بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يس — Surah Yasin
آیت نمبر 6
کل آیات: 83
قرآن کریم يس آیت 6
آیت نمبر: 6 — سورۃ يس islamicurdubooks.com ↗
لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اُنۡذِرَ اٰبَآؤُہُمۡ فَہُمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴿۶﴾
تاکہ تم خبردار کرو ایک ایسی قوم کو جس کے باپ دادا خبردار نہ کیے گئے تھے اور اس وجہ سے وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں
تاکہ آپ ایسے لوگوں کو ڈرائیں جن کے باپ دادے نہیں ڈرائے گئے تھے، سو (اسی وجہ سے) یہ غافل ہیں
تاکہ تم اس قوم کو ڈر سناؤ جس کے باپ دادا نہ ڈرائے گئے تو وہ بے خبر ہیں،
تاکہ آپ اس قوم کو ڈرائیں جس کے باپ دادا کو (براہِ راست کسی پیغمبر سے) ڈرایا نہیں گیا اس لئے وہ غافل ہیں۔
تاکہ تو اس قوم کو ڈرائے جن کے باپ دادا نہیں ڈرائے گئے، تو وہ بے خبر ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

تفسیر ابن کثیر، تفسیر آیت/آیات، 1،2،3،4،5،6،7

no bab

no t(fseer

📖 احسن البیان

6۔ 1 یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول اس لئے بنایا ہے اور یہ کتاب اس لئے نازل کی ہے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس قوم کو ڈرائیں جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا، اس لئے ایک مدت سے یہ لوگ دین حق سے بیخبر ہیں۔ یہ مضمون پہلے بھی کئی جگہ گزر چکا ہے کہ عربوں میں حضرت اسماعیل ؑ کے بعد، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے براہ راست کوئی نبی نہیں آیا۔ یہاں بھی اس چیز کو بیان کیا گیا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 6) ➊ { لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ …:} یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس لیے رسول بنایا اور یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ آپ اس قوم کو ڈرائیں جس میں اس سے پہلے کوئی نبی نہیں آیا، اس لیے وہ دین حق سے بے خبر ہیں۔ یہی مضمون سورۂ سجدہ (۴) میں ملاحظہ فرمائیں۔ ➋ ابنِ کثیر نے فرمایا کہ {” لِتُنْذِرَ قَوْمًا “} میں قوم سے مراد عرب ہیں، جن کے آباء کو ڈرایا نہیں گیا، مگر اس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف عرب ہی کے لیے بھیجے گئے تھے۔ اس کا جواب ابنِ کثیر نے یہ دیا ہے کہ اکیلے عرب کے ذکر سے دوسری اقوام کی طرف مبعوث ہونے کی نفی نہیں ہوتی، جس طرح بعض افراد کے ذکر سے عموم کی نفی نہیں ہوتی۔ یہاں بہت سی آیات اور متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ آپ تمام اقوام کی طرف مبعوث ہیں اور آپ کی بعثت قیامت تک کے لیے ہے۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۱۵۷) اور سورۂ سبا (۲۸) مفسر سلیمان الجمل نے فرمایا: {” لِتُنْذِرَ قَوْمًا “} سے مراد عرب اور غیر عرب تمام اقوام ہیں اور {” اٰبَآؤُهُمْ “} سے مراد قریب کے آباء ہیں، یعنی قریب زمانے میں نہ عرب کی طرف کوئی نبی آیا نہ غیر عرب کی طرف۔ ہاں بعید زمانے میں عرب کی طرف اسماعیل، ہود، صالح اور شعیب علیھم السلام مبعوث ہوئے اور غیر عرب کی طرف سب سے آخر میں عیسیٰ علیہ السلام مبعوث ہوئے، جن کی بعثت کو تقریباً چھ سو برس گزر چکے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے زمانے کے تمام لوگوں کی طرف مبعوث ہیں، خواہ عرب ہو یا عجم، کیونکہ ان کے قریب آباء کی طرف کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا۔ انبیاء کی آمد پر مدت دراز گزرنے کی وجہ سے یہ سب لوگ اصل دین سے بے خبر ہیں۔“ یہ تفسیر بھی بہت عمدہ ہے۔ اس پر وہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا جو ابن کثیر رحمہ اللہ کی تفسیر پر وارد ہوتا ہے۔ ➌ ایک اور سوال یہ ہے کہ زمانۂ فترت (جس میں کوئی رسول نہیں آیا) کے لوگوں کو شرک اور گمراہی کی وجہ سے عذاب کیوں ہو گا، جب کہ اللہ تعالیٰ کا قاعدہ ہے: «وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا» ‏‏‏‏ [ بني إسرائیل: ۱۵ ] ”اور ہم کبھی عذاب دینے والے نہیں، یہاں تک کہ کوئی پیغام پہنچانے والا بھیجیں۔“ جواب اس کا سورۂ بنی اسرائیل میں اسی مذکورہ بالا آیت (۱۵) کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
← پچھلی آیت (5) پوری سورۃ اگلی آیت (7) →