بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
التكوير
سورۃ التكوير — 29 آیات
قرآن کریم Surah 81
اِذَا الشَّمۡسُ کُوِّرَتۡ ۪ۙ﴿۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جب سورج لپیٹ دیا جائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
جب سورج لپیٹ لیا جائے گا
احمد رضا خان بریلوی
جب دھوپ لپیٹی جائے
علامہ محمد حسین نجفی
جب سورج (کی بساط) لپیٹ دی جائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
جب سورج لپیٹ دیا جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یعنی سورج بے نور ہو گا ٭٭

یعنی سورج بے نور ہو گا، جاتا رہے گا، اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”سورج، چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بے نور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائے گا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائے گی۔‏‏‏‏“ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏‏‏‏ اور ایک حدیث میں سورج چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے۔ ۱؎ [مسند ابو یعلی:4116:ضعیف] ‏‏‏‏ صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ { سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3200] ‏‏‏‏ امام بخاری رحمہ اللہ اسے «كِتَابِ بِدْءِ الْخَلْقِ» میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے امام صاحب کی عادت ہے۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی کہ قیامت کے دن یہ ہو گا، تو حسن رحمہ اللہ کہنے لگے ان کا کیا گناہ ہے؟ فرمایا ”میں نے حدیث کہی اور تم اس پر باتیں بناتے ہو، سورج کی قیامت والے دن یہ حالت ہو گی ستارے سارے متغیر ہو کر جھڑ جائیں گے جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انْـتَثَرَتْ» ۱؎ [82-الإنفطار:2] ‏‏‏‏ یہ بھی گدلے اور بے نور ہو کر بجھ جائیں گے۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ہوں گی لوگ اپنے بازاروں میں ہوں گے کہ اچانک سورج کی روشنی جاتی رہے گی اور پھر ناگہاں ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگیں گے پھر اچانک پہاڑ زمین پر گر پڑیں گے اور زمین زور زور سے جھٹکے لینے لگے گی اور بے طرح ہلنے لگے گی بس پھر کیا انسان، کیا جنات، کیا جانور اور کیا جنگلی جانور سب آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے، جانور بھی جو انسانوں سے بھاگے پھرتے ہیں انسانوں کے پاس آ جائیں گے لوگوں کو اس قدر بدحواسی اور گھبراہٹ ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال اونٹنیاں جو بیاہنے والیاں ہوں گی ان کی بھی خیر خبر نہ لیں گے۔ جنات کہیں گے کہ ہم جاتے ہیں کہ تحقیق کریں کیا ہو رہا ہے لیکن وہ آئیں گے تو دیکھیں گے کہ سمندروں میں بھی آگ لگ رہی ہے، اسی حال میں ایک دم زمین پھٹنے لگے گی اور آسمان بھی ٹوٹنے لگیں گے، ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمانوں کا یہی حال ہو گا ادھر سے ایک تند ہوا چلے گی جس سے تمام جاندار مر جائیں گے۔ ۱؎ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏

ایک اور روایت میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”سارے ستارے اور جن جن کی اللہ کے سوا عبادت کی گئی ہے سب جہنم میں گرا دیئے جائیں صرف عیسیٰ علیہ السلام اور مریم سلام اللہ علیہا بچ رہیں گے اگر یہ بھی اپنی عبادت سے خوش ہوتے تو یہ بھی جہنم میں داخل کر دئیے جاتے“ }۔ ۱؎ [ابن ابی حاتم:] ‏‏‏‏ پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے اور بے نام و نشان ہو جائیں گے، زمین چٹیل اور ہموار میدان رہ جائے گی، اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی، نہ ان کی کوئی نگرانی کرے گا نہ چرائے چگائے گا، نہ دودھ نکالے گا نہ سواری لے گا۔ «عِشَارُ» جمع ہے «عُشَرَاءُ» کی، جو حاملہ اونٹنی دسویں مہینے میں لگ جائے اسے «عُشَرَاءُ» کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ گھبراہٹ اور بدحواسی بےچینی اور پریشانی اس قدر ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال کی بھی پرواہ نہ رہے گی قیامت کی ان بلاؤں نے دل اڑا دیا ہو گا کلیجے منہ کو آئیں گے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کے دن ہو گا اور لوگوں کو اس سے کچھ سروکار نہ ہو گا ہاں ان کے دیکھنے میں یہ ہو گا، اس قول کے قائل «عِشَارُ» کے کئی معنی بیان کرتے ہیں، ایک تو یہ کہتے ہیں اس سے مراد بادل ہیں جو دنیا کی بربادی کی وجہ سے آسمان و زمین کے درمیان پھرتے پھریں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ زمین ہے جس کا عشر دیا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد گھر ہیں جو پہلے آباد تھے اب ویران ہیں۔ امام قرطبی رحمہ اللہ ان اقوال کو بیان کر کے ترجیح اسی کو دیتے ہیں کہ مراد اس سے اونٹنیاں ہیں اور اکثر مفسرین کا یہی قول ہے اور میں تو یہی کہتا ہوں کہ سلف سے اور ائمہ سے اس کے سوا کچھ وارد ہی نہیں ہوا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اور وحشی جانور جمع کیے جائیں گے، جیسے فرمان ہے «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ» ۱؎ ۱؎ [6-الأنعام:38] ‏‏‏‏ یعنی ’ زمین پر چلنے والے کل جانور اور ہوا میں اڑنے والے کل پرند بھی تمہاری طرح گروہ ہیں، ہم نے اپنی کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی، پھر یہ سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے ‘۔ سب جانداروں کا حشر اسی کے پاس ہو گا یہاں تک کہ مکھیاں بھی، ان سب میں اللہ تعالیٰ انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا، ان جانوروں کا حشر ان کی موت ہی ہے، البتہ جن و انس اللہ کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے اور ان سے حساب کتاب ہو گا۔ ربیع بن خثیم نے کہا مراد وحشیوں کے حشر سے ان پر اللہ کا امر آنا ہے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ سن کر فرمایا کہ ”اس سے مراد موت ہے، یہ تمام جانور بھی ایک دوسرے کے ساتھ اور انسانوں کے ساتھ ہو جائیں گے۔‏‏‏‏“ خود قرآن میں اور جگہ ہے «وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ» ۱؎ [38-ص:19] ‏‏‏‏ یعنی ’ پرند جمع کیے ہوئے ‘، پس ٹھیک مطلب اس آیت کا بھی یہی ہے کہ ’ وحشی جانور جمع کیے جائیں گے ‘۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی سے پوچھا: جہنم کہاں ہے؟ اس نے کہا سمندر میں، آپ نے فرمایا: ”میرے خیال میں یہ سچا ہے قرآن کہتا ہے «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» ۱؎ [52-الطور:6] ‏‏‏‏ اور فرماتا ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» ۱؎ [81-التكوير:6] ‏‏‏‏۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ مغربی ہوائیں بھیجے گا وہ اسے بھڑکا دیں گی اور شعلے مارتی ہوئی آگ بن جائے گا۔‏‏‏‏“ «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» ۱؎ [52-الطور:6] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں اس کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔

سیدنا معاویہ بن سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”بحر روم میں برکت ہے یہ زمین کے درمیان میں ہے، سب نہریں اس میں گرتی ہیں اور بحر کبیر بھی اس میں پڑتا ہے، اس کے نیچے کنویں ہیں جن کے منہ تانبہ سے بند کیے ہوئے ہیں قیام کے دن وہ سلگ اٹھیں گے۔‏‏‏‏“ یہ اثر عجیب ہے اور ساتھ ہی غریب بھی ہے۔ ہاں ابوداؤد میں ایک حدیث ہے کہ { سمندر کا سفر صرف حاجی کریں اور عمرہ کرنے والے یا جہاد کرنے والے غازی اس لیے کہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے پانی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2489،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اس کا بیان بھی سورۃ فاطر کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ «سُجِّرَتْ» کے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ خشک کر دیا جائے گا، ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے گا۔ یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ بہا دیا جائے گا اور ادھر ادھر بہ نکلے گا۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہر قسم کے لوگ یکجا جمع کر دئیے جائیں گے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ» ۱؎ [37-الصافات:22] ‏‏‏‏ یعنی ’ ظالموں کو اور ان کے جوڑوں یعنی ان جیسوں کو جمع کرو ‘۔ حدیث میں ہے { ہر شخص کا اس قوم کے ساتھ حشر کیا جائے گا جو اس جیسے اعمال کرتی ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُنْتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً» * «فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ» * «وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ» * «وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ» ۱؎ [56-الواقعة:10-7] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم تین طرح کے گروہ ہو جاؤ گے کچھ وہ جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال ہوں گے کچھ بائیں ہاتھ والے کچھ سبقت کرنے والے ‘ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36451:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھتے ہوئے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”ہر جماعت اپنے جیسوں میں مل جائیگی۔‏‏‏‏“ دوسری روایت میں ہے کہ ”وہ دو شخص جن کے عمل ایک جیسے ہوں وہ یا تو جنت میں ساتھ رہیں گے یا جہنم میں ساتھ جلیں گے۔‏‏‏‏“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو فرمایا: ”نیک نیکوں کے ساتھ مل جائیں گے اور بد بدوں کے ساتھ آگ میں۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو سب خاموش رہے، آپ نے فرمایا: ”لو میں بتاؤں، آدمی کا جوڑا جنت میں اسی جیسا ہو گا اسی طرح جہنم میں بھی۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”مطلب اس سے یہی ہے کہ تین قسم کے لوگ ہو جائیں گے یعنی «أَصْحَابُ الْمَيْمَنَ» ، «اصحاب الشمال» اور «لسَّابِقُینَ» ۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر قسم کے لوگ ایک ساتھ ہوں گے یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی پسند کرتے ہیں اور یہی ٹھیک بھی ہے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ ”عرش کے پاس سے پانی کا ایک دریا جاری ہو گا جو چالیس سال تک بہتا رہے گا اور بڑی نمایاں چوڑان میں ہو گا، اس سے تمام مرے، سڑے، گلے اگنے لگیں گے اس طرح کے ہو جائیں گے کہ جو انہیں پہچانتا ہو وہ اگر انہیں اب دیکھ لے تو بیک نگاہ پہچان لے پھر روحیں چھوڑی جائیں گی اور ہر روح اپنے جسم میں آ جائے گی یہی معنی ہیں آیت «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» ۱؎ [81-التكوير:7] ‏‏‏‏ کے یعنی ’ روحیں جسموں میں ملا دی جائیں گی ‘۔ اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ’ مومنوں کا جوڑا حوروں سے لگایا جائے گا اور کافروں کا شیطانوں کے ساتھ ‘۔ [ تذکرہ قرطبی ] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہوتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» ۱؎ [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ جمہور کی قراءت یہی ہے اہل جاہلیت لڑکیوں کو ناپسند کرتے تھے اور انہیں زندہ درگور کر دیا کرتے تھے، ان سے قیامت کے دن سوال ہو گا کہ یہ کیوں قتل کی گئیں؟ تاکہ ان کے قاتلوں کو زیادہ ڈانٹ ڈپٹ اور شرمندگی ہو اور یہ بھی سمجھ لیجئے کہ جب مظلوم سے سوال ہوا تو ظالم کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ خود پوچھیں گی کہ انہیں کس بنا پر زندہ درگور کیا گیا؟ اس کے متعلق احادیث سنئے مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں نے قصد کیا کہ لوگوں کو حالت حمل کی مجامعت سے روک دوں لیکن میں نے دیکھا کہ رومی اور فارسی یہ کام کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔‏‏‏‏“ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا یعنی بروقت نطفہ کو باہر ڈال دینے کے بارے میں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ درپردہ زندہ گاڑ دینا ہے اور اسی کا بیان «وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ» [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ میں ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1442:صحیح] ‏‏‏‏ سیدنا سلمہ بن یزید رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی سرکار نبوت میں حاضر ہو کر سوال کرتے ہیں کہ ہماری ماں امیر زادی تھیں وہ صلہ رحمی کرتی تھیں مہمان نوازی کرتی تھیں اور بھی نیک کام بہت کچھ کرتی تھیں، لیکن جاہلیت میں ہی مر گئی ہیں تو کیا اس کے یہ نیک کام اسے کچھ نفع دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا کہ اس نے ہماری ایک بہن کو زندہ دفن کر دیا ہے کیا وہ بھی اسے کچھ نفع دے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زندہ گاڑی ہوئی اور زندہ گاڑنے والی جہنم میں ہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ اسلام کو قبول کرلے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:478/3:صحیح] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں ہے { زندہ دفن کرنے والی اور جسے دفن کیا ہے دونوں جہنم میں ہیں } ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا کے سوال پر کہ جنت میں کون جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبی، شہید، بچے اور زندہ درگور کی ہوئی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:409/5:صحیح] ‏‏‏‏ یہ حدیث مرسل ہے، حسن رحمہ اللہ سے جسے بعض محدثین نے قبولیت کا مرتبہ دیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”مشرکوں کے چھوٹی عمر میں مرے ہوئے بچے جنتی ہیں جو انہیں جہنمی کہے وہ جھوٹا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» “ [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ { سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ! میں نے جاہلیت کے زمانے میں اپنی بچیوں کو زندہ دبا دیا ہے میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غلام والا تو میں ہوں نہیں، البتہ میرے پاس اونٹ ہیں فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک اونٹ اللہ کے نام پر قربان کرو۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند بزار:2280:حسن] ‏‏‏‏

دوسری روایت میں ہے کہ میں نے اپنی آٹھ لڑکیاں اس طرح زندہ دبا دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر چاہے تو یوں کر۔ ۱؎ [ابن مندہ:3/353:حسن] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { بارہ تیرہ لڑکیاں زندہ دفن کر دی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی گنتی کے مطابق غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا بہت بہتر میں یہی کروں گا، دوسرے سال وہاں ایک سو اونٹ لے کر آئے اور کہنے لگے، اے اللہ کے رسول! یہ میری قوم کا صدقہ ہے جو اس کے بدلے ہے جو میں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ان اونٹوں کو لے جاتے تھے اور ان کا قیسیہ رکھ چھوڑا تھا }۔ ۱؎ [طبرانی:138/18،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہے کہ ’ نامہ اعمال بانٹے جائیں گے کسی کے داہنے ہاتھ میں اور کسی کے بائیں ہاتھ میں، اے ابن آدم! تو لکھوا رہا ہے جو لپیٹ کر پھیلا کر تجھے دیا جائے گا دیکھ لے گا کہ کیا لکھوا کے لایا ہے، آسمان گھسیٹ لیا جائے گا اور کھینچ لیا جائے گا اور سمیٹ لیا جائے گا اور برباد ہو جائے گا جہنم بھڑکائی جائے گی، اللہ کے غضب اور بنی آدم کے گناہوں سے اس کی آگ تیز ہو جائے گی، جنت جنتیوں کے پاس آ جائے گی، جب یہ تمام کام ہو چکیں گے اس وقت ہر شخص جان لے گا کہ اس نے اپنی دنیا کی زندگی میں کیا کچھ اعمال کیے تھے، وہ سب عمل اس کے سامنے موجود ہوں گے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا» ۱؎ [3-آل عمران:30] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ جس دن ہر شخص اپنے کیے ہوئے اعمال کو پا لے گا نیک ہیں تو سامنے دیکھ لے گا اور بد ہیں تو اس دن وہ آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی ‘۔ اور جگہ ہے «يُنَبَّأُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ» ۱؎ [75-القيامة:13] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن انسان کو اس کے تمام اگلے پچھلے اعمال سے تنبیہہ کی جائے گی ‘۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سورت کو سنتے رہے اور اس کو سنتے ہی فرمایا: ”اگلی تمام باتیں اسی لیے بیان ہوئی تھیں۔‏‏‏‏“
جب سورج لپیٹ میں آجائے گا (1)
ابن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ سَرَّہٗ أَنْ یَّنْظُرَ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ کَأَنَّہٗ رَأْيُ عَیْنٍ فَلْیَقْرَأْ: «‏‏‏‏اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ» ‏‏‏‏ [ التکویر: ۱ ] وَ «‏‏‏‏اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ» [ الانفطار: ۱ ] وَ «‏‏‏‏اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ» ‏‏‏‏ [ الانشقاق: ۱ ] ] [ مسند أحمد: 27/2، ح: ۴۸۰۶۔ ترمذي: ۳۳۳۳، سندہ صحیح ] ”جسے یہ بات پسند ہو کہ وہ قیامت کے دن کی طرف ایسے دیکھے جیسے آنکھ سے دیکھتا ہے تو وہ سورۂ تکویر، سورۂ انفطار اور سورۂ انشقاق پڑھ لے۔“ اس سورت کی ابتدائی آیات میں قیامت کو واقع ہونے والی بارہ چیزیں ذکر فرمائی ہیں، پہلی چھ چیزیں پہلے نفخہ کے وقت ہوں گی اور آخری چھ چیزیں دوسرے نفخہ کے وقت۔ ان کے بعد تیرھویں آیت میں وہ بات بیان فرمائی جو ان سب چیزوں کے ذکر سے مقصود ہے، یعنی اس وقت ہرجان جو کچھ لے کر آئی ہے اسے جان لے گی۔ (آیت 1) {اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ: ”كَوْرُ الْعِمَامَةِ وَ تَكْوِيْرُهَا“} پگڑی لپیٹنا۔ {”تَكْوِيْرُ الْمَتَاعِ“} سامان جمع کرکے باندھ دینا۔ (خلاصہ قاموس) {” كُوِّرَتْ “} یعنی اتنی وسعت والے سورج، اس کی شعاعوں اور روشنی کو لپیٹ دیا جائے گا اور وہ بالکل بے نور ہو جائے گا۔ چاند کا بھی یہی حال ہوگا، چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلشَّمْسُ وَالْقَمَرُ مُكَوَّرَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ] [ بخاري، بدء الخلق، باب صفۃ الشمس والقمر: ۳۲۰۰ ] ”سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ دیے جائیں گے۔“
وَ اِذَا النُّجُوۡمُ انۡکَدَرَتۡ ۪ۙ﴿۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جب تارے بکھر جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب ستارے بے نور ہو جائیں گی
احمد رضا خان بریلوی
اور جب تارے جھڑ پڑیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور ستارے (بکھر کر) بےنور ہو جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب ستارے بے نور ہو جائیں گے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یعنی سورج بے نور ہو گا ٭٭

یعنی سورج بے نور ہو گا، جاتا رہے گا، اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”سورج، چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بے نور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائے گا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائے گی۔‏‏‏‏“ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏‏‏‏ اور ایک حدیث میں سورج چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے۔ ۱؎ [مسند ابو یعلی:4116:ضعیف] ‏‏‏‏ صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ { سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3200] ‏‏‏‏ امام بخاری رحمہ اللہ اسے «كِتَابِ بِدْءِ الْخَلْقِ» میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے امام صاحب کی عادت ہے۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی کہ قیامت کے دن یہ ہو گا، تو حسن رحمہ اللہ کہنے لگے ان کا کیا گناہ ہے؟ فرمایا ”میں نے حدیث کہی اور تم اس پر باتیں بناتے ہو، سورج کی قیامت والے دن یہ حالت ہو گی ستارے سارے متغیر ہو کر جھڑ جائیں گے جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انْـتَثَرَتْ» ۱؎ [82-الإنفطار:2] ‏‏‏‏ یہ بھی گدلے اور بے نور ہو کر بجھ جائیں گے۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ہوں گی لوگ اپنے بازاروں میں ہوں گے کہ اچانک سورج کی روشنی جاتی رہے گی اور پھر ناگہاں ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگیں گے پھر اچانک پہاڑ زمین پر گر پڑیں گے اور زمین زور زور سے جھٹکے لینے لگے گی اور بے طرح ہلنے لگے گی بس پھر کیا انسان، کیا جنات، کیا جانور اور کیا جنگلی جانور سب آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے، جانور بھی جو انسانوں سے بھاگے پھرتے ہیں انسانوں کے پاس آ جائیں گے لوگوں کو اس قدر بدحواسی اور گھبراہٹ ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال اونٹنیاں جو بیاہنے والیاں ہوں گی ان کی بھی خیر خبر نہ لیں گے۔ جنات کہیں گے کہ ہم جاتے ہیں کہ تحقیق کریں کیا ہو رہا ہے لیکن وہ آئیں گے تو دیکھیں گے کہ سمندروں میں بھی آگ لگ رہی ہے، اسی حال میں ایک دم زمین پھٹنے لگے گی اور آسمان بھی ٹوٹنے لگیں گے، ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمانوں کا یہی حال ہو گا ادھر سے ایک تند ہوا چلے گی جس سے تمام جاندار مر جائیں گے۔ ۱؎ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏

ایک اور روایت میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”سارے ستارے اور جن جن کی اللہ کے سوا عبادت کی گئی ہے سب جہنم میں گرا دیئے جائیں صرف عیسیٰ علیہ السلام اور مریم سلام اللہ علیہا بچ رہیں گے اگر یہ بھی اپنی عبادت سے خوش ہوتے تو یہ بھی جہنم میں داخل کر دئیے جاتے“ }۔ ۱؎ [ابن ابی حاتم:] ‏‏‏‏ پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے اور بے نام و نشان ہو جائیں گے، زمین چٹیل اور ہموار میدان رہ جائے گی، اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی، نہ ان کی کوئی نگرانی کرے گا نہ چرائے چگائے گا، نہ دودھ نکالے گا نہ سواری لے گا۔ «عِشَارُ» جمع ہے «عُشَرَاءُ» کی، جو حاملہ اونٹنی دسویں مہینے میں لگ جائے اسے «عُشَرَاءُ» کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ گھبراہٹ اور بدحواسی بےچینی اور پریشانی اس قدر ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال کی بھی پرواہ نہ رہے گی قیامت کی ان بلاؤں نے دل اڑا دیا ہو گا کلیجے منہ کو آئیں گے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کے دن ہو گا اور لوگوں کو اس سے کچھ سروکار نہ ہو گا ہاں ان کے دیکھنے میں یہ ہو گا، اس قول کے قائل «عِشَارُ» کے کئی معنی بیان کرتے ہیں، ایک تو یہ کہتے ہیں اس سے مراد بادل ہیں جو دنیا کی بربادی کی وجہ سے آسمان و زمین کے درمیان پھرتے پھریں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ زمین ہے جس کا عشر دیا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد گھر ہیں جو پہلے آباد تھے اب ویران ہیں۔ امام قرطبی رحمہ اللہ ان اقوال کو بیان کر کے ترجیح اسی کو دیتے ہیں کہ مراد اس سے اونٹنیاں ہیں اور اکثر مفسرین کا یہی قول ہے اور میں تو یہی کہتا ہوں کہ سلف سے اور ائمہ سے اس کے سوا کچھ وارد ہی نہیں ہوا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اور وحشی جانور جمع کیے جائیں گے، جیسے فرمان ہے «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ» ۱؎ ۱؎ [6-الأنعام:38] ‏‏‏‏ یعنی ’ زمین پر چلنے والے کل جانور اور ہوا میں اڑنے والے کل پرند بھی تمہاری طرح گروہ ہیں، ہم نے اپنی کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی، پھر یہ سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے ‘۔ سب جانداروں کا حشر اسی کے پاس ہو گا یہاں تک کہ مکھیاں بھی، ان سب میں اللہ تعالیٰ انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا، ان جانوروں کا حشر ان کی موت ہی ہے، البتہ جن و انس اللہ کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے اور ان سے حساب کتاب ہو گا۔ ربیع بن خثیم نے کہا مراد وحشیوں کے حشر سے ان پر اللہ کا امر آنا ہے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ سن کر فرمایا کہ ”اس سے مراد موت ہے، یہ تمام جانور بھی ایک دوسرے کے ساتھ اور انسانوں کے ساتھ ہو جائیں گے۔‏‏‏‏“ خود قرآن میں اور جگہ ہے «وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ» ۱؎ [38-ص:19] ‏‏‏‏ یعنی ’ پرند جمع کیے ہوئے ‘، پس ٹھیک مطلب اس آیت کا بھی یہی ہے کہ ’ وحشی جانور جمع کیے جائیں گے ‘۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی سے پوچھا: جہنم کہاں ہے؟ اس نے کہا سمندر میں، آپ نے فرمایا: ”میرے خیال میں یہ سچا ہے قرآن کہتا ہے «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» ۱؎ [52-الطور:6] ‏‏‏‏ اور فرماتا ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» ۱؎ [81-التكوير:6] ‏‏‏‏۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ مغربی ہوائیں بھیجے گا وہ اسے بھڑکا دیں گی اور شعلے مارتی ہوئی آگ بن جائے گا۔‏‏‏‏“ «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» ۱؎ [52-الطور:6] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں اس کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔

سیدنا معاویہ بن سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”بحر روم میں برکت ہے یہ زمین کے درمیان میں ہے، سب نہریں اس میں گرتی ہیں اور بحر کبیر بھی اس میں پڑتا ہے، اس کے نیچے کنویں ہیں جن کے منہ تانبہ سے بند کیے ہوئے ہیں قیام کے دن وہ سلگ اٹھیں گے۔‏‏‏‏“ یہ اثر عجیب ہے اور ساتھ ہی غریب بھی ہے۔ ہاں ابوداؤد میں ایک حدیث ہے کہ { سمندر کا سفر صرف حاجی کریں اور عمرہ کرنے والے یا جہاد کرنے والے غازی اس لیے کہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے پانی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2489،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اس کا بیان بھی سورۃ فاطر کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ «سُجِّرَتْ» کے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ خشک کر دیا جائے گا، ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے گا۔ یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ بہا دیا جائے گا اور ادھر ادھر بہ نکلے گا۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہر قسم کے لوگ یکجا جمع کر دئیے جائیں گے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ» ۱؎ [37-الصافات:22] ‏‏‏‏ یعنی ’ ظالموں کو اور ان کے جوڑوں یعنی ان جیسوں کو جمع کرو ‘۔ حدیث میں ہے { ہر شخص کا اس قوم کے ساتھ حشر کیا جائے گا جو اس جیسے اعمال کرتی ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُنْتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً» * «فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ» * «وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ» * «وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ» ۱؎ [56-الواقعة:10-7] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم تین طرح کے گروہ ہو جاؤ گے کچھ وہ جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال ہوں گے کچھ بائیں ہاتھ والے کچھ سبقت کرنے والے ‘ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36451:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھتے ہوئے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”ہر جماعت اپنے جیسوں میں مل جائیگی۔‏‏‏‏“ دوسری روایت میں ہے کہ ”وہ دو شخص جن کے عمل ایک جیسے ہوں وہ یا تو جنت میں ساتھ رہیں گے یا جہنم میں ساتھ جلیں گے۔‏‏‏‏“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو فرمایا: ”نیک نیکوں کے ساتھ مل جائیں گے اور بد بدوں کے ساتھ آگ میں۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو سب خاموش رہے، آپ نے فرمایا: ”لو میں بتاؤں، آدمی کا جوڑا جنت میں اسی جیسا ہو گا اسی طرح جہنم میں بھی۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”مطلب اس سے یہی ہے کہ تین قسم کے لوگ ہو جائیں گے یعنی «أَصْحَابُ الْمَيْمَنَ» ، «اصحاب الشمال» اور «لسَّابِقُینَ» ۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر قسم کے لوگ ایک ساتھ ہوں گے یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی پسند کرتے ہیں اور یہی ٹھیک بھی ہے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ ”عرش کے پاس سے پانی کا ایک دریا جاری ہو گا جو چالیس سال تک بہتا رہے گا اور بڑی نمایاں چوڑان میں ہو گا، اس سے تمام مرے، سڑے، گلے اگنے لگیں گے اس طرح کے ہو جائیں گے کہ جو انہیں پہچانتا ہو وہ اگر انہیں اب دیکھ لے تو بیک نگاہ پہچان لے پھر روحیں چھوڑی جائیں گی اور ہر روح اپنے جسم میں آ جائے گی یہی معنی ہیں آیت «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» ۱؎ [81-التكوير:7] ‏‏‏‏ کے یعنی ’ روحیں جسموں میں ملا دی جائیں گی ‘۔ اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ’ مومنوں کا جوڑا حوروں سے لگایا جائے گا اور کافروں کا شیطانوں کے ساتھ ‘۔ [ تذکرہ قرطبی ] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہوتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» ۱؎ [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ جمہور کی قراءت یہی ہے اہل جاہلیت لڑکیوں کو ناپسند کرتے تھے اور انہیں زندہ درگور کر دیا کرتے تھے، ان سے قیامت کے دن سوال ہو گا کہ یہ کیوں قتل کی گئیں؟ تاکہ ان کے قاتلوں کو زیادہ ڈانٹ ڈپٹ اور شرمندگی ہو اور یہ بھی سمجھ لیجئے کہ جب مظلوم سے سوال ہوا تو ظالم کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ خود پوچھیں گی کہ انہیں کس بنا پر زندہ درگور کیا گیا؟ اس کے متعلق احادیث سنئے مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں نے قصد کیا کہ لوگوں کو حالت حمل کی مجامعت سے روک دوں لیکن میں نے دیکھا کہ رومی اور فارسی یہ کام کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔‏‏‏‏“ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا یعنی بروقت نطفہ کو باہر ڈال دینے کے بارے میں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ درپردہ زندہ گاڑ دینا ہے اور اسی کا بیان «وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ» [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ میں ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1442:صحیح] ‏‏‏‏ سیدنا سلمہ بن یزید رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی سرکار نبوت میں حاضر ہو کر سوال کرتے ہیں کہ ہماری ماں امیر زادی تھیں وہ صلہ رحمی کرتی تھیں مہمان نوازی کرتی تھیں اور بھی نیک کام بہت کچھ کرتی تھیں، لیکن جاہلیت میں ہی مر گئی ہیں تو کیا اس کے یہ نیک کام اسے کچھ نفع دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا کہ اس نے ہماری ایک بہن کو زندہ دفن کر دیا ہے کیا وہ بھی اسے کچھ نفع دے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زندہ گاڑی ہوئی اور زندہ گاڑنے والی جہنم میں ہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ اسلام کو قبول کرلے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:478/3:صحیح] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں ہے { زندہ دفن کرنے والی اور جسے دفن کیا ہے دونوں جہنم میں ہیں } ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا کے سوال پر کہ جنت میں کون جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبی، شہید، بچے اور زندہ درگور کی ہوئی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:409/5:صحیح] ‏‏‏‏ یہ حدیث مرسل ہے، حسن رحمہ اللہ سے جسے بعض محدثین نے قبولیت کا مرتبہ دیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”مشرکوں کے چھوٹی عمر میں مرے ہوئے بچے جنتی ہیں جو انہیں جہنمی کہے وہ جھوٹا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» “ [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ { سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ! میں نے جاہلیت کے زمانے میں اپنی بچیوں کو زندہ دبا دیا ہے میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غلام والا تو میں ہوں نہیں، البتہ میرے پاس اونٹ ہیں فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک اونٹ اللہ کے نام پر قربان کرو۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند بزار:2280:حسن] ‏‏‏‏

دوسری روایت میں ہے کہ میں نے اپنی آٹھ لڑکیاں اس طرح زندہ دبا دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر چاہے تو یوں کر۔ ۱؎ [ابن مندہ:3/353:حسن] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { بارہ تیرہ لڑکیاں زندہ دفن کر دی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی گنتی کے مطابق غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا بہت بہتر میں یہی کروں گا، دوسرے سال وہاں ایک سو اونٹ لے کر آئے اور کہنے لگے، اے اللہ کے رسول! یہ میری قوم کا صدقہ ہے جو اس کے بدلے ہے جو میں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ان اونٹوں کو لے جاتے تھے اور ان کا قیسیہ رکھ چھوڑا تھا }۔ ۱؎ [طبرانی:138/18،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہے کہ ’ نامہ اعمال بانٹے جائیں گے کسی کے داہنے ہاتھ میں اور کسی کے بائیں ہاتھ میں، اے ابن آدم! تو لکھوا رہا ہے جو لپیٹ کر پھیلا کر تجھے دیا جائے گا دیکھ لے گا کہ کیا لکھوا کے لایا ہے، آسمان گھسیٹ لیا جائے گا اور کھینچ لیا جائے گا اور سمیٹ لیا جائے گا اور برباد ہو جائے گا جہنم بھڑکائی جائے گی، اللہ کے غضب اور بنی آدم کے گناہوں سے اس کی آگ تیز ہو جائے گی، جنت جنتیوں کے پاس آ جائے گی، جب یہ تمام کام ہو چکیں گے اس وقت ہر شخص جان لے گا کہ اس نے اپنی دنیا کی زندگی میں کیا کچھ اعمال کیے تھے، وہ سب عمل اس کے سامنے موجود ہوں گے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا» ۱؎ [3-آل عمران:30] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ جس دن ہر شخص اپنے کیے ہوئے اعمال کو پا لے گا نیک ہیں تو سامنے دیکھ لے گا اور بد ہیں تو اس دن وہ آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی ‘۔ اور جگہ ہے «يُنَبَّأُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ» ۱؎ [75-القيامة:13] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن انسان کو اس کے تمام اگلے پچھلے اعمال سے تنبیہہ کی جائے گی ‘۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سورت کو سنتے رہے اور اس کو سنتے ہی فرمایا: ”اگلی تمام باتیں اسی لیے بیان ہوئی تھیں۔‏‏‏‏“
2۔ 1 دوسرا ترجمہ کہ جھڑ کر گرجائیں گے یعنی آسمان پر ان کا وجود ہی نہیں رہے گا
(آیت 2) {وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ:انْكَدَرَتْ “} طبری نے اس کے دو معانی نقل فرمائے ہیں، پہلا {”تَنَاثَرَتْ“} یعنی بکھر کر گر جائیں گے اور دوسرا {” تَغَيَّرَتْ“} یعنی متغیر ہو جائیں گے۔ کدورت صفائی کی ضد ہے۔ دونوں معانی ملحوظ رکھے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ ستارے بکھر کر گر جائیں گے، ان کی روشنی اور صفائی ختم ہو جائے گی اور وہ بے نور ہو جائیں گے۔
وَ اِذَا الۡجِبَالُ سُیِّرَتۡ ۪ۙ﴿۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور جب پہاڑ چلائے جائیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب پہاڑ چلا دئیے جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یعنی سورج بے نور ہو گا ٭٭

یعنی سورج بے نور ہو گا، جاتا رہے گا، اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”سورج، چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بے نور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائے گا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائے گی۔‏‏‏‏“ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏‏‏‏ اور ایک حدیث میں سورج چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے۔ ۱؎ [مسند ابو یعلی:4116:ضعیف] ‏‏‏‏ صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ { سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3200] ‏‏‏‏ امام بخاری رحمہ اللہ اسے «كِتَابِ بِدْءِ الْخَلْقِ» میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے امام صاحب کی عادت ہے۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی کہ قیامت کے دن یہ ہو گا، تو حسن رحمہ اللہ کہنے لگے ان کا کیا گناہ ہے؟ فرمایا ”میں نے حدیث کہی اور تم اس پر باتیں بناتے ہو، سورج کی قیامت والے دن یہ حالت ہو گی ستارے سارے متغیر ہو کر جھڑ جائیں گے جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انْـتَثَرَتْ» ۱؎ [82-الإنفطار:2] ‏‏‏‏ یہ بھی گدلے اور بے نور ہو کر بجھ جائیں گے۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ہوں گی لوگ اپنے بازاروں میں ہوں گے کہ اچانک سورج کی روشنی جاتی رہے گی اور پھر ناگہاں ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگیں گے پھر اچانک پہاڑ زمین پر گر پڑیں گے اور زمین زور زور سے جھٹکے لینے لگے گی اور بے طرح ہلنے لگے گی بس پھر کیا انسان، کیا جنات، کیا جانور اور کیا جنگلی جانور سب آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے، جانور بھی جو انسانوں سے بھاگے پھرتے ہیں انسانوں کے پاس آ جائیں گے لوگوں کو اس قدر بدحواسی اور گھبراہٹ ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال اونٹنیاں جو بیاہنے والیاں ہوں گی ان کی بھی خیر خبر نہ لیں گے۔ جنات کہیں گے کہ ہم جاتے ہیں کہ تحقیق کریں کیا ہو رہا ہے لیکن وہ آئیں گے تو دیکھیں گے کہ سمندروں میں بھی آگ لگ رہی ہے، اسی حال میں ایک دم زمین پھٹنے لگے گی اور آسمان بھی ٹوٹنے لگیں گے، ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمانوں کا یہی حال ہو گا ادھر سے ایک تند ہوا چلے گی جس سے تمام جاندار مر جائیں گے۔ ۱؎ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏

ایک اور روایت میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”سارے ستارے اور جن جن کی اللہ کے سوا عبادت کی گئی ہے سب جہنم میں گرا دیئے جائیں صرف عیسیٰ علیہ السلام اور مریم سلام اللہ علیہا بچ رہیں گے اگر یہ بھی اپنی عبادت سے خوش ہوتے تو یہ بھی جہنم میں داخل کر دئیے جاتے“ }۔ ۱؎ [ابن ابی حاتم:] ‏‏‏‏ پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے اور بے نام و نشان ہو جائیں گے، زمین چٹیل اور ہموار میدان رہ جائے گی، اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی، نہ ان کی کوئی نگرانی کرے گا نہ چرائے چگائے گا، نہ دودھ نکالے گا نہ سواری لے گا۔ «عِشَارُ» جمع ہے «عُشَرَاءُ» کی، جو حاملہ اونٹنی دسویں مہینے میں لگ جائے اسے «عُشَرَاءُ» کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ گھبراہٹ اور بدحواسی بےچینی اور پریشانی اس قدر ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال کی بھی پرواہ نہ رہے گی قیامت کی ان بلاؤں نے دل اڑا دیا ہو گا کلیجے منہ کو آئیں گے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کے دن ہو گا اور لوگوں کو اس سے کچھ سروکار نہ ہو گا ہاں ان کے دیکھنے میں یہ ہو گا، اس قول کے قائل «عِشَارُ» کے کئی معنی بیان کرتے ہیں، ایک تو یہ کہتے ہیں اس سے مراد بادل ہیں جو دنیا کی بربادی کی وجہ سے آسمان و زمین کے درمیان پھرتے پھریں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ زمین ہے جس کا عشر دیا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد گھر ہیں جو پہلے آباد تھے اب ویران ہیں۔ امام قرطبی رحمہ اللہ ان اقوال کو بیان کر کے ترجیح اسی کو دیتے ہیں کہ مراد اس سے اونٹنیاں ہیں اور اکثر مفسرین کا یہی قول ہے اور میں تو یہی کہتا ہوں کہ سلف سے اور ائمہ سے اس کے سوا کچھ وارد ہی نہیں ہوا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اور وحشی جانور جمع کیے جائیں گے، جیسے فرمان ہے «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ» ۱؎ ۱؎ [6-الأنعام:38] ‏‏‏‏ یعنی ’ زمین پر چلنے والے کل جانور اور ہوا میں اڑنے والے کل پرند بھی تمہاری طرح گروہ ہیں، ہم نے اپنی کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی، پھر یہ سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے ‘۔ سب جانداروں کا حشر اسی کے پاس ہو گا یہاں تک کہ مکھیاں بھی، ان سب میں اللہ تعالیٰ انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا، ان جانوروں کا حشر ان کی موت ہی ہے، البتہ جن و انس اللہ کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے اور ان سے حساب کتاب ہو گا۔ ربیع بن خثیم نے کہا مراد وحشیوں کے حشر سے ان پر اللہ کا امر آنا ہے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ سن کر فرمایا کہ ”اس سے مراد موت ہے، یہ تمام جانور بھی ایک دوسرے کے ساتھ اور انسانوں کے ساتھ ہو جائیں گے۔‏‏‏‏“ خود قرآن میں اور جگہ ہے «وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ» ۱؎ [38-ص:19] ‏‏‏‏ یعنی ’ پرند جمع کیے ہوئے ‘، پس ٹھیک مطلب اس آیت کا بھی یہی ہے کہ ’ وحشی جانور جمع کیے جائیں گے ‘۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی سے پوچھا: جہنم کہاں ہے؟ اس نے کہا سمندر میں، آپ نے فرمایا: ”میرے خیال میں یہ سچا ہے قرآن کہتا ہے «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» ۱؎ [52-الطور:6] ‏‏‏‏ اور فرماتا ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» ۱؎ [81-التكوير:6] ‏‏‏‏۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ مغربی ہوائیں بھیجے گا وہ اسے بھڑکا دیں گی اور شعلے مارتی ہوئی آگ بن جائے گا۔‏‏‏‏“ «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» ۱؎ [52-الطور:6] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں اس کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔

سیدنا معاویہ بن سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”بحر روم میں برکت ہے یہ زمین کے درمیان میں ہے، سب نہریں اس میں گرتی ہیں اور بحر کبیر بھی اس میں پڑتا ہے، اس کے نیچے کنویں ہیں جن کے منہ تانبہ سے بند کیے ہوئے ہیں قیام کے دن وہ سلگ اٹھیں گے۔‏‏‏‏“ یہ اثر عجیب ہے اور ساتھ ہی غریب بھی ہے۔ ہاں ابوداؤد میں ایک حدیث ہے کہ { سمندر کا سفر صرف حاجی کریں اور عمرہ کرنے والے یا جہاد کرنے والے غازی اس لیے کہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے پانی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2489،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اس کا بیان بھی سورۃ فاطر کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ «سُجِّرَتْ» کے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ خشک کر دیا جائے گا، ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے گا۔ یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ بہا دیا جائے گا اور ادھر ادھر بہ نکلے گا۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہر قسم کے لوگ یکجا جمع کر دئیے جائیں گے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ» ۱؎ [37-الصافات:22] ‏‏‏‏ یعنی ’ ظالموں کو اور ان کے جوڑوں یعنی ان جیسوں کو جمع کرو ‘۔ حدیث میں ہے { ہر شخص کا اس قوم کے ساتھ حشر کیا جائے گا جو اس جیسے اعمال کرتی ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُنْتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً» * «فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ» * «وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ» * «وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ» ۱؎ [56-الواقعة:10-7] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم تین طرح کے گروہ ہو جاؤ گے کچھ وہ جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال ہوں گے کچھ بائیں ہاتھ والے کچھ سبقت کرنے والے ‘ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36451:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھتے ہوئے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”ہر جماعت اپنے جیسوں میں مل جائیگی۔‏‏‏‏“ دوسری روایت میں ہے کہ ”وہ دو شخص جن کے عمل ایک جیسے ہوں وہ یا تو جنت میں ساتھ رہیں گے یا جہنم میں ساتھ جلیں گے۔‏‏‏‏“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو فرمایا: ”نیک نیکوں کے ساتھ مل جائیں گے اور بد بدوں کے ساتھ آگ میں۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو سب خاموش رہے، آپ نے فرمایا: ”لو میں بتاؤں، آدمی کا جوڑا جنت میں اسی جیسا ہو گا اسی طرح جہنم میں بھی۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”مطلب اس سے یہی ہے کہ تین قسم کے لوگ ہو جائیں گے یعنی «أَصْحَابُ الْمَيْمَنَ» ، «اصحاب الشمال» اور «لسَّابِقُینَ» ۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر قسم کے لوگ ایک ساتھ ہوں گے یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی پسند کرتے ہیں اور یہی ٹھیک بھی ہے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ ”عرش کے پاس سے پانی کا ایک دریا جاری ہو گا جو چالیس سال تک بہتا رہے گا اور بڑی نمایاں چوڑان میں ہو گا، اس سے تمام مرے، سڑے، گلے اگنے لگیں گے اس طرح کے ہو جائیں گے کہ جو انہیں پہچانتا ہو وہ اگر انہیں اب دیکھ لے تو بیک نگاہ پہچان لے پھر روحیں چھوڑی جائیں گی اور ہر روح اپنے جسم میں آ جائے گی یہی معنی ہیں آیت «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» ۱؎ [81-التكوير:7] ‏‏‏‏ کے یعنی ’ روحیں جسموں میں ملا دی جائیں گی ‘۔ اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ’ مومنوں کا جوڑا حوروں سے لگایا جائے گا اور کافروں کا شیطانوں کے ساتھ ‘۔ [ تذکرہ قرطبی ] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہوتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» ۱؎ [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ جمہور کی قراءت یہی ہے اہل جاہلیت لڑکیوں کو ناپسند کرتے تھے اور انہیں زندہ درگور کر دیا کرتے تھے، ان سے قیامت کے دن سوال ہو گا کہ یہ کیوں قتل کی گئیں؟ تاکہ ان کے قاتلوں کو زیادہ ڈانٹ ڈپٹ اور شرمندگی ہو اور یہ بھی سمجھ لیجئے کہ جب مظلوم سے سوال ہوا تو ظالم کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ خود پوچھیں گی کہ انہیں کس بنا پر زندہ درگور کیا گیا؟ اس کے متعلق احادیث سنئے مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں نے قصد کیا کہ لوگوں کو حالت حمل کی مجامعت سے روک دوں لیکن میں نے دیکھا کہ رومی اور فارسی یہ کام کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔‏‏‏‏“ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا یعنی بروقت نطفہ کو باہر ڈال دینے کے بارے میں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ درپردہ زندہ گاڑ دینا ہے اور اسی کا بیان «وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ» [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ میں ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1442:صحیح] ‏‏‏‏ سیدنا سلمہ بن یزید رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی سرکار نبوت میں حاضر ہو کر سوال کرتے ہیں کہ ہماری ماں امیر زادی تھیں وہ صلہ رحمی کرتی تھیں مہمان نوازی کرتی تھیں اور بھی نیک کام بہت کچھ کرتی تھیں، لیکن جاہلیت میں ہی مر گئی ہیں تو کیا اس کے یہ نیک کام اسے کچھ نفع دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا کہ اس نے ہماری ایک بہن کو زندہ دفن کر دیا ہے کیا وہ بھی اسے کچھ نفع دے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زندہ گاڑی ہوئی اور زندہ گاڑنے والی جہنم میں ہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ اسلام کو قبول کرلے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:478/3:صحیح] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں ہے { زندہ دفن کرنے والی اور جسے دفن کیا ہے دونوں جہنم میں ہیں } ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا کے سوال پر کہ جنت میں کون جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبی، شہید، بچے اور زندہ درگور کی ہوئی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:409/5:صحیح] ‏‏‏‏ یہ حدیث مرسل ہے، حسن رحمہ اللہ سے جسے بعض محدثین نے قبولیت کا مرتبہ دیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”مشرکوں کے چھوٹی عمر میں مرے ہوئے بچے جنتی ہیں جو انہیں جہنمی کہے وہ جھوٹا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» “ [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ { سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ! میں نے جاہلیت کے زمانے میں اپنی بچیوں کو زندہ دبا دیا ہے میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غلام والا تو میں ہوں نہیں، البتہ میرے پاس اونٹ ہیں فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک اونٹ اللہ کے نام پر قربان کرو۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند بزار:2280:حسن] ‏‏‏‏

دوسری روایت میں ہے کہ میں نے اپنی آٹھ لڑکیاں اس طرح زندہ دبا دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر چاہے تو یوں کر۔ ۱؎ [ابن مندہ:3/353:حسن] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { بارہ تیرہ لڑکیاں زندہ دفن کر دی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی گنتی کے مطابق غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا بہت بہتر میں یہی کروں گا، دوسرے سال وہاں ایک سو اونٹ لے کر آئے اور کہنے لگے، اے اللہ کے رسول! یہ میری قوم کا صدقہ ہے جو اس کے بدلے ہے جو میں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ان اونٹوں کو لے جاتے تھے اور ان کا قیسیہ رکھ چھوڑا تھا }۔ ۱؎ [طبرانی:138/18،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہے کہ ’ نامہ اعمال بانٹے جائیں گے کسی کے داہنے ہاتھ میں اور کسی کے بائیں ہاتھ میں، اے ابن آدم! تو لکھوا رہا ہے جو لپیٹ کر پھیلا کر تجھے دیا جائے گا دیکھ لے گا کہ کیا لکھوا کے لایا ہے، آسمان گھسیٹ لیا جائے گا اور کھینچ لیا جائے گا اور سمیٹ لیا جائے گا اور برباد ہو جائے گا جہنم بھڑکائی جائے گی، اللہ کے غضب اور بنی آدم کے گناہوں سے اس کی آگ تیز ہو جائے گی، جنت جنتیوں کے پاس آ جائے گی، جب یہ تمام کام ہو چکیں گے اس وقت ہر شخص جان لے گا کہ اس نے اپنی دنیا کی زندگی میں کیا کچھ اعمال کیے تھے، وہ سب عمل اس کے سامنے موجود ہوں گے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا» ۱؎ [3-آل عمران:30] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ جس دن ہر شخص اپنے کیے ہوئے اعمال کو پا لے گا نیک ہیں تو سامنے دیکھ لے گا اور بد ہیں تو اس دن وہ آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی ‘۔ اور جگہ ہے «يُنَبَّأُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ» ۱؎ [75-القيامة:13] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن انسان کو اس کے تمام اگلے پچھلے اعمال سے تنبیہہ کی جائے گی ‘۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سورت کو سنتے رہے اور اس کو سنتے ہی فرمایا: ”اگلی تمام باتیں اسی لیے بیان ہوئی تھیں۔‏‏‏‏“
3۔ 1 یعنی انہیں زمین سے اکھیڑ کر ہواؤں میں چلا دیا جائے گا اور دھنی ہوئی روئی کی طرح اڑیں گے۔
(آیت 3) {وَ اِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَتْ:} اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو زمین کے اندر گاڑ رکھا ہے اور زمین میں وہ کشش رکھی ہے جو انھیں باندھ کر رکھے ہوئے ہے۔ اللہ کے حکم سے قیامت کے دن وہ کشش ختم ہو جائے گی اور یہ جامد پہاڑ دھنی ہوئی اُون کی طرح ذرّہ ذرّہ ہو کر بادلوں کی طرح چل پڑیں گے، حتیٰ کہ سراب کی طرح ہو جائیں گے، جیساکہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ سُيِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًا» [ النبا: ۲۰ ] ”اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ سراب بن جائیں گے۔“ مزید تفصیل کے لیے سورۂ نبا کی اسی آیت کی تفسیر دیکھیے۔
وَ اِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ ۪ۙ﴿۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جب دس مہینے کی حاملہ اونٹنیاں اپنے حال پر چھوڑ دی جائیں گی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب دس ماه کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جب تھلکی (گابھن) اونٹنیاں چھوٹی پھریں
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب حاملہ اونٹیاں آوارہ پھریں گی۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یعنی سورج بے نور ہو گا ٭٭

یعنی سورج بے نور ہو گا، جاتا رہے گا، اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”سورج، چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بے نور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائے گا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائے گی۔‏‏‏‏“ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏‏‏‏ اور ایک حدیث میں سورج چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے۔ ۱؎ [مسند ابو یعلی:4116:ضعیف] ‏‏‏‏ صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ { سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3200] ‏‏‏‏ امام بخاری رحمہ اللہ اسے «كِتَابِ بِدْءِ الْخَلْقِ» میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے امام صاحب کی عادت ہے۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی کہ قیامت کے دن یہ ہو گا، تو حسن رحمہ اللہ کہنے لگے ان کا کیا گناہ ہے؟ فرمایا ”میں نے حدیث کہی اور تم اس پر باتیں بناتے ہو، سورج کی قیامت والے دن یہ حالت ہو گی ستارے سارے متغیر ہو کر جھڑ جائیں گے جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انْـتَثَرَتْ» ۱؎ [82-الإنفطار:2] ‏‏‏‏ یہ بھی گدلے اور بے نور ہو کر بجھ جائیں گے۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ہوں گی لوگ اپنے بازاروں میں ہوں گے کہ اچانک سورج کی روشنی جاتی رہے گی اور پھر ناگہاں ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگیں گے پھر اچانک پہاڑ زمین پر گر پڑیں گے اور زمین زور زور سے جھٹکے لینے لگے گی اور بے طرح ہلنے لگے گی بس پھر کیا انسان، کیا جنات، کیا جانور اور کیا جنگلی جانور سب آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے، جانور بھی جو انسانوں سے بھاگے پھرتے ہیں انسانوں کے پاس آ جائیں گے لوگوں کو اس قدر بدحواسی اور گھبراہٹ ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال اونٹنیاں جو بیاہنے والیاں ہوں گی ان کی بھی خیر خبر نہ لیں گے۔ جنات کہیں گے کہ ہم جاتے ہیں کہ تحقیق کریں کیا ہو رہا ہے لیکن وہ آئیں گے تو دیکھیں گے کہ سمندروں میں بھی آگ لگ رہی ہے، اسی حال میں ایک دم زمین پھٹنے لگے گی اور آسمان بھی ٹوٹنے لگیں گے، ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمانوں کا یہی حال ہو گا ادھر سے ایک تند ہوا چلے گی جس سے تمام جاندار مر جائیں گے۔ ۱؎ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏

ایک اور روایت میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”سارے ستارے اور جن جن کی اللہ کے سوا عبادت کی گئی ہے سب جہنم میں گرا دیئے جائیں صرف عیسیٰ علیہ السلام اور مریم سلام اللہ علیہا بچ رہیں گے اگر یہ بھی اپنی عبادت سے خوش ہوتے تو یہ بھی جہنم میں داخل کر دئیے جاتے“ }۔ ۱؎ [ابن ابی حاتم:] ‏‏‏‏ پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے اور بے نام و نشان ہو جائیں گے، زمین چٹیل اور ہموار میدان رہ جائے گی، اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی، نہ ان کی کوئی نگرانی کرے گا نہ چرائے چگائے گا، نہ دودھ نکالے گا نہ سواری لے گا۔ «عِشَارُ» جمع ہے «عُشَرَاءُ» کی، جو حاملہ اونٹنی دسویں مہینے میں لگ جائے اسے «عُشَرَاءُ» کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ گھبراہٹ اور بدحواسی بےچینی اور پریشانی اس قدر ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال کی بھی پرواہ نہ رہے گی قیامت کی ان بلاؤں نے دل اڑا دیا ہو گا کلیجے منہ کو آئیں گے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کے دن ہو گا اور لوگوں کو اس سے کچھ سروکار نہ ہو گا ہاں ان کے دیکھنے میں یہ ہو گا، اس قول کے قائل «عِشَارُ» کے کئی معنی بیان کرتے ہیں، ایک تو یہ کہتے ہیں اس سے مراد بادل ہیں جو دنیا کی بربادی کی وجہ سے آسمان و زمین کے درمیان پھرتے پھریں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ زمین ہے جس کا عشر دیا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد گھر ہیں جو پہلے آباد تھے اب ویران ہیں۔ امام قرطبی رحمہ اللہ ان اقوال کو بیان کر کے ترجیح اسی کو دیتے ہیں کہ مراد اس سے اونٹنیاں ہیں اور اکثر مفسرین کا یہی قول ہے اور میں تو یہی کہتا ہوں کہ سلف سے اور ائمہ سے اس کے سوا کچھ وارد ہی نہیں ہوا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اور وحشی جانور جمع کیے جائیں گے، جیسے فرمان ہے «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ» ۱؎ ۱؎ [6-الأنعام:38] ‏‏‏‏ یعنی ’ زمین پر چلنے والے کل جانور اور ہوا میں اڑنے والے کل پرند بھی تمہاری طرح گروہ ہیں، ہم نے اپنی کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی، پھر یہ سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے ‘۔ سب جانداروں کا حشر اسی کے پاس ہو گا یہاں تک کہ مکھیاں بھی، ان سب میں اللہ تعالیٰ انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا، ان جانوروں کا حشر ان کی موت ہی ہے، البتہ جن و انس اللہ کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے اور ان سے حساب کتاب ہو گا۔ ربیع بن خثیم نے کہا مراد وحشیوں کے حشر سے ان پر اللہ کا امر آنا ہے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ سن کر فرمایا کہ ”اس سے مراد موت ہے، یہ تمام جانور بھی ایک دوسرے کے ساتھ اور انسانوں کے ساتھ ہو جائیں گے۔‏‏‏‏“ خود قرآن میں اور جگہ ہے «وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ» ۱؎ [38-ص:19] ‏‏‏‏ یعنی ’ پرند جمع کیے ہوئے ‘، پس ٹھیک مطلب اس آیت کا بھی یہی ہے کہ ’ وحشی جانور جمع کیے جائیں گے ‘۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی سے پوچھا: جہنم کہاں ہے؟ اس نے کہا سمندر میں، آپ نے فرمایا: ”میرے خیال میں یہ سچا ہے قرآن کہتا ہے «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» ۱؎ [52-الطور:6] ‏‏‏‏ اور فرماتا ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» ۱؎ [81-التكوير:6] ‏‏‏‏۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ مغربی ہوائیں بھیجے گا وہ اسے بھڑکا دیں گی اور شعلے مارتی ہوئی آگ بن جائے گا۔‏‏‏‏“ «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» ۱؎ [52-الطور:6] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں اس کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔

سیدنا معاویہ بن سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”بحر روم میں برکت ہے یہ زمین کے درمیان میں ہے، سب نہریں اس میں گرتی ہیں اور بحر کبیر بھی اس میں پڑتا ہے، اس کے نیچے کنویں ہیں جن کے منہ تانبہ سے بند کیے ہوئے ہیں قیام کے دن وہ سلگ اٹھیں گے۔‏‏‏‏“ یہ اثر عجیب ہے اور ساتھ ہی غریب بھی ہے۔ ہاں ابوداؤد میں ایک حدیث ہے کہ { سمندر کا سفر صرف حاجی کریں اور عمرہ کرنے والے یا جہاد کرنے والے غازی اس لیے کہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے پانی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2489،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اس کا بیان بھی سورۃ فاطر کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ «سُجِّرَتْ» کے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ خشک کر دیا جائے گا، ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے گا۔ یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ بہا دیا جائے گا اور ادھر ادھر بہ نکلے گا۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہر قسم کے لوگ یکجا جمع کر دئیے جائیں گے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ» ۱؎ [37-الصافات:22] ‏‏‏‏ یعنی ’ ظالموں کو اور ان کے جوڑوں یعنی ان جیسوں کو جمع کرو ‘۔ حدیث میں ہے { ہر شخص کا اس قوم کے ساتھ حشر کیا جائے گا جو اس جیسے اعمال کرتی ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُنْتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً» * «فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ» * «وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ» * «وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ» ۱؎ [56-الواقعة:10-7] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم تین طرح کے گروہ ہو جاؤ گے کچھ وہ جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال ہوں گے کچھ بائیں ہاتھ والے کچھ سبقت کرنے والے ‘ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36451:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھتے ہوئے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”ہر جماعت اپنے جیسوں میں مل جائیگی۔‏‏‏‏“ دوسری روایت میں ہے کہ ”وہ دو شخص جن کے عمل ایک جیسے ہوں وہ یا تو جنت میں ساتھ رہیں گے یا جہنم میں ساتھ جلیں گے۔‏‏‏‏“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو فرمایا: ”نیک نیکوں کے ساتھ مل جائیں گے اور بد بدوں کے ساتھ آگ میں۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو سب خاموش رہے، آپ نے فرمایا: ”لو میں بتاؤں، آدمی کا جوڑا جنت میں اسی جیسا ہو گا اسی طرح جہنم میں بھی۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”مطلب اس سے یہی ہے کہ تین قسم کے لوگ ہو جائیں گے یعنی «أَصْحَابُ الْمَيْمَنَ» ، «اصحاب الشمال» اور «لسَّابِقُینَ» ۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر قسم کے لوگ ایک ساتھ ہوں گے یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی پسند کرتے ہیں اور یہی ٹھیک بھی ہے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ ”عرش کے پاس سے پانی کا ایک دریا جاری ہو گا جو چالیس سال تک بہتا رہے گا اور بڑی نمایاں چوڑان میں ہو گا، اس سے تمام مرے، سڑے، گلے اگنے لگیں گے اس طرح کے ہو جائیں گے کہ جو انہیں پہچانتا ہو وہ اگر انہیں اب دیکھ لے تو بیک نگاہ پہچان لے پھر روحیں چھوڑی جائیں گی اور ہر روح اپنے جسم میں آ جائے گی یہی معنی ہیں آیت «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» ۱؎ [81-التكوير:7] ‏‏‏‏ کے یعنی ’ روحیں جسموں میں ملا دی جائیں گی ‘۔ اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ’ مومنوں کا جوڑا حوروں سے لگایا جائے گا اور کافروں کا شیطانوں کے ساتھ ‘۔ [ تذکرہ قرطبی ] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہوتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» ۱؎ [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ جمہور کی قراءت یہی ہے اہل جاہلیت لڑکیوں کو ناپسند کرتے تھے اور انہیں زندہ درگور کر دیا کرتے تھے، ان سے قیامت کے دن سوال ہو گا کہ یہ کیوں قتل کی گئیں؟ تاکہ ان کے قاتلوں کو زیادہ ڈانٹ ڈپٹ اور شرمندگی ہو اور یہ بھی سمجھ لیجئے کہ جب مظلوم سے سوال ہوا تو ظالم کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ خود پوچھیں گی کہ انہیں کس بنا پر زندہ درگور کیا گیا؟ اس کے متعلق احادیث سنئے مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں نے قصد کیا کہ لوگوں کو حالت حمل کی مجامعت سے روک دوں لیکن میں نے دیکھا کہ رومی اور فارسی یہ کام کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔‏‏‏‏“ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا یعنی بروقت نطفہ کو باہر ڈال دینے کے بارے میں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ درپردہ زندہ گاڑ دینا ہے اور اسی کا بیان «وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ» [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ میں ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1442:صحیح] ‏‏‏‏ سیدنا سلمہ بن یزید رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی سرکار نبوت میں حاضر ہو کر سوال کرتے ہیں کہ ہماری ماں امیر زادی تھیں وہ صلہ رحمی کرتی تھیں مہمان نوازی کرتی تھیں اور بھی نیک کام بہت کچھ کرتی تھیں، لیکن جاہلیت میں ہی مر گئی ہیں تو کیا اس کے یہ نیک کام اسے کچھ نفع دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا کہ اس نے ہماری ایک بہن کو زندہ دفن کر دیا ہے کیا وہ بھی اسے کچھ نفع دے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زندہ گاڑی ہوئی اور زندہ گاڑنے والی جہنم میں ہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ اسلام کو قبول کرلے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:478/3:صحیح] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں ہے { زندہ دفن کرنے والی اور جسے دفن کیا ہے دونوں جہنم میں ہیں } ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا کے سوال پر کہ جنت میں کون جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبی، شہید، بچے اور زندہ درگور کی ہوئی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:409/5:صحیح] ‏‏‏‏ یہ حدیث مرسل ہے، حسن رحمہ اللہ سے جسے بعض محدثین نے قبولیت کا مرتبہ دیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”مشرکوں کے چھوٹی عمر میں مرے ہوئے بچے جنتی ہیں جو انہیں جہنمی کہے وہ جھوٹا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» “ [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ { سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ! میں نے جاہلیت کے زمانے میں اپنی بچیوں کو زندہ دبا دیا ہے میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غلام والا تو میں ہوں نہیں، البتہ میرے پاس اونٹ ہیں فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک اونٹ اللہ کے نام پر قربان کرو۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند بزار:2280:حسن] ‏‏‏‏

دوسری روایت میں ہے کہ میں نے اپنی آٹھ لڑکیاں اس طرح زندہ دبا دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر چاہے تو یوں کر۔ ۱؎ [ابن مندہ:3/353:حسن] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { بارہ تیرہ لڑکیاں زندہ دفن کر دی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی گنتی کے مطابق غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا بہت بہتر میں یہی کروں گا، دوسرے سال وہاں ایک سو اونٹ لے کر آئے اور کہنے لگے، اے اللہ کے رسول! یہ میری قوم کا صدقہ ہے جو اس کے بدلے ہے جو میں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ان اونٹوں کو لے جاتے تھے اور ان کا قیسیہ رکھ چھوڑا تھا }۔ ۱؎ [طبرانی:138/18،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہے کہ ’ نامہ اعمال بانٹے جائیں گے کسی کے داہنے ہاتھ میں اور کسی کے بائیں ہاتھ میں، اے ابن آدم! تو لکھوا رہا ہے جو لپیٹ کر پھیلا کر تجھے دیا جائے گا دیکھ لے گا کہ کیا لکھوا کے لایا ہے، آسمان گھسیٹ لیا جائے گا اور کھینچ لیا جائے گا اور سمیٹ لیا جائے گا اور برباد ہو جائے گا جہنم بھڑکائی جائے گی، اللہ کے غضب اور بنی آدم کے گناہوں سے اس کی آگ تیز ہو جائے گی، جنت جنتیوں کے پاس آ جائے گی، جب یہ تمام کام ہو چکیں گے اس وقت ہر شخص جان لے گا کہ اس نے اپنی دنیا کی زندگی میں کیا کچھ اعمال کیے تھے، وہ سب عمل اس کے سامنے موجود ہوں گے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا» ۱؎ [3-آل عمران:30] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ جس دن ہر شخص اپنے کیے ہوئے اعمال کو پا لے گا نیک ہیں تو سامنے دیکھ لے گا اور بد ہیں تو اس دن وہ آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی ‘۔ اور جگہ ہے «يُنَبَّأُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ» ۱؎ [75-القيامة:13] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن انسان کو اس کے تمام اگلے پچھلے اعمال سے تنبیہہ کی جائے گی ‘۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سورت کو سنتے رہے اور اس کو سنتے ہی فرمایا: ”اگلی تمام باتیں اسی لیے بیان ہوئی تھیں۔‏‏‏‏“
4۔ 1 جب قیامت برپا ہوگی تو ایسا ہولناک منظر ہوگا کہ اگر کسی کے پاس اس قسم کی حاملہ اور قیمتی اونٹنی بھی ہوگی تو وہ ان کی پرواہ نہیں کرے گا اور چھوڑ دے گا۔
(آیت 4) {وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ:” الْعِشَارُ”عُشَرَاءُ“} کی جمع ہے، دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں جو عربوں کے ہاں نہایت عزیز ہوتی تھیں۔صور پھونکے جانے کی ابتدا میں جو گھبراہٹ پیدا ہوگی اس میں اتنی نفیس اور عزیز چیزوں کو بھی کوئی نہیں سنبھالے گا، ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی۔
وَ اِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ ۪ۙ﴿۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جب جنگلی جانور سمیٹ کر اکٹھے کر دیے جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب وحشی جانور اکھٹے کیے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور جب وحشی جانور جمع کیے جائیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب وحشی جانور اکٹھے کر دئیے جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب جنگلی جانور اکٹھے کیے جائیں گے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یعنی سورج بے نور ہو گا ٭٭

یعنی سورج بے نور ہو گا، جاتا رہے گا، اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”سورج، چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بے نور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائے گا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائے گی۔‏‏‏‏“ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏‏‏‏ اور ایک حدیث میں سورج چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے۔ ۱؎ [مسند ابو یعلی:4116:ضعیف] ‏‏‏‏ صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ { سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3200] ‏‏‏‏ امام بخاری رحمہ اللہ اسے «كِتَابِ بِدْءِ الْخَلْقِ» میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے امام صاحب کی عادت ہے۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی کہ قیامت کے دن یہ ہو گا، تو حسن رحمہ اللہ کہنے لگے ان کا کیا گناہ ہے؟ فرمایا ”میں نے حدیث کہی اور تم اس پر باتیں بناتے ہو، سورج کی قیامت والے دن یہ حالت ہو گی ستارے سارے متغیر ہو کر جھڑ جائیں گے جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انْـتَثَرَتْ» ۱؎ [82-الإنفطار:2] ‏‏‏‏ یہ بھی گدلے اور بے نور ہو کر بجھ جائیں گے۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ہوں گی لوگ اپنے بازاروں میں ہوں گے کہ اچانک سورج کی روشنی جاتی رہے گی اور پھر ناگہاں ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگیں گے پھر اچانک پہاڑ زمین پر گر پڑیں گے اور زمین زور زور سے جھٹکے لینے لگے گی اور بے طرح ہلنے لگے گی بس پھر کیا انسان، کیا جنات، کیا جانور اور کیا جنگلی جانور سب آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے، جانور بھی جو انسانوں سے بھاگے پھرتے ہیں انسانوں کے پاس آ جائیں گے لوگوں کو اس قدر بدحواسی اور گھبراہٹ ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال اونٹنیاں جو بیاہنے والیاں ہوں گی ان کی بھی خیر خبر نہ لیں گے۔ جنات کہیں گے کہ ہم جاتے ہیں کہ تحقیق کریں کیا ہو رہا ہے لیکن وہ آئیں گے تو دیکھیں گے کہ سمندروں میں بھی آگ لگ رہی ہے، اسی حال میں ایک دم زمین پھٹنے لگے گی اور آسمان بھی ٹوٹنے لگیں گے، ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمانوں کا یہی حال ہو گا ادھر سے ایک تند ہوا چلے گی جس سے تمام جاندار مر جائیں گے۔ ۱؎ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏

ایک اور روایت میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”سارے ستارے اور جن جن کی اللہ کے سوا عبادت کی گئی ہے سب جہنم میں گرا دیئے جائیں صرف عیسیٰ علیہ السلام اور مریم سلام اللہ علیہا بچ رہیں گے اگر یہ بھی اپنی عبادت سے خوش ہوتے تو یہ بھی جہنم میں داخل کر دئیے جاتے“ }۔ ۱؎ [ابن ابی حاتم:] ‏‏‏‏ پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے اور بے نام و نشان ہو جائیں گے، زمین چٹیل اور ہموار میدان رہ جائے گی، اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی، نہ ان کی کوئی نگرانی کرے گا نہ چرائے چگائے گا، نہ دودھ نکالے گا نہ سواری لے گا۔ «عِشَارُ» جمع ہے «عُشَرَاءُ» کی، جو حاملہ اونٹنی دسویں مہینے میں لگ جائے اسے «عُشَرَاءُ» کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ گھبراہٹ اور بدحواسی بےچینی اور پریشانی اس قدر ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال کی بھی پرواہ نہ رہے گی قیامت کی ان بلاؤں نے دل اڑا دیا ہو گا کلیجے منہ کو آئیں گے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کے دن ہو گا اور لوگوں کو اس سے کچھ سروکار نہ ہو گا ہاں ان کے دیکھنے میں یہ ہو گا، اس قول کے قائل «عِشَارُ» کے کئی معنی بیان کرتے ہیں، ایک تو یہ کہتے ہیں اس سے مراد بادل ہیں جو دنیا کی بربادی کی وجہ سے آسمان و زمین کے درمیان پھرتے پھریں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ زمین ہے جس کا عشر دیا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد گھر ہیں جو پہلے آباد تھے اب ویران ہیں۔ امام قرطبی رحمہ اللہ ان اقوال کو بیان کر کے ترجیح اسی کو دیتے ہیں کہ مراد اس سے اونٹنیاں ہیں اور اکثر مفسرین کا یہی قول ہے اور میں تو یہی کہتا ہوں کہ سلف سے اور ائمہ سے اس کے سوا کچھ وارد ہی نہیں ہوا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اور وحشی جانور جمع کیے جائیں گے، جیسے فرمان ہے «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ» ۱؎ ۱؎ [6-الأنعام:38] ‏‏‏‏ یعنی ’ زمین پر چلنے والے کل جانور اور ہوا میں اڑنے والے کل پرند بھی تمہاری طرح گروہ ہیں، ہم نے اپنی کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی، پھر یہ سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے ‘۔ سب جانداروں کا حشر اسی کے پاس ہو گا یہاں تک کہ مکھیاں بھی، ان سب میں اللہ تعالیٰ انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا، ان جانوروں کا حشر ان کی موت ہی ہے، البتہ جن و انس اللہ کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے اور ان سے حساب کتاب ہو گا۔ ربیع بن خثیم نے کہا مراد وحشیوں کے حشر سے ان پر اللہ کا امر آنا ہے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ سن کر فرمایا کہ ”اس سے مراد موت ہے، یہ تمام جانور بھی ایک دوسرے کے ساتھ اور انسانوں کے ساتھ ہو جائیں گے۔‏‏‏‏“ خود قرآن میں اور جگہ ہے «وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ» ۱؎ [38-ص:19] ‏‏‏‏ یعنی ’ پرند جمع کیے ہوئے ‘، پس ٹھیک مطلب اس آیت کا بھی یہی ہے کہ ’ وحشی جانور جمع کیے جائیں گے ‘۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی سے پوچھا: جہنم کہاں ہے؟ اس نے کہا سمندر میں، آپ نے فرمایا: ”میرے خیال میں یہ سچا ہے قرآن کہتا ہے «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» ۱؎ [52-الطور:6] ‏‏‏‏ اور فرماتا ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» ۱؎ [81-التكوير:6] ‏‏‏‏۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ مغربی ہوائیں بھیجے گا وہ اسے بھڑکا دیں گی اور شعلے مارتی ہوئی آگ بن جائے گا۔‏‏‏‏“ «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» ۱؎ [52-الطور:6] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں اس کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔

سیدنا معاویہ بن سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”بحر روم میں برکت ہے یہ زمین کے درمیان میں ہے، سب نہریں اس میں گرتی ہیں اور بحر کبیر بھی اس میں پڑتا ہے، اس کے نیچے کنویں ہیں جن کے منہ تانبہ سے بند کیے ہوئے ہیں قیام کے دن وہ سلگ اٹھیں گے۔‏‏‏‏“ یہ اثر عجیب ہے اور ساتھ ہی غریب بھی ہے۔ ہاں ابوداؤد میں ایک حدیث ہے کہ { سمندر کا سفر صرف حاجی کریں اور عمرہ کرنے والے یا جہاد کرنے والے غازی اس لیے کہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے پانی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2489،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اس کا بیان بھی سورۃ فاطر کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ «سُجِّرَتْ» کے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ خشک کر دیا جائے گا، ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے گا۔ یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ بہا دیا جائے گا اور ادھر ادھر بہ نکلے گا۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہر قسم کے لوگ یکجا جمع کر دئیے جائیں گے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ» ۱؎ [37-الصافات:22] ‏‏‏‏ یعنی ’ ظالموں کو اور ان کے جوڑوں یعنی ان جیسوں کو جمع کرو ‘۔ حدیث میں ہے { ہر شخص کا اس قوم کے ساتھ حشر کیا جائے گا جو اس جیسے اعمال کرتی ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُنْتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً» * «فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ» * «وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ» * «وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ» ۱؎ [56-الواقعة:10-7] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم تین طرح کے گروہ ہو جاؤ گے کچھ وہ جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال ہوں گے کچھ بائیں ہاتھ والے کچھ سبقت کرنے والے ‘ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36451:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھتے ہوئے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”ہر جماعت اپنے جیسوں میں مل جائیگی۔‏‏‏‏“ دوسری روایت میں ہے کہ ”وہ دو شخص جن کے عمل ایک جیسے ہوں وہ یا تو جنت میں ساتھ رہیں گے یا جہنم میں ساتھ جلیں گے۔‏‏‏‏“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو فرمایا: ”نیک نیکوں کے ساتھ مل جائیں گے اور بد بدوں کے ساتھ آگ میں۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو سب خاموش رہے، آپ نے فرمایا: ”لو میں بتاؤں، آدمی کا جوڑا جنت میں اسی جیسا ہو گا اسی طرح جہنم میں بھی۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”مطلب اس سے یہی ہے کہ تین قسم کے لوگ ہو جائیں گے یعنی «أَصْحَابُ الْمَيْمَنَ» ، «اصحاب الشمال» اور «لسَّابِقُینَ» ۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر قسم کے لوگ ایک ساتھ ہوں گے یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی پسند کرتے ہیں اور یہی ٹھیک بھی ہے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ ”عرش کے پاس سے پانی کا ایک دریا جاری ہو گا جو چالیس سال تک بہتا رہے گا اور بڑی نمایاں چوڑان میں ہو گا، اس سے تمام مرے، سڑے، گلے اگنے لگیں گے اس طرح کے ہو جائیں گے کہ جو انہیں پہچانتا ہو وہ اگر انہیں اب دیکھ لے تو بیک نگاہ پہچان لے پھر روحیں چھوڑی جائیں گی اور ہر روح اپنے جسم میں آ جائے گی یہی معنی ہیں آیت «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» ۱؎ [81-التكوير:7] ‏‏‏‏ کے یعنی ’ روحیں جسموں میں ملا دی جائیں گی ‘۔ اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ’ مومنوں کا جوڑا حوروں سے لگایا جائے گا اور کافروں کا شیطانوں کے ساتھ ‘۔ [ تذکرہ قرطبی ] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہوتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» ۱؎ [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ جمہور کی قراءت یہی ہے اہل جاہلیت لڑکیوں کو ناپسند کرتے تھے اور انہیں زندہ درگور کر دیا کرتے تھے، ان سے قیامت کے دن سوال ہو گا کہ یہ کیوں قتل کی گئیں؟ تاکہ ان کے قاتلوں کو زیادہ ڈانٹ ڈپٹ اور شرمندگی ہو اور یہ بھی سمجھ لیجئے کہ جب مظلوم سے سوال ہوا تو ظالم کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ خود پوچھیں گی کہ انہیں کس بنا پر زندہ درگور کیا گیا؟ اس کے متعلق احادیث سنئے مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں نے قصد کیا کہ لوگوں کو حالت حمل کی مجامعت سے روک دوں لیکن میں نے دیکھا کہ رومی اور فارسی یہ کام کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔‏‏‏‏“ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا یعنی بروقت نطفہ کو باہر ڈال دینے کے بارے میں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ درپردہ زندہ گاڑ دینا ہے اور اسی کا بیان «وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ» [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ میں ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1442:صحیح] ‏‏‏‏ سیدنا سلمہ بن یزید رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی سرکار نبوت میں حاضر ہو کر سوال کرتے ہیں کہ ہماری ماں امیر زادی تھیں وہ صلہ رحمی کرتی تھیں مہمان نوازی کرتی تھیں اور بھی نیک کام بہت کچھ کرتی تھیں، لیکن جاہلیت میں ہی مر گئی ہیں تو کیا اس کے یہ نیک کام اسے کچھ نفع دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا کہ اس نے ہماری ایک بہن کو زندہ دفن کر دیا ہے کیا وہ بھی اسے کچھ نفع دے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زندہ گاڑی ہوئی اور زندہ گاڑنے والی جہنم میں ہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ اسلام کو قبول کرلے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:478/3:صحیح] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں ہے { زندہ دفن کرنے والی اور جسے دفن کیا ہے دونوں جہنم میں ہیں } ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا کے سوال پر کہ جنت میں کون جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبی، شہید، بچے اور زندہ درگور کی ہوئی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:409/5:صحیح] ‏‏‏‏ یہ حدیث مرسل ہے، حسن رحمہ اللہ سے جسے بعض محدثین نے قبولیت کا مرتبہ دیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”مشرکوں کے چھوٹی عمر میں مرے ہوئے بچے جنتی ہیں جو انہیں جہنمی کہے وہ جھوٹا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» “ [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ { سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ! میں نے جاہلیت کے زمانے میں اپنی بچیوں کو زندہ دبا دیا ہے میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غلام والا تو میں ہوں نہیں، البتہ میرے پاس اونٹ ہیں فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک اونٹ اللہ کے نام پر قربان کرو۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند بزار:2280:حسن] ‏‏‏‏

دوسری روایت میں ہے کہ میں نے اپنی آٹھ لڑکیاں اس طرح زندہ دبا دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر چاہے تو یوں کر۔ ۱؎ [ابن مندہ:3/353:حسن] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { بارہ تیرہ لڑکیاں زندہ دفن کر دی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی گنتی کے مطابق غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا بہت بہتر میں یہی کروں گا، دوسرے سال وہاں ایک سو اونٹ لے کر آئے اور کہنے لگے، اے اللہ کے رسول! یہ میری قوم کا صدقہ ہے جو اس کے بدلے ہے جو میں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ان اونٹوں کو لے جاتے تھے اور ان کا قیسیہ رکھ چھوڑا تھا }۔ ۱؎ [طبرانی:138/18،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہے کہ ’ نامہ اعمال بانٹے جائیں گے کسی کے داہنے ہاتھ میں اور کسی کے بائیں ہاتھ میں، اے ابن آدم! تو لکھوا رہا ہے جو لپیٹ کر پھیلا کر تجھے دیا جائے گا دیکھ لے گا کہ کیا لکھوا کے لایا ہے، آسمان گھسیٹ لیا جائے گا اور کھینچ لیا جائے گا اور سمیٹ لیا جائے گا اور برباد ہو جائے گا جہنم بھڑکائی جائے گی، اللہ کے غضب اور بنی آدم کے گناہوں سے اس کی آگ تیز ہو جائے گی، جنت جنتیوں کے پاس آ جائے گی، جب یہ تمام کام ہو چکیں گے اس وقت ہر شخص جان لے گا کہ اس نے اپنی دنیا کی زندگی میں کیا کچھ اعمال کیے تھے، وہ سب عمل اس کے سامنے موجود ہوں گے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا» ۱؎ [3-آل عمران:30] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ جس دن ہر شخص اپنے کیے ہوئے اعمال کو پا لے گا نیک ہیں تو سامنے دیکھ لے گا اور بد ہیں تو اس دن وہ آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی ‘۔ اور جگہ ہے «يُنَبَّأُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ» ۱؎ [75-القيامة:13] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن انسان کو اس کے تمام اگلے پچھلے اعمال سے تنبیہہ کی جائے گی ‘۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سورت کو سنتے رہے اور اس کو سنتے ہی فرمایا: ”اگلی تمام باتیں اسی لیے بیان ہوئی تھیں۔‏‏‏‏“
5۔ 1 یعنی انہیں بھی قیامت والے دن جمع کیا جائے گا
(آیت 5) {وَ اِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ:} جنگلی جانور جو ایک دوسرے سے بھاگتے ہیں، اس گھبراہٹ میں جمع ہو جائیں گے، کوئی کسی کو کچھ نہ کہے گا۔
وَ اِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ ۪ۙ﴿۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور جب سمندر سلگائے جائیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب سمندر بھڑکا دئیے جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یعنی سورج بے نور ہو گا ٭٭

یعنی سورج بے نور ہو گا، جاتا رہے گا، اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”سورج، چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بے نور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائے گا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائے گی۔‏‏‏‏“ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏‏‏‏ اور ایک حدیث میں سورج چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے۔ ۱؎ [مسند ابو یعلی:4116:ضعیف] ‏‏‏‏ صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ { سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3200] ‏‏‏‏ امام بخاری رحمہ اللہ اسے «كِتَابِ بِدْءِ الْخَلْقِ» میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے امام صاحب کی عادت ہے۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی کہ قیامت کے دن یہ ہو گا، تو حسن رحمہ اللہ کہنے لگے ان کا کیا گناہ ہے؟ فرمایا ”میں نے حدیث کہی اور تم اس پر باتیں بناتے ہو، سورج کی قیامت والے دن یہ حالت ہو گی ستارے سارے متغیر ہو کر جھڑ جائیں گے جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انْـتَثَرَتْ» ۱؎ [82-الإنفطار:2] ‏‏‏‏ یہ بھی گدلے اور بے نور ہو کر بجھ جائیں گے۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ہوں گی لوگ اپنے بازاروں میں ہوں گے کہ اچانک سورج کی روشنی جاتی رہے گی اور پھر ناگہاں ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگیں گے پھر اچانک پہاڑ زمین پر گر پڑیں گے اور زمین زور زور سے جھٹکے لینے لگے گی اور بے طرح ہلنے لگے گی بس پھر کیا انسان، کیا جنات، کیا جانور اور کیا جنگلی جانور سب آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے، جانور بھی جو انسانوں سے بھاگے پھرتے ہیں انسانوں کے پاس آ جائیں گے لوگوں کو اس قدر بدحواسی اور گھبراہٹ ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال اونٹنیاں جو بیاہنے والیاں ہوں گی ان کی بھی خیر خبر نہ لیں گے۔ جنات کہیں گے کہ ہم جاتے ہیں کہ تحقیق کریں کیا ہو رہا ہے لیکن وہ آئیں گے تو دیکھیں گے کہ سمندروں میں بھی آگ لگ رہی ہے، اسی حال میں ایک دم زمین پھٹنے لگے گی اور آسمان بھی ٹوٹنے لگیں گے، ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمانوں کا یہی حال ہو گا ادھر سے ایک تند ہوا چلے گی جس سے تمام جاندار مر جائیں گے۔ ۱؎ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏

ایک اور روایت میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”سارے ستارے اور جن جن کی اللہ کے سوا عبادت کی گئی ہے سب جہنم میں گرا دیئے جائیں صرف عیسیٰ علیہ السلام اور مریم سلام اللہ علیہا بچ رہیں گے اگر یہ بھی اپنی عبادت سے خوش ہوتے تو یہ بھی جہنم میں داخل کر دئیے جاتے“ }۔ ۱؎ [ابن ابی حاتم:] ‏‏‏‏ پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے اور بے نام و نشان ہو جائیں گے، زمین چٹیل اور ہموار میدان رہ جائے گی، اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی، نہ ان کی کوئی نگرانی کرے گا نہ چرائے چگائے گا، نہ دودھ نکالے گا نہ سواری لے گا۔ «عِشَارُ» جمع ہے «عُشَرَاءُ» کی، جو حاملہ اونٹنی دسویں مہینے میں لگ جائے اسے «عُشَرَاءُ» کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ گھبراہٹ اور بدحواسی بےچینی اور پریشانی اس قدر ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال کی بھی پرواہ نہ رہے گی قیامت کی ان بلاؤں نے دل اڑا دیا ہو گا کلیجے منہ کو آئیں گے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کے دن ہو گا اور لوگوں کو اس سے کچھ سروکار نہ ہو گا ہاں ان کے دیکھنے میں یہ ہو گا، اس قول کے قائل «عِشَارُ» کے کئی معنی بیان کرتے ہیں، ایک تو یہ کہتے ہیں اس سے مراد بادل ہیں جو دنیا کی بربادی کی وجہ سے آسمان و زمین کے درمیان پھرتے پھریں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ زمین ہے جس کا عشر دیا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد گھر ہیں جو پہلے آباد تھے اب ویران ہیں۔ امام قرطبی رحمہ اللہ ان اقوال کو بیان کر کے ترجیح اسی کو دیتے ہیں کہ مراد اس سے اونٹنیاں ہیں اور اکثر مفسرین کا یہی قول ہے اور میں تو یہی کہتا ہوں کہ سلف سے اور ائمہ سے اس کے سوا کچھ وارد ہی نہیں ہوا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اور وحشی جانور جمع کیے جائیں گے، جیسے فرمان ہے «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ» ۱؎ ۱؎ [6-الأنعام:38] ‏‏‏‏ یعنی ’ زمین پر چلنے والے کل جانور اور ہوا میں اڑنے والے کل پرند بھی تمہاری طرح گروہ ہیں، ہم نے اپنی کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی، پھر یہ سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے ‘۔ سب جانداروں کا حشر اسی کے پاس ہو گا یہاں تک کہ مکھیاں بھی، ان سب میں اللہ تعالیٰ انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا، ان جانوروں کا حشر ان کی موت ہی ہے، البتہ جن و انس اللہ کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے اور ان سے حساب کتاب ہو گا۔ ربیع بن خثیم نے کہا مراد وحشیوں کے حشر سے ان پر اللہ کا امر آنا ہے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ سن کر فرمایا کہ ”اس سے مراد موت ہے، یہ تمام جانور بھی ایک دوسرے کے ساتھ اور انسانوں کے ساتھ ہو جائیں گے۔‏‏‏‏“ خود قرآن میں اور جگہ ہے «وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ» ۱؎ [38-ص:19] ‏‏‏‏ یعنی ’ پرند جمع کیے ہوئے ‘، پس ٹھیک مطلب اس آیت کا بھی یہی ہے کہ ’ وحشی جانور جمع کیے جائیں گے ‘۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی سے پوچھا: جہنم کہاں ہے؟ اس نے کہا سمندر میں، آپ نے فرمایا: ”میرے خیال میں یہ سچا ہے قرآن کہتا ہے «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» ۱؎ [52-الطور:6] ‏‏‏‏ اور فرماتا ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» ۱؎ [81-التكوير:6] ‏‏‏‏۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ مغربی ہوائیں بھیجے گا وہ اسے بھڑکا دیں گی اور شعلے مارتی ہوئی آگ بن جائے گا۔‏‏‏‏“ «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» ۱؎ [52-الطور:6] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں اس کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔

سیدنا معاویہ بن سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”بحر روم میں برکت ہے یہ زمین کے درمیان میں ہے، سب نہریں اس میں گرتی ہیں اور بحر کبیر بھی اس میں پڑتا ہے، اس کے نیچے کنویں ہیں جن کے منہ تانبہ سے بند کیے ہوئے ہیں قیام کے دن وہ سلگ اٹھیں گے۔‏‏‏‏“ یہ اثر عجیب ہے اور ساتھ ہی غریب بھی ہے۔ ہاں ابوداؤد میں ایک حدیث ہے کہ { سمندر کا سفر صرف حاجی کریں اور عمرہ کرنے والے یا جہاد کرنے والے غازی اس لیے کہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے پانی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2489،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اس کا بیان بھی سورۃ فاطر کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ «سُجِّرَتْ» کے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ خشک کر دیا جائے گا، ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے گا۔ یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ بہا دیا جائے گا اور ادھر ادھر بہ نکلے گا۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہر قسم کے لوگ یکجا جمع کر دئیے جائیں گے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ» ۱؎ [37-الصافات:22] ‏‏‏‏ یعنی ’ ظالموں کو اور ان کے جوڑوں یعنی ان جیسوں کو جمع کرو ‘۔ حدیث میں ہے { ہر شخص کا اس قوم کے ساتھ حشر کیا جائے گا جو اس جیسے اعمال کرتی ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُنْتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً» * «فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ» * «وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ» * «وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ» ۱؎ [56-الواقعة:10-7] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم تین طرح کے گروہ ہو جاؤ گے کچھ وہ جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال ہوں گے کچھ بائیں ہاتھ والے کچھ سبقت کرنے والے ‘ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36451:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھتے ہوئے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”ہر جماعت اپنے جیسوں میں مل جائیگی۔‏‏‏‏“ دوسری روایت میں ہے کہ ”وہ دو شخص جن کے عمل ایک جیسے ہوں وہ یا تو جنت میں ساتھ رہیں گے یا جہنم میں ساتھ جلیں گے۔‏‏‏‏“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو فرمایا: ”نیک نیکوں کے ساتھ مل جائیں گے اور بد بدوں کے ساتھ آگ میں۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو سب خاموش رہے، آپ نے فرمایا: ”لو میں بتاؤں، آدمی کا جوڑا جنت میں اسی جیسا ہو گا اسی طرح جہنم میں بھی۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”مطلب اس سے یہی ہے کہ تین قسم کے لوگ ہو جائیں گے یعنی «أَصْحَابُ الْمَيْمَنَ» ، «اصحاب الشمال» اور «لسَّابِقُینَ» ۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر قسم کے لوگ ایک ساتھ ہوں گے یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی پسند کرتے ہیں اور یہی ٹھیک بھی ہے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ ”عرش کے پاس سے پانی کا ایک دریا جاری ہو گا جو چالیس سال تک بہتا رہے گا اور بڑی نمایاں چوڑان میں ہو گا، اس سے تمام مرے، سڑے، گلے اگنے لگیں گے اس طرح کے ہو جائیں گے کہ جو انہیں پہچانتا ہو وہ اگر انہیں اب دیکھ لے تو بیک نگاہ پہچان لے پھر روحیں چھوڑی جائیں گی اور ہر روح اپنے جسم میں آ جائے گی یہی معنی ہیں آیت «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» ۱؎ [81-التكوير:7] ‏‏‏‏ کے یعنی ’ روحیں جسموں میں ملا دی جائیں گی ‘۔ اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ’ مومنوں کا جوڑا حوروں سے لگایا جائے گا اور کافروں کا شیطانوں کے ساتھ ‘۔ [ تذکرہ قرطبی ] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہوتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» ۱؎ [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ جمہور کی قراءت یہی ہے اہل جاہلیت لڑکیوں کو ناپسند کرتے تھے اور انہیں زندہ درگور کر دیا کرتے تھے، ان سے قیامت کے دن سوال ہو گا کہ یہ کیوں قتل کی گئیں؟ تاکہ ان کے قاتلوں کو زیادہ ڈانٹ ڈپٹ اور شرمندگی ہو اور یہ بھی سمجھ لیجئے کہ جب مظلوم سے سوال ہوا تو ظالم کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ خود پوچھیں گی کہ انہیں کس بنا پر زندہ درگور کیا گیا؟ اس کے متعلق احادیث سنئے مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں نے قصد کیا کہ لوگوں کو حالت حمل کی مجامعت سے روک دوں لیکن میں نے دیکھا کہ رومی اور فارسی یہ کام کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔‏‏‏‏“ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا یعنی بروقت نطفہ کو باہر ڈال دینے کے بارے میں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ درپردہ زندہ گاڑ دینا ہے اور اسی کا بیان «وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ» [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ میں ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1442:صحیح] ‏‏‏‏ سیدنا سلمہ بن یزید رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی سرکار نبوت میں حاضر ہو کر سوال کرتے ہیں کہ ہماری ماں امیر زادی تھیں وہ صلہ رحمی کرتی تھیں مہمان نوازی کرتی تھیں اور بھی نیک کام بہت کچھ کرتی تھیں، لیکن جاہلیت میں ہی مر گئی ہیں تو کیا اس کے یہ نیک کام اسے کچھ نفع دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا کہ اس نے ہماری ایک بہن کو زندہ دفن کر دیا ہے کیا وہ بھی اسے کچھ نفع دے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زندہ گاڑی ہوئی اور زندہ گاڑنے والی جہنم میں ہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ اسلام کو قبول کرلے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:478/3:صحیح] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں ہے { زندہ دفن کرنے والی اور جسے دفن کیا ہے دونوں جہنم میں ہیں } ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا کے سوال پر کہ جنت میں کون جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبی، شہید، بچے اور زندہ درگور کی ہوئی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:409/5:صحیح] ‏‏‏‏ یہ حدیث مرسل ہے، حسن رحمہ اللہ سے جسے بعض محدثین نے قبولیت کا مرتبہ دیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”مشرکوں کے چھوٹی عمر میں مرے ہوئے بچے جنتی ہیں جو انہیں جہنمی کہے وہ جھوٹا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» “ [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ { سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ! میں نے جاہلیت کے زمانے میں اپنی بچیوں کو زندہ دبا دیا ہے میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غلام والا تو میں ہوں نہیں، البتہ میرے پاس اونٹ ہیں فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک اونٹ اللہ کے نام پر قربان کرو۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند بزار:2280:حسن] ‏‏‏‏

دوسری روایت میں ہے کہ میں نے اپنی آٹھ لڑکیاں اس طرح زندہ دبا دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر چاہے تو یوں کر۔ ۱؎ [ابن مندہ:3/353:حسن] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { بارہ تیرہ لڑکیاں زندہ دفن کر دی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی گنتی کے مطابق غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا بہت بہتر میں یہی کروں گا، دوسرے سال وہاں ایک سو اونٹ لے کر آئے اور کہنے لگے، اے اللہ کے رسول! یہ میری قوم کا صدقہ ہے جو اس کے بدلے ہے جو میں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ان اونٹوں کو لے جاتے تھے اور ان کا قیسیہ رکھ چھوڑا تھا }۔ ۱؎ [طبرانی:138/18،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہے کہ ’ نامہ اعمال بانٹے جائیں گے کسی کے داہنے ہاتھ میں اور کسی کے بائیں ہاتھ میں، اے ابن آدم! تو لکھوا رہا ہے جو لپیٹ کر پھیلا کر تجھے دیا جائے گا دیکھ لے گا کہ کیا لکھوا کے لایا ہے، آسمان گھسیٹ لیا جائے گا اور کھینچ لیا جائے گا اور سمیٹ لیا جائے گا اور برباد ہو جائے گا جہنم بھڑکائی جائے گی، اللہ کے غضب اور بنی آدم کے گناہوں سے اس کی آگ تیز ہو جائے گی، جنت جنتیوں کے پاس آ جائے گی، جب یہ تمام کام ہو چکیں گے اس وقت ہر شخص جان لے گا کہ اس نے اپنی دنیا کی زندگی میں کیا کچھ اعمال کیے تھے، وہ سب عمل اس کے سامنے موجود ہوں گے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا» ۱؎ [3-آل عمران:30] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ جس دن ہر شخص اپنے کیے ہوئے اعمال کو پا لے گا نیک ہیں تو سامنے دیکھ لے گا اور بد ہیں تو اس دن وہ آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی ‘۔ اور جگہ ہے «يُنَبَّأُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ» ۱؎ [75-القيامة:13] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن انسان کو اس کے تمام اگلے پچھلے اعمال سے تنبیہہ کی جائے گی ‘۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سورت کو سنتے رہے اور اس کو سنتے ہی فرمایا: ”اگلی تمام باتیں اسی لیے بیان ہوئی تھیں۔‏‏‏‏“
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 6){ وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ: ”سَجَرَ التَّنُّوْرَ“} اس نے تنور جلایا۔ {”سَجَّرَ“} میں مبالغہ ہے، خوب بھڑکایا۔ سمندروں کے بھڑکائے جانے کی ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ زمین کے نیچے جو بے پناہ حرارت اور آگ ہے، جو آتش فشاں پہاڑوں کے بیدار ہونے کی صورت میں کبھی کبھی ظاہر ہوتی رہتی ہے، وہ اللہ کے حکم سے سمندروں کو بھڑکا کر انھیں بھاپ بنا کر اڑا دے گی۔ پھر پہاڑوں کی بلندی اور سمندروں کی گہرائی ختم ہوکر زمین ایک چٹیل میدان بن جائے گی۔ ایک صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ پانی آکسیجن اور ہائیڈروجن دو گیسوں کا مرکب ہے، جن میں سے ایک جلانے والی اور دوسری جلنے والی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ ہی کی عجیب قدرت ہے کہ ان دونوں کو ملا کر آگ بجھانے والا پانی بنا دیا ہے۔ قیامت کے وقت اللہ کے حکم سے ان دونوں کا ملاپ ختم ہو جائے گا اور وہ اپنے اصل کی طرف لوٹ کر بھڑکانے اور بھڑکنے لگیں گی، جس سے سمندروں کا یہ بے حساب پانی چشم زدن میں اڑ جائے گا۔ بہرحال اللہ کا حکم ہو گا تو سمندر آگ سے بھڑکنے لگیں گے۔
وَ اِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ ۪ۙ﴿۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جب جانیں (جسموں سے) جوڑ دی جائیں گی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب جانیں (جسموں سے) ملا دی جائیں گی
احمد رضا خان بریلوی
اور جب جانوں کے جوڑ بنیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب جانیں (جِسموں سے) ملا دی جائیں گی۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب جانیں ملائی جائیں گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یعنی سورج بے نور ہو گا ٭٭

یعنی سورج بے نور ہو گا، جاتا رہے گا، اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”سورج، چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بے نور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائے گا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائے گی۔‏‏‏‏“ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏‏‏‏ اور ایک حدیث میں سورج چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے۔ ۱؎ [مسند ابو یعلی:4116:ضعیف] ‏‏‏‏ صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ { سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3200] ‏‏‏‏ امام بخاری رحمہ اللہ اسے «كِتَابِ بِدْءِ الْخَلْقِ» میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے امام صاحب کی عادت ہے۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی کہ قیامت کے دن یہ ہو گا، تو حسن رحمہ اللہ کہنے لگے ان کا کیا گناہ ہے؟ فرمایا ”میں نے حدیث کہی اور تم اس پر باتیں بناتے ہو، سورج کی قیامت والے دن یہ حالت ہو گی ستارے سارے متغیر ہو کر جھڑ جائیں گے جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انْـتَثَرَتْ» ۱؎ [82-الإنفطار:2] ‏‏‏‏ یہ بھی گدلے اور بے نور ہو کر بجھ جائیں گے۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ہوں گی لوگ اپنے بازاروں میں ہوں گے کہ اچانک سورج کی روشنی جاتی رہے گی اور پھر ناگہاں ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگیں گے پھر اچانک پہاڑ زمین پر گر پڑیں گے اور زمین زور زور سے جھٹکے لینے لگے گی اور بے طرح ہلنے لگے گی بس پھر کیا انسان، کیا جنات، کیا جانور اور کیا جنگلی جانور سب آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے، جانور بھی جو انسانوں سے بھاگے پھرتے ہیں انسانوں کے پاس آ جائیں گے لوگوں کو اس قدر بدحواسی اور گھبراہٹ ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال اونٹنیاں جو بیاہنے والیاں ہوں گی ان کی بھی خیر خبر نہ لیں گے۔ جنات کہیں گے کہ ہم جاتے ہیں کہ تحقیق کریں کیا ہو رہا ہے لیکن وہ آئیں گے تو دیکھیں گے کہ سمندروں میں بھی آگ لگ رہی ہے، اسی حال میں ایک دم زمین پھٹنے لگے گی اور آسمان بھی ٹوٹنے لگیں گے، ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمانوں کا یہی حال ہو گا ادھر سے ایک تند ہوا چلے گی جس سے تمام جاندار مر جائیں گے۔ ۱؎ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏

ایک اور روایت میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”سارے ستارے اور جن جن کی اللہ کے سوا عبادت کی گئی ہے سب جہنم میں گرا دیئے جائیں صرف عیسیٰ علیہ السلام اور مریم سلام اللہ علیہا بچ رہیں گے اگر یہ بھی اپنی عبادت سے خوش ہوتے تو یہ بھی جہنم میں داخل کر دئیے جاتے“ }۔ ۱؎ [ابن ابی حاتم:] ‏‏‏‏ پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے اور بے نام و نشان ہو جائیں گے، زمین چٹیل اور ہموار میدان رہ جائے گی، اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی، نہ ان کی کوئی نگرانی کرے گا نہ چرائے چگائے گا، نہ دودھ نکالے گا نہ سواری لے گا۔ «عِشَارُ» جمع ہے «عُشَرَاءُ» کی، جو حاملہ اونٹنی دسویں مہینے میں لگ جائے اسے «عُشَرَاءُ» کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ گھبراہٹ اور بدحواسی بےچینی اور پریشانی اس قدر ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال کی بھی پرواہ نہ رہے گی قیامت کی ان بلاؤں نے دل اڑا دیا ہو گا کلیجے منہ کو آئیں گے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کے دن ہو گا اور لوگوں کو اس سے کچھ سروکار نہ ہو گا ہاں ان کے دیکھنے میں یہ ہو گا، اس قول کے قائل «عِشَارُ» کے کئی معنی بیان کرتے ہیں، ایک تو یہ کہتے ہیں اس سے مراد بادل ہیں جو دنیا کی بربادی کی وجہ سے آسمان و زمین کے درمیان پھرتے پھریں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ زمین ہے جس کا عشر دیا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد گھر ہیں جو پہلے آباد تھے اب ویران ہیں۔ امام قرطبی رحمہ اللہ ان اقوال کو بیان کر کے ترجیح اسی کو دیتے ہیں کہ مراد اس سے اونٹنیاں ہیں اور اکثر مفسرین کا یہی قول ہے اور میں تو یہی کہتا ہوں کہ سلف سے اور ائمہ سے اس کے سوا کچھ وارد ہی نہیں ہوا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اور وحشی جانور جمع کیے جائیں گے، جیسے فرمان ہے «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ» ۱؎ ۱؎ [6-الأنعام:38] ‏‏‏‏ یعنی ’ زمین پر چلنے والے کل جانور اور ہوا میں اڑنے والے کل پرند بھی تمہاری طرح گروہ ہیں، ہم نے اپنی کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی، پھر یہ سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے ‘۔ سب جانداروں کا حشر اسی کے پاس ہو گا یہاں تک کہ مکھیاں بھی، ان سب میں اللہ تعالیٰ انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا، ان جانوروں کا حشر ان کی موت ہی ہے، البتہ جن و انس اللہ کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے اور ان سے حساب کتاب ہو گا۔ ربیع بن خثیم نے کہا مراد وحشیوں کے حشر سے ان پر اللہ کا امر آنا ہے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ سن کر فرمایا کہ ”اس سے مراد موت ہے، یہ تمام جانور بھی ایک دوسرے کے ساتھ اور انسانوں کے ساتھ ہو جائیں گے۔‏‏‏‏“ خود قرآن میں اور جگہ ہے «وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ» ۱؎ [38-ص:19] ‏‏‏‏ یعنی ’ پرند جمع کیے ہوئے ‘، پس ٹھیک مطلب اس آیت کا بھی یہی ہے کہ ’ وحشی جانور جمع کیے جائیں گے ‘۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی سے پوچھا: جہنم کہاں ہے؟ اس نے کہا سمندر میں، آپ نے فرمایا: ”میرے خیال میں یہ سچا ہے قرآن کہتا ہے «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» ۱؎ [52-الطور:6] ‏‏‏‏ اور فرماتا ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» ۱؎ [81-التكوير:6] ‏‏‏‏۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ مغربی ہوائیں بھیجے گا وہ اسے بھڑکا دیں گی اور شعلے مارتی ہوئی آگ بن جائے گا۔‏‏‏‏“ «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» ۱؎ [52-الطور:6] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں اس کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔

سیدنا معاویہ بن سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”بحر روم میں برکت ہے یہ زمین کے درمیان میں ہے، سب نہریں اس میں گرتی ہیں اور بحر کبیر بھی اس میں پڑتا ہے، اس کے نیچے کنویں ہیں جن کے منہ تانبہ سے بند کیے ہوئے ہیں قیام کے دن وہ سلگ اٹھیں گے۔‏‏‏‏“ یہ اثر عجیب ہے اور ساتھ ہی غریب بھی ہے۔ ہاں ابوداؤد میں ایک حدیث ہے کہ { سمندر کا سفر صرف حاجی کریں اور عمرہ کرنے والے یا جہاد کرنے والے غازی اس لیے کہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے پانی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2489،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اس کا بیان بھی سورۃ فاطر کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ «سُجِّرَتْ» کے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ خشک کر دیا جائے گا، ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے گا۔ یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ بہا دیا جائے گا اور ادھر ادھر بہ نکلے گا۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہر قسم کے لوگ یکجا جمع کر دئیے جائیں گے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ» ۱؎ [37-الصافات:22] ‏‏‏‏ یعنی ’ ظالموں کو اور ان کے جوڑوں یعنی ان جیسوں کو جمع کرو ‘۔ حدیث میں ہے { ہر شخص کا اس قوم کے ساتھ حشر کیا جائے گا جو اس جیسے اعمال کرتی ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُنْتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً» * «فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ» * «وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ» * «وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ» ۱؎ [56-الواقعة:10-7] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم تین طرح کے گروہ ہو جاؤ گے کچھ وہ جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال ہوں گے کچھ بائیں ہاتھ والے کچھ سبقت کرنے والے ‘ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36451:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھتے ہوئے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”ہر جماعت اپنے جیسوں میں مل جائیگی۔‏‏‏‏“ دوسری روایت میں ہے کہ ”وہ دو شخص جن کے عمل ایک جیسے ہوں وہ یا تو جنت میں ساتھ رہیں گے یا جہنم میں ساتھ جلیں گے۔‏‏‏‏“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو فرمایا: ”نیک نیکوں کے ساتھ مل جائیں گے اور بد بدوں کے ساتھ آگ میں۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو سب خاموش رہے، آپ نے فرمایا: ”لو میں بتاؤں، آدمی کا جوڑا جنت میں اسی جیسا ہو گا اسی طرح جہنم میں بھی۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”مطلب اس سے یہی ہے کہ تین قسم کے لوگ ہو جائیں گے یعنی «أَصْحَابُ الْمَيْمَنَ» ، «اصحاب الشمال» اور «لسَّابِقُینَ» ۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر قسم کے لوگ ایک ساتھ ہوں گے یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی پسند کرتے ہیں اور یہی ٹھیک بھی ہے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ ”عرش کے پاس سے پانی کا ایک دریا جاری ہو گا جو چالیس سال تک بہتا رہے گا اور بڑی نمایاں چوڑان میں ہو گا، اس سے تمام مرے، سڑے، گلے اگنے لگیں گے اس طرح کے ہو جائیں گے کہ جو انہیں پہچانتا ہو وہ اگر انہیں اب دیکھ لے تو بیک نگاہ پہچان لے پھر روحیں چھوڑی جائیں گی اور ہر روح اپنے جسم میں آ جائے گی یہی معنی ہیں آیت «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» ۱؎ [81-التكوير:7] ‏‏‏‏ کے یعنی ’ روحیں جسموں میں ملا دی جائیں گی ‘۔ اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ’ مومنوں کا جوڑا حوروں سے لگایا جائے گا اور کافروں کا شیطانوں کے ساتھ ‘۔ [ تذکرہ قرطبی ] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہوتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» ۱؎ [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ جمہور کی قراءت یہی ہے اہل جاہلیت لڑکیوں کو ناپسند کرتے تھے اور انہیں زندہ درگور کر دیا کرتے تھے، ان سے قیامت کے دن سوال ہو گا کہ یہ کیوں قتل کی گئیں؟ تاکہ ان کے قاتلوں کو زیادہ ڈانٹ ڈپٹ اور شرمندگی ہو اور یہ بھی سمجھ لیجئے کہ جب مظلوم سے سوال ہوا تو ظالم کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ خود پوچھیں گی کہ انہیں کس بنا پر زندہ درگور کیا گیا؟ اس کے متعلق احادیث سنئے مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں نے قصد کیا کہ لوگوں کو حالت حمل کی مجامعت سے روک دوں لیکن میں نے دیکھا کہ رومی اور فارسی یہ کام کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔‏‏‏‏“ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا یعنی بروقت نطفہ کو باہر ڈال دینے کے بارے میں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ درپردہ زندہ گاڑ دینا ہے اور اسی کا بیان «وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ» [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ میں ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1442:صحیح] ‏‏‏‏ سیدنا سلمہ بن یزید رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی سرکار نبوت میں حاضر ہو کر سوال کرتے ہیں کہ ہماری ماں امیر زادی تھیں وہ صلہ رحمی کرتی تھیں مہمان نوازی کرتی تھیں اور بھی نیک کام بہت کچھ کرتی تھیں، لیکن جاہلیت میں ہی مر گئی ہیں تو کیا اس کے یہ نیک کام اسے کچھ نفع دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا کہ اس نے ہماری ایک بہن کو زندہ دفن کر دیا ہے کیا وہ بھی اسے کچھ نفع دے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زندہ گاڑی ہوئی اور زندہ گاڑنے والی جہنم میں ہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ اسلام کو قبول کرلے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:478/3:صحیح] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں ہے { زندہ دفن کرنے والی اور جسے دفن کیا ہے دونوں جہنم میں ہیں } ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا کے سوال پر کہ جنت میں کون جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبی، شہید، بچے اور زندہ درگور کی ہوئی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:409/5:صحیح] ‏‏‏‏ یہ حدیث مرسل ہے، حسن رحمہ اللہ سے جسے بعض محدثین نے قبولیت کا مرتبہ دیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”مشرکوں کے چھوٹی عمر میں مرے ہوئے بچے جنتی ہیں جو انہیں جہنمی کہے وہ جھوٹا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» “ [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ { سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ! میں نے جاہلیت کے زمانے میں اپنی بچیوں کو زندہ دبا دیا ہے میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غلام والا تو میں ہوں نہیں، البتہ میرے پاس اونٹ ہیں فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک اونٹ اللہ کے نام پر قربان کرو۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند بزار:2280:حسن] ‏‏‏‏

دوسری روایت میں ہے کہ میں نے اپنی آٹھ لڑکیاں اس طرح زندہ دبا دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر چاہے تو یوں کر۔ ۱؎ [ابن مندہ:3/353:حسن] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { بارہ تیرہ لڑکیاں زندہ دفن کر دی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی گنتی کے مطابق غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا بہت بہتر میں یہی کروں گا، دوسرے سال وہاں ایک سو اونٹ لے کر آئے اور کہنے لگے، اے اللہ کے رسول! یہ میری قوم کا صدقہ ہے جو اس کے بدلے ہے جو میں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ان اونٹوں کو لے جاتے تھے اور ان کا قیسیہ رکھ چھوڑا تھا }۔ ۱؎ [طبرانی:138/18،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہے کہ ’ نامہ اعمال بانٹے جائیں گے کسی کے داہنے ہاتھ میں اور کسی کے بائیں ہاتھ میں، اے ابن آدم! تو لکھوا رہا ہے جو لپیٹ کر پھیلا کر تجھے دیا جائے گا دیکھ لے گا کہ کیا لکھوا کے لایا ہے، آسمان گھسیٹ لیا جائے گا اور کھینچ لیا جائے گا اور سمیٹ لیا جائے گا اور برباد ہو جائے گا جہنم بھڑکائی جائے گی، اللہ کے غضب اور بنی آدم کے گناہوں سے اس کی آگ تیز ہو جائے گی، جنت جنتیوں کے پاس آ جائے گی، جب یہ تمام کام ہو چکیں گے اس وقت ہر شخص جان لے گا کہ اس نے اپنی دنیا کی زندگی میں کیا کچھ اعمال کیے تھے، وہ سب عمل اس کے سامنے موجود ہوں گے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا» ۱؎ [3-آل عمران:30] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ جس دن ہر شخص اپنے کیے ہوئے اعمال کو پا لے گا نیک ہیں تو سامنے دیکھ لے گا اور بد ہیں تو اس دن وہ آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی ‘۔ اور جگہ ہے «يُنَبَّأُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ» ۱؎ [75-القيامة:13] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن انسان کو اس کے تمام اگلے پچھلے اعمال سے تنبیہہ کی جائے گی ‘۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سورت کو سنتے رہے اور اس کو سنتے ہی فرمایا: ”اگلی تمام باتیں اسی لیے بیان ہوئی تھیں۔‏‏‏‏“
7۔ 1 اس کے کئے مفہوم بیان کئے گئے ہیں۔ زیادہ قرین قیاس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان کو اس کے ہم مذہب وہم مشرب کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ مومنوں کو مومنوں کے ساتھ اور بد کو بدوں کے ساتھ یہودی کو یہودیوں کے ساتھ اور عیسائی کو عیسائیوں کے ساتھ۔
(آیت 7){ وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ:} ”اور جب جانیں ملائی جائیں گی“ اس کی دو تفسیریں ہیں، پہلی یہ کہ جانیں جسموں کے ساتھ ملائی جائیں گی۔ یہاں سے دوسرے نفخہ کے بعد کے حالات ہیں، تو سب دوبارہ زندہ ہو جائیں گے۔ دوسری یہ کہ جانوں کی قسمیں بنا دی جائیں گی، نیکوں کو نیکوں کے ساتھ اور گناہ گاروں کو گناہ گاروں کے ساتھ ملا دیا جائے گا، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَ اَزْوَاجَهُمْ وَ مَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ» ‏‏‏‏ [ الصافات: ۲۲ ] ”جمع کرو ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا اور ان کے ہم شکلوں کو اور ان کو جن کی وہ عبادت کیا کرتے تھے۔“ دوسری تفسیر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمائی ہے۔ [ دیکھیے بخاري، التفسیر، باب: «إذا الشمس کورت» ، بعد ح: ۴۹۳۷ ]
وَ اِذَا الۡمَوۡءٗدَۃُ سُئِلَتۡ ۪ۙ﴿۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب زنده گاڑی ہوئی لڑکی سے سوال کیا جائے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور جب زندہ دبائی ہوئی سے پوچھا جائے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب زندہ درگور کی ہوئی (لڑکی) سے پوچھا جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب زندہ دفن کی گئی (لڑکی) سے پوچھا جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یعنی سورج بے نور ہو گا ٭٭

یعنی سورج بے نور ہو گا، جاتا رہے گا، اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”سورج، چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بے نور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائے گا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائے گی۔‏‏‏‏“ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏‏‏‏ اور ایک حدیث میں سورج چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے۔ ۱؎ [مسند ابو یعلی:4116:ضعیف] ‏‏‏‏ صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ { سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3200] ‏‏‏‏ امام بخاری رحمہ اللہ اسے «كِتَابِ بِدْءِ الْخَلْقِ» میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے امام صاحب کی عادت ہے۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی کہ قیامت کے دن یہ ہو گا، تو حسن رحمہ اللہ کہنے لگے ان کا کیا گناہ ہے؟ فرمایا ”میں نے حدیث کہی اور تم اس پر باتیں بناتے ہو، سورج کی قیامت والے دن یہ حالت ہو گی ستارے سارے متغیر ہو کر جھڑ جائیں گے جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انْـتَثَرَتْ» ۱؎ [82-الإنفطار:2] ‏‏‏‏ یہ بھی گدلے اور بے نور ہو کر بجھ جائیں گے۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ہوں گی لوگ اپنے بازاروں میں ہوں گے کہ اچانک سورج کی روشنی جاتی رہے گی اور پھر ناگہاں ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگیں گے پھر اچانک پہاڑ زمین پر گر پڑیں گے اور زمین زور زور سے جھٹکے لینے لگے گی اور بے طرح ہلنے لگے گی بس پھر کیا انسان، کیا جنات، کیا جانور اور کیا جنگلی جانور سب آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے، جانور بھی جو انسانوں سے بھاگے پھرتے ہیں انسانوں کے پاس آ جائیں گے لوگوں کو اس قدر بدحواسی اور گھبراہٹ ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال اونٹنیاں جو بیاہنے والیاں ہوں گی ان کی بھی خیر خبر نہ لیں گے۔ جنات کہیں گے کہ ہم جاتے ہیں کہ تحقیق کریں کیا ہو رہا ہے لیکن وہ آئیں گے تو دیکھیں گے کہ سمندروں میں بھی آگ لگ رہی ہے، اسی حال میں ایک دم زمین پھٹنے لگے گی اور آسمان بھی ٹوٹنے لگیں گے، ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمانوں کا یہی حال ہو گا ادھر سے ایک تند ہوا چلے گی جس سے تمام جاندار مر جائیں گے۔ ۱؎ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏

ایک اور روایت میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”سارے ستارے اور جن جن کی اللہ کے سوا عبادت کی گئی ہے سب جہنم میں گرا دیئے جائیں صرف عیسیٰ علیہ السلام اور مریم سلام اللہ علیہا بچ رہیں گے اگر یہ بھی اپنی عبادت سے خوش ہوتے تو یہ بھی جہنم میں داخل کر دئیے جاتے“ }۔ ۱؎ [ابن ابی حاتم:] ‏‏‏‏ پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے اور بے نام و نشان ہو جائیں گے، زمین چٹیل اور ہموار میدان رہ جائے گی، اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی، نہ ان کی کوئی نگرانی کرے گا نہ چرائے چگائے گا، نہ دودھ نکالے گا نہ سواری لے گا۔ «عِشَارُ» جمع ہے «عُشَرَاءُ» کی، جو حاملہ اونٹنی دسویں مہینے میں لگ جائے اسے «عُشَرَاءُ» کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ گھبراہٹ اور بدحواسی بےچینی اور پریشانی اس قدر ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال کی بھی پرواہ نہ رہے گی قیامت کی ان بلاؤں نے دل اڑا دیا ہو گا کلیجے منہ کو آئیں گے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کے دن ہو گا اور لوگوں کو اس سے کچھ سروکار نہ ہو گا ہاں ان کے دیکھنے میں یہ ہو گا، اس قول کے قائل «عِشَارُ» کے کئی معنی بیان کرتے ہیں، ایک تو یہ کہتے ہیں اس سے مراد بادل ہیں جو دنیا کی بربادی کی وجہ سے آسمان و زمین کے درمیان پھرتے پھریں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ زمین ہے جس کا عشر دیا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد گھر ہیں جو پہلے آباد تھے اب ویران ہیں۔ امام قرطبی رحمہ اللہ ان اقوال کو بیان کر کے ترجیح اسی کو دیتے ہیں کہ مراد اس سے اونٹنیاں ہیں اور اکثر مفسرین کا یہی قول ہے اور میں تو یہی کہتا ہوں کہ سلف سے اور ائمہ سے اس کے سوا کچھ وارد ہی نہیں ہوا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اور وحشی جانور جمع کیے جائیں گے، جیسے فرمان ہے «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ» ۱؎ ۱؎ [6-الأنعام:38] ‏‏‏‏ یعنی ’ زمین پر چلنے والے کل جانور اور ہوا میں اڑنے والے کل پرند بھی تمہاری طرح گروہ ہیں، ہم نے اپنی کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی، پھر یہ سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے ‘۔ سب جانداروں کا حشر اسی کے پاس ہو گا یہاں تک کہ مکھیاں بھی، ان سب میں اللہ تعالیٰ انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا، ان جانوروں کا حشر ان کی موت ہی ہے، البتہ جن و انس اللہ کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے اور ان سے حساب کتاب ہو گا۔ ربیع بن خثیم نے کہا مراد وحشیوں کے حشر سے ان پر اللہ کا امر آنا ہے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ سن کر فرمایا کہ ”اس سے مراد موت ہے، یہ تمام جانور بھی ایک دوسرے کے ساتھ اور انسانوں کے ساتھ ہو جائیں گے۔‏‏‏‏“ خود قرآن میں اور جگہ ہے «وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ» ۱؎ [38-ص:19] ‏‏‏‏ یعنی ’ پرند جمع کیے ہوئے ‘، پس ٹھیک مطلب اس آیت کا بھی یہی ہے کہ ’ وحشی جانور جمع کیے جائیں گے ‘۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی سے پوچھا: جہنم کہاں ہے؟ اس نے کہا سمندر میں، آپ نے فرمایا: ”میرے خیال میں یہ سچا ہے قرآن کہتا ہے «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» ۱؎ [52-الطور:6] ‏‏‏‏ اور فرماتا ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» ۱؎ [81-التكوير:6] ‏‏‏‏۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ مغربی ہوائیں بھیجے گا وہ اسے بھڑکا دیں گی اور شعلے مارتی ہوئی آگ بن جائے گا۔‏‏‏‏“ «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» ۱؎ [52-الطور:6] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں اس کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔

سیدنا معاویہ بن سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”بحر روم میں برکت ہے یہ زمین کے درمیان میں ہے، سب نہریں اس میں گرتی ہیں اور بحر کبیر بھی اس میں پڑتا ہے، اس کے نیچے کنویں ہیں جن کے منہ تانبہ سے بند کیے ہوئے ہیں قیام کے دن وہ سلگ اٹھیں گے۔‏‏‏‏“ یہ اثر عجیب ہے اور ساتھ ہی غریب بھی ہے۔ ہاں ابوداؤد میں ایک حدیث ہے کہ { سمندر کا سفر صرف حاجی کریں اور عمرہ کرنے والے یا جہاد کرنے والے غازی اس لیے کہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے پانی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2489،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اس کا بیان بھی سورۃ فاطر کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ «سُجِّرَتْ» کے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ خشک کر دیا جائے گا، ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے گا۔ یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ بہا دیا جائے گا اور ادھر ادھر بہ نکلے گا۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہر قسم کے لوگ یکجا جمع کر دئیے جائیں گے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ» ۱؎ [37-الصافات:22] ‏‏‏‏ یعنی ’ ظالموں کو اور ان کے جوڑوں یعنی ان جیسوں کو جمع کرو ‘۔ حدیث میں ہے { ہر شخص کا اس قوم کے ساتھ حشر کیا جائے گا جو اس جیسے اعمال کرتی ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُنْتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً» * «فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ» * «وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ» * «وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ» ۱؎ [56-الواقعة:10-7] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم تین طرح کے گروہ ہو جاؤ گے کچھ وہ جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال ہوں گے کچھ بائیں ہاتھ والے کچھ سبقت کرنے والے ‘ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36451:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھتے ہوئے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”ہر جماعت اپنے جیسوں میں مل جائیگی۔‏‏‏‏“ دوسری روایت میں ہے کہ ”وہ دو شخص جن کے عمل ایک جیسے ہوں وہ یا تو جنت میں ساتھ رہیں گے یا جہنم میں ساتھ جلیں گے۔‏‏‏‏“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو فرمایا: ”نیک نیکوں کے ساتھ مل جائیں گے اور بد بدوں کے ساتھ آگ میں۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو سب خاموش رہے، آپ نے فرمایا: ”لو میں بتاؤں، آدمی کا جوڑا جنت میں اسی جیسا ہو گا اسی طرح جہنم میں بھی۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”مطلب اس سے یہی ہے کہ تین قسم کے لوگ ہو جائیں گے یعنی «أَصْحَابُ الْمَيْمَنَ» ، «اصحاب الشمال» اور «لسَّابِقُینَ» ۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر قسم کے لوگ ایک ساتھ ہوں گے یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی پسند کرتے ہیں اور یہی ٹھیک بھی ہے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ ”عرش کے پاس سے پانی کا ایک دریا جاری ہو گا جو چالیس سال تک بہتا رہے گا اور بڑی نمایاں چوڑان میں ہو گا، اس سے تمام مرے، سڑے، گلے اگنے لگیں گے اس طرح کے ہو جائیں گے کہ جو انہیں پہچانتا ہو وہ اگر انہیں اب دیکھ لے تو بیک نگاہ پہچان لے پھر روحیں چھوڑی جائیں گی اور ہر روح اپنے جسم میں آ جائے گی یہی معنی ہیں آیت «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» ۱؎ [81-التكوير:7] ‏‏‏‏ کے یعنی ’ روحیں جسموں میں ملا دی جائیں گی ‘۔ اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ’ مومنوں کا جوڑا حوروں سے لگایا جائے گا اور کافروں کا شیطانوں کے ساتھ ‘۔ [ تذکرہ قرطبی ] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہوتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» ۱؎ [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ جمہور کی قراءت یہی ہے اہل جاہلیت لڑکیوں کو ناپسند کرتے تھے اور انہیں زندہ درگور کر دیا کرتے تھے، ان سے قیامت کے دن سوال ہو گا کہ یہ کیوں قتل کی گئیں؟ تاکہ ان کے قاتلوں کو زیادہ ڈانٹ ڈپٹ اور شرمندگی ہو اور یہ بھی سمجھ لیجئے کہ جب مظلوم سے سوال ہوا تو ظالم کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ خود پوچھیں گی کہ انہیں کس بنا پر زندہ درگور کیا گیا؟ اس کے متعلق احادیث سنئے مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں نے قصد کیا کہ لوگوں کو حالت حمل کی مجامعت سے روک دوں لیکن میں نے دیکھا کہ رومی اور فارسی یہ کام کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔‏‏‏‏“ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا یعنی بروقت نطفہ کو باہر ڈال دینے کے بارے میں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ درپردہ زندہ گاڑ دینا ہے اور اسی کا بیان «وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ» [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ میں ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1442:صحیح] ‏‏‏‏ سیدنا سلمہ بن یزید رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی سرکار نبوت میں حاضر ہو کر سوال کرتے ہیں کہ ہماری ماں امیر زادی تھیں وہ صلہ رحمی کرتی تھیں مہمان نوازی کرتی تھیں اور بھی نیک کام بہت کچھ کرتی تھیں، لیکن جاہلیت میں ہی مر گئی ہیں تو کیا اس کے یہ نیک کام اسے کچھ نفع دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا کہ اس نے ہماری ایک بہن کو زندہ دفن کر دیا ہے کیا وہ بھی اسے کچھ نفع دے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زندہ گاڑی ہوئی اور زندہ گاڑنے والی جہنم میں ہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ اسلام کو قبول کرلے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:478/3:صحیح] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں ہے { زندہ دفن کرنے والی اور جسے دفن کیا ہے دونوں جہنم میں ہیں } ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا کے سوال پر کہ جنت میں کون جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبی، شہید، بچے اور زندہ درگور کی ہوئی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:409/5:صحیح] ‏‏‏‏ یہ حدیث مرسل ہے، حسن رحمہ اللہ سے جسے بعض محدثین نے قبولیت کا مرتبہ دیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”مشرکوں کے چھوٹی عمر میں مرے ہوئے بچے جنتی ہیں جو انہیں جہنمی کہے وہ جھوٹا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» “ [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ { سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ! میں نے جاہلیت کے زمانے میں اپنی بچیوں کو زندہ دبا دیا ہے میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غلام والا تو میں ہوں نہیں، البتہ میرے پاس اونٹ ہیں فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک اونٹ اللہ کے نام پر قربان کرو۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند بزار:2280:حسن] ‏‏‏‏

دوسری روایت میں ہے کہ میں نے اپنی آٹھ لڑکیاں اس طرح زندہ دبا دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر چاہے تو یوں کر۔ ۱؎ [ابن مندہ:3/353:حسن] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { بارہ تیرہ لڑکیاں زندہ دفن کر دی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی گنتی کے مطابق غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا بہت بہتر میں یہی کروں گا، دوسرے سال وہاں ایک سو اونٹ لے کر آئے اور کہنے لگے، اے اللہ کے رسول! یہ میری قوم کا صدقہ ہے جو اس کے بدلے ہے جو میں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ان اونٹوں کو لے جاتے تھے اور ان کا قیسیہ رکھ چھوڑا تھا }۔ ۱؎ [طبرانی:138/18،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہے کہ ’ نامہ اعمال بانٹے جائیں گے کسی کے داہنے ہاتھ میں اور کسی کے بائیں ہاتھ میں، اے ابن آدم! تو لکھوا رہا ہے جو لپیٹ کر پھیلا کر تجھے دیا جائے گا دیکھ لے گا کہ کیا لکھوا کے لایا ہے، آسمان گھسیٹ لیا جائے گا اور کھینچ لیا جائے گا اور سمیٹ لیا جائے گا اور برباد ہو جائے گا جہنم بھڑکائی جائے گی، اللہ کے غضب اور بنی آدم کے گناہوں سے اس کی آگ تیز ہو جائے گی، جنت جنتیوں کے پاس آ جائے گی، جب یہ تمام کام ہو چکیں گے اس وقت ہر شخص جان لے گا کہ اس نے اپنی دنیا کی زندگی میں کیا کچھ اعمال کیے تھے، وہ سب عمل اس کے سامنے موجود ہوں گے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا» ۱؎ [3-آل عمران:30] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ جس دن ہر شخص اپنے کیے ہوئے اعمال کو پا لے گا نیک ہیں تو سامنے دیکھ لے گا اور بد ہیں تو اس دن وہ آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی ‘۔ اور جگہ ہے «يُنَبَّأُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ» ۱؎ [75-القيامة:13] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن انسان کو اس کے تمام اگلے پچھلے اعمال سے تنبیہہ کی جائے گی ‘۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سورت کو سنتے رہے اور اس کو سنتے ہی فرمایا: ”اگلی تمام باتیں اسی لیے بیان ہوئی تھیں۔‏‏‏‏“
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 9،8){ وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ …: ” الْمَوْءٗدَةُ “} وہ لڑکی جسے زندہ دفن کر دیا گیا ہو۔ جاہلیت میں بعض عرب عار سے بچنے کے لیے لڑکیاں زندہ دفن کر دیتے تھے کہ دشمن کے ہاتھ نہ لگ جائیں یا کوئی ان کا داماد نہ بنے۔ بعض فقر کی وجہ سے ایسا کرتے تھے اور بعض تو فقر کی وجہ سے لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کو قتل کر دیتے تھے۔ ہندوستان کے راجپوتوں اور بعض دوسری قوموں میں بھی یہ رواج رہا ہے، آج کل برتھ کنٹرول کے نام سے حکومتیں منظم طریقے سے یہ کام کر رہی ہیں۔ چین میں شہروں میں ایک بچے اور دیہاتوں میں صرف دو بچوں کی اجازت ہے۔ چونکہ اکثر لوگوں کو لڑکے مرغوب ہوتے ہیں، اس لیے لڑکی پیدا ہونے کی صورت میں کئی مائیں دودھ ہی نہیں پلاتیں اور اس طرح قتل کا ارتکاب کرتی ہیں۔ مسلمان ملکوں کے بعض حکمران بھی کفار کی ترغیب سے رزق کے وسائل کی کمی (املاق) کا بہانہ بنا کر تحدید نسل بلکہ مسلمانوں کی نسل کشی کی پوری کوشش کر رہے ہیں اور اس کے لیے ایسے طریقے پھیلا رہے ہیں جن سے بچہ پیدا ہونے کا امکان ہی ختم ہو جاتا ہے۔ مثلاً جرثومے اور بیضے کی رگ ہی کاٹ دینا اور دوسرے ناقابل بیان طریقے اور یہ کام اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لوگ کر رہے ہیں جس نے عزل (جماع کرتے ہوئے انزال کے وقت بیوی سے علیحدہ ہو جانے) کو بھی ناپسند فرمایا، حالانکہ عزل کی صورت میں حمل کا امکان رہتا ہے، کیونکہ منی کے جرثومے انزال سے پہلے بھی مذی کے ذریعے سے رحم میں داخل ہو سکتے ہیں اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حقیقت کا اظہار فرمایا کہ عزل کرو یا نہ کرو، جو بچہ پیدا ہونا ہے ہو کر رہے گا۔ اس کے باوجود ایک مرتبہ جب لوگوں نے آپ سے عزل کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ ذٰلِکَ الْوَأْدُ الْخَفِيُّ وَھِيَ: «وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» ‏‏‏‏ [التکویر: ۸] ] [مسلم، النکاح، باب جواز الغیلۃ…: ۱۴۱ /۱۴۴۲ ] ”یہ پوشیدہ طریقے کا زندہ دفن کرنا ہے اور یہ فعل اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وعید کے تحت آتا ہے کہ جب زندہ دفن کی ہوئی لڑکی سے سوال کیا جائے گا۔“ مقصد یہ ہے کہ عزل میں امکان حمل کے باوجود اس کے تسلسل کا نتیجہ نسل انسانی کی ہلاکت ہے۔ اس حدیث سے منع حمل کے دوسرے ظالمانہ طریقوں کی وعید خود بخود سمجھ میں آرہی ہے۔
بِاَیِّ ذَنۡۢبٍ قُتِلَتۡ ۚ﴿۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کہ وہ کس قصور میں ماری گئی؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کہ کس گناه کی وجہ سے وه قتل کی گئی؟
احمد رضا خان بریلوی
کس خطا پر ماری گئی
علامہ محمد حسین نجفی
کہ وہ کس گناہ پر قتل کی گئی؟
عبدالسلام بن محمد
کہ وہ کس گناہ کے بدلے قتل کی گئی؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یعنی سورج بے نور ہو گا ٭٭

یعنی سورج بے نور ہو گا، جاتا رہے گا، اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”سورج، چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بے نور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائے گا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائے گی۔‏‏‏‏“ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏‏‏‏ اور ایک حدیث میں سورج چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے۔ ۱؎ [مسند ابو یعلی:4116:ضعیف] ‏‏‏‏ صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ { سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3200] ‏‏‏‏ امام بخاری رحمہ اللہ اسے «كِتَابِ بِدْءِ الْخَلْقِ» میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے امام صاحب کی عادت ہے۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی کہ قیامت کے دن یہ ہو گا، تو حسن رحمہ اللہ کہنے لگے ان کا کیا گناہ ہے؟ فرمایا ”میں نے حدیث کہی اور تم اس پر باتیں بناتے ہو، سورج کی قیامت والے دن یہ حالت ہو گی ستارے سارے متغیر ہو کر جھڑ جائیں گے جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انْـتَثَرَتْ» ۱؎ [82-الإنفطار:2] ‏‏‏‏ یہ بھی گدلے اور بے نور ہو کر بجھ جائیں گے۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ہوں گی لوگ اپنے بازاروں میں ہوں گے کہ اچانک سورج کی روشنی جاتی رہے گی اور پھر ناگہاں ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگیں گے پھر اچانک پہاڑ زمین پر گر پڑیں گے اور زمین زور زور سے جھٹکے لینے لگے گی اور بے طرح ہلنے لگے گی بس پھر کیا انسان، کیا جنات، کیا جانور اور کیا جنگلی جانور سب آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے، جانور بھی جو انسانوں سے بھاگے پھرتے ہیں انسانوں کے پاس آ جائیں گے لوگوں کو اس قدر بدحواسی اور گھبراہٹ ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال اونٹنیاں جو بیاہنے والیاں ہوں گی ان کی بھی خیر خبر نہ لیں گے۔ جنات کہیں گے کہ ہم جاتے ہیں کہ تحقیق کریں کیا ہو رہا ہے لیکن وہ آئیں گے تو دیکھیں گے کہ سمندروں میں بھی آگ لگ رہی ہے، اسی حال میں ایک دم زمین پھٹنے لگے گی اور آسمان بھی ٹوٹنے لگیں گے، ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمانوں کا یہی حال ہو گا ادھر سے ایک تند ہوا چلے گی جس سے تمام جاندار مر جائیں گے۔ ۱؎ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏

ایک اور روایت میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”سارے ستارے اور جن جن کی اللہ کے سوا عبادت کی گئی ہے سب جہنم میں گرا دیئے جائیں صرف عیسیٰ علیہ السلام اور مریم سلام اللہ علیہا بچ رہیں گے اگر یہ بھی اپنی عبادت سے خوش ہوتے تو یہ بھی جہنم میں داخل کر دئیے جاتے“ }۔ ۱؎ [ابن ابی حاتم:] ‏‏‏‏ پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے اور بے نام و نشان ہو جائیں گے، زمین چٹیل اور ہموار میدان رہ جائے گی، اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی، نہ ان کی کوئی نگرانی کرے گا نہ چرائے چگائے گا، نہ دودھ نکالے گا نہ سواری لے گا۔ «عِشَارُ» جمع ہے «عُشَرَاءُ» کی، جو حاملہ اونٹنی دسویں مہینے میں لگ جائے اسے «عُشَرَاءُ» کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ گھبراہٹ اور بدحواسی بےچینی اور پریشانی اس قدر ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال کی بھی پرواہ نہ رہے گی قیامت کی ان بلاؤں نے دل اڑا دیا ہو گا کلیجے منہ کو آئیں گے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کے دن ہو گا اور لوگوں کو اس سے کچھ سروکار نہ ہو گا ہاں ان کے دیکھنے میں یہ ہو گا، اس قول کے قائل «عِشَارُ» کے کئی معنی بیان کرتے ہیں، ایک تو یہ کہتے ہیں اس سے مراد بادل ہیں جو دنیا کی بربادی کی وجہ سے آسمان و زمین کے درمیان پھرتے پھریں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ زمین ہے جس کا عشر دیا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد گھر ہیں جو پہلے آباد تھے اب ویران ہیں۔ امام قرطبی رحمہ اللہ ان اقوال کو بیان کر کے ترجیح اسی کو دیتے ہیں کہ مراد اس سے اونٹنیاں ہیں اور اکثر مفسرین کا یہی قول ہے اور میں تو یہی کہتا ہوں کہ سلف سے اور ائمہ سے اس کے سوا کچھ وارد ہی نہیں ہوا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اور وحشی جانور جمع کیے جائیں گے، جیسے فرمان ہے «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ» ۱؎ ۱؎ [6-الأنعام:38] ‏‏‏‏ یعنی ’ زمین پر چلنے والے کل جانور اور ہوا میں اڑنے والے کل پرند بھی تمہاری طرح گروہ ہیں، ہم نے اپنی کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی، پھر یہ سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے ‘۔ سب جانداروں کا حشر اسی کے پاس ہو گا یہاں تک کہ مکھیاں بھی، ان سب میں اللہ تعالیٰ انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا، ان جانوروں کا حشر ان کی موت ہی ہے، البتہ جن و انس اللہ کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے اور ان سے حساب کتاب ہو گا۔ ربیع بن خثیم نے کہا مراد وحشیوں کے حشر سے ان پر اللہ کا امر آنا ہے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ سن کر فرمایا کہ ”اس سے مراد موت ہے، یہ تمام جانور بھی ایک دوسرے کے ساتھ اور انسانوں کے ساتھ ہو جائیں گے۔‏‏‏‏“ خود قرآن میں اور جگہ ہے «وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ» ۱؎ [38-ص:19] ‏‏‏‏ یعنی ’ پرند جمع کیے ہوئے ‘، پس ٹھیک مطلب اس آیت کا بھی یہی ہے کہ ’ وحشی جانور جمع کیے جائیں گے ‘۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی سے پوچھا: جہنم کہاں ہے؟ اس نے کہا سمندر میں، آپ نے فرمایا: ”میرے خیال میں یہ سچا ہے قرآن کہتا ہے «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» ۱؎ [52-الطور:6] ‏‏‏‏ اور فرماتا ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» ۱؎ [81-التكوير:6] ‏‏‏‏۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ مغربی ہوائیں بھیجے گا وہ اسے بھڑکا دیں گی اور شعلے مارتی ہوئی آگ بن جائے گا۔‏‏‏‏“ «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» ۱؎ [52-الطور:6] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں اس کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔

سیدنا معاویہ بن سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”بحر روم میں برکت ہے یہ زمین کے درمیان میں ہے، سب نہریں اس میں گرتی ہیں اور بحر کبیر بھی اس میں پڑتا ہے، اس کے نیچے کنویں ہیں جن کے منہ تانبہ سے بند کیے ہوئے ہیں قیام کے دن وہ سلگ اٹھیں گے۔‏‏‏‏“ یہ اثر عجیب ہے اور ساتھ ہی غریب بھی ہے۔ ہاں ابوداؤد میں ایک حدیث ہے کہ { سمندر کا سفر صرف حاجی کریں اور عمرہ کرنے والے یا جہاد کرنے والے غازی اس لیے کہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے پانی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2489،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اس کا بیان بھی سورۃ فاطر کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ «سُجِّرَتْ» کے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ خشک کر دیا جائے گا، ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے گا۔ یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ بہا دیا جائے گا اور ادھر ادھر بہ نکلے گا۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہر قسم کے لوگ یکجا جمع کر دئیے جائیں گے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ» ۱؎ [37-الصافات:22] ‏‏‏‏ یعنی ’ ظالموں کو اور ان کے جوڑوں یعنی ان جیسوں کو جمع کرو ‘۔ حدیث میں ہے { ہر شخص کا اس قوم کے ساتھ حشر کیا جائے گا جو اس جیسے اعمال کرتی ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُنْتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً» * «فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ» * «وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ» * «وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ» ۱؎ [56-الواقعة:10-7] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم تین طرح کے گروہ ہو جاؤ گے کچھ وہ جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال ہوں گے کچھ بائیں ہاتھ والے کچھ سبقت کرنے والے ‘ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36451:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھتے ہوئے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”ہر جماعت اپنے جیسوں میں مل جائیگی۔‏‏‏‏“ دوسری روایت میں ہے کہ ”وہ دو شخص جن کے عمل ایک جیسے ہوں وہ یا تو جنت میں ساتھ رہیں گے یا جہنم میں ساتھ جلیں گے۔‏‏‏‏“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو فرمایا: ”نیک نیکوں کے ساتھ مل جائیں گے اور بد بدوں کے ساتھ آگ میں۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو سب خاموش رہے، آپ نے فرمایا: ”لو میں بتاؤں، آدمی کا جوڑا جنت میں اسی جیسا ہو گا اسی طرح جہنم میں بھی۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”مطلب اس سے یہی ہے کہ تین قسم کے لوگ ہو جائیں گے یعنی «أَصْحَابُ الْمَيْمَنَ» ، «اصحاب الشمال» اور «لسَّابِقُینَ» ۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر قسم کے لوگ ایک ساتھ ہوں گے یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی پسند کرتے ہیں اور یہی ٹھیک بھی ہے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ ”عرش کے پاس سے پانی کا ایک دریا جاری ہو گا جو چالیس سال تک بہتا رہے گا اور بڑی نمایاں چوڑان میں ہو گا، اس سے تمام مرے، سڑے، گلے اگنے لگیں گے اس طرح کے ہو جائیں گے کہ جو انہیں پہچانتا ہو وہ اگر انہیں اب دیکھ لے تو بیک نگاہ پہچان لے پھر روحیں چھوڑی جائیں گی اور ہر روح اپنے جسم میں آ جائے گی یہی معنی ہیں آیت «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» ۱؎ [81-التكوير:7] ‏‏‏‏ کے یعنی ’ روحیں جسموں میں ملا دی جائیں گی ‘۔ اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ’ مومنوں کا جوڑا حوروں سے لگایا جائے گا اور کافروں کا شیطانوں کے ساتھ ‘۔ [ تذکرہ قرطبی ] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہوتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» ۱؎ [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ جمہور کی قراءت یہی ہے اہل جاہلیت لڑکیوں کو ناپسند کرتے تھے اور انہیں زندہ درگور کر دیا کرتے تھے، ان سے قیامت کے دن سوال ہو گا کہ یہ کیوں قتل کی گئیں؟ تاکہ ان کے قاتلوں کو زیادہ ڈانٹ ڈپٹ اور شرمندگی ہو اور یہ بھی سمجھ لیجئے کہ جب مظلوم سے سوال ہوا تو ظالم کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ خود پوچھیں گی کہ انہیں کس بنا پر زندہ درگور کیا گیا؟ اس کے متعلق احادیث سنئے مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں نے قصد کیا کہ لوگوں کو حالت حمل کی مجامعت سے روک دوں لیکن میں نے دیکھا کہ رومی اور فارسی یہ کام کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔‏‏‏‏“ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا یعنی بروقت نطفہ کو باہر ڈال دینے کے بارے میں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ درپردہ زندہ گاڑ دینا ہے اور اسی کا بیان «وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ» [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ میں ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1442:صحیح] ‏‏‏‏ سیدنا سلمہ بن یزید رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی سرکار نبوت میں حاضر ہو کر سوال کرتے ہیں کہ ہماری ماں امیر زادی تھیں وہ صلہ رحمی کرتی تھیں مہمان نوازی کرتی تھیں اور بھی نیک کام بہت کچھ کرتی تھیں، لیکن جاہلیت میں ہی مر گئی ہیں تو کیا اس کے یہ نیک کام اسے کچھ نفع دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا کہ اس نے ہماری ایک بہن کو زندہ دفن کر دیا ہے کیا وہ بھی اسے کچھ نفع دے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زندہ گاڑی ہوئی اور زندہ گاڑنے والی جہنم میں ہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ اسلام کو قبول کرلے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:478/3:صحیح] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں ہے { زندہ دفن کرنے والی اور جسے دفن کیا ہے دونوں جہنم میں ہیں } ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا کے سوال پر کہ جنت میں کون جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبی، شہید، بچے اور زندہ درگور کی ہوئی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:409/5:صحیح] ‏‏‏‏ یہ حدیث مرسل ہے، حسن رحمہ اللہ سے جسے بعض محدثین نے قبولیت کا مرتبہ دیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”مشرکوں کے چھوٹی عمر میں مرے ہوئے بچے جنتی ہیں جو انہیں جہنمی کہے وہ جھوٹا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» “ [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ { سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ! میں نے جاہلیت کے زمانے میں اپنی بچیوں کو زندہ دبا دیا ہے میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غلام والا تو میں ہوں نہیں، البتہ میرے پاس اونٹ ہیں فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک اونٹ اللہ کے نام پر قربان کرو۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند بزار:2280:حسن] ‏‏‏‏

دوسری روایت میں ہے کہ میں نے اپنی آٹھ لڑکیاں اس طرح زندہ دبا دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر چاہے تو یوں کر۔ ۱؎ [ابن مندہ:3/353:حسن] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { بارہ تیرہ لڑکیاں زندہ دفن کر دی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی گنتی کے مطابق غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا بہت بہتر میں یہی کروں گا، دوسرے سال وہاں ایک سو اونٹ لے کر آئے اور کہنے لگے، اے اللہ کے رسول! یہ میری قوم کا صدقہ ہے جو اس کے بدلے ہے جو میں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ان اونٹوں کو لے جاتے تھے اور ان کا قیسیہ رکھ چھوڑا تھا }۔ ۱؎ [طبرانی:138/18،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہے کہ ’ نامہ اعمال بانٹے جائیں گے کسی کے داہنے ہاتھ میں اور کسی کے بائیں ہاتھ میں، اے ابن آدم! تو لکھوا رہا ہے جو لپیٹ کر پھیلا کر تجھے دیا جائے گا دیکھ لے گا کہ کیا لکھوا کے لایا ہے، آسمان گھسیٹ لیا جائے گا اور کھینچ لیا جائے گا اور سمیٹ لیا جائے گا اور برباد ہو جائے گا جہنم بھڑکائی جائے گی، اللہ کے غضب اور بنی آدم کے گناہوں سے اس کی آگ تیز ہو جائے گی، جنت جنتیوں کے پاس آ جائے گی، جب یہ تمام کام ہو چکیں گے اس وقت ہر شخص جان لے گا کہ اس نے اپنی دنیا کی زندگی میں کیا کچھ اعمال کیے تھے، وہ سب عمل اس کے سامنے موجود ہوں گے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا» ۱؎ [3-آل عمران:30] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ جس دن ہر شخص اپنے کیے ہوئے اعمال کو پا لے گا نیک ہیں تو سامنے دیکھ لے گا اور بد ہیں تو اس دن وہ آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی ‘۔ اور جگہ ہے «يُنَبَّأُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ» ۱؎ [75-القيامة:13] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن انسان کو اس کے تمام اگلے پچھلے اعمال سے تنبیہہ کی جائے گی ‘۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سورت کو سنتے رہے اور اس کو سنتے ہی فرمایا: ”اگلی تمام باتیں اسی لیے بیان ہوئی تھیں۔‏‏‏‏“
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتۡ ﴿۪ۙ۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جب اعمال نامے کھولے جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب نامہٴ اعمال کھول دیئے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور جب نامہٴ اعمال کھولے جائیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب اعمال نامے کھولے جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب اعمال نامے پھیلائے جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یعنی سورج بے نور ہو گا ٭٭

یعنی سورج بے نور ہو گا، جاتا رہے گا، اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”سورج، چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بے نور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائے گا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائے گی۔‏‏‏‏“ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏‏‏‏ اور ایک حدیث میں سورج چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے۔ ۱؎ [مسند ابو یعلی:4116:ضعیف] ‏‏‏‏ صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ { سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3200] ‏‏‏‏ امام بخاری رحمہ اللہ اسے «كِتَابِ بِدْءِ الْخَلْقِ» میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے امام صاحب کی عادت ہے۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی کہ قیامت کے دن یہ ہو گا، تو حسن رحمہ اللہ کہنے لگے ان کا کیا گناہ ہے؟ فرمایا ”میں نے حدیث کہی اور تم اس پر باتیں بناتے ہو، سورج کی قیامت والے دن یہ حالت ہو گی ستارے سارے متغیر ہو کر جھڑ جائیں گے جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انْـتَثَرَتْ» ۱؎ [82-الإنفطار:2] ‏‏‏‏ یہ بھی گدلے اور بے نور ہو کر بجھ جائیں گے۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ہوں گی لوگ اپنے بازاروں میں ہوں گے کہ اچانک سورج کی روشنی جاتی رہے گی اور پھر ناگہاں ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگیں گے پھر اچانک پہاڑ زمین پر گر پڑیں گے اور زمین زور زور سے جھٹکے لینے لگے گی اور بے طرح ہلنے لگے گی بس پھر کیا انسان، کیا جنات، کیا جانور اور کیا جنگلی جانور سب آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے، جانور بھی جو انسانوں سے بھاگے پھرتے ہیں انسانوں کے پاس آ جائیں گے لوگوں کو اس قدر بدحواسی اور گھبراہٹ ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال اونٹنیاں جو بیاہنے والیاں ہوں گی ان کی بھی خیر خبر نہ لیں گے۔ جنات کہیں گے کہ ہم جاتے ہیں کہ تحقیق کریں کیا ہو رہا ہے لیکن وہ آئیں گے تو دیکھیں گے کہ سمندروں میں بھی آگ لگ رہی ہے، اسی حال میں ایک دم زمین پھٹنے لگے گی اور آسمان بھی ٹوٹنے لگیں گے، ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمانوں کا یہی حال ہو گا ادھر سے ایک تند ہوا چلے گی جس سے تمام جاندار مر جائیں گے۔ ۱؎ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏

ایک اور روایت میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”سارے ستارے اور جن جن کی اللہ کے سوا عبادت کی گئی ہے سب جہنم میں گرا دیئے جائیں صرف عیسیٰ علیہ السلام اور مریم سلام اللہ علیہا بچ رہیں گے اگر یہ بھی اپنی عبادت سے خوش ہوتے تو یہ بھی جہنم میں داخل کر دئیے جاتے“ }۔ ۱؎ [ابن ابی حاتم:] ‏‏‏‏ پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے اور بے نام و نشان ہو جائیں گے، زمین چٹیل اور ہموار میدان رہ جائے گی، اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی، نہ ان کی کوئی نگرانی کرے گا نہ چرائے چگائے گا، نہ دودھ نکالے گا نہ سواری لے گا۔ «عِشَارُ» جمع ہے «عُشَرَاءُ» کی، جو حاملہ اونٹنی دسویں مہینے میں لگ جائے اسے «عُشَرَاءُ» کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ گھبراہٹ اور بدحواسی بےچینی اور پریشانی اس قدر ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال کی بھی پرواہ نہ رہے گی قیامت کی ان بلاؤں نے دل اڑا دیا ہو گا کلیجے منہ کو آئیں گے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کے دن ہو گا اور لوگوں کو اس سے کچھ سروکار نہ ہو گا ہاں ان کے دیکھنے میں یہ ہو گا، اس قول کے قائل «عِشَارُ» کے کئی معنی بیان کرتے ہیں، ایک تو یہ کہتے ہیں اس سے مراد بادل ہیں جو دنیا کی بربادی کی وجہ سے آسمان و زمین کے درمیان پھرتے پھریں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ زمین ہے جس کا عشر دیا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد گھر ہیں جو پہلے آباد تھے اب ویران ہیں۔ امام قرطبی رحمہ اللہ ان اقوال کو بیان کر کے ترجیح اسی کو دیتے ہیں کہ مراد اس سے اونٹنیاں ہیں اور اکثر مفسرین کا یہی قول ہے اور میں تو یہی کہتا ہوں کہ سلف سے اور ائمہ سے اس کے سوا کچھ وارد ہی نہیں ہوا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اور وحشی جانور جمع کیے جائیں گے، جیسے فرمان ہے «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ» ۱؎ ۱؎ [6-الأنعام:38] ‏‏‏‏ یعنی ’ زمین پر چلنے والے کل جانور اور ہوا میں اڑنے والے کل پرند بھی تمہاری طرح گروہ ہیں، ہم نے اپنی کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی، پھر یہ سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے ‘۔ سب جانداروں کا حشر اسی کے پاس ہو گا یہاں تک کہ مکھیاں بھی، ان سب میں اللہ تعالیٰ انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا، ان جانوروں کا حشر ان کی موت ہی ہے، البتہ جن و انس اللہ کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے اور ان سے حساب کتاب ہو گا۔ ربیع بن خثیم نے کہا مراد وحشیوں کے حشر سے ان پر اللہ کا امر آنا ہے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ سن کر فرمایا کہ ”اس سے مراد موت ہے، یہ تمام جانور بھی ایک دوسرے کے ساتھ اور انسانوں کے ساتھ ہو جائیں گے۔‏‏‏‏“ خود قرآن میں اور جگہ ہے «وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ» ۱؎ [38-ص:19] ‏‏‏‏ یعنی ’ پرند جمع کیے ہوئے ‘، پس ٹھیک مطلب اس آیت کا بھی یہی ہے کہ ’ وحشی جانور جمع کیے جائیں گے ‘۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی سے پوچھا: جہنم کہاں ہے؟ اس نے کہا سمندر میں، آپ نے فرمایا: ”میرے خیال میں یہ سچا ہے قرآن کہتا ہے «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» ۱؎ [52-الطور:6] ‏‏‏‏ اور فرماتا ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» ۱؎ [81-التكوير:6] ‏‏‏‏۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ مغربی ہوائیں بھیجے گا وہ اسے بھڑکا دیں گی اور شعلے مارتی ہوئی آگ بن جائے گا۔‏‏‏‏“ «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» ۱؎ [52-الطور:6] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں اس کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔

سیدنا معاویہ بن سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”بحر روم میں برکت ہے یہ زمین کے درمیان میں ہے، سب نہریں اس میں گرتی ہیں اور بحر کبیر بھی اس میں پڑتا ہے، اس کے نیچے کنویں ہیں جن کے منہ تانبہ سے بند کیے ہوئے ہیں قیام کے دن وہ سلگ اٹھیں گے۔‏‏‏‏“ یہ اثر عجیب ہے اور ساتھ ہی غریب بھی ہے۔ ہاں ابوداؤد میں ایک حدیث ہے کہ { سمندر کا سفر صرف حاجی کریں اور عمرہ کرنے والے یا جہاد کرنے والے غازی اس لیے کہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے پانی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2489،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اس کا بیان بھی سورۃ فاطر کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ «سُجِّرَتْ» کے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ خشک کر دیا جائے گا، ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے گا۔ یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ بہا دیا جائے گا اور ادھر ادھر بہ نکلے گا۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہر قسم کے لوگ یکجا جمع کر دئیے جائیں گے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ» ۱؎ [37-الصافات:22] ‏‏‏‏ یعنی ’ ظالموں کو اور ان کے جوڑوں یعنی ان جیسوں کو جمع کرو ‘۔ حدیث میں ہے { ہر شخص کا اس قوم کے ساتھ حشر کیا جائے گا جو اس جیسے اعمال کرتی ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُنْتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً» * «فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ» * «وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ» * «وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ» ۱؎ [56-الواقعة:10-7] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم تین طرح کے گروہ ہو جاؤ گے کچھ وہ جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال ہوں گے کچھ بائیں ہاتھ والے کچھ سبقت کرنے والے ‘ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36451:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھتے ہوئے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”ہر جماعت اپنے جیسوں میں مل جائیگی۔‏‏‏‏“ دوسری روایت میں ہے کہ ”وہ دو شخص جن کے عمل ایک جیسے ہوں وہ یا تو جنت میں ساتھ رہیں گے یا جہنم میں ساتھ جلیں گے۔‏‏‏‏“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو فرمایا: ”نیک نیکوں کے ساتھ مل جائیں گے اور بد بدوں کے ساتھ آگ میں۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو سب خاموش رہے، آپ نے فرمایا: ”لو میں بتاؤں، آدمی کا جوڑا جنت میں اسی جیسا ہو گا اسی طرح جہنم میں بھی۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”مطلب اس سے یہی ہے کہ تین قسم کے لوگ ہو جائیں گے یعنی «أَصْحَابُ الْمَيْمَنَ» ، «اصحاب الشمال» اور «لسَّابِقُینَ» ۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر قسم کے لوگ ایک ساتھ ہوں گے یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی پسند کرتے ہیں اور یہی ٹھیک بھی ہے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ ”عرش کے پاس سے پانی کا ایک دریا جاری ہو گا جو چالیس سال تک بہتا رہے گا اور بڑی نمایاں چوڑان میں ہو گا، اس سے تمام مرے، سڑے، گلے اگنے لگیں گے اس طرح کے ہو جائیں گے کہ جو انہیں پہچانتا ہو وہ اگر انہیں اب دیکھ لے تو بیک نگاہ پہچان لے پھر روحیں چھوڑی جائیں گی اور ہر روح اپنے جسم میں آ جائے گی یہی معنی ہیں آیت «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» ۱؎ [81-التكوير:7] ‏‏‏‏ کے یعنی ’ روحیں جسموں میں ملا دی جائیں گی ‘۔ اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ’ مومنوں کا جوڑا حوروں سے لگایا جائے گا اور کافروں کا شیطانوں کے ساتھ ‘۔ [ تذکرہ قرطبی ] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہوتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» ۱؎ [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ جمہور کی قراءت یہی ہے اہل جاہلیت لڑکیوں کو ناپسند کرتے تھے اور انہیں زندہ درگور کر دیا کرتے تھے، ان سے قیامت کے دن سوال ہو گا کہ یہ کیوں قتل کی گئیں؟ تاکہ ان کے قاتلوں کو زیادہ ڈانٹ ڈپٹ اور شرمندگی ہو اور یہ بھی سمجھ لیجئے کہ جب مظلوم سے سوال ہوا تو ظالم کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ خود پوچھیں گی کہ انہیں کس بنا پر زندہ درگور کیا گیا؟ اس کے متعلق احادیث سنئے مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں نے قصد کیا کہ لوگوں کو حالت حمل کی مجامعت سے روک دوں لیکن میں نے دیکھا کہ رومی اور فارسی یہ کام کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔‏‏‏‏“ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا یعنی بروقت نطفہ کو باہر ڈال دینے کے بارے میں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ درپردہ زندہ گاڑ دینا ہے اور اسی کا بیان «وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ» [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ میں ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1442:صحیح] ‏‏‏‏ سیدنا سلمہ بن یزید رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی سرکار نبوت میں حاضر ہو کر سوال کرتے ہیں کہ ہماری ماں امیر زادی تھیں وہ صلہ رحمی کرتی تھیں مہمان نوازی کرتی تھیں اور بھی نیک کام بہت کچھ کرتی تھیں، لیکن جاہلیت میں ہی مر گئی ہیں تو کیا اس کے یہ نیک کام اسے کچھ نفع دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا کہ اس نے ہماری ایک بہن کو زندہ دفن کر دیا ہے کیا وہ بھی اسے کچھ نفع دے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زندہ گاڑی ہوئی اور زندہ گاڑنے والی جہنم میں ہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ اسلام کو قبول کرلے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:478/3:صحیح] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں ہے { زندہ دفن کرنے والی اور جسے دفن کیا ہے دونوں جہنم میں ہیں } ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا کے سوال پر کہ جنت میں کون جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبی، شہید، بچے اور زندہ درگور کی ہوئی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:409/5:صحیح] ‏‏‏‏ یہ حدیث مرسل ہے، حسن رحمہ اللہ سے جسے بعض محدثین نے قبولیت کا مرتبہ دیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”مشرکوں کے چھوٹی عمر میں مرے ہوئے بچے جنتی ہیں جو انہیں جہنمی کہے وہ جھوٹا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» “ [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ { سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ! میں نے جاہلیت کے زمانے میں اپنی بچیوں کو زندہ دبا دیا ہے میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غلام والا تو میں ہوں نہیں، البتہ میرے پاس اونٹ ہیں فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک اونٹ اللہ کے نام پر قربان کرو۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند بزار:2280:حسن] ‏‏‏‏

دوسری روایت میں ہے کہ میں نے اپنی آٹھ لڑکیاں اس طرح زندہ دبا دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر چاہے تو یوں کر۔ ۱؎ [ابن مندہ:3/353:حسن] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { بارہ تیرہ لڑکیاں زندہ دفن کر دی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی گنتی کے مطابق غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا بہت بہتر میں یہی کروں گا، دوسرے سال وہاں ایک سو اونٹ لے کر آئے اور کہنے لگے، اے اللہ کے رسول! یہ میری قوم کا صدقہ ہے جو اس کے بدلے ہے جو میں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ان اونٹوں کو لے جاتے تھے اور ان کا قیسیہ رکھ چھوڑا تھا }۔ ۱؎ [طبرانی:138/18،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہے کہ ’ نامہ اعمال بانٹے جائیں گے کسی کے داہنے ہاتھ میں اور کسی کے بائیں ہاتھ میں، اے ابن آدم! تو لکھوا رہا ہے جو لپیٹ کر پھیلا کر تجھے دیا جائے گا دیکھ لے گا کہ کیا لکھوا کے لایا ہے، آسمان گھسیٹ لیا جائے گا اور کھینچ لیا جائے گا اور سمیٹ لیا جائے گا اور برباد ہو جائے گا جہنم بھڑکائی جائے گی، اللہ کے غضب اور بنی آدم کے گناہوں سے اس کی آگ تیز ہو جائے گی، جنت جنتیوں کے پاس آ جائے گی، جب یہ تمام کام ہو چکیں گے اس وقت ہر شخص جان لے گا کہ اس نے اپنی دنیا کی زندگی میں کیا کچھ اعمال کیے تھے، وہ سب عمل اس کے سامنے موجود ہوں گے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا» ۱؎ [3-آل عمران:30] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ جس دن ہر شخص اپنے کیے ہوئے اعمال کو پا لے گا نیک ہیں تو سامنے دیکھ لے گا اور بد ہیں تو اس دن وہ آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی ‘۔ اور جگہ ہے «يُنَبَّأُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ» ۱؎ [75-القيامة:13] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن انسان کو اس کے تمام اگلے پچھلے اعمال سے تنبیہہ کی جائے گی ‘۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سورت کو سنتے رہے اور اس کو سنتے ہی فرمایا: ”اگلی تمام باتیں اسی لیے بیان ہوئی تھیں۔‏‏‏‏“
10۔ 1 موت کے وقت یہ صحیفے لپیٹ دیئے جاتے ہیں، پھر قیامت والے دن حساب کے لئے کھول دیئے جائیں گے، جنہیں ہر شخص دیکھ لے گا بلکہ ہاتھوں میں پکڑا دیئے جائیں گے۔
(آیت 10){ وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ:} اعمال نامے جو بند تھے، پھیلا کر سامنے کر دیے جائیں گے، تاکہ ہر عمل کرنے والا اپنے عمل خود پڑھ لے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ لوگوں میں ان کے اعمال نامے دائیں یا بائیں ہاتھوں میں پھیلا دیے جائیں گے۔
وَ اِذَا السَّمَآءُ کُشِطَتۡ ﴿۪ۙ۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جب آسمان کا پردہ ہٹا دیا جائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب آسمان کی کھال اتار لی جائے گی
احمد رضا خان بریلوی
اور جب آسمان جگہ سے کھینچ لیا جائے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب آسمان کھول دیا جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب آسمان کی کھال اتاری جائے گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یعنی سورج بے نور ہو گا ٭٭

یعنی سورج بے نور ہو گا، جاتا رہے گا، اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”سورج، چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بے نور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائے گا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائے گی۔‏‏‏‏“ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏‏‏‏ اور ایک حدیث میں سورج چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے۔ ۱؎ [مسند ابو یعلی:4116:ضعیف] ‏‏‏‏ صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ { سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3200] ‏‏‏‏ امام بخاری رحمہ اللہ اسے «كِتَابِ بِدْءِ الْخَلْقِ» میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے امام صاحب کی عادت ہے۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی کہ قیامت کے دن یہ ہو گا، تو حسن رحمہ اللہ کہنے لگے ان کا کیا گناہ ہے؟ فرمایا ”میں نے حدیث کہی اور تم اس پر باتیں بناتے ہو، سورج کی قیامت والے دن یہ حالت ہو گی ستارے سارے متغیر ہو کر جھڑ جائیں گے جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انْـتَثَرَتْ» ۱؎ [82-الإنفطار:2] ‏‏‏‏ یہ بھی گدلے اور بے نور ہو کر بجھ جائیں گے۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ہوں گی لوگ اپنے بازاروں میں ہوں گے کہ اچانک سورج کی روشنی جاتی رہے گی اور پھر ناگہاں ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگیں گے پھر اچانک پہاڑ زمین پر گر پڑیں گے اور زمین زور زور سے جھٹکے لینے لگے گی اور بے طرح ہلنے لگے گی بس پھر کیا انسان، کیا جنات، کیا جانور اور کیا جنگلی جانور سب آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے، جانور بھی جو انسانوں سے بھاگے پھرتے ہیں انسانوں کے پاس آ جائیں گے لوگوں کو اس قدر بدحواسی اور گھبراہٹ ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال اونٹنیاں جو بیاہنے والیاں ہوں گی ان کی بھی خیر خبر نہ لیں گے۔ جنات کہیں گے کہ ہم جاتے ہیں کہ تحقیق کریں کیا ہو رہا ہے لیکن وہ آئیں گے تو دیکھیں گے کہ سمندروں میں بھی آگ لگ رہی ہے، اسی حال میں ایک دم زمین پھٹنے لگے گی اور آسمان بھی ٹوٹنے لگیں گے، ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمانوں کا یہی حال ہو گا ادھر سے ایک تند ہوا چلے گی جس سے تمام جاندار مر جائیں گے۔ ۱؎ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏

ایک اور روایت میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”سارے ستارے اور جن جن کی اللہ کے سوا عبادت کی گئی ہے سب جہنم میں گرا دیئے جائیں صرف عیسیٰ علیہ السلام اور مریم سلام اللہ علیہا بچ رہیں گے اگر یہ بھی اپنی عبادت سے خوش ہوتے تو یہ بھی جہنم میں داخل کر دئیے جاتے“ }۔ ۱؎ [ابن ابی حاتم:] ‏‏‏‏ پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے اور بے نام و نشان ہو جائیں گے، زمین چٹیل اور ہموار میدان رہ جائے گی، اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی، نہ ان کی کوئی نگرانی کرے گا نہ چرائے چگائے گا، نہ دودھ نکالے گا نہ سواری لے گا۔ «عِشَارُ» جمع ہے «عُشَرَاءُ» کی، جو حاملہ اونٹنی دسویں مہینے میں لگ جائے اسے «عُشَرَاءُ» کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ گھبراہٹ اور بدحواسی بےچینی اور پریشانی اس قدر ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال کی بھی پرواہ نہ رہے گی قیامت کی ان بلاؤں نے دل اڑا دیا ہو گا کلیجے منہ کو آئیں گے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کے دن ہو گا اور لوگوں کو اس سے کچھ سروکار نہ ہو گا ہاں ان کے دیکھنے میں یہ ہو گا، اس قول کے قائل «عِشَارُ» کے کئی معنی بیان کرتے ہیں، ایک تو یہ کہتے ہیں اس سے مراد بادل ہیں جو دنیا کی بربادی کی وجہ سے آسمان و زمین کے درمیان پھرتے پھریں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ زمین ہے جس کا عشر دیا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد گھر ہیں جو پہلے آباد تھے اب ویران ہیں۔ امام قرطبی رحمہ اللہ ان اقوال کو بیان کر کے ترجیح اسی کو دیتے ہیں کہ مراد اس سے اونٹنیاں ہیں اور اکثر مفسرین کا یہی قول ہے اور میں تو یہی کہتا ہوں کہ سلف سے اور ائمہ سے اس کے سوا کچھ وارد ہی نہیں ہوا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اور وحشی جانور جمع کیے جائیں گے، جیسے فرمان ہے «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ» ۱؎ ۱؎ [6-الأنعام:38] ‏‏‏‏ یعنی ’ زمین پر چلنے والے کل جانور اور ہوا میں اڑنے والے کل پرند بھی تمہاری طرح گروہ ہیں، ہم نے اپنی کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی، پھر یہ سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے ‘۔ سب جانداروں کا حشر اسی کے پاس ہو گا یہاں تک کہ مکھیاں بھی، ان سب میں اللہ تعالیٰ انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا، ان جانوروں کا حشر ان کی موت ہی ہے، البتہ جن و انس اللہ کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے اور ان سے حساب کتاب ہو گا۔ ربیع بن خثیم نے کہا مراد وحشیوں کے حشر سے ان پر اللہ کا امر آنا ہے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ سن کر فرمایا کہ ”اس سے مراد موت ہے، یہ تمام جانور بھی ایک دوسرے کے ساتھ اور انسانوں کے ساتھ ہو جائیں گے۔‏‏‏‏“ خود قرآن میں اور جگہ ہے «وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ» ۱؎ [38-ص:19] ‏‏‏‏ یعنی ’ پرند جمع کیے ہوئے ‘، پس ٹھیک مطلب اس آیت کا بھی یہی ہے کہ ’ وحشی جانور جمع کیے جائیں گے ‘۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی سے پوچھا: جہنم کہاں ہے؟ اس نے کہا سمندر میں، آپ نے فرمایا: ”میرے خیال میں یہ سچا ہے قرآن کہتا ہے «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» ۱؎ [52-الطور:6] ‏‏‏‏ اور فرماتا ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» ۱؎ [81-التكوير:6] ‏‏‏‏۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ مغربی ہوائیں بھیجے گا وہ اسے بھڑکا دیں گی اور شعلے مارتی ہوئی آگ بن جائے گا۔‏‏‏‏“ «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» ۱؎ [52-الطور:6] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں اس کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔

سیدنا معاویہ بن سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”بحر روم میں برکت ہے یہ زمین کے درمیان میں ہے، سب نہریں اس میں گرتی ہیں اور بحر کبیر بھی اس میں پڑتا ہے، اس کے نیچے کنویں ہیں جن کے منہ تانبہ سے بند کیے ہوئے ہیں قیام کے دن وہ سلگ اٹھیں گے۔‏‏‏‏“ یہ اثر عجیب ہے اور ساتھ ہی غریب بھی ہے۔ ہاں ابوداؤد میں ایک حدیث ہے کہ { سمندر کا سفر صرف حاجی کریں اور عمرہ کرنے والے یا جہاد کرنے والے غازی اس لیے کہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے پانی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2489،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اس کا بیان بھی سورۃ فاطر کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ «سُجِّرَتْ» کے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ خشک کر دیا جائے گا، ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے گا۔ یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ بہا دیا جائے گا اور ادھر ادھر بہ نکلے گا۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہر قسم کے لوگ یکجا جمع کر دئیے جائیں گے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ» ۱؎ [37-الصافات:22] ‏‏‏‏ یعنی ’ ظالموں کو اور ان کے جوڑوں یعنی ان جیسوں کو جمع کرو ‘۔ حدیث میں ہے { ہر شخص کا اس قوم کے ساتھ حشر کیا جائے گا جو اس جیسے اعمال کرتی ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُنْتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً» * «فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ» * «وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ» * «وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ» ۱؎ [56-الواقعة:10-7] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم تین طرح کے گروہ ہو جاؤ گے کچھ وہ جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال ہوں گے کچھ بائیں ہاتھ والے کچھ سبقت کرنے والے ‘ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36451:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھتے ہوئے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”ہر جماعت اپنے جیسوں میں مل جائیگی۔‏‏‏‏“ دوسری روایت میں ہے کہ ”وہ دو شخص جن کے عمل ایک جیسے ہوں وہ یا تو جنت میں ساتھ رہیں گے یا جہنم میں ساتھ جلیں گے۔‏‏‏‏“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو فرمایا: ”نیک نیکوں کے ساتھ مل جائیں گے اور بد بدوں کے ساتھ آگ میں۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو سب خاموش رہے، آپ نے فرمایا: ”لو میں بتاؤں، آدمی کا جوڑا جنت میں اسی جیسا ہو گا اسی طرح جہنم میں بھی۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”مطلب اس سے یہی ہے کہ تین قسم کے لوگ ہو جائیں گے یعنی «أَصْحَابُ الْمَيْمَنَ» ، «اصحاب الشمال» اور «لسَّابِقُینَ» ۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر قسم کے لوگ ایک ساتھ ہوں گے یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی پسند کرتے ہیں اور یہی ٹھیک بھی ہے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ ”عرش کے پاس سے پانی کا ایک دریا جاری ہو گا جو چالیس سال تک بہتا رہے گا اور بڑی نمایاں چوڑان میں ہو گا، اس سے تمام مرے، سڑے، گلے اگنے لگیں گے اس طرح کے ہو جائیں گے کہ جو انہیں پہچانتا ہو وہ اگر انہیں اب دیکھ لے تو بیک نگاہ پہچان لے پھر روحیں چھوڑی جائیں گی اور ہر روح اپنے جسم میں آ جائے گی یہی معنی ہیں آیت «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» ۱؎ [81-التكوير:7] ‏‏‏‏ کے یعنی ’ روحیں جسموں میں ملا دی جائیں گی ‘۔ اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ’ مومنوں کا جوڑا حوروں سے لگایا جائے گا اور کافروں کا شیطانوں کے ساتھ ‘۔ [ تذکرہ قرطبی ] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہوتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» ۱؎ [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ جمہور کی قراءت یہی ہے اہل جاہلیت لڑکیوں کو ناپسند کرتے تھے اور انہیں زندہ درگور کر دیا کرتے تھے، ان سے قیامت کے دن سوال ہو گا کہ یہ کیوں قتل کی گئیں؟ تاکہ ان کے قاتلوں کو زیادہ ڈانٹ ڈپٹ اور شرمندگی ہو اور یہ بھی سمجھ لیجئے کہ جب مظلوم سے سوال ہوا تو ظالم کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ خود پوچھیں گی کہ انہیں کس بنا پر زندہ درگور کیا گیا؟ اس کے متعلق احادیث سنئے مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں نے قصد کیا کہ لوگوں کو حالت حمل کی مجامعت سے روک دوں لیکن میں نے دیکھا کہ رومی اور فارسی یہ کام کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔‏‏‏‏“ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا یعنی بروقت نطفہ کو باہر ڈال دینے کے بارے میں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ درپردہ زندہ گاڑ دینا ہے اور اسی کا بیان «وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ» [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ میں ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1442:صحیح] ‏‏‏‏ سیدنا سلمہ بن یزید رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی سرکار نبوت میں حاضر ہو کر سوال کرتے ہیں کہ ہماری ماں امیر زادی تھیں وہ صلہ رحمی کرتی تھیں مہمان نوازی کرتی تھیں اور بھی نیک کام بہت کچھ کرتی تھیں، لیکن جاہلیت میں ہی مر گئی ہیں تو کیا اس کے یہ نیک کام اسے کچھ نفع دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا کہ اس نے ہماری ایک بہن کو زندہ دفن کر دیا ہے کیا وہ بھی اسے کچھ نفع دے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زندہ گاڑی ہوئی اور زندہ گاڑنے والی جہنم میں ہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ اسلام کو قبول کرلے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:478/3:صحیح] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں ہے { زندہ دفن کرنے والی اور جسے دفن کیا ہے دونوں جہنم میں ہیں } ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا کے سوال پر کہ جنت میں کون جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبی، شہید، بچے اور زندہ درگور کی ہوئی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:409/5:صحیح] ‏‏‏‏ یہ حدیث مرسل ہے، حسن رحمہ اللہ سے جسے بعض محدثین نے قبولیت کا مرتبہ دیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”مشرکوں کے چھوٹی عمر میں مرے ہوئے بچے جنتی ہیں جو انہیں جہنمی کہے وہ جھوٹا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» “ [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ { سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ! میں نے جاہلیت کے زمانے میں اپنی بچیوں کو زندہ دبا دیا ہے میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غلام والا تو میں ہوں نہیں، البتہ میرے پاس اونٹ ہیں فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک اونٹ اللہ کے نام پر قربان کرو۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند بزار:2280:حسن] ‏‏‏‏

دوسری روایت میں ہے کہ میں نے اپنی آٹھ لڑکیاں اس طرح زندہ دبا دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر چاہے تو یوں کر۔ ۱؎ [ابن مندہ:3/353:حسن] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { بارہ تیرہ لڑکیاں زندہ دفن کر دی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی گنتی کے مطابق غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا بہت بہتر میں یہی کروں گا، دوسرے سال وہاں ایک سو اونٹ لے کر آئے اور کہنے لگے، اے اللہ کے رسول! یہ میری قوم کا صدقہ ہے جو اس کے بدلے ہے جو میں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ان اونٹوں کو لے جاتے تھے اور ان کا قیسیہ رکھ چھوڑا تھا }۔ ۱؎ [طبرانی:138/18،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہے کہ ’ نامہ اعمال بانٹے جائیں گے کسی کے داہنے ہاتھ میں اور کسی کے بائیں ہاتھ میں، اے ابن آدم! تو لکھوا رہا ہے جو لپیٹ کر پھیلا کر تجھے دیا جائے گا دیکھ لے گا کہ کیا لکھوا کے لایا ہے، آسمان گھسیٹ لیا جائے گا اور کھینچ لیا جائے گا اور سمیٹ لیا جائے گا اور برباد ہو جائے گا جہنم بھڑکائی جائے گی، اللہ کے غضب اور بنی آدم کے گناہوں سے اس کی آگ تیز ہو جائے گی، جنت جنتیوں کے پاس آ جائے گی، جب یہ تمام کام ہو چکیں گے اس وقت ہر شخص جان لے گا کہ اس نے اپنی دنیا کی زندگی میں کیا کچھ اعمال کیے تھے، وہ سب عمل اس کے سامنے موجود ہوں گے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا» ۱؎ [3-آل عمران:30] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ جس دن ہر شخص اپنے کیے ہوئے اعمال کو پا لے گا نیک ہیں تو سامنے دیکھ لے گا اور بد ہیں تو اس دن وہ آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی ‘۔ اور جگہ ہے «يُنَبَّأُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ» ۱؎ [75-القيامة:13] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن انسان کو اس کے تمام اگلے پچھلے اعمال سے تنبیہہ کی جائے گی ‘۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سورت کو سنتے رہے اور اس کو سنتے ہی فرمایا: ”اگلی تمام باتیں اسی لیے بیان ہوئی تھیں۔‏‏‏‏“
11۔ 1 یعنی اس طرح ادھیڑ دیئے جائیں گے جس طرح چھت ادھڑی جاتی ہے۔
(آیت 11) {وَ اِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتْ: ”كَشَطَ“ (ض) ”اَلشَّيْءَ“} کسی چیز سے وہ چیز اتار دینا جس نے اسے ڈھانپ رکھا ہو۔ {”كَشَطَ الْبَعِيْرَ“} اونٹ کی کھال اتارنا۔ عالم بالا پر آسمان کا پردہ جو کھال کی طرح چڑھا ہوا ہے اسے اتار کر تہ کر دیا جائے گا۔ (طبری) جیساکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «يَوْمَ نَطْوِي السَّمَآءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ» [ الأنبیاء: ۱۰۴] ”جس دن ہم آسمان کو یوں لپیٹ دیں گے جیسے طومار میں اوراق لپیٹ دیے جاتے ہیں۔“ کھال اتار دیے جانے کے بعد عالم بالا سب کے سامنے آشکار ہو جائے گا۔
وَ اِذَا الۡجَحِیۡمُ سُعِّرَتۡ ﴿۪ۙ۱۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جب جہنم دہکائی جائے گی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی
احمد رضا خان بریلوی
اور جب جہنم بھڑکایا جائے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب دوزخ بھڑکا دی جائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یعنی سورج بے نور ہو گا ٭٭

یعنی سورج بے نور ہو گا، جاتا رہے گا، اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”سورج، چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بے نور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائے گا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائے گی۔‏‏‏‏“ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏‏‏‏ اور ایک حدیث میں سورج چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے۔ ۱؎ [مسند ابو یعلی:4116:ضعیف] ‏‏‏‏ صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ { سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3200] ‏‏‏‏ امام بخاری رحمہ اللہ اسے «كِتَابِ بِدْءِ الْخَلْقِ» میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے امام صاحب کی عادت ہے۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی کہ قیامت کے دن یہ ہو گا، تو حسن رحمہ اللہ کہنے لگے ان کا کیا گناہ ہے؟ فرمایا ”میں نے حدیث کہی اور تم اس پر باتیں بناتے ہو، سورج کی قیامت والے دن یہ حالت ہو گی ستارے سارے متغیر ہو کر جھڑ جائیں گے جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انْـتَثَرَتْ» ۱؎ [82-الإنفطار:2] ‏‏‏‏ یہ بھی گدلے اور بے نور ہو کر بجھ جائیں گے۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ہوں گی لوگ اپنے بازاروں میں ہوں گے کہ اچانک سورج کی روشنی جاتی رہے گی اور پھر ناگہاں ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگیں گے پھر اچانک پہاڑ زمین پر گر پڑیں گے اور زمین زور زور سے جھٹکے لینے لگے گی اور بے طرح ہلنے لگے گی بس پھر کیا انسان، کیا جنات، کیا جانور اور کیا جنگلی جانور سب آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے، جانور بھی جو انسانوں سے بھاگے پھرتے ہیں انسانوں کے پاس آ جائیں گے لوگوں کو اس قدر بدحواسی اور گھبراہٹ ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال اونٹنیاں جو بیاہنے والیاں ہوں گی ان کی بھی خیر خبر نہ لیں گے۔ جنات کہیں گے کہ ہم جاتے ہیں کہ تحقیق کریں کیا ہو رہا ہے لیکن وہ آئیں گے تو دیکھیں گے کہ سمندروں میں بھی آگ لگ رہی ہے، اسی حال میں ایک دم زمین پھٹنے لگے گی اور آسمان بھی ٹوٹنے لگیں گے، ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمانوں کا یہی حال ہو گا ادھر سے ایک تند ہوا چلے گی جس سے تمام جاندار مر جائیں گے۔ ۱؎ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏

ایک اور روایت میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”سارے ستارے اور جن جن کی اللہ کے سوا عبادت کی گئی ہے سب جہنم میں گرا دیئے جائیں صرف عیسیٰ علیہ السلام اور مریم سلام اللہ علیہا بچ رہیں گے اگر یہ بھی اپنی عبادت سے خوش ہوتے تو یہ بھی جہنم میں داخل کر دئیے جاتے“ }۔ ۱؎ [ابن ابی حاتم:] ‏‏‏‏ پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے اور بے نام و نشان ہو جائیں گے، زمین چٹیل اور ہموار میدان رہ جائے گی، اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی، نہ ان کی کوئی نگرانی کرے گا نہ چرائے چگائے گا، نہ دودھ نکالے گا نہ سواری لے گا۔ «عِشَارُ» جمع ہے «عُشَرَاءُ» کی، جو حاملہ اونٹنی دسویں مہینے میں لگ جائے اسے «عُشَرَاءُ» کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ گھبراہٹ اور بدحواسی بےچینی اور پریشانی اس قدر ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال کی بھی پرواہ نہ رہے گی قیامت کی ان بلاؤں نے دل اڑا دیا ہو گا کلیجے منہ کو آئیں گے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کے دن ہو گا اور لوگوں کو اس سے کچھ سروکار نہ ہو گا ہاں ان کے دیکھنے میں یہ ہو گا، اس قول کے قائل «عِشَارُ» کے کئی معنی بیان کرتے ہیں، ایک تو یہ کہتے ہیں اس سے مراد بادل ہیں جو دنیا کی بربادی کی وجہ سے آسمان و زمین کے درمیان پھرتے پھریں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ زمین ہے جس کا عشر دیا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد گھر ہیں جو پہلے آباد تھے اب ویران ہیں۔ امام قرطبی رحمہ اللہ ان اقوال کو بیان کر کے ترجیح اسی کو دیتے ہیں کہ مراد اس سے اونٹنیاں ہیں اور اکثر مفسرین کا یہی قول ہے اور میں تو یہی کہتا ہوں کہ سلف سے اور ائمہ سے اس کے سوا کچھ وارد ہی نہیں ہوا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اور وحشی جانور جمع کیے جائیں گے، جیسے فرمان ہے «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ» ۱؎ ۱؎ [6-الأنعام:38] ‏‏‏‏ یعنی ’ زمین پر چلنے والے کل جانور اور ہوا میں اڑنے والے کل پرند بھی تمہاری طرح گروہ ہیں، ہم نے اپنی کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی، پھر یہ سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے ‘۔ سب جانداروں کا حشر اسی کے پاس ہو گا یہاں تک کہ مکھیاں بھی، ان سب میں اللہ تعالیٰ انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا، ان جانوروں کا حشر ان کی موت ہی ہے، البتہ جن و انس اللہ کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے اور ان سے حساب کتاب ہو گا۔ ربیع بن خثیم نے کہا مراد وحشیوں کے حشر سے ان پر اللہ کا امر آنا ہے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ سن کر فرمایا کہ ”اس سے مراد موت ہے، یہ تمام جانور بھی ایک دوسرے کے ساتھ اور انسانوں کے ساتھ ہو جائیں گے۔‏‏‏‏“ خود قرآن میں اور جگہ ہے «وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ» ۱؎ [38-ص:19] ‏‏‏‏ یعنی ’ پرند جمع کیے ہوئے ‘، پس ٹھیک مطلب اس آیت کا بھی یہی ہے کہ ’ وحشی جانور جمع کیے جائیں گے ‘۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی سے پوچھا: جہنم کہاں ہے؟ اس نے کہا سمندر میں، آپ نے فرمایا: ”میرے خیال میں یہ سچا ہے قرآن کہتا ہے «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» ۱؎ [52-الطور:6] ‏‏‏‏ اور فرماتا ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» ۱؎ [81-التكوير:6] ‏‏‏‏۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ مغربی ہوائیں بھیجے گا وہ اسے بھڑکا دیں گی اور شعلے مارتی ہوئی آگ بن جائے گا۔‏‏‏‏“ «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» ۱؎ [52-الطور:6] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں اس کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔

سیدنا معاویہ بن سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”بحر روم میں برکت ہے یہ زمین کے درمیان میں ہے، سب نہریں اس میں گرتی ہیں اور بحر کبیر بھی اس میں پڑتا ہے، اس کے نیچے کنویں ہیں جن کے منہ تانبہ سے بند کیے ہوئے ہیں قیام کے دن وہ سلگ اٹھیں گے۔‏‏‏‏“ یہ اثر عجیب ہے اور ساتھ ہی غریب بھی ہے۔ ہاں ابوداؤد میں ایک حدیث ہے کہ { سمندر کا سفر صرف حاجی کریں اور عمرہ کرنے والے یا جہاد کرنے والے غازی اس لیے کہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے پانی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2489،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اس کا بیان بھی سورۃ فاطر کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ «سُجِّرَتْ» کے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ خشک کر دیا جائے گا، ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے گا۔ یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ بہا دیا جائے گا اور ادھر ادھر بہ نکلے گا۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہر قسم کے لوگ یکجا جمع کر دئیے جائیں گے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ» ۱؎ [37-الصافات:22] ‏‏‏‏ یعنی ’ ظالموں کو اور ان کے جوڑوں یعنی ان جیسوں کو جمع کرو ‘۔ حدیث میں ہے { ہر شخص کا اس قوم کے ساتھ حشر کیا جائے گا جو اس جیسے اعمال کرتی ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُنْتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً» * «فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ» * «وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ» * «وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ» ۱؎ [56-الواقعة:10-7] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم تین طرح کے گروہ ہو جاؤ گے کچھ وہ جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال ہوں گے کچھ بائیں ہاتھ والے کچھ سبقت کرنے والے ‘ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36451:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھتے ہوئے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”ہر جماعت اپنے جیسوں میں مل جائیگی۔‏‏‏‏“ دوسری روایت میں ہے کہ ”وہ دو شخص جن کے عمل ایک جیسے ہوں وہ یا تو جنت میں ساتھ رہیں گے یا جہنم میں ساتھ جلیں گے۔‏‏‏‏“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو فرمایا: ”نیک نیکوں کے ساتھ مل جائیں گے اور بد بدوں کے ساتھ آگ میں۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو سب خاموش رہے، آپ نے فرمایا: ”لو میں بتاؤں، آدمی کا جوڑا جنت میں اسی جیسا ہو گا اسی طرح جہنم میں بھی۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”مطلب اس سے یہی ہے کہ تین قسم کے لوگ ہو جائیں گے یعنی «أَصْحَابُ الْمَيْمَنَ» ، «اصحاب الشمال» اور «لسَّابِقُینَ» ۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر قسم کے لوگ ایک ساتھ ہوں گے یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی پسند کرتے ہیں اور یہی ٹھیک بھی ہے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ ”عرش کے پاس سے پانی کا ایک دریا جاری ہو گا جو چالیس سال تک بہتا رہے گا اور بڑی نمایاں چوڑان میں ہو گا، اس سے تمام مرے، سڑے، گلے اگنے لگیں گے اس طرح کے ہو جائیں گے کہ جو انہیں پہچانتا ہو وہ اگر انہیں اب دیکھ لے تو بیک نگاہ پہچان لے پھر روحیں چھوڑی جائیں گی اور ہر روح اپنے جسم میں آ جائے گی یہی معنی ہیں آیت «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» ۱؎ [81-التكوير:7] ‏‏‏‏ کے یعنی ’ روحیں جسموں میں ملا دی جائیں گی ‘۔ اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ’ مومنوں کا جوڑا حوروں سے لگایا جائے گا اور کافروں کا شیطانوں کے ساتھ ‘۔ [ تذکرہ قرطبی ] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہوتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» ۱؎ [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ جمہور کی قراءت یہی ہے اہل جاہلیت لڑکیوں کو ناپسند کرتے تھے اور انہیں زندہ درگور کر دیا کرتے تھے، ان سے قیامت کے دن سوال ہو گا کہ یہ کیوں قتل کی گئیں؟ تاکہ ان کے قاتلوں کو زیادہ ڈانٹ ڈپٹ اور شرمندگی ہو اور یہ بھی سمجھ لیجئے کہ جب مظلوم سے سوال ہوا تو ظالم کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ خود پوچھیں گی کہ انہیں کس بنا پر زندہ درگور کیا گیا؟ اس کے متعلق احادیث سنئے مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں نے قصد کیا کہ لوگوں کو حالت حمل کی مجامعت سے روک دوں لیکن میں نے دیکھا کہ رومی اور فارسی یہ کام کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔‏‏‏‏“ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا یعنی بروقت نطفہ کو باہر ڈال دینے کے بارے میں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ درپردہ زندہ گاڑ دینا ہے اور اسی کا بیان «وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ» [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ میں ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1442:صحیح] ‏‏‏‏ سیدنا سلمہ بن یزید رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی سرکار نبوت میں حاضر ہو کر سوال کرتے ہیں کہ ہماری ماں امیر زادی تھیں وہ صلہ رحمی کرتی تھیں مہمان نوازی کرتی تھیں اور بھی نیک کام بہت کچھ کرتی تھیں، لیکن جاہلیت میں ہی مر گئی ہیں تو کیا اس کے یہ نیک کام اسے کچھ نفع دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا کہ اس نے ہماری ایک بہن کو زندہ دفن کر دیا ہے کیا وہ بھی اسے کچھ نفع دے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زندہ گاڑی ہوئی اور زندہ گاڑنے والی جہنم میں ہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ اسلام کو قبول کرلے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:478/3:صحیح] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں ہے { زندہ دفن کرنے والی اور جسے دفن کیا ہے دونوں جہنم میں ہیں } ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا کے سوال پر کہ جنت میں کون جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبی، شہید، بچے اور زندہ درگور کی ہوئی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:409/5:صحیح] ‏‏‏‏ یہ حدیث مرسل ہے، حسن رحمہ اللہ سے جسے بعض محدثین نے قبولیت کا مرتبہ دیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”مشرکوں کے چھوٹی عمر میں مرے ہوئے بچے جنتی ہیں جو انہیں جہنمی کہے وہ جھوٹا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» “ [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ { سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ! میں نے جاہلیت کے زمانے میں اپنی بچیوں کو زندہ دبا دیا ہے میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غلام والا تو میں ہوں نہیں، البتہ میرے پاس اونٹ ہیں فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک اونٹ اللہ کے نام پر قربان کرو۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند بزار:2280:حسن] ‏‏‏‏

دوسری روایت میں ہے کہ میں نے اپنی آٹھ لڑکیاں اس طرح زندہ دبا دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر چاہے تو یوں کر۔ ۱؎ [ابن مندہ:3/353:حسن] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { بارہ تیرہ لڑکیاں زندہ دفن کر دی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی گنتی کے مطابق غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا بہت بہتر میں یہی کروں گا، دوسرے سال وہاں ایک سو اونٹ لے کر آئے اور کہنے لگے، اے اللہ کے رسول! یہ میری قوم کا صدقہ ہے جو اس کے بدلے ہے جو میں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ان اونٹوں کو لے جاتے تھے اور ان کا قیسیہ رکھ چھوڑا تھا }۔ ۱؎ [طبرانی:138/18،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہے کہ ’ نامہ اعمال بانٹے جائیں گے کسی کے داہنے ہاتھ میں اور کسی کے بائیں ہاتھ میں، اے ابن آدم! تو لکھوا رہا ہے جو لپیٹ کر پھیلا کر تجھے دیا جائے گا دیکھ لے گا کہ کیا لکھوا کے لایا ہے، آسمان گھسیٹ لیا جائے گا اور کھینچ لیا جائے گا اور سمیٹ لیا جائے گا اور برباد ہو جائے گا جہنم بھڑکائی جائے گی، اللہ کے غضب اور بنی آدم کے گناہوں سے اس کی آگ تیز ہو جائے گی، جنت جنتیوں کے پاس آ جائے گی، جب یہ تمام کام ہو چکیں گے اس وقت ہر شخص جان لے گا کہ اس نے اپنی دنیا کی زندگی میں کیا کچھ اعمال کیے تھے، وہ سب عمل اس کے سامنے موجود ہوں گے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا» ۱؎ [3-آل عمران:30] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ جس دن ہر شخص اپنے کیے ہوئے اعمال کو پا لے گا نیک ہیں تو سامنے دیکھ لے گا اور بد ہیں تو اس دن وہ آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی ‘۔ اور جگہ ہے «يُنَبَّأُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ» ۱؎ [75-القيامة:13] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن انسان کو اس کے تمام اگلے پچھلے اعمال سے تنبیہہ کی جائے گی ‘۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سورت کو سنتے رہے اور اس کو سنتے ہی فرمایا: ”اگلی تمام باتیں اسی لیے بیان ہوئی تھیں۔‏‏‏‏“
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 13،12){ وَ اِذَا الْجَحِيْمُ سُعِّرَتْ …:} یہ دونوں چیزیں میدان محشر میں ہوں گی۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ فجر (۲۳) اور سورۂ شعراء (91،90) کی تفسیر۔
وَ اِذَا الۡجَنَّۃُ اُزۡلِفَتۡ ﴿۪ۙ۱۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جب جنت قریب لے آئی جائے گی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب جنت نزدیک کر دی جائے گی
احمد رضا خان بریلوی
اور جب جنت پاس لائی جائے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب جنت قریب لے آئی جائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب جنت قریب لائی جائے گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یعنی سورج بے نور ہو گا ٭٭

یعنی سورج بے نور ہو گا، جاتا رہے گا، اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”سورج، چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بے نور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائے گا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائے گی۔‏‏‏‏“ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏‏‏‏ اور ایک حدیث میں سورج چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے۔ ۱؎ [مسند ابو یعلی:4116:ضعیف] ‏‏‏‏ صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ { سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3200] ‏‏‏‏ امام بخاری رحمہ اللہ اسے «كِتَابِ بِدْءِ الْخَلْقِ» میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے امام صاحب کی عادت ہے۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی کہ قیامت کے دن یہ ہو گا، تو حسن رحمہ اللہ کہنے لگے ان کا کیا گناہ ہے؟ فرمایا ”میں نے حدیث کہی اور تم اس پر باتیں بناتے ہو، سورج کی قیامت والے دن یہ حالت ہو گی ستارے سارے متغیر ہو کر جھڑ جائیں گے جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انْـتَثَرَتْ» ۱؎ [82-الإنفطار:2] ‏‏‏‏ یہ بھی گدلے اور بے نور ہو کر بجھ جائیں گے۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ہوں گی لوگ اپنے بازاروں میں ہوں گے کہ اچانک سورج کی روشنی جاتی رہے گی اور پھر ناگہاں ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگیں گے پھر اچانک پہاڑ زمین پر گر پڑیں گے اور زمین زور زور سے جھٹکے لینے لگے گی اور بے طرح ہلنے لگے گی بس پھر کیا انسان، کیا جنات، کیا جانور اور کیا جنگلی جانور سب آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے، جانور بھی جو انسانوں سے بھاگے پھرتے ہیں انسانوں کے پاس آ جائیں گے لوگوں کو اس قدر بدحواسی اور گھبراہٹ ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال اونٹنیاں جو بیاہنے والیاں ہوں گی ان کی بھی خیر خبر نہ لیں گے۔ جنات کہیں گے کہ ہم جاتے ہیں کہ تحقیق کریں کیا ہو رہا ہے لیکن وہ آئیں گے تو دیکھیں گے کہ سمندروں میں بھی آگ لگ رہی ہے، اسی حال میں ایک دم زمین پھٹنے لگے گی اور آسمان بھی ٹوٹنے لگیں گے، ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمانوں کا یہی حال ہو گا ادھر سے ایک تند ہوا چلے گی جس سے تمام جاندار مر جائیں گے۔ ۱؎ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏

ایک اور روایت میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”سارے ستارے اور جن جن کی اللہ کے سوا عبادت کی گئی ہے سب جہنم میں گرا دیئے جائیں صرف عیسیٰ علیہ السلام اور مریم سلام اللہ علیہا بچ رہیں گے اگر یہ بھی اپنی عبادت سے خوش ہوتے تو یہ بھی جہنم میں داخل کر دئیے جاتے“ }۔ ۱؎ [ابن ابی حاتم:] ‏‏‏‏ پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے اور بے نام و نشان ہو جائیں گے، زمین چٹیل اور ہموار میدان رہ جائے گی، اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی، نہ ان کی کوئی نگرانی کرے گا نہ چرائے چگائے گا، نہ دودھ نکالے گا نہ سواری لے گا۔ «عِشَارُ» جمع ہے «عُشَرَاءُ» کی، جو حاملہ اونٹنی دسویں مہینے میں لگ جائے اسے «عُشَرَاءُ» کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ گھبراہٹ اور بدحواسی بےچینی اور پریشانی اس قدر ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال کی بھی پرواہ نہ رہے گی قیامت کی ان بلاؤں نے دل اڑا دیا ہو گا کلیجے منہ کو آئیں گے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کے دن ہو گا اور لوگوں کو اس سے کچھ سروکار نہ ہو گا ہاں ان کے دیکھنے میں یہ ہو گا، اس قول کے قائل «عِشَارُ» کے کئی معنی بیان کرتے ہیں، ایک تو یہ کہتے ہیں اس سے مراد بادل ہیں جو دنیا کی بربادی کی وجہ سے آسمان و زمین کے درمیان پھرتے پھریں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ زمین ہے جس کا عشر دیا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد گھر ہیں جو پہلے آباد تھے اب ویران ہیں۔ امام قرطبی رحمہ اللہ ان اقوال کو بیان کر کے ترجیح اسی کو دیتے ہیں کہ مراد اس سے اونٹنیاں ہیں اور اکثر مفسرین کا یہی قول ہے اور میں تو یہی کہتا ہوں کہ سلف سے اور ائمہ سے اس کے سوا کچھ وارد ہی نہیں ہوا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اور وحشی جانور جمع کیے جائیں گے، جیسے فرمان ہے «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ» ۱؎ ۱؎ [6-الأنعام:38] ‏‏‏‏ یعنی ’ زمین پر چلنے والے کل جانور اور ہوا میں اڑنے والے کل پرند بھی تمہاری طرح گروہ ہیں، ہم نے اپنی کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی، پھر یہ سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے ‘۔ سب جانداروں کا حشر اسی کے پاس ہو گا یہاں تک کہ مکھیاں بھی، ان سب میں اللہ تعالیٰ انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا، ان جانوروں کا حشر ان کی موت ہی ہے، البتہ جن و انس اللہ کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے اور ان سے حساب کتاب ہو گا۔ ربیع بن خثیم نے کہا مراد وحشیوں کے حشر سے ان پر اللہ کا امر آنا ہے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ سن کر فرمایا کہ ”اس سے مراد موت ہے، یہ تمام جانور بھی ایک دوسرے کے ساتھ اور انسانوں کے ساتھ ہو جائیں گے۔‏‏‏‏“ خود قرآن میں اور جگہ ہے «وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ» ۱؎ [38-ص:19] ‏‏‏‏ یعنی ’ پرند جمع کیے ہوئے ‘، پس ٹھیک مطلب اس آیت کا بھی یہی ہے کہ ’ وحشی جانور جمع کیے جائیں گے ‘۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی سے پوچھا: جہنم کہاں ہے؟ اس نے کہا سمندر میں، آپ نے فرمایا: ”میرے خیال میں یہ سچا ہے قرآن کہتا ہے «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» ۱؎ [52-الطور:6] ‏‏‏‏ اور فرماتا ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» ۱؎ [81-التكوير:6] ‏‏‏‏۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ مغربی ہوائیں بھیجے گا وہ اسے بھڑکا دیں گی اور شعلے مارتی ہوئی آگ بن جائے گا۔‏‏‏‏“ «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» ۱؎ [52-الطور:6] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں اس کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔

سیدنا معاویہ بن سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”بحر روم میں برکت ہے یہ زمین کے درمیان میں ہے، سب نہریں اس میں گرتی ہیں اور بحر کبیر بھی اس میں پڑتا ہے، اس کے نیچے کنویں ہیں جن کے منہ تانبہ سے بند کیے ہوئے ہیں قیام کے دن وہ سلگ اٹھیں گے۔‏‏‏‏“ یہ اثر عجیب ہے اور ساتھ ہی غریب بھی ہے۔ ہاں ابوداؤد میں ایک حدیث ہے کہ { سمندر کا سفر صرف حاجی کریں اور عمرہ کرنے والے یا جہاد کرنے والے غازی اس لیے کہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے پانی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2489،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اس کا بیان بھی سورۃ فاطر کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ «سُجِّرَتْ» کے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ خشک کر دیا جائے گا، ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے گا۔ یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ بہا دیا جائے گا اور ادھر ادھر بہ نکلے گا۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہر قسم کے لوگ یکجا جمع کر دئیے جائیں گے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ» ۱؎ [37-الصافات:22] ‏‏‏‏ یعنی ’ ظالموں کو اور ان کے جوڑوں یعنی ان جیسوں کو جمع کرو ‘۔ حدیث میں ہے { ہر شخص کا اس قوم کے ساتھ حشر کیا جائے گا جو اس جیسے اعمال کرتی ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُنْتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً» * «فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ» * «وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ» * «وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ» ۱؎ [56-الواقعة:10-7] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم تین طرح کے گروہ ہو جاؤ گے کچھ وہ جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال ہوں گے کچھ بائیں ہاتھ والے کچھ سبقت کرنے والے ‘ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36451:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھتے ہوئے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”ہر جماعت اپنے جیسوں میں مل جائیگی۔‏‏‏‏“ دوسری روایت میں ہے کہ ”وہ دو شخص جن کے عمل ایک جیسے ہوں وہ یا تو جنت میں ساتھ رہیں گے یا جہنم میں ساتھ جلیں گے۔‏‏‏‏“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو فرمایا: ”نیک نیکوں کے ساتھ مل جائیں گے اور بد بدوں کے ساتھ آگ میں۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو سب خاموش رہے، آپ نے فرمایا: ”لو میں بتاؤں، آدمی کا جوڑا جنت میں اسی جیسا ہو گا اسی طرح جہنم میں بھی۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”مطلب اس سے یہی ہے کہ تین قسم کے لوگ ہو جائیں گے یعنی «أَصْحَابُ الْمَيْمَنَ» ، «اصحاب الشمال» اور «لسَّابِقُینَ» ۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر قسم کے لوگ ایک ساتھ ہوں گے یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی پسند کرتے ہیں اور یہی ٹھیک بھی ہے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ ”عرش کے پاس سے پانی کا ایک دریا جاری ہو گا جو چالیس سال تک بہتا رہے گا اور بڑی نمایاں چوڑان میں ہو گا، اس سے تمام مرے، سڑے، گلے اگنے لگیں گے اس طرح کے ہو جائیں گے کہ جو انہیں پہچانتا ہو وہ اگر انہیں اب دیکھ لے تو بیک نگاہ پہچان لے پھر روحیں چھوڑی جائیں گی اور ہر روح اپنے جسم میں آ جائے گی یہی معنی ہیں آیت «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» ۱؎ [81-التكوير:7] ‏‏‏‏ کے یعنی ’ روحیں جسموں میں ملا دی جائیں گی ‘۔ اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ’ مومنوں کا جوڑا حوروں سے لگایا جائے گا اور کافروں کا شیطانوں کے ساتھ ‘۔ [ تذکرہ قرطبی ] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہوتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» ۱؎ [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ جمہور کی قراءت یہی ہے اہل جاہلیت لڑکیوں کو ناپسند کرتے تھے اور انہیں زندہ درگور کر دیا کرتے تھے، ان سے قیامت کے دن سوال ہو گا کہ یہ کیوں قتل کی گئیں؟ تاکہ ان کے قاتلوں کو زیادہ ڈانٹ ڈپٹ اور شرمندگی ہو اور یہ بھی سمجھ لیجئے کہ جب مظلوم سے سوال ہوا تو ظالم کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ خود پوچھیں گی کہ انہیں کس بنا پر زندہ درگور کیا گیا؟ اس کے متعلق احادیث سنئے مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں نے قصد کیا کہ لوگوں کو حالت حمل کی مجامعت سے روک دوں لیکن میں نے دیکھا کہ رومی اور فارسی یہ کام کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔‏‏‏‏“ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا یعنی بروقت نطفہ کو باہر ڈال دینے کے بارے میں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ درپردہ زندہ گاڑ دینا ہے اور اسی کا بیان «وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ» [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ میں ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1442:صحیح] ‏‏‏‏ سیدنا سلمہ بن یزید رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی سرکار نبوت میں حاضر ہو کر سوال کرتے ہیں کہ ہماری ماں امیر زادی تھیں وہ صلہ رحمی کرتی تھیں مہمان نوازی کرتی تھیں اور بھی نیک کام بہت کچھ کرتی تھیں، لیکن جاہلیت میں ہی مر گئی ہیں تو کیا اس کے یہ نیک کام اسے کچھ نفع دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا کہ اس نے ہماری ایک بہن کو زندہ دفن کر دیا ہے کیا وہ بھی اسے کچھ نفع دے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زندہ گاڑی ہوئی اور زندہ گاڑنے والی جہنم میں ہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ اسلام کو قبول کرلے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:478/3:صحیح] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں ہے { زندہ دفن کرنے والی اور جسے دفن کیا ہے دونوں جہنم میں ہیں } ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا کے سوال پر کہ جنت میں کون جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبی، شہید، بچے اور زندہ درگور کی ہوئی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:409/5:صحیح] ‏‏‏‏ یہ حدیث مرسل ہے، حسن رحمہ اللہ سے جسے بعض محدثین نے قبولیت کا مرتبہ دیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”مشرکوں کے چھوٹی عمر میں مرے ہوئے بچے جنتی ہیں جو انہیں جہنمی کہے وہ جھوٹا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» “ [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ { سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ! میں نے جاہلیت کے زمانے میں اپنی بچیوں کو زندہ دبا دیا ہے میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غلام والا تو میں ہوں نہیں، البتہ میرے پاس اونٹ ہیں فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک اونٹ اللہ کے نام پر قربان کرو۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند بزار:2280:حسن] ‏‏‏‏

دوسری روایت میں ہے کہ میں نے اپنی آٹھ لڑکیاں اس طرح زندہ دبا دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر چاہے تو یوں کر۔ ۱؎ [ابن مندہ:3/353:حسن] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { بارہ تیرہ لڑکیاں زندہ دفن کر دی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی گنتی کے مطابق غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا بہت بہتر میں یہی کروں گا، دوسرے سال وہاں ایک سو اونٹ لے کر آئے اور کہنے لگے، اے اللہ کے رسول! یہ میری قوم کا صدقہ ہے جو اس کے بدلے ہے جو میں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ان اونٹوں کو لے جاتے تھے اور ان کا قیسیہ رکھ چھوڑا تھا }۔ ۱؎ [طبرانی:138/18،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہے کہ ’ نامہ اعمال بانٹے جائیں گے کسی کے داہنے ہاتھ میں اور کسی کے بائیں ہاتھ میں، اے ابن آدم! تو لکھوا رہا ہے جو لپیٹ کر پھیلا کر تجھے دیا جائے گا دیکھ لے گا کہ کیا لکھوا کے لایا ہے، آسمان گھسیٹ لیا جائے گا اور کھینچ لیا جائے گا اور سمیٹ لیا جائے گا اور برباد ہو جائے گا جہنم بھڑکائی جائے گی، اللہ کے غضب اور بنی آدم کے گناہوں سے اس کی آگ تیز ہو جائے گی، جنت جنتیوں کے پاس آ جائے گی، جب یہ تمام کام ہو چکیں گے اس وقت ہر شخص جان لے گا کہ اس نے اپنی دنیا کی زندگی میں کیا کچھ اعمال کیے تھے، وہ سب عمل اس کے سامنے موجود ہوں گے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا» ۱؎ [3-آل عمران:30] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ جس دن ہر شخص اپنے کیے ہوئے اعمال کو پا لے گا نیک ہیں تو سامنے دیکھ لے گا اور بد ہیں تو اس دن وہ آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی ‘۔ اور جگہ ہے «يُنَبَّأُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ» ۱؎ [75-القيامة:13] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن انسان کو اس کے تمام اگلے پچھلے اعمال سے تنبیہہ کی جائے گی ‘۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سورت کو سنتے رہے اور اس کو سنتے ہی فرمایا: ”اگلی تمام باتیں اسی لیے بیان ہوئی تھیں۔‏‏‏‏“
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
عَلِمَتۡ نَفۡسٌ مَّاۤ اَحۡضَرَتۡ ﴿ؕ۱۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس وقت ہر شخص کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تو اس دن ہر شخص جان لے گا جو کچھ لے کر آیا ہوگا
احمد رضا خان بریلوی
ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو حاضر لائی
علامہ محمد حسین نجفی
تب ہر شخص کو معلوم ہو جائے گا کہ اس نے کیا لا کر پیش کیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
ہر جان، جان لے گی جو لے کر آئی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یعنی سورج بے نور ہو گا ٭٭

یعنی سورج بے نور ہو گا، جاتا رہے گا، اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”سورج، چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بے نور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائے گا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائے گی۔‏‏‏‏“ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏‏‏‏ اور ایک حدیث میں سورج چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے۔ ۱؎ [مسند ابو یعلی:4116:ضعیف] ‏‏‏‏ صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ { سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3200] ‏‏‏‏ امام بخاری رحمہ اللہ اسے «كِتَابِ بِدْءِ الْخَلْقِ» میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے امام صاحب کی عادت ہے۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی کہ قیامت کے دن یہ ہو گا، تو حسن رحمہ اللہ کہنے لگے ان کا کیا گناہ ہے؟ فرمایا ”میں نے حدیث کہی اور تم اس پر باتیں بناتے ہو، سورج کی قیامت والے دن یہ حالت ہو گی ستارے سارے متغیر ہو کر جھڑ جائیں گے جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انْـتَثَرَتْ» ۱؎ [82-الإنفطار:2] ‏‏‏‏ یہ بھی گدلے اور بے نور ہو کر بجھ جائیں گے۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ہوں گی لوگ اپنے بازاروں میں ہوں گے کہ اچانک سورج کی روشنی جاتی رہے گی اور پھر ناگہاں ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگیں گے پھر اچانک پہاڑ زمین پر گر پڑیں گے اور زمین زور زور سے جھٹکے لینے لگے گی اور بے طرح ہلنے لگے گی بس پھر کیا انسان، کیا جنات، کیا جانور اور کیا جنگلی جانور سب آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے، جانور بھی جو انسانوں سے بھاگے پھرتے ہیں انسانوں کے پاس آ جائیں گے لوگوں کو اس قدر بدحواسی اور گھبراہٹ ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال اونٹنیاں جو بیاہنے والیاں ہوں گی ان کی بھی خیر خبر نہ لیں گے۔ جنات کہیں گے کہ ہم جاتے ہیں کہ تحقیق کریں کیا ہو رہا ہے لیکن وہ آئیں گے تو دیکھیں گے کہ سمندروں میں بھی آگ لگ رہی ہے، اسی حال میں ایک دم زمین پھٹنے لگے گی اور آسمان بھی ٹوٹنے لگیں گے، ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمانوں کا یہی حال ہو گا ادھر سے ایک تند ہوا چلے گی جس سے تمام جاندار مر جائیں گے۔ ۱؎ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏

ایک اور روایت میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”سارے ستارے اور جن جن کی اللہ کے سوا عبادت کی گئی ہے سب جہنم میں گرا دیئے جائیں صرف عیسیٰ علیہ السلام اور مریم سلام اللہ علیہا بچ رہیں گے اگر یہ بھی اپنی عبادت سے خوش ہوتے تو یہ بھی جہنم میں داخل کر دئیے جاتے“ }۔ ۱؎ [ابن ابی حاتم:] ‏‏‏‏ پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے اور بے نام و نشان ہو جائیں گے، زمین چٹیل اور ہموار میدان رہ جائے گی، اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی، نہ ان کی کوئی نگرانی کرے گا نہ چرائے چگائے گا، نہ دودھ نکالے گا نہ سواری لے گا۔ «عِشَارُ» جمع ہے «عُشَرَاءُ» کی، جو حاملہ اونٹنی دسویں مہینے میں لگ جائے اسے «عُشَرَاءُ» کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ گھبراہٹ اور بدحواسی بےچینی اور پریشانی اس قدر ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال کی بھی پرواہ نہ رہے گی قیامت کی ان بلاؤں نے دل اڑا دیا ہو گا کلیجے منہ کو آئیں گے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کے دن ہو گا اور لوگوں کو اس سے کچھ سروکار نہ ہو گا ہاں ان کے دیکھنے میں یہ ہو گا، اس قول کے قائل «عِشَارُ» کے کئی معنی بیان کرتے ہیں، ایک تو یہ کہتے ہیں اس سے مراد بادل ہیں جو دنیا کی بربادی کی وجہ سے آسمان و زمین کے درمیان پھرتے پھریں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ زمین ہے جس کا عشر دیا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد گھر ہیں جو پہلے آباد تھے اب ویران ہیں۔ امام قرطبی رحمہ اللہ ان اقوال کو بیان کر کے ترجیح اسی کو دیتے ہیں کہ مراد اس سے اونٹنیاں ہیں اور اکثر مفسرین کا یہی قول ہے اور میں تو یہی کہتا ہوں کہ سلف سے اور ائمہ سے اس کے سوا کچھ وارد ہی نہیں ہوا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اور وحشی جانور جمع کیے جائیں گے، جیسے فرمان ہے «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ» ۱؎ ۱؎ [6-الأنعام:38] ‏‏‏‏ یعنی ’ زمین پر چلنے والے کل جانور اور ہوا میں اڑنے والے کل پرند بھی تمہاری طرح گروہ ہیں، ہم نے اپنی کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی، پھر یہ سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے ‘۔ سب جانداروں کا حشر اسی کے پاس ہو گا یہاں تک کہ مکھیاں بھی، ان سب میں اللہ تعالیٰ انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا، ان جانوروں کا حشر ان کی موت ہی ہے، البتہ جن و انس اللہ کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے اور ان سے حساب کتاب ہو گا۔ ربیع بن خثیم نے کہا مراد وحشیوں کے حشر سے ان پر اللہ کا امر آنا ہے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ سن کر فرمایا کہ ”اس سے مراد موت ہے، یہ تمام جانور بھی ایک دوسرے کے ساتھ اور انسانوں کے ساتھ ہو جائیں گے۔‏‏‏‏“ خود قرآن میں اور جگہ ہے «وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ» ۱؎ [38-ص:19] ‏‏‏‏ یعنی ’ پرند جمع کیے ہوئے ‘، پس ٹھیک مطلب اس آیت کا بھی یہی ہے کہ ’ وحشی جانور جمع کیے جائیں گے ‘۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی سے پوچھا: جہنم کہاں ہے؟ اس نے کہا سمندر میں، آپ نے فرمایا: ”میرے خیال میں یہ سچا ہے قرآن کہتا ہے «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» ۱؎ [52-الطور:6] ‏‏‏‏ اور فرماتا ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» ۱؎ [81-التكوير:6] ‏‏‏‏۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ مغربی ہوائیں بھیجے گا وہ اسے بھڑکا دیں گی اور شعلے مارتی ہوئی آگ بن جائے گا۔‏‏‏‏“ «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» ۱؎ [52-الطور:6] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں اس کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔

سیدنا معاویہ بن سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”بحر روم میں برکت ہے یہ زمین کے درمیان میں ہے، سب نہریں اس میں گرتی ہیں اور بحر کبیر بھی اس میں پڑتا ہے، اس کے نیچے کنویں ہیں جن کے منہ تانبہ سے بند کیے ہوئے ہیں قیام کے دن وہ سلگ اٹھیں گے۔‏‏‏‏“ یہ اثر عجیب ہے اور ساتھ ہی غریب بھی ہے۔ ہاں ابوداؤد میں ایک حدیث ہے کہ { سمندر کا سفر صرف حاجی کریں اور عمرہ کرنے والے یا جہاد کرنے والے غازی اس لیے کہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے پانی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2489،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اس کا بیان بھی سورۃ فاطر کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ «سُجِّرَتْ» کے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ خشک کر دیا جائے گا، ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے گا۔ یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ بہا دیا جائے گا اور ادھر ادھر بہ نکلے گا۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہر قسم کے لوگ یکجا جمع کر دئیے جائیں گے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ» ۱؎ [37-الصافات:22] ‏‏‏‏ یعنی ’ ظالموں کو اور ان کے جوڑوں یعنی ان جیسوں کو جمع کرو ‘۔ حدیث میں ہے { ہر شخص کا اس قوم کے ساتھ حشر کیا جائے گا جو اس جیسے اعمال کرتی ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُنْتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً» * «فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ» * «وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ» * «وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ» ۱؎ [56-الواقعة:10-7] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم تین طرح کے گروہ ہو جاؤ گے کچھ وہ جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال ہوں گے کچھ بائیں ہاتھ والے کچھ سبقت کرنے والے ‘ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36451:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھتے ہوئے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”ہر جماعت اپنے جیسوں میں مل جائیگی۔‏‏‏‏“ دوسری روایت میں ہے کہ ”وہ دو شخص جن کے عمل ایک جیسے ہوں وہ یا تو جنت میں ساتھ رہیں گے یا جہنم میں ساتھ جلیں گے۔‏‏‏‏“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو فرمایا: ”نیک نیکوں کے ساتھ مل جائیں گے اور بد بدوں کے ساتھ آگ میں۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو سب خاموش رہے، آپ نے فرمایا: ”لو میں بتاؤں، آدمی کا جوڑا جنت میں اسی جیسا ہو گا اسی طرح جہنم میں بھی۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”مطلب اس سے یہی ہے کہ تین قسم کے لوگ ہو جائیں گے یعنی «أَصْحَابُ الْمَيْمَنَ» ، «اصحاب الشمال» اور «لسَّابِقُینَ» ۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر قسم کے لوگ ایک ساتھ ہوں گے یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی پسند کرتے ہیں اور یہی ٹھیک بھی ہے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ ”عرش کے پاس سے پانی کا ایک دریا جاری ہو گا جو چالیس سال تک بہتا رہے گا اور بڑی نمایاں چوڑان میں ہو گا، اس سے تمام مرے، سڑے، گلے اگنے لگیں گے اس طرح کے ہو جائیں گے کہ جو انہیں پہچانتا ہو وہ اگر انہیں اب دیکھ لے تو بیک نگاہ پہچان لے پھر روحیں چھوڑی جائیں گی اور ہر روح اپنے جسم میں آ جائے گی یہی معنی ہیں آیت «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» ۱؎ [81-التكوير:7] ‏‏‏‏ کے یعنی ’ روحیں جسموں میں ملا دی جائیں گی ‘۔ اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ’ مومنوں کا جوڑا حوروں سے لگایا جائے گا اور کافروں کا شیطانوں کے ساتھ ‘۔ [ تذکرہ قرطبی ] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہوتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» ۱؎ [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ جمہور کی قراءت یہی ہے اہل جاہلیت لڑکیوں کو ناپسند کرتے تھے اور انہیں زندہ درگور کر دیا کرتے تھے، ان سے قیامت کے دن سوال ہو گا کہ یہ کیوں قتل کی گئیں؟ تاکہ ان کے قاتلوں کو زیادہ ڈانٹ ڈپٹ اور شرمندگی ہو اور یہ بھی سمجھ لیجئے کہ جب مظلوم سے سوال ہوا تو ظالم کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ خود پوچھیں گی کہ انہیں کس بنا پر زندہ درگور کیا گیا؟ اس کے متعلق احادیث سنئے مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں نے قصد کیا کہ لوگوں کو حالت حمل کی مجامعت سے روک دوں لیکن میں نے دیکھا کہ رومی اور فارسی یہ کام کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔‏‏‏‏“ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا یعنی بروقت نطفہ کو باہر ڈال دینے کے بارے میں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ درپردہ زندہ گاڑ دینا ہے اور اسی کا بیان «وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ» [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ میں ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1442:صحیح] ‏‏‏‏ سیدنا سلمہ بن یزید رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی سرکار نبوت میں حاضر ہو کر سوال کرتے ہیں کہ ہماری ماں امیر زادی تھیں وہ صلہ رحمی کرتی تھیں مہمان نوازی کرتی تھیں اور بھی نیک کام بہت کچھ کرتی تھیں، لیکن جاہلیت میں ہی مر گئی ہیں تو کیا اس کے یہ نیک کام اسے کچھ نفع دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا کہ اس نے ہماری ایک بہن کو زندہ دفن کر دیا ہے کیا وہ بھی اسے کچھ نفع دے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زندہ گاڑی ہوئی اور زندہ گاڑنے والی جہنم میں ہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ اسلام کو قبول کرلے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:478/3:صحیح] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں ہے { زندہ دفن کرنے والی اور جسے دفن کیا ہے دونوں جہنم میں ہیں } ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا کے سوال پر کہ جنت میں کون جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبی، شہید، بچے اور زندہ درگور کی ہوئی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:409/5:صحیح] ‏‏‏‏ یہ حدیث مرسل ہے، حسن رحمہ اللہ سے جسے بعض محدثین نے قبولیت کا مرتبہ دیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”مشرکوں کے چھوٹی عمر میں مرے ہوئے بچے جنتی ہیں جو انہیں جہنمی کہے وہ جھوٹا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» “ [81-التكوير:8] ‏‏‏‏ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ { سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ! میں نے جاہلیت کے زمانے میں اپنی بچیوں کو زندہ دبا دیا ہے میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غلام والا تو میں ہوں نہیں، البتہ میرے پاس اونٹ ہیں فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک اونٹ اللہ کے نام پر قربان کرو۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند بزار:2280:حسن] ‏‏‏‏

دوسری روایت میں ہے کہ میں نے اپنی آٹھ لڑکیاں اس طرح زندہ دبا دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر چاہے تو یوں کر۔ ۱؎ [ابن مندہ:3/353:حسن] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { بارہ تیرہ لڑکیاں زندہ دفن کر دی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی گنتی کے مطابق غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا بہت بہتر میں یہی کروں گا، دوسرے سال وہاں ایک سو اونٹ لے کر آئے اور کہنے لگے، اے اللہ کے رسول! یہ میری قوم کا صدقہ ہے جو اس کے بدلے ہے جو میں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ان اونٹوں کو لے جاتے تھے اور ان کا قیسیہ رکھ چھوڑا تھا }۔ ۱؎ [طبرانی:138/18،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہے کہ ’ نامہ اعمال بانٹے جائیں گے کسی کے داہنے ہاتھ میں اور کسی کے بائیں ہاتھ میں، اے ابن آدم! تو لکھوا رہا ہے جو لپیٹ کر پھیلا کر تجھے دیا جائے گا دیکھ لے گا کہ کیا لکھوا کے لایا ہے، آسمان گھسیٹ لیا جائے گا اور کھینچ لیا جائے گا اور سمیٹ لیا جائے گا اور برباد ہو جائے گا جہنم بھڑکائی جائے گی، اللہ کے غضب اور بنی آدم کے گناہوں سے اس کی آگ تیز ہو جائے گی، جنت جنتیوں کے پاس آ جائے گی، جب یہ تمام کام ہو چکیں گے اس وقت ہر شخص جان لے گا کہ اس نے اپنی دنیا کی زندگی میں کیا کچھ اعمال کیے تھے، وہ سب عمل اس کے سامنے موجود ہوں گے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا» ۱؎ [3-آل عمران:30] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ جس دن ہر شخص اپنے کیے ہوئے اعمال کو پا لے گا نیک ہیں تو سامنے دیکھ لے گا اور بد ہیں تو اس دن وہ آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی ‘۔ اور جگہ ہے «يُنَبَّأُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ» ۱؎ [75-القيامة:13] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن انسان کو اس کے تمام اگلے پچھلے اعمال سے تنبیہہ کی جائے گی ‘۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سورت کو سنتے رہے اور اس کو سنتے ہی فرمایا: ”اگلی تمام باتیں اسی لیے بیان ہوئی تھیں۔‏‏‏‏“
14۔ 1 یہ جواب ہے یعنی مذکورہ امور ظہور پذیر ہوں گے، جن میں سے پہلے چھ کا تعلق دنیا سے ہے اور دوسرے چھ امور کا آخرت سے۔ اس وقت ہر ایک کے سامنے اس کی حقیقت آجائے گی۔
(آیت 14) {عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْ:} شروع سورت سے یہاں تک کل بارہ چیزوں کا ذکر ہوا ہے، جب یہ بارہ چیزیں ہو جائیں گی تو کیا ہوگا؟ اس کا جواب ہے: «‏‏‏‏عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْ» کہ ہر جان جو کچھ لے کر آئی ہے اسے جان لے گی۔ {” نَفْسٌ “} کی تنکیر عموم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ” ہر جان“ کیا گیا ہے۔
فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِالۡخُنَّسِ ﴿ۙ۱۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے
احمد رضا خان بریلوی
تو قسم ہے ان کی جو الٹے پھریں،
علامہ محمد حسین نجفی
تو نہیں! میں قَسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے۔
عبدالسلام بن محمد
پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں ان (ستاروں) کی جو پیچھے ہٹنے والے ہیں !
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ستارے، نیل گائے اور ہرن ٭٭

سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { میں نے صبح کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سورۃ کی تلاوت کرتے ہوئے سنا اس نماز میں میں بھی مقتدیوں میں شامل تھا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:456] ‏‏‏‏ یہ ستاروں کی قسمیں کھائی گئی ہیں، جو دن کے وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں یعنی چھپ جاتے ہیں، اور رات کو ظاہر ہوتے ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں اور بھی صحابہ تابعین وغیرہ سے اس کی یہی تفسیر مروی ہے - بعض ائمہ نے فرمایا ہے طلوع کے وقت ستاروں کو «خُنَّسِ» کہا جاتا ہے اور اپنی اپنی جگہ پر انہیں «جَوَارِ» کہا جاتا ہے اور چھپ جانے کے وقت انہیں «كُُنَّسِ» کہا جاتا ہے۔ بعض نے کہا ہے اس سے مراد جنگلی گائے ہے، یہ بھی مروی ہے کہ مراد ہرن ہے۔ ابراہیم رحمہ اللہ نے مجاہد رحمہ اللہ سے اس کے معنی پوچھے تو مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ”ہم نے اس بارے میں کچھ نہیں سنا البتہ لوگ کہتے ہیں کہ اس سے مراد ستارے ہیں۔‏‏‏‏“ انہوں نے پھر سوال کیا کہ جو تم نے سنا ہو وہ کہو تو فرمایا ”ہم سنتے ہیں کہ اس سے مراد نیل گائے ہے، جبکہ وہ اپنی جگہ چھپ جائے۔‏‏‏‏“ ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا ”وہ مجھ پر جھوٹ باندھتے ہیں، جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے «أَسْفَلَ» کو اعلیٰ اور اعلی کو «أَسْفَلَ» کا ضامن بنایا۔‏‏‏‏“

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس میں سے کسی کی تعیین نہیں کی اور فرمایا ہے ”ممکن ہے تینوں چیزیں مراد ہوں یعنی ستارے، نیل گائے اور ہرن۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/467] ‏‏‏‏ «عَسْعَسَ» کے معنی ہیں اندھیری والی ہوئی اور اٹھ کھڑی ہوئی، اور لوگوں کو ڈھانپ لیا اور جانے لگی۔ صبح کی نماز کے وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ نکلے اور فرمانے لگے کہ ”وتر کے بارے میں پوچھنے والے کہاں ہیں؟“ پھر یہ آیت پڑھی۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہیں کہ رات جب جانے لگے کیونکہ اس کے مقابلہ میں ہے کہ جب صبح چمکنے لگے۔ شاعروں نے «عَسْعَسَ» کو «أَدْبَرَ» کے معنی میں باندھا ہے میرے نزدیک ٹھیک معنی یہ ہیں کہ قسم ہے رات کی جب وہ آئے اور اندھیرا پھیلائے اور قسم ہے دن کی جب وہ آئے اور روشنی پھیلائے۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» ‏‏‏‏ ۱؎ [92-الليل:2،1] ‏‏‏‏ اور جگہ ہے «وَالضُّحَىٰ وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ» ۱؎ [93-الضحى:2،1] ‏‏‏‏ اور جگہ ہے «‏‏‏‏فَالِقُ الْاِصْبَاحِ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَنًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْـبَانًا ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ» ۱؎ [6-الأنعام:96] ‏‏‏‏ اور بھی اس قسم کی آیتیں بہت سی ہیں مطلب سب کا یکساں ہے، ہاں بیشک اس لفظ کے معنی پیچھے ہٹنے کے ہی ہیں۔ علماء اصول نے فرمایا ہے کہ یہ لفظ آگے آنے اور پیچھے جانے کے دونوں معنی میں آتا ہے۔ اس بناء پر دونوں معنی ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ «واللہ اعلم»

’ اور قسم ہے صبح کی جبکہ وہ طلوع ہو اور روشنی کے ساتھ آئے ‘۔ پھر ان قسموں کے بعد فرمایا ہے کہ ’ یہ قرآن ایک بزرگ، شریف، پاکیزہ رو، خوش منظر فرشتے کا کلام ہے (‏‏‏‏یعنی جبرائیل علیہ السلام کا)، وہ قوت والے ہیں ‘۔ جیسے کہ اور جگہ ہے «عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ» ‏‏‏‏ ۱؎ [53-النجم:6،5] ‏‏‏‏ یعنی ’ سخت مضبوط اور سخت پکڑ اور فعل والا فرشتہ، وہ اللہ عز و جل کے پاس جو عرش والا ہے بلند پایہ اور ذی مرتبہ ہے ‘۔ وہ نور کے ستر پردوں میں جا سکتے ہیں اور انہیں عام اجازت ہے۔ ان کی بات وہاں سنی جاتی ہے، برتر فرشتے ان کے فرمانبردار ہیں، آسمانوں میں ان کی سرداری ہے اور فرشتے ان کے تابع فرمان ہیں۔ وہ اس پیغام رسانی پر مقرر ہیں کہ اللہ کا کلام اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائیں، یہ فرشتے اللہ کے امین ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 16،15) {فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ …: ”اَلْخُنَّسُ“ ”خَنَسَ“} (ض) (پیچھے ہٹنا) سے {”خَانِسٌ“} کی جمع بروزن {”رُكَّعٌ“} ہے۔ {”خَنَّاسٌ“} بھی اسی سے ہے۔ اسی طرح {” الْكُنَّسِ”كَانِسٌ“} کی جمع ہے۔ {”كِنَاسٌ“} ہرن وغیرہ کی درختوں میں بنائی ہوئی جگہ، جہاں وہ چھپ جاتے ہیں۔ {”كَنَسَ“} (ض) چھپنے کی جگہ میں داخل ہو گیا، چھپ گیا۔ {” الْجَوَارِ”جَرٰي يَجْرِيْ“} سے {”جَارِيَةٌ“} کی جمع ہے۔ مراد سورج، چاند اور ستارے ہیں۔ انھیں {”اَلْخُنَّسُ“} (پیچھے ہٹنے والے) اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ سب مغرب میں غروب ہونے کے بعد پھر پیچھے یعنی مشرق کی طرف آنا شروع ہو جاتے ہیں، یہاں تک کہ مشرق سے دوبارہ نمودار ہو جاتے ہیں۔ {” الْجَوَارِ “} چلنے والے، یعنی ان کا کام ہی چلتے رہنا ہے، مغرب سے واپس مشرق کی طرف اور وہاں سے دوبارہ مغرب کی طرف۔ {” الْكُنَّسِ “} چھپنے والے، یعنی مغرب سے مشرق کی طرف چلتے ہوئے نظر نہیں آتے۔
الۡجَوَارِ الۡکُنَّسِ ﴿ۙ۱۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پلٹنے اور چھپ جانے والے تاروں کی
مولانا محمد جوناگڑھی
چلنے پھرنے والے چھپنے والے ستاروں کی
احمد رضا خان بریلوی
سیدھے چلیں تھم رہیں
علامہ محمد حسین نجفی
سیدھے چلنے اور چھپ جانے والے ستاروں کی۔
عبدالسلام بن محمد
جو چلنے والے ہیں، چھپ جانے والے ہیں !
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ستارے، نیل گائے اور ہرن ٭٭

سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { میں نے صبح کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سورۃ کی تلاوت کرتے ہوئے سنا اس نماز میں میں بھی مقتدیوں میں شامل تھا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:456] ‏‏‏‏ یہ ستاروں کی قسمیں کھائی گئی ہیں، جو دن کے وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں یعنی چھپ جاتے ہیں، اور رات کو ظاہر ہوتے ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں اور بھی صحابہ تابعین وغیرہ سے اس کی یہی تفسیر مروی ہے - بعض ائمہ نے فرمایا ہے طلوع کے وقت ستاروں کو «خُنَّسِ» کہا جاتا ہے اور اپنی اپنی جگہ پر انہیں «جَوَارِ» کہا جاتا ہے اور چھپ جانے کے وقت انہیں «كُُنَّسِ» کہا جاتا ہے۔ بعض نے کہا ہے اس سے مراد جنگلی گائے ہے، یہ بھی مروی ہے کہ مراد ہرن ہے۔ ابراہیم رحمہ اللہ نے مجاہد رحمہ اللہ سے اس کے معنی پوچھے تو مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ”ہم نے اس بارے میں کچھ نہیں سنا البتہ لوگ کہتے ہیں کہ اس سے مراد ستارے ہیں۔‏‏‏‏“ انہوں نے پھر سوال کیا کہ جو تم نے سنا ہو وہ کہو تو فرمایا ”ہم سنتے ہیں کہ اس سے مراد نیل گائے ہے، جبکہ وہ اپنی جگہ چھپ جائے۔‏‏‏‏“ ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا ”وہ مجھ پر جھوٹ باندھتے ہیں، جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے «أَسْفَلَ» کو اعلیٰ اور اعلی کو «أَسْفَلَ» کا ضامن بنایا۔‏‏‏‏“

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس میں سے کسی کی تعیین نہیں کی اور فرمایا ہے ”ممکن ہے تینوں چیزیں مراد ہوں یعنی ستارے، نیل گائے اور ہرن۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/467] ‏‏‏‏ «عَسْعَسَ» کے معنی ہیں اندھیری والی ہوئی اور اٹھ کھڑی ہوئی، اور لوگوں کو ڈھانپ لیا اور جانے لگی۔ صبح کی نماز کے وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ نکلے اور فرمانے لگے کہ ”وتر کے بارے میں پوچھنے والے کہاں ہیں؟“ پھر یہ آیت پڑھی۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہیں کہ رات جب جانے لگے کیونکہ اس کے مقابلہ میں ہے کہ جب صبح چمکنے لگے۔ شاعروں نے «عَسْعَسَ» کو «أَدْبَرَ» کے معنی میں باندھا ہے میرے نزدیک ٹھیک معنی یہ ہیں کہ قسم ہے رات کی جب وہ آئے اور اندھیرا پھیلائے اور قسم ہے دن کی جب وہ آئے اور روشنی پھیلائے۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» ‏‏‏‏ ۱؎ [92-الليل:2،1] ‏‏‏‏ اور جگہ ہے «وَالضُّحَىٰ وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ» ۱؎ [93-الضحى:2،1] ‏‏‏‏ اور جگہ ہے «‏‏‏‏فَالِقُ الْاِصْبَاحِ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَنًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْـبَانًا ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ» ۱؎ [6-الأنعام:96] ‏‏‏‏ اور بھی اس قسم کی آیتیں بہت سی ہیں مطلب سب کا یکساں ہے، ہاں بیشک اس لفظ کے معنی پیچھے ہٹنے کے ہی ہیں۔ علماء اصول نے فرمایا ہے کہ یہ لفظ آگے آنے اور پیچھے جانے کے دونوں معنی میں آتا ہے۔ اس بناء پر دونوں معنی ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ «واللہ اعلم»

’ اور قسم ہے صبح کی جبکہ وہ طلوع ہو اور روشنی کے ساتھ آئے ‘۔ پھر ان قسموں کے بعد فرمایا ہے کہ ’ یہ قرآن ایک بزرگ، شریف، پاکیزہ رو، خوش منظر فرشتے کا کلام ہے (‏‏‏‏یعنی جبرائیل علیہ السلام کا)، وہ قوت والے ہیں ‘۔ جیسے کہ اور جگہ ہے «عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ» ‏‏‏‏ ۱؎ [53-النجم:6،5] ‏‏‏‏ یعنی ’ سخت مضبوط اور سخت پکڑ اور فعل والا فرشتہ، وہ اللہ عز و جل کے پاس جو عرش والا ہے بلند پایہ اور ذی مرتبہ ہے ‘۔ وہ نور کے ستر پردوں میں جا سکتے ہیں اور انہیں عام اجازت ہے۔ ان کی بات وہاں سنی جاتی ہے، برتر فرشتے ان کے فرمانبردار ہیں، آسمانوں میں ان کی سرداری ہے اور فرشتے ان کے تابع فرمان ہیں۔ وہ اس پیغام رسانی پر مقرر ہیں کہ اللہ کا کلام اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائیں، یہ فرشتے اللہ کے امین ہیں۔
16۔ 1 یہ ستارے دن کے وقت اپنے منظر سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور نظر نہیں آتے اور یہ زحل، مستری، مریخ، زہرہ، عطارد ہیں، یہ خاص طور پر سورج کے رخ پر ہوتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ سارے ہی ستارے مراد ہیں، کیونکہ سب ہی اپنے غائب ہونے کی جگہ پر غائب ہوجاتے ہیں یا دن کو چھپے رہتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ الَّیۡلِ اِذَا عَسۡعَسَ ﴿ۙ۱۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور رات کی جبکہ وہ رخصت ہوئی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور رات کی جب جانے لگے
احمد رضا خان بریلوی
اور رات کی جب پیٹھ دے
علامہ محمد حسین نجفی
اور قَسم کھاتا ہوں رات کی جب وہ جانے لگے۔
عبدالسلام بن محمد
اور رات کی جب وہ جانے لگتی ہے!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ستارے، نیل گائے اور ہرن ٭٭

سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { میں نے صبح کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سورۃ کی تلاوت کرتے ہوئے سنا اس نماز میں میں بھی مقتدیوں میں شامل تھا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:456] ‏‏‏‏ یہ ستاروں کی قسمیں کھائی گئی ہیں، جو دن کے وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں یعنی چھپ جاتے ہیں، اور رات کو ظاہر ہوتے ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں اور بھی صحابہ تابعین وغیرہ سے اس کی یہی تفسیر مروی ہے - بعض ائمہ نے فرمایا ہے طلوع کے وقت ستاروں کو «خُنَّسِ» کہا جاتا ہے اور اپنی اپنی جگہ پر انہیں «جَوَارِ» کہا جاتا ہے اور چھپ جانے کے وقت انہیں «كُُنَّسِ» کہا جاتا ہے۔ بعض نے کہا ہے اس سے مراد جنگلی گائے ہے، یہ بھی مروی ہے کہ مراد ہرن ہے۔ ابراہیم رحمہ اللہ نے مجاہد رحمہ اللہ سے اس کے معنی پوچھے تو مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ”ہم نے اس بارے میں کچھ نہیں سنا البتہ لوگ کہتے ہیں کہ اس سے مراد ستارے ہیں۔‏‏‏‏“ انہوں نے پھر سوال کیا کہ جو تم نے سنا ہو وہ کہو تو فرمایا ”ہم سنتے ہیں کہ اس سے مراد نیل گائے ہے، جبکہ وہ اپنی جگہ چھپ جائے۔‏‏‏‏“ ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا ”وہ مجھ پر جھوٹ باندھتے ہیں، جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے «أَسْفَلَ» کو اعلیٰ اور اعلی کو «أَسْفَلَ» کا ضامن بنایا۔‏‏‏‏“

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس میں سے کسی کی تعیین نہیں کی اور فرمایا ہے ”ممکن ہے تینوں چیزیں مراد ہوں یعنی ستارے، نیل گائے اور ہرن۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/467] ‏‏‏‏ «عَسْعَسَ» کے معنی ہیں اندھیری والی ہوئی اور اٹھ کھڑی ہوئی، اور لوگوں کو ڈھانپ لیا اور جانے لگی۔ صبح کی نماز کے وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ نکلے اور فرمانے لگے کہ ”وتر کے بارے میں پوچھنے والے کہاں ہیں؟“ پھر یہ آیت پڑھی۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہیں کہ رات جب جانے لگے کیونکہ اس کے مقابلہ میں ہے کہ جب صبح چمکنے لگے۔ شاعروں نے «عَسْعَسَ» کو «أَدْبَرَ» کے معنی میں باندھا ہے میرے نزدیک ٹھیک معنی یہ ہیں کہ قسم ہے رات کی جب وہ آئے اور اندھیرا پھیلائے اور قسم ہے دن کی جب وہ آئے اور روشنی پھیلائے۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» ‏‏‏‏ ۱؎ [92-الليل:2،1] ‏‏‏‏ اور جگہ ہے «وَالضُّحَىٰ وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ» ۱؎ [93-الضحى:2،1] ‏‏‏‏ اور جگہ ہے «‏‏‏‏فَالِقُ الْاِصْبَاحِ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَنًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْـبَانًا ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ» ۱؎ [6-الأنعام:96] ‏‏‏‏ اور بھی اس قسم کی آیتیں بہت سی ہیں مطلب سب کا یکساں ہے، ہاں بیشک اس لفظ کے معنی پیچھے ہٹنے کے ہی ہیں۔ علماء اصول نے فرمایا ہے کہ یہ لفظ آگے آنے اور پیچھے جانے کے دونوں معنی میں آتا ہے۔ اس بناء پر دونوں معنی ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ «واللہ اعلم»

’ اور قسم ہے صبح کی جبکہ وہ طلوع ہو اور روشنی کے ساتھ آئے ‘۔ پھر ان قسموں کے بعد فرمایا ہے کہ ’ یہ قرآن ایک بزرگ، شریف، پاکیزہ رو، خوش منظر فرشتے کا کلام ہے (‏‏‏‏یعنی جبرائیل علیہ السلام کا)، وہ قوت والے ہیں ‘۔ جیسے کہ اور جگہ ہے «عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ» ‏‏‏‏ ۱؎ [53-النجم:6،5] ‏‏‏‏ یعنی ’ سخت مضبوط اور سخت پکڑ اور فعل والا فرشتہ، وہ اللہ عز و جل کے پاس جو عرش والا ہے بلند پایہ اور ذی مرتبہ ہے ‘۔ وہ نور کے ستر پردوں میں جا سکتے ہیں اور انہیں عام اجازت ہے۔ ان کی بات وہاں سنی جاتی ہے، برتر فرشتے ان کے فرمانبردار ہیں، آسمانوں میں ان کی سرداری ہے اور فرشتے ان کے تابع فرمان ہیں۔ وہ اس پیغام رسانی پر مقرر ہیں کہ اللہ کا کلام اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائیں، یہ فرشتے اللہ کے امین ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 18،17){ وَ الَّيْلِ اِذَا عَسْعَسَ …: ” عَسْعَسَ “} آنے اور جانے دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے، یہاں دوسرا معنی زیادہ مناسب ہے۔ {” تَنَفَّسَ “} سانس لیتے ہوئے چھاتی پھیلتی ہے، صبح کی روشنی پھیلنے کی کیفیت کی نقشہ کشی انسان کے سانس لینے کی کیفیت کے ساتھ کی ہے۔
وَ الصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَ ﴿ۙ۱۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور صبح کی جبکہ اس نے سانس لیا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور صبح کی جب چمکنے لگے
احمد رضا خان بریلوی
اور صبح کی جب دم لے
علامہ محمد حسین نجفی
اور صبح کی جب وہ سانس لے کر آنے لگے۔
عبدالسلام بن محمد
اور صبح کی جب وہ سانس لیتی ہے!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ستارے، نیل گائے اور ہرن ٭٭

سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { میں نے صبح کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سورۃ کی تلاوت کرتے ہوئے سنا اس نماز میں میں بھی مقتدیوں میں شامل تھا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:456] ‏‏‏‏ یہ ستاروں کی قسمیں کھائی گئی ہیں، جو دن کے وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں یعنی چھپ جاتے ہیں، اور رات کو ظاہر ہوتے ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں اور بھی صحابہ تابعین وغیرہ سے اس کی یہی تفسیر مروی ہے - بعض ائمہ نے فرمایا ہے طلوع کے وقت ستاروں کو «خُنَّسِ» کہا جاتا ہے اور اپنی اپنی جگہ پر انہیں «جَوَارِ» کہا جاتا ہے اور چھپ جانے کے وقت انہیں «كُُنَّسِ» کہا جاتا ہے۔ بعض نے کہا ہے اس سے مراد جنگلی گائے ہے، یہ بھی مروی ہے کہ مراد ہرن ہے۔ ابراہیم رحمہ اللہ نے مجاہد رحمہ اللہ سے اس کے معنی پوچھے تو مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ”ہم نے اس بارے میں کچھ نہیں سنا البتہ لوگ کہتے ہیں کہ اس سے مراد ستارے ہیں۔‏‏‏‏“ انہوں نے پھر سوال کیا کہ جو تم نے سنا ہو وہ کہو تو فرمایا ”ہم سنتے ہیں کہ اس سے مراد نیل گائے ہے، جبکہ وہ اپنی جگہ چھپ جائے۔‏‏‏‏“ ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا ”وہ مجھ پر جھوٹ باندھتے ہیں، جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے «أَسْفَلَ» کو اعلیٰ اور اعلی کو «أَسْفَلَ» کا ضامن بنایا۔‏‏‏‏“

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس میں سے کسی کی تعیین نہیں کی اور فرمایا ہے ”ممکن ہے تینوں چیزیں مراد ہوں یعنی ستارے، نیل گائے اور ہرن۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/467] ‏‏‏‏ «عَسْعَسَ» کے معنی ہیں اندھیری والی ہوئی اور اٹھ کھڑی ہوئی، اور لوگوں کو ڈھانپ لیا اور جانے لگی۔ صبح کی نماز کے وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ نکلے اور فرمانے لگے کہ ”وتر کے بارے میں پوچھنے والے کہاں ہیں؟“ پھر یہ آیت پڑھی۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہیں کہ رات جب جانے لگے کیونکہ اس کے مقابلہ میں ہے کہ جب صبح چمکنے لگے۔ شاعروں نے «عَسْعَسَ» کو «أَدْبَرَ» کے معنی میں باندھا ہے میرے نزدیک ٹھیک معنی یہ ہیں کہ قسم ہے رات کی جب وہ آئے اور اندھیرا پھیلائے اور قسم ہے دن کی جب وہ آئے اور روشنی پھیلائے۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» ‏‏‏‏ ۱؎ [92-الليل:2،1] ‏‏‏‏ اور جگہ ہے «وَالضُّحَىٰ وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ» ۱؎ [93-الضحى:2،1] ‏‏‏‏ اور جگہ ہے «‏‏‏‏فَالِقُ الْاِصْبَاحِ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَنًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْـبَانًا ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ» ۱؎ [6-الأنعام:96] ‏‏‏‏ اور بھی اس قسم کی آیتیں بہت سی ہیں مطلب سب کا یکساں ہے، ہاں بیشک اس لفظ کے معنی پیچھے ہٹنے کے ہی ہیں۔ علماء اصول نے فرمایا ہے کہ یہ لفظ آگے آنے اور پیچھے جانے کے دونوں معنی میں آتا ہے۔ اس بناء پر دونوں معنی ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ «واللہ اعلم»

’ اور قسم ہے صبح کی جبکہ وہ طلوع ہو اور روشنی کے ساتھ آئے ‘۔ پھر ان قسموں کے بعد فرمایا ہے کہ ’ یہ قرآن ایک بزرگ، شریف، پاکیزہ رو، خوش منظر فرشتے کا کلام ہے (‏‏‏‏یعنی جبرائیل علیہ السلام کا)، وہ قوت والے ہیں ‘۔ جیسے کہ اور جگہ ہے «عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ» ‏‏‏‏ ۱؎ [53-النجم:6،5] ‏‏‏‏ یعنی ’ سخت مضبوط اور سخت پکڑ اور فعل والا فرشتہ، وہ اللہ عز و جل کے پاس جو عرش والا ہے بلند پایہ اور ذی مرتبہ ہے ‘۔ وہ نور کے ستر پردوں میں جا سکتے ہیں اور انہیں عام اجازت ہے۔ ان کی بات وہاں سنی جاتی ہے، برتر فرشتے ان کے فرمانبردار ہیں، آسمانوں میں ان کی سرداری ہے اور فرشتے ان کے تابع فرمان ہیں۔ وہ اس پیغام رسانی پر مقرر ہیں کہ اللہ کا کلام اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائیں، یہ فرشتے اللہ کے امین ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اِنَّہٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ کَرِیۡمٍ ﴿ۙ۱۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ فی الواقع ایک بزرگ پیغام بر کا قول ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً یہ ایک بزرگ رسول کا کہا ہوا ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک یہ عزت والے رسول کا پڑھنا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک یہ (قرآن) ایک معزز پیغامبر(ص) کا قول ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک یہ یقینا ایک ایسے پیغام پہنچانے والے کاقول ہے جو بہت معزز ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ستارے، نیل گائے اور ہرن ٭٭

سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { میں نے صبح کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سورۃ کی تلاوت کرتے ہوئے سنا اس نماز میں میں بھی مقتدیوں میں شامل تھا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:456] ‏‏‏‏ یہ ستاروں کی قسمیں کھائی گئی ہیں، جو دن کے وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں یعنی چھپ جاتے ہیں، اور رات کو ظاہر ہوتے ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں اور بھی صحابہ تابعین وغیرہ سے اس کی یہی تفسیر مروی ہے - بعض ائمہ نے فرمایا ہے طلوع کے وقت ستاروں کو «خُنَّسِ» کہا جاتا ہے اور اپنی اپنی جگہ پر انہیں «جَوَارِ» کہا جاتا ہے اور چھپ جانے کے وقت انہیں «كُُنَّسِ» کہا جاتا ہے۔ بعض نے کہا ہے اس سے مراد جنگلی گائے ہے، یہ بھی مروی ہے کہ مراد ہرن ہے۔ ابراہیم رحمہ اللہ نے مجاہد رحمہ اللہ سے اس کے معنی پوچھے تو مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ”ہم نے اس بارے میں کچھ نہیں سنا البتہ لوگ کہتے ہیں کہ اس سے مراد ستارے ہیں۔‏‏‏‏“ انہوں نے پھر سوال کیا کہ جو تم نے سنا ہو وہ کہو تو فرمایا ”ہم سنتے ہیں کہ اس سے مراد نیل گائے ہے، جبکہ وہ اپنی جگہ چھپ جائے۔‏‏‏‏“ ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا ”وہ مجھ پر جھوٹ باندھتے ہیں، جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے «أَسْفَلَ» کو اعلیٰ اور اعلی کو «أَسْفَلَ» کا ضامن بنایا۔‏‏‏‏“

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس میں سے کسی کی تعیین نہیں کی اور فرمایا ہے ”ممکن ہے تینوں چیزیں مراد ہوں یعنی ستارے، نیل گائے اور ہرن۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/467] ‏‏‏‏ «عَسْعَسَ» کے معنی ہیں اندھیری والی ہوئی اور اٹھ کھڑی ہوئی، اور لوگوں کو ڈھانپ لیا اور جانے لگی۔ صبح کی نماز کے وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ نکلے اور فرمانے لگے کہ ”وتر کے بارے میں پوچھنے والے کہاں ہیں؟“ پھر یہ آیت پڑھی۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہیں کہ رات جب جانے لگے کیونکہ اس کے مقابلہ میں ہے کہ جب صبح چمکنے لگے۔ شاعروں نے «عَسْعَسَ» کو «أَدْبَرَ» کے معنی میں باندھا ہے میرے نزدیک ٹھیک معنی یہ ہیں کہ قسم ہے رات کی جب وہ آئے اور اندھیرا پھیلائے اور قسم ہے دن کی جب وہ آئے اور روشنی پھیلائے۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» ‏‏‏‏ ۱؎ [92-الليل:2،1] ‏‏‏‏ اور جگہ ہے «وَالضُّحَىٰ وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ» ۱؎ [93-الضحى:2،1] ‏‏‏‏ اور جگہ ہے «‏‏‏‏فَالِقُ الْاِصْبَاحِ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَنًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْـبَانًا ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ» ۱؎ [6-الأنعام:96] ‏‏‏‏ اور بھی اس قسم کی آیتیں بہت سی ہیں مطلب سب کا یکساں ہے، ہاں بیشک اس لفظ کے معنی پیچھے ہٹنے کے ہی ہیں۔ علماء اصول نے فرمایا ہے کہ یہ لفظ آگے آنے اور پیچھے جانے کے دونوں معنی میں آتا ہے۔ اس بناء پر دونوں معنی ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ «واللہ اعلم»

’ اور قسم ہے صبح کی جبکہ وہ طلوع ہو اور روشنی کے ساتھ آئے ‘۔ پھر ان قسموں کے بعد فرمایا ہے کہ ’ یہ قرآن ایک بزرگ، شریف، پاکیزہ رو، خوش منظر فرشتے کا کلام ہے (‏‏‏‏یعنی جبرائیل علیہ السلام کا)، وہ قوت والے ہیں ‘۔ جیسے کہ اور جگہ ہے «عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ» ‏‏‏‏ ۱؎ [53-النجم:6،5] ‏‏‏‏ یعنی ’ سخت مضبوط اور سخت پکڑ اور فعل والا فرشتہ، وہ اللہ عز و جل کے پاس جو عرش والا ہے بلند پایہ اور ذی مرتبہ ہے ‘۔ وہ نور کے ستر پردوں میں جا سکتے ہیں اور انہیں عام اجازت ہے۔ ان کی بات وہاں سنی جاتی ہے، برتر فرشتے ان کے فرمانبردار ہیں، آسمانوں میں ان کی سرداری ہے اور فرشتے ان کے تابع فرمان ہیں۔ وہ اس پیغام رسانی پر مقرر ہیں کہ اللہ کا کلام اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائیں، یہ فرشتے اللہ کے امین ہیں۔
19۔ 1 اس لئے کہ وہ اسے اللہ کی طرف سے لے کر آیا ہے۔ مراد حضرت جبرائیل علیہ الاسلام ہیں۔
(آیت 19){ اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ:} یہ ان قسموں کا جواب ہے، یعنی امر الٰہی کے پابند یہ سیارے، روزانہ جاتی ہوئی رات اور پھیلتی ہوئی صبح کا یہ مستحکم نظام زبردست شہادت ہے کہ یہ وحی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک نہایت معزز اور ان عظیم صفات والا فرشتہ (جبریل علیہ السلام) ہی لے کر آیا ہے۔ دن رات، سورج چاند اور ستاروں کے نظام کی طرح یہاں بھی کسی شیطان کا دخل نہیں ہو سکتا۔ اس آیت میں {” رَسُوْلٍ “} سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں، کیونکہ مشرکین مکہ کبھی کہتے: «‏‏‏‏اِنَّمَا يُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ» ‏‏‏‏ [ النحل: ۱۰۳ ] ”اسے کوئی بشر ہی سکھاتا ہے۔“ کبھی کہتے: «‏‏‏‏اَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَمْ بِهٖ جِنَّةٌ» ‏‏‏‏ [ سبا: ۸ ] ”کیا اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا یا یہ دیوانہ ہے؟“ تو اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کے قول کے جھٹلانے کو یہ آیات نازل فرمائیں اور فرمایا کہ نہ اللہ کے رسول مجنون اور دیوانے ہیں، نہ انھوں نے اپنی طرف سے اس قرآن کو بنایا ہے اور نہ کسی انسان نے انھیں یہ قرآن سکھایا ہے۔ یہ ایسا کلام نہیں ہے جس طرح شیاطین چوری سے آسمان کی کچھ باتیں سن کر کاہنوں سے کہہ دیتے ہیں، بلکہ پیغام کے طور پر اللہ کی طرف سے ایک صاحب قوت، معتبر اور امانت دار فرشتے نے یہ قرآن اللہ کے نبی کو پہنچایا ہے۔ (احسن التفاسیر)
ذِیۡ قُوَّۃٍ عِنۡدَ ذِی الۡعَرۡشِ مَکِیۡنٍ ﴿ۙ۲۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو بڑی توانائی رکھتا ہے، عرش والے کے ہاں بلند مرتبہ ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو قوت واﻻ ہے، عرش والے (اللہ) کے نزدیک بلند مرتبہ ہے
احمد رضا خان بریلوی
جو قوت والا ہے مالک عرش کے حضور عزت والا وہاں اس کا حکم مانا جاتا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
جو قوت والا ہے اور مالکِ عرش کے نزدیک بلند مرتبہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بڑی قوت والا ہے، عرش والے کے ہاں بہت مرتبے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ستارے، نیل گائے اور ہرن ٭٭

سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { میں نے صبح کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سورۃ کی تلاوت کرتے ہوئے سنا اس نماز میں میں بھی مقتدیوں میں شامل تھا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:456] ‏‏‏‏ یہ ستاروں کی قسمیں کھائی گئی ہیں، جو دن کے وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں یعنی چھپ جاتے ہیں، اور رات کو ظاہر ہوتے ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں اور بھی صحابہ تابعین وغیرہ سے اس کی یہی تفسیر مروی ہے - بعض ائمہ نے فرمایا ہے طلوع کے وقت ستاروں کو «خُنَّسِ» کہا جاتا ہے اور اپنی اپنی جگہ پر انہیں «جَوَارِ» کہا جاتا ہے اور چھپ جانے کے وقت انہیں «كُُنَّسِ» کہا جاتا ہے۔ بعض نے کہا ہے اس سے مراد جنگلی گائے ہے، یہ بھی مروی ہے کہ مراد ہرن ہے۔ ابراہیم رحمہ اللہ نے مجاہد رحمہ اللہ سے اس کے معنی پوچھے تو مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ”ہم نے اس بارے میں کچھ نہیں سنا البتہ لوگ کہتے ہیں کہ اس سے مراد ستارے ہیں۔‏‏‏‏“ انہوں نے پھر سوال کیا کہ جو تم نے سنا ہو وہ کہو تو فرمایا ”ہم سنتے ہیں کہ اس سے مراد نیل گائے ہے، جبکہ وہ اپنی جگہ چھپ جائے۔‏‏‏‏“ ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا ”وہ مجھ پر جھوٹ باندھتے ہیں، جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے «أَسْفَلَ» کو اعلیٰ اور اعلی کو «أَسْفَلَ» کا ضامن بنایا۔‏‏‏‏“

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس میں سے کسی کی تعیین نہیں کی اور فرمایا ہے ”ممکن ہے تینوں چیزیں مراد ہوں یعنی ستارے، نیل گائے اور ہرن۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/467] ‏‏‏‏ «عَسْعَسَ» کے معنی ہیں اندھیری والی ہوئی اور اٹھ کھڑی ہوئی، اور لوگوں کو ڈھانپ لیا اور جانے لگی۔ صبح کی نماز کے وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ نکلے اور فرمانے لگے کہ ”وتر کے بارے میں پوچھنے والے کہاں ہیں؟“ پھر یہ آیت پڑھی۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہیں کہ رات جب جانے لگے کیونکہ اس کے مقابلہ میں ہے کہ جب صبح چمکنے لگے۔ شاعروں نے «عَسْعَسَ» کو «أَدْبَرَ» کے معنی میں باندھا ہے میرے نزدیک ٹھیک معنی یہ ہیں کہ قسم ہے رات کی جب وہ آئے اور اندھیرا پھیلائے اور قسم ہے دن کی جب وہ آئے اور روشنی پھیلائے۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» ‏‏‏‏ ۱؎ [92-الليل:2،1] ‏‏‏‏ اور جگہ ہے «وَالضُّحَىٰ وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ» ۱؎ [93-الضحى:2،1] ‏‏‏‏ اور جگہ ہے «‏‏‏‏فَالِقُ الْاِصْبَاحِ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَنًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْـبَانًا ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ» ۱؎ [6-الأنعام:96] ‏‏‏‏ اور بھی اس قسم کی آیتیں بہت سی ہیں مطلب سب کا یکساں ہے، ہاں بیشک اس لفظ کے معنی پیچھے ہٹنے کے ہی ہیں۔ علماء اصول نے فرمایا ہے کہ یہ لفظ آگے آنے اور پیچھے جانے کے دونوں معنی میں آتا ہے۔ اس بناء پر دونوں معنی ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ «واللہ اعلم»

’ اور قسم ہے صبح کی جبکہ وہ طلوع ہو اور روشنی کے ساتھ آئے ‘۔ پھر ان قسموں کے بعد فرمایا ہے کہ ’ یہ قرآن ایک بزرگ، شریف، پاکیزہ رو، خوش منظر فرشتے کا کلام ہے (‏‏‏‏یعنی جبرائیل علیہ السلام کا)، وہ قوت والے ہیں ‘۔ جیسے کہ اور جگہ ہے «عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ» ‏‏‏‏ ۱؎ [53-النجم:6،5] ‏‏‏‏ یعنی ’ سخت مضبوط اور سخت پکڑ اور فعل والا فرشتہ، وہ اللہ عز و جل کے پاس جو عرش والا ہے بلند پایہ اور ذی مرتبہ ہے ‘۔ وہ نور کے ستر پردوں میں جا سکتے ہیں اور انہیں عام اجازت ہے۔ ان کی بات وہاں سنی جاتی ہے، برتر فرشتے ان کے فرمانبردار ہیں، آسمانوں میں ان کی سرداری ہے اور فرشتے ان کے تابع فرمان ہیں۔ وہ اس پیغام رسانی پر مقرر ہیں کہ اللہ کا کلام اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائیں، یہ فرشتے اللہ کے امین ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 20) {ذِيْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِيْنٍ:ذِيْ قُوَّةٍ “} کی تنوین تعظیم کے لیے ہے، بڑی قوت والا۔ سورۂ نجم میں بھی جبریل علیہ السلام کا یہ وصف بیان ہوا ہے، فرمایا: «‏‏‏‏ذِيْ عَلَّمَهٗ شَدِيْدُ الْقُوٰى (5) ذُوْ مِرَّةٍ» ‏‏‏‏ [ النجم: 6،5 ] ”اسے نہایت مضبوط قوتوں والے (فرشتے) نے سکھایا۔ جو بڑی طاقت والا ہے۔“ جبریل علیہ السلام کی قوت کا ذکر یہاں اس لیے فرمایا ہے کہ ان کی قوت کے سبب سے شیطان ان سے بھاگتا ہے، جیسا کہ بدر میں انھیں دیکھ کر بھاگا تھا۔ (دیکھیے انفال: ۴۸) مطلب یہ ہے کہ جبریل علیہ السلام کی قوت کی وجہ سے ان کی پیغام رسانی میں نہ شیطان کا کچھ دخل ہے اور نہ ان کی امانت داری کے سبب اس پیغام رسانی میں کسی خیانت کا دخل ہے، اس لیے کسی شک و شبہ کے بغیر یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ (خلاصہ احسن التفاسیر)
مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیۡنٍ ﴿ؕ۲۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہاں اُس کا حکم مانا جاتا ہے، وہ با اعتماد ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جس کی (آسمانوں میں) اطاعت کی جاتی ہے امین ہے
احمد رضا خان بریلوی
امانت دار ہے
علامہ محمد حسین نجفی
(وہاں) اس کا حکم مانا جاتا ہے اور پھر وہ امانتدار (بھی) ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہاں اس کی بات مانی جاتی ہے، امانت دار ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مطلب یہ ہے کہ فرشتوں میں سے جو اس رسالت پر مقرر ہیں وہ بھی پاک صاف ہیں اور انسانوں میں جو رسول مقرر ہیں وہ بھی پاک اور برتر ہیں۔ اس لیے اس کے بعد فرمایا، ’ تمہارے ساتھی یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم دیوانے نہیں، یہ پیغمبر اس فرشتے کو اس کی اصلی صورت میں بھی دیکھ چکے ہیں جبکہ وہ اپنے چھ سو پروں سمیت ظاہر ہوئے تھے ‘۔ یہ واقعہ بطحاء کا ہے اور یہ پہلی مرتبہ دیکھنا تھا آسمان کے کھلے کناروں پر یہ دیدار جبرائیل علیہ السلام حاصل ہوا تھا، اسی کا بیان اس آیت میں ہے «عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىٰ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ» ۱؎ [53-النجم:10-5] ‏‏‏‏ یعنی ’ انہیں ایک فرشتہ تعلیم کرتا ہے جو بڑا طاقتور ہے قوی ہے، جو اصلی صورت پر آسمان کے بلند و بالا کناروں پر ظاہر ہوا تھا پھر وہ نزدیک آیا اور بہت قریب آ گیا صرف دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی کم پھر جو وحی اللہ نے اپنے بندے پر نازل کرنی چاہی نازل فرمائی ‘۔ اس آیت کی تفسیر سورۃ النجم میں گزر چکی ہے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت معراج سے پہلے اتری ہے اس لیے کہ اس میں صرف پہلی مرتبہ کا دیکھنا ذکر ہوا ہے اور دوبارہ کا دیکھنا اس آیت میں مذکور ہے «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ» ۱؎ [53-النجم:16-13] ‏‏‏‏ یعنی ’ انہوں نے اس کو ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے جس کے قریب جنت الماویٰ ہے۔ جبکہ اس درخت سدرہ کو ایک عجیب و غریب چیز چھپائے ہوئی تھی ‘۔ اس آیت میں دوسری مرتبہ کے دیکھنے کا ذکر ہے۔ یہ سورت واقعہ معراج کے بعد نازل ہوئی تھی۔ «‏‏‏‏بِضَنِينٍ» کی دوسری قرأت «بِـظَنِـیْنٍ» بھی مروی ہے۔ یعنی ان پر کوئی تہمت نہیں، اور «ضاد» سے جب پڑھو تو معنی ہوں گے یہ بخیل نہیں ہیں، بلکہ ہر شخص کو جو غیب کی باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی طرف سے معلوم کرائی جاتی ہیں یہ سکھا دیا کرتے ہیں یہ دونوں قراءتیں مشہور ہیں، اور صحیح ہیں۔

پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو تبلیغ احکام میں کمی کی، نہ تہمت لگی، یہ قرآن شیطان مردود کا کلام نہیں، نہ شیطان اسے لے سکے، نہ اس کے مطلب کی یہ چیز، نہ اس کے قابل۔ جیسے اور جگہ ہے «وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ وَمَا يَنبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ» ۱؎ [26-الشعراء:210-212] ‏‏‏‏ ’ نہ اسے لے کر شیطان اترے نہ انہیں یہ لائق ہے نہ اس کی انہیں طاقت ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی محروم اور دور ہے ‘۔ پھر فرمایا ’ تم کہاں جا رہے ہو؟ ‘ یعنی قرآن کی حقانیت اس کی صداقت ظاہر ہو چکنے کے بعد بھی تم کیوں اسے جھٹلا رہے ہو؟ تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں؟ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس جب بنو حنفیہ قبیلے کے لوگ مسلمان ہو کر حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا ”مسلمیہ جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر رکھا ہے جسے تم آج تک مانتے رہے اس نے جو کلام گھڑ رکھا ہے ذرا اسے تو سناؤ۔‏‏‏‏“ جب انہوں نے سنایا تو دیکھا کہ نہایت رکیک الفاظ ہیں بلکہ بکواس محض ہے تو، آپ نے فرمایا ”تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں؟ ذرا تو سوچو کہ ایک فضول بکواس کو تم کلام اللہ جانتے رہے ناممکن ہے کہ ایسا بے معنی اور بے نور کلام اللہ کا کلام ہو۔‏‏‏‏“ یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ تم کتاب اللہ سے اور اطاعت اللہ سے کہاں بھاگ رہے ہو؟ پھر فرمایا ’ یہ قرآن تمام لوگوں کے لیے پند و نصیحت ہے ‘۔

ہر ایک ہدایت کے طالب کو چاہیئے کہ اس قرآن کا عامل بن جائے یہی نجات اور ہدایت کا کفیل ہے، اس کے سوا دوسرے کلام میں ہدایت نہیں، تمہاری چاہتیں کام نہیں آتیں کہ جو چاہے گمراہ ہو جائے بلکہ یہ سب کچھ منجانب اللہ ہے وہ رب العالمین جو چاہے کرتا ہے اسی کی چاہت چلتی ہے، اس سے اگلی آیت کو سن کر ابوجہل نے کہا تھا کہ پھر تو ہدایت و ضلالت ہمارے بس کی بات ہے اس کے جواب میں یہ آیت اتری۔ سورۃ التکویر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالحمداللہ»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 21) {مُطَاعٍ ثَمَّ اَمِيْنٍ:} وہاں اس کی بات مانی ہوئی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں میں سے ہے، جیسا کہ حدیث معراج میں ہے کہ جبریل علیہ السلام کے کہنے پر آسمان کے دروازے کھلے۔
وَ مَا صَاحِبُکُمۡ بِمَجۡنُوۡنٍ ﴿ۚ۲۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور (اے اہل مکہ) تمہارا رفیق مجنون نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تمہارا ساتھی دیوانہ نہیں ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور تمہارے صاحب مجنون نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور تمہارا ساتھی (پیغمبرِ اسلام (ص)) دیوانہ نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور تمھارا ساتھی ہرگز کوئی دیوانہ نہیں ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مطلب یہ ہے کہ فرشتوں میں سے جو اس رسالت پر مقرر ہیں وہ بھی پاک صاف ہیں اور انسانوں میں جو رسول مقرر ہیں وہ بھی پاک اور برتر ہیں۔ اس لیے اس کے بعد فرمایا، ’ تمہارے ساتھی یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم دیوانے نہیں، یہ پیغمبر اس فرشتے کو اس کی اصلی صورت میں بھی دیکھ چکے ہیں جبکہ وہ اپنے چھ سو پروں سمیت ظاہر ہوئے تھے ‘۔ یہ واقعہ بطحاء کا ہے اور یہ پہلی مرتبہ دیکھنا تھا آسمان کے کھلے کناروں پر یہ دیدار جبرائیل علیہ السلام حاصل ہوا تھا، اسی کا بیان اس آیت میں ہے «عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىٰ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ» ۱؎ [53-النجم:10-5] ‏‏‏‏ یعنی ’ انہیں ایک فرشتہ تعلیم کرتا ہے جو بڑا طاقتور ہے قوی ہے، جو اصلی صورت پر آسمان کے بلند و بالا کناروں پر ظاہر ہوا تھا پھر وہ نزدیک آیا اور بہت قریب آ گیا صرف دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی کم پھر جو وحی اللہ نے اپنے بندے پر نازل کرنی چاہی نازل فرمائی ‘۔ اس آیت کی تفسیر سورۃ النجم میں گزر چکی ہے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت معراج سے پہلے اتری ہے اس لیے کہ اس میں صرف پہلی مرتبہ کا دیکھنا ذکر ہوا ہے اور دوبارہ کا دیکھنا اس آیت میں مذکور ہے «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ» ۱؎ [53-النجم:16-13] ‏‏‏‏ یعنی ’ انہوں نے اس کو ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے جس کے قریب جنت الماویٰ ہے۔ جبکہ اس درخت سدرہ کو ایک عجیب و غریب چیز چھپائے ہوئی تھی ‘۔ اس آیت میں دوسری مرتبہ کے دیکھنے کا ذکر ہے۔ یہ سورت واقعہ معراج کے بعد نازل ہوئی تھی۔ «‏‏‏‏بِضَنِينٍ» کی دوسری قرأت «بِـظَنِـیْنٍ» بھی مروی ہے۔ یعنی ان پر کوئی تہمت نہیں، اور «ضاد» سے جب پڑھو تو معنی ہوں گے یہ بخیل نہیں ہیں، بلکہ ہر شخص کو جو غیب کی باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی طرف سے معلوم کرائی جاتی ہیں یہ سکھا دیا کرتے ہیں یہ دونوں قراءتیں مشہور ہیں، اور صحیح ہیں۔

پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو تبلیغ احکام میں کمی کی، نہ تہمت لگی، یہ قرآن شیطان مردود کا کلام نہیں، نہ شیطان اسے لے سکے، نہ اس کے مطلب کی یہ چیز، نہ اس کے قابل۔ جیسے اور جگہ ہے «وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ وَمَا يَنبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ» ۱؎ [26-الشعراء:210-212] ‏‏‏‏ ’ نہ اسے لے کر شیطان اترے نہ انہیں یہ لائق ہے نہ اس کی انہیں طاقت ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی محروم اور دور ہے ‘۔ پھر فرمایا ’ تم کہاں جا رہے ہو؟ ‘ یعنی قرآن کی حقانیت اس کی صداقت ظاہر ہو چکنے کے بعد بھی تم کیوں اسے جھٹلا رہے ہو؟ تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں؟ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس جب بنو حنفیہ قبیلے کے لوگ مسلمان ہو کر حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا ”مسلمیہ جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر رکھا ہے جسے تم آج تک مانتے رہے اس نے جو کلام گھڑ رکھا ہے ذرا اسے تو سناؤ۔‏‏‏‏“ جب انہوں نے سنایا تو دیکھا کہ نہایت رکیک الفاظ ہیں بلکہ بکواس محض ہے تو، آپ نے فرمایا ”تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں؟ ذرا تو سوچو کہ ایک فضول بکواس کو تم کلام اللہ جانتے رہے ناممکن ہے کہ ایسا بے معنی اور بے نور کلام اللہ کا کلام ہو۔‏‏‏‏“ یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ تم کتاب اللہ سے اور اطاعت اللہ سے کہاں بھاگ رہے ہو؟ پھر فرمایا ’ یہ قرآن تمام لوگوں کے لیے پند و نصیحت ہے ‘۔

ہر ایک ہدایت کے طالب کو چاہیئے کہ اس قرآن کا عامل بن جائے یہی نجات اور ہدایت کا کفیل ہے، اس کے سوا دوسرے کلام میں ہدایت نہیں، تمہاری چاہتیں کام نہیں آتیں کہ جو چاہے گمراہ ہو جائے بلکہ یہ سب کچھ منجانب اللہ ہے وہ رب العالمین جو چاہے کرتا ہے اسی کی چاہت چلتی ہے، اس سے اگلی آیت کو سن کر ابوجہل نے کہا تھا کہ پھر تو ہدایت و ضلالت ہمارے بس کی بات ہے اس کے جواب میں یہ آیت اتری۔ سورۃ التکویر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالحمداللہ»
22۔ 1 یہ خطاب اہل مکہ سے ہے اور صاحب سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ یعنی تم جو گمان رکھتے ہو کہ تمہارا ہم نسب اور ہم وطن ساتھی، (محمد صلی اللہ علیہ وسلم دیوانہ ہے۔ نعوذ باللہ ایسا نہیں ہے، ذرا قرآن پڑھ کر تو دیکھو کہ کیا کوئی دیوانہ ایسے حقائق بیان کرسکتا ہے اور گزشتہ قوموں کے صحیح صحیح حالات بتلا سکتا ہے جو اس قرآن میں بیان کئے گئے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ لَقَدۡ رَاٰہُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِیۡنِ ﴿ۚ۲۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس نے اُس پیغام بر کو روشن افق پر دیکھا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس نے اس (فرشتے) کو آسمان کے کھلے کنارے پر دیکھا بھی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک انہوں نے اسے روشن کنارہ پر دیکھا
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس (پیغمبر(ص)) نے اس (پیغامبر) کو روشن افق (کنارے) پر دیکھا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا اس نے اس ( جبریل) کو ( آسمان کے) روشن کنارے پر دیکھا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مطلب یہ ہے کہ فرشتوں میں سے جو اس رسالت پر مقرر ہیں وہ بھی پاک صاف ہیں اور انسانوں میں جو رسول مقرر ہیں وہ بھی پاک اور برتر ہیں۔ اس لیے اس کے بعد فرمایا، ’ تمہارے ساتھی یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم دیوانے نہیں، یہ پیغمبر اس فرشتے کو اس کی اصلی صورت میں بھی دیکھ چکے ہیں جبکہ وہ اپنے چھ سو پروں سمیت ظاہر ہوئے تھے ‘۔ یہ واقعہ بطحاء کا ہے اور یہ پہلی مرتبہ دیکھنا تھا آسمان کے کھلے کناروں پر یہ دیدار جبرائیل علیہ السلام حاصل ہوا تھا، اسی کا بیان اس آیت میں ہے «عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىٰ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ» ۱؎ [53-النجم:10-5] ‏‏‏‏ یعنی ’ انہیں ایک فرشتہ تعلیم کرتا ہے جو بڑا طاقتور ہے قوی ہے، جو اصلی صورت پر آسمان کے بلند و بالا کناروں پر ظاہر ہوا تھا پھر وہ نزدیک آیا اور بہت قریب آ گیا صرف دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی کم پھر جو وحی اللہ نے اپنے بندے پر نازل کرنی چاہی نازل فرمائی ‘۔ اس آیت کی تفسیر سورۃ النجم میں گزر چکی ہے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت معراج سے پہلے اتری ہے اس لیے کہ اس میں صرف پہلی مرتبہ کا دیکھنا ذکر ہوا ہے اور دوبارہ کا دیکھنا اس آیت میں مذکور ہے «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ» ۱؎ [53-النجم:16-13] ‏‏‏‏ یعنی ’ انہوں نے اس کو ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے جس کے قریب جنت الماویٰ ہے۔ جبکہ اس درخت سدرہ کو ایک عجیب و غریب چیز چھپائے ہوئی تھی ‘۔ اس آیت میں دوسری مرتبہ کے دیکھنے کا ذکر ہے۔ یہ سورت واقعہ معراج کے بعد نازل ہوئی تھی۔ «‏‏‏‏بِضَنِينٍ» کی دوسری قرأت «بِـظَنِـیْنٍ» بھی مروی ہے۔ یعنی ان پر کوئی تہمت نہیں، اور «ضاد» سے جب پڑھو تو معنی ہوں گے یہ بخیل نہیں ہیں، بلکہ ہر شخص کو جو غیب کی باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی طرف سے معلوم کرائی جاتی ہیں یہ سکھا دیا کرتے ہیں یہ دونوں قراءتیں مشہور ہیں، اور صحیح ہیں۔

پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو تبلیغ احکام میں کمی کی، نہ تہمت لگی، یہ قرآن شیطان مردود کا کلام نہیں، نہ شیطان اسے لے سکے، نہ اس کے مطلب کی یہ چیز، نہ اس کے قابل۔ جیسے اور جگہ ہے «وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ وَمَا يَنبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ» ۱؎ [26-الشعراء:210-212] ‏‏‏‏ ’ نہ اسے لے کر شیطان اترے نہ انہیں یہ لائق ہے نہ اس کی انہیں طاقت ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی محروم اور دور ہے ‘۔ پھر فرمایا ’ تم کہاں جا رہے ہو؟ ‘ یعنی قرآن کی حقانیت اس کی صداقت ظاہر ہو چکنے کے بعد بھی تم کیوں اسے جھٹلا رہے ہو؟ تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں؟ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس جب بنو حنفیہ قبیلے کے لوگ مسلمان ہو کر حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا ”مسلمیہ جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر رکھا ہے جسے تم آج تک مانتے رہے اس نے جو کلام گھڑ رکھا ہے ذرا اسے تو سناؤ۔‏‏‏‏“ جب انہوں نے سنایا تو دیکھا کہ نہایت رکیک الفاظ ہیں بلکہ بکواس محض ہے تو، آپ نے فرمایا ”تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں؟ ذرا تو سوچو کہ ایک فضول بکواس کو تم کلام اللہ جانتے رہے ناممکن ہے کہ ایسا بے معنی اور بے نور کلام اللہ کا کلام ہو۔‏‏‏‏“ یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ تم کتاب اللہ سے اور اطاعت اللہ سے کہاں بھاگ رہے ہو؟ پھر فرمایا ’ یہ قرآن تمام لوگوں کے لیے پند و نصیحت ہے ‘۔

ہر ایک ہدایت کے طالب کو چاہیئے کہ اس قرآن کا عامل بن جائے یہی نجات اور ہدایت کا کفیل ہے، اس کے سوا دوسرے کلام میں ہدایت نہیں، تمہاری چاہتیں کام نہیں آتیں کہ جو چاہے گمراہ ہو جائے بلکہ یہ سب کچھ منجانب اللہ ہے وہ رب العالمین جو چاہے کرتا ہے اسی کی چاہت چلتی ہے، اس سے اگلی آیت کو سن کر ابوجہل نے کہا تھا کہ پھر تو ہدایت و ضلالت ہمارے بس کی بات ہے اس کے جواب میں یہ آیت اتری۔ سورۃ التکویر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالحمداللہ»
23۔ 1 یہ پہلے گزر چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرائیل ؑ کو دو مرتبہ ان کی اصل حالت میں دیکھا ہے، جن میں سے ایک یہاں ذکر ہے۔ یہ ابتدائے نبوت کا واقع ہے، اس وقت حضرت جبرائیل ؑ کے چھ سو پر تھے، جنہوں نے آسمان کے کناروں کو بھر دیا تھا، دوسری مرتبہ معراج کے موقعہ پر دیکھا جیسا کہ سورة نجم میں تفصیل گزر چکی ہے۔
(آیت 23) {وَ لَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِيْنِ:} روشن کنارے سے مراد آسمان کا مشرقی کنارا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے، ایک دفعہ زمین پر اور دوسری دفعہ آسمان پر۔ (دیکھیے نجم:۱ تا ۱۸) یہاں پہلی مرتبہ کا ذکر ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے اور پورا افق ان سے بھرا ہوا تھا۔ [ دیکھیے بخاري، بدء الخلق، باب إذا قال أحدکم أمین…: ۳۲۳۲ تا ۳۲۳۵ ]
وَ مَا ہُوَ عَلَی الۡغَیۡبِ بِضَنِیۡنٍ ﴿ۚ۲۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور وہ غیب (کے اِس علم کو لوگوں تک پہنچانے) کے معاملے میں بخیل نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یہ غیب کی باتوں کو بتلانے میں بخیل بھی نہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور یہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ غیب کی باتوں کے معاملہ میں بخیل نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ غیب کی باتوں پر ہرگز بخل کرنے والا نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مطلب یہ ہے کہ فرشتوں میں سے جو اس رسالت پر مقرر ہیں وہ بھی پاک صاف ہیں اور انسانوں میں جو رسول مقرر ہیں وہ بھی پاک اور برتر ہیں۔ اس لیے اس کے بعد فرمایا، ’ تمہارے ساتھی یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم دیوانے نہیں، یہ پیغمبر اس فرشتے کو اس کی اصلی صورت میں بھی دیکھ چکے ہیں جبکہ وہ اپنے چھ سو پروں سمیت ظاہر ہوئے تھے ‘۔ یہ واقعہ بطحاء کا ہے اور یہ پہلی مرتبہ دیکھنا تھا آسمان کے کھلے کناروں پر یہ دیدار جبرائیل علیہ السلام حاصل ہوا تھا، اسی کا بیان اس آیت میں ہے «عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىٰ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ» ۱؎ [53-النجم:10-5] ‏‏‏‏ یعنی ’ انہیں ایک فرشتہ تعلیم کرتا ہے جو بڑا طاقتور ہے قوی ہے، جو اصلی صورت پر آسمان کے بلند و بالا کناروں پر ظاہر ہوا تھا پھر وہ نزدیک آیا اور بہت قریب آ گیا صرف دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی کم پھر جو وحی اللہ نے اپنے بندے پر نازل کرنی چاہی نازل فرمائی ‘۔ اس آیت کی تفسیر سورۃ النجم میں گزر چکی ہے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت معراج سے پہلے اتری ہے اس لیے کہ اس میں صرف پہلی مرتبہ کا دیکھنا ذکر ہوا ہے اور دوبارہ کا دیکھنا اس آیت میں مذکور ہے «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ» ۱؎ [53-النجم:16-13] ‏‏‏‏ یعنی ’ انہوں نے اس کو ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے جس کے قریب جنت الماویٰ ہے۔ جبکہ اس درخت سدرہ کو ایک عجیب و غریب چیز چھپائے ہوئی تھی ‘۔ اس آیت میں دوسری مرتبہ کے دیکھنے کا ذکر ہے۔ یہ سورت واقعہ معراج کے بعد نازل ہوئی تھی۔ «‏‏‏‏بِضَنِينٍ» کی دوسری قرأت «بِـظَنِـیْنٍ» بھی مروی ہے۔ یعنی ان پر کوئی تہمت نہیں، اور «ضاد» سے جب پڑھو تو معنی ہوں گے یہ بخیل نہیں ہیں، بلکہ ہر شخص کو جو غیب کی باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی طرف سے معلوم کرائی جاتی ہیں یہ سکھا دیا کرتے ہیں یہ دونوں قراءتیں مشہور ہیں، اور صحیح ہیں۔

پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو تبلیغ احکام میں کمی کی، نہ تہمت لگی، یہ قرآن شیطان مردود کا کلام نہیں، نہ شیطان اسے لے سکے، نہ اس کے مطلب کی یہ چیز، نہ اس کے قابل۔ جیسے اور جگہ ہے «وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ وَمَا يَنبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ» ۱؎ [26-الشعراء:210-212] ‏‏‏‏ ’ نہ اسے لے کر شیطان اترے نہ انہیں یہ لائق ہے نہ اس کی انہیں طاقت ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی محروم اور دور ہے ‘۔ پھر فرمایا ’ تم کہاں جا رہے ہو؟ ‘ یعنی قرآن کی حقانیت اس کی صداقت ظاہر ہو چکنے کے بعد بھی تم کیوں اسے جھٹلا رہے ہو؟ تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں؟ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس جب بنو حنفیہ قبیلے کے لوگ مسلمان ہو کر حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا ”مسلمیہ جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر رکھا ہے جسے تم آج تک مانتے رہے اس نے جو کلام گھڑ رکھا ہے ذرا اسے تو سناؤ۔‏‏‏‏“ جب انہوں نے سنایا تو دیکھا کہ نہایت رکیک الفاظ ہیں بلکہ بکواس محض ہے تو، آپ نے فرمایا ”تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں؟ ذرا تو سوچو کہ ایک فضول بکواس کو تم کلام اللہ جانتے رہے ناممکن ہے کہ ایسا بے معنی اور بے نور کلام اللہ کا کلام ہو۔‏‏‏‏“ یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ تم کتاب اللہ سے اور اطاعت اللہ سے کہاں بھاگ رہے ہو؟ پھر فرمایا ’ یہ قرآن تمام لوگوں کے لیے پند و نصیحت ہے ‘۔

ہر ایک ہدایت کے طالب کو چاہیئے کہ اس قرآن کا عامل بن جائے یہی نجات اور ہدایت کا کفیل ہے، اس کے سوا دوسرے کلام میں ہدایت نہیں، تمہاری چاہتیں کام نہیں آتیں کہ جو چاہے گمراہ ہو جائے بلکہ یہ سب کچھ منجانب اللہ ہے وہ رب العالمین جو چاہے کرتا ہے اسی کی چاہت چلتی ہے، اس سے اگلی آیت کو سن کر ابوجہل نے کہا تھا کہ پھر تو ہدایت و ضلالت ہمارے بس کی بات ہے اس کے جواب میں یہ آیت اتری۔ سورۃ التکویر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالحمداللہ»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 24) {وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِيْنٍ:”ضَنِيْنٌ“} بخیل، یعنی اللہ تعالیٰ انھیں غیب کی جو بات بتاتے ہیں وہ اسے اپنے پاس ہی نہیں رکھ لیتے بلکہ امت تک پہنچا دیتے ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: [ مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَمَ شَيْئًا مِّمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ، فَقَدْ كَذَبَ، وَاللّٰهُ يَقُوْلُ: «‏‏‏‏يٰۤاَيُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ» ‏‏‏‏ ] [ بخاري، التفسیر، باب: «یا أیھا الرسول بلغ…» : ۴۶۱۲ ] ”جو شخص تمھیں بتائے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ پر نازل ہونے والی کوئی بات چھپائی ہے، تو اس نے یقینا جھوٹ بولا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏يٰۤاَيُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ» ‏‏‏‏ [ المائدۃ: ۶۷ ] ”اے رسول! پہنچا دے جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے۔“ بعض لوگوں نے اس آیت سے یہ مطلب نکالا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غیب جانتے تھے، کیونکہ بخل وہی کر سکتا ہے جس کے پاس کوئی چیز موجود ہو۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے صاف فرمایا ہے: «‏‏‏‏قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ» ‏‏‏‏ [ النمل: ۶۵ ] ”(اے نبی!) کہہ دے، اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے غیب نہیں جانتا۔“ اس سے صاف ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غیب کی جو باتیں بتائی گئی ہیں وہ لوگوں کو بتانے میں آپ بخل نہیں کرتے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر کسی شخص کو غیب کی کچھ باتیں بتا دی جائیں تو وہ اس سے عالم الغیب نہیں بن جاتا، کیونکہ وہ صرف اتنی بات جانتا ہے زیادہ نہیں۔ ورنہ اگر اس وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم الغیب مانا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو غیب کی کئی باتیں بتائی ہیں تو امت کو بھی عالم الغیب ماننا پڑے گا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کچھ بتایا گیا تھا آپ نے اللہ کے حکم کے مطابق وہ سب کچھ امت کو بتا دیا۔
وَ مَا ہُوَ بِقَوۡلِ شَیۡطٰنٍ رَّجِیۡمٍ ﴿ۙ۲۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور یہ کسی شیطان مردود کا قول نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یہ قرآن شیطان مردود کا کلام نہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور قرآن، مردود شیطان کا پڑھا ہوا نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ (قرآن) کسی مردود شیطان کا قول نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ ہرگز کسی مردود شیطان کا کلام نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مطلب یہ ہے کہ فرشتوں میں سے جو اس رسالت پر مقرر ہیں وہ بھی پاک صاف ہیں اور انسانوں میں جو رسول مقرر ہیں وہ بھی پاک اور برتر ہیں۔ اس لیے اس کے بعد فرمایا، ’ تمہارے ساتھی یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم دیوانے نہیں، یہ پیغمبر اس فرشتے کو اس کی اصلی صورت میں بھی دیکھ چکے ہیں جبکہ وہ اپنے چھ سو پروں سمیت ظاہر ہوئے تھے ‘۔ یہ واقعہ بطحاء کا ہے اور یہ پہلی مرتبہ دیکھنا تھا آسمان کے کھلے کناروں پر یہ دیدار جبرائیل علیہ السلام حاصل ہوا تھا، اسی کا بیان اس آیت میں ہے «عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىٰ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ» ۱؎ [53-النجم:10-5] ‏‏‏‏ یعنی ’ انہیں ایک فرشتہ تعلیم کرتا ہے جو بڑا طاقتور ہے قوی ہے، جو اصلی صورت پر آسمان کے بلند و بالا کناروں پر ظاہر ہوا تھا پھر وہ نزدیک آیا اور بہت قریب آ گیا صرف دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی کم پھر جو وحی اللہ نے اپنے بندے پر نازل کرنی چاہی نازل فرمائی ‘۔ اس آیت کی تفسیر سورۃ النجم میں گزر چکی ہے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت معراج سے پہلے اتری ہے اس لیے کہ اس میں صرف پہلی مرتبہ کا دیکھنا ذکر ہوا ہے اور دوبارہ کا دیکھنا اس آیت میں مذکور ہے «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ» ۱؎ [53-النجم:16-13] ‏‏‏‏ یعنی ’ انہوں نے اس کو ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے جس کے قریب جنت الماویٰ ہے۔ جبکہ اس درخت سدرہ کو ایک عجیب و غریب چیز چھپائے ہوئی تھی ‘۔ اس آیت میں دوسری مرتبہ کے دیکھنے کا ذکر ہے۔ یہ سورت واقعہ معراج کے بعد نازل ہوئی تھی۔ «‏‏‏‏بِضَنِينٍ» کی دوسری قرأت «بِـظَنِـیْنٍ» بھی مروی ہے۔ یعنی ان پر کوئی تہمت نہیں، اور «ضاد» سے جب پڑھو تو معنی ہوں گے یہ بخیل نہیں ہیں، بلکہ ہر شخص کو جو غیب کی باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی طرف سے معلوم کرائی جاتی ہیں یہ سکھا دیا کرتے ہیں یہ دونوں قراءتیں مشہور ہیں، اور صحیح ہیں۔

پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو تبلیغ احکام میں کمی کی، نہ تہمت لگی، یہ قرآن شیطان مردود کا کلام نہیں، نہ شیطان اسے لے سکے، نہ اس کے مطلب کی یہ چیز، نہ اس کے قابل۔ جیسے اور جگہ ہے «وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ وَمَا يَنبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ» ۱؎ [26-الشعراء:210-212] ‏‏‏‏ ’ نہ اسے لے کر شیطان اترے نہ انہیں یہ لائق ہے نہ اس کی انہیں طاقت ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی محروم اور دور ہے ‘۔ پھر فرمایا ’ تم کہاں جا رہے ہو؟ ‘ یعنی قرآن کی حقانیت اس کی صداقت ظاہر ہو چکنے کے بعد بھی تم کیوں اسے جھٹلا رہے ہو؟ تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں؟ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس جب بنو حنفیہ قبیلے کے لوگ مسلمان ہو کر حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا ”مسلمیہ جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر رکھا ہے جسے تم آج تک مانتے رہے اس نے جو کلام گھڑ رکھا ہے ذرا اسے تو سناؤ۔‏‏‏‏“ جب انہوں نے سنایا تو دیکھا کہ نہایت رکیک الفاظ ہیں بلکہ بکواس محض ہے تو، آپ نے فرمایا ”تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں؟ ذرا تو سوچو کہ ایک فضول بکواس کو تم کلام اللہ جانتے رہے ناممکن ہے کہ ایسا بے معنی اور بے نور کلام اللہ کا کلام ہو۔‏‏‏‏“ یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ تم کتاب اللہ سے اور اطاعت اللہ سے کہاں بھاگ رہے ہو؟ پھر فرمایا ’ یہ قرآن تمام لوگوں کے لیے پند و نصیحت ہے ‘۔

ہر ایک ہدایت کے طالب کو چاہیئے کہ اس قرآن کا عامل بن جائے یہی نجات اور ہدایت کا کفیل ہے، اس کے سوا دوسرے کلام میں ہدایت نہیں، تمہاری چاہتیں کام نہیں آتیں کہ جو چاہے گمراہ ہو جائے بلکہ یہ سب کچھ منجانب اللہ ہے وہ رب العالمین جو چاہے کرتا ہے اسی کی چاہت چلتی ہے، اس سے اگلی آیت کو سن کر ابوجہل نے کہا تھا کہ پھر تو ہدایت و ضلالت ہمارے بس کی بات ہے اس کے جواب میں یہ آیت اتری۔ سورۃ التکویر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالحمداللہ»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَاَیۡنَ تَذۡہَبُوۡنَ ﴿ؕ۲۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر تم لوگ کدھر چلے جا رہے ہو؟
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر تم کہاں جا رہے ہو
احمد رضا خان بریلوی
پھر کدھر جاتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
تم کدھر جا رہے ہو؟
عبدالسلام بن محمد
پھر تم کہاں جا رہے ہو؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مطلب یہ ہے کہ فرشتوں میں سے جو اس رسالت پر مقرر ہیں وہ بھی پاک صاف ہیں اور انسانوں میں جو رسول مقرر ہیں وہ بھی پاک اور برتر ہیں۔ اس لیے اس کے بعد فرمایا، ’ تمہارے ساتھی یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم دیوانے نہیں، یہ پیغمبر اس فرشتے کو اس کی اصلی صورت میں بھی دیکھ چکے ہیں جبکہ وہ اپنے چھ سو پروں سمیت ظاہر ہوئے تھے ‘۔ یہ واقعہ بطحاء کا ہے اور یہ پہلی مرتبہ دیکھنا تھا آسمان کے کھلے کناروں پر یہ دیدار جبرائیل علیہ السلام حاصل ہوا تھا، اسی کا بیان اس آیت میں ہے «عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىٰ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ» ۱؎ [53-النجم:10-5] ‏‏‏‏ یعنی ’ انہیں ایک فرشتہ تعلیم کرتا ہے جو بڑا طاقتور ہے قوی ہے، جو اصلی صورت پر آسمان کے بلند و بالا کناروں پر ظاہر ہوا تھا پھر وہ نزدیک آیا اور بہت قریب آ گیا صرف دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی کم پھر جو وحی اللہ نے اپنے بندے پر نازل کرنی چاہی نازل فرمائی ‘۔ اس آیت کی تفسیر سورۃ النجم میں گزر چکی ہے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت معراج سے پہلے اتری ہے اس لیے کہ اس میں صرف پہلی مرتبہ کا دیکھنا ذکر ہوا ہے اور دوبارہ کا دیکھنا اس آیت میں مذکور ہے «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ» ۱؎ [53-النجم:16-13] ‏‏‏‏ یعنی ’ انہوں نے اس کو ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے جس کے قریب جنت الماویٰ ہے۔ جبکہ اس درخت سدرہ کو ایک عجیب و غریب چیز چھپائے ہوئی تھی ‘۔ اس آیت میں دوسری مرتبہ کے دیکھنے کا ذکر ہے۔ یہ سورت واقعہ معراج کے بعد نازل ہوئی تھی۔ «‏‏‏‏بِضَنِينٍ» کی دوسری قرأت «بِـظَنِـیْنٍ» بھی مروی ہے۔ یعنی ان پر کوئی تہمت نہیں، اور «ضاد» سے جب پڑھو تو معنی ہوں گے یہ بخیل نہیں ہیں، بلکہ ہر شخص کو جو غیب کی باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی طرف سے معلوم کرائی جاتی ہیں یہ سکھا دیا کرتے ہیں یہ دونوں قراءتیں مشہور ہیں، اور صحیح ہیں۔

پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو تبلیغ احکام میں کمی کی، نہ تہمت لگی، یہ قرآن شیطان مردود کا کلام نہیں، نہ شیطان اسے لے سکے، نہ اس کے مطلب کی یہ چیز، نہ اس کے قابل۔ جیسے اور جگہ ہے «وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ وَمَا يَنبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ» ۱؎ [26-الشعراء:210-212] ‏‏‏‏ ’ نہ اسے لے کر شیطان اترے نہ انہیں یہ لائق ہے نہ اس کی انہیں طاقت ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی محروم اور دور ہے ‘۔ پھر فرمایا ’ تم کہاں جا رہے ہو؟ ‘ یعنی قرآن کی حقانیت اس کی صداقت ظاہر ہو چکنے کے بعد بھی تم کیوں اسے جھٹلا رہے ہو؟ تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں؟ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس جب بنو حنفیہ قبیلے کے لوگ مسلمان ہو کر حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا ”مسلمیہ جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر رکھا ہے جسے تم آج تک مانتے رہے اس نے جو کلام گھڑ رکھا ہے ذرا اسے تو سناؤ۔‏‏‏‏“ جب انہوں نے سنایا تو دیکھا کہ نہایت رکیک الفاظ ہیں بلکہ بکواس محض ہے تو، آپ نے فرمایا ”تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں؟ ذرا تو سوچو کہ ایک فضول بکواس کو تم کلام اللہ جانتے رہے ناممکن ہے کہ ایسا بے معنی اور بے نور کلام اللہ کا کلام ہو۔‏‏‏‏“ یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ تم کتاب اللہ سے اور اطاعت اللہ سے کہاں بھاگ رہے ہو؟ پھر فرمایا ’ یہ قرآن تمام لوگوں کے لیے پند و نصیحت ہے ‘۔

ہر ایک ہدایت کے طالب کو چاہیئے کہ اس قرآن کا عامل بن جائے یہی نجات اور ہدایت کا کفیل ہے، اس کے سوا دوسرے کلام میں ہدایت نہیں، تمہاری چاہتیں کام نہیں آتیں کہ جو چاہے گمراہ ہو جائے بلکہ یہ سب کچھ منجانب اللہ ہے وہ رب العالمین جو چاہے کرتا ہے اسی کی چاہت چلتی ہے، اس سے اگلی آیت کو سن کر ابوجہل نے کہا تھا کہ پھر تو ہدایت و ضلالت ہمارے بس کی بات ہے اس کے جواب میں یہ آیت اتری۔ سورۃ التکویر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالحمداللہ»
26۔ 1 یعنی کیوں اس سے روگردانی کرتے ہو؟ اور اس کی اطاعت نہیں کرتے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اِنۡ ہُوَ اِلَّا ذِکۡرٌ لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۲۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ تو سارے جہان والوں کے لیے ایک نصیحت ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ تو تمام جہان والوں کے لئے نصیحت نامہ ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہ تو نصیحت ہی ہے سارے جہان کے لیے،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ نہیں ہے مگر تمام دنیا جہان کے لئے نصیحت۔
عبدالسلام بن محمد
یہ اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ جہانوں کے لیے نصیحت ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مطلب یہ ہے کہ فرشتوں میں سے جو اس رسالت پر مقرر ہیں وہ بھی پاک صاف ہیں اور انسانوں میں جو رسول مقرر ہیں وہ بھی پاک اور برتر ہیں۔ اس لیے اس کے بعد فرمایا، ’ تمہارے ساتھی یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم دیوانے نہیں، یہ پیغمبر اس فرشتے کو اس کی اصلی صورت میں بھی دیکھ چکے ہیں جبکہ وہ اپنے چھ سو پروں سمیت ظاہر ہوئے تھے ‘۔ یہ واقعہ بطحاء کا ہے اور یہ پہلی مرتبہ دیکھنا تھا آسمان کے کھلے کناروں پر یہ دیدار جبرائیل علیہ السلام حاصل ہوا تھا، اسی کا بیان اس آیت میں ہے «عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىٰ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ» ۱؎ [53-النجم:10-5] ‏‏‏‏ یعنی ’ انہیں ایک فرشتہ تعلیم کرتا ہے جو بڑا طاقتور ہے قوی ہے، جو اصلی صورت پر آسمان کے بلند و بالا کناروں پر ظاہر ہوا تھا پھر وہ نزدیک آیا اور بہت قریب آ گیا صرف دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی کم پھر جو وحی اللہ نے اپنے بندے پر نازل کرنی چاہی نازل فرمائی ‘۔ اس آیت کی تفسیر سورۃ النجم میں گزر چکی ہے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت معراج سے پہلے اتری ہے اس لیے کہ اس میں صرف پہلی مرتبہ کا دیکھنا ذکر ہوا ہے اور دوبارہ کا دیکھنا اس آیت میں مذکور ہے «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ» ۱؎ [53-النجم:16-13] ‏‏‏‏ یعنی ’ انہوں نے اس کو ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے جس کے قریب جنت الماویٰ ہے۔ جبکہ اس درخت سدرہ کو ایک عجیب و غریب چیز چھپائے ہوئی تھی ‘۔ اس آیت میں دوسری مرتبہ کے دیکھنے کا ذکر ہے۔ یہ سورت واقعہ معراج کے بعد نازل ہوئی تھی۔ «‏‏‏‏بِضَنِينٍ» کی دوسری قرأت «بِـظَنِـیْنٍ» بھی مروی ہے۔ یعنی ان پر کوئی تہمت نہیں، اور «ضاد» سے جب پڑھو تو معنی ہوں گے یہ بخیل نہیں ہیں، بلکہ ہر شخص کو جو غیب کی باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی طرف سے معلوم کرائی جاتی ہیں یہ سکھا دیا کرتے ہیں یہ دونوں قراءتیں مشہور ہیں، اور صحیح ہیں۔

پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو تبلیغ احکام میں کمی کی، نہ تہمت لگی، یہ قرآن شیطان مردود کا کلام نہیں، نہ شیطان اسے لے سکے، نہ اس کے مطلب کی یہ چیز، نہ اس کے قابل۔ جیسے اور جگہ ہے «وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ وَمَا يَنبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ» ۱؎ [26-الشعراء:210-212] ‏‏‏‏ ’ نہ اسے لے کر شیطان اترے نہ انہیں یہ لائق ہے نہ اس کی انہیں طاقت ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی محروم اور دور ہے ‘۔ پھر فرمایا ’ تم کہاں جا رہے ہو؟ ‘ یعنی قرآن کی حقانیت اس کی صداقت ظاہر ہو چکنے کے بعد بھی تم کیوں اسے جھٹلا رہے ہو؟ تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں؟ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس جب بنو حنفیہ قبیلے کے لوگ مسلمان ہو کر حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا ”مسلمیہ جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر رکھا ہے جسے تم آج تک مانتے رہے اس نے جو کلام گھڑ رکھا ہے ذرا اسے تو سناؤ۔‏‏‏‏“ جب انہوں نے سنایا تو دیکھا کہ نہایت رکیک الفاظ ہیں بلکہ بکواس محض ہے تو، آپ نے فرمایا ”تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں؟ ذرا تو سوچو کہ ایک فضول بکواس کو تم کلام اللہ جانتے رہے ناممکن ہے کہ ایسا بے معنی اور بے نور کلام اللہ کا کلام ہو۔‏‏‏‏“ یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ تم کتاب اللہ سے اور اطاعت اللہ سے کہاں بھاگ رہے ہو؟ پھر فرمایا ’ یہ قرآن تمام لوگوں کے لیے پند و نصیحت ہے ‘۔

ہر ایک ہدایت کے طالب کو چاہیئے کہ اس قرآن کا عامل بن جائے یہی نجات اور ہدایت کا کفیل ہے، اس کے سوا دوسرے کلام میں ہدایت نہیں، تمہاری چاہتیں کام نہیں آتیں کہ جو چاہے گمراہ ہو جائے بلکہ یہ سب کچھ منجانب اللہ ہے وہ رب العالمین جو چاہے کرتا ہے اسی کی چاہت چلتی ہے، اس سے اگلی آیت کو سن کر ابوجہل نے کہا تھا کہ پھر تو ہدایت و ضلالت ہمارے بس کی بات ہے اس کے جواب میں یہ آیت اتری۔ سورۃ التکویر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالحمداللہ»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
لِمَنۡ شَآءَ مِنۡکُمۡ اَنۡ یَّسۡتَقِیۡمَ ﴿ؕ۲۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم میں سے ہر اُس شخص کے لیے جو راہ راست پر چلنا چاہتا ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
(بالخصوص) اس کے لئے جو تم میں سے سیدھی راه پر چلنا چاہے
احمد رضا خان بریلوی
اس کے لیے جو تم میں سیدھا ہونا چاہے
علامہ محمد حسین نجفی
یعنی اس کیلئے جو تم میں سے سیدھی راہ پر چلنا چاہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس کے لیے جو تم میں سے چاہے کہ سیدھا چلے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مطلب یہ ہے کہ فرشتوں میں سے جو اس رسالت پر مقرر ہیں وہ بھی پاک صاف ہیں اور انسانوں میں جو رسول مقرر ہیں وہ بھی پاک اور برتر ہیں۔ اس لیے اس کے بعد فرمایا، ’ تمہارے ساتھی یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم دیوانے نہیں، یہ پیغمبر اس فرشتے کو اس کی اصلی صورت میں بھی دیکھ چکے ہیں جبکہ وہ اپنے چھ سو پروں سمیت ظاہر ہوئے تھے ‘۔ یہ واقعہ بطحاء کا ہے اور یہ پہلی مرتبہ دیکھنا تھا آسمان کے کھلے کناروں پر یہ دیدار جبرائیل علیہ السلام حاصل ہوا تھا، اسی کا بیان اس آیت میں ہے «عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىٰ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ» ۱؎ [53-النجم:10-5] ‏‏‏‏ یعنی ’ انہیں ایک فرشتہ تعلیم کرتا ہے جو بڑا طاقتور ہے قوی ہے، جو اصلی صورت پر آسمان کے بلند و بالا کناروں پر ظاہر ہوا تھا پھر وہ نزدیک آیا اور بہت قریب آ گیا صرف دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی کم پھر جو وحی اللہ نے اپنے بندے پر نازل کرنی چاہی نازل فرمائی ‘۔ اس آیت کی تفسیر سورۃ النجم میں گزر چکی ہے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت معراج سے پہلے اتری ہے اس لیے کہ اس میں صرف پہلی مرتبہ کا دیکھنا ذکر ہوا ہے اور دوبارہ کا دیکھنا اس آیت میں مذکور ہے «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ» ۱؎ [53-النجم:16-13] ‏‏‏‏ یعنی ’ انہوں نے اس کو ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے جس کے قریب جنت الماویٰ ہے۔ جبکہ اس درخت سدرہ کو ایک عجیب و غریب چیز چھپائے ہوئی تھی ‘۔ اس آیت میں دوسری مرتبہ کے دیکھنے کا ذکر ہے۔ یہ سورت واقعہ معراج کے بعد نازل ہوئی تھی۔ «‏‏‏‏بِضَنِينٍ» کی دوسری قرأت «بِـظَنِـیْنٍ» بھی مروی ہے۔ یعنی ان پر کوئی تہمت نہیں، اور «ضاد» سے جب پڑھو تو معنی ہوں گے یہ بخیل نہیں ہیں، بلکہ ہر شخص کو جو غیب کی باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی طرف سے معلوم کرائی جاتی ہیں یہ سکھا دیا کرتے ہیں یہ دونوں قراءتیں مشہور ہیں، اور صحیح ہیں۔

پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو تبلیغ احکام میں کمی کی، نہ تہمت لگی، یہ قرآن شیطان مردود کا کلام نہیں، نہ شیطان اسے لے سکے، نہ اس کے مطلب کی یہ چیز، نہ اس کے قابل۔ جیسے اور جگہ ہے «وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ وَمَا يَنبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ» ۱؎ [26-الشعراء:210-212] ‏‏‏‏ ’ نہ اسے لے کر شیطان اترے نہ انہیں یہ لائق ہے نہ اس کی انہیں طاقت ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی محروم اور دور ہے ‘۔ پھر فرمایا ’ تم کہاں جا رہے ہو؟ ‘ یعنی قرآن کی حقانیت اس کی صداقت ظاہر ہو چکنے کے بعد بھی تم کیوں اسے جھٹلا رہے ہو؟ تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں؟ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس جب بنو حنفیہ قبیلے کے لوگ مسلمان ہو کر حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا ”مسلمیہ جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر رکھا ہے جسے تم آج تک مانتے رہے اس نے جو کلام گھڑ رکھا ہے ذرا اسے تو سناؤ۔‏‏‏‏“ جب انہوں نے سنایا تو دیکھا کہ نہایت رکیک الفاظ ہیں بلکہ بکواس محض ہے تو، آپ نے فرمایا ”تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں؟ ذرا تو سوچو کہ ایک فضول بکواس کو تم کلام اللہ جانتے رہے ناممکن ہے کہ ایسا بے معنی اور بے نور کلام اللہ کا کلام ہو۔‏‏‏‏“ یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ تم کتاب اللہ سے اور اطاعت اللہ سے کہاں بھاگ رہے ہو؟ پھر فرمایا ’ یہ قرآن تمام لوگوں کے لیے پند و نصیحت ہے ‘۔

ہر ایک ہدایت کے طالب کو چاہیئے کہ اس قرآن کا عامل بن جائے یہی نجات اور ہدایت کا کفیل ہے، اس کے سوا دوسرے کلام میں ہدایت نہیں، تمہاری چاہتیں کام نہیں آتیں کہ جو چاہے گمراہ ہو جائے بلکہ یہ سب کچھ منجانب اللہ ہے وہ رب العالمین جو چاہے کرتا ہے اسی کی چاہت چلتی ہے، اس سے اگلی آیت کو سن کر ابوجہل نے کہا تھا کہ پھر تو ہدایت و ضلالت ہمارے بس کی بات ہے اس کے جواب میں یہ آیت اتری۔ سورۃ التکویر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالحمداللہ»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ مَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللّٰہُ رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿٪۲۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ رب العالمین نہ چاہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاه سکتے
احمد رضا خان بریلوی
اور تم کیا چا ہو مگر یہ کہ چاہے اللہ سارے جہان کا رب،
علامہ محمد حسین نجفی
اور تم نہیں چاہتے مگر وہی جو عالمین کا پرورگار چاہتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور تم نہیں چاہتے مگر یہ کہ اللہ چاہے ، جو سب جہانوں کا رب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مطلب یہ ہے کہ فرشتوں میں سے جو اس رسالت پر مقرر ہیں وہ بھی پاک صاف ہیں اور انسانوں میں جو رسول مقرر ہیں وہ بھی پاک اور برتر ہیں۔ اس لیے اس کے بعد فرمایا، ’ تمہارے ساتھی یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم دیوانے نہیں، یہ پیغمبر اس فرشتے کو اس کی اصلی صورت میں بھی دیکھ چکے ہیں جبکہ وہ اپنے چھ سو پروں سمیت ظاہر ہوئے تھے ‘۔ یہ واقعہ بطحاء کا ہے اور یہ پہلی مرتبہ دیکھنا تھا آسمان کے کھلے کناروں پر یہ دیدار جبرائیل علیہ السلام حاصل ہوا تھا، اسی کا بیان اس آیت میں ہے «عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىٰ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ» ۱؎ [53-النجم:10-5] ‏‏‏‏ یعنی ’ انہیں ایک فرشتہ تعلیم کرتا ہے جو بڑا طاقتور ہے قوی ہے، جو اصلی صورت پر آسمان کے بلند و بالا کناروں پر ظاہر ہوا تھا پھر وہ نزدیک آیا اور بہت قریب آ گیا صرف دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی کم پھر جو وحی اللہ نے اپنے بندے پر نازل کرنی چاہی نازل فرمائی ‘۔ اس آیت کی تفسیر سورۃ النجم میں گزر چکی ہے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت معراج سے پہلے اتری ہے اس لیے کہ اس میں صرف پہلی مرتبہ کا دیکھنا ذکر ہوا ہے اور دوبارہ کا دیکھنا اس آیت میں مذکور ہے «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ» ۱؎ [53-النجم:16-13] ‏‏‏‏ یعنی ’ انہوں نے اس کو ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے جس کے قریب جنت الماویٰ ہے۔ جبکہ اس درخت سدرہ کو ایک عجیب و غریب چیز چھپائے ہوئی تھی ‘۔ اس آیت میں دوسری مرتبہ کے دیکھنے کا ذکر ہے۔ یہ سورت واقعہ معراج کے بعد نازل ہوئی تھی۔ «‏‏‏‏بِضَنِينٍ» کی دوسری قرأت «بِـظَنِـیْنٍ» بھی مروی ہے۔ یعنی ان پر کوئی تہمت نہیں، اور «ضاد» سے جب پڑھو تو معنی ہوں گے یہ بخیل نہیں ہیں، بلکہ ہر شخص کو جو غیب کی باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی طرف سے معلوم کرائی جاتی ہیں یہ سکھا دیا کرتے ہیں یہ دونوں قراءتیں مشہور ہیں، اور صحیح ہیں۔

پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو تبلیغ احکام میں کمی کی، نہ تہمت لگی، یہ قرآن شیطان مردود کا کلام نہیں، نہ شیطان اسے لے سکے، نہ اس کے مطلب کی یہ چیز، نہ اس کے قابل۔ جیسے اور جگہ ہے «وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ وَمَا يَنبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ» ۱؎ [26-الشعراء:210-212] ‏‏‏‏ ’ نہ اسے لے کر شیطان اترے نہ انہیں یہ لائق ہے نہ اس کی انہیں طاقت ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی محروم اور دور ہے ‘۔ پھر فرمایا ’ تم کہاں جا رہے ہو؟ ‘ یعنی قرآن کی حقانیت اس کی صداقت ظاہر ہو چکنے کے بعد بھی تم کیوں اسے جھٹلا رہے ہو؟ تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں؟ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس جب بنو حنفیہ قبیلے کے لوگ مسلمان ہو کر حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا ”مسلمیہ جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر رکھا ہے جسے تم آج تک مانتے رہے اس نے جو کلام گھڑ رکھا ہے ذرا اسے تو سناؤ۔‏‏‏‏“ جب انہوں نے سنایا تو دیکھا کہ نہایت رکیک الفاظ ہیں بلکہ بکواس محض ہے تو، آپ نے فرمایا ”تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں؟ ذرا تو سوچو کہ ایک فضول بکواس کو تم کلام اللہ جانتے رہے ناممکن ہے کہ ایسا بے معنی اور بے نور کلام اللہ کا کلام ہو۔‏‏‏‏“ یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ تم کتاب اللہ سے اور اطاعت اللہ سے کہاں بھاگ رہے ہو؟ پھر فرمایا ’ یہ قرآن تمام لوگوں کے لیے پند و نصیحت ہے ‘۔

ہر ایک ہدایت کے طالب کو چاہیئے کہ اس قرآن کا عامل بن جائے یہی نجات اور ہدایت کا کفیل ہے، اس کے سوا دوسرے کلام میں ہدایت نہیں، تمہاری چاہتیں کام نہیں آتیں کہ جو چاہے گمراہ ہو جائے بلکہ یہ سب کچھ منجانب اللہ ہے وہ رب العالمین جو چاہے کرتا ہے اسی کی چاہت چلتی ہے، اس سے اگلی آیت کو سن کر ابوجہل نے کہا تھا کہ پھر تو ہدایت و ضلالت ہمارے بس کی بات ہے اس کے جواب میں یہ آیت اتری۔ سورۃ التکویر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالحمداللہ»
29۔ 1 یعنی تمہاری چاہت، اللہ کی توفیق پر منحصر ہے، جب تک تمہاری چاہت کے ساتھ اللہ کی مشیت اور اس کی توفیق بھی شامل نہیں ہوگی اس وقت تک تم سیدھا راستہ اختیار نہیں کرسکتے۔
(آیت 29){ وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ:} یعنی تمھارا چاہنا بھی اللہ کے چاہنے اور توفیق دینے پر موقوف ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ یونس (۱۰۰)، انعام (۱۱۲)، قصص (۵۶) اور دہر (۳۰)۔