڈال دے گی اور بالکل خالی ہو جائیگی ‘۔ صحیح مسلم شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”زمین اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو اگل دے گی، سونا چاندی مثل ستونوں کے باہر نکل پڑے گا، قاتل اسے دیکھ کر افسوس کرتا ہوا کہے گا کہ ہائے اسی مال کے لیے میں نے فلاں کو قتل کیا تھا، آج یہ یوں ادھر ادھر بکھر رہا ہے کوئی آنکھ بھر کر دیکھتا بھی نہیں، اسی طرح صلہ رحمی توڑنے والا بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں آ کر رشتہ داروں سے میں سلوک نہیں کرتا تھا، چور بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں میں نے ہاتھ کٹوا دئیے تھے غرض وہ مال یونہی بکھرا پھرے گا کوئی نہیں لے گا“ ۱؎ [صحیح مسلم:1013] ، انسان اس وقت ہکا بکا رہ جائے گا اور کہے گا یہ تو ہلنے جلنے والی نہ تھی بلکہ ٹھہری ہوئی بوجھل اور جمی ہوئی تھی اسے کیا ہو گیا کہ یوں بید کی طرح تھرانے لگی اور ساتھ ہی جب دیکھے گا کہ تمام پہلی پچھلی لاشیں بھی زمین نے اگل دیں تو اور حیران و پریشان ہو جائے گا کہ آخر اسے کیا ہو گیا ہے؟ پس زمین بالکل بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب لوگ اس قہار اللہ کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے زمین کھلے طور پر صاف صاف گواہی دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں فلاں زیادتی اس شخص پر کی ہے۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا: ”جانتے بھی ہو کہ زمین کی بیان کردہ خبریں کیا ہوں گی“، لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی کو علم ہے، تو آپ نے فرمایا: ”جو جو اعمال بنی آدم نے زمین پر کیے ہیں وہ تمام وہ ظاہر کر دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں نیکی یا بدی فلاں جگہ فلاں وقت کی ہے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3353:قال الشيخ الألباني:ضعيف الإسناد] امام ترمذی اس حدیث کو حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں معجم طبرانی میں ہے کہ { آپ نے فرمایا: ”زمین سے بچو یہ تمہاری ماں ہے جو شخص جو نیکی بدی اس پر کرتا ہے یہ سب کھول کھول کر بیان کر دے گی“ }۔ ۱؎ [طبرانی:4596:ضعیف] یہاں «وحی» سے مراد حکم دینا ہے «اوحی» اور اس کے ہم معنی افعال کا صلہ حرف «لام» بھی آتا ہے «الی» بھی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ اسے فرمائے گا کہ بتا اور وہ بتاتی جائیگی اس دن لوگ حساب کی جگہ سے مختلف قسموں کی جماعتیں بن بن کر لوٹیں گے کوئی بد ہو گا کوئی نیک کوئی جنتی بنا ہو گا کوئی جہنمی۔ یہ معنی بھی ہیں کہ یہاں سے جو الگ الگ ہوں گے تو پھر اجتماع نہ ہو گا یہ اس لیے کہ وہ اپنے اعمال کو جان لیں اور بھلائی برائی کا بدلہ پا لیں گے اسی لیے آخر میں بھی بیان فرما دیا۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ گھوڑوں والے تین قسم کے ہیں، ایک اجر پانے والا، ایک پردہ پوشی والا اور ایک بوجھ اور گناہ والا اجر والا تو وہ ہے جو گھوڑا پالتا ہے جہاد کی نیت سے اگر اس کے گھوڑے کی اگاڑی پچھاڑی ڈھیلی ہو گئی اور یہ ادھر ادھر سے چرتا رہا تو یہ بھی گھوڑے والے کے لیے اجر کا باعث ہے اور اگر اس کی رسی ٹوٹ گئی اور یہ ادھر ادھر چلا گیا تو اس کے نشان قدم اور لید کا بھی اسے ثواب ملتا ہے اگر یہ کسی نہر پر جا کر پانی پی لے چاہے پلانے کا ارادہ نہ ہو تو بھی ثواب مل جاتا، یہ گھوڑا تو اس کے لیے سراسر اجر و ثواب ہے دوسرا وہ شخص جس نے اس لیے پال رکھا ہے کہ دوسروں سے بےپرواہ اور کسی سے سوال کی ضرورت نہ ہو لیکن اللہ کا حق نہ تو اس بارے میں بھولتا ہے نہ اس کی سواری میں پس یہ اس کے لیے پردہ ہے تیسرا وہ شخص ہے جس نے فخر و ریا کاری اور ظلم و ستم کے لیے پال رکھا ہے پس یہ اس کے ذمہ بوجھ اور اس پر گناہ کا بار ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ گدھوں کے بارے میں کیا حکم ہے آپ نے فرمایا: ”مجھ پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے سوائے تنہا اور جامع آیت کے اور کچھ نازل نہیں ہوا کہ ذرہ برابر نیکی یا بدی ہر شخص دیکھ لے گا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:987]
سیدنا صعصعہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ آیت سن کر کہہ دیا کہ صرف یہی آیت کافی ہے اور زیادہ اگر نہ بھی سنوں تو کوئی ضرورت نہیں۔ [مسند احمد:59/5:صحیح] صحیح بخاری میں بروایت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ { آگ سے بچو اگرچہ آدھی کھجور کا صدقہ ہی ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1413] اسی طرح صحیح حدیث میں ہے کہ { نیکی کے کام کو ہلکا نہ سمجھو گو اتنا ہی کام ہو کہ تو اپنے ڈول میں سے ذرا سا پانی کسی پیاسے کو پلوا دے یا اپنے کسی مسلمان بھائی سے کشادہ روئی اور خندہ پیشانی سے ملاقات کر لے }۔ ۱؎ [مسند احمد:63/5:صحیح] دوسری ایک صحیح حدیث میں ہے، { اے ایمان والی عورتو! تم پڑوسن کے بھیجے ہوئے تحفے یا ہدئے کو حقیر نہ سمجھو گو ایک کھر ہی آیا ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2566] اور حدیث میں ہے کہ { سائل کو کچھ نہ کچھ دے دو گو جلا ہوا کھر ہی ہو }۔ ۱؎ [مسند احمد:435/6] مسند احمد کی حدیث میں ہے، { اے عائشہ! گناہوں کو حقیر نہ سمجھو یاد رکھو کہ ان کا بھی حساب لینے والا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:70/6] ابن جریر میں ہے کہ { سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ یہ آیت اتری تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھانے سے ہاتھ اٹھا لیا اور پوچھنے لگے کہ یا رسول اللہ! کیا میں ایک ایک ذرے برابر کا بدلہ دیا جاؤں گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے صدیق دنیا میں جو جو تکلیفیں تمہیں پہنچی ہیں یہ تو اس میں آ گئیں اور نیکیاں تمہارے لیے اللہ کے ہاں ذخیرہ بنی ہوئی ہیں اور ان سب کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن تمہیں دیا جائے گا“ }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37747] ابن جریر کی ایک اور روایت میں ہے کہ { یہ سورت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں نازل ہوئی تھی آپ اسے سن کر بہت روئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبب پوچھا: تو آپ نے فرمایا: مجھے یہ سورت رلا رہی ہے آپ نے فرمایا: ”اگر تم خطا اور گناہ نہ کرتے کہ تمہیں بخشا جائے اور معاف کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کسی اور امت کو پیدا کرتا جو خطا اور گناہ کرتے اور اللہ انہیں بخشتا“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:37760:حسن]
{ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ آیت سن کر پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا مجھے اپنے سب اعمال دیکھنے پڑیں گے آپ نے فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: بڑے بڑے، فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: اور چھوٹے چھوٹے بھی، فرمایا: ”ہاں“، میں نے کہا، ہائے افسوس! آپ نے فرمایا: ”ابوسعید خوش ہو جاؤ، نیکی تو دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ تک اللہ جسے چاہے دے گا ہاں گناہ اسی کے مثل ہوں گے یا اللہ تعالیٰ اسے بھی بخش دے گا، سنو! کسی شخص کو صرف اس کے اعمال نجات نہ دے سکیں گے“، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا: ”نہ مجھے ہی مگر یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے“ }۔ (اسنادہ ضعیف: اس کی سند ابن لہیعہ کی وجہ سے ضعیف ہے ـ) اس کے راویوں میں ایک ابن لہیعہ ہیں یہ روایت صرف انہی سے مروی ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب آیت «وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا» [76-الإنسان:8] نازل ہوئی یعنی مال کی محبت کے باوجود مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں تو لوگ یہ سمجھ گئے کہ اگر ہم تھوڑی سی چیز راہ اللہ دیں گے تو کوئی ثواب نہ ملے گا مسکین ان کے دروازے پر آتا لیکن ایک آدھ کھجور یا روٹی کا ٹکڑا وغیرہ دینے کو حقارت خیال کر کے یونہی لوٹا دیتے تھے کہ اگر دیں تو کوئی اچھی محبوب و مرغوب چیز دیں ادھر تو ایک جماعت یہ تھی، دوسری جماعت وہ تھی جنہیں یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں پر ہماری پکڑ نہ ہو گی مثلا کبھی کوئی جھوٹ بات کہہ دی کبھی ادھر ادھر نظریں ڈال لیں، کبھی غیبت کر لی وغیرہ جہنم کی وعید تو کبیرہ گناہوں پر ہے تو یہ آیت «فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ» [99-الزلزلہ:7] نازل ہوئی۔ اور انہیں بتایا گیا کہ چھوٹی سی نیکی کو حقیر نہ سمجھو یہ بڑی ہو کر ملے گی اور تھوڑے سے گناہ کو بھی بےجان نہ سمجھو کہیں تھوڑا تھوڑا مل کر بہت نہ بن جائے «ذرہ» کے معنی چھوٹی چیونٹی کے ہیں، یعنی نیکیوں اور برائیوں کو چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی اپنے نامہ اعمال میں دیکھ لے گا بدی تو ایک ہی لکھی جاتی ہے نیکی ایک کے بدلے دس بلکہ جس کے لیے اللہ چاہے اس سے بھی بہت زیادہ بلکہ ان نیکیوں کے بدلے برائیاں بھی معاف ہو جاتی ہیں ایک ایک کے بدلے دس دس بدیاں معاف ہو جاتی ہیں پھر یہ بھی ہے کہ جس کی نیکی برائی سے ایک ذرے کے برابر بڑھ گئی وہ جنتی ہو گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”گناہوں کو ہلکا نہ سمجھا کرو یہ سب جمع ہو کر آدمی کو ہلاک کر ڈالتے ہیں“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان برائیوں کی مثال بیان کی کہ جیسے کچھ لوگ کسی جگہ اترے پھر ایک ایک دو دو لکڑیاں چن لائے تو لکڑیوں کا ڈھیر لگ جائے گا پھر اگر انہیں سلگایا جائے تو اس وقت اس آگ پر جو چاہیں پکا سکتے ہیں (اسی طرح تھوڑے تھوڑے گناہ بہت زیادہ ہو کر آگ کا کام کرتے ہیں اور انسان کو جلا دیتے ہیں) } ۱؎۔ [مسند احمد:402/1:صحیح لغیرہ] سورۃ اذازلزلت کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
4۔ 1 حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ آیت تلاوت فرمائی اور صحابہ سے پوچھا کہ جانتے ہو کہ اس کی خبریں کیا ہیں صحابہ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس کی خبریں یہ ہیں کہ جس بندے یا بندی نے زمین کی پشت پر جو کچھ کیا ہوگا، اس کی گواہی دے گی۔ کہے گی فلاں فلاں شخص نے فلاں فلاں عمل، فلاں فلاں دن میں کیا تھا۔
(آیت 4){ يَوْمَىِٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَا:} یعنی زمین وہ سب کچھ بیان کرے گی جو اس پر کیا گیا اور بتائے گی کہ کس نے کس وقت کیا نیکی یا کیا بدی کی۔
زمین اپنے نیچے سے اوپر تک کپکپانے لگے گی اور جتنے مردے اس میں ہیں سب نکال پھینکے گی۔ جیسے اور جگہ ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ» ۱؎ [22-الحج:1] یعنی ’ لوگو اپنے رب سے ڈرو یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ اس دن کا بھونچال بڑی چیز ہے ‘۔ اور جگہ ارشاد ہے «وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ» * «وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ» ۱؎ [84-الانشقاق:3-4] یعنی ’ جبکہ زمین کھینچ کھانچ کر برابر ہموار کر دی جائیگی اور اس میں جو کچھ ہے وہ اسے باہر ڈال دے گی اور بالکل خالی ہو جائیگی ‘۔ صحیح مسلم شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”زمین اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو اگل دے گی، سونا چاندی مثل ستونوں کے باہر نکل پڑے گا، قاتل اسے دیکھ کر افسوس کرتا ہوا کہے گا کہ ہائے اسی مال کے لیے میں نے فلاں کو قتل کیا تھا، آج یہ یوں ادھر ادھر بکھر رہا ہے کوئی آنکھ بھر کر دیکھتا بھی نہیں، اسی طرح صلہ رحمی توڑنے والا بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں آ کر رشتہ داروں سے میں سلوک نہیں کرتا تھا، چور بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں میں نے ہاتھ کٹوا دئیے تھے غرض وہ مال یونہی بکھرا پھرے گا کوئی نہیں لے گا“ ۱؎ [صحیح مسلم:1013] ، انسان اس وقت ہکا بکا رہ جائے گا اور کہے گا یہ تو ہلنے جلنے والی نہ تھی بلکہ ٹھہری ہوئی بوجھل اور جمی ہوئی تھی اسے کیا ہو گیا کہ یوں بید کی طرح تھرانے لگی اور ساتھ ہی جب دیکھے گا کہ تمام پہلی پچھلی لاشیں بھی زمین نے اگل دیں تو اور حیران و پریشان ہو جائے گا کہ آخر اسے کیا ہو گیا ہے؟ پس زمین بالکل بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب لوگ اس قہار اللہ کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے زمین کھلے طور پر صاف صاف گواہی دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں فلاں زیادتی اس شخص پر کی ہے۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا: ”جانتے بھی ہو کہ زمین کی بیان کردہ خبریں کیا ہوں گی“، لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی کو علم ہے، تو آپ نے فرمایا: ”جو جو اعمال بنی آدم نے زمین پر کیے ہیں وہ تمام وہ ظاہر کر دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں نیکی یا بدی فلاں جگہ فلاں وقت کی ہے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3353:قال الشيخ الألباني:ضعيف الإسناد] امام ترمذی اس حدیث کو حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں معجم طبرانی میں ہے کہ { آپ نے فرمایا: ”زمین سے بچو یہ تمہاری ماں ہے جو شخص جو نیکی بدی اس پر کرتا ہے یہ سب کھول کھول کر بیان کر دے گی“ }۔ ۱؎ [طبرانی:4596:ضعیف] یہاں «وحی» سے مراد حکم دینا ہے «اوحی» اور اس کے ہم معنی افعال کا صلہ حرف «لام» بھی آتا ہے «الی» بھی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ اسے فرمائے گا کہ بتا اور وہ بتاتی جائیگی اس دن لوگ حساب کی جگہ سے مختلف قسموں کی جماعتیں بن بن کر لوٹیں گے کوئی بد ہو گا کوئی نیک کوئی جنتی بنا ہو گا کوئی جہنمی۔ یہ معنی بھی ہیں کہ یہاں سے جو الگ الگ ہوں گے تو پھر اجتماع نہ ہو گا یہ اس لیے کہ وہ اپنے اعمال کو جان لیں اور بھلائی برائی کا بدلہ پا لیں گے اسی لیے آخر میں بھی بیان فرما دیا۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ گھوڑوں والے تین قسم کے ہیں، ایک اجر پانے والا، ایک پردہ پوشی والا اور ایک بوجھ اور گناہ والا اجر والا تو وہ ہے جو گھوڑا پالتا ہے جہاد کی نیت سے اگر اس کے گھوڑے کی اگاڑی پچھاڑی ڈھیلی ہو گئی اور یہ ادھر ادھر سے چرتا رہا تو یہ بھی گھوڑے والے کے لیے اجر کا باعث ہے اور اگر اس کی رسی ٹوٹ گئی اور یہ ادھر ادھر چلا گیا تو اس کے نشان قدم اور لید کا بھی اسے ثواب ملتا ہے اگر یہ کسی نہر پر جا کر پانی پی لے چاہے پلانے کا ارادہ نہ ہو تو بھی ثواب مل جاتا، یہ گھوڑا تو اس کے لیے سراسر اجر و ثواب ہے دوسرا وہ شخص جس نے اس لیے پال رکھا ہے کہ دوسروں سے بےپرواہ اور کسی سے سوال کی ضرورت نہ ہو لیکن اللہ کا حق نہ تو اس بارے میں بھولتا ہے نہ اس کی سواری میں پس یہ اس کے لیے پردہ ہے تیسرا وہ شخص ہے جس نے فخر و ریا کاری اور ظلم و ستم کے لیے پال رکھا ہے پس یہ اس کے ذمہ بوجھ اور اس پر گناہ کا بار ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ گدھوں کے بارے میں کیا حکم ہے آپ نے فرمایا: ”مجھ پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے سوائے تنہا اور جامع آیت کے اور کچھ نازل نہیں ہوا کہ ذرہ برابر نیکی یا بدی ہر شخص دیکھ لے گا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:987]
سیدنا صعصعہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ آیت سن کر کہہ دیا کہ صرف یہی آیت کافی ہے اور زیادہ اگر نہ بھی سنوں تو کوئی ضرورت نہیں۔ [مسند احمد:59/5:صحیح] صحیح بخاری میں بروایت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ { آگ سے بچو اگرچہ آدھی کھجور کا صدقہ ہی ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1413] اسی طرح صحیح حدیث میں ہے کہ { نیکی کے کام کو ہلکا نہ سمجھو گو اتنا ہی کام ہو کہ تو اپنے ڈول میں سے ذرا سا پانی کسی پیاسے کو پلوا دے یا اپنے کسی مسلمان بھائی سے کشادہ روئی اور خندہ پیشانی سے ملاقات کر لے }۔ ۱؎ [مسند احمد:63/5:صحیح] دوسری ایک صحیح حدیث میں ہے، { اے ایمان والی عورتو! تم پڑوسن کے بھیجے ہوئے تحفے یا ہدئے کو حقیر نہ سمجھو گو ایک کھر ہی آیا ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2566] اور حدیث میں ہے کہ { سائل کو کچھ نہ کچھ دے دو گو جلا ہوا کھر ہی ہو }۔ ۱؎ [مسند احمد:435/6] مسند احمد کی حدیث میں ہے، { اے عائشہ! گناہوں کو حقیر نہ سمجھو یاد رکھو کہ ان کا بھی حساب لینے والا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:70/6] ابن جریر میں ہے کہ { سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ یہ آیت اتری تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھانے سے ہاتھ اٹھا لیا اور پوچھنے لگے کہ یا رسول اللہ! کیا میں ایک ایک ذرے برابر کا بدلہ دیا جاؤں گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے صدیق دنیا میں جو جو تکلیفیں تمہیں پہنچی ہیں یہ تو اس میں آ گئیں اور نیکیاں تمہارے لیے اللہ کے ہاں ذخیرہ بنی ہوئی ہیں اور ان سب کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن تمہیں دیا جائے گا“ }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37747] ابن جریر کی ایک اور روایت میں ہے کہ { یہ سورت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں نازل ہوئی تھی آپ اسے سن کر بہت روئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبب پوچھا: تو آپ نے فرمایا: مجھے یہ سورت رلا رہی ہے آپ نے فرمایا: ”اگر تم خطا اور گناہ نہ کرتے کہ تمہیں بخشا جائے اور معاف کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کسی اور امت کو پیدا کرتا جو خطا اور گناہ کرتے اور اللہ انہیں بخشتا“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:37760:حسن]
{ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ آیت سن کر پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا مجھے اپنے سب اعمال دیکھنے پڑیں گے آپ نے فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: بڑے بڑے، فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: اور چھوٹے چھوٹے بھی، فرمایا: ”ہاں“، میں نے کہا، ہائے افسوس! آپ نے فرمایا: ”ابوسعید خوش ہو جاؤ، نیکی تو دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ تک اللہ جسے چاہے دے گا ہاں گناہ اسی کے مثل ہوں گے یا اللہ تعالیٰ اسے بھی بخش دے گا، سنو! کسی شخص کو صرف اس کے اعمال نجات نہ دے سکیں گے“، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا: ”نہ مجھے ہی مگر یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے“ }۔ (اسنادہ ضعیف: اس کی سند ابن لہیعہ کی وجہ سے ضعیف ہے ـ) اس کے راویوں میں ایک ابن لہیعہ ہیں یہ روایت صرف انہی سے مروی ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب آیت «وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا» [76-الإنسان:8] نازل ہوئی یعنی مال کی محبت کے باوجود مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں تو لوگ یہ سمجھ گئے کہ اگر ہم تھوڑی سی چیز راہ اللہ دیں گے تو کوئی ثواب نہ ملے گا مسکین ان کے دروازے پر آتا لیکن ایک آدھ کھجور یا روٹی کا ٹکڑا وغیرہ دینے کو حقارت خیال کر کے یونہی لوٹا دیتے تھے کہ اگر دیں تو کوئی اچھی محبوب و مرغوب چیز دیں ادھر تو ایک جماعت یہ تھی، دوسری جماعت وہ تھی جنہیں یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں پر ہماری پکڑ نہ ہو گی مثلا کبھی کوئی جھوٹ بات کہہ دی کبھی ادھر ادھر نظریں ڈال لیں، کبھی غیبت کر لی وغیرہ جہنم کی وعید تو کبیرہ گناہوں پر ہے تو یہ آیت «فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ» [99-الزلزلہ:7] نازل ہوئی۔ اور انہیں بتایا گیا کہ چھوٹی سی نیکی کو حقیر نہ سمجھو یہ بڑی ہو کر ملے گی اور تھوڑے سے گناہ کو بھی بےجان نہ سمجھو کہیں تھوڑا تھوڑا مل کر بہت نہ بن جائے «ذرہ» کے معنی چھوٹی چیونٹی کے ہیں، یعنی نیکیوں اور برائیوں کو چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی اپنے نامہ اعمال میں دیکھ لے گا بدی تو ایک ہی لکھی جاتی ہے نیکی ایک کے بدلے دس بلکہ جس کے لیے اللہ چاہے اس سے بھی بہت زیادہ بلکہ ان نیکیوں کے بدلے برائیاں بھی معاف ہو جاتی ہیں ایک ایک کے بدلے دس دس بدیاں معاف ہو جاتی ہیں پھر یہ بھی ہے کہ جس کی نیکی برائی سے ایک ذرے کے برابر بڑھ گئی وہ جنتی ہو گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”گناہوں کو ہلکا نہ سمجھا کرو یہ سب جمع ہو کر آدمی کو ہلاک کر ڈالتے ہیں“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان برائیوں کی مثال بیان کی کہ جیسے کچھ لوگ کسی جگہ اترے پھر ایک ایک دو دو لکڑیاں چن لائے تو لکڑیوں کا ڈھیر لگ جائے گا پھر اگر انہیں سلگایا جائے تو اس وقت اس آگ پر جو چاہیں پکا سکتے ہیں (اسی طرح تھوڑے تھوڑے گناہ بہت زیادہ ہو کر آگ کا کام کرتے ہیں اور انسان کو جلا دیتے ہیں) } ۱؎۔ [مسند احمد:402/1:صحیح لغیرہ] سورۃ اذازلزلت کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
5۔ 1 یعنی زمین کو یہ قوت گویائی اللہ تعالیٰ عطا کرے گا اس لیے اس میں تعجب بات نہیں۔، جس طرح انسانی اعضا میں اللہ تعالیٰ یہ قوت پیدا فرمادے گا، زمین کو بھی اللہ تعالیٰ متکلم بنا دے گا اور وہ اللہ کے حکم سے بولے گی۔
(آیت 5){ بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَا:} کیونکہ اس کے رب نے اسے یہ حکم دیا ہوگا۔
اُس روز لوگ متفرق حالت میں پلٹیں گے تاکہ اُن کے اعمال اُن کو دکھائے جائیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اس روز لوگ مختلف جماعتیں ہو کر (واپس) لوٹیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھا دیئے جائیں
احمد رضا خان بریلوی
اس دن لوگ اپنے رب کی طرف پھریں گے کئی راہ ہوکر تاکہ اپنا کیا دکھائیں جائیں تو،
علامہ محمد حسین نجفی
اس دن لوگ متفرق طور پر (اپنی قبروں سے) نکلیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال (کے نتائج) دکھائے جائیں۔
عبدالسلام بن محمد
اس دن لوگ الگ الگ ہو کر واپس لوٹیں گے، تاکہ انھیں ان کے اعمال دکھائے جائیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مرحلہ وار قیامت ٭٭
زمین اپنے نیچے سے اوپر تک کپکپانے لگے گی اور جتنے مردے اس میں ہیں سب نکال پھینکے گی۔ جیسے اور جگہ ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ» ۱؎ [22-الحج:1] یعنی ’ لوگو اپنے رب سے ڈرو یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ اس دن کا بھونچال بڑی چیز ہے ‘۔ اور جگہ ارشاد ہے «وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ» * «وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ» ۱؎ [84-الانشقاق:3-4] یعنی ’ جبکہ زمین کھینچ کھانچ کر برابر ہموار کر دی جائیگی اور اس میں جو کچھ ہے وہ اسے باہر ڈال دے گی اور بالکل خالی ہو جائیگی ‘۔ صحیح مسلم شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”زمین اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو اگل دے گی، سونا چاندی مثل ستونوں کے باہر نکل پڑے گا، قاتل اسے دیکھ کر افسوس کرتا ہوا کہے گا کہ ہائے اسی مال کے لیے میں نے فلاں کو قتل کیا تھا، آج یہ یوں ادھر ادھر بکھر رہا ہے کوئی آنکھ بھر کر دیکھتا بھی نہیں، اسی طرح صلہ رحمی توڑنے والا بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں آ کر رشتہ داروں سے میں سلوک نہیں کرتا تھا، چور بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں میں نے ہاتھ کٹوا دئیے تھے غرض وہ مال یونہی بکھرا پھرے گا کوئی نہیں لے گا“ ۱؎ [صحیح مسلم:1013] ، انسان اس وقت ہکا بکا رہ جائے گا اور کہے گا یہ تو ہلنے جلنے والی نہ تھی بلکہ ٹھہری ہوئی بوجھل اور جمی ہوئی تھی اسے کیا ہو گیا کہ یوں بید کی طرح تھرانے لگی اور ساتھ ہی جب دیکھے گا کہ تمام پہلی پچھلی لاشیں بھی زمین نے اگل دیں تو اور حیران و پریشان ہو جائے گا کہ آخر اسے کیا ہو گیا ہے؟ پس زمین بالکل بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب لوگ اس قہار اللہ کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے زمین کھلے طور پر صاف صاف گواہی دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں فلاں زیادتی اس شخص پر کی ہے۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا: ”جانتے بھی ہو کہ زمین کی بیان کردہ خبریں کیا ہوں گی“، لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی کو علم ہے، تو آپ نے فرمایا: ”جو جو اعمال بنی آدم نے زمین پر کیے ہیں وہ تمام وہ ظاہر کر دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں نیکی یا بدی فلاں جگہ فلاں وقت کی ہے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3353:قال الشيخ الألباني:ضعيف الإسناد] امام ترمذی اس حدیث کو حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں معجم طبرانی میں ہے کہ { آپ نے فرمایا: ”زمین سے بچو یہ تمہاری ماں ہے جو شخص جو نیکی بدی اس پر کرتا ہے یہ سب کھول کھول کر بیان کر دے گی“ }۔ ۱؎ [طبرانی:4596:ضعیف] یہاں «وحی» سے مراد حکم دینا ہے «اوحی» اور اس کے ہم معنی افعال کا صلہ حرف «لام» بھی آتا ہے «الی» بھی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ اسے فرمائے گا کہ بتا اور وہ بتاتی جائیگی اس دن لوگ حساب کی جگہ سے مختلف قسموں کی جماعتیں بن بن کر لوٹیں گے کوئی بد ہو گا کوئی نیک کوئی جنتی بنا ہو گا کوئی جہنمی۔ یہ معنی بھی ہیں کہ یہاں سے جو الگ الگ ہوں گے تو پھر اجتماع نہ ہو گا یہ اس لیے کہ وہ اپنے اعمال کو جان لیں اور بھلائی برائی کا بدلہ پا لیں گے اسی لیے آخر میں بھی بیان فرما دیا۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ گھوڑوں والے تین قسم کے ہیں، ایک اجر پانے والا، ایک پردہ پوشی والا اور ایک بوجھ اور گناہ والا اجر والا تو وہ ہے جو گھوڑا پالتا ہے جہاد کی نیت سے اگر اس کے گھوڑے کی اگاڑی پچھاڑی ڈھیلی ہو گئی اور یہ ادھر ادھر سے چرتا رہا تو یہ بھی گھوڑے والے کے لیے اجر کا باعث ہے اور اگر اس کی رسی ٹوٹ گئی اور یہ ادھر ادھر چلا گیا تو اس کے نشان قدم اور لید کا بھی اسے ثواب ملتا ہے اگر یہ کسی نہر پر جا کر پانی پی لے چاہے پلانے کا ارادہ نہ ہو تو بھی ثواب مل جاتا، یہ گھوڑا تو اس کے لیے سراسر اجر و ثواب ہے دوسرا وہ شخص جس نے اس لیے پال رکھا ہے کہ دوسروں سے بےپرواہ اور کسی سے سوال کی ضرورت نہ ہو لیکن اللہ کا حق نہ تو اس بارے میں بھولتا ہے نہ اس کی سواری میں پس یہ اس کے لیے پردہ ہے تیسرا وہ شخص ہے جس نے فخر و ریا کاری اور ظلم و ستم کے لیے پال رکھا ہے پس یہ اس کے ذمہ بوجھ اور اس پر گناہ کا بار ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ گدھوں کے بارے میں کیا حکم ہے آپ نے فرمایا: ”مجھ پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے سوائے تنہا اور جامع آیت کے اور کچھ نازل نہیں ہوا کہ ذرہ برابر نیکی یا بدی ہر شخص دیکھ لے گا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:987]
سیدنا صعصعہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ آیت سن کر کہہ دیا کہ صرف یہی آیت کافی ہے اور زیادہ اگر نہ بھی سنوں تو کوئی ضرورت نہیں۔ [مسند احمد:59/5:صحیح] صحیح بخاری میں بروایت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ { آگ سے بچو اگرچہ آدھی کھجور کا صدقہ ہی ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1413] اسی طرح صحیح حدیث میں ہے کہ { نیکی کے کام کو ہلکا نہ سمجھو گو اتنا ہی کام ہو کہ تو اپنے ڈول میں سے ذرا سا پانی کسی پیاسے کو پلوا دے یا اپنے کسی مسلمان بھائی سے کشادہ روئی اور خندہ پیشانی سے ملاقات کر لے }۔ ۱؎ [مسند احمد:63/5:صحیح] دوسری ایک صحیح حدیث میں ہے، { اے ایمان والی عورتو! تم پڑوسن کے بھیجے ہوئے تحفے یا ہدئے کو حقیر نہ سمجھو گو ایک کھر ہی آیا ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2566] اور حدیث میں ہے کہ { سائل کو کچھ نہ کچھ دے دو گو جلا ہوا کھر ہی ہو }۔ ۱؎ [مسند احمد:435/6] مسند احمد کی حدیث میں ہے، { اے عائشہ! گناہوں کو حقیر نہ سمجھو یاد رکھو کہ ان کا بھی حساب لینے والا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:70/6] ابن جریر میں ہے کہ { سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ یہ آیت اتری تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھانے سے ہاتھ اٹھا لیا اور پوچھنے لگے کہ یا رسول اللہ! کیا میں ایک ایک ذرے برابر کا بدلہ دیا جاؤں گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے صدیق دنیا میں جو جو تکلیفیں تمہیں پہنچی ہیں یہ تو اس میں آ گئیں اور نیکیاں تمہارے لیے اللہ کے ہاں ذخیرہ بنی ہوئی ہیں اور ان سب کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن تمہیں دیا جائے گا“ }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37747] ابن جریر کی ایک اور روایت میں ہے کہ { یہ سورت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں نازل ہوئی تھی آپ اسے سن کر بہت روئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبب پوچھا: تو آپ نے فرمایا: مجھے یہ سورت رلا رہی ہے آپ نے فرمایا: ”اگر تم خطا اور گناہ نہ کرتے کہ تمہیں بخشا جائے اور معاف کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کسی اور امت کو پیدا کرتا جو خطا اور گناہ کرتے اور اللہ انہیں بخشتا“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:37760:حسن]
{ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ آیت سن کر پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا مجھے اپنے سب اعمال دیکھنے پڑیں گے آپ نے فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: بڑے بڑے، فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: اور چھوٹے چھوٹے بھی، فرمایا: ”ہاں“، میں نے کہا، ہائے افسوس! آپ نے فرمایا: ”ابوسعید خوش ہو جاؤ، نیکی تو دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ تک اللہ جسے چاہے دے گا ہاں گناہ اسی کے مثل ہوں گے یا اللہ تعالیٰ اسے بھی بخش دے گا، سنو! کسی شخص کو صرف اس کے اعمال نجات نہ دے سکیں گے“، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا: ”نہ مجھے ہی مگر یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے“ }۔ (اسنادہ ضعیف: اس کی سند ابن لہیعہ کی وجہ سے ضعیف ہے ـ) اس کے راویوں میں ایک ابن لہیعہ ہیں یہ روایت صرف انہی سے مروی ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب آیت «وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا» [76-الإنسان:8] نازل ہوئی یعنی مال کی محبت کے باوجود مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں تو لوگ یہ سمجھ گئے کہ اگر ہم تھوڑی سی چیز راہ اللہ دیں گے تو کوئی ثواب نہ ملے گا مسکین ان کے دروازے پر آتا لیکن ایک آدھ کھجور یا روٹی کا ٹکڑا وغیرہ دینے کو حقارت خیال کر کے یونہی لوٹا دیتے تھے کہ اگر دیں تو کوئی اچھی محبوب و مرغوب چیز دیں ادھر تو ایک جماعت یہ تھی، دوسری جماعت وہ تھی جنہیں یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں پر ہماری پکڑ نہ ہو گی مثلا کبھی کوئی جھوٹ بات کہہ دی کبھی ادھر ادھر نظریں ڈال لیں، کبھی غیبت کر لی وغیرہ جہنم کی وعید تو کبیرہ گناہوں پر ہے تو یہ آیت «فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ» [99-الزلزلہ:7] نازل ہوئی۔ اور انہیں بتایا گیا کہ چھوٹی سی نیکی کو حقیر نہ سمجھو یہ بڑی ہو کر ملے گی اور تھوڑے سے گناہ کو بھی بےجان نہ سمجھو کہیں تھوڑا تھوڑا مل کر بہت نہ بن جائے «ذرہ» کے معنی چھوٹی چیونٹی کے ہیں، یعنی نیکیوں اور برائیوں کو چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی اپنے نامہ اعمال میں دیکھ لے گا بدی تو ایک ہی لکھی جاتی ہے نیکی ایک کے بدلے دس بلکہ جس کے لیے اللہ چاہے اس سے بھی بہت زیادہ بلکہ ان نیکیوں کے بدلے برائیاں بھی معاف ہو جاتی ہیں ایک ایک کے بدلے دس دس بدیاں معاف ہو جاتی ہیں پھر یہ بھی ہے کہ جس کی نیکی برائی سے ایک ذرے کے برابر بڑھ گئی وہ جنتی ہو گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”گناہوں کو ہلکا نہ سمجھا کرو یہ سب جمع ہو کر آدمی کو ہلاک کر ڈالتے ہیں“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان برائیوں کی مثال بیان کی کہ جیسے کچھ لوگ کسی جگہ اترے پھر ایک ایک دو دو لکڑیاں چن لائے تو لکڑیوں کا ڈھیر لگ جائے گا پھر اگر انہیں سلگایا جائے تو اس وقت اس آگ پر جو چاہیں پکا سکتے ہیں (اسی طرح تھوڑے تھوڑے گناہ بہت زیادہ ہو کر آگ کا کام کرتے ہیں اور انسان کو جلا دیتے ہیں) } ۱؎۔ [مسند احمد:402/1:صحیح لغیرہ] سورۃ اذازلزلت کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
6۔ 1 یصدر، یرجع (لوٹیں گے) یہ ورود کی ضد ہے یعنی قبروں سے نکل کر موقف حساب کی طرف، یا حساب کے بعد جنت اور دوزخ کی طرف لوٹیں گے۔ اشتاتا، متفرق، یعنی ٹولیاں ٹولیاں، بعض بےخوف ہوں گے، بعض خوف زدہ، بعض کے رنگ سفید ہوں گے جیسے جنتیوں کے ہوں گے اور بعض کے رنگ سیاہ، جو ان کے جہنمی ہونے کی علامت ہوگی۔ بیض کا رخ دائیں جانب ہوگا تو بعض کا بائیں جانب۔ یا یہ مختلف گروہ ادیان و مذاہب اور اعمال و افعال کی بنیاد پر ہوں گے۔ 6۔ 1 یعنی زمین اپنی خبریں اس لئے بیان کرے گی تاکہ انسانوں کو ان کے اعمال دکھا دیئے جائیں۔
(آیت 6){ يَوْمَىِٕذٍ يَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا لِّيُرَوْا اَعْمَالَهُمْ: ” يَصْدُرُ “} واپس لوٹیں گے، یعنی پہلے قبروں میں گئے تھے، اب وہاں سے حساب کے لیے میدانِ محشر میں اللہ کے حضور واپس لوٹیں گے، جیسا کہ فرمایا: «ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» [ البقرۃ: ۲۸ ] ”پھر وہ تمھیں مارے گا، پھر زندہ کرے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔“ {” اَشْتَاتًا “”شَتٌّ“} کی جمع ہے، الگ الگ۔{” لِيُرَوْا “ ”أَرٰي يُرِيْ إِرَاءَةً “} (افعال) سے مضارع مجہول ہے، تاکہ وہ دکھائے جائیں اپنے عمل۔ {” لِيُرَوْا “} میں ضمیر نائب فاعل ہے اور {” اَعْمَالَهُمْ “} مفعول ثانی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر شخص اکیلا اکیلا اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کے لیے پیش ہوگا، اس کا قبیلہ، اس کی جماعت اور دوست احباب کوئی ساتھ نہیں ہوگا، جیسا کہ فرمایا: «وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ» [ الأنعام: ۹۴ ] ”اور یقینا تم ہمارے پاس اس طرح اکیلے آئے ہو جیسے ہم نے تمھیں پہلی بار پیدا کیا تھا۔“ الگ الگ ہو کر اس لیے لوٹیں گے کہ ہر ایک کو اس کے اعمال دکھائے جائیں، جیساکہ فرمایا: «اِقْرَاْ كِتٰبَكَ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيْبًا» [ بني إسرائیل: ۱۴ ] ”اپنی کتاب پڑھ، آج تو خود اپنے آپ پر بطور محاسب بہت کافی ہے۔“ یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ لوگ الگ الگ گروہ کی شکل میں میدان محشر کی طرف روانہ ہوں گے، اگرچہ اللہ تعالیٰ کے حضور فرداً فرداً پیش ہوں گے، جیسا کہ فرمایا: «وَ يَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّنْ يُّكَذِّبُ بِاٰيٰتِنَا فَهُمْ يُوْزَعُوْنَ» [ النمل: ۸۳ ] ”اور جس دن ہم ہر امت میں ایک گروہ ان لوگوں کا اکٹھا کریں گے جو ہماری آیات کو جھٹلاتے تھے، پھر ان کی جدا جدا قسمیں بنائی جائیں گی۔“
پھر جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
پس جس نے ذره برابر نیکی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا
احمد رضا خان بریلوی
جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا،
علامہ محمد حسین نجفی
تو جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس (کی جزا) دیکھ لے گا۔
عبدالسلام بن محمد
تو جو شخص ایک ذرہ برابر نیکی کرے گا اسے دیکھ لے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مرحلہ وار قیامت ٭٭
زمین اپنے نیچے سے اوپر تک کپکپانے لگے گی اور جتنے مردے اس میں ہیں سب نکال پھینکے گی۔ جیسے اور جگہ ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ» ۱؎ [22-الحج:1] یعنی ’ لوگو اپنے رب سے ڈرو یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ اس دن کا بھونچال بڑی چیز ہے ‘۔ اور جگہ ارشاد ہے «وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ» * «وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ» ۱؎ [84-الانشقاق:3-4] یعنی ’ جبکہ زمین کھینچ کھانچ کر برابر ہموار کر دی جائیگی اور اس میں جو کچھ ہے وہ اسے باہر ڈال دے گی اور بالکل خالی ہو جائیگی ‘۔ صحیح مسلم شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”زمین اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو اگل دے گی، سونا چاندی مثل ستونوں کے باہر نکل پڑے گا، قاتل اسے دیکھ کر افسوس کرتا ہوا کہے گا کہ ہائے اسی مال کے لیے میں نے فلاں کو قتل کیا تھا، آج یہ یوں ادھر ادھر بکھر رہا ہے کوئی آنکھ بھر کر دیکھتا بھی نہیں، اسی طرح صلہ رحمی توڑنے والا بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں آ کر رشتہ داروں سے میں سلوک نہیں کرتا تھا، چور بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں میں نے ہاتھ کٹوا دئیے تھے غرض وہ مال یونہی بکھرا پھرے گا کوئی نہیں لے گا“ ۱؎ [صحیح مسلم:1013] ، انسان اس وقت ہکا بکا رہ جائے گا اور کہے گا یہ تو ہلنے جلنے والی نہ تھی بلکہ ٹھہری ہوئی بوجھل اور جمی ہوئی تھی اسے کیا ہو گیا کہ یوں بید کی طرح تھرانے لگی اور ساتھ ہی جب دیکھے گا کہ تمام پہلی پچھلی لاشیں بھی زمین نے اگل دیں تو اور حیران و پریشان ہو جائے گا کہ آخر اسے کیا ہو گیا ہے؟ پس زمین بالکل بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب لوگ اس قہار اللہ کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے زمین کھلے طور پر صاف صاف گواہی دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں فلاں زیادتی اس شخص پر کی ہے۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا: ”جانتے بھی ہو کہ زمین کی بیان کردہ خبریں کیا ہوں گی“، لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی کو علم ہے، تو آپ نے فرمایا: ”جو جو اعمال بنی آدم نے زمین پر کیے ہیں وہ تمام وہ ظاہر کر دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں نیکی یا بدی فلاں جگہ فلاں وقت کی ہے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3353:قال الشيخ الألباني:ضعيف الإسناد] امام ترمذی اس حدیث کو حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں معجم طبرانی میں ہے کہ { آپ نے فرمایا: ”زمین سے بچو یہ تمہاری ماں ہے جو شخص جو نیکی بدی اس پر کرتا ہے یہ سب کھول کھول کر بیان کر دے گی“ }۔ ۱؎ [طبرانی:4596:ضعیف] یہاں «وحی» سے مراد حکم دینا ہے «اوحی» اور اس کے ہم معنی افعال کا صلہ حرف «لام» بھی آتا ہے «الی» بھی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ اسے فرمائے گا کہ بتا اور وہ بتاتی جائیگی اس دن لوگ حساب کی جگہ سے مختلف قسموں کی جماعتیں بن بن کر لوٹیں گے کوئی بد ہو گا کوئی نیک کوئی جنتی بنا ہو گا کوئی جہنمی۔ یہ معنی بھی ہیں کہ یہاں سے جو الگ الگ ہوں گے تو پھر اجتماع نہ ہو گا یہ اس لیے کہ وہ اپنے اعمال کو جان لیں اور بھلائی برائی کا بدلہ پا لیں گے اسی لیے آخر میں بھی بیان فرما دیا۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ گھوڑوں والے تین قسم کے ہیں، ایک اجر پانے والا، ایک پردہ پوشی والا اور ایک بوجھ اور گناہ والا اجر والا تو وہ ہے جو گھوڑا پالتا ہے جہاد کی نیت سے اگر اس کے گھوڑے کی اگاڑی پچھاڑی ڈھیلی ہو گئی اور یہ ادھر ادھر سے چرتا رہا تو یہ بھی گھوڑے والے کے لیے اجر کا باعث ہے اور اگر اس کی رسی ٹوٹ گئی اور یہ ادھر ادھر چلا گیا تو اس کے نشان قدم اور لید کا بھی اسے ثواب ملتا ہے اگر یہ کسی نہر پر جا کر پانی پی لے چاہے پلانے کا ارادہ نہ ہو تو بھی ثواب مل جاتا، یہ گھوڑا تو اس کے لیے سراسر اجر و ثواب ہے دوسرا وہ شخص جس نے اس لیے پال رکھا ہے کہ دوسروں سے بےپرواہ اور کسی سے سوال کی ضرورت نہ ہو لیکن اللہ کا حق نہ تو اس بارے میں بھولتا ہے نہ اس کی سواری میں پس یہ اس کے لیے پردہ ہے تیسرا وہ شخص ہے جس نے فخر و ریا کاری اور ظلم و ستم کے لیے پال رکھا ہے پس یہ اس کے ذمہ بوجھ اور اس پر گناہ کا بار ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ گدھوں کے بارے میں کیا حکم ہے آپ نے فرمایا: ”مجھ پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے سوائے تنہا اور جامع آیت کے اور کچھ نازل نہیں ہوا کہ ذرہ برابر نیکی یا بدی ہر شخص دیکھ لے گا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:987]
سیدنا صعصعہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ آیت سن کر کہہ دیا کہ صرف یہی آیت کافی ہے اور زیادہ اگر نہ بھی سنوں تو کوئی ضرورت نہیں۔ [مسند احمد:59/5:صحیح] صحیح بخاری میں بروایت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ { آگ سے بچو اگرچہ آدھی کھجور کا صدقہ ہی ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1413] اسی طرح صحیح حدیث میں ہے کہ { نیکی کے کام کو ہلکا نہ سمجھو گو اتنا ہی کام ہو کہ تو اپنے ڈول میں سے ذرا سا پانی کسی پیاسے کو پلوا دے یا اپنے کسی مسلمان بھائی سے کشادہ روئی اور خندہ پیشانی سے ملاقات کر لے }۔ ۱؎ [مسند احمد:63/5:صحیح] دوسری ایک صحیح حدیث میں ہے، { اے ایمان والی عورتو! تم پڑوسن کے بھیجے ہوئے تحفے یا ہدئے کو حقیر نہ سمجھو گو ایک کھر ہی آیا ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2566] اور حدیث میں ہے کہ { سائل کو کچھ نہ کچھ دے دو گو جلا ہوا کھر ہی ہو }۔ ۱؎ [مسند احمد:435/6] مسند احمد کی حدیث میں ہے، { اے عائشہ! گناہوں کو حقیر نہ سمجھو یاد رکھو کہ ان کا بھی حساب لینے والا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:70/6] ابن جریر میں ہے کہ { سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ یہ آیت اتری تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھانے سے ہاتھ اٹھا لیا اور پوچھنے لگے کہ یا رسول اللہ! کیا میں ایک ایک ذرے برابر کا بدلہ دیا جاؤں گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے صدیق دنیا میں جو جو تکلیفیں تمہیں پہنچی ہیں یہ تو اس میں آ گئیں اور نیکیاں تمہارے لیے اللہ کے ہاں ذخیرہ بنی ہوئی ہیں اور ان سب کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن تمہیں دیا جائے گا“ }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37747] ابن جریر کی ایک اور روایت میں ہے کہ { یہ سورت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں نازل ہوئی تھی آپ اسے سن کر بہت روئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبب پوچھا: تو آپ نے فرمایا: مجھے یہ سورت رلا رہی ہے آپ نے فرمایا: ”اگر تم خطا اور گناہ نہ کرتے کہ تمہیں بخشا جائے اور معاف کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کسی اور امت کو پیدا کرتا جو خطا اور گناہ کرتے اور اللہ انہیں بخشتا“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:37760:حسن]
{ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ آیت سن کر پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا مجھے اپنے سب اعمال دیکھنے پڑیں گے آپ نے فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: بڑے بڑے، فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: اور چھوٹے چھوٹے بھی، فرمایا: ”ہاں“، میں نے کہا، ہائے افسوس! آپ نے فرمایا: ”ابوسعید خوش ہو جاؤ، نیکی تو دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ تک اللہ جسے چاہے دے گا ہاں گناہ اسی کے مثل ہوں گے یا اللہ تعالیٰ اسے بھی بخش دے گا، سنو! کسی شخص کو صرف اس کے اعمال نجات نہ دے سکیں گے“، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا: ”نہ مجھے ہی مگر یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے“ }۔ (اسنادہ ضعیف: اس کی سند ابن لہیعہ کی وجہ سے ضعیف ہے ـ) اس کے راویوں میں ایک ابن لہیعہ ہیں یہ روایت صرف انہی سے مروی ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب آیت «وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا» [76-الإنسان:8] نازل ہوئی یعنی مال کی محبت کے باوجود مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں تو لوگ یہ سمجھ گئے کہ اگر ہم تھوڑی سی چیز راہ اللہ دیں گے تو کوئی ثواب نہ ملے گا مسکین ان کے دروازے پر آتا لیکن ایک آدھ کھجور یا روٹی کا ٹکڑا وغیرہ دینے کو حقارت خیال کر کے یونہی لوٹا دیتے تھے کہ اگر دیں تو کوئی اچھی محبوب و مرغوب چیز دیں ادھر تو ایک جماعت یہ تھی، دوسری جماعت وہ تھی جنہیں یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں پر ہماری پکڑ نہ ہو گی مثلا کبھی کوئی جھوٹ بات کہہ دی کبھی ادھر ادھر نظریں ڈال لیں، کبھی غیبت کر لی وغیرہ جہنم کی وعید تو کبیرہ گناہوں پر ہے تو یہ آیت «فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ» [99-الزلزلہ:7] نازل ہوئی۔ اور انہیں بتایا گیا کہ چھوٹی سی نیکی کو حقیر نہ سمجھو یہ بڑی ہو کر ملے گی اور تھوڑے سے گناہ کو بھی بےجان نہ سمجھو کہیں تھوڑا تھوڑا مل کر بہت نہ بن جائے «ذرہ» کے معنی چھوٹی چیونٹی کے ہیں، یعنی نیکیوں اور برائیوں کو چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی اپنے نامہ اعمال میں دیکھ لے گا بدی تو ایک ہی لکھی جاتی ہے نیکی ایک کے بدلے دس بلکہ جس کے لیے اللہ چاہے اس سے بھی بہت زیادہ بلکہ ان نیکیوں کے بدلے برائیاں بھی معاف ہو جاتی ہیں ایک ایک کے بدلے دس دس بدیاں معاف ہو جاتی ہیں پھر یہ بھی ہے کہ جس کی نیکی برائی سے ایک ذرے کے برابر بڑھ گئی وہ جنتی ہو گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”گناہوں کو ہلکا نہ سمجھا کرو یہ سب جمع ہو کر آدمی کو ہلاک کر ڈالتے ہیں“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان برائیوں کی مثال بیان کی کہ جیسے کچھ لوگ کسی جگہ اترے پھر ایک ایک دو دو لکڑیاں چن لائے تو لکڑیوں کا ڈھیر لگ جائے گا پھر اگر انہیں سلگایا جائے تو اس وقت اس آگ پر جو چاہیں پکا سکتے ہیں (اسی طرح تھوڑے تھوڑے گناہ بہت زیادہ ہو کر آگ کا کام کرتے ہیں اور انسان کو جلا دیتے ہیں) } ۱؎۔ [مسند احمد:402/1:صحیح لغیرہ] سورۃ اذازلزلت کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
7۔ 1 پس وہ اس سے خوش ہوگا۔
(آیت 8،7) ➊ {فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ …:” يَرَهٗ “} اصل میں{”يَرَاهُ“} ہے، جو {” رَاٰي يَرٰي رُؤْيَةً“} کا فعل مضارع ہے، {” فَمَنْ يَّعْمَلْ “} شرط کی جزا ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے، اس لیے الف حذف ہو گیا۔ {” ذَرَّةٍ “} بکھرے ہوئے غبار کا چھوٹے سے چھوٹا حصہ جو روشن دان میں سورج کی شعاعوں سے چمکتا ہوا نظر آتا ہے۔ چھوٹی چیونٹی کو بھی {”ذَرَّةٌ“} کہتے ہیں۔ کافر ہو یا مسلمان، ذرہ بھر نیکی کی ہوگی تو دیکھ لے گا اور ذرہ بھر برائی کی ہوگی تو دیکھ لے گا، اعمال کے دفتر سے کوئی چیز غائب نہیں ہو گی، جیساکہ فرمایا: «وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا وَ لَا يَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا» [ الکہف: ۴۹ ] ” اور انھوں نے جو کچھ کیا اسے حاضر پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔“ البتہ اعمال کی جزا اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق ہوگی۔ چنانچہ کافروں کے اعمال ضائع کر دیے جائیں گے، انھیں آخرت کے بجائے دنیا ہی میں بدلا دے دیا جائے گا۔ (دیکھیے اعراف: ۱۴۷۔ احقاف: ۲۰) اور انھیں کوئی سفارش فائدہ نہیں دے گی۔ دیکھیے سورۂ مدثر (۴۸)۔ قرآن مجید اور صحیح احادیث کی روشنی میں ان کے اعمال ضائع ہونے اور سفارش کے مفید نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ جہنم سے نہیں نکل سکیں گے، ان پر جنت حرام ہے۔ البتہ بعض اعمال یا کسی شفاعت کی وجہ سے عذاب میں تخفیف ہو سکتی ہے، جیسا کہ ابوطالب کو صرف آگ کا جوتا پہنایا جائے گا اور کفار اپنے اپنے اعمال کے لحاظ سے جہنم کے مختلف درکات میں ہوں گے۔ منافقین آگ کے سب سے نچلے حصے میں ہوں گے۔ (دیکھیے نساء: ۱۴۵) اہلِ ایمان کو ان کی برائیوں کی سزا تب ملے گی جب یہ شرطیں موجود ہوں: (1) گناہ کبیرہ ہوں۔ (دیکھیے نساء: ۳۱) (2) ان سے توبہ کیے بغیر فوت ہو جائیں۔ (3) ان کی نیکیاں میزان میں بھاری نہ ہو سکیں۔ (4) ان کے حق میں کوئی سفارش قبول نہ ہو۔ (5) ان کا کوئی عمل ایسا نہ ہو جس سے وہ مغفرت کے مستحق ہو چکے ہوں، مثلاً اہلِ بدر۔ (6) اللہ تعالیٰ نے وہ گناہ معاف نہ کیا ہو، کیونکہ گناہ گار مومن اللہ کی مرضی پر ہے، وہ چاہے تو اسے عذاب دے، چاہے تو بخش دے۔ ➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کو جامع اور بے نظیر آیت قرار دیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کے متعلق فرمایا: [ اَلْخَيْلُ لِثَلَاثَةٍ: لِرَجُلٍ أَجْرٌ وَ لِرَجُلٍ سِتْرٌ وَ عَلٰی رَجُلٍ وِزْرٌ ] ”گھوڑے تین طرح کے لوگوں کے لیے ہیں، ایک آدمی کے لیے اجر ہیں اور ایک آدمی کے لیے پردہ ہیں اور ایک آدمی پر بوجھ ہیں۔“ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا أَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَيَّ فِيْهَا إِلَّا هٰذِهِ الْآيَةَ الْفَاذَّةَ الْجَامِعَةَ: «فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَ (7) وَ مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ» ] [ بخاري، التفسیر، باب قولہ: «فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ» : ۴۹۶۲] ”اللہ نے اس کے متعلق اس بے نظیر و جامع آیت کے علاوہ مجھ پر کچھ نازل نہیں فرمایا: ”تو جو شخص ایک ذرہ برابر نیکی کرے گا اسے دیکھ لے گا اور جو شخص ایک ذرہ برابر برائی کرے گا اسے دیکھ لے گا۔“
اور جس نے ذرہ برابر بدی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جس نے ذره برابر برائی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے اسے دیکھے گا
علامہ محمد حسین نجفی
اور جس نے ذرہ برابر بدی کی ہوگی وہ بھی اس (کی سزا) کو دیکھ لے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور جو شخص ایک ذرہ برابر برائی کرے گا اسے دیکھ لے گا ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مرحلہ وار قیامت ٭٭
زمین اپنے نیچے سے اوپر تک کپکپانے لگے گی اور جتنے مردے اس میں ہیں سب نکال پھینکے گی۔ جیسے اور جگہ ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ» ۱؎ [22-الحج:1] یعنی ’ لوگو اپنے رب سے ڈرو یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ اس دن کا بھونچال بڑی چیز ہے ‘۔ اور جگہ ارشاد ہے «وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ» * «وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ» ۱؎ [84-الانشقاق:3-4] یعنی ’ جبکہ زمین کھینچ کھانچ کر برابر ہموار کر دی جائیگی اور اس میں جو کچھ ہے وہ اسے باہر ڈال دے گی اور بالکل خالی ہو جائیگی ‘۔ صحیح مسلم شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”زمین اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو اگل دے گی، سونا چاندی مثل ستونوں کے باہر نکل پڑے گا، قاتل اسے دیکھ کر افسوس کرتا ہوا کہے گا کہ ہائے اسی مال کے لیے میں نے فلاں کو قتل کیا تھا، آج یہ یوں ادھر ادھر بکھر رہا ہے کوئی آنکھ بھر کر دیکھتا بھی نہیں، اسی طرح صلہ رحمی توڑنے والا بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں آ کر رشتہ داروں سے میں سلوک نہیں کرتا تھا، چور بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں میں نے ہاتھ کٹوا دئیے تھے غرض وہ مال یونہی بکھرا پھرے گا کوئی نہیں لے گا“ ۱؎ [صحیح مسلم:1013] ، انسان اس وقت ہکا بکا رہ جائے گا اور کہے گا یہ تو ہلنے جلنے والی نہ تھی بلکہ ٹھہری ہوئی بوجھل اور جمی ہوئی تھی اسے کیا ہو گیا کہ یوں بید کی طرح تھرانے لگی اور ساتھ ہی جب دیکھے گا کہ تمام پہلی پچھلی لاشیں بھی زمین نے اگل دیں تو اور حیران و پریشان ہو جائے گا کہ آخر اسے کیا ہو گیا ہے؟ پس زمین بالکل بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب لوگ اس قہار اللہ کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے زمین کھلے طور پر صاف صاف گواہی دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں فلاں زیادتی اس شخص پر کی ہے۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا: ”جانتے بھی ہو کہ زمین کی بیان کردہ خبریں کیا ہوں گی“، لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی کو علم ہے، تو آپ نے فرمایا: ”جو جو اعمال بنی آدم نے زمین پر کیے ہیں وہ تمام وہ ظاہر کر دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں نیکی یا بدی فلاں جگہ فلاں وقت کی ہے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3353:قال الشيخ الألباني:ضعيف الإسناد] امام ترمذی اس حدیث کو حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں معجم طبرانی میں ہے کہ { آپ نے فرمایا: ”زمین سے بچو یہ تمہاری ماں ہے جو شخص جو نیکی بدی اس پر کرتا ہے یہ سب کھول کھول کر بیان کر دے گی“ }۔ ۱؎ [طبرانی:4596:ضعیف] یہاں «وحی» سے مراد حکم دینا ہے «اوحی» اور اس کے ہم معنی افعال کا صلہ حرف «لام» بھی آتا ہے «الی» بھی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ اسے فرمائے گا کہ بتا اور وہ بتاتی جائیگی اس دن لوگ حساب کی جگہ سے مختلف قسموں کی جماعتیں بن بن کر لوٹیں گے کوئی بد ہو گا کوئی نیک کوئی جنتی بنا ہو گا کوئی جہنمی۔ یہ معنی بھی ہیں کہ یہاں سے جو الگ الگ ہوں گے تو پھر اجتماع نہ ہو گا یہ اس لیے کہ وہ اپنے اعمال کو جان لیں اور بھلائی برائی کا بدلہ پا لیں گے اسی لیے آخر میں بھی بیان فرما دیا۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ گھوڑوں والے تین قسم کے ہیں، ایک اجر پانے والا، ایک پردہ پوشی والا اور ایک بوجھ اور گناہ والا اجر والا تو وہ ہے جو گھوڑا پالتا ہے جہاد کی نیت سے اگر اس کے گھوڑے کی اگاڑی پچھاڑی ڈھیلی ہو گئی اور یہ ادھر ادھر سے چرتا رہا تو یہ بھی گھوڑے والے کے لیے اجر کا باعث ہے اور اگر اس کی رسی ٹوٹ گئی اور یہ ادھر ادھر چلا گیا تو اس کے نشان قدم اور لید کا بھی اسے ثواب ملتا ہے اگر یہ کسی نہر پر جا کر پانی پی لے چاہے پلانے کا ارادہ نہ ہو تو بھی ثواب مل جاتا، یہ گھوڑا تو اس کے لیے سراسر اجر و ثواب ہے دوسرا وہ شخص جس نے اس لیے پال رکھا ہے کہ دوسروں سے بےپرواہ اور کسی سے سوال کی ضرورت نہ ہو لیکن اللہ کا حق نہ تو اس بارے میں بھولتا ہے نہ اس کی سواری میں پس یہ اس کے لیے پردہ ہے تیسرا وہ شخص ہے جس نے فخر و ریا کاری اور ظلم و ستم کے لیے پال رکھا ہے پس یہ اس کے ذمہ بوجھ اور اس پر گناہ کا بار ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ گدھوں کے بارے میں کیا حکم ہے آپ نے فرمایا: ”مجھ پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے سوائے تنہا اور جامع آیت کے اور کچھ نازل نہیں ہوا کہ ذرہ برابر نیکی یا بدی ہر شخص دیکھ لے گا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:987]
سیدنا صعصعہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ آیت سن کر کہہ دیا کہ صرف یہی آیت کافی ہے اور زیادہ اگر نہ بھی سنوں تو کوئی ضرورت نہیں۔ [مسند احمد:59/5:صحیح] صحیح بخاری میں بروایت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ { آگ سے بچو اگرچہ آدھی کھجور کا صدقہ ہی ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1413] اسی طرح صحیح حدیث میں ہے کہ { نیکی کے کام کو ہلکا نہ سمجھو گو اتنا ہی کام ہو کہ تو اپنے ڈول میں سے ذرا سا پانی کسی پیاسے کو پلوا دے یا اپنے کسی مسلمان بھائی سے کشادہ روئی اور خندہ پیشانی سے ملاقات کر لے }۔ ۱؎ [مسند احمد:63/5:صحیح] دوسری ایک صحیح حدیث میں ہے، { اے ایمان والی عورتو! تم پڑوسن کے بھیجے ہوئے تحفے یا ہدئے کو حقیر نہ سمجھو گو ایک کھر ہی آیا ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2566] اور حدیث میں ہے کہ { سائل کو کچھ نہ کچھ دے دو گو جلا ہوا کھر ہی ہو }۔ ۱؎ [مسند احمد:435/6] مسند احمد کی حدیث میں ہے، { اے عائشہ! گناہوں کو حقیر نہ سمجھو یاد رکھو کہ ان کا بھی حساب لینے والا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:70/6] ابن جریر میں ہے کہ { سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ یہ آیت اتری تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھانے سے ہاتھ اٹھا لیا اور پوچھنے لگے کہ یا رسول اللہ! کیا میں ایک ایک ذرے برابر کا بدلہ دیا جاؤں گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے صدیق دنیا میں جو جو تکلیفیں تمہیں پہنچی ہیں یہ تو اس میں آ گئیں اور نیکیاں تمہارے لیے اللہ کے ہاں ذخیرہ بنی ہوئی ہیں اور ان سب کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن تمہیں دیا جائے گا“ }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37747] ابن جریر کی ایک اور روایت میں ہے کہ { یہ سورت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں نازل ہوئی تھی آپ اسے سن کر بہت روئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبب پوچھا: تو آپ نے فرمایا: مجھے یہ سورت رلا رہی ہے آپ نے فرمایا: ”اگر تم خطا اور گناہ نہ کرتے کہ تمہیں بخشا جائے اور معاف کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کسی اور امت کو پیدا کرتا جو خطا اور گناہ کرتے اور اللہ انہیں بخشتا“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:37760:حسن]
{ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ آیت سن کر پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا مجھے اپنے سب اعمال دیکھنے پڑیں گے آپ نے فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: بڑے بڑے، فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: اور چھوٹے چھوٹے بھی، فرمایا: ”ہاں“، میں نے کہا، ہائے افسوس! آپ نے فرمایا: ”ابوسعید خوش ہو جاؤ، نیکی تو دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ تک اللہ جسے چاہے دے گا ہاں گناہ اسی کے مثل ہوں گے یا اللہ تعالیٰ اسے بھی بخش دے گا، سنو! کسی شخص کو صرف اس کے اعمال نجات نہ دے سکیں گے“، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا: ”نہ مجھے ہی مگر یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے“ }۔ (اسنادہ ضعیف: اس کی سند ابن لہیعہ کی وجہ سے ضعیف ہے ـ) اس کے راویوں میں ایک ابن لہیعہ ہیں یہ روایت صرف انہی سے مروی ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب آیت «وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا» [76-الإنسان:8] نازل ہوئی یعنی مال کی محبت کے باوجود مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں تو لوگ یہ سمجھ گئے کہ اگر ہم تھوڑی سی چیز راہ اللہ دیں گے تو کوئی ثواب نہ ملے گا مسکین ان کے دروازے پر آتا لیکن ایک آدھ کھجور یا روٹی کا ٹکڑا وغیرہ دینے کو حقارت خیال کر کے یونہی لوٹا دیتے تھے کہ اگر دیں تو کوئی اچھی محبوب و مرغوب چیز دیں ادھر تو ایک جماعت یہ تھی، دوسری جماعت وہ تھی جنہیں یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں پر ہماری پکڑ نہ ہو گی مثلا کبھی کوئی جھوٹ بات کہہ دی کبھی ادھر ادھر نظریں ڈال لیں، کبھی غیبت کر لی وغیرہ جہنم کی وعید تو کبیرہ گناہوں پر ہے تو یہ آیت «فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ» [99-الزلزلہ:7] نازل ہوئی۔ اور انہیں بتایا گیا کہ چھوٹی سی نیکی کو حقیر نہ سمجھو یہ بڑی ہو کر ملے گی اور تھوڑے سے گناہ کو بھی بےجان نہ سمجھو کہیں تھوڑا تھوڑا مل کر بہت نہ بن جائے «ذرہ» کے معنی چھوٹی چیونٹی کے ہیں، یعنی نیکیوں اور برائیوں کو چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی اپنے نامہ اعمال میں دیکھ لے گا بدی تو ایک ہی لکھی جاتی ہے نیکی ایک کے بدلے دس بلکہ جس کے لیے اللہ چاہے اس سے بھی بہت زیادہ بلکہ ان نیکیوں کے بدلے برائیاں بھی معاف ہو جاتی ہیں ایک ایک کے بدلے دس دس بدیاں معاف ہو جاتی ہیں پھر یہ بھی ہے کہ جس کی نیکی برائی سے ایک ذرے کے برابر بڑھ گئی وہ جنتی ہو گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”گناہوں کو ہلکا نہ سمجھا کرو یہ سب جمع ہو کر آدمی کو ہلاک کر ڈالتے ہیں“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان برائیوں کی مثال بیان کی کہ جیسے کچھ لوگ کسی جگہ اترے پھر ایک ایک دو دو لکڑیاں چن لائے تو لکڑیوں کا ڈھیر لگ جائے گا پھر اگر انہیں سلگایا جائے تو اس وقت اس آگ پر جو چاہیں پکا سکتے ہیں (اسی طرح تھوڑے تھوڑے گناہ بہت زیادہ ہو کر آگ کا کام کرتے ہیں اور انسان کو جلا دیتے ہیں) } ۱؎۔ [مسند احمد:402/1:صحیح لغیرہ] سورۃ اذازلزلت کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
8۔ 1 وہ اس پر سخت پشیمان اور مضطرب ہوگا۔ ذرۃ بعض کے نزدیک چیونٹی سے بھی چھوٹی چیز ہے۔ بعض اہل لغت کہتے ہیں، انسان زمین پر ہاتھ مارتا ہے، اس سے اس کے ہاتھ پر جو مٹی لگ جاتی ہے وہ ذرہ ہے۔ بعض کے نزدیک سوراخ سے آنے والی سورج کی شعاعوں میں گردوغبار کے جو ذرات سے نظر آتے ہیں، وہ ذرہ ہے۔ لیکن امام شوکانی نے پہلے معنی کو اولیٰ کہا ہے۔ امام مقاتل کہتے ہیں کہ یہ سورت ان دو آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن میں سے ایک شخص، سائل کو تھوڑا سا صدقہ دینے میں تامل کرتا اور دوسرا شخص چھوٹا گناہ کرنے میں کوئی خوف محسوس نہ کرتا تھا۔ (فتح القدیر)