اے نبیؐ، تم کیوں اُس چیز کو حرام کرتے ہو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہے؟ (کیا اس لیے کہ) تم اپنی بیویوں کی خوشی چاہتے ہو؟ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے نبی! جس چیز کو اللہ نے آپ کے لیے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں؟ (کیا) آپ اپنی بیویوں کی رضامندی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اللہ بخشنے واﻻ رحم کرنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے غیب بتا نے والے (نبی) تم اپنے اوپر کیوں حرام کئے لیتے ہو وه چیز جو اللہ نے تمھارے لئے حلال کی اپنی بیبیوں کی مرضی چاہتے ہو اور اللہ بخشنے والا ٴ مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے نبی(ص)! جو چیز اللہ نے آپ کیلئے حلال قرار دی ہے آپ اسے اپنی بیویوں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے (اپنے اوپر) کیوں حرام ٹھہراتے ہیں اور اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے نبی! تو کیوں حرام کرتا ہے جو اللہ نے تیرے لیے حلال کیا ہے؟ تو اپنی بیویوں کی خوشی چاہتا ہے، اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خلت و حرمت اللہ کے قبضے میں ہے ٭٭
اس سورت کی ابتدائی آیتوں کے شان نزول میں مفسرین کے اقوال یہ ہیں: بعض تو کہتے ہیں یہ سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا جس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ نسائی میں یہ روایت موجود ہے کہ { سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کے کہنے سننے سے ایسا ہوا تھا کہ ایک لونڈی کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں }۔ [سنن نسائی:3411،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن جریر میں ہے کہ ام ابراہیم رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیوی صاحبہ کے گھر میں بات چیت کی جس پر انہوں نے کہا یا رسول اللہ! میرے گھر میں اور میرے بستر پر؟ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے اوپر حرام کر لیا تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! حلال آپ پر حرام کیسے ہو جائے گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی کہ اب ان سے اس قسم کی بات چیت نہ کروں گا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ کسی کا یہ کہہ دینا کہ تو مجھ پر حرام ہے لغو اور فضول ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34382:مرسل] زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ { تو مجھ پر حرام ہے اللہ کی قسم میں تجھ سے صحبت داری نہ کروں گا }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34385:مرسل]
مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پس حرام کرنے کے باب میں تو آپ پر عتاب کیا گیا اور قسم کے کفارے کا حکم ہوا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:34383:مرسل] ابن جریر میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ یہ دونوں عورتیں کون تھیں؟ فرمایا ”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا اور ابتداءً ام ابراہیم قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں ہوئی۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ان کی باری والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملے تھے۔ جس پر سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو رنج ہوا کہ میری باری کے دن میرے گھر اور میرے بستر پر؟ حضو رصلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رضامند کرنے اور منانے کے لیے کہہ دیا کہ میں اسے اپنے اوپر حرام کرتا ہوں، اب تم اس واقعہ کا ذکر کسی سے نہ کرنا، لیکن سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے واقعہ کہہ دیا، اللہ نے بھی اس کی اطلاع اپنے نبی کو دے دی اور یہ کل آیتیں نازل فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفارہ دے کر اپنی قسم توڑ دی اور اس لونڈی سے ملے جلے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34397:صحیح]
بیوی یا لونڈی کو حرام کہنے پر کفارہ ٭٭
اسی واقعہ کو دلیل بنا کر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فتویٰ ہے کہ ”جو کہے فلاں چیز مجھ پر حرام ہے اسے قسم کا کفارہ دینا چاہیئے“، ایک شخص نے آپ سے یہی مسئلہ پوچھا کہ میں اپنی عورت کو اپنے اوپر حرام کر چکا ہوں؟ تو آپ نے فرمایا ”وہ تجھ پر حرام نہیں، سب سے زیادہ سخت کفارہ اس کا تو راہ اللہ میں غلام آزاد کرنا ہے۔“ امام احمد رحمہ اللہ اور بہت سے فقہاء کا فتویٰ ہے کہ ”جو شخص اپنی بیوی، لونڈی یا کسی کھانے پینے، پہننے اوڑھنے کی چیز کو اپنے اوپر حرام کر لے تو اس پر کفارہ واجب ہو جاتا ہے۔“ امام شافعی رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”صرف بیوی اور لونڈی کے حرام کرنے پر کفارہ ہے کسی اور پر نہیں، اور اگر حرام کہنے سے نیت طلاق کی رکھی تو بیشک طلاق ہو جائے گی، اسی طرح لونڈی کے بارے میں اگر آزادگی کی نیت حرام کا لفظ کہنے سے رکھی ہے تو وہ آزاد ہو جائے گی۔“
(۲) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ آیت اس عورت کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے اپنا نفس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کیا تھا، لیکن یہ غریب ہے، [مسند بزار:2274] بالکل صحیح بات یہ ہے کہ ان آیتوں کا اترنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہد حرام کر لینے پر تھا۔
(۳) صحیح بخاری میں اس آیت کے موقعہ پر کہ { زینب بنت بخش رضی اللہ عنہا کے گھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہد پیتے تھے اور اس کی خاطر ذرا سی دیر وہاں ٹھہرتے بھی تھے اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں وہ کہے کہ یا رسول اللہ! کہ آج تو آپ کے منہ سے گوند کی سی بدبو آتی ہے شاید آپ نے مغافیر کھایا ہو گا۔ چنانچہ ہم نے یہی کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، میں نے تو زینب کے گھر شہد پیا ہے اب قسم کھاتا ہوں کہ نہ پیوں گا یہ کسی سے کہنا مت“ }۔ [صحیح بخاری:4912] امام بخاری اس حدیث کو «کتاب الایمان والندوہ» میں بھی کچھ زیادتی کے ساتھ لائے ہیں جس میں ہے کہ دونوں عورتوں سے یہاں مراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں اور چپکے سے بات کہنا یہی تھا کہ میں نے شہد پیا ہے، کتاب الطلاق میں امام صاحب رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کو لائے ہیں۔ [صحیح بخاری:5267] پھر فرمایا ہے مغافیر گوند کے مشابہ ایک چیز ہے جو شور گھاس میں پیدا ہوتی ہے اس میں قدرے مٹھاس ہوتی ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا آپس میں خفیہ مشورہ ٭٭
صحیح بخاری کی کتاب الطلاق میں یہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان الفاظ میں مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مٹھاس اور شہد بہت پسند تھا، عصر کی نماز کے بعد اپنی بیویوں کے گھر آتے اور کسی سے نزدیکی کرتے۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے اور جتنا وہاں رکتے تھے اس سے زیادہ رکے مجھے غیرت سوار ہوئی، تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ ان کی قوم کی ایک عورت نے ایک کپی شہد کی انہیں بطور ہدیہ کے بھیجی ہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہد کا شربت پلایا اور اتنی دیر روک رکھا، میں نے کہا: خیر اسے کسی حیلے سے ٹال دوں گی۔ چنانچہ میں نے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پاس جب آئیں اور قریب ہوں تو تم کہنا کہ آج کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے نہیں، تم کہنا پھر یہ بدبو کیسی آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے، مجھے حفصہ نے شہد پلایا تھا تو تم کہنا کہ شاید شہد کی مکھی نے عرفط نامی خار دار درخت چوسا ہو گا، میرے پاس آئیں گے میں بھی یہی کہوں گی، پھر اے صفیہ تمہارے پاس جب آئیں تو تم بھی یہی کہنا۔ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر آئے، ابھی تو دروازے ہی پر تھے جو میں نے ارادہ کیا کہ تم نے جو مجھ سے کہا ہے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دوں کیونکہ میں تم سے بہت ڈرتی تھی، لیکن خیر اس وقت تو خاموش رہی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، میں نے تمہارا تمام کہنا پورا کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے میں نے بھی یہی کہا، پھر صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے انہوں نے بھی یہی کہا، پھر جب حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے شہد کا شربت پلانا چاہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس کی حاجت نہیں“، سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں افسوس ہم نے اسے حرام کرا دیا میں نے کہا خاموش رہو۔ } [صحیح بخاری:5268]
صحیح مسلم کی اس حدیث میں اتنی زیادتی اور ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بدبو سے سخت نفرت تھی }۔ [صحیح مسلم:1474] اسی لیے ان بیویوں نے کہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغافیر کھایا ہے اس میں بھی قدرے بدبو ہوتی ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ نہیں! میں نے تو شہد پیا ہے، تو انہوں نے کہہ دیا کہ پھر اس شہد کی مکھی نے عرفط درخت کو چوسا ہو گا جس کے گوند کا نام مغافیر ہے اور اس کے اثر سے اس شہد میں اس کی بو رہ گئی ہو گی۔ اس روایت میں لفظ «جَرَسَتْ» ہے جس کے معنی جوہری نے کئے ہیں کھایا اور شہد کی مکھیوں کو بھی «جَوَارِسُ» کہتے ہیں اور «جَرْسَ» مدہم ہلکی آواز کو کہتے ہیں۔ عرب کہتے ہیں «سَمِعْتُ جَرَسَ الطِّيْرِ» جبکہ پرند دانہ چگ رہا ہو اور اس کی چونچ کی آواز سنائی دیتی ہو۔ ایک حدیث میں ہے { «فَيَسْمَعُونَ جَرْشَ طَيْرِ الْجَنَّةِ» پھر وہ جنتی پرندوں کی ہلکی اور میٹھی سہانی آوازیں سنیں گے }، یہاں بھی عربی میں لفظ «جَرْسَ» ہے۔ اصمعی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں شعبہ رحمہ اللہ کی مجلس میں تھا وہاں انہوں نے اس لفظ «جَرْسَ» کو «جَرْشَ» بڑی «شین» کے ساتھ پڑھا میں نے کہا چھوٹے «سین» سے ہے، شعبہ رحمہ اللہ نے میری طرف دیکھا اور فرمایا: ”یہ ہم سے زیادہ اسے جانتے ہیں یہی ٹھیک ہے تم اصلاح کر لو۔“ الغرض شہد نوشی کے واقعہ میں شہد پلانے والیوں میں دو نام مروی ہیں ایک سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا دوسرا سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا، بلکہ اس امر پر اتفاق کرنے والیوں میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا نام ہے پس ممکن ہے یہ دو واقعہ ہوں، یہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن ان دونوں کے بارے میں اس آیت کا نازل ہونا ذرا غور طلب ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
طلاق کی جھوٹی افواہ بزبان ٭٭
آپس میں اس قسم کا مشورہ کرنے والی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا تھیں یہ اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے جو مسند امام احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں مجھے مدتوں سے آرزو تھی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دونوں بیوی صاحبان کا نام معلوم کروں جن کا ذکر آیت «إِن تَتُوبَا إِلَى اللَّـهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا» ۱؎ [66-التحریم:4] الخ، میں ہے پس حج کے سفر میں جب خلیفتہ الرسول چلے تو میں بھی ہم رکاب ہو لیا ایک راستے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ راستہ چھوڑ کر جنگل کی طرف چلے میں ڈولچی لیے ہوئے پیچھے پیچھے گیا۔ آپ حاجت ضروری سے فارغ ہو کر آئے میں نے پانی ڈلوایا اور وضو کرایا، اب موقعہ پا کر سوال کیا کہ اے امیر المؤمنین! جن کے بارے میں یہ آیت ہے وہ دونوں کون ہیں؟ آپ نے فرمایا ”ابن عباس! افسوس“، زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان کا یہ دریافت کرنا برا معلوم ہوا لیکن چھپانا جائز نہ تھا اس لیے جواب دیا، اس سے مراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے واقعہ بیان کرنا شروع کیا کہ ہم قریش تو اپنی عورتوں کو اپنے زیر فرمان رکھتے تھے لیکن مدینہ والوں پر عموماً ان کی عورتیں حاوی تھیں جب ہم ہجرت کر کے مدینہ آئے تو ہماری عورتوں نے بھی ان کی دیکھا دیکھی ہم پر غلبہ حاصل کرنا چاہا۔ میں مدینہ شریف کے بالائی حصہ میں امیہ بن زید رضی اللہ عنہ کے گھر میں ٹھہرا ہوا تھا ایک مرتبہ میں اپنی بیوی پر کچھ ناراض ہوا اور کچھ کہنے سننے لگا تو پلٹ کر اس نے مجھے جواب دینے شروع کئے، مجھے نہایت برا معلوم ہوا کہ یہ کیا حرکت ہے؟ یہ نئی بات کیسی؟ اس نے میرا تعجب دیکھ کر کہا کہ آپ کس خیال میں ہیں؟ اللہ کی قسم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی آپ کو جواب دیتی ہیں اور بعض مرتبہ تو دن دن بھر بول چال چھوڑ دیتی ہیں اب میں تو ایک دوسری الجھن میں پڑ گیا، سیدھا اپنی بیٹی حفصہ کے گھر گیا اور دریافت کیا کہ کیا یہ سچ ہے کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیتی ہو اور کبھی کبھی سارا سارا دن روٹھی رہتی ہو؟ جواب ملا کہ سچ ہے۔ میں نے کہا کہ برباد ہوئی اور نقصان میں پڑی جس نے ایسا کیا۔ کیا تم اس سے غافل ہو گئیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غصہ کی وجہ سے ایسی عورت پر اللہ ناراض ہو جائے اور وہ کہیں کی نہ رہے؟ خبردار! آئندہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی جواب نہ دینا، نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ طلب کرنا، جو مانگنا ہو مجھ سے مانگ لیا کرو، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیکھ کر تم ان کی حرص نہ کرنا وہ تم سے اچھی اور تم سے بہت زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی منظور نظر ہیں۔
اب اور سنو میرا پڑوسی ایک انصاری تھا اس نے اور میں نے باریاں مقرر کر لی تھیں، ایک دن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارتا اور ایک دن وہ، میں اپنی باری والے دن کی تمام حدیثیں آیتیں وغیرہ انہیں آ کر سنا دیتا اور یہ بات ہم میں اس وقت مشہور ہو رہی تھی کہ غسانی بادشاہ اپنے فوجی گھوڑوں کے نعل لگوا رہا ہے اور اس کا ارادہ ہم پر چڑھائی کرنے کا ہے، ایک مرتبہ میرے ساتھی اپنی باری والے دن گئے ہوئے تھے، عشاء کے وقت آ گئے اور میرا دروازہ کھٹکھٹا کر مجھے آوازیں دینے لگے، میں گھبرا کر باہر نکلا دریافت کیا خیریت تو ہے؟ اس نے کہا: آج تو بڑا بھاری کام ہو گیا، میں نے کہا کیا غسانی بادشاہ آ پہنچا؟ اس نے کہا: اس سے بھی بڑھ کر، میں نے پوچھا: وہ کیا؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی میں نے کہا: افسوس حفصہ برباد ہو گئی اور اس نے نقصان اٹھایا، مجھے پہلے ہی سے اس امر کا کھٹکا تھا، صبح کی نماز پڑھتے ہی کپڑے پہن کر میں چلا سیدھا حفصہ کے پاس گیا، دیکھا کہ وہ رو رہی ہیں، میں نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دے دی؟ جواب دیا یہ تو کچھ معلوم نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے الگ ہو کر اپنے اس بالا خانہ میں تشریف فرما ہیں۔ میں وہاں گیا دیکھا کہ ایک حبشی غلام پہرے پر ہے، میں نے کہا: جاؤ میرے لیے اجازت طلب کرو، وہ گیا پھر آ کر کہنے لگا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ جواب نہیں دیا، میں وہاں سے واپس چلا آیا، مسجد میں گیا دیکھا کہ منبر کے پاس ایک گروہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا بیٹھا ہوا ہے اور بعض بعض کے تو آنسو نکل رہے ہیں، میں تھوڑی سی دیر بیٹھا لیکن چین کہاں؟ پھر اٹھ کھڑا ہوا اور وہاں جا کر غلام سے کہا کہ میرے لیے اجازت طلبب کرو، اس نے پھر آ کر یہی کہا کہ کچھ جواب نہیں ملا، میں دوبارہ مسجد چلا گیا پھر وہاں سے گھبرا کر نکلا یہاں آیا پھر غلام سے کہا غلام گیا آیا اور وہی جواب دیا میں واپس مڑا ہی تھا کہ غلام نے مجھے آواز دی کہ آیئے آپ کو اجازت مل گئی۔ میں گیا دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بورے پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہیں جس کے نشان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر ظاہر ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ! کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور فرمایا: نہیں، میں نے کہا: اللہ اکبر! یا رسول اللہ! بات یہ ہے کہ ہم قوم قریش تو اپنی بیویوں کو اپنے دباؤ میں رکھا کرتے تھے لیکن مدینے والوں پر ان کی بیویاں غالب ہیں یہاں آ کر ہماری عورتوں نے بھی ان کی دیکھا دیکھی یہی حرکت شروع کر دی، پھر میں نے اپنی بیوی کا واقعہ سنایا اور میرا یہ خبر پا کر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی ایسا کرتی ہیں، یہ کہنا کہ کیا انہیں ڈر نہیں تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے غصہ کی وجہ سے اللہ بھی ان سے ناراض ہو جائے اور وہ ہلاک ہو جائیں بیان کیا، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے۔ میں نے پھر اپنا سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس جانا اور انہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ریس کرنے سے روکنا بیان کیا اس پر دوبارہ مسکرائے، میں نے کہا: اگر اجازت ہو تو ذرا سی دیر اور رک جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی میں بیٹھ گیا اب جو سر اٹھا کر چاروں طرف نظریں دوڑائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹھک (دربار خاص) میں سوائے تین خشک کھالوں کے اور کوئی چیز نہ دیکھی، آزردہ دل ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی امت پر کشادگی کرے، دیکھئے تو فارسی اور رومی جو اللہ کی عبادت ہی نہیں کرتے انہیں کس قدر دنیا کی نعمتوں میں وسعت دی گئی ہے؟ یہ سنتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سنبھل بیٹھے اور فرمانے لگے ”اے ابن خطاب! کیا تو شک میں ہے؟ اس قوم کی اچھائیاں انہیں بہ عجلت دنیا میں ہی دے دی گئیں۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے لیے اللہ سے بخشش طلب کیجئے، بات یہ تھی کہ آپ نے سخت ناراضگی کی وجہ سے قسم کھا لی تھی کہ مہینہ بھر تک اپنی بیویوں کے پاس نہ جاؤں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تنبیہ کی، یہ حدیث بخاری مسلم ترمذی اور نسائی میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:5191]
بخاری مسلم کی حدیث میں ہے { سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سال بھر اسی امید میں گزر گیا کہ موقعہ ملے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ان دونوں کے نام دریافت کروں لیکن ہیبت فاروقی سے ہمت نہیں پڑتی تھی یہاں تک کہ حج کی واپسی میں پوچھا پھر پوری حدیث بیان کی جو اوپر گزر چکی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4931] صحیح مسلم میں ہے کہ { طلاق کی شہرت کا واقعہ پردہ کی آیتوں کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے، اس میں یہ بھی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جس طرح سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر انہیں سمجھا آئے تھے اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھی ہو آئے تھے، اور یہ بھی ہے کہ اس غلام کا نام جو ڈیوڑھی پر پہرہ دے رہے تھے رباح رضی اللہ عنہ تھا }۔
اے نبی! جس چیز کو اللہ نے آپ کے لئے حلال کردیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں؟ (1) (کیا) آپ اپنی بیویوں کی رضامندی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
(آیت 1) ➊ { يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ:} وہ چیز کیا تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ پر حرام کی اور یہ آیات نازل ہوئیں؟ اس کے متعلق ایک تو وہ مشہور واقعہ ہے جو صحیح بخاری و صحیح مسلم وغیرہ میں نقل ہوا ہے، عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں: [ كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ عَسَلاً عِنْدَ زَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ وَ يَمْكُثُ عِنْدَهَا فَوَاطَأْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ عَنْ أَيَّتُنَا دَخَلَ عَلَيْهَا فَلْتَقُلْ لَّهُ أَكَلْتَ مَغَافِيْرَ، إِنِّيْ أَجِدُ مِنْكَ رِيْحَ مَغَافِيْرَ، قَالَ لاَ وَلٰكِنِّيْ كُنْتُ أَشْرَبُ عَسَلاً عِنْدَ زَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ فَلَنْ أَعُوْدَ لَهُ وَ قَدْ حَلَفْتُ لاَ تُخْبِرِيْ بِذٰلِكَ أَحَدًا ] [ بخاري، التفسیر، باب: «یا أیھا النبي لم تحرم…» : ۴۹۱۲۔ مسلم: ۱۴۷۴ ] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زینب بنت جحش رضی اللہ عنھا کے پاس شہد پیا کرتے تھے اور ان کے پاس ٹھہر جاتے تھے، تو میں نے اور حفصہ نے آپس میں اس بات پر اتفاق کر لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے جس کے پاس بھی آئیں وہ آپ سے یہ کہے کہ آپ نے مغافیر کھائی ہے، کیونکہ مجھے آپ سے مغافیر کی بو آرہی ہے۔ (جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے پر یہ بات کہی گئی تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، لیکن میں زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا کرتا تھا، دوبارہ کبھی نہیں پیوں گا اور میں نے (اس بات کی) قسم کھا لی ہے، تم یہ بات کسی کو نہ بتانا۔“ امام بخاری رحمہ اللہ نے {”كِتَابُ الطَّلاَقِ“} میں بھی یہ حدیث نقل فرمائی ہے، اس میں یہ الفاظ بھی ہیں: [ فَنَزَلَتْ: «يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ» ] [ بخاري، الطلاق، باب: «لم تحرم ما أحل اللّٰہ لک» : ۵۲۶۷ ] ”یعنی اس واقعہ پر یہ آیت اتری: «يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ» ”اے نبی! تو کیوں حرام کرتا ہے جو اللہ نے تیرے لیے حلال کیا ہے؟“ واضح رہے کہ مغافیر ایک بدبو دار میٹھی گوند ہوتی ہے جو عرفط نامی پودے پر پیدا ہوتی ہے۔ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنھما کا مطلب یہ تھا کہ آپ کو بدبو سے بہت نفرت ہے، آپ یہ سوچ کر شہد پینا چھوڑ دیں گے کہ مغافیر کی بو شہد ہی سے آ رہی ہوگی، کیونکہ ممکن ہے شہد کی مکھیوں نے اس کے پودے عرفط کا رس چوس کر شہد بنایا ہو۔ دوسرا وہ واقعہ ہے جو امام نسائی نے انس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے: [ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ يَطَؤُهَا فَلَمْ تَزَلْ بِهِ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ حَتّٰی حَرَّمَهَا عَلٰی نَفْسِهِ فَأَنْزَلَ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ: «يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ» إِلٰی آخِرِ الْآيَةِ ] [ نسائي، عشرۃ النساء، باب الغیرۃ: ۳۴۱۱ ] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لونڈی تھی جس سے آپ صحبت کیا کرتے تھے، تو عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنھما مسلسل آپ سے اصرار کرتی رہیں، حتیٰ کہ آپ نے اسے اپنے آپ پر حرام کر لیا، تو اللہ عزوجل نے یہ مکمل آیت نازل فرمائی: «يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ» ”اے نبی! تو کیوں حرام کرتا ہے جو اللہ نے تیرے لیے حلال کیا ہے؟“ علامہ البانی نے فرمایا: {”إِسْنَادُهُ صَحِيْحٌ“} اور حافظ ابن حجر نے {”كِتَابُ الطَّلاَقِ، بَابُ: «لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ» “} کی شرح کرتے ہوئے اس حدیث کی سند کو صحیح کہا ہے۔ یہ لونڈی ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنھا تھیں، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کی ماں تھیں۔ ضیاء مقدسی نے {” اَلْأَحَادِيْثُ الْمُخْتَارَةُ “} میں روایت کی ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: [ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَفْصَةَ لاَ تُحَدِّثِيْ أَحَدًا وَّ إِنَّ أُمَّ إِبْرَاهِيْمَ عَلَيَّ حَرَامٌ فَقَالَتْ أَتُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ؟ قَالَ فَوَ اللّٰهِ! لاَ أَقْرَبُهَا، قَالَ فَلَمْ يَقْرَبْهَا، حَتّٰی أَخْبَرَتْ عَائِشَةَ فَأَنْزَلَ اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ: «قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَيْمَانِكُمْ» ] [الأحادیث المختارۃ: ۱۸۹] ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہ رضی اللہ عنھا سے کہا کہ تم کسی کو نہ بتانا یہ کہ ام ابراہیم مجھ پر حرام ہے۔“ انھوں نے کہا: ”کیا آپ وہ چیز حرام کر رہے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں اس کے قریب نہیں جاؤں گا۔“ تو آپ اس کے قریب نہیں گئے، حتیٰ کہ اس (حفصہ رضی اللہ عنھا) نے یہ بات عائشہ(رضی اللہ عنھا) کو بتا دی تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرما دی: «قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَيْمَانِكُمْ» ”بے شک اللہ نے تمھارے لیے تمھاری قسموں کا کفارہ مقرر کر دیا ہے۔“ ضیاء مقدسی نے حدیث کے آخر میں فرمایا: {”إِسْنَادُهُ صَحِيْحٌ“} اور ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں ہیثم بن کلیب کی مسند کے حوالے سے اسے نقل کر کے فرمایا، یہ اسناد صحیح ہے اور کتب ستہ میں سے کسی نے اسے روایت نہیں کیا اور ضیاء مقدسی نے اپنی {” اَلْمُسْتَخْرَجُ “} میں اس کا انتخاب کیا ہے۔ اس سلسلے میں کچھ اور واقعات بھی بیان کیے گئے ہیں مگر ان میں سے کسی کی سند صحیح نہیں۔ ان دونوں واقعات میں سے شہد والے واقعہ کی سند زیادہ صحیح ہے، کیونکہ وہ صحیحین میں ہے، اس لیے بعض مفسرین نے صرف اسی کو ان آیات کا سبب نزول قرار دیا ہے۔ چنانچہ قرطبی کے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ ان تمام اقوال میں سب سے صحیح پہلا ہے اور صحیح یہ ہے کہ آپ نے حرام شہد کو کیا تھا جو آپ زینب رضی اللہ عنھا کے ہاں پیا کرتے تھے اور ابن کثیر نے اس کے متعلق بہت سی روایات نقل کرنے کے بعد فرمایا: ”صحیح یہ ہے کہ یہ معاملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہد کو حرام کرنے کی وجہ سے ہوا تھا۔“ اور آلوسی نے فرمایا: ”نووی نے مسلم کی شرح میں کہا ہے کہ صحیح یہ ہے کہ یہ آیت شہد کے واقعہ کے بارے میں ہے نہ کہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنھا کے واقعہ کے بارے میں، جو صحیحین کے علاوہ کتابوں میں آیا ہے اور ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنھا کا واقعہ کسی صحیح سند کے ساتھ نہیں آیا۔“ مگر جیسا کہ اوپر گزرا کہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنھا کے قصے کی سند کو ضیاء مقدسی، ابن کثیر، ابن حجر اور البانی رحمھم اللہ نے صحیح کہا ہے، شہد والے واقعہ سے اس کا کوئی تعارض بھی نہیں اور ایک آیت کا سبب نزول کئی واقعات بھی ہو سکتے ہیں، اس لیے صحیح بات یہی ہے کہ یہ دونوں واقعات ان آیات کا سبب نزول ہیں، شوکانی نے بھی یہی فیصلہ فرمایا ہے۔ ➋ احادیث سے ظاہر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہد کو امت کے لیے حرام قرار نہیں دیا تھا، بلکہ صرف خود اسے نہ پینے کی قسم کھائی تھی۔ اسی طرح امت کے لیے ان کی لونڈیوں کو حرام قرار نہیں دیا، بلکہ صرف اپنی ایک لونڈی کو اپنے آپ پر حرام قرار دیا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے اس پر بھی ناراضی کا اظہار فرمایا، کیونکہ آپ کے ایسا کرنے سے آپ کا ان نعمتوں سے محروم ہونا لازم آتا تھا جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال کی تھیں۔ اس کے علاوہ اندیشہ تھا کہ آپ کو دیکھ کر امت کے لوگ، جن کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسوۂ حسنہ و کاملہ ہیں، شہد کے قریب نہیں جائیں گے اور یہ دونوں باتیں اللہ تعالیٰ کو گوارا نہیں تھیں۔ ➌ اس سے معلوم ہوا کہ صوفی حضرات جو ترک حیوانات جلالی و جمالی کرتے ہیں، یعنی اپنے چلوں اور وظیفوں کے درمیان کوئی جاندار چیز یا اس سے نکلنے والی چیز مثلاً گوشت، مچھلی، انڈا، دودھ، گھی اور شہد وغیرہ نہیں کھاتے، ان کا یہ عمل اللہ تعالیٰ کی اس تنبیہ کے خلاف ہے۔ حقیقت میں یہ عمل ہندو جوگیوں یا نصرانی راہبوں سے لیا گیا ہے، اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ ➍ {” يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ “} کے الفاظ کے ساتھ خطاب کا مقصد یہ ہے کہ آپ کا کام وحی الٰہی پر چلنا اور اسے آگے پہنچانا ہے، آپ کو اپنی مرضی سے کچھ بھی کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ➎ اس آیت سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر قول، فعل اور تقریر پر وحی الٰہی کی مہر ہے اور وہ سب کا سب دین ہے، کیونکہ اگر آپ کا کوئی اجتہاد درست نہیں ہوتا تھا تو اللہ تعالیٰ فوراً اس کی اصلاح فرما دیتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معصوم ہونے کا یہی مطلب ہے، انبیاء کے علاوہ کسی کو یہ چیز حاصل نہیں کہ وحی کے ذریعے سے ان کی خطا کی اصلاح ہوتی ہو۔ اس لیے کسی صحابی یا امام یا پیر فقیر کی بات امت کے لیے حجت نہیں، کیونکہ وہ درست بھی ہو سکتی ہے اور غلط بھی۔ ➏ { تَبْتَغِيْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ:} اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور امت کو تعلیم ہے کہ بیویوں کو خوش رکھنا اگرچہ اچھی بات ہے، مگر اس وقت تک جب وہ اللہ تعالیٰ کے احکام پر قائم رہ کر ہو، رب تعالیٰ کو ناراض کر کے انھیں راضی کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ ➐ { وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ:} یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر خاص انعام و فضل ہے کہ عتاب کرتے ہوئے ساتھ ہی معافی اور مغفرت و رحمت کی خوش خبری بھی سنا دی، جیسا کہ فرمایا: «عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ» [ التوبۃ: ۴۳ ] ”اللہ نے تجھے معاف کر دیا، تو نے ان (منافقین) کو پیچھے رہنے کی اجازت کیوں دی؟“
اللہ نے تم لوگوں کے لیے اپنی قسموں کی پابندی سے نکلنے کا طریقہ مقرر کر دیا ہے اللہ تمہارا مولیٰ ہے، اور وہی علیم و حکیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تحقیق کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے قسموں کو کھول ڈالنا مقرر کر دیا ہے اور اللہ تمہارا کارساز ہے اور وہی (پورے) علم واﻻ، حکمت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اللہ نے تمہارے لیے تمہاری قسموں کا اتار مقرر فرمادیا اور اللہ تمہارا مولیٰ ہے، اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک اللہ نے تمہاری قَسموں (کی گرہ کے) کھولنے کا طریقہ مقررکر دیا ہے اللہ تمہارا مولیٰ (سرپرست و کارساز ہے) اور وہ بڑا جاننے والا، بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک اللہ نے تمھارے لیے تمھاری قسموں کا کفارہ مقرر کر دیا ہے اور اللہ تمھارا مالک ہے اور وہی سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خلت و حرمت اللہ کے قبضے میں ہے ٭٭
اس سورت کی ابتدائی آیتوں کے شان نزول میں مفسرین کے اقوال یہ ہیں: بعض تو کہتے ہیں یہ سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا جس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ نسائی میں یہ روایت موجود ہے کہ { سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کے کہنے سننے سے ایسا ہوا تھا کہ ایک لونڈی کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں }۔ [سنن نسائی:3411،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن جریر میں ہے کہ ام ابراہیم رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیوی صاحبہ کے گھر میں بات چیت کی جس پر انہوں نے کہا یا رسول اللہ! میرے گھر میں اور میرے بستر پر؟ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے اوپر حرام کر لیا تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! حلال آپ پر حرام کیسے ہو جائے گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی کہ اب ان سے اس قسم کی بات چیت نہ کروں گا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ کسی کا یہ کہہ دینا کہ تو مجھ پر حرام ہے لغو اور فضول ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34382:مرسل] زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ { تو مجھ پر حرام ہے اللہ کی قسم میں تجھ سے صحبت داری نہ کروں گا }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34385:مرسل]
مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پس حرام کرنے کے باب میں تو آپ پر عتاب کیا گیا اور قسم کے کفارے کا حکم ہوا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:34383:مرسل] ابن جریر میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ یہ دونوں عورتیں کون تھیں؟ فرمایا ”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا اور ابتداءً ام ابراہیم قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں ہوئی۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ان کی باری والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملے تھے۔ جس پر سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو رنج ہوا کہ میری باری کے دن میرے گھر اور میرے بستر پر؟ حضو رصلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رضامند کرنے اور منانے کے لیے کہہ دیا کہ میں اسے اپنے اوپر حرام کرتا ہوں، اب تم اس واقعہ کا ذکر کسی سے نہ کرنا، لیکن سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے واقعہ کہہ دیا، اللہ نے بھی اس کی اطلاع اپنے نبی کو دے دی اور یہ کل آیتیں نازل فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفارہ دے کر اپنی قسم توڑ دی اور اس لونڈی سے ملے جلے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34397:صحیح]
بیوی یا لونڈی کو حرام کہنے پر کفارہ ٭٭
اسی واقعہ کو دلیل بنا کر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فتویٰ ہے کہ ”جو کہے فلاں چیز مجھ پر حرام ہے اسے قسم کا کفارہ دینا چاہیئے“، ایک شخص نے آپ سے یہی مسئلہ پوچھا کہ میں اپنی عورت کو اپنے اوپر حرام کر چکا ہوں؟ تو آپ نے فرمایا ”وہ تجھ پر حرام نہیں، سب سے زیادہ سخت کفارہ اس کا تو راہ اللہ میں غلام آزاد کرنا ہے۔“ امام احمد رحمہ اللہ اور بہت سے فقہاء کا فتویٰ ہے کہ ”جو شخص اپنی بیوی، لونڈی یا کسی کھانے پینے، پہننے اوڑھنے کی چیز کو اپنے اوپر حرام کر لے تو اس پر کفارہ واجب ہو جاتا ہے۔“ امام شافعی رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”صرف بیوی اور لونڈی کے حرام کرنے پر کفارہ ہے کسی اور پر نہیں، اور اگر حرام کہنے سے نیت طلاق کی رکھی تو بیشک طلاق ہو جائے گی، اسی طرح لونڈی کے بارے میں اگر آزادگی کی نیت حرام کا لفظ کہنے سے رکھی ہے تو وہ آزاد ہو جائے گی۔“
(۲) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ آیت اس عورت کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے اپنا نفس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کیا تھا، لیکن یہ غریب ہے، [مسند بزار:2274] بالکل صحیح بات یہ ہے کہ ان آیتوں کا اترنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہد حرام کر لینے پر تھا۔
(۳) صحیح بخاری میں اس آیت کے موقعہ پر کہ { زینب بنت بخش رضی اللہ عنہا کے گھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہد پیتے تھے اور اس کی خاطر ذرا سی دیر وہاں ٹھہرتے بھی تھے اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں وہ کہے کہ یا رسول اللہ! کہ آج تو آپ کے منہ سے گوند کی سی بدبو آتی ہے شاید آپ نے مغافیر کھایا ہو گا۔ چنانچہ ہم نے یہی کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، میں نے تو زینب کے گھر شہد پیا ہے اب قسم کھاتا ہوں کہ نہ پیوں گا یہ کسی سے کہنا مت“ }۔ [صحیح بخاری:4912] امام بخاری اس حدیث کو «کتاب الایمان والندوہ» میں بھی کچھ زیادتی کے ساتھ لائے ہیں جس میں ہے کہ دونوں عورتوں سے یہاں مراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں اور چپکے سے بات کہنا یہی تھا کہ میں نے شہد پیا ہے، کتاب الطلاق میں امام صاحب رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کو لائے ہیں۔ [صحیح بخاری:5267] پھر فرمایا ہے مغافیر گوند کے مشابہ ایک چیز ہے جو شور گھاس میں پیدا ہوتی ہے اس میں قدرے مٹھاس ہوتی ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا آپس میں خفیہ مشورہ ٭٭
صحیح بخاری کی کتاب الطلاق میں یہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان الفاظ میں مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مٹھاس اور شہد بہت پسند تھا، عصر کی نماز کے بعد اپنی بیویوں کے گھر آتے اور کسی سے نزدیکی کرتے۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے اور جتنا وہاں رکتے تھے اس سے زیادہ رکے مجھے غیرت سوار ہوئی، تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ ان کی قوم کی ایک عورت نے ایک کپی شہد کی انہیں بطور ہدیہ کے بھیجی ہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہد کا شربت پلایا اور اتنی دیر روک رکھا، میں نے کہا: خیر اسے کسی حیلے سے ٹال دوں گی۔ چنانچہ میں نے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پاس جب آئیں اور قریب ہوں تو تم کہنا کہ آج کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے نہیں، تم کہنا پھر یہ بدبو کیسی آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے، مجھے حفصہ نے شہد پلایا تھا تو تم کہنا کہ شاید شہد کی مکھی نے عرفط نامی خار دار درخت چوسا ہو گا، میرے پاس آئیں گے میں بھی یہی کہوں گی، پھر اے صفیہ تمہارے پاس جب آئیں تو تم بھی یہی کہنا۔ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر آئے، ابھی تو دروازے ہی پر تھے جو میں نے ارادہ کیا کہ تم نے جو مجھ سے کہا ہے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دوں کیونکہ میں تم سے بہت ڈرتی تھی، لیکن خیر اس وقت تو خاموش رہی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، میں نے تمہارا تمام کہنا پورا کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے میں نے بھی یہی کہا، پھر صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے انہوں نے بھی یہی کہا، پھر جب حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے شہد کا شربت پلانا چاہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس کی حاجت نہیں“، سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں افسوس ہم نے اسے حرام کرا دیا میں نے کہا خاموش رہو۔ } [صحیح بخاری:5268]
صحیح مسلم کی اس حدیث میں اتنی زیادتی اور ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بدبو سے سخت نفرت تھی }۔ [صحیح مسلم:1474] اسی لیے ان بیویوں نے کہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغافیر کھایا ہے اس میں بھی قدرے بدبو ہوتی ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ نہیں! میں نے تو شہد پیا ہے، تو انہوں نے کہہ دیا کہ پھر اس شہد کی مکھی نے عرفط درخت کو چوسا ہو گا جس کے گوند کا نام مغافیر ہے اور اس کے اثر سے اس شہد میں اس کی بو رہ گئی ہو گی۔ اس روایت میں لفظ «جَرَسَتْ» ہے جس کے معنی جوہری نے کئے ہیں کھایا اور شہد کی مکھیوں کو بھی «جَوَارِسُ» کہتے ہیں اور «جَرْسَ» مدہم ہلکی آواز کو کہتے ہیں۔ عرب کہتے ہیں «سَمِعْتُ جَرَسَ الطِّيْرِ» جبکہ پرند دانہ چگ رہا ہو اور اس کی چونچ کی آواز سنائی دیتی ہو۔ ایک حدیث میں ہے { «فَيَسْمَعُونَ جَرْشَ طَيْرِ الْجَنَّةِ» پھر وہ جنتی پرندوں کی ہلکی اور میٹھی سہانی آوازیں سنیں گے }، یہاں بھی عربی میں لفظ «جَرْسَ» ہے۔ اصمعی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں شعبہ رحمہ اللہ کی مجلس میں تھا وہاں انہوں نے اس لفظ «جَرْسَ» کو «جَرْشَ» بڑی «شین» کے ساتھ پڑھا میں نے کہا چھوٹے «سین» سے ہے، شعبہ رحمہ اللہ نے میری طرف دیکھا اور فرمایا: ”یہ ہم سے زیادہ اسے جانتے ہیں یہی ٹھیک ہے تم اصلاح کر لو۔“ الغرض شہد نوشی کے واقعہ میں شہد پلانے والیوں میں دو نام مروی ہیں ایک سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا دوسرا سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا، بلکہ اس امر پر اتفاق کرنے والیوں میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا نام ہے پس ممکن ہے یہ دو واقعہ ہوں، یہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن ان دونوں کے بارے میں اس آیت کا نازل ہونا ذرا غور طلب ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
طلاق کی جھوٹی افواہ بزبان ٭٭
آپس میں اس قسم کا مشورہ کرنے والی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا تھیں یہ اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے جو مسند امام احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں مجھے مدتوں سے آرزو تھی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دونوں بیوی صاحبان کا نام معلوم کروں جن کا ذکر آیت «إِن تَتُوبَا إِلَى اللَّـهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا» ۱؎ [66-التحریم:4] الخ، میں ہے پس حج کے سفر میں جب خلیفتہ الرسول چلے تو میں بھی ہم رکاب ہو لیا ایک راستے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ راستہ چھوڑ کر جنگل کی طرف چلے میں ڈولچی لیے ہوئے پیچھے پیچھے گیا۔ آپ حاجت ضروری سے فارغ ہو کر آئے میں نے پانی ڈلوایا اور وضو کرایا، اب موقعہ پا کر سوال کیا کہ اے امیر المؤمنین! جن کے بارے میں یہ آیت ہے وہ دونوں کون ہیں؟ آپ نے فرمایا ”ابن عباس! افسوس“، زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان کا یہ دریافت کرنا برا معلوم ہوا لیکن چھپانا جائز نہ تھا اس لیے جواب دیا، اس سے مراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے واقعہ بیان کرنا شروع کیا کہ ہم قریش تو اپنی عورتوں کو اپنے زیر فرمان رکھتے تھے لیکن مدینہ والوں پر عموماً ان کی عورتیں حاوی تھیں جب ہم ہجرت کر کے مدینہ آئے تو ہماری عورتوں نے بھی ان کی دیکھا دیکھی ہم پر غلبہ حاصل کرنا چاہا۔ میں مدینہ شریف کے بالائی حصہ میں امیہ بن زید رضی اللہ عنہ کے گھر میں ٹھہرا ہوا تھا ایک مرتبہ میں اپنی بیوی پر کچھ ناراض ہوا اور کچھ کہنے سننے لگا تو پلٹ کر اس نے مجھے جواب دینے شروع کئے، مجھے نہایت برا معلوم ہوا کہ یہ کیا حرکت ہے؟ یہ نئی بات کیسی؟ اس نے میرا تعجب دیکھ کر کہا کہ آپ کس خیال میں ہیں؟ اللہ کی قسم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی آپ کو جواب دیتی ہیں اور بعض مرتبہ تو دن دن بھر بول چال چھوڑ دیتی ہیں اب میں تو ایک دوسری الجھن میں پڑ گیا، سیدھا اپنی بیٹی حفصہ کے گھر گیا اور دریافت کیا کہ کیا یہ سچ ہے کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیتی ہو اور کبھی کبھی سارا سارا دن روٹھی رہتی ہو؟ جواب ملا کہ سچ ہے۔ میں نے کہا کہ برباد ہوئی اور نقصان میں پڑی جس نے ایسا کیا۔ کیا تم اس سے غافل ہو گئیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غصہ کی وجہ سے ایسی عورت پر اللہ ناراض ہو جائے اور وہ کہیں کی نہ رہے؟ خبردار! آئندہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی جواب نہ دینا، نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ طلب کرنا، جو مانگنا ہو مجھ سے مانگ لیا کرو، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیکھ کر تم ان کی حرص نہ کرنا وہ تم سے اچھی اور تم سے بہت زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی منظور نظر ہیں۔
اب اور سنو میرا پڑوسی ایک انصاری تھا اس نے اور میں نے باریاں مقرر کر لی تھیں، ایک دن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارتا اور ایک دن وہ، میں اپنی باری والے دن کی تمام حدیثیں آیتیں وغیرہ انہیں آ کر سنا دیتا اور یہ بات ہم میں اس وقت مشہور ہو رہی تھی کہ غسانی بادشاہ اپنے فوجی گھوڑوں کے نعل لگوا رہا ہے اور اس کا ارادہ ہم پر چڑھائی کرنے کا ہے، ایک مرتبہ میرے ساتھی اپنی باری والے دن گئے ہوئے تھے، عشاء کے وقت آ گئے اور میرا دروازہ کھٹکھٹا کر مجھے آوازیں دینے لگے، میں گھبرا کر باہر نکلا دریافت کیا خیریت تو ہے؟ اس نے کہا: آج تو بڑا بھاری کام ہو گیا، میں نے کہا کیا غسانی بادشاہ آ پہنچا؟ اس نے کہا: اس سے بھی بڑھ کر، میں نے پوچھا: وہ کیا؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی میں نے کہا: افسوس حفصہ برباد ہو گئی اور اس نے نقصان اٹھایا، مجھے پہلے ہی سے اس امر کا کھٹکا تھا، صبح کی نماز پڑھتے ہی کپڑے پہن کر میں چلا سیدھا حفصہ کے پاس گیا، دیکھا کہ وہ رو رہی ہیں، میں نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دے دی؟ جواب دیا یہ تو کچھ معلوم نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے الگ ہو کر اپنے اس بالا خانہ میں تشریف فرما ہیں۔ میں وہاں گیا دیکھا کہ ایک حبشی غلام پہرے پر ہے، میں نے کہا: جاؤ میرے لیے اجازت طلب کرو، وہ گیا پھر آ کر کہنے لگا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ جواب نہیں دیا، میں وہاں سے واپس چلا آیا، مسجد میں گیا دیکھا کہ منبر کے پاس ایک گروہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا بیٹھا ہوا ہے اور بعض بعض کے تو آنسو نکل رہے ہیں، میں تھوڑی سی دیر بیٹھا لیکن چین کہاں؟ پھر اٹھ کھڑا ہوا اور وہاں جا کر غلام سے کہا کہ میرے لیے اجازت طلبب کرو، اس نے پھر آ کر یہی کہا کہ کچھ جواب نہیں ملا، میں دوبارہ مسجد چلا گیا پھر وہاں سے گھبرا کر نکلا یہاں آیا پھر غلام سے کہا غلام گیا آیا اور وہی جواب دیا میں واپس مڑا ہی تھا کہ غلام نے مجھے آواز دی کہ آیئے آپ کو اجازت مل گئی۔ میں گیا دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بورے پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہیں جس کے نشان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر ظاہر ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ! کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور فرمایا: نہیں، میں نے کہا: اللہ اکبر! یا رسول اللہ! بات یہ ہے کہ ہم قوم قریش تو اپنی بیویوں کو اپنے دباؤ میں رکھا کرتے تھے لیکن مدینے والوں پر ان کی بیویاں غالب ہیں یہاں آ کر ہماری عورتوں نے بھی ان کی دیکھا دیکھی یہی حرکت شروع کر دی، پھر میں نے اپنی بیوی کا واقعہ سنایا اور میرا یہ خبر پا کر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی ایسا کرتی ہیں، یہ کہنا کہ کیا انہیں ڈر نہیں تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے غصہ کی وجہ سے اللہ بھی ان سے ناراض ہو جائے اور وہ ہلاک ہو جائیں بیان کیا، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے۔ میں نے پھر اپنا سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس جانا اور انہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ریس کرنے سے روکنا بیان کیا اس پر دوبارہ مسکرائے، میں نے کہا: اگر اجازت ہو تو ذرا سی دیر اور رک جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی میں بیٹھ گیا اب جو سر اٹھا کر چاروں طرف نظریں دوڑائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹھک (دربار خاص) میں سوائے تین خشک کھالوں کے اور کوئی چیز نہ دیکھی، آزردہ دل ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی امت پر کشادگی کرے، دیکھئے تو فارسی اور رومی جو اللہ کی عبادت ہی نہیں کرتے انہیں کس قدر دنیا کی نعمتوں میں وسعت دی گئی ہے؟ یہ سنتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سنبھل بیٹھے اور فرمانے لگے ”اے ابن خطاب! کیا تو شک میں ہے؟ اس قوم کی اچھائیاں انہیں بہ عجلت دنیا میں ہی دے دی گئیں۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے لیے اللہ سے بخشش طلب کیجئے، بات یہ تھی کہ آپ نے سخت ناراضگی کی وجہ سے قسم کھا لی تھی کہ مہینہ بھر تک اپنی بیویوں کے پاس نہ جاؤں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تنبیہ کی، یہ حدیث بخاری مسلم ترمذی اور نسائی میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:5191]
بخاری مسلم کی حدیث میں ہے { سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سال بھر اسی امید میں گزر گیا کہ موقعہ ملے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ان دونوں کے نام دریافت کروں لیکن ہیبت فاروقی سے ہمت نہیں پڑتی تھی یہاں تک کہ حج کی واپسی میں پوچھا پھر پوری حدیث بیان کی جو اوپر گزر چکی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4931] صحیح مسلم میں ہے کہ { طلاق کی شہرت کا واقعہ پردہ کی آیتوں کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے، اس میں یہ بھی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جس طرح سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر انہیں سمجھا آئے تھے اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھی ہو آئے تھے، اور یہ بھی ہے کہ اس غلام کا نام جو ڈیوڑھی پر پہرہ دے رہے تھے رباح رضی اللہ عنہ تھا }۔
2۔ 1 یعنی کفارہ ادا کرکے اس کام کو کرنے کی، جس کی نہ کرنے کی قسم کھائی ہو، اجازت دے دی، قسم کا یہ کفارہ سورة مائد ۃ۔ 89 میں بیان کیا گیا ہے۔ چناچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کفارہ ادا کیا (فتح القدیر) اس امر میں علماء کے مابین اختلاف ہے کہ اگر کوئی شخص کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کرلے تو اس کا یہ حکم ہے؟ جمہور علماء کے نزدیک بیوی کے علاوہ کسی چیز کو حرام کرنے سے وہ چیز حرام ہوگی اور نہ اس پر کفارہ ہے، اگر بیوی کو اپنے اوپر حرام کرے گا تو اس سے اس کا مقصد اگر طلاق ہے تو طلاق ہوجائے گی اور اگر طلاق کی نیت نہیں ہے تو راجح قول کے مطابق یہ قسم ہے، اس کے لئے کفارہ کی ادائیگی ضروری ہے۔ (ایسر التفاسیر)۔
(آیت 2) ➊ {قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَيْمَانِكُمْ: ” تَحِلَّةَ “ ”حَلَّلَ“} (تفعیل) کا مصدر {” تَحْلِيْلٌ “} اور {” تَحِلَّةٌ “} دونوں آتے ہیں، جیسے {” كَرَّمَ “} کا مصدر {”تَكْرِيْمٌ“} اور {”تَكْرِمَةٌ “} دونوں آتے ہیں۔ معنی ہے حلال کرنا، مراد قسم کا کفارہ ہے جس کے ادا کرنے کے بعد وہ چیز حلال ہو جاتی ہے جو قسم کھا کر حرام کی تھی، یعنی آپ نے قسم کھا کر جو شہد اور ماریہ کو حرام کیا ہے اس قسم کا کفارہ دے دیں۔ قسم کا کفارہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ مائدہ (۸۹) میں بیان فرما دیا ہے۔ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَ إِنِّيْ وَاللّٰهِ! إِنْ شَاءَ اللّٰهُ لاَ أَحْلِفُ عَلٰی يَمِيْنٍ فَأَرٰی غَيْرَهَا خَيْرًا مِّنْهَا إِلاَّ كَفَّرْتُ عَنْ يَمِيْنِيْ، وَأَتَيْتُ الَّذِيْ هُوَ خَيْرٌ ] [بخاري، الأیمان والنذور، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «لایؤاخذکم اللّٰہ …» : ۶۶۲۳ ] ”اور اللہ کی قسم! میں، اگر اللہ نے چاہا تو کسی بھی بات پر قسم کھاؤں گا، پھر اس کے خلاف کو اس سے بہتر دیکھوں گا تو اپنی قسم کا کفارہ دوں گا اور وہ کام کروں گا جو بہتر ہے۔“ ناجائز کام کی قسم کھالے تو اسے توڑنا اور اس کا کفارہ دینا ضروری ہے۔ ➋ { وَ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ وَ هُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ: ”مَوْلٰي“} کا معنی ہے مالک، دوست، مددگار۔ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارا مالک، تمھارا مددگار اور تم پر بے حد مہربان ہے، اسی لیے اس نے تمھیں ایسی چیزوں سے منع فرمایا ہے جو تمھیں مشکل میں مبتلا کر دیں اور اگر قسم کھا کر ایسی کسی مشکل میں پڑ جاؤ تو اس سے نکلنے کا طریقہ بھی بتا دیا ہے، کیونکہ: «يُرِيْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَ لَا يُرِيْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ» [ البقرۃ: ۱۸۵ ] ”اللہ تمھارے ساتھ آسانی کا ارادہ رکھتا ہے اور تمھارے ساتھ تنگی کا ارادہ نہیں رکھتا۔“ اور وہی ہے جو سب کچھ جاننے والا اور کمال حکمت والا ہے، اس لیے اس کے کسی حکم میں کوئی خطا نہیں، کیونکہ اس کے تمام احکام کامل علم و حکمت پر مبنی ہیں۔
(اور یہ معاملہ بھی قابل توجہ ہے کہ) نبیؐ نے ایک بات اپنی ایک بیوی سے راز میں کہی تھی پھر جب اُس بیوی نے (کسی اور پر) وہ راز ظاہر کر دیا، اور اللہ نے نبیؐ کو اِس (افشائے راز) کی اطلاع دے دی، تو نبیؐ نے اس پر کسی حد تک (اُس بیوی کو) خبردار کیا اور کسی حد تک اس سے درگزر کیا پھر جب نبیؐ نے اُسے (افشائے راز کی) یہ بات بتائی تو اُس نے پوچھا آپ کو اِس کی کس نے خبر دی؟ نبیؐ نے کہا، "مجھے اُس نے خبر دی جو سب کچھ جانتا ہے اور خوب باخبر ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یاد کر جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے ایک پوشیده بات کہی، پس جب اس نے اس بات کی خبر کر دی اور اللہ نے اپنے نبی کو اس پر آگاه کر دیا تو نبی نے تھوڑی سی بات تو بتا دی اور تھوڑی سی ٹال گئے، پھر جب نبی نے اپنی اس بیوی کو یہ بات بتائی تو وه کہنے لگی اس کی خبر آپ کو کس نے دی۔ کہا سب جاننے والے پوری خبر رکھنے والے اللہ نے مجھے یہ بتلایا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جب نبی نے اپنی ایک بی بی سے ایک راز کی بات فرمائی پھر جب وہ اس کا ذکر کر بیٹھی اور اللہ نے اسے نبی پر ظاہر کردیا تو نبی نے اسے کچھ جتایا اور کچھ سے چشم پوشی فرمائی پھر جب نبی نے اسے اس کی خبر دی بولی حضور کو کس نے بتایا، فرمایا مجھے علم والے خبردار نے بتایا
علامہ محمد حسین نجفی
(وہ وقت یاد رکھنے کے لائق ہے) جب نبی(ص) نے اپنی بعض بیویوں سے راز کی ایک بات کہی اور جب اس نے وہ بات (کسی اور کو) بتا دی اور اللہ نے آپ(ص) کو اس (خیانت کاری) سے آگاہ کر دیا تو آپ(ص) نے اس (بیوی) کو کچھ بات جتا دی اور کچھ سے اعراض کیا (چشم پوشی کی) تو جب آپ(ص) نے اس (بیوی) کو یہ بات بتائی تو اس نے (ازراہِ تعجب) کہا کہ آپ(ص) کو اس کی کس نے خبر دی؟ فرمایا مجھے بڑے جاننے والے (اور) بڑے باخبر (خدا) نے خبر دی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب نبی نے اپنی کسی بیوی سے پوشیدہ طور پر کوئی بات کہی، پھر جب اس (بیوی) نے اس بات کی خبر دے دی اور اللہ نے اس (نبی) کو اس کی اطلاع کر دی تو اس (نبی) نے (اس بیوی کو) اس میں سے کچھ بات جتلائی اور کچھ سے اعراض کیا،پھر جب اس (نبیـ) نے اسے یہ (راز فاش کرنے کی) بات بتائی تو اس نے کہا تجھے یہ کس نے بتایا؟ کہا مجھے اس نے بتایا جو سب کچھ جاننے والا، ہر چیز سے باخبر ہے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خلت و حرمت اللہ کے قبضے میں ہے ٭٭
اس سورت کی ابتدائی آیتوں کے شان نزول میں مفسرین کے اقوال یہ ہیں: بعض تو کہتے ہیں یہ سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا جس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ نسائی میں یہ روایت موجود ہے کہ { سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کے کہنے سننے سے ایسا ہوا تھا کہ ایک لونڈی کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں }۔ [سنن نسائی:3411،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن جریر میں ہے کہ ام ابراہیم رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیوی صاحبہ کے گھر میں بات چیت کی جس پر انہوں نے کہا یا رسول اللہ! میرے گھر میں اور میرے بستر پر؟ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے اوپر حرام کر لیا تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! حلال آپ پر حرام کیسے ہو جائے گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی کہ اب ان سے اس قسم کی بات چیت نہ کروں گا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ کسی کا یہ کہہ دینا کہ تو مجھ پر حرام ہے لغو اور فضول ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34382:مرسل] زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ { تو مجھ پر حرام ہے اللہ کی قسم میں تجھ سے صحبت داری نہ کروں گا }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34385:مرسل]
مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پس حرام کرنے کے باب میں تو آپ پر عتاب کیا گیا اور قسم کے کفارے کا حکم ہوا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:34383:مرسل] ابن جریر میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ یہ دونوں عورتیں کون تھیں؟ فرمایا ”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا اور ابتداءً ام ابراہیم قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں ہوئی۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ان کی باری والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملے تھے۔ جس پر سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو رنج ہوا کہ میری باری کے دن میرے گھر اور میرے بستر پر؟ حضو رصلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رضامند کرنے اور منانے کے لیے کہہ دیا کہ میں اسے اپنے اوپر حرام کرتا ہوں، اب تم اس واقعہ کا ذکر کسی سے نہ کرنا، لیکن سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے واقعہ کہہ دیا، اللہ نے بھی اس کی اطلاع اپنے نبی کو دے دی اور یہ کل آیتیں نازل فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفارہ دے کر اپنی قسم توڑ دی اور اس لونڈی سے ملے جلے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34397:صحیح]
بیوی یا لونڈی کو حرام کہنے پر کفارہ ٭٭
اسی واقعہ کو دلیل بنا کر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فتویٰ ہے کہ ”جو کہے فلاں چیز مجھ پر حرام ہے اسے قسم کا کفارہ دینا چاہیئے“، ایک شخص نے آپ سے یہی مسئلہ پوچھا کہ میں اپنی عورت کو اپنے اوپر حرام کر چکا ہوں؟ تو آپ نے فرمایا ”وہ تجھ پر حرام نہیں، سب سے زیادہ سخت کفارہ اس کا تو راہ اللہ میں غلام آزاد کرنا ہے۔“ امام احمد رحمہ اللہ اور بہت سے فقہاء کا فتویٰ ہے کہ ”جو شخص اپنی بیوی، لونڈی یا کسی کھانے پینے، پہننے اوڑھنے کی چیز کو اپنے اوپر حرام کر لے تو اس پر کفارہ واجب ہو جاتا ہے۔“ امام شافعی رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”صرف بیوی اور لونڈی کے حرام کرنے پر کفارہ ہے کسی اور پر نہیں، اور اگر حرام کہنے سے نیت طلاق کی رکھی تو بیشک طلاق ہو جائے گی، اسی طرح لونڈی کے بارے میں اگر آزادگی کی نیت حرام کا لفظ کہنے سے رکھی ہے تو وہ آزاد ہو جائے گی۔“
(۲) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ آیت اس عورت کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے اپنا نفس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کیا تھا، لیکن یہ غریب ہے، [مسند بزار:2274] بالکل صحیح بات یہ ہے کہ ان آیتوں کا اترنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہد حرام کر لینے پر تھا۔
(۳) صحیح بخاری میں اس آیت کے موقعہ پر کہ { زینب بنت بخش رضی اللہ عنہا کے گھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہد پیتے تھے اور اس کی خاطر ذرا سی دیر وہاں ٹھہرتے بھی تھے اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں وہ کہے کہ یا رسول اللہ! کہ آج تو آپ کے منہ سے گوند کی سی بدبو آتی ہے شاید آپ نے مغافیر کھایا ہو گا۔ چنانچہ ہم نے یہی کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، میں نے تو زینب کے گھر شہد پیا ہے اب قسم کھاتا ہوں کہ نہ پیوں گا یہ کسی سے کہنا مت“ }۔ [صحیح بخاری:4912] امام بخاری اس حدیث کو «کتاب الایمان والندوہ» میں بھی کچھ زیادتی کے ساتھ لائے ہیں جس میں ہے کہ دونوں عورتوں سے یہاں مراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں اور چپکے سے بات کہنا یہی تھا کہ میں نے شہد پیا ہے، کتاب الطلاق میں امام صاحب رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کو لائے ہیں۔ [صحیح بخاری:5267] پھر فرمایا ہے مغافیر گوند کے مشابہ ایک چیز ہے جو شور گھاس میں پیدا ہوتی ہے اس میں قدرے مٹھاس ہوتی ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا آپس میں خفیہ مشورہ ٭٭
صحیح بخاری کی کتاب الطلاق میں یہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان الفاظ میں مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مٹھاس اور شہد بہت پسند تھا، عصر کی نماز کے بعد اپنی بیویوں کے گھر آتے اور کسی سے نزدیکی کرتے۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے اور جتنا وہاں رکتے تھے اس سے زیادہ رکے مجھے غیرت سوار ہوئی، تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ ان کی قوم کی ایک عورت نے ایک کپی شہد کی انہیں بطور ہدیہ کے بھیجی ہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہد کا شربت پلایا اور اتنی دیر روک رکھا، میں نے کہا: خیر اسے کسی حیلے سے ٹال دوں گی۔ چنانچہ میں نے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پاس جب آئیں اور قریب ہوں تو تم کہنا کہ آج کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے نہیں، تم کہنا پھر یہ بدبو کیسی آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے، مجھے حفصہ نے شہد پلایا تھا تو تم کہنا کہ شاید شہد کی مکھی نے عرفط نامی خار دار درخت چوسا ہو گا، میرے پاس آئیں گے میں بھی یہی کہوں گی، پھر اے صفیہ تمہارے پاس جب آئیں تو تم بھی یہی کہنا۔ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر آئے، ابھی تو دروازے ہی پر تھے جو میں نے ارادہ کیا کہ تم نے جو مجھ سے کہا ہے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دوں کیونکہ میں تم سے بہت ڈرتی تھی، لیکن خیر اس وقت تو خاموش رہی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، میں نے تمہارا تمام کہنا پورا کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے میں نے بھی یہی کہا، پھر صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے انہوں نے بھی یہی کہا، پھر جب حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے شہد کا شربت پلانا چاہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس کی حاجت نہیں“، سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں افسوس ہم نے اسے حرام کرا دیا میں نے کہا خاموش رہو۔ } [صحیح بخاری:5268]
صحیح مسلم کی اس حدیث میں اتنی زیادتی اور ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بدبو سے سخت نفرت تھی }۔ [صحیح مسلم:1474] اسی لیے ان بیویوں نے کہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغافیر کھایا ہے اس میں بھی قدرے بدبو ہوتی ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ نہیں! میں نے تو شہد پیا ہے، تو انہوں نے کہہ دیا کہ پھر اس شہد کی مکھی نے عرفط درخت کو چوسا ہو گا جس کے گوند کا نام مغافیر ہے اور اس کے اثر سے اس شہد میں اس کی بو رہ گئی ہو گی۔ اس روایت میں لفظ «جَرَسَتْ» ہے جس کے معنی جوہری نے کئے ہیں کھایا اور شہد کی مکھیوں کو بھی «جَوَارِسُ» کہتے ہیں اور «جَرْسَ» مدہم ہلکی آواز کو کہتے ہیں۔ عرب کہتے ہیں «سَمِعْتُ جَرَسَ الطِّيْرِ» جبکہ پرند دانہ چگ رہا ہو اور اس کی چونچ کی آواز سنائی دیتی ہو۔ ایک حدیث میں ہے { «فَيَسْمَعُونَ جَرْشَ طَيْرِ الْجَنَّةِ» پھر وہ جنتی پرندوں کی ہلکی اور میٹھی سہانی آوازیں سنیں گے }، یہاں بھی عربی میں لفظ «جَرْسَ» ہے۔ اصمعی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں شعبہ رحمہ اللہ کی مجلس میں تھا وہاں انہوں نے اس لفظ «جَرْسَ» کو «جَرْشَ» بڑی «شین» کے ساتھ پڑھا میں نے کہا چھوٹے «سین» سے ہے، شعبہ رحمہ اللہ نے میری طرف دیکھا اور فرمایا: ”یہ ہم سے زیادہ اسے جانتے ہیں یہی ٹھیک ہے تم اصلاح کر لو۔“ الغرض شہد نوشی کے واقعہ میں شہد پلانے والیوں میں دو نام مروی ہیں ایک سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا دوسرا سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا، بلکہ اس امر پر اتفاق کرنے والیوں میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا نام ہے پس ممکن ہے یہ دو واقعہ ہوں، یہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن ان دونوں کے بارے میں اس آیت کا نازل ہونا ذرا غور طلب ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
طلاق کی جھوٹی افواہ بزبان ٭٭
آپس میں اس قسم کا مشورہ کرنے والی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا تھیں یہ اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے جو مسند امام احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں مجھے مدتوں سے آرزو تھی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دونوں بیوی صاحبان کا نام معلوم کروں جن کا ذکر آیت «إِن تَتُوبَا إِلَى اللَّـهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا» ۱؎ [66-التحریم:4] الخ، میں ہے پس حج کے سفر میں جب خلیفتہ الرسول چلے تو میں بھی ہم رکاب ہو لیا ایک راستے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ راستہ چھوڑ کر جنگل کی طرف چلے میں ڈولچی لیے ہوئے پیچھے پیچھے گیا۔ آپ حاجت ضروری سے فارغ ہو کر آئے میں نے پانی ڈلوایا اور وضو کرایا، اب موقعہ پا کر سوال کیا کہ اے امیر المؤمنین! جن کے بارے میں یہ آیت ہے وہ دونوں کون ہیں؟ آپ نے فرمایا ”ابن عباس! افسوس“، زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان کا یہ دریافت کرنا برا معلوم ہوا لیکن چھپانا جائز نہ تھا اس لیے جواب دیا، اس سے مراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے واقعہ بیان کرنا شروع کیا کہ ہم قریش تو اپنی عورتوں کو اپنے زیر فرمان رکھتے تھے لیکن مدینہ والوں پر عموماً ان کی عورتیں حاوی تھیں جب ہم ہجرت کر کے مدینہ آئے تو ہماری عورتوں نے بھی ان کی دیکھا دیکھی ہم پر غلبہ حاصل کرنا چاہا۔ میں مدینہ شریف کے بالائی حصہ میں امیہ بن زید رضی اللہ عنہ کے گھر میں ٹھہرا ہوا تھا ایک مرتبہ میں اپنی بیوی پر کچھ ناراض ہوا اور کچھ کہنے سننے لگا تو پلٹ کر اس نے مجھے جواب دینے شروع کئے، مجھے نہایت برا معلوم ہوا کہ یہ کیا حرکت ہے؟ یہ نئی بات کیسی؟ اس نے میرا تعجب دیکھ کر کہا کہ آپ کس خیال میں ہیں؟ اللہ کی قسم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی آپ کو جواب دیتی ہیں اور بعض مرتبہ تو دن دن بھر بول چال چھوڑ دیتی ہیں اب میں تو ایک دوسری الجھن میں پڑ گیا، سیدھا اپنی بیٹی حفصہ کے گھر گیا اور دریافت کیا کہ کیا یہ سچ ہے کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیتی ہو اور کبھی کبھی سارا سارا دن روٹھی رہتی ہو؟ جواب ملا کہ سچ ہے۔ میں نے کہا کہ برباد ہوئی اور نقصان میں پڑی جس نے ایسا کیا۔ کیا تم اس سے غافل ہو گئیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غصہ کی وجہ سے ایسی عورت پر اللہ ناراض ہو جائے اور وہ کہیں کی نہ رہے؟ خبردار! آئندہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی جواب نہ دینا، نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ طلب کرنا، جو مانگنا ہو مجھ سے مانگ لیا کرو، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیکھ کر تم ان کی حرص نہ کرنا وہ تم سے اچھی اور تم سے بہت زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی منظور نظر ہیں۔
اب اور سنو میرا پڑوسی ایک انصاری تھا اس نے اور میں نے باریاں مقرر کر لی تھیں، ایک دن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارتا اور ایک دن وہ، میں اپنی باری والے دن کی تمام حدیثیں آیتیں وغیرہ انہیں آ کر سنا دیتا اور یہ بات ہم میں اس وقت مشہور ہو رہی تھی کہ غسانی بادشاہ اپنے فوجی گھوڑوں کے نعل لگوا رہا ہے اور اس کا ارادہ ہم پر چڑھائی کرنے کا ہے، ایک مرتبہ میرے ساتھی اپنی باری والے دن گئے ہوئے تھے، عشاء کے وقت آ گئے اور میرا دروازہ کھٹکھٹا کر مجھے آوازیں دینے لگے، میں گھبرا کر باہر نکلا دریافت کیا خیریت تو ہے؟ اس نے کہا: آج تو بڑا بھاری کام ہو گیا، میں نے کہا کیا غسانی بادشاہ آ پہنچا؟ اس نے کہا: اس سے بھی بڑھ کر، میں نے پوچھا: وہ کیا؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی میں نے کہا: افسوس حفصہ برباد ہو گئی اور اس نے نقصان اٹھایا، مجھے پہلے ہی سے اس امر کا کھٹکا تھا، صبح کی نماز پڑھتے ہی کپڑے پہن کر میں چلا سیدھا حفصہ کے پاس گیا، دیکھا کہ وہ رو رہی ہیں، میں نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دے دی؟ جواب دیا یہ تو کچھ معلوم نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے الگ ہو کر اپنے اس بالا خانہ میں تشریف فرما ہیں۔ میں وہاں گیا دیکھا کہ ایک حبشی غلام پہرے پر ہے، میں نے کہا: جاؤ میرے لیے اجازت طلب کرو، وہ گیا پھر آ کر کہنے لگا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ جواب نہیں دیا، میں وہاں سے واپس چلا آیا، مسجد میں گیا دیکھا کہ منبر کے پاس ایک گروہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا بیٹھا ہوا ہے اور بعض بعض کے تو آنسو نکل رہے ہیں، میں تھوڑی سی دیر بیٹھا لیکن چین کہاں؟ پھر اٹھ کھڑا ہوا اور وہاں جا کر غلام سے کہا کہ میرے لیے اجازت طلبب کرو، اس نے پھر آ کر یہی کہا کہ کچھ جواب نہیں ملا، میں دوبارہ مسجد چلا گیا پھر وہاں سے گھبرا کر نکلا یہاں آیا پھر غلام سے کہا غلام گیا آیا اور وہی جواب دیا میں واپس مڑا ہی تھا کہ غلام نے مجھے آواز دی کہ آیئے آپ کو اجازت مل گئی۔ میں گیا دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بورے پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہیں جس کے نشان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر ظاہر ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ! کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور فرمایا: نہیں، میں نے کہا: اللہ اکبر! یا رسول اللہ! بات یہ ہے کہ ہم قوم قریش تو اپنی بیویوں کو اپنے دباؤ میں رکھا کرتے تھے لیکن مدینے والوں پر ان کی بیویاں غالب ہیں یہاں آ کر ہماری عورتوں نے بھی ان کی دیکھا دیکھی یہی حرکت شروع کر دی، پھر میں نے اپنی بیوی کا واقعہ سنایا اور میرا یہ خبر پا کر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی ایسا کرتی ہیں، یہ کہنا کہ کیا انہیں ڈر نہیں تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے غصہ کی وجہ سے اللہ بھی ان سے ناراض ہو جائے اور وہ ہلاک ہو جائیں بیان کیا، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے۔ میں نے پھر اپنا سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس جانا اور انہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ریس کرنے سے روکنا بیان کیا اس پر دوبارہ مسکرائے، میں نے کہا: اگر اجازت ہو تو ذرا سی دیر اور رک جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی میں بیٹھ گیا اب جو سر اٹھا کر چاروں طرف نظریں دوڑائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹھک (دربار خاص) میں سوائے تین خشک کھالوں کے اور کوئی چیز نہ دیکھی، آزردہ دل ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی امت پر کشادگی کرے، دیکھئے تو فارسی اور رومی جو اللہ کی عبادت ہی نہیں کرتے انہیں کس قدر دنیا کی نعمتوں میں وسعت دی گئی ہے؟ یہ سنتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سنبھل بیٹھے اور فرمانے لگے ”اے ابن خطاب! کیا تو شک میں ہے؟ اس قوم کی اچھائیاں انہیں بہ عجلت دنیا میں ہی دے دی گئیں۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے لیے اللہ سے بخشش طلب کیجئے، بات یہ تھی کہ آپ نے سخت ناراضگی کی وجہ سے قسم کھا لی تھی کہ مہینہ بھر تک اپنی بیویوں کے پاس نہ جاؤں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تنبیہ کی، یہ حدیث بخاری مسلم ترمذی اور نسائی میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:5191]
بخاری مسلم کی حدیث میں ہے { سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سال بھر اسی امید میں گزر گیا کہ موقعہ ملے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ان دونوں کے نام دریافت کروں لیکن ہیبت فاروقی سے ہمت نہیں پڑتی تھی یہاں تک کہ حج کی واپسی میں پوچھا پھر پوری حدیث بیان کی جو اوپر گزر چکی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4931] صحیح مسلم میں ہے کہ { طلاق کی شہرت کا واقعہ پردہ کی آیتوں کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے، اس میں یہ بھی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جس طرح سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر انہیں سمجھا آئے تھے اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھی ہو آئے تھے، اور یہ بھی ہے کہ اس غلام کا نام جو ڈیوڑھی پر پہرہ دے رہے تھے رباح رضی اللہ عنہ تھا }۔
3۔ 1 وہ پوشیدہ بات شہد کو یا ماریہ کو حرام کرنے والی بات تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ سے کی تھی۔ 3۔ 2 یعنی حفصہ ؓ نے وہ بات حضرت عائشہ ؓ کو جاکر بتلا دی۔ 3۔ 3 یعنی حفصہ ؓ کو بتلا دیا کہ تم نے میرا راز فاش کردیا ہے۔ تاہم اپنی تکریم و عظمت کے پیش نظر ساری بات بتانے سے اعراض فرمایا۔ 3۔ 4 جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہ ؓ کو بتلایا کہ تم نے میرا راز ظاہر کردیا ہے تو وہ حیران ہوئیں کیونکہ انہوں نے حضرت عائشہ ؓ کے علاوہ کسی کو یہ بات نہیں بتلائی تھی اور عائشہ ؓ سے انہیں یہ توقع نہیں تھی کہ وہ آپ کو بتلا دیں گی، کیونکہ وہ شریک معاملہ تھیں۔ 3۔ 5 اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے علاوہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول ہوتا تھا۔
(آیت 3) ➊ { وَ اِذْ اَسَرَّ النَّبِيُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِهٖ حَدِيْثًا:} اس بیوی سے مراد حفصہ رضی اللہ عنھا ہیں، جیسا کہ اس سے پہلے شہد اور ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنھا والے واقعات میں گزر چکا ہے کہ آپ نے ان سے کہا تھا کہ یہ بات کسی کو نہ بتانا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے علاوہ بھی کوئی بات فرمائی ہو جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر نہیں فرمایا۔ ➋ {فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِهٖ وَ اَظْهَرَهُ اللّٰهُ عَلَيْهِ:} پھر جب حفصہ رضی اللہ عنھا نے وہ بات جس کے راز رکھنے کی انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائی تھی، عائشہ رضی اللہ عنھا کو بتا دی اور اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع دے دی۔ ➌ { عَرَّفَ بَعْضَهٗ وَ اَعْرَضَ عَنْۢ بَعْضٍ:} تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہ رضی اللہ عنھا کو اس میں سے کچھ بات جتلائی کہ تم نے یہ بات آگے بتا دی ہے اور کچھ سے اعراض کیا۔ آپ نے انھیں کیا جتلایا اور کیا نہیں جتلایا اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر نہیں فرمایا، اس لیے سلامتی اسی میں ہے کہ اسے اسی طرح مبہم رہنے دیا جائے۔ ➍ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کمال حسن خلق اور حلم و کرم ظاہر ہے کہ ناراضی کا اظہار کرتے وقت ایک ایک بات کا ذکر کر کے طعن و تشنیع نہیں فرمائی، بلکہ کچھ بات کا ذکر کیا اور کچھ سے اعراض فرمایا۔ ➎ {قَالَتْ مَنْ اَنْۢبَاَكَ هٰذَا قَالَ نَبَّاَنِيَ الْعَلِيْمُ الْخَبِيْرُ:} حفصہ رضی اللہ عنھا نے خیال کیا کہ آپ کو یہ بات عائشہ رضی اللہ عنھا نے بتائی ہوگی، اس لیے پوچھ لیا کہ آپ کو یہ بات کس نے بتائی ہے؟ آپ نے فرمایا، مجھے اس نے بتائی ہے جو سب کچھ جاننے والا اور ہر چیز سے باخبر ہے۔
اگر تم دونوں اللہ سے توبہ کرتی ہو (تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے) کیونکہ تمہارے دل سیدھی راہ سے ہٹ گئے ہیں، اور اگر نبی کے مقابلہ میں تم نے باہم جتھہ بندی کی تو جان رکھو کہ اللہ اُس کا مولیٰ ہے اور اُس کے بعد جبریل اور تمام صالح اہل ایمان اور سب ملائکہ اس کے ساتھی اور مددگار ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
(اے نبی کی دونوں بیویو!) اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کرلو (تو بہت بہتر ہے) یقیناً تمہارے دل جھک پڑے ہیں اور اگر تم نبی کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو گی پس یقیناً اس کا کارساز اللہ ہے اور جبریل ہیں اور نیک اہل ایمان اور ان کے علاوه فرشتے بھی مدد کرنے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
نبی کی دونوں بیبیو! اگر اللہ کی طرف تم رجوع کرو تو ضرور تمہارے دل راہ سے کچھ ہٹ گئے ہیں اور اگر ان پر زور باندھو تو بیشک اللہ ان کا مددگار ہے اور جبریل اور نیک ایمان والے، اور اس کے بعد فرشتے مدد پر ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اگر تم دونوں (اللہ کی بارگاہ میں) توبہ کر لو (تو بہتر ہے) کیونکہ تم دونوں کے دل ٹیڑھے ہو چکے ہیں اور اگر تم ان (پیغمبر(ص)) کے خلاف ایکا کرو گی (تو تم پیغمبر کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکو گی) کیونکہ یقیناً اللہ ان کا حامی ہے اور جبرائیل(ع) اور نیکوکار مؤمنین اور اس کے بعد سب فرشتے ان کے پشت پناہ (اور مددگار) ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اگر تم دونوں اللہ کی طرف توبہ کرو (تو بہتر ہے) کیونکہ یقینا تمھارے دل (حق سے) ہٹ گئے ہیں اور اگر تم اس کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو تو یقینا اللہ خود اس کا مدد گار ہے اور جبریل اور صالح مومن اور اس کے بعد تمام فرشتے مددگار ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہ بھی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ عورتوں کے بارے میں اس مشقت میں کیوں پڑتے ہیں؟ اگر آپ انہیں طلاق بھی دے دیں تو آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے، جبرائیل علیہ السلام، میکائیل علیہ السلام اور میں اور ابوبکر اور جملہ مومن ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: الحمداللہ! میں اس قسم کی جو بات کہتا مجھے امید لگی رہتی کہ اللہ تعالیٰ میری بات کی تصدیق نازل فرمائے گا، پس اس موقعہ پر بھی آیت تخییر یعنی «عَسَى رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُّؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا» ۱؎ [66-التحريم:5] اور «وَإِن تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّـهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ» ۱؎ [66-التحريم:4] ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئیں، مجھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم ہوا کہ آپ نے اپنی ازواج مطہرات کو طلاق نہیں دی تو میں نے مسجد میں آ کر دروازے پر کھڑا ہو کر اونچی آواز سے سب کو اطلاع دے دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات کو طلاق نہیں دی۔ اسی کے بارے میں آیت «وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِّنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَىٰ أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنبِطُونَهُ مِنْهُمْ» ۱؎ [4-النساء:83] آخر تک اتری یعنی ’ جہاں انہیں کوئی امن کی یا خوف کی خبر پہنچی کہ یہ اسے شہرت دینے لگتے ہیں اگر یہ اس خبر کو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) یا ذی عقل و علم مسلمانوں تک پہنچا دیتے تو بیشک ان میں سے جو لوگ محقق ہیں وہ اسے سمجھ لیتے ‘۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہاں تک اس آیت کو پڑھ کر فرماتے ”پس اس امر کا استنباط کرنے والوں میں سے میں ہوں“، اور بھی بہت سے بزرگ مفسرین سے مروی ہے کہ «صالح المؤمنین» سے مراد سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر رضی اللہ عنہما ہیں، بعض نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا نام بھی لیا لیا ہے بعض نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا۔ ایک ضعیف حدیث میں مرفوعاً صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نام ہے لیکن سند ضعیف ہے اور بالکل منکر ہے۔
عمر اور موافقت قرانی ٭٭
صحیح بخاری میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں غیرت میں آ گئیں جس پر میں نے ان سے کہا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں طلاق دے دیں گے تو اللہ تعالیٰ تم سے بہتر بیویاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے گا، پس میرے لفظوں ہی میں قرآن کی یہ آیت اتری } ۱؎ [صحیح بخاری:4916] پہلے یہ بیان ہو چکا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بہت سی باتوں میں قرآن کی موافقت کی جیسے پردے کے بارے میں، بدری قیدیوں کے بارے میں، مقام ابراہیم کو قبلہ ٹھہرانے کے بارے میں، ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ مجھے جب امہات المؤمنین رضی اللہ عنھن کی اس رنجش کی خبر پہنچی تو ان کی خدمت میں میں گیا اور انہیں بھی کہنا شروع کیا یہاں تک کہ آخری ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچا تو مجھے جواب ملا کہ کیا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود نصیحت کرنے کے لیے کم ہیں جو تم آ گئے؟ اس پر میں خاموش ہو گیا لیکن قرآن میں آیت «عَسَىٰ رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُّؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا» ۱؎ [66-التحریم:5] نازل ہوئی۔ صحیح بخاری میں ہے کہ { جواب دینے والی ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا تھیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4913] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں { جو بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چپکے سے اپنی بیوی صاحبہ سے کہی تھی اس کا واقعہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی گھر میں تھے وہ تشریف لائیں اور سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا سے آپ کو مشغول پایا تو آپ نے انہیں فرمایا: ”تم عائشہ کو خبر نہ کرنا، میں تمہیں ایک بشارت سناتا ہوں میرے انتقال کے بعد میری خلافت ابوبکر کے بعد تمہارے والد آئیں گے۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو خبر کر دی پس سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اس کی خبر آپ کو کس نے پہنچائی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے علیم و خبیر اللہ نے خبر پہنچائی“، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں آپ کی طرف نہ دیکھوں گی جب تک آپ ماریہ کو اپنے اوپر حرام نہ کر لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کر لی اس پر آیت «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّـهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [66-التحريم:1] ، نازل ہوئی }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:12640:ضعیف] لیکن اس کی سند مخدوش ہے، مقصد یہ ہے کہ ان تمام روایات سے ان پاک آیتوں کی تفسیر ظاہر ہو گئی۔ «مُسْلِمَاتٍ مُّؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ» کی تفسیر تو ظاہر ہی ہے۔ «سَائِحَاتٍ» کی تفسیر ایک تو یہ ہے کہ روزے رکھنے والیاں ایک مرفوع حدیث میں بھی یہی تفسیر اس لفظ کی آئی ہے جو حدیث سورۃ برات کے اس لفظ کی تفسیر میں گزر چکی ہے کہ اس امت کی سیاحت روزے رکھنا ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:508/14] دوسری تفسیر یہ ہے کہ مراد اس ہجرت کرنے والیاں، لیکن اول قول ہی اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
جنت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ٭٭
پھر فرمایا ’ ان میں سے بعض بیوہ ہوں گی اور بعض کنواریاں اس لیے کہ جی خوش رہے ‘، قسموں کی تبدیلی نفس کو بھلی معلوم ہوتی ہے۔ معجم طبرانی میں ابن یزید رحمہ اللہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت میں جو وعدہ فرمایا ہے اس سے مراد بیوہ سے تو سیدہ آسیہ علیہ السلام ہیں جو فرعون کی بیوی تھیں اور کنواری سے مراد سیدہ مریم علیہ السلام ہیں جو عمران کی بیٹی تھیں۔ ابن عساکر میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اس وقت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ خدیجہ (رضی اللہ عنہا) کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ انہیں خوشی ہو جنت کے ایک چاندی کے گھر کی جہاں نہ گرمی ہے، نہ تکلیف ہے، نہ شورو غل جو چھیدے ہوئے موتی کا بنا ہوا ہے جس کے دائیں بائیں مریم بنت عمران علیہا السلام اور آسیہ بنت مزاحم علیہا السلام کے مکانات ہیں۔ ۱؎ [ابن عساکر فی تاریخ دمشق،543/19:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ { سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے خدیجہ! اپنی سوکنوں سے میرا سلام کہنا۔“ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! کیا مجھ سے پہلے بھی کسی سے نکاح کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، مگر اللہ تعالیٰ نے مریم بنت عمران اور آسیہ زوجہ فرعون اور کلثوم بہن موسیٰ کی ان تینوں کو میرے نکاح میں دے رکھا ہے“ }۔ [ابن عساکر فی تاریخ دمشق،543/19:ضعیف] یہ حدیث بھی ضعیف ہے۔ ابوامامہ سے ابو یعلیٰ میں مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا جانتے ہو اللہ تعالیٰ نے جنت میں میرا نکاح مریم بنت عمران، کلثوم اخت موسیٰ اور آسیہ زوجہ فرعون سے کر دیا ہے“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کو مبارک ہو }۔ ۱؎ [ابن عدی فی الکامل،180/7:ضعیف] یہ حدیث بھی ضعیف ہے اور ساتھ ہی مرسل بھی ہے۔
4۔ 1 یا تمہاری توبہ قبول کرلی جائے گی یہ شرط ان تتوبا کا جواب محذوف ہے۔ 4۔ 2 یعنی حق سے ہٹ گئے ہیں اور وہ ہے ان کا ایسی چیز پسند کرنا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ناگوار تھی (فتح القدیر) 4۔ 3 یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں تم جتھہ بندی کروگی تو نبی کا کچھ نہیں بگاڑ سکو گی، اس لئے کہ نبی کا مددگار تو اللہ بھی ہے اور مومنین اور ملائکہ بھی۔
(آیت 4) ➊ {اِنْ تَتُوْبَاۤ اِلَى اللّٰهِ …:} اس آیت میں خطاب عائشہ اور حفصہ(رضی اللہ عنھما) سے ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: [ لَمْ أَزَلْ حَرِيْصًا أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَيْنِ قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰی: «اِنْ تَتُوْبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا» حَتّٰی حَجَّ عُمَرُ وَحَجَجْتُ مَعَهُ، فَلَمَّا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيْقِ عَدَلَ عُمَرُ وَعَدَلْتُ مَعَهُ بِالْإِدَاوَةِ فَتَبَرَّزَ ثُمَّ أَتَانِيْ فَسَكَبْتُ عَلٰی يَدَيْهِ فَتَوَضَّأَ فَقُلْتُ يَا أَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ! مَنِ الْمَرْأَتَانِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَانِ قَالَ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمَا: «اِنْ تَتُوْبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا» ؟ قَالَ عُمَرُ وَاعَجَبًا لَكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ! هِيَ حَفْصَةُ وَ عَائِشَةُ ] [ مسلم، الطلاق، باب في الإیلاء …: ۳۴ /۱۴۷۹ ] ”مجھے ہمیشہ خواہش رہی کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے ان دو عورتوں کے بارے میں پوچھوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «اِنْ تَتُوْبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا» یہاں تک کہ انھوں نے حج کیا اور میں نے بھی ان کے ساتھ حج کیا، ایک جگہ وہ راستے سے ہٹ کر (قضائے حاجت کے لیے) ایک طرف کو گئے تو میں بھی پانی کا لوٹا لے کر ان کے ساتھ اس طرف کو چلا گیا۔ پھر وہ فارغ ہو کر آئے تو میں نے ان کے ہاتھوں پر پانی ڈالا، انھوں نے وضو کیا تو میں نے کہا: ”اے امیر المومنین! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے وہ دو عورتیں کون ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «اِنْ تَتُوْبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا» ؟“ انھوں نے فرمایا: ”ابن عباس! تم پر تعجب ہے، وہ دونوں عائشہ اور حفصہ(رضی اللہ عنھما) ہیں۔“ ➋ {فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا: ”صَغَا يَصْغُوْ صَغْوًا“} (ن) اور {”صَغِيَ يَصْغٰي صَغْيًا“} (س) مائل ہونا، ایک طرف جھک جانا۔ اس سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دو بیویوں کا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ تھا، جن کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہد اور ماریہ رضی اللہ عنھا سے اجتناب کی قسم کھائی تھی، اب انھیں مخاطب کر کے توبہ کی تلقین فرمائی ہے۔ اس آیت کی تفسیر تقریباً تمام قدیم مفسرین نے یہ کی ہے کہ اگر تم دونوں اللہ کی طرف توبہ کرو تو یہ تمھارے لیے بہتر ہے اور تمھیں توبہ کرنی ہی چاہیے، کیونکہ تمھارے دل درست بات سے دوسری طرف مائل ہو گئے ہیں اور تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی پسندیدہ چیزوں شہد اور ماریہ رضی اللہ عنھا سے اجتناب کی قسم تک پہنچا کر درست کام نہیں کیا۔ لفظوں کے تھوڑے بہت اختلاف کے ساتھ آیت کا یہی مفہوم طبری، قرطبی، رازی، ابن جُزَیّ، ابن عطیہ، ابو السعود، بغوی، ابن جوزی، سمر قندی اور دوسرے جلیل القدر مفسرین نے بیان فرمایا ہے اور ظاہر بھی یہی ہے، کیونکہ ان ازواج مطہرات کی دلی خواہش کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زینب رضی اللہ عنھا کے ہاں شہد نہ پییں اور اپنی ام ولد ماریہ رضی اللہ عنھا کے پاس نہ جائیں، کسی طرح بھی درست قرار نہیں دی جاسکتی۔ خود اللہ تعالیٰ نے ان کی خواہش کو پورا کرنے کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر محبت آمیز عتاب فرمایا۔ موجودہ دور کے بعض حضرات نے اس معنی کو ان ازواج مطہرات کی توہین قرار دے کر اس کا انکار کر دیا، ان کے خیال میں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان ازواج مطہرات کے دل حق سے ہٹے ہوئے تھے، حالانکہ کسی ایک بات میں کسی شخص کے دل کا میلان نا درست بات کی طرف ہو جائے تو اسے پورے راہ صواب سے ہٹا ہوا نہیں کہہ سکتے اور نہ ہی کسی مفسر کے کسی حاشیۂ خیال میں امہات المومنین کے متعلق کوئی ایسی بات ہے اور یہاں تو امہات المومنین نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر سر تسلیم خم کیا اور سچے دل سے توبہ کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت میں ان کے لیے ازواج رسول ہونے کا شرف برقرار رکھا، پھر ان کے متعلق کون کہہ سکتا ہے کہ ان کے دل راہِ صواب سے ہٹے ہوئے تھے!؟ ایک مطلب آیت کا یہ ہے اور بعض حضرات نے اسی کو درست اور دوسرے ہر مطلب کو غلط قرار دیا ہے کہ ”اگر تم اللہ کی طرف توبہ کرو تو تم سے کچھ بعید نہیں، کیونکہ تمھارے دل پہلے ہی توبہ کی طرف مائل ہوچکے ہیں۔“ مفسر قرطبی نے پہلے معنی کے علاوہ اس معنی کا ذکر بھی کیا ہے۔ مگر اسی کو درست اور دوسرے معنی کو غلط اور لغت عرب سے ناواقفیت قرار دینا اہل علم کا شیوہ نہیں۔ اہلِ علم کا شیوہ وہ ہے جو قرطبی نے اختیار فرمایا ہے کہ دونوں معنی ذکر فرما دیے، جو راجح تھا اسے پہلے ذکر فرمایا مگر دوسرے کا انکار نہیں کیا۔ یہ بات تسلیم کہ {”صَغَا يَصْغُوْ“} اور {”صَغِيَ يَصْغٰي“} کے الفاظ کسی چیز کی طرف مائل ہونے کے لیے آتے ہیں، مگر اس سے یہ کیسے ثابت ہوا کہ یہ حق ہی کی طرف مائل ہونے کے لیے آتے ہیں، ناحق کی طرف مائل ہونے کے لیے نہیں آتے۔ ناحق کی طرف مائل ہونے کا مفہوم حق سے ہٹنے کے سوا کیا ہو سکتا ہے؟ سورۂ انعام کی آیت (۱۱۳): «وَ لِتَصْغٰۤى اِلَيْهِ اَفْـِٕدَةُ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ» میں جن لوگوں کا ذکر ہوا ہے اس میں ان کے دل حق کی طرف مائل ہونے کا نہیں بلکہ ناحق ہی کی طرف مائل ہونے کا ذکر ہے۔ اس لیے شاہ ولی اللہ، شاہ عبدالقادر، شاہ رفیع الدین، احمد علی لاہوری، فتح محمد جالندھری اور دوسرے مترجمین نے پہلے مفہوم والا ترجمہ ہی کیا ہے، حتیٰ کہ ایک مترجم صاحب جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا بہت بلند بانگ دعویٰ رکھتے ہیں اور اہلِ توحید کو گستاخ اور بے ادب قرار دیتے نہیں تھکتے، انھوں نے بھی یہ ترجمہ کیا ہے: ”نبی کی دونوں بیویو! اگر اللہ کی طرف تم رجوع کرو تو ضرور تمھارے دل راہ حق سے کچھ ہٹ گئے ہیں۔“ تو کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کے نزدیک ازواج مطہرات کے دل راہ حق سے کچھ ہٹے ہوئے تھے؟ ➌ {وَ اِنْ تَظٰهَرَا عَلَيْهِ: ” تَظٰهَرَا “} باب تفاعل سے فعل مضارع ہے جو اصل میں {”تَتَظَاهَرَانِ“} تھا، ایک تاء تخفیف کے لیے حذف کر دی گئی اور حرف شرط {” اِنْ “ } کی وجہ سے نون اعرابی گر گیا۔ اس کا مادہ {”ظَهْرٌ“} (پشت) ہے۔ باب تفاعل میں تشارک کا معنی ہوتا ہے، ایک دوسرے کی پشت پناہی کرنا، ایک دوسرے کی مدد کرنا۔ {” تَظٰهَرَا “} کے بعد {” عَلَيْهِ “} کا معنی ہے، اس کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو۔ ➍ { فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ: ” مَوْلٰي“} کا معنی مالک بھی ہے اور مددگار بھی۔ اگر مالک معنی کریں تو یہ جملہ {” مَوْلٰىهُ “} پر مکمل ہو گیا اور {” جِبْرِيْلُ “} سے {” ظَهِيْرٌ “} تک الگ جملہ ہے، کیونکہ مالک صرف اللہ ہے اور کوئی مالک نہیں، جب کہ مدد اللہ کی طرف سے بھی ہوتی ہے اور بندوں کی طرف سے بھی، جیسا کہ فرمایا: «هُوَ الَّذِيْۤ اَيَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ» [ الأنفال: ۶۲ ] ”وہی ہے جس نے تجھے اپنی مدد کے ساتھ اور مومنوں کے ساتھ قوت بخشی۔“ اور فرمایا: «اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ» [ التوبۃ: ۴۰ ] ”اگر تم اس کی مدد نہ کرو تو بلاشبہ اللہ نے اس کی مدد کی۔“ اور فرمایا: «وَ يَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ» [ الحشر: ۸ ] ”اور وہ اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں۔“ اور فرمایا: «مَنْ اَنْصَارِيْۤ اِلَى اللّٰهِ» [ آل عمران: ۵۲ ] ”کون ہیں جو اللہ کی طرف میرے مدد گار ہیں؟“ یعنی اگر تم دونوں اللہ کی طرف توبہ کرو تو بہتر ہے اور اگر تم دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایک دوسری کی مدد کرو تو ہمارے رسول کو تمھاری کچھ پروا نہیں، کیونکہ اللہ اس کا مالک ہے اور جبریل اور صالح مومنین اور اس کے بعد تمام فرشتے اس کے مددگار اور پشت پناہ ہیں۔ اور اگر {”مَوْلٰي“} کا معنی مددگار کریں تو پہلا جملہ {” صَالِحُ الْمُؤْمِنِيْنَ “} پر پورا ہوگا اور دوسرا جملہ {” وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ “} (مبتدا) سے شروع ہو کر {” ظَهِيْرٌ “} پر ختم ہوگا، یعنی اگر تم دونوں اس کے خلاف ایک دوسری کی مدد کرو تو یقینا اللہ اور جبریل اور صالح مومنین اس کے مددگار ہیں اور اس کے بعد تمام فرشتے اس کے پشت پناہ اور مددگار ہیں۔ یہ دوسرا معنی راجح ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ مالک تو ہر ایک کا ہے، صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نہیں، ہاں! خاص نصرت اس کی اپنے رسولوں اور ایمان والوں کے ساتھ ہے، کفار کے ساتھ نہیں، جیسا کہ فرمایا: «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ» [ المؤمن: ۵۱ ] ”بے شک ہم اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے ضرور مدد کرتے ہیں دنیا کی زندگی میں اور اس دن بھی جب گواہ کھڑے ہوں گے۔ “ ➎ {صَالِحُ الْمُؤْمِنِيْنَ: ” صَالِحُ “} اسم جنس ہے جو واحد و جمع سب پر بولا جاتا ہے، اس لیے جمع کا لفظ {”صَالِحُوا الْمُؤْمِنِيْنَ“} بولنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ ➏ { وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِيْرٌ:} یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ مبتدا {” الْمَلٰٓىِٕكَةُ “} جمع کی خبر {” ظَهِيْرٌ “} واحد کیوں ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ {”فَعِيْلٌ“} کا وزن واحد، تثنیہ، جمع اور مذکر و مؤنث سب کے لیے یکساں استعمال ہوتا ہے۔
بعید نہیں کہ اگر نبیؐ تم سب بیویوں کو طلاق دیدے تو اللہ اسے ایسی بیویاں تمہارے بدلے میں عطا فرما دے جو تم سے بہتر ہوں، سچی مسلمان، با ایمان، اطاعت گزار، توبہ گزار، عبادت گزار، اور روزہ دار، خواہ شوہر دیدہ ہوں یا باکرہ
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر وه (پیغمبر) تمہیں طلاق دے دیں تو بہت جلد انہیں ان کا رب! تمہارے بدلے تم سے بہتر بیویاں عنایت فرمائے گا، جو اسلام والیاں، ایمان والیاں اللہ کے حضور جھکنے والیاں توبہ کرنے والیاں، عبادت بجا ﻻنے والیاں روزے رکھنے والیاں ہوں گی بیوه اور کنواریاں
احمد رضا خان بریلوی
ان کا رب قریب ہے اگر وہ تمہیں طلاق دے دیں کہ انہیں تم سے بہتر بیبیاں بدل دے اطاعت والیاں ایمان والیاں ادب والیاں توبہ والیاں بندگی والیاں روزہ داریں بیاہیاں اور کنواریاں
علامہ محمد حسین نجفی
اگر پیغمبر(ص) تمہیں طلاق دے دیں تو بہت جلد اللہ ان کو تمہارے بدلے تم سے اچھی بیویاں دے دے گا جو (پکی و سچی) مسلمان ہونگی اور باایمان، اطاعت گزار اور فرمانبردار، توبہ کرنے والیاں عبادت گزار، روزہ دار اور شوہر دیدہ اور ابکار (کنواریاں)۔
عبدالسلام بن محمد
اس کا رب قریب ہے، اگر وہ تمھیں طلاق دے دے کہ تمھارے بدلے اسے تم سے بہتر بیویاں دے دے، جو اسلام والیاں، ایمان والیاں، اطاعت کرنے والیاں، توبہ کرنے والیاں، عبادت کرنے والیاں، روزہ رکھنے والیاں ہوں، شوہر دیدہ اور کنواریاں ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہ بھی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ عورتوں کے بارے میں اس مشقت میں کیوں پڑتے ہیں؟ اگر آپ انہیں طلاق بھی دے دیں تو آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے، جبرائیل علیہ السلام، میکائیل علیہ السلام اور میں اور ابوبکر اور جملہ مومن ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: الحمداللہ! میں اس قسم کی جو بات کہتا مجھے امید لگی رہتی کہ اللہ تعالیٰ میری بات کی تصدیق نازل فرمائے گا، پس اس موقعہ پر بھی آیت تخییر یعنی «عَسَى رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُّؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا» ۱؎ [66-التحريم:5] اور «وَإِن تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّـهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ» ۱؎ [66-التحريم:4] ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئیں، مجھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم ہوا کہ آپ نے اپنی ازواج مطہرات کو طلاق نہیں دی تو میں نے مسجد میں آ کر دروازے پر کھڑا ہو کر اونچی آواز سے سب کو اطلاع دے دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات کو طلاق نہیں دی۔ اسی کے بارے میں آیت «وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِّنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَىٰ أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنبِطُونَهُ مِنْهُمْ» ۱؎ [4-النساء:83] آخر تک اتری یعنی ’ جہاں انہیں کوئی امن کی یا خوف کی خبر پہنچی کہ یہ اسے شہرت دینے لگتے ہیں اگر یہ اس خبر کو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) یا ذی عقل و علم مسلمانوں تک پہنچا دیتے تو بیشک ان میں سے جو لوگ محقق ہیں وہ اسے سمجھ لیتے ‘۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہاں تک اس آیت کو پڑھ کر فرماتے ”پس اس امر کا استنباط کرنے والوں میں سے میں ہوں“، اور بھی بہت سے بزرگ مفسرین سے مروی ہے کہ «صالح المؤمنین» سے مراد سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر رضی اللہ عنہما ہیں، بعض نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا نام بھی لیا لیا ہے بعض نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا۔ ایک ضعیف حدیث میں مرفوعاً صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نام ہے لیکن سند ضعیف ہے اور بالکل منکر ہے۔
عمر اور موافقت قرانی ٭٭
صحیح بخاری میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں غیرت میں آ گئیں جس پر میں نے ان سے کہا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں طلاق دے دیں گے تو اللہ تعالیٰ تم سے بہتر بیویاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے گا، پس میرے لفظوں ہی میں قرآن کی یہ آیت اتری } ۱؎ [صحیح بخاری:4916] پہلے یہ بیان ہو چکا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بہت سی باتوں میں قرآن کی موافقت کی جیسے پردے کے بارے میں، بدری قیدیوں کے بارے میں، مقام ابراہیم کو قبلہ ٹھہرانے کے بارے میں، ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ مجھے جب امہات المؤمنین رضی اللہ عنھن کی اس رنجش کی خبر پہنچی تو ان کی خدمت میں میں گیا اور انہیں بھی کہنا شروع کیا یہاں تک کہ آخری ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچا تو مجھے جواب ملا کہ کیا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود نصیحت کرنے کے لیے کم ہیں جو تم آ گئے؟ اس پر میں خاموش ہو گیا لیکن قرآن میں آیت «عَسَىٰ رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُّؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا» ۱؎ [66-التحریم:5] نازل ہوئی۔ صحیح بخاری میں ہے کہ { جواب دینے والی ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا تھیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4913] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں { جو بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چپکے سے اپنی بیوی صاحبہ سے کہی تھی اس کا واقعہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی گھر میں تھے وہ تشریف لائیں اور سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا سے آپ کو مشغول پایا تو آپ نے انہیں فرمایا: ”تم عائشہ کو خبر نہ کرنا، میں تمہیں ایک بشارت سناتا ہوں میرے انتقال کے بعد میری خلافت ابوبکر کے بعد تمہارے والد آئیں گے۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو خبر کر دی پس سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اس کی خبر آپ کو کس نے پہنچائی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے علیم و خبیر اللہ نے خبر پہنچائی“، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں آپ کی طرف نہ دیکھوں گی جب تک آپ ماریہ کو اپنے اوپر حرام نہ کر لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کر لی اس پر آیت «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّـهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [66-التحريم:1] ، نازل ہوئی }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:12640:ضعیف] لیکن اس کی سند مخدوش ہے، مقصد یہ ہے کہ ان تمام روایات سے ان پاک آیتوں کی تفسیر ظاہر ہو گئی۔ «مُسْلِمَاتٍ مُّؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ» کی تفسیر تو ظاہر ہی ہے۔ «سَائِحَاتٍ» کی تفسیر ایک تو یہ ہے کہ روزے رکھنے والیاں ایک مرفوع حدیث میں بھی یہی تفسیر اس لفظ کی آئی ہے جو حدیث سورۃ برات کے اس لفظ کی تفسیر میں گزر چکی ہے کہ اس امت کی سیاحت روزے رکھنا ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:508/14] دوسری تفسیر یہ ہے کہ مراد اس ہجرت کرنے والیاں، لیکن اول قول ہی اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
جنت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ٭٭
پھر فرمایا ’ ان میں سے بعض بیوہ ہوں گی اور بعض کنواریاں اس لیے کہ جی خوش رہے ‘، قسموں کی تبدیلی نفس کو بھلی معلوم ہوتی ہے۔ معجم طبرانی میں ابن یزید رحمہ اللہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت میں جو وعدہ فرمایا ہے اس سے مراد بیوہ سے تو سیدہ آسیہ علیہ السلام ہیں جو فرعون کی بیوی تھیں اور کنواری سے مراد سیدہ مریم علیہ السلام ہیں جو عمران کی بیٹی تھیں۔ ابن عساکر میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اس وقت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ خدیجہ (رضی اللہ عنہا) کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ انہیں خوشی ہو جنت کے ایک چاندی کے گھر کی جہاں نہ گرمی ہے، نہ تکلیف ہے، نہ شورو غل جو چھیدے ہوئے موتی کا بنا ہوا ہے جس کے دائیں بائیں مریم بنت عمران علیہا السلام اور آسیہ بنت مزاحم علیہا السلام کے مکانات ہیں۔ ۱؎ [ابن عساکر فی تاریخ دمشق،543/19:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ { سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے خدیجہ! اپنی سوکنوں سے میرا سلام کہنا۔“ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! کیا مجھ سے پہلے بھی کسی سے نکاح کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، مگر اللہ تعالیٰ نے مریم بنت عمران اور آسیہ زوجہ فرعون اور کلثوم بہن موسیٰ کی ان تینوں کو میرے نکاح میں دے رکھا ہے“ }۔ [ابن عساکر فی تاریخ دمشق،543/19:ضعیف] یہ حدیث بھی ضعیف ہے۔ ابوامامہ سے ابو یعلیٰ میں مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا جانتے ہو اللہ تعالیٰ نے جنت میں میرا نکاح مریم بنت عمران، کلثوم اخت موسیٰ اور آسیہ زوجہ فرعون سے کر دیا ہے“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کو مبارک ہو }۔ ۱؎ [ابن عدی فی الکامل،180/7:ضعیف] یہ حدیث بھی ضعیف ہے اور ساتھ ہی مرسل بھی ہے۔
5۔ 1 یہ تنبیہ کے طور پر ازواج مطہرات کو کہا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو تم سے بھی بہتر بیویاں عطا کرسکتا ہے 5۔ 2 ثیبات۔ ثیب کی جمع ہے (لوٹ آنے والی) بیوہ عورت کو ثیب اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ خاوند سے واپس لوٹ آتی ہے اور پھر اس طرح بےخاوند رہ جاتی ہے جیسے پہلے تھی ابکار بکر کی جمع ہے کنواری عورت اسے بکر اسی لیے کہتے ہیں کہ یہ ابھی اپنی اسی پہلی حالت پر ہوتی ہے جس پر اس کی تخلیق ہوتی ہے فتح القدیر۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ ثیب سے حضرت آسیہ فرعون کی بیوی اور بکر سے حضرت مریم حضرت عیسیٰ ؑ کی والدہ مراد ہیں یعنی جنت میں ان دونوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بنادیا جائے گا ممکن ہے کہ ایسا ہو لیکن ان روایات کی بنیاد پر ایسا خیال رکھنا یا بیان کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ سندا یہ روایات پایہ اعتبار سے ساقط ہیں۔
(آیت 5) ➊ { عَسٰى رَبُّهٗۤ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ يُّبْدِلَهٗۤ اَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنْكُنَّ …:} اس آیت میں عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنھما کے ساتھ دوسری بیویوں کو بھی خطاب میں شامل فرما لیا ہے، کیونکہ بعض باتوں خصوصاً خرچے میں اضافے کے مطالبے کے ساتھ انھوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا پریشان کیا کہ آپ نے ایک ماہ کے لیے ان کے پاس نہ جانے کی قسم کھالی، جس کے مکمل ہونے پر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ اپنی بیویوں کو اختیار دیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ احزاب (29،28) کی تفسیر۔ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: [ اِجْتَمَعَ نِسَاءَ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَيْرَةِ عَلَيْهِ فَقُلْتُ لَهُنَّ عَسٰی رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبَدِّلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنْكُنَّ فَنَزَلَتْ هٰذِهِ الْآيَةُ ] [ بخاري، التفسیر، باب: «عسی ربہ إن طلقکن…» : ۴۹۱۶ ] ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں غیرت (رشک و رقابت) میں آپ کے خلاف اکٹھی ہوگئیں تو میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمھیں طلاق دے دیں تو آپ کا رب قریب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تم سے بہتر بیویاں دے دے، تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔“ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نے بیان کیا کہ مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے علیحدگی اختیار کی تو میں مسجد میں داخل ہوا، دیکھا کہ لوگ (متفکر بیٹھے ہوئے) کنکریوں کے ساتھ زمین پر نکتے بنا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عورتوں کو طلاق دے دی ہے اور یہ حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ تو میں نے کہا، میں آج یہ بات ضرور معلوم کر کے رہوں گا۔“ خیر عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنھما کے پاس جانے اور انھیں نصیحت کا ذکر فرمایا۔ اس کے بعد فرمایا: ”میں داخل ہوا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام رباح(رضی اللہ عنہ) بالاخانے کی دہلیز پر موجود ہے، (جس بالا خانے میں آپ نے ایک ماہ بیویوں سے علیحدہ رہ کر گزارا) میں نے اسے آواز دی اور کہا اے رباح! میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے پاس جانے کی اجازت مانگو۔“ مختصر یہ کہ عمر رضی اللہ عنہ اجازت ملنے پر اندر گئے اور آپ کو مانوس کرنے کے لیے کچھ باتیں کہیں۔ فرماتے ہیں: ”میں نے کہا، یا رسول اللہ! آپ پر عورتوں کے معاملے میں کیا مشکل پیش آئے گی؟ سو اگر آپ نے انھیں طلاق دے دی ہے تو اللہ آپ کے ساتھ ہے اور اس کے فرشتے اور جبریل اور میں اور ابو بکر اور تمام مومن آپ کے ساتھ ہیں۔ اور میں نے کم ہی کبھی کوئی بات کی اور میں اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں، مگر یہ امید رکھی کہ اللہ تعالیٰ میری بات کو سچا کر دے گا، تو یہ آیت یعنی آیت تخییر اتری: «عَسٰى رَبُّهٗۤ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ يُّبْدِلَهٗۤ اَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنْكُنَّ» [ التحریم: ۵ ] ”اس کا رب قریب ہے، اگر وہ تمھیں طلاق دے دے کہ تمھارے بدلے اسے تم سے بہتر بیویاں دے دے۔“ اور یہ آیت اتری: «وَ اِنْ تَظٰهَرَا عَلَيْهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِيْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِيْرٌ» [ التحریم: ۴ ] ”اور اگر تم اس کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو تو یقینا اللہ خود اس کا مدد گار ہے اور جبریل اور صالح مومن اور اس کے بعد تمام فرشتے مددگار ہیں۔“ [ مسلم، الطلاق، باب في الإیلاء و اعتزال النساء وتخییرھن…: ۱۴۷۹ ] اس حدیث سے معلوم ہوا کہ {” صَالِحُ الْمُؤْمِنِيْنَ “} سے مراد سب سے پہلے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنھما ہیں، پھر ان کے ساتھ تمام مومن شامل ہیں اور یہ آیت بھی موافقات عمر رضی اللہ عنہ میں سے ہے، یعنی وہ آیات جو ان باتوں کے موافق اتریں جو عمر رضی اللہ عنہ نے کہی تھیں۔ ان میں بدر کے قیدیوں کا معاملہ، حجاب کا معاملہ، مقام ابراہیم کو جائے نماز بنانے کا معاملہ اور دوسری کئی باتیں شامل ہیں۔ ➋ اس آیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو تنبیہ ہے کہ تم اس خیال میں نہ رہنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تم سے بہتر بیویاں نہیں مل سکتیں، اس لیے تم جس طرح چاہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر دباؤ ڈالتی رہو، بلکہ اگر آپ نے تمھیں طلاق دے دی تو آپ کا رب قریب ہے کہ آپ کو تم سے کہیں بہتر بیویاں عطا فرما دے۔ ➌ { مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ:} ان صفات کی تفسیر پہلے گزر چکی ہے۔ (دیکھیے احزاب: ۳۵) {” تٰٓىِٕبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓىِٕحٰتٍ “ } کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ (۱۱۲)۔ ➍ {ثَيِّبٰتٍ وَّ اَبْكَارًا: ” ثَيِّبٰتٍ “ ” ثَيِّبٌ “} کی جمع ہے، طلاق یافتہ یا بیوہ عورت۔ یہ {”ثَابَ يَثُوْبُ ثَوْبًا“} (ن) سے مشتق ہے، اسے ”ثيب“ اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ خاوند سے واپس لوٹ آتی ہے اور پھر اسی طرح خاوند کے بغیر رہ جاتی ہے جیسے پہلے تھی۔ {” اَبْكَارًا “ ”بِكْرٌ“} کی جمع ہے، کنواری۔ اسے ”بکر“ اس لیے کہتے ہیں کہ یہ ابھی اپنی اسی پہلی حالت پر ہوتی ہے جس پر پیدا ہوئی تھی اور ہر جنس میں سب سے پہلی چیز کو بکر کہتے ہیں۔ پہلی صفات کے درمیان واؤ عطف نہیں لائی گئی، کیونکہ وہ سب ایک وقت میں جمع ہو سکتی ہیں، مگر کسی عورت میں ان دونوں میں سے ایک وقت میں ایک ہی صفت ہو سکتی ہے، اس لیے واؤ عطف لائی گئی۔ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنواری عورتوں کے ساتھ نکاح کی ترغیب دلائی مگر بعض اوقات ثیبات میں علم و عقل اور تجربے وغیرہ کی ایسی صفات ہوتی ہیں جو انھیں ابکار پر ترجیح دینے کا باعث ہوتی ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں طرح کی بیویاں عطا فرمائیں۔ ➎ اس آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی ازواج سے بہتر ازواج عطا کرنے کی امید اس شرط پر دلائی تھی کہ آپ موجودہ بیویوں کو طلاق دے دیں، مگر نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں طلاق دی اور نہ اللہ تعالیٰ نے ان سے بہتر بیویاں آپ کو دیں، بلکہ انھی کو بہتر ہونے کا اور دنیا اور آخرت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج رہنے کا شرف عطا فرمایا۔ ➏ اس آیت سے معلوم ہوا کہ آدمی کو بیوی کے انتخاب کے وقت ان صفات کی حامل عورت کو ترجیح دینی چاہیے جو اس آیت میں مذکور ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا وَ لِحَسَبِهَا وَجَمَالِهَا وَ لِدِيْنِهَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّيْنِ تَرِبَتْ يَدَاكَ ] [ بخاري، النکاح، باب الأکفاء في الدین: ۵۰۹۰، عن أبي ہریرۃ رضی اللہ عنہ ] ”عورت سے چار چیزوں کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے، اس کے مال کی وجہ سے، اس کے حسب اور اس کے جمال کی وجہ سے اور اس کے دین کی وجہ سے، سو تو دین والی عورت کے ساتھ نکاح میں کامیابی حاصل کر، تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں۔“ ➐ اس مقام پر بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ ”ثیب“ سے مراد آسیہ زوجۂ فرعون ہیں اور ”بکر“ سے مراد مریم بنت عمران ہیں، ان دونوں کا نکاح جنت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جائے گا، مگر ایک تو اس بات کا اس آیت سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ اس میں پہلی بیویوں کو طلاق دینے کی صورت میں ان کے بدلے میں ان سے بہتر ثیبات و ابکار بیویاں عطا کرنے کا ذکر ہے اور جب آپ نے پہلی بیویوں کو طلاق ہی نہیں دی تو ان کے بدلے میں اور بیویوں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ جنت میں ان دونوں عظیم خواتین کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دے تو یہ ناممکن نہیں، مگر یہ ثابت ہونا تو ضروری ہے، جب کہ کسی صحیح دلیل سے یہ بات ثابت نہیں۔
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اُس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے جس پر نہایت تند خو اور سخت گیر فرشتے مقرر ہوں گے جو کبھی اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم بھی انہیں دیا جاتا ہے اسے بجا لاتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں جنہیں جو حکم اللہ تعالیٰ دیتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جائے بجا ﻻتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اس پر سخت کرّے (طاقتور) فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کا حکم نہیں ٹالتے اور جو انہیں حکم ہو وہی کرتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آتشِ دوزخ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہوں گے اس پر ایسے فرشتے مقرر ہیں جو تُندخو اور درشت مزا ج ہیں انہیں جس بات کا حکم دیا گیا ہے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہ وہی کام کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا گیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچائو جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں، اس پر سخت دل، بہت مضبوط فرشتے مقرر ہیں، جو اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے جو وہ انھیں حکم دے اور وہ کرتے ہیں جو حکم دیے جاتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہمارا گھرانہ ہماری ذمہ داریاں ٭٭
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ارشاد ربانی ہے کہ ’ اپنے گھرانے کے لوگوں کو علم و ادب سکھاؤ ‘۔ [مستدرک حاکم:494/2:ضعیف] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اللہ کے فرمان بجا لاؤ، اس کی نافرمانیاں مت کرو، اپنے گھرانے کے لوگوں کو ذکر اللہ کی تاکید کرو تاکہ اللہ تمہیں جہنم سے بچا لے۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ سے ڈرو اور اپنے گھر والوں کو بھی یہی تلقین کرو۔“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ کی اطاعت کا انہیں حکم دو اور نافرمانیوں سے روکتے رہو، ان پر اللہ کے حکم قائم رکھو اور انہیں احکام اللہ بجا لانے کی تاکید کرتے رہو، نیک کاموں میں ان کی مدد کرو اور برے کاموں پر انہیں ڈانٹو ڈپٹو۔“ ضحاک و مقاتل رحمہا اللہ فرماتے ہیں ”ہر مسلمان پر فرض ہے کہ اپنے رشتے، کنبے کے لوگوں کو اور اپنے لونڈی، غلام کو اللہ کے فرمان بجا لانے کی اور اس کی نافرمانیوں سے رکنے کی تعلیم دیتا رہے۔“ مسند احمد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ { جب بچے سات سال کے ہو جائیں انہیں نماز پڑھنے کو کہتے سنتے رہا کرو، جب دس سال کے ہو جائیں اور نماز میں سستی کریں تو انہیں مار کر دھمکا کر پڑھاؤ }، یہ حدیث ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے۔ [مسند احمد:404/3:صحیح]
جہنم کا ایندھن ٭٭
فقہاء کا فرمان ہے کہ ”اسی طرح روزے کی بھی تاکید اور تنبیہ اس عمر سے شروع کر دینی چاہیئے تاکہ بالغ ہونے تک پوری طرح نماز روزے کی عادت ہو جائے، اطاعت کے بجا لانے اور معصیت سے بچنے رہنے اور برائی سے دور رہنے کا سلیقہ پیدا ہو جائے۔“ ان کاموں سے تم اور وہ جہنم کی آگ سے بچ جاؤ گے جس آگ کا ایندھن انسانوں کے جسم اور پتھر ہیں، ان چیزوں سے یہ آگ سلگائی گئی ہے، پھر خیال کر لو کہ کس قدر تیز ہو گی؟ پتھر سے مراد یا تو وہ پتھر ہے جن کی دنیا میں پرستش ہوتی رہی جیسے اور جگہ ہے «إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُمْ لَهَا وَارِدُونَ» ۱؎ [21-الانبیاء:98] ’ تم اور تمہارے معبود جہنم کی لکڑیاں ہو ‘، یا گندھک کے نہایت ہی بدبودار پتھر ہیں۔ ایک رویات میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ» ۱؎ [66-التحریم:6] الخ کی تلاوت کی اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بعض اصحاب رضی اللہ عنہم تھے جن میں سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! کیا جہنم کے پتھر دنیا کے پتھروں جیسے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اللہ کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ جہنم کا ایک پتھر ساری دنیا کے تمام پتھروں سے بڑا ہے“، انہیں یہ سن کر غشی آ گئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دل پر ہاتھ رکھا تو وہ دل دھڑک رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دی کہ اے شیخ کہو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» اس نے اسے پڑھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جنت کی خوشخبری دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے کہا: کیا ہم سب کے درمیان صرف اسی کو یہ خوشخبری دی جا رہی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، دیکھو قرآن میں ہے «ذَٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِي وَخَافَ وَعِيدِ» ۱؎ [14-ابراھیم:14] یہ اس کے لیے ہے جو میرے سامنے کھڑا ہونے اور میرے دھمکیوں کا ڈر رکھتا ہو“ }، یہ حدیث غریب اور مرسل ہے۔
جہنم کے فرشتے ٭٭
پھر ارشاد ہوتا ہے ’ اس آگ سے عذاب کرنے والے فرشتے سخت طبیعت والے ہیں جن کے دلوں میں کافروں کے لیے اللہ نے رحم رکھا ہی نہیں اور جو بدترین ترکیبوں میں بڑی بھاری سزائیں کرتے ہیں، جن کے دیکھنے سے بھی پتہ پانی اور کلیجہ چھلنی ہو جائے ‘۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جب دوزخیوں کا پہلا جتھا جہنم کو چلا جائے گا تو دیکھے گا کہ پہلے دروازے پر چار لاکھ فرشتے عذاب کرنے والے تیار ہیں جن کے چہرے بڑے ہیبت ناک اور نہایت سیاہ ہیں، کچلیاں باہر کو نکلی ہوئی ہیں، سخت بے رحم ہیں، ایک ذرے کے برابر بھی اللہ نے ان کے دلوں میں رحم نہیں رکھا، اس قدر جسیم ہیں کہ اگر کوئی پرند ان کے ایک کھوے سے اڑ کر دوسرے کھوے تک پہنچنا چاہے تو کئی مہینے گزر جائیں، پھر دروازے پر انیس فرشتے پائیں گے جن کے سینوں کی چوڑائی ستر سال کی راہ ہے پھر ایک دروازے سے دوسرے دروازے کی طرف دھکیل دیئے جائیں گے، پانچ سو سال تک گرتے رہنے کے بعد دوسرا دروازہ آئے گا وہاں بھی اسی طرح ایسے ہی اور اتنے ہی فرشتوں کو موجود پائیں گے اسی طرح ہر ایک دروازہ پر یہ فرشتے اللہ کے فرمان کے تابع ہیں ادھر فرمایا گیا ادھر انہوں نے عمل شروع کر دیا ان کا نام زبانیہ ہے اللہ ہمیں اپنے عذاب سے پناہ دے آمین۔“
قیامت کے دن کوئی عذر قبول نہیں ٭٭
قیامت کے دن کفار سے فرمایا جائے گا کہ ’ آج تم بے کار عذر پیش نہ کرو، کوئی معذرت ہمارے سامنے نہ چل سکے گی، تمہارے کرتوت کا مزہ تمہیں چکھنا ہی پڑے گا ‘۔ پھر ارشاد ہے کہ ’ اے ایمان والو تم سچی اور خالص توبہ کرو جس سے تمہارے اگلے گناہ معاف ہو جائیں میل کچیل دھل جائے، برائیوں کی عادت ختم ہو جائے ‘۔ نعمان بن بشیر رحمہ اللہ نے اپنے ایک خطبے میں بیان فرمایا کہ ”لوگو! میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا ہے کہ خالص توبہ یہ ہے کہ انسان گناہ کی معافی چاہے اور پھر اس گناہ کو نہ کرے۔“ ۱؎ [مستدرک حاکم490/2:ضعیف] اور روایت میں ہے پھر اس کے کرنے کا ارادہ بھی نہ کرے، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی کے قریب مروی ہے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہی آیا ہے جو ضعیف ہے اور ٹھیک یہی ہے کہ وہ بھی موقوف ہی ہے۔ [مسند احمد:446/1:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ»
6 ۔ 1 اس میں اہل ایمان کو ان کی ایک نہایت اہم ذمے داری کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور وہ ہے اپنے ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی اصلاح اور ان کی اسلامی تعلیم و تربیت کا اہتمام تاکہ یہ سب جہنم کا ایندھن بننے سے بچ جائیں اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب بچہ سات سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اسے نماز کی تلقین کرو اور دس سال عمر کے بچوں میں نماز سے تساہل دیکھو تو انہیں سرزنش کرو سنن ابی داؤد۔ فقہا نے کہا ہے اسی طرح روزے ان سے رکھوائے جائیں اور دیگر احکام کے اتباع کی تلقین انہیں کی جائے تاکہ جب وہ شعور کی عمر کو پہنچیں تو اس دین حق کا شعور بھی انہیں حاصل ہوچکا ہو۔ ابن کثیر۔
(آیت 6) ➊ {يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِيْكُمْ نَارًا:} پچھلی آیات میں امہات المومنین کی تربیت اور ان کے اعمال و اخلاق کی اصلاح کا بیان تھا، اب تمام ایمان والوں کو اس کا حکم دیا جا رہا ہے۔ {” نَارًا “} میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، یعنی اس عظیم آگ سے بچ جاؤ۔ {” قُوْا“} (بچاؤ) {”وَقٰي يَقِيْ وَقْيًا وَ وِقَايَةً“} (ض) سے امر حاضر جمع مذکر ہے۔ اس میں ایمان والوں کو ایک نہایت اہم ذمہ داری کی طرف توجہ دلائی ہے کہ وہ اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچائیں اور اس کے ساتھ اپنے گھر والوں کی تعلیم و تربیت اور ان کے اعمال و اخلاق کی اصلاح کا اہتمام کر کے انھیں بھی جہنم کی آگ سے بچائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْؤلٌ عَنْ رَعِيَّتِهٖ ] [ بخاري، الجمعۃ، باب الجمعۃ في القرٰی والمدن: ۸۹۳ ] ”تم میں سے ہر ایک راعی (نگہبان) ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جانے والا ہے۔“ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور امت کے ہر فرد کو اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دینے اور اس پر پابند رہنے کا حکم دیا، فرمایا: «وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَيْهَا» [ طٰہٰ: ۱۳۲ ] ”اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دے اور اس پر خوب پابند رہ۔“ اس مقصد کے لیے بچپن ہی سے انھیں نماز روزے اور اسلام کے دوسرے احکام پر عمل کی عادت ڈالنی چاہیے اور سمجھ دار ہونے پر اس کے لیے سختی کی ضرورت ہو تو وہ بھی کرنی چاہیے، خواہ ابھی بالغ نہ ہوئے ہوں اور سن تمیز شروع ہونے کے ساتھ ہی انھیں جنسی بے راہ روی سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مُرُوْا أَوْلاَدَكُمْ بِالصَّلاَةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِيْنَ وَاضْرِبُوْهُمْ عَلَيْهَا وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرِ سِنِيْنَ وَفَرِّقُوْا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ ] [ أبو داوٗد، الصلاۃ، باب متٰی یؤمر الغلام بالصلاۃ: ۴۹۵، و قال الألباني حسن صحیح ] ”اپنے بچوں کو نماز کاحکم دو جب وہ سات برس کے ہوں اور اس پر انھیں مارو جب وہ دس برس کے ہوں اور بستروں میں انھیں ایک دوسرے سے الگ کر دو۔“ ➋ { وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۴) کی تفسیر۔ ➌ {عَلَيْهَا مَلٰٓىِٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ …: ” غِلَاظٌ “ ”غَلِيْظٌ“} کی جمع ہے، سخت دل والے، بے رحم اور {” شِدَادٌ “ ”شَدِيْدٌ“} کی جمع ہے، سخت قوت والے، نہایت مضبوط۔ یہاں جہنم پر مقرر فرشتوں کے چار اوصاف بیان ہوئے ہیں: (1) وہ نہایت سخت دل ہیں، انھیں کسی پر رحم نہیں آئے گا۔ (2) سخت قوت والے ہیں، کوئی ان کی گرفت سے نکل نہیں سکے گا۔ (3) اللہ تعالیٰ انھیں جو حکم بھی دے اس کی نافرمانی نہیں کرتے۔ (4) اور وہ کوئی کام اپنی مرضی سے نہیں کرتے، بلکہ وہی کرتے ہیں جس کا انھیں حکم دیا جاتا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ انبیاء (۲۷)۔
(اُس وقت کہا جائے گا کہ) اے کافرو، آج معذرتیں پیش نہ کرو، تہیں تو ویسا ہی بدلہ دیا جا رہا ہے جیسے تم عمل کر رہے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے کافرو! آج تم عذر وبہانہ مت کرو۔ تمہیں صرف تمہارے کرتوت کا بدلہ دیا جارہا ہے۔
احمد رضا خان بریلوی
اے کافرو! آج بہانے نہ بناؤ تمہیں وہی بدلہ ملے گا جو تم کرتے تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے کافر لوگو! آج تم عذر و معذرت نہ کرو تمہیں اسی کا بدلہ دیا جا رہا ہے جو تم کیا کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جنھوں نے کفر کیا ! آج بہانے مت بناؤ، تم صرف اسی کا بدلہ دیے جاؤ گے جو تم کیا کرتے تھے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہمارا گھرانہ ہماری ذمہ داریاں ٭٭
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ارشاد ربانی ہے کہ ’ اپنے گھرانے کے لوگوں کو علم و ادب سکھاؤ ‘۔ [مستدرک حاکم:494/2:ضعیف] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اللہ کے فرمان بجا لاؤ، اس کی نافرمانیاں مت کرو، اپنے گھرانے کے لوگوں کو ذکر اللہ کی تاکید کرو تاکہ اللہ تمہیں جہنم سے بچا لے۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ سے ڈرو اور اپنے گھر والوں کو بھی یہی تلقین کرو۔“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ کی اطاعت کا انہیں حکم دو اور نافرمانیوں سے روکتے رہو، ان پر اللہ کے حکم قائم رکھو اور انہیں احکام اللہ بجا لانے کی تاکید کرتے رہو، نیک کاموں میں ان کی مدد کرو اور برے کاموں پر انہیں ڈانٹو ڈپٹو۔“ ضحاک و مقاتل رحمہا اللہ فرماتے ہیں ”ہر مسلمان پر فرض ہے کہ اپنے رشتے، کنبے کے لوگوں کو اور اپنے لونڈی، غلام کو اللہ کے فرمان بجا لانے کی اور اس کی نافرمانیوں سے رکنے کی تعلیم دیتا رہے۔“ مسند احمد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ { جب بچے سات سال کے ہو جائیں انہیں نماز پڑھنے کو کہتے سنتے رہا کرو، جب دس سال کے ہو جائیں اور نماز میں سستی کریں تو انہیں مار کر دھمکا کر پڑھاؤ }، یہ حدیث ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے۔ [مسند احمد:404/3:صحیح]
جہنم کا ایندھن ٭٭
فقہاء کا فرمان ہے کہ ”اسی طرح روزے کی بھی تاکید اور تنبیہ اس عمر سے شروع کر دینی چاہیئے تاکہ بالغ ہونے تک پوری طرح نماز روزے کی عادت ہو جائے، اطاعت کے بجا لانے اور معصیت سے بچنے رہنے اور برائی سے دور رہنے کا سلیقہ پیدا ہو جائے۔“ ان کاموں سے تم اور وہ جہنم کی آگ سے بچ جاؤ گے جس آگ کا ایندھن انسانوں کے جسم اور پتھر ہیں، ان چیزوں سے یہ آگ سلگائی گئی ہے، پھر خیال کر لو کہ کس قدر تیز ہو گی؟ پتھر سے مراد یا تو وہ پتھر ہے جن کی دنیا میں پرستش ہوتی رہی جیسے اور جگہ ہے «إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُمْ لَهَا وَارِدُونَ» ۱؎ [21-الانبیاء:98] ’ تم اور تمہارے معبود جہنم کی لکڑیاں ہو ‘، یا گندھک کے نہایت ہی بدبودار پتھر ہیں۔ ایک رویات میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ» ۱؎ [66-التحریم:6] الخ کی تلاوت کی اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بعض اصحاب رضی اللہ عنہم تھے جن میں سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! کیا جہنم کے پتھر دنیا کے پتھروں جیسے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اللہ کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ جہنم کا ایک پتھر ساری دنیا کے تمام پتھروں سے بڑا ہے“، انہیں یہ سن کر غشی آ گئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دل پر ہاتھ رکھا تو وہ دل دھڑک رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دی کہ اے شیخ کہو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» اس نے اسے پڑھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جنت کی خوشخبری دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے کہا: کیا ہم سب کے درمیان صرف اسی کو یہ خوشخبری دی جا رہی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، دیکھو قرآن میں ہے «ذَٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِي وَخَافَ وَعِيدِ» ۱؎ [14-ابراھیم:14] یہ اس کے لیے ہے جو میرے سامنے کھڑا ہونے اور میرے دھمکیوں کا ڈر رکھتا ہو“ }، یہ حدیث غریب اور مرسل ہے۔
جہنم کے فرشتے ٭٭
پھر ارشاد ہوتا ہے ’ اس آگ سے عذاب کرنے والے فرشتے سخت طبیعت والے ہیں جن کے دلوں میں کافروں کے لیے اللہ نے رحم رکھا ہی نہیں اور جو بدترین ترکیبوں میں بڑی بھاری سزائیں کرتے ہیں، جن کے دیکھنے سے بھی پتہ پانی اور کلیجہ چھلنی ہو جائے ‘۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جب دوزخیوں کا پہلا جتھا جہنم کو چلا جائے گا تو دیکھے گا کہ پہلے دروازے پر چار لاکھ فرشتے عذاب کرنے والے تیار ہیں جن کے چہرے بڑے ہیبت ناک اور نہایت سیاہ ہیں، کچلیاں باہر کو نکلی ہوئی ہیں، سخت بے رحم ہیں، ایک ذرے کے برابر بھی اللہ نے ان کے دلوں میں رحم نہیں رکھا، اس قدر جسیم ہیں کہ اگر کوئی پرند ان کے ایک کھوے سے اڑ کر دوسرے کھوے تک پہنچنا چاہے تو کئی مہینے گزر جائیں، پھر دروازے پر انیس فرشتے پائیں گے جن کے سینوں کی چوڑائی ستر سال کی راہ ہے پھر ایک دروازے سے دوسرے دروازے کی طرف دھکیل دیئے جائیں گے، پانچ سو سال تک گرتے رہنے کے بعد دوسرا دروازہ آئے گا وہاں بھی اسی طرح ایسے ہی اور اتنے ہی فرشتوں کو موجود پائیں گے اسی طرح ہر ایک دروازہ پر یہ فرشتے اللہ کے فرمان کے تابع ہیں ادھر فرمایا گیا ادھر انہوں نے عمل شروع کر دیا ان کا نام زبانیہ ہے اللہ ہمیں اپنے عذاب سے پناہ دے آمین۔“
قیامت کے دن کوئی عذر قبول نہیں ٭٭
قیامت کے دن کفار سے فرمایا جائے گا کہ ’ آج تم بے کار عذر پیش نہ کرو، کوئی معذرت ہمارے سامنے نہ چل سکے گی، تمہارے کرتوت کا مزہ تمہیں چکھنا ہی پڑے گا ‘۔ پھر ارشاد ہے کہ ’ اے ایمان والو تم سچی اور خالص توبہ کرو جس سے تمہارے اگلے گناہ معاف ہو جائیں میل کچیل دھل جائے، برائیوں کی عادت ختم ہو جائے ‘۔ نعمان بن بشیر رحمہ اللہ نے اپنے ایک خطبے میں بیان فرمایا کہ ”لوگو! میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا ہے کہ خالص توبہ یہ ہے کہ انسان گناہ کی معافی چاہے اور پھر اس گناہ کو نہ کرے۔“ ۱؎ [مستدرک حاکم490/2:ضعیف] اور روایت میں ہے پھر اس کے کرنے کا ارادہ بھی نہ کرے، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی کے قریب مروی ہے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہی آیا ہے جو ضعیف ہے اور ٹھیک یہی ہے کہ وہ بھی موقوف ہی ہے۔ [مسند احمد:446/1:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 7){ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُوا الْيَوْمَ …:} یعنی جب وہ سخت دل اور سخت قوت والے فرشتے جہنمیوں کو جہنم میں ڈالیں گے تو وہ مختلف عذر کریں گے اور بہانے بنائیں گے، اللہ تعالیٰ نے ان کے مختلف بہانے قرآن مجید میں ذکر فرمائے ہیں۔ (دیکھیے اعراف: ۳۸۔ انعام: 27،24،23) مگر انھیں کہا جائے گا کہ آج کوئی عذر بہانہ نہ کرو، کیونکہ تمھیں اس سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا، تمھیں انھی اعمال کی جزا دی جا رہی ہے جو تم کرتے رہے ہو۔ مزید دیکھیے سورۂ روم (۵۷) اور سورۂ مومن (۵۲)۔
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے توبہ کرو، خالص توبہ، بعید نہیں کہ اللہ تمہاری برائیاں تم سے دور کر دے اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل فرما دے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی یہ وہ دن ہوگا جب اللہ اپنے نبی کو اور اُن لوگوں جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں رسوا نہ کرے گا اُن کا نور اُن کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا اور وہ کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب، ہمارا نور ہمارے لیے مکمل کر دے اور ہم سے درگزر فرما، تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! تم اللہ کے سامنے سچی خالص توبہ کرو۔ قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے گناه دور کر دے اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ جس دن اللہ تعالیٰ نبی کو اور ایمان والوں کو جو ان کے ساتھ ہیں رسوا نہ کرے گا۔ ان کا نور ان کے سامنے اور ان کے دائیں دوڑ رہا ہوگا۔ یہ دعائیں کرتے ہوں گے اے ہمارے رب ہمیں کامل نور عطا فرما اور ہمیں بخش دے یقیناً تو ہر چیز پر قادر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو! اللہ کی طرف ایسی توبہ کرو جو آگے کو نصیحت ہوجائے قریب ہے تمہارا رب تمہاری برائیاں تم سے اتار دے اور تمہیں باغوں میں لے جائے جن کے نیچے نہریں بہیں جس دن اللہ رسوا نہ کرے گا نبی اور ان کے ساتھ کے ایمان والوں کو ان کا نور دوڑتا ہوگا ان کے آگے اور ان کے دہنے عرض کریں گے، اے ہمارے رب! ہمارے لیے ہمارا نور پورا کردے اور ہمیں بخش دے، بیشک تجھے ہر چیز پر قدرت ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! اللہ کی بارگاہ میں (سچے دل سے) خالص توبہ کرو۔ امید ہے کہ تمہارا پروردگار تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے گا اور تمہیں ایسے بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں جس دن خدا (اپنے) نبی(ص) کو اور ان لوگوں کو جو آپ(ص) کے ساتھ ایمان لائے ہیں رسوا نہیں کرے گا (اس دن) ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں جانب تیز تیز چل رہا ہوگا (اور) وہ کہہ رہے ہوں گۓ اے ہمارے پروردگار! ہمارے لئے ہمارا نور مکمل کر اور ہماری مغفرت فرما بےشک تو ہر چیز پر بڑی قدرت رکھتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی طرف توبہ کرو، خالص توبہ، تمھارا رب قریب ہے کہ تم سے تمھاری برائیاں دور کر دے اور تمھیں ایسے باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، جس دن اللہ نبی کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے، رسوا نہیں کرے گا، ان کا نور ان کے آگے اور ان کی دائیں طرفوں میں دوڑ رہا ہو گا، وہ کہہ رہے ہوں گے اے ہمارے رب! ہمارے لیے ہمارا نور پورا کر اور ہمیں بخش دے، یقینا تو ہر چیز پر خوب قادر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خالص توبہ ٭٭
سلف فرماتے ہیں ”توبہ خالص یہ ہے کہ گناہ کو اس وقت چھوڑ دے، جو ہو چکا ہے اس پر نادم ہو اور آئندہ کے لیے نہ کرنے کا پختہ عزم ہو، اور اگر گناہ میں کسی انسان کا حق ہے تو چوتھی شرط یہ ہے کہ وہ حق باقاعدہ ادا کر دے۔“ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”نادم ہونا بھی توبہ کرنا ہے“ }۔ [مسند احمد:33/1:صحیح] سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ہمیں کہا گیا تھا کہ اس امت کے آخری لوگ قیامت کے قریب کیا کیا کام کریں گے؟ ان میں ایک یہ ہے کہ انسان اپنی بیوی یا لونڈی سے اس کے پاخانہ کی جگہ میں وطی کرے گا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مطلق حرام کر دیا ہے اور جس فعل پر اللہ اور اس کے رسول کی ناراضگی ہوتی ہے، اسی طرح مرد مرد سے بدفعلی کریں گے جو حرام اور اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کا باعث ہے، ان لوگوں کی نماز بھی اللہ کے ہاں مقبول نہیں جب تک کہ یہ «توبتہ النصوح» نہ کریں۔“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابی رضی اللہ عنہ سے پوچھا «توبتہ النصوح» کیا ہے؟ فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قصور سے گناہ ہو گیا، پھر اس پر نادم ہونا، اللہ تعالیٰ سے معافی چاہنا اور پھر اس گناہ کی طرف مائل نہ ہونا۔“ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «توبتہ النصوح» یہ ہے کہ جیسے گناہ کی محبت تھی ویسا ہی بغض دل میں بیٹھ جائے اور جب وہ گناہ یاد آئے اس سے استغفار ہو، جب کوئی شخص توبہ کرنے پر پختگی کر لیتا ہے اور اپنی توبہ پر جما رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی تمام اگلی خطائیں مٹا دیتا ہے، جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے کہ { اسلام لانے سے پہلے کی تمام برائیاں اسلام فنا کر دیتا ہے اور توبہ سے پہلے کی تمام خطائیں توبہ سوخت کر دیتی ہے }۔ [صحیح مسلم:121] اب رہی یہ بات کہ «توبتہ النصوح» میں یہ شرط بھی ہے کہ توبہ کرنے والا پھر مرتے دم تک یہ گناہ نہ کرے۔ جیسے کہ احادیث و آثار ابھی بیان ہوئے جن میں ہے کہ پھر کبھی نہ کرے، یا صرف اس کا عزم راسخ کافی ہے کہ اسے اب کبھی نہ کروں گا گو پھر بہ متضائے بشریت بھولے چوکے ہو جائے، جیسے کہ ابھی حدیث گزری کہ توبہ اپنے سے پہلے گناہوں کو بالکل مٹا دیتی ہے، تو تنہا توبہ کے ساتھ ہی گناہ معاف ہو جاتے ہیں یا پھر مرتے دم تک اس کام کا نہ ہونا گناہ کی معافی کی شرط کے طور پر ہے؟
پس پہلی بات کی دلیل تو یہ صحیح حدیث ہے کہ { جو شخص اسلام میں نیکیاں کرے وہ اپنی جاہلیت کی برائیوں پر پکڑا نہ جائے گا اور جو اسلام لا کر بھی برائیوں میں مبتلا رہے وہ اسلام اور جاہلیت کی دونوں برائیوں میں پکڑا جائے گا }۔ [صحیح بخاری:6921] پس اسلام جو کہ گناہوں کو دور کرنے میں توبہ سے بڑھ کر ہے، جب اس کے بعد بھی اپنی بدکرداریوں کی وجہ سے پہلی برائیوں میں بھی پکڑ ہوئی، تو توبہ کے بعد بطور اولیٰ ہونی چاہیئے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» لفظ «عَسٰی» گو تمنا، امید اور امکان کے معنی دیتا ہے لیکن کلام اللہ میں اس کے معنی تحقیق کے ہوتے ہیں پس فرمان ہے کہ خالص توبہ کرنے والے قطعاً اپنے گناہوں کو معاف کروا لیں گے اور سرسبز و شاداب جنتوں میں آئیں گے۔ پھر ارشاد ہے ’ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ایماندار ساتھیوں کو ہرگز شرمندہ نہ کرے گا، انہیں اللہ کی طرف سے نور عطا ہو گا جو ان کے آگے آگے اور دائیں طرف ہو گا، اور سب اندھیروں میں ہوں گے اور یہ روشنی میں ہوں گے ‘، جیسے کہ پہلے سورۃ الحدید کی تفسیر میں گزر چکا، جب یہ دیکھیں گے کہ منافقوں کو جو روشنی ملی تھی عین ضرورت کے وقت وہ ان سے چھین لی گئی اور وہ اندھیروں میں بھٹکتے رہ گئے تو دعا کریں گے کہ اے اللہ ہمارے ساتھ ایسا نہ ہو ہماری روشنی تو آخر وقت تک ہمارے ساتھ ہی رہے ہمارا نور ایمان بجھنے نہ پائے۔
بنو کنانہ کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { فتح مکہ والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے میں نے نماز پڑھی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کو سنا ” «الَّلهُمَّ لاَ تُخْزِنِيْ يَوْمَ الْقِيَامَة» میرے اللہ! مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرنا“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:234/4:صحیح] ایک حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”قیامت کے دن سب سے پہلے سجدے کی اجازت مجھے دی جائے گی اور اسی طرح سب سے پہلے سجدے سے سر اٹھانے کی اجازت بھی مجھ ہی کو مرحمت ہو گی میں اپنے سامنے اور دائیں بائیں نظریں ڈال کر اپنی امت کو پہچان لوں گا“ ایک صحابی نے کہا: یا رسول اللہ! آپ انہیں کیسے پہچانیں گے؟ وہاں تو بہت سی امتیں مخلوط ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے لوگوں کی ایک نشانی تو یہ ہے کہ ان کے اعضاء وضو منور ہوں گے، چمک رہے ہوں گے کسی اور امت میں یہ بات نہ ہو گی دوسری پہچان یہ ہے کہ ان کے نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے، تیسری نشانی یہ ہو گی کہ سجدے کے نشان ان کی پیشانیوں پر ہوں گے جن سے میں پہچان لوں گا چوتھی علامت یہ ہے کہ ان کا نور ان کے آگے آگے ہو گا“ }۔ [مسند احمد:199/5:ضعیف]
8۔ 1 خالص توبہ یہ ہے کہ، 1۔ جس گناہ سے توبہ کر رہا ہے، اسے ترک کر دے 2۔ اس پر اللہ کی بارگاہ میں ندامت کا اظہار کرے، 3۔ آئندہ اسے نہ کرنے کا عزم رکھے، 4۔ اگر اس کا تعلق حقوق العباد سے ہے تو جس کا حق غصب کیا ہے اس کا ازالہ کرے، جس کے ساتھ زیادتی کی ہے اس سے معافی مانگے، محض زبان سے توبہ توبہ کرلینا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ 8۔ 2 یہ دعا اہل ایمان اس وقت کریں جب منافقین کا نور بجھا دیا جائے گا، جیسا سورة حدید میں تفصیل گزری، اہل ایمان کہیں گے، جنت میں داخل ہونے تک ہمارے اس نور کو باقی رکھ اور اس کا اتمام فرما۔
(آیت 8) ➊ { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا: ” تَوْبَةً “ ” تَابَ يَتُوْبُ تَوْبَةً “} (ن) پلٹ آنا۔ {” نَصُوْحًا “ ”نَصَحَ يَنْصَحُ نُصْحًا“} (ف) سے {”فَعُوْلٌ“} کے وزن پر مبالغے کا صیغہ ہے، بہت خالص۔ یہ وزن مذکر و مؤنث اور واحد، جمع و تثنیہ سب کے لیے اسی طرح استعمال ہوتا ہے، اس لیے {” تَوْبَةً “} مذکر ہونے کے باوجود {” نَصُوْحًا “} (مؤنث) کی صفت ہے۔ {”نَصَحَ الشَّيْءُ“} اس وقت کہتے ہیں جب کوئی چیز خالص ہو، اس میں کھوٹ نہ ہو۔ شہد یا کوئی اور چیز جب خالص ہو تو اسے {”اَلنُّصْحُ“} کہتے ہیں۔ {”اَلنُّصْحُ“} (خالص ہونا) {”اَلْغَشُّ“} (کھوٹا ہونے) کا متضاد ہے۔ اس آیت میں جہنم سے بچنے کا طریقہ بتلایا ہے، فرمایا اے ایمان والو! اللہ کی طرف پلٹ آؤ، خالص اور سچا پلٹنا۔ یعنی اگر نافرمانی کر کے اللہ تعالیٰ سے دور ہوگئے ہو تو اسے ترک کرکے واپس اس کی طرف پلٹ آؤ۔ توبۂ نصوح کی پہلی شرط یہ ہے کہ محض اللہ کے خوف کی وجہ سے آدمی گناہ پر نادم ہو، کسی دنیاوی نقصان کی وجہ سے ندامت توبہ نہیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلنَّدَمُ تَوْبَةٌ ] [ ابن ماجہ، الزھد، باب ذکر التوبۃ: ۴۲۵۲، وقال الألباني صحیح ] ”ندامت توبہ ہے۔“ دوسری شرط یہ ہے کہ گناہ چھوڑ دے اور فوراً چھوڑ دے۔ (دیکھیے نساء: ۱۷۔ اعراف: ۲۰۱) تیسری شرط یہ کہ آئندہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرے، گناہ پر قائم نہ رہے۔ (دیکھیے آل عمران: ۱۳۵) اور چوتھی شرط یہ ہے کہ اگر اس کا تعلق بندوں کے حقوق سے ہے تو جہاں تک ممکن ہو انھیں ادا کرے یا معافی مانگ لے۔ ➋ { عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ يُّكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ …:} اس میں توبۂ نصوح پر گناہوں کی معافی اور جنتوں میں داخلے کی خوش خبری سنائی ہے۔ ➌ {يَوْمَ لَا يُخْزِي اللّٰهُ النَّبِيَّ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ: ” يَوْمَ “} کا لفظ {” يُدْخِلَكُمْ “} کا ظرف ہے، یعنی گناہوں کی معافی اور جنت میں داخلہ اس دن ہوگا جس دن اللہ تعالیٰ نبی کو اور اس کے ساتھ ایمان لانے والوں کو رسوا نہیں کرے گا۔ اس کے ساتھ ایمان لانے والوں میں صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین اور ان کے بعد قیامت تک آنے والے تمام مسلمان شامل ہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ فتح کی آخری آیت کی تفسیر۔ ان میں ازواج مطہرات بالاولیٰ شامل ہیں، کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں، اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت کا شرف بخشا اور جب انھیں اللہ، اس کے رسول اور آخرت اور دنیا میں سے کسی ایک چیز کو قبول کرنے کا اختیار دیا گیا تو انھوں نے اللہ، اس کے رسول اور آخرت کو قبول کیا۔ (دیکھیے احزاب: ۲۸ تا ۳۴) اور ان کے ایثار اور صبر کی وجہ سے ان کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مزید عورتوں کے ساتھ یا ان کو بدل کر دوسری عورتوں کے ساتھ نکاح سے منع فرما دیا۔ دیکھیے سورۂ احزاب (۵۲)۔ اس دن کی رسوائی سے دنیا میں بھی انبیاء اور مومن بندے پناہ مانگتے رہے تھے۔ (دیکھیے آل عمران: ۱۹۴۔ شعراء: ۸۷) سو اللہ تعالیٰ انھیں اس رسوائی سے بچا لے گا۔ ➍ { نُوْرُهُمْ يَسْعٰى بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ بِاَيْمَانِهِمْ:} اس کے لیے دیکھیے سورۂ حدید کی آیت (۱۲) کی تفسیر۔ ➎ { يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا:} حشر کے میدان میں جب ایمان والوں اور منافقین کے درمیان دیوار حائل ہونے پر منافقین اندھیرے میں کھڑے رہ جائیں گے تو ایمان والے اس خوف سے کہ منافقین کی طرح ہماری روشنی بھی نہ بجھ جائے اللہ تعالیٰ سے اپنے نور کو پورا کرنے اور پورا رکھنے کی دعا کریں گے، تاکہ اس روشنی میں وہ جنت تک پہنچ جائیں۔ مزید دیکھیے سورۂ حدید (۱۳ تا ۱۵)۔
اے نبیؐ، کفار اور منافقین سے جہاد کرو اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آؤ ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے نبی! کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وه بہت بری جگہ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے غیب بتانے والے! (نبی) کافروں پر اور منافقوں پر جہاد کرو اور ان پر سختی فرماؤ، اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے، اور کیا ہی برا انجام،
علامہ محمد حسین نجفی
اے نبی(ص)! کافروں اور منافقوں سے جہاد کیجئے اور ان پر سختی کیجئے اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت بری جائے بازگشت ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے نبی! کفار اور منافقین سے جہاد کر اور ان پر سختی کر اور ان کی جگہ جہنم ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تحفظ قانون کے لئے حکم جہاد ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ’ کافروں سے جہاد کر ہتھیاروں کے ساتھ اور منافقوں سے جہاد کر حدود اللہ جاری کرنے کے ساتھ، ان پر دنیا میں سختی کرو، آخرت میں بھی ان کا ٹھکانا جہنم ہے جو بدترین باز گشت ہے ‘۔ پھر مثال دے کر سمجھایا کہ ’ کافروں کا مسلمانوں سے ملنا جلنا، خلط ملط رہنا انہیں ان کے کفر کے باوجود اللہ کے ہاں کچھ نفع نہیں دے سکتا، دیکھو دو پیغمبروں کی عورتیں نوح علیہ السلام اور لوط علیہ السلام کی جو ہر وقت ان نبیوں کی صحبت میں رہنے والی اور دن رات ساتھ اٹھنے بیٹھنے والی اور ساتھ ہی کھانے پینے بلکہ سونے جاگنے والی تھیں، لیکن چونکہ ایمان میں ان کی ساتھی نہ تھیں اور اپنے کفر پر قائم تھیں، پس پیغمبروں کی آٹھ پہر کی صحبت انہیں کچھ کام نہ آئی، انبیاء اللہ علیہم السلام انہیں آخروی نفع نہ پہنچا سکے اور نہ آخروی نقصان سے بچا سکے، بلکہ ان عورتوں کو بھی دوزخیوں کے ساتھ جہنم میں جانے کو کہہ دیا گیا ‘۔ یہ یاد رہے کہ خیانت کرنے سے مراد بدکاری نہیں، انبیاء علیہم السلام کی حرمت و عصمت اس سے بہت اعلیٰ اور بالا ہے کہ ان کی گھر والیاں فاحشہ ہوں، ہم اس کا پورا بیان سورۃ النور کی تفسیر میں کر چکے ہیں، بلکہ یہاں مراد «خیانت فی الدین» ہے، یعنی دین میں اپنے خاوندوں کی خیانت کی ان کا ساتھ نہ دیا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ان کی خیانت زنا کاری نہ تھی بلکہ یہ تھی کہ نوح علیہ السلام کی بیوی تو لوگوں سے کہا کرتی تھی کہ یہ مجنوں ہیں اور لوط علیہ السلام کی بیوی جو مہمان لوط کے ہاں آتے تو کافروں کو خبر کر دیتی تھی۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:169/28:ضعیف] یہ دونوں بد دین تھیں نوح علیہ السلام کی راز داری اور پوشیدہ طور پر ایمان لانے والوں کے نام کافروں پر ظاہر کر دیا کرتی تھی، اسی طرح لوط علیہ السلام کی بیوی بھی اپنے خاوند اللہ کے رسول علیہ السلام کی مخالف تھی اور جو لوگ آپ کے ہاں مہمان بن کر ٹھہرتے یہ جا کر اپنی کافر قوم کو خبر کر دیتی جنہیں بدعمل کی عادت تھی، بلکہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”کسی پیغمبر کی کسی عورت نے کبھی بدکاری نہیں کی۔“ اسی طرح عکرمہ، سعید بن جبیر، ضحاک رحمہم اللہ وغیرہ سے بھی مروی ہے، اس سے استدلال کر کے بعض علماء نے کہا ہے کہ وہ جو عام لوگوں میں مشہور ہے کہ حدیث میں ہے ”جو شخص کسی ایسے کے ساتھ کھائے جو بخشا ہوا ہو اسے بھی بخش دیا جاتا ہے“، یہ حدیث بالکل ضعیف ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ حدیث محض بے اصل ہے۔ ہاں ایک بزرگ سے مروی ہے کہ انہوں نے خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی اور پوچھا کہ کیا آپ نے یہ حدیث ارشاد فرمائی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، لیکن اب میں کہتا ہوں۔“ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:315]
9۔ 1 کفار کے ساتھ جہاد، و قتال کے ساتھ اور منافقین سے، ان پر حدود الٰہی قائم کرکے، جب وہ ایسے کام کریں جو موجب حد ہوں۔ 9۔ 2 یعنی دعوت و تبلیغ میں سختی اور احکام شریعت میں درشتی اختیار کریں کیونکہ یہ لاتوں کے بھوت ہیں جو باتوں سے ماننے والے نہیں ہیں اس کا مطلب ہے کہ حکمت تبلیغ کبھی نرمی کی متقاضی ہوتی ہے اور کبھی سختی کی ہر جگہ نرمی بھی مناسب نہیں اور ہر جگہ سختی بھی مفید نہیں رہتی تبلیغ ودعوت میں حالات وظروف اور اشخاص و افراد کے اعتبار سے نرمی یا سختی کرنے کی ضرورت ہے۔ 9۔ 3 یعنی کافروں اور منافقوں دونوں کا ٹھکانا جہنم ہے۔
(آیت 9){ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِيْنَ …:} پچھلی آیات میں ایمان والوں کا ٹھکانا بتایا تھا، اب دنیا اور آخرت میں کفار کے معاملے کا ذکر فرمایا کہ دنیا میں ان کے ساتھ جہاد کرنا ہے اور ان پر سختی کرنی ہے، کسی قسم کی مداہنت یا چشم پوشی سے کام نہیں لینا، تاکہ اسلام کا کلمہ سربلند رہے اور یہ لوگ اس کے سامنے سر جھکا کر زندگی بسر کریں اور آخرت میں ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔ منافقین کے ساتھ جہاد سے کیا مراد ہے، اس کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ (۷۳) کی تفسیر۔
اللہ کافروں کے معاملے میں نوحؑ اور لوطؑ کی بیویوں کو بطور مثال پیش کرتا ہے وہ ہمارے دو صالح بندوں کی زوجیت میں تھیں، مگر انہوں نے اپنے ان شوہروں سے خیانت کی اور وہ اللہ کے مقابلہ میں ان کے کچھ بھی نہ کام آ سکے دونوں سے کہہ دیا گیا کہ جاؤ آگ میں جانے والوں کے ساتھ تم بھی چلی جاؤ
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے نوح کی اور لوط کی بیوی کی مثال بیان فرمائی یہ دونوں ہمارے بندوں میں سے دو (شائستہ اور) نیک بندوں کے گھر میں تھیں، پھر ان کی انہوں نے خیانت کی پس وه دونوں (نیک بندے) ان سے اللہ کے (کسی عذاب کو) نہ روک سکے اور حکم دے دیا گیا (اے عورتوں) دوزخ میں جانے والوں کے ساتھ تم دونوں بھی چلی جاؤ
احمد رضا خان بریلوی
اللہ کافروں کی مثال دیتا ہے نوح کی عورت اور لوط کی عورت، وہ ہمارے بندوں میں دو سزا وارِ (لائق) قرب بندوں کے نکاح میں تمہیں پھر انہوں نے ان سے دغا کی تو وہ اللہ کے سامنے انہیں کچھ کام نہ آئے اور فرما دیا گیا کے تم دونوں عورتیں جہنم میں جاؤ جانے والوں کے ساتھ
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ کافروں کیلئے نوح(ع) اور لوط(ع) کی بیویوں کی مثال بیان کرتا ہے جو دونوں ہمارے بندوں میں سے دو نیک بندوں کی زوجیت میں تھیں پس انہوں نے ان کے ساتھ خیانت (غداری) کی تو وہ دونوں نیک بندے اللہ کے مقابلہ میں انہیں کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکے اور ان دونوں (بیویوں) سے کہا گیا کہ تم بھی دوزخ میں داخل ہو جاؤ اور داخل ہو نے والوں کے ساتھ۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ نے ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی مثال بیان کی، وہ ہمارے بندوں میں سے دو نیک بندوں کے نکاح میں تھیں، پھر انھوں نے ان دونوں کی خیانت کی تو وہ اللہ سے (بچانے میں) ان کے کچھ کام نہ آئے اور کہہ دیا گیا کہ داخل ہونے والوں کے ساتھ تم دونوں آگ میں داخل ہو جاؤ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تحفظ قانون کے لئے حکم جہاد ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ’ کافروں سے جہاد کر ہتھیاروں کے ساتھ اور منافقوں سے جہاد کر حدود اللہ جاری کرنے کے ساتھ، ان پر دنیا میں سختی کرو، آخرت میں بھی ان کا ٹھکانا جہنم ہے جو بدترین باز گشت ہے ‘۔ پھر مثال دے کر سمجھایا کہ ’ کافروں کا مسلمانوں سے ملنا جلنا، خلط ملط رہنا انہیں ان کے کفر کے باوجود اللہ کے ہاں کچھ نفع نہیں دے سکتا، دیکھو دو پیغمبروں کی عورتیں نوح علیہ السلام اور لوط علیہ السلام کی جو ہر وقت ان نبیوں کی صحبت میں رہنے والی اور دن رات ساتھ اٹھنے بیٹھنے والی اور ساتھ ہی کھانے پینے بلکہ سونے جاگنے والی تھیں، لیکن چونکہ ایمان میں ان کی ساتھی نہ تھیں اور اپنے کفر پر قائم تھیں، پس پیغمبروں کی آٹھ پہر کی صحبت انہیں کچھ کام نہ آئی، انبیاء اللہ علیہم السلام انہیں آخروی نفع نہ پہنچا سکے اور نہ آخروی نقصان سے بچا سکے، بلکہ ان عورتوں کو بھی دوزخیوں کے ساتھ جہنم میں جانے کو کہہ دیا گیا ‘۔ یہ یاد رہے کہ خیانت کرنے سے مراد بدکاری نہیں، انبیاء علیہم السلام کی حرمت و عصمت اس سے بہت اعلیٰ اور بالا ہے کہ ان کی گھر والیاں فاحشہ ہوں، ہم اس کا پورا بیان سورۃ النور کی تفسیر میں کر چکے ہیں، بلکہ یہاں مراد «خیانت فی الدین» ہے، یعنی دین میں اپنے خاوندوں کی خیانت کی ان کا ساتھ نہ دیا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ان کی خیانت زنا کاری نہ تھی بلکہ یہ تھی کہ نوح علیہ السلام کی بیوی تو لوگوں سے کہا کرتی تھی کہ یہ مجنوں ہیں اور لوط علیہ السلام کی بیوی جو مہمان لوط کے ہاں آتے تو کافروں کو خبر کر دیتی تھی۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:169/28:ضعیف] یہ دونوں بد دین تھیں نوح علیہ السلام کی راز داری اور پوشیدہ طور پر ایمان لانے والوں کے نام کافروں پر ظاہر کر دیا کرتی تھی، اسی طرح لوط علیہ السلام کی بیوی بھی اپنے خاوند اللہ کے رسول علیہ السلام کی مخالف تھی اور جو لوگ آپ کے ہاں مہمان بن کر ٹھہرتے یہ جا کر اپنی کافر قوم کو خبر کر دیتی جنہیں بدعمل کی عادت تھی، بلکہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”کسی پیغمبر کی کسی عورت نے کبھی بدکاری نہیں کی۔“ اسی طرح عکرمہ، سعید بن جبیر، ضحاک رحمہم اللہ وغیرہ سے بھی مروی ہے، اس سے استدلال کر کے بعض علماء نے کہا ہے کہ وہ جو عام لوگوں میں مشہور ہے کہ حدیث میں ہے ”جو شخص کسی ایسے کے ساتھ کھائے جو بخشا ہوا ہو اسے بھی بخش دیا جاتا ہے“، یہ حدیث بالکل ضعیف ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ حدیث محض بے اصل ہے۔ ہاں ایک بزرگ سے مروی ہے کہ انہوں نے خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی اور پوچھا کہ کیا آپ نے یہ حدیث ارشاد فرمائی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، لیکن اب میں کہتا ہوں۔“ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:315]
10۔ 1 مثل کا مطلب ہے کسی ایسی حالت کا بیان کرنا جس میں ندرت و غرابت ہوتا کہ اس کے ذریعے سے ایک دوسری حالت کا تعارف ہوجائے جو ندرت و غرابت میں اس کے مماثل ہو مطلب یہ ہوا کہ ان کافروں کے حال کے لیے اللہ نے ایک مثال بیان فرمائی ہے جو نوح اور لوط (علیہما السلام) کی بیوی کی ہے۔ 10۔ 2 یہاں خیانت سے مراد ہے کہ یہ اپنے خاوندوں پر ایمان نہیں لائیں نفاق میں مبتلا رہیں اور ان کی ہمدردیاں اپنی کافر قوموں کے ساتھ رہیں چناچہ نوح ؑ کی بیوی، حضرت نوح ؑ کی بابت لوگوں سے کہتی کہ یہ مجنون ہے اور لوط ؑ کی بیوی اپنی قوم کو گھر میں آنے والے مہمانوں کی اطلاع پہنچاتی تھی بعض کہتے ہیں کہ یہ دونوں اپنی قوم کے لوگوں میں اپنے خاوندوں کی چغلیاں کھاتی تھیں۔ 10۔ 3 یعنی نوح اور لوط (علیہما السلام) دونوں، باوجود اس بات کے کہ وہ اللہ کے پیغمبر تھے، جو اللہ کے مقرب ترین بندوں میں سے ہوتے ہیں، اپنی بیویوں کو اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکے 10۔ 4 یہ انہیں قیامت والے دن کہا جائے گا یا موت کے وقت انہیں کہا گیا کافروں کی یہ مثال بطور خاص یہاں ذکر کرنے سے مقصود ازواج مظہرات کو تنبیہ کرنا ہے کہ وہ بیشک اس رسول کے حرم کی زینت ہیں جو تمام مخلوق میں سب سے بہتر ہے لیکن انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ اگر انہوں نے رسول کی مخالفت کی یا انہیں تکلیف پہنچائی تو وہ بھی اللہ کی گرفت میں آسکتی ہیں اور اگر ایسا ہوگیا تو پھر کوئی ان کو بچانے والا نہیں ہوگا۔
(آیت 10) ➊ { ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّ امْرَاَتَ لُوْطٍ …:} کفار اور منافقین کے ساتھ جہاد کے حکم کے بعد کفر کی نحوست اور ایمان کی برکت بیان فرمائی کہ قیامت کے دن کافر کو کسی مسلمان کے ساتھ کسی طرح کی قرابت کام نہیں آئے گی، حتیٰ کہ اگر پیغمبر کی بیوی کافر ہے تو وہ پیغمبر اسے بھی جہنم میں جانے سے نہیں بچا سکے گا۔ اس سے پہلے قرآن مجید میں نوح علیہ السلام کے بیٹے اور ابراہیم علیہ السلام کے والد کی صورت میں نسبی قرابت کی مثالیں گزر چکی ہیں۔ یہاں نوح علیہ السلام کی بیوی اور لوط علیہ السلام کی بیوی کو کافر لوگوں کی مثال کے طور پر ذکر فرمایا۔ بعض لوگوں نے کہا کہ یہ قصہ ازواج مطہرات کو سنایا گیا ہے، مگر یہ بات غلط اور بے دلیل ہے، کیونکہ اس آیت میں کافر عورتوں کا ذکر ہے جن کے کفر کی وجہ سے ان کے خاوند ان کے کچھ کام نہ آ سکے اور انھیں آگ میں داخل کر دیا گیا۔ امہات المومنین کو ان پر کیسے قیاس کیا جا سکتا ہے جن کے ایمان، تقویٰ اور پاکیزگی کی شہادت قرآن مجید نے دی ہے!؟ حقیقت یہ ہے کہ ازواج مطہرات کا قصہ اوپر ختم ہو چکا ہے اور اس آیت کے مضمون کا تعلق {” يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ “} کے ساتھ ہے، کیونکہ ایمان والوں کا اپنے ایمان والے قرابت داروں کو فائدہ پہنچانا قرآن مجید (طور: ۲۱) اور احادیثِ شفاعت میں ثابت ہے۔ ➋ کتب تفاسیر میں نوح اور لوط علیھما السلام کی ان بیویوں کے نام مختلف آئے ہیں، مگر صحیح سند سے کوئی بھی ثابت نہیں۔ ➌ { فَخَانَتٰهُمَا:} اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں بتایا کہ وہ خیانت کیا تھی اور نہ ہی کسی صحیح طریق سے اس خیانت کا ذکر آیا ہے۔ اگر اس کی ضرورت ہوتی تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور ذکر فرما دیتے، اسے مبہم رکھنے میں یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ بندہ ہر قسم کی خیانت سے ڈرتا رہے۔
اور اہل ایمان کے معاملہ میں اللہ فرعون کی بیوی کی مثال پیش کرتا ہے جبکہ اس نے دعا کی "اے میرے رب، میرے لیے اپنے ہاں جنت میں ایک گھر بنا دے اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے بچا لے اور ظالم قوم سے مجھ کو نجات دے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لیے فرعون کی بیوی کی مثال بیان فرمائی جبکہ اس نے دعا کی کہ اے میرے رب! میرے لیے اپنے پاس جنت میں مکان بنا اور مجھے فرعون سے اور اس کے عمل سے بچا اور مجھے ﻇالم لوگوں سے خلاصی دے
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ مسلمانو ں کی مثال بیان فر ماتا ہے فرعون کی بی بی جب اس نے عرض کی، اے میرے رب! میرے لیے اپنے پاس جنت میں گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے کام سے نجات دے اور مجھے ظالم لوگوں سے نجات بخش
علامہ محمد حسین نجفی
اوراللہ اہلِ ایمان کے لئے فرعون کی بیوی (آسیہ(ع)) کی مثال پیش کرتا ہے جبکہ اس نے کہا اے میرے پروردگار! میرے لئے جنت میں ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے (کافرانہ) عمل سے نجات دے اور مجھے ظالم قوم سے نجات دے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ نے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے فرعون کی بیوی کی مثال بیان کی، جب اس نے کہا اے میرے رب! میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے بچالے اور مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سعادت مند آسیہ (فرعون کی بیوی) ٭٭
یہاں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لیے مثال بیان فرما کر ارشاد فرماتا ہے کہ ’ اگر یہ اپنی ضرورت پر کافروں سے خلط ملط ہوں تو انہیں کچھ نقصان نہ ہو گا ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «لَّا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّـهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَن تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً» ۱؎ [3-آل عمران:28] الخ ’ ایمانداروں کو چاہیئے کہ مسلمانوں کے سوا اوروں سے دوستیاں نہ کریں، جو ایسا کرے گا وہ اللہ کی طرف سے کسی بھلائی میں نہیں، ہاں اگر بطور بچاؤ اور دفع الوقتی کے ہو تو اور بات ہے ‘۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”روئے زمین کے تمام تر لوگوں میں سب سے زیادہ سرکش فرعون تھا لیکن اس کے کفر نے بھی اس کی بیوی کو کچھ نقصان نہ پہنچایا اس لیے کہ وہ اپنے زبردست ایمان پر پوری طرح قائم تھیں اور رہیں۔ جان لو کہ اللہ تعالیٰ عادل حاکم ہے وہ ایک گناہ پر دوسرے کو نہیں پکڑتا۔“
سلمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”فرعون اس نیک بخت بیوی کو طرح طرح سے ستاتا تھا، سخت گرمیوں میں انہیں دھوپ میں کھڑا کر دیتا لیکن پروردگار اپنے فرشتوں کے پروں کا سایہ ان پر کر دیتا اور انہیں گرمی کی تکلیف سے بچا لیتا بلکہ ان کے جنتی مکان کو دکھا دیتا جس سے ان کی روح کی تازگی اور ایمان کی زیادتی ہو جاتی، فرعون اور موسیٰ علیہ السلام کی بابت یہ دریافت کرتی رہتی تھیں کہ کون غالب رہا تو ہر وقت یہی سنتیں کہ موسیٰ علیہ السلام غالب رہے، بس یہی ان کے ایمان کا باعث بنا اور یہ پکار اٹھیں کہ میں موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کے رب پر ایمان لائی۔ فرعون کو جب یہ معلوم ہوا تو اس نے کہا کہ جو بڑی سے بڑی پتھر کی چٹان تمہیں ملے اسے اٹھا لاؤ اسے چت لٹاؤ اور اسے کہو کہ اپنے اس عقیدے سے باز آئے اگر باز آ جائے تو میری بیوی ہے عزت و حرمت کے ساتھ واپس لاؤ اور اگر نہ مانے تو وہ چٹان اس پر گرا دو اور اس کا قیمہ قیمہ کر ڈالو، جب یہ لوگ پتھر لائے انہیں لے گئے لٹایا اور پتھر ان پر گرانے کے لیے اٹھایا تو انہوں نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی پروردگار نے حجاب ہٹا دیئے اور جنت کو اور وہاں جو مکان ان کے لیے بنایا گیا تھا اسے انہوں نے اپنی آنکھوں دیکھ لیا اور اسی میں ان کی روح پرواز کر گئی جس وقت پتھر پھینکا گیا اس وقت ان میں روح تھی ہی نہیں، اپنی شہادت کے وقت دعا مانگتی ہیں کہ ”اللہ! جنت میں اپنے قریب کی جگہ مجھے عنایت فرما“، اس دعا کی اس باریکی پر بھی نگاہ ڈالئے کہ پہلے اللہ کا پڑوس مانگا جا رہا ہے پھر گھر کی درخواست کی جا رہی ہے۔“ اس واقعہ کے بیان میں مرفوع حدیث بھی وارد ہوئی ہے۔ [طبرانی:4379:ضعیف]
پھر دعا کرتی ہیں کہ ”مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے میں اس کی کفریہ حرکتوں سے بیزار ہوں، مجھے اس ظالم قوم سے عافیت میں رکھ“، ان بیوی صاحبہ کا نام آسیہ رضی اللہ عنہا بنت مزاحم تھا۔ ان کے ایمان لانے کا واقعہ ابوالعالیہ رحمہ اللہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ ”فرعون کے داروغہ کی عورت کا ایمان ان کے ایمان کا باعث بنا، وہ ایک روز فرعون کی لڑکی کا سر گوندھ رہی تھی، اچانک کنگھی ہاتھ سے گر گئی اور ان کے منہ سے نکل گیا کہ کفار برباد ہوں اس پر فرعون کی لڑکی نے پوچھا کہ کیا میرے باپ کے سوا تو کسی اور کو اپنا رب مانتی ہے؟ اس نے کہا: میرا اور تیرے باپ کا اور ہر چیز کا رب اللہ تعالیٰ ہے، اس نے غصہ میں آ کر انہیں خوب مارا پیٹا اور اپنے باپ کو اس کی خبر دی، فرعون نے انہیں بلا کر خود پوچھا کہ کیا تم میرے سوا کسی اور کی عبادت کرتی ہو؟ جواب دیا کہ ہاں میرا اور تیرا اور تمام مخلوق کا رب اللہ ہے، میں اسی کی عبادت کرتی ہوں، فرعون نے حکم دیا اور انہیں چت لٹا کر ان کے ہاتھ پیروں پر میخیں گڑوا دیں اور سانپ چھوڑ دیئے جو انہیں کاٹتے رہیں، پھر ایک دن آیا اور کہا: اب تیرے خیالات درست ہوئے؟ وہاں سے جواب ملا کہ میرا اور تیرا اور تمام مخلوق کا رب اللہ ہی ہے، فرعون نے کہا: اب تیرے سامنے میں تیرے لڑکے کو ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا ورنہ اب بھی میرا کہا مان لے اور اس دین سے باز آ جا، انہوں نے جواب دیا کہ جو کچھ تو کر سکتا ہو کر ڈال، اس ظالم نے ان کے لڑکے کو منگوایا اور ان کے سامنے اسے مار ڈالا، جب اس بچہ کی روح نکلی تو اس نے کہا: اے ماں! خوش ہو جا، تیرے لیے اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے ثواب تیار کر رکھے ہیں اور فلاں فلاں نعمتیں تجھے ملیں گی۔ انہوں نے اس روح فرسا سانحہ کو بچشم خود دیکھا لیکن صبر کیا اور راضی بہ قضاء ہو کر بیٹھی رہیں، فرعون نے انہیں پھر اسی طرح باندھ کر ڈلوا دیا اور سانپ چھوڑ دیئے پھر ایک دن آیا اور اپنی بات دہرائی بیوی صاحبہ نے پھر نہایت صبر و استقلال سے وہی جواب دیا اس نے پھر وہی دھمکی دی اور ان کے دوسرے بچے کو بھی ان کے سامنے ہی قتل کرا دیا۔
اس کی روح نے بھی اسی طرح اپنی والدہ کو خوشخبری دی اور صبر کی تلقین کی، فرعون کی بیوی صاحبہ نے بڑے بچہ کی روح کی خوشخبری سنی تھی، اب اس چھوٹے بچے کی روح کی بھی خوشخبری سنی اور ایمان لے آئیں، ادھر ان بیوی صاحبہ کی روح اللہ تعالیٰ نے قبض کر لی اور ان کی منزل و مرتبہ جو اللہ تعالیٰ کے ہاں تھا وہ حجاب ہٹا کر فرعون کی بیوی کو دکھا دیا گیا۔ یہ اپنے ایمان و یقین میں بہت بڑھ گئیں یہاں تک کہ فرعون کو بھی ان کے ایمان کی خبر ہو گئی، اس نے ایک روز اپنے درباریوں سے کہا تمہیں کچھ میری بیوی کی خبر ہے؟ تم اسے کیا جانتے ہو؟ سب نے بڑی تعریف کی اور ان کی بھلائیاں بیان کیں فرعون نے کہا: تمہیں نہیں معلوم وہ بھی میرے سوا دوسرے کو اللہ مانتی ہے، پھر مشورہ ہوا کہ انہیں قتل کر دیا جائے، چنانچہ میخیں گاڑی گئیں اور ان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر ڈال دیا گیا، اس وقت آسیہ علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کی کہ ”پروردگار میرے لیے اپنے پاس جنت میں مکان بنا“، اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور حجاب ہٹا کر انہیں ان کا جنتی درجہ دکھا دیا جس پر یہ ہنسنے لگیں، ٹھیک اسی وقت فرعون آ گیا اور انہیں ہنستا ہوا دیکھ کر کہنے لگا، لوگو! تمہیں تعجب نہیں معلوم ہوتا کہ اتنی سخت سزا میں یہ مبتلا ہے اور پھر ہنس رہی ہے یقیناً اس کا دماغ ٹھکانے نہیں، الغرض انہی عذابوں میں یہ بھی شہید ہوئیں“ «رضی اللہ عنہا» ۔
11۔ 1 یعنی ان کی ترغیب ثبات قدمی، استقامت فی الدین اور شدائد میں صبر کے لئے۔ نیز یہ بتلانے کے لئے کہ کفر کی صولت و شوکت، ایمان والوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی، جیسے فرعون کی بیوی ہے جو اپنے وقت کے سب سے بڑے کافر کے تحت تھی۔ لیکن وہ اپنی بیوی کو ایمان سے نہیں روک سکا۔
(آیت 11) ➊ {وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ:} یہ ایمان کی برکت کی مثال ہے کہ ”ربِ اعلیٰ“ ہونے کا دعویٰ کرنے والے ”کافرِ اعظم“ کی بیوی جب ایمان لے آئی تو خاوند کی فرعونیت نہ اسے ایمان لانے سے روک سکی اور نہ ہی آخرت کے معاملے میں اس کا کوئی نقصان کر سکی۔ اس عظیم خاتون کا نام آسیہ ہے، وہ موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئی تو فرعون نے ایک طرف اسے عالی شان محلات اور ہر قسم کی دنیوی آسائشوں کا لالچ دیا اور دوسری طرف ایمان سے باز نہ آنے پر سب کچھ چھین لیا اور اسے بے پناہ اذیتیں دینے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اس پر اس نے اللہ تعالیٰ سے فرعون کے محلات اور آسائشوں کے بدلے میں اپنے پڑوس میں جنت کے اندر گھر عطا کرنے اور فرعون اور اس کے مشرکانہ اور ظالمانہ کاموں سے اور اس کی ظالم قوم سے نجات عطا کرنے کی دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی دعا قبول فرما کر اس کی روح قبض کر لی اور اس نے جو مانگا تھا عطا فرما دیا۔ ابن جُزَیّ صاحب التسہیل لکھتے ہیں: {” وَرُوِيَ فِيْ قَصَصِهَا غَيْرُ هٰذَا مِمَّا يَطُوْلُ وَهُوَ غَيْرُ صَحِيْحٍ“} ”اس کے قصے میں اس کے علاوہ کئی طویل چیزیں ذکر کی گئی ہیں مگر وہ ثابت نہیں ہیں۔ “ ➋ { اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِيْ عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ:} اہلِ علم فرماتے ہیں کہ آسیہ رضی اللہ عنھا نے جنت میں گھر بنانے کی دعا سے پہلے سب سے بہتر ہمسائیگی ملنے کی دعا کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اچھی جگہ اچھے مکان کی دعا سے پہلے اچھی ہمسائیگی کی دعا کرنی چاہیے اور آخرت میں وہ جنت الفردوس ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللّٰهَ فَاسْأَلُوْهُ الْفِرْدَوْسَ، فَإِنَّهُ أَوْسَطُ الْجَنَّةِ وَ أَعْلَی الْجَنَّةِ، أُرَاهُ قَالَ فَوْقَهُ عَرْشُ الرَّحْمٰنِ، وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ ] [ بخاري، الجہاد، باب درجات المجاہدین في سبیل اللّٰہ: ۲۷۹۰ ] ”جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو اس سے فردوس کا سوال کرو، کیونکہ وہ جنت کا سب سے افضل اور سب سے بلند حصہ ہے اور اس کے اوپر رحمان کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔“ ➌ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ كَمَلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيْرٌ، وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ آسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ، وَمَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَ إِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَی النِّسَاءِكَفَضْلِ الثَّرِيْدِ عَلٰی سَائِرِ الطَّعَامِ ] [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «وضرب اللّٰہ مثلا…» : ۳۴۱۱ ] ”مردوں میں بہت سے کامل ہوئے ہیں، مگر عورتوں میں سے آسیہ زوجۂ فرعون اور مریم بنت عمران کے سوا کوئی کامل نہیں ہوئی اور عائشہ کی فضیلت عورتوں پر ایسے ہے جیسے ثرید کی فضیلت تمام کھانوں پر ہے۔“
اور عمران کی بیٹی مریمؑ کی مثال دیتا ہے جس نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی تھی، پھر ہم نے اس کے اندر اپنی طرف سے روح پھونک دی، اور اس نے اپنے رب کے ارشادات اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ اطاعت گزار لوگوں میں سے تھی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور (مثال بیان فرمائی) مریم بنت عمران کی جس نے اپنے ناموس کی حفاﻇت کی پھر ہم نے اپنی طرف سے اس میں جان پھونک دی اور (مریم) اس نے اپنے رب کی باتوں اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور عبادت گزاروں میں سے تھی
احمد رضا خان بریلوی
اور عمران کی بیٹی مریم جس نے اپنی پارسائی کی حفاظت کی تو ہم نے اس میں اپنی طرف کی روح پھونکی اور اس نے اپنے رب کی باتوں اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور فرمانبرداروں میں ہوئی،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (دوسری) مریم(ع) بنت عمران کی مثال بیان کرتا ہے جس نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی تو ہم نے اس میں اپنی ایک (خاص) روح پھونک دی اور اس نے اپنے پروردگار کی باتوں (پیاموں) اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ فرمانبرداروں میں سے تھی۔
عبدالسلام بن محمد
اور عمران کی بیٹی مریم کی (مثال دی ہے) جس نے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی تو ہم نے اس میں اپنی ایک روح پھونک دی اور اس نے اپنے رب کی باتوں کی اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ اطاعت کرنے والوں میں سے تھی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مریم علیہا السلام ٭٭
پھر دوسری مثال مریم بنت عمران علیہا السلام کی بیان کی جاتی ہے کہ ’ وہ نہایت پاک دامن تھیں، ہم نے اپنے فرشتے جبرائیل علیہ السلام کی معرفت ان میں روح پھونکی ‘۔ جبرائیل علیہ السلام کو انسانی صورت میں اللہ تعالیٰ نے بھیجا تھا اور حکم دیا تھا کہ وہ اپنے منہ سے ان کے کرتے کے گریبان میں پھونک مار دیں، اسی سے حمل رہ گیا اور عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔ پس فرمان ہے کہ ’ میں نے اس میں اپنی روح پھونکی ‘، پھر مریم علیہ السلام کی اور تعریف ہو رہی ہے کہ وہ ’ اپنے رب کی تقدیر اور شریعت کو سچ ماننے والی تھیں اور پوری فرمانبردار تھیں ‘۔ مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر چار لکیریں کھینچیں اور صحابہ رضی اللہ عنہم سے دریافت کیا کہ جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟، انہوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی کو پورا علم ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو تمام جنتی عورتوں میں سے افضل خدیجہ بنت خویلد اور فاطمہ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اور مریم بنت عمران اور آسیہ بنت مزاحم ہیں جو فرعون کی بیوی تھیں“ }۔ [مسند احمد:293/1:صحیح]
صحیح بخاری، صحیح مسلم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردوں میں سے تو صاحب کمال بہت سارے ہوئے ہیں، لیکن عورتوں میں سے کامل عورتیں صرف آسیہ ہیں جو فرعون کی بیوی تھیں اور مریم بنت عمران ہیں اور خدیجہ بنت خویلد ہیں اور عائشہ کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہی ہے جیسے سالن میں چوری ہوئی روٹی کی فضیلت باقی کھانوں پر“ }۔ [صحیح بخاری:3769] ہم نے اپنی کتاب البدایہ والنہایہ میں عیسیٰ علیہ السلام کے قصے کے بیان کے موقعہ پر اس حدیث کی سندیں اور الفاظ بیان کر دیئے ہیں۔ «فالحمداللہ» اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اسی سورت کی آیت کے الفاظ «سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا» ۱؎ [66-التحریم:5] کی تفسیر کے موقعہ پر وہ حدیث بھی ہم بیان کر چکے ہیں جس میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جنتی بیویوں میں ایک آسیہ رضی اللہ عنہا بنت مزاحم بھی ہیں }۔
الحمداللہ سورۃ التحریم کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کے فضل و کرم اور لطف و رحم سے اٹھائیسویں پارے «قد سمع اللہ» کی تفسیر ختم ہوئی، پروردگار ہمیں اپنے کلام کی سچی سمجھ عطا فرمائے اور عمل کی توفیق دے۔ باری تعالیٰ تو اسے قبول فرما اور میرے لیے باقیات صالحات میں کر لے «آمین!» ۔
12۔ 1 حضرت مریم (علیہا السلام) کے ذکر سے مقصود یہ بیان کرنا ہے کہ باوجود اس بات کے کہ وہ ایک بگڑی ہوئی قوم کے درمیان رہتی تھی، لیکن اللہ نے انہیں دنیا و آخرت میں شرف و کرامت سے سرفراز فرمایا اور تمام جہان کی عورتوں پر انہیں فضیلت عطا فرمائی۔ 12۔ 2 کلمات رب سے مراد شرائع الہی ہیں۔ 12۔ 3 یعنی ایسے لوگوں میں سے یا خاندان میں سے تھیں جو فرماں بردار عبادت گزار اور صلاح واطاعت میں ممتاز تھا حدیث میں ہے جنتی عورتوں میں سب سے افضل حضرت خدیجہ، حضرت فاطمہ، حضرت مریم اور فرعون کی بیوی آسیہ ہیں ؓ عنھن۔ (مسند احمد) ایک دوسری حدیث میں فرمایا مردوں میں تو کامل بہت ہوئے ہیں مگر عورتوں میں کامل صرف فرعون کی بیوی آسیہ مریم بنت عمران اور خدیجہ بنت خویلد ؓ عنھن ہیں اور عائشہ ؓ کی فضلیت عورتوں پر ایسے ہے جیسے ثرید کو تمام کھانوں پر فضلیت حاصل ہے۔ صحیح بخاری۔
(آیت 12){ وَ مَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِيْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا …:} یعنی اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لیے مثال کے طور پر فرعون کی بیوی آسیہ اور مریم بنت عمران کا بیان فرمایا ہے کہ دونوں اعلیٰ درجے کے ایمان والی تھیں۔ قرآن مجید میں مریم بنت عمران کا نام صرف اس مقام پر نہیں بلکہ کئی جگہ آیا ہے اور یہ واحد خاتون ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے قرآن میں نام لیا ہے۔ آیت کے اکثر الفاظ کی تشریح سورۂ انبیاء (۹۱) میں اور دوسرے الفاط کی تشریح مختلف آیات کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔