بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يس — Surah Yasin
آیت نمبر 50
کل آیات: 83
قرآن کریم يس آیت 50
آیت نمبر: 50 — سورۃ يس islamicurdubooks.com ↗
فَلَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ تَوۡصِیَۃً وَّ لَاۤ اِلٰۤی اَہۡلِہِمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿٪۵۰﴾
اور اُس وقت یہ وصیت تک نہ کر سکیں گے، نہ اپنے گھروں کو پلٹ سکیں گے
اس وقت نہ تو یہ وصیت کر سکیں گے اور نہ اپنے اہل کی طرف لوٹ سکیں گے
تو نہ وصیت کرسکیں گے اور نہ اپنے گھر پلٹ کرجائیں
(اس وقت) وہ نہ کوئی وصیت کر سکیں گے اور نہ ہی اپنے گھر والوں کی طرف واپس جا سکیں گے۔
پھر وہ نہ کسی وصیت کی طاقت رکھیں گے اور نہ اپنے گھر والوں کی طرف واپس آئیں گے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

قیامت کے بعد کوئی مہلت نہ ملے گی ٭٭

کافر چونکہ قیامت کے آنے کے قائل نہ تھے اس لیے وہ نبیوں سے اور مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ پھر قیامت کو لاتے کیوں نہیں؟ اچھا یہ تو بتاؤ کہ کب آئے گی؟ اللہ تعالیٰ انہیں جواب دیتا ہے۔ کہ اس کے آنے کے لیے ہمیں کچھ سامان نہیں کرنے پڑیں گے، صرف ایک مرتبہ صور پھونک دیا جائے گا۔

دنیا کے لوگ روزمرہ کی طرح اپنے اپنے کام کاج میں مشغول ہوں گے جب اللہ تعالیٰ اسرافیل علیہ السلام کو صور پھونکنے کا حکم دے گا وہیں لوگ ادھر ادھر گرنے شروع ہو جائیں گے اس آسمانی تیز و تند آواز سے سب کے سب محشر میں اللہ کے سامنے جمع کر دیئے جائیں گے اس چیخ کے بعد کسی کو اتنی بھی مہلت نہیں ملنی کہ کسی سے کچھ کہہ سن سکے، کوئی وصیت اور نصیحت کر سکے اور نہ ہی انہیں اپنے گھروں کو واپس جانے کی طاقت رہے گی۔ اس آیت کے متعلق بہت سے آثار و احادیث ہیں جنہیں ہم دوسری جگہ وارد کر چکے ہیں۔ اس پہلے نفخہ کے بعد دوسرا نفخہ ہو گا جس سے سب کے سب مر جائیں گے، کل جہان فنا ہو جائے گا، بجز اس ہمیشگی والے اللہ عزوجل کے جسے فنا نہیں۔ اس کے بعد پھر جی اٹھنے کا نفخہ ہو گا۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 50) {فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ۠ تَوْصِيَةً …: ” تَوْصِيَةً”وَصّٰي يُوَصِّيْ“} (تفعیل) کا مصدر ہے، وصیت کرنا۔ یعنی اس چیخ کے بعد انھیں اتنی مہلت نہیں ملے گی کہ وہ کچھ وصیت کر سکیں، یا جو باہر ہیں وہ اپنے گھر واپس جا سکیں، بلکہ جو کوئی جہاں موجود ہو گا وہیں دھر لیا جائے گا۔
← پچھلی آیت (49) پوری سورۃ اگلی آیت (51) →