بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يس — Surah Yasin
آیت نمبر 25
کل آیات: 83
قرآن کریم يس آیت 25
آیت نمبر: 25 — سورۃ يس islamicurdubooks.com ↗
اِنِّیۡۤ اٰمَنۡتُ بِرَبِّکُمۡ فَاسۡمَعُوۡنِ ﴿ؕ۲۵﴾
میں تو تمہارے رب پر ایمان لے آیا، تم بھی میری بات مان لو"
میری سنو! میں تو (سچے دل سے) تم سب کے رب پر ایمان ﻻ چکا
مقرر میں تمہارے رب پر ایمان لایا تو میری سنو
میں تو تمہارے پروردگار پر ایمان لے آیا ہوں تم میری بات (کان لگا کر) سنو (اور ایمان لے آؤ)۔
بے شک میں تمھارے رب پر ایمان لایا ہوں، سو مجھ سے سنو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

راہ حق کا شہید ٭٭

وہ نیک بخت شخص جو اللہ کے رسولوں کی تکذیب و تردید اور توہین ہوتی دیکھ کر دوڑا ہوا آیا تھا اور جس نے اپنی قوم کو نبیوں کی تابعداری کی رغبت دلائی تھی وہ اب اپنے عمل اور عقیدے کو ان کے سامنے پیش کر رہا ہے اور انہیں حقیقت سے آگاہ کر کے ایمان کی دعوت دے رہا ہے، تو کہتا ہے کہ میں تو صرف اپنے خالق مالک اللہ وحدہ لاشریک لہ کی ہی عبادت کرتا ہوں جبکہ صرف اسی نے مجھے پیدا کیا ہے تو میں اس کی عبادت کیوں نہ کروں؟ پھر یہ نہیں کہ اب ہم اس کی قدرت سے نکل گئے ہیں؟ اس سے اب ہمارا کوئی تعلق نہیں رہا ہو؟ نہیں بلکہ سب کے سب لوٹ کر پھر اس کے سامنے جمع ہونے والے ہیں۔ اس وقت وہ ہر بھلائی برائی کا بدلہ دے گا۔ یہ کیسی شرم کی بات ہے کہ میں اس خالق و وقار کو چھوڑ کر اوروں کو پوجوں جو نہ تو یہ طاقت رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہوئی کسی مصیبت کو مجھ سے ٹال دیں، نہ یہ کہ ان کے کہنے سننے کی وجہ سے مجھے کوئی برائی پہنچے، اللہ اگر مجھے کوئی ضرر پہنچانا چاہے تو یہ اسے دفع نہیں کر سکتے روک نہیں سکتے نہ مجھے اس سے بچاسکتے ہیں، اگر میں ایسے کمزوروں کی عبادت کرنے لگوں تو مجھ سے بڑھ کر گمراہ اور بہکا ہوا اور کون ہو گا؟ پھر تو نہ صرف مجھے بلکہ دنیا کے ہر بھلے انسان کو میری گمراہی کھل جائے گی۔ میری قوم کے لوگو! اپنے جس حقیقی معبود اور پروردگار سے تم منکر ہوئے ہو۔ سنو میں تو اس کی ذات پر ایمان رکھتا ہوں اور یہ بھی معنی اس آیت کے ہو سکتے ہیں کہ اس اللہ کے بندے مرد صالح نے اب اپنی قوم سے روگردانی کر کے اللہ کے ان رسولوں سے یہ کہا ہو کہ اللہ کے پیغمبرو! تم میرے ایمان کے گواہ رہنا! میں اس اللہ کی ذات پر ایمان لایا جس نے تمہیں برحق رسول بنا کر بھیجا ہے، پس گویا یہ اپنے ایمان پر اللہ کے رسولوں کو گواہ بنا رہا ہے۔ یہ قول بہ نسبت اگلے قول کے بھی زیادہ واضح ہے واللہ اعلم۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں کہ یہ بزرگ اتنا ہی کہنے پائے تھے کہ تمام کفار پل پڑے اور زدوکوب کرنے لگے۔ کون تھا جو انہیں بچاتا؟ پتھر مارتے مارتے انہیں اسی وقت فی الفور شہید کر دیا «رضی اللہ عنہ وارضاہ» یہ اللہ کے بندے یہ سچے ولی اللہ پتھر کھا رہے تھے لیکن زبان سے یہی کہے جا رہے تھے کہ اللہ میری قوم کو ہدایت کر یہ جانتے نہیں۔

📖 احسن البیان

25۔ 1 اس کی دعوت توحید اور اقرار توحید کے جواب میں قوم نے اسے قتل کرنا چاہا تو اس نے پیغمبروں سے خطاب کر کے یہ کہا مقصد اپنے ایمان پر ان پیغمبروں کو گواہ بنایا تھا۔ یا اپنی قوم سے خطاب کر کے کہا جس سے مقصود دین حق پر اپنی صلاحیت اور استقامت کا اظہار تھا کہ تم جو چاہو کرلو، لیکن اچھی طرح سن لو کہ میرا ایمان اسی رب پر ہے، جو تمہارا بھی رب ہے۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے اس کو مار ڈالا اور کسی نے ان کو اس سے نہیں روکا۔ رَحِمَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 25){ اِنِّيْۤ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِ:} پھر اس مرد ناصح نے لوگوں کو اور اس بستی کی طرف بھیجے گئے پیغمبروں کو، سب کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے ایمان لانے کا اور اس پر اپنی استقامت کا اعلان کیا، یعنی میں اس رب پر ایمان لایا ہوں جو میرا ہی نہیں تمھارا بھی رب ہے، سو تم پر لازم ہے کہ میری بات غور سے سنو۔
← پچھلی آیت (24) پوری سورۃ اگلی آیت (26) →