بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يس — Surah Yasin
آیت نمبر 45
کل آیات: 83
قرآن کریم يس آیت 45
آیت نمبر: 45 — سورۃ يس islamicurdubooks.com ↗
وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمُ اتَّقُوۡا مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡکُمۡ وَ مَا خَلۡفَکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴿۴۵﴾
اِن لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ بچو اُس انجام سے جو تمہارے آگے آ رہا ہے اور تمہارے پیچھے گزر چکا ہے، شاید کہ تم پر رحم کیا جائے (تو یہ سنی اَن سنی کر جاتے ہیں)
اور ان سے جب (کبھی) کہا جاتا ہے کہ اگلے پچھلے (گناہوں) سے بچو تاکہ تم پر رحم کیا جائے
اور جب ان سے فرمایا جاتا ہے ڈرو تم اس سے جو تمہارے سامنے ہے اور جو تمہارے پیچھے آنے والا ہے اس امید پر کہ تم پر مہر ہو تو منہ پھیر لیتے ہیں،
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ڈرو اس (انجام و عذاب) سے جو تمہارے آگے ہے اور اس سے ڈرو جو تمہارے پیچھے ہے کہ تم پر رحم کیا جائے (تو وہ اس کی پرواہ نہیں کرتے)۔
اور جب ان سے کہا جاتا ہے بچو اس(عذاب) سے جو تمھارے سامنے ہے اور جو تمھارے پیچھے ہے، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

کفار کا تکبر ٭٭

کافروں کی سرکشی نادانی اور عناد تکبر بیان ہو رہا ہے کہ جب ان سے گناہوں سے بچنے کو کہا جاتا ہے کہ جو کر چکے ان پر نادم ہو جاؤ ان سے توبہ کر لو اور آئندہ کے لیے ان سے احتیاط کرو۔ اس سے اللہ تم پر رحم فرمائے گا اور تمہیں اپنے عذابوں سے بچا لے گا۔ تو وہ اس پر کار بند ہونا تو درکنار ایک طرف اور منہ پھلا لیتے ہیں، قرآن نے اس جملے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ آگے جو آیت ہے وہ اس پر صاف طور سے دلالت کرتی ہے۔ اس میں ہے کہ یہی ایک بات کیا؟ ان کی تو عادت ہو گئی ہے کہ اللہ کی ہر بات سے منہ پھیر لیں۔ نہ اس کی توحید کو مانتے ہیں نہ رسولوں کو سچا جانتے ہیں نہ ان میں غور و خوض کی عادت نہ ان میں قبولیت کا مادہ، نہ نفع کو حاصل کرنے کا ملکہ۔ ان کو جب کبھی اللہ کی راہ میں خیرات کرنے کو کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو تمہیں دیا ہے اس میں فقراء مساکین اور محتاجوں کا حصہ بھی ہے۔ تو یہ جواب دیتے ہیں کہ اگر اللہ کا ارادہ ہوتا تو ان غریبوں کو خود ہی دیتا، جب اللہ ہی کا ارادہ انہیں دینے کا نہیں تو ہم اللہ کے ارادے کے خلاف کیوں کریں؟ تم جو ہمیں خیرات کی نصیحت کر رہے ہو اس میں بالکل غلطی پر ہو۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ پچھلہ جملہ کفار کی تردید میں اللہ کی طرف سے ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کفار سے فرما رہا ہے کہ تم کھلی گمراہی میں ہو لیکن ان سے یہی اچھا معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی کفار کے جواب کا حصہ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 45) {وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمُ اتَّقُوْا مَا بَيْنَ اَيْدِيْكُمْ …:} کائنات میں پھیلی ہوئی توحید اور آخرت کی نشانیوں اور دلیلوں کے ذکر کے بعد، جن سے مشرکین نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں، اب نصیحت کرنے والوں کے ساتھ ان کے سلوک کا ذکر فرمایا۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ انھوں نے خیر خواہی کی ہر بات سے بھی کان بند کر رکھے ہیں۔ {” مَا بَيْنَ اَيْدِيْكُمْ “} سے مراد پہلے گناہ اور {” وَ مَا خَلْفَكُمْ “} سے مراد بعد کے گناہ ہیں، یا {” مَا بَيْنَ اَيْدِيْكُمْ “} سے مراد دنیا کا عذاب اور {” وَ مَا خَلْفَكُمْ “} سے مراد آخرت کا عذاب ہے۔ یعنی جب ان سے ان گناہوں سے بچنے کے لیے کہا جاتا ہے جو وہ کر چکے ہیں کہ ان پر نادم ہو جاؤ، ان سے توبہ کر لو اور آئندہ کے لیے ان سے بچ جاؤ، یا جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس عذاب سے بچ جاؤ جو تمھارے گناہوں کی پاداش میں تم پر دنیا میں آ سکتا ہے اور اس سے بھی جو آخرت میں آ رہا ہے، تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔ اس جملے کا جواب یہ ہے {”أَعْرَضُوْا عَنْهُ“} یعنی وہ اس نصیحت سے منہ پھیر لیتے ہیں، مگر یہاں یہ جواب حذف کر دیا گیا ہے، کیونکہ یہ اگلی آیت سے خود بخود معلوم ہو رہا ہے۔
← پچھلی آیت (44) پوری سورۃ اگلی آیت (46) →