بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يس — Surah Yasin
آیت نمبر 41
کل آیات: 83
قرآن کریم يس آیت 41
آیت نمبر: 41 — سورۃ يس islamicurdubooks.com ↗
وَ اٰیَۃٌ لَّہُمۡ اَنَّا حَمَلۡنَا ذُرِّیَّتَہُمۡ فِی الۡفُلۡکِ الۡمَشۡحُوۡنِ ﴿ۙ۴۱﴾
اِن کے لیے یہ بھی ایک نشانی ہے کہ ہم نے اِن کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کر دیا
اور ان کے لئے ایک نشانی (یہ بھی) ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا
اور ان کے لیے نشانی یہ ہے کہ انہیں ان بزرگوں کی پیٹھ میں ہم نے بھری کشتی میں سوار کیا
اور ان کیلئے (قدرتِ خدا کی) ایک نشانی یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی (نوح(ع)) میں سوار کیا۔
اور ایک نشانی ان کے لیے یہ ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

سمندر کی تسخیر ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کی ایک اور نشانی بتا رہا ہے کہ اس نے سمندر کو مسخر کر دیا ہے جس میں کشتیاں برابر آمد و رفت کر رہی ہیں۔ سب سے پہلی کشتی نوح علیہ السلام کی تھی جس پر سوار ہو کر وہ خود اور ان کے ساتھ ایماندار بندے نجات پا گئے تھے باقی روئے زمین پر ایک انسان بھی نہ بچا تھا، ہم نے اس زمانے والے لوگوں کے آباؤ اجداد کو کشتی میں بٹھا لیا تھا جو بالکل بھرپور تھی۔ کیونکہ اس میں ضرورت اکل اسباب بھی تھا اور ساتھ ہی حیوانات بھی تھے جو اللہ کے حکم سے اس میں بٹھا لیے گئے تھے ہر قسم کے جانور کا ایک ایک جوڑا تھا، بڑا باوقار مضبوط اور بوجھل وہ جہاز تھا، یہ صفت بھی صحیح طور پر نوح کی کشتی پر صادق آتی ہے۔

اسی طرح کی خشکی کی سواریاں بھی اللہ نے ان کے لیے پیدا کر دی ہیں مثلاً اونٹ جو خشکی میں وہی کام دیتا ہے جو تری میں کشتی کام دیتی ہے۔ اسی طرح دیگر چوپائے جانور ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کشتی نوح نمونہ بنی اور پھر اس نمونے پر اور کشتیاں اور جہاز بنتے چلے گئے۔ اس مطلب کی تائید آیت «إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ» [ 69- الحاقة: 11، 12 ] ‏‏‏‏، سے بھی ہوتی ہے یعنی جب پانی نے طغیانی کی تو ہم نے انہیں کشتی میں سوار کر لیا تاکہ اسے تمہارے لیے ایک یادگار بنا دیں اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں۔ ہمارے اس احسان کو فراموش نہ کرو کہ سمندر سے ہم نے تمہیں پار کر دیا اگر ہم چاہتے تو اسی میں تمہیں ڈبو دیتے کشتی کی کشتی بیٹھ جاتی کوئی نہ ہوتا جو اس وقت تمہاری فریاد رسی کرتا نہ کوئی ایسا تمہیں ملتا جو تمہیں بچا سکتا۔ لیکن یہ صرف ہماری رحمت ہے کہ خشکی اور تری کے لمبے چوڑے سفر تم با آرام و راحت طے کر رہے ہو اور ہم تمہیں اپنے ٹھہرائے ہوئے وقت تک ہر طرح سلامت رکھتے ہیں۔

📖 احسن البیان

41۔ 1 اس میں اللہ تعالیٰ اپنے اس احسان کا تذکرہ فرما رہا ہے کہ اس نے سمندر میں کشتیوں کا چلنا آسان فرما دیا، حتٰی کہ تم اپنے ساتھ بھری ہوئی کشتیوں میں اپنے بچوں کو بھی لے جاتے ہو اور دوسرے معنی سے یہ مراد کشتی نوح ؑ ہے۔ یعنی سفینہ نوح ؑ میں لوگوں کو بٹھایا جن سے بعد میں نسل انسانی چلی۔ گویا نسل انسانی کے آبا اس میں سوار تھے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 41) ➊ { وَ اٰيَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ …: ”ذُرِّيَّةٌ“} کا لفظی معنی اولاد ہے۔ {” ذُرِّيَّتَهُمْ “} میں ضمیر {”هُمْ“} سے مراد انسان ہیں۔ {” الْمَشْحُوْنِ “} بھری ہوئی، مراد اس سے نوح علیہ السلام کی کشتی ہے۔ یعنی ایک اور نشانی ان کے لیے یہ ہے کہ ہم نے نسل انسان کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا اور وہ پانی جو لوہے کی سوئی اور لکڑی کے ایک ڈنڈے تک کو نہیں اٹھاتا، بلکہ غرق کر دیتا ہے، اسی پانی نے ہمارے سکھانے کے مطابق لوہے یا لکڑی سے بنی ہوئی کشتی کو اٹھا لیا، جو آدمیوں سے اور ہر جانور کے ایک ایک جوڑے اور ان کی ضرورت کی اشیاء سے خوب بھری ہوئی تھی۔ ➋ یہاں ایک سوال ہے کہ کشتی میں اولاد ہی نہیں ان کے باپ بھی سوار ہوتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ جو فرمایا کہ ”ہم نے ان کی نسل (یا اولاد) کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا“ یہ کیوں نہ فرما دیا کہ ”ہم نے ان کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا؟“ جواب اس کا یہ ہے کہ نوح علیہ السلام سے پہلے آباء کو کشتی بنانے کا طریقہ معلوم نہ تھا، نہ وہ سمندر میں سفر کر سکتے تھے۔ آدم علیہ السلام کے بعد ان کی اولاد، جسے باقی رکھنا منظور تھا، ساری کی ساری اس کشتی میں سوار تھی اور طوفان کے بعد وہی زمین پر باقی رہی، باقی سب غرق ہو گئی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کے متعلق فرمایا: «‏‏‏‏وَ جَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِيْنَ» ‏‏‏‏ [الصافات: ۷۷ ] ”اور ہم نے اس کی اولاد ہی کو باقی رہنے والے بنا دیا۔“ اس لیے یہاں {” اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ“} فرمایا۔ (نظم الدرر) دوسری جگہ اسی کشتی کا ذکر ان الفاظ میں ہے: «‏‏‏‏اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِ (11) لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَّ تَعِيَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِيَةٌ» ‏‏‏‏ [ الحآقۃ: ۱۱، ۱۲ ] ”بلاشبہ ہم نے ہی جب پانی حد سے تجاوز کر گیا، تمھیں کشتی میں سوار کیا، تا کہ ہم اسے تمھارے لیے ایک یاد دہانی بنا دیں اور یاد رکھنے والا کان اسے یاد رکھے۔“
← پچھلی آیت (40) پوری سورۃ اگلی آیت (42) →