بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يس — Surah Yasin
آیت نمبر 36
کل آیات: 83
قرآن کریم يس آیت 36
آیت نمبر: 36 — سورۃ يس islamicurdubooks.com ↗
سُبۡحٰنَ الَّذِیۡ خَلَقَ الۡاَزۡوَاجَ کُلَّہَا مِمَّا تُنۡۢبِتُ الۡاَرۡضُ وَ مِنۡ اَنۡفُسِہِمۡ وَ مِمَّا لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۳۶﴾
پاک ہے وہ ذات جس نے جملہ اقسام کے جوڑے پیدا کیے خواہ وہ زمین کی نباتات میں سے ہوں یا خود اِن کی اپنی جنس (یعنی نوع انسانی) میں سے یا اُن اشیاء میں سے جن کو یہ جانتے تک نہیں ہیں
وه پاک ذات ہے جس نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کیے خواه وه زمین کی اگائی ہوئی چیزیں ہوں، خواه خود ان کے نفوس ہوں خواه وه (چیزیں) ہوں جنہیں یہ جانتے بھی نہیں
پاکی ہے اسے جس نے سب جوڑے بنائے ان چیزوں سے جنہیں زمین اگاتی ہے اور خود ان سے اور ان چیزوں سے جن کی انہیں خبر نہیں
پاک ہے وہ ذات جس نے سب اقسام کے جوڑے جوڑے پیدا کئے ہیں خواہ (نباتات) ہو جسے زمین اگاتی ہے یا خود ان کے نفوس ہوں (بنی نوع انسان) یا وہ چیزیں ہوں جن کو یہ نہیں جانتے۔
پاک ہے وہ جس نے سب کے سب جوڑے پیدا کیے ان چیزوں سے جنھیں زمین اگاتی ہے اور خود ان سے اور ان چیزوں سے جنھیں وہ نہیں جانتے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

وجود باری تعالٰی کی ایک نشانی ٭٭

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میرے وجود پر، میری زبردست قدرت پر اور مردوں کو زندگی دینے پر ایک نشانی یہ بھی ہے کہ مردہ زمین جو بنجر خشک پڑی ہوئی ہوتی ہے جس میں کوئی روئیدگی، تازگی، ہریالی، گھاس وغیرہ نہیں ہوتی۔ میں اس پر آسمان سے پانی برساتا ہوں وہ مردہ زمین جی اٹھتی ہے لہلہانے لگتی ہے ہر طرف سبزہ ہی سبزہ اگ جاتا ہے اور قسم قسم کے پھل پھول وغیرہ نظر آنے لگتے ہیں۔ تو فرماتا ہے کہ ہم اس مردہ زمین کو زندہ کر دیتے ہیں اور اس سے قسم قسم کے اناج پیدا کرتے ہیں بعض کو تم کھاتے ہو بعض تمہارے جانور کھاتے ہیں۔ ہم اس میں کھجوروں کے انگوروں کے باغات وغیرہ تیار کر دیتے ہیں۔ نہریں جاری کر دیتے ہیں جو باغوں اور کھیتوں کو سیراب، سرسبز و شاداب کرتی رہتی ہیں۔ یہ سب اس لیے کہ ان درختوں کے میوے دنیا کھائے، کھیتیوں سے، باغات سے نفع حاصل کرے، حاجتیں پوری کرے، یہ سب اللہ کی رحمت اور اس کی قدرت سے پیدا ہو رہے ہیں، کسی کے بس اور اختیار میں نہیں، تمہارے ہاتھوں کی پیدا کردہ یا حاصل کردہ چیزیں نہیں۔ نہ تمہیں انہیں اگانے کی طاقت نہ تم میں انہیں بچانے کی قدرت، نہ انہیں پکانے کا تمہیں اختیار۔ صرف اللہ کے یہ کام ہیں اور اسی کی یہ مہربانی ہے اور اس کے احسان کے ساتھ ہی ساتھ یہ اس کی قدرت کے نمونے ہیں۔ پھر لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو شکر گزاری نہیں کرتے؟ اور اللہ تعالیٰ کی بے انتہا ان گنت نعمتیں اپنے پاس ہوتے ہوئے اس کا احسان نہیں مانتے؟

ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ باغات کے پھل جو کھاتے ہیں اور اپنے ہاتھوں کا بویا ہوا یہ پاتے ہیں، چنانچہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَمَا عَمِلَتْهُ اَيْدِيْهِمْ اَفَلَا يَشْكُرُوْنَ» [ 36- يس: 35 ] ‏‏‏‏ ہے۔ پاک اور برتر اور تمام نقصانات سے بری وہ اللہ ہے جس نے زمین کی پیداوار کو اور خود تم کو جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے اور مختلف قسم کی مخلوق کے جوڑے بنائے ہیں جنہیں تم جانتے بھی نہیں ہو۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ» [ 51- الذاريات: 49 ] ‏‏‏‏ ہم نے ہرچیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں تاکہ تم نصیحت پکڑو۔

📖 احسن البیان

36۔ 1 یعنی انسانوں کی طرح زمین کی ہر پیداوار میں بھی ہم نے نر مادہ دونوں پیدا کئے۔ علاوہ ازیں آسمانوں میں اور زمین کی گہرائیوں میں بھی جو چیزیں تم سے غائب ہیں، جن کا علم تم نہیں رکھتے، ان میں زوجیت (نر اور مادہ) کا یہ نظام ہم نے رکھا ہے۔ پس تمام مخلوق جوڑا جوڑا ہے، نباتات بھی نر اور مادے کا یہی نظام ہے۔ حتٰی کہ آخرت کی زندگی، دنیا کی زندگی کے لئے بمنزلہ زوج ہے اور یہ حیات آخرت کے لئے ایک عقلی دلیل بھی ہے۔ صرف ایک اللہ کی ذات ہے جو مخلوق کی صفت سے اور دیگر تمام کوتاہیوں سے پاک ہے۔ وہ (فرد) ہے، زوج نہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 36) {سُبْحٰنَ الَّذِيْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا …:} یعنی ان لوگوں نے اللہ کے جو شریک بنا رکھے ہیں وہ ان سے پاک ہے۔ پھر اپنی کچھ صفات بیان فرمائیں جو صرف اس کے ساتھ خاص ہیں اور جن کا تقاضا ہے کہ اسے ہر عیب، ہر نقص اور ہر شرک سے پاک سمجھا جائے۔ {” الْاَزْوَاجَ “} کے کئی معنی ہیں، مثلاً اس کا اطلاق نر و مادہ پر بھی ہوتا ہے۔ مرد عورت کے لیے زوج ہے اور عورت مرد کے لیے اور ان دونوں میں اللہ تعالیٰ نے فطرتی طور پر ایک دوسرے کے لیے کشش رکھ دی ہے، پھر اس زوج کے ایک دوسرے سے ملنے سے آگے مزید تخلیق کا سلسلہ چلتا ہے اور یہ سلسلہ صرف حیوانات ہی میں نہیں، نباتات میں بھی پایا جاتا ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏وَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ» ‏‏‏‏ [ الذاریات: ۴۹ ] ”اور ہر چیز سے ہم نے دو قسمیں بنائیں، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔“ نباتات میں سے کچھ درخت تو ایسے ہیں جن کا عام انسانوں کو بھی علم ہوتا ہے، مثلاً کھجور اور انار کے درخت نر بھی ہوتے ہیں اور مادہ بھی، جب پھل لگنے کا موسم ہوتا ہے تو ہوائیں نر درختوں کا بیج اٹھا کر مادہ درختوں پر پھینک دیتی ہیں تو مزید پیدائش عمل میں آتی ہے اور نباتات کی ہر قسم میں نر و مادہ کا سلسلہ موجود ہے، خواہ ابھی تک انسان کو اس کا علم ہوا ہو یا نہ ہو۔ پھر یہ سلسلہ جمادات حتیٰ کہ مادہ کے ایک ذرہ کے اندر بھی پایا جاتا ہے۔ اس میں بھی مثبت اور منفی قوتیں موجود ہیں، جو آپس میں ایک دوسرے کے لیے کشش رکھتی ہیں۔ دوسرے زوج کا لفظ آپس میں مماثلت رکھنے والی چیزوں کے لیے بھی آتا ہے، مثلاً ایک جوتا دوسرے جوتے کے لیے زوج ہوتا ہے اور اس معنی میں بھی یہ لفظ قرآن میں موجود ہے، جیسے فرمایا: «‏‏‏‏وَ اٰخَرُ مِنْ شَكْلِهٖۤ اَزْوَاجٌ» ‏‏‏‏ [ صٓ: ۵۸ ] ”اور دوسری اس کی ہم شکل کئی (ازواج) قسمیں۔“ اور ازواج کا ایک معنی ایک دوسرے کے مخالف اشیاء، جیسے دن رات کا زوج ہے اور رات دن کا، یا سایہ دھوپ کا اور دھوپ سائے کا، یا روشنی تاریکی کی زوج اور تاریکی روشنی کی، گویا یہ زوج کا سلسلہ اتنا وسیع ہے جو نباتات اور حیوانات کے علاوہ بھی تمام اشیاء میں پایا جاتا ہے، خواہ تمھیں اس کا علم ہو یا نہ ہو سکے۔ فرمایا: «‏‏‏‏وَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ» [ الذاریات: ۴۹ ] ”اور ہم نے ہر چیز سے دو قسمیں بنائیں، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔“ اس آیت کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے {” سُبْحٰنَ الَّذِيْ “} کا لفظ استعمال فرمایا، جس کا مطلب یہ ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی ہے جو ہر قسم کے زوج سے پاک ہے، نہ اس کا کوئی مقابل ہے اور نہ مماثل، کیونکہ مقابلہ یا مماثلت ان چیزوں میں ہو سکتی ہے جو کسی درجہ میں فی الجملہ اشتراک رکھتی ہوں، مگر خالق اور مخلوق کا کسی حقیقت میں اشتراک نہیں ہوتا، اور اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ دنیا میں شرک کی جتنی بھی اقسام پائی جاتی ہیں ان میں سے ہر قسم میں اللہ تعالیٰ کی ذات میں کسی نہ کسی کمی، کمزوری، عیب یا نقص کا الزام ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے {” سُبْحٰنَ “} کا لفظ کہہ کر مشرکوں کے ہر قسم کے شرکیہ عقیدے کی تردید فرما دی۔ (کیلانی)
← پچھلی آیت (35) پوری سورۃ اگلی آیت (37) →