ان میں وہ تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے، خوب خوب فواکہ اور مشروبات طلب کر رہے ہوں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
جن میں بافراغت تکیے لگائے بیٹھے ہوئے طرح طرح کے میوے اور قسم قسم کی شرابوں کی فرمائشیں کر رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
ان میں تکیہ لگائے ان میں بہت سے میوے اور شراب مانگتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ ان میں تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے اور وہ وہاں بہت سے میوے اور مشروبات طلب کرتے ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
ان میں تکیے لگا ئے ہوئے ہوں گے، وہ ان میں بہت سے پھل اور مشروب منگوارہے ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صالحین کے لئے اجر ٭٭
نیکوکار تقویٰ والوں کے لیے دار آخرت میں کتنا پاک بدلہ اور کیسی پیاری جگہ ہے؟ ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کے دروازے ان کے لیے بند نہیں بلکہ کھلے ہوئے ہیں۔ کھلوانے کی بھی زحمت نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنت میں ایک محل عدن ہے جس کے آس پاس برج ہیں جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں اور ہر دروازے پر پانچ ہزار چادریں ہیں ان میں صرف نبی یا صدیق یا شہید یا عادل بادشاہ رہیں گے۔( [المیزان:4602] )
اور یہ تو بہت سی بالکل صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ اپنے تختوں پر تکئے لگائے بے فکری سے چار زانو با آرام بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ اور جس قوم کو جس میوے شراب کا جی چاہے حکم کے ساتھ خدام باسلیقہ حاضر کر دیں گے۔ ان کے پاس ان کی بیویاں ہوں گی جو عفیفہ، پاک دامن، نیچی نگاہوں والی اور ان سے محبت و عشق رکھنے والی ہوں گی۔ جن کی نگاہیں کبھی دوسرے کی طرف نہ اٹھی ہیں نہ اٹھیں نہ اٹھ سکیں۔ ان کی ہم عمر ہوں گی ان کی عمروں کے لائق ہوں گی۔ ان صفات والی جنت کا وعدہ اللہ سے ڈرتے رہنے والے بندوں سے ہے، قیامت کے دن یہ اس کے وارث و مالک ہوں گے جبکہ قبروں سے اٹھ کر آگ سے نجات پا کر حساب سے فارغ ہو کر یہاں آ کر بہ آرام بسیں گے۔ یہ ہے ہمارے انعام جس میں نہ کبھی کمی آئے گی نہ یہ منقطع ہو گا۔ جیسے فرمایا «مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ» [ 16- النحل: 96 ] تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جاتا ہے اور اللہ کے پاس جو ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں ہے اور جگہ غیر ممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں غیرجذوذ ہے اور جگہ غیرممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی اور گھاٹا آئے نہ کبھی وہ ختم اور فنا ہو۔ جیسے ارشاد ہے «اُكُلُهَا دَاۗىِٕمٌ وَّظِلُّهَا ۭ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِيْنَ اتَّقَوْاڰ وَّعُقْبَى الْكٰفِرِيْنَ النَّارُ» [ 13- الرعد: 35 ] اس کے میوے اور کھانے پینے اور اس کے سائے دائمی ہیں۔ پرہیزگاروں کا انجام یہی ہے اور کافروں کا انجام جہنم ہے۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔
اور ان کے پاس وہ بیبیاں ہیں کہ اپنے شوہر کے سوا اور کی طرف آنکھ نہیں اٹھاتیں، ایک عمر کی
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان کے پاس نیچی نگاہوں والی ہم عمر بیویاں ہوں گی۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان کے پاس نگاہ نیچے رکھنے والی ہم عمر عورتیں ہوں گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صالحین کے لئے اجر ٭٭
نیکوکار تقویٰ والوں کے لیے دار آخرت میں کتنا پاک بدلہ اور کیسی پیاری جگہ ہے؟ ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کے دروازے ان کے لیے بند نہیں بلکہ کھلے ہوئے ہیں۔ کھلوانے کی بھی زحمت نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنت میں ایک محل عدن ہے جس کے آس پاس برج ہیں جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں اور ہر دروازے پر پانچ ہزار چادریں ہیں ان میں صرف نبی یا صدیق یا شہید یا عادل بادشاہ رہیں گے۔( [المیزان:4602] )
اور یہ تو بہت سی بالکل صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ اپنے تختوں پر تکئے لگائے بے فکری سے چار زانو با آرام بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ اور جس قوم کو جس میوے شراب کا جی چاہے حکم کے ساتھ خدام باسلیقہ حاضر کر دیں گے۔ ان کے پاس ان کی بیویاں ہوں گی جو عفیفہ، پاک دامن، نیچی نگاہوں والی اور ان سے محبت و عشق رکھنے والی ہوں گی۔ جن کی نگاہیں کبھی دوسرے کی طرف نہ اٹھی ہیں نہ اٹھیں نہ اٹھ سکیں۔ ان کی ہم عمر ہوں گی ان کی عمروں کے لائق ہوں گی۔ ان صفات والی جنت کا وعدہ اللہ سے ڈرتے رہنے والے بندوں سے ہے، قیامت کے دن یہ اس کے وارث و مالک ہوں گے جبکہ قبروں سے اٹھ کر آگ سے نجات پا کر حساب سے فارغ ہو کر یہاں آ کر بہ آرام بسیں گے۔ یہ ہے ہمارے انعام جس میں نہ کبھی کمی آئے گی نہ یہ منقطع ہو گا۔ جیسے فرمایا «مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ» [ 16- النحل: 96 ] تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جاتا ہے اور اللہ کے پاس جو ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں ہے اور جگہ غیر ممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں غیرجذوذ ہے اور جگہ غیرممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی اور گھاٹا آئے نہ کبھی وہ ختم اور فنا ہو۔ جیسے ارشاد ہے «اُكُلُهَا دَاۗىِٕمٌ وَّظِلُّهَا ۭ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِيْنَ اتَّقَوْاڰ وَّعُقْبَى الْكٰفِرِيْنَ النَّارُ» [ 13- الرعد: 35 ] اس کے میوے اور کھانے پینے اور اس کے سائے دائمی ہیں۔ پرہیزگاروں کا انجام یہی ہے اور کافروں کا انجام جہنم ہے۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔
52۔ 1 یعنی جن کی نگاہیں اپنے خاوندوں سے حد سے بڑھنے والی نہیں ہونگی۔ اَتْرَاب تِرْب کی جمع ہے، ہم عمر لا زوال حسن و جمال کی حامل (فتح القدیر)
(آیت 52تا54) {وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ …:} یعنی جن کی نظریں اپنے خاوندوں سے آگے بڑھنے والی نہیں ہوں گی۔ {” اَتْرَابٌ “ ”تِرْبٌ“} کی جمع ہے جو {”تُرَابٌ“} (مٹی) سے مشتق ہے، ہم عمر جو بچپن میں مل کر مٹی کے ساتھ کھیلتے رہے ہوں۔ یعنی وہ بیویاں خاوندوں کی ہم عمر اور ہم مزاج ہوں گی۔
یہ وہ چیزیں ہیں جنہیں حساب کے دن عطا کرنے کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ ہے جس کا وعده تم سے حساب کے دن کے لئے کیا جاتا تھا
احمد رضا خان بریلوی
یہ ہے وہ جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے حساب کے دن،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ وہ (نعمت) ہے جن کا حساب کے دن تمہیں عطا کرنے کا وعدہ کیا جاتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ ہے جس کا حساب کے دن کے لیے تم سے وعدہ کیا جاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صالحین کے لئے اجر ٭٭
نیکوکار تقویٰ والوں کے لیے دار آخرت میں کتنا پاک بدلہ اور کیسی پیاری جگہ ہے؟ ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کے دروازے ان کے لیے بند نہیں بلکہ کھلے ہوئے ہیں۔ کھلوانے کی بھی زحمت نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنت میں ایک محل عدن ہے جس کے آس پاس برج ہیں جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں اور ہر دروازے پر پانچ ہزار چادریں ہیں ان میں صرف نبی یا صدیق یا شہید یا عادل بادشاہ رہیں گے۔( [المیزان:4602] )
اور یہ تو بہت سی بالکل صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ اپنے تختوں پر تکئے لگائے بے فکری سے چار زانو با آرام بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ اور جس قوم کو جس میوے شراب کا جی چاہے حکم کے ساتھ خدام باسلیقہ حاضر کر دیں گے۔ ان کے پاس ان کی بیویاں ہوں گی جو عفیفہ، پاک دامن، نیچی نگاہوں والی اور ان سے محبت و عشق رکھنے والی ہوں گی۔ جن کی نگاہیں کبھی دوسرے کی طرف نہ اٹھی ہیں نہ اٹھیں نہ اٹھ سکیں۔ ان کی ہم عمر ہوں گی ان کی عمروں کے لائق ہوں گی۔ ان صفات والی جنت کا وعدہ اللہ سے ڈرتے رہنے والے بندوں سے ہے، قیامت کے دن یہ اس کے وارث و مالک ہوں گے جبکہ قبروں سے اٹھ کر آگ سے نجات پا کر حساب سے فارغ ہو کر یہاں آ کر بہ آرام بسیں گے۔ یہ ہے ہمارے انعام جس میں نہ کبھی کمی آئے گی نہ یہ منقطع ہو گا۔ جیسے فرمایا «مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ» [ 16- النحل: 96 ] تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جاتا ہے اور اللہ کے پاس جو ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں ہے اور جگہ غیر ممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں غیرجذوذ ہے اور جگہ غیرممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی اور گھاٹا آئے نہ کبھی وہ ختم اور فنا ہو۔ جیسے ارشاد ہے «اُكُلُهَا دَاۗىِٕمٌ وَّظِلُّهَا ۭ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِيْنَ اتَّقَوْاڰ وَّعُقْبَى الْكٰفِرِيْنَ النَّارُ» [ 13- الرعد: 35 ] اس کے میوے اور کھانے پینے اور اس کے سائے دائمی ہیں۔ پرہیزگاروں کا انجام یہی ہے اور کافروں کا انجام جہنم ہے۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔
بیشک روزیاں (خاص) ہمارا عطیہ ہیں جن کا کبھی خاتمہ ہی نہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک یہ ہمارا رزق ہے کہ کبھی ختم نہ ہوگا
علامہ محمد حسین نجفی
یہ ہمارا (خاص) رزق ہے جو ختم ہونے والا نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ یقینا یہ ہمارا رزق ہے، جس کے لیے کسی صورت ختم ہونا نہیں ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صالحین کے لئے اجر ٭٭
نیکوکار تقویٰ والوں کے لیے دار آخرت میں کتنا پاک بدلہ اور کیسی پیاری جگہ ہے؟ ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کے دروازے ان کے لیے بند نہیں بلکہ کھلے ہوئے ہیں۔ کھلوانے کی بھی زحمت نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنت میں ایک محل عدن ہے جس کے آس پاس برج ہیں جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں اور ہر دروازے پر پانچ ہزار چادریں ہیں ان میں صرف نبی یا صدیق یا شہید یا عادل بادشاہ رہیں گے۔( [المیزان:4602] )
اور یہ تو بہت سی بالکل صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ اپنے تختوں پر تکئے لگائے بے فکری سے چار زانو با آرام بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ اور جس قوم کو جس میوے شراب کا جی چاہے حکم کے ساتھ خدام باسلیقہ حاضر کر دیں گے۔ ان کے پاس ان کی بیویاں ہوں گی جو عفیفہ، پاک دامن، نیچی نگاہوں والی اور ان سے محبت و عشق رکھنے والی ہوں گی۔ جن کی نگاہیں کبھی دوسرے کی طرف نہ اٹھی ہیں نہ اٹھیں نہ اٹھ سکیں۔ ان کی ہم عمر ہوں گی ان کی عمروں کے لائق ہوں گی۔ ان صفات والی جنت کا وعدہ اللہ سے ڈرتے رہنے والے بندوں سے ہے، قیامت کے دن یہ اس کے وارث و مالک ہوں گے جبکہ قبروں سے اٹھ کر آگ سے نجات پا کر حساب سے فارغ ہو کر یہاں آ کر بہ آرام بسیں گے۔ یہ ہے ہمارے انعام جس میں نہ کبھی کمی آئے گی نہ یہ منقطع ہو گا۔ جیسے فرمایا «مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ» [ 16- النحل: 96 ] تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جاتا ہے اور اللہ کے پاس جو ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں ہے اور جگہ غیر ممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں غیرجذوذ ہے اور جگہ غیرممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی اور گھاٹا آئے نہ کبھی وہ ختم اور فنا ہو۔ جیسے ارشاد ہے «اُكُلُهَا دَاۗىِٕمٌ وَّظِلُّهَا ۭ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِيْنَ اتَّقَوْاڰ وَّعُقْبَى الْكٰفِرِيْنَ النَّارُ» [ 13- الرعد: 35 ] اس کے میوے اور کھانے پینے اور اس کے سائے دائمی ہیں۔ پرہیزگاروں کا انجام یہی ہے اور کافروں کا انجام جہنم ہے۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔
54۔ 1 رزق، بمعنی عطیہ ہے اور ھٰذَا سے ہر قسم کی مذکور نعمتیں اور وہ اکرام و اعزاز مراد ہے جن سے اہل جنت بہرہ یاب ہوں گے۔ نفاد کے معنی خاتمے کے ہیں یہ نعمتیں بھی غیر فانی ہوں گی اور اعزازو اکرام بھی دائمی۔
یہ تو ہے متقیوں کا انجام اور سرکشوں کے لیے بدترین ٹھکانا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ تو ہوئی جزا، (یاد رکھو کہ) سرکشوں کے لئے بڑی بری جگہ ہے
احمد رضا خان بریلوی
ان کو تو یہ ہے اور بیشک سرکشوں کا برا ٹھکانا،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ بات تو ہو چکی (کہ پرہیزگاروں کا انجام یہ ہے) اور سرکش کا انجام بہت برا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ ہے (جزا) اور بلاشبہ سرکشوں کے لیے یقینا بد ترین ٹھکانا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اہل نار کے احوال ٭٭
اوپر نیکوں کا حال بیان کیا تو یہاں بروں کا حال بیان فرما رہا ہے جو اللہ کی نہیں مانتے تھے، نبی کی نافرمانی کرتے تھے ان کے لوٹنے کی جگہ بہت بری ہے اور وہ جہنم ہے جس میں یہ لوگ داخل ہوں گے اور چاروں طرف سے انہیں آتش دوزخ گھیر لے گی۔ یہ نہایت ہی برا بچھونا ہے۔
55۔ 1 یعنی مذکورہ اہل خیر کا معاملہ ہوا۔ اس کے بعد اہل شر کا انجام بیان کیا جا رہا ہے۔ 55۔ 2 طَاغِیْنَ جنہوں نے اللہ کے احکام سے سرکشی اور رسولوں کو جھٹلایا یَصْلُوْنَ کے معنی ہیں یَدْخُلُون داخل ہونگے۔
(آیت 56،55){ هٰذَا وَ اِنَّ لِلطّٰغِيْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍ …: ” هٰذَا “} یعنی یہ تو متقین کی جزا ہوئی، اب کفار کا انجام سنو جو اللہ کی حدود سے آگے بڑھنے والے اور اس کے احکام سے سرکشی کرنے والے ہیں کہ ان کے لیے ایک بدترین ٹھکانا ہے، جو جہنم ہے۔
جہنم جس میں وہ جھلسے جائیں گے، بہت ہی بری قیام گاہ
مولانا محمد جوناگڑھی
دوزخ ہے جس میں وه جائیں گے (آه) کیا ہی برا بچھونا ہے
احمد رضا خان بریلوی
جہنم کہ اس میں جائیں گے تو کیا ہی برا بچھونا
علامہ محمد حسین نجفی
(یعنی) دوزخ جس میں داخل ہوں گے پس وہ بہت ہی برا بچھونا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
جہنم، وہ اس میں داخل ہوں گے، سو وہ برا بچھونا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اہل نار کے احوال ٭٭
اوپر نیکوں کا حال بیان کیا تو یہاں بروں کا حال بیان فرما رہا ہے جو اللہ کی نہیں مانتے تھے، نبی کی نافرمانی کرتے تھے ان کے لوٹنے کی جگہ بہت بری ہے اور وہ جہنم ہے جس میں یہ لوگ داخل ہوں گے اور چاروں طرف سے انہیں آتش دوزخ گھیر لے گی۔ یہ نہایت ہی برا بچھونا ہے۔
یہ ہے اُن کے لیے، پس وہ مزا چکھیں کھولتے ہوئے پانی اور پیپ لہو
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ ہے، پس اسے چکھیں، گرم پانی اور پیﭗ
احمد رضا خان بریلوی
ان کو یہ ہے تو اسے چکھیں کھولتا پانی اور پیپ
علامہ محمد حسین نجفی
یہ (حاضر ہے) کھولتا ہوا پانی اور پیپ پس چاہیے کہ وہ اسے چکھیں۔
عبدالسلام بن محمد
یہ ہے (سزا) سو وہ اسے چکھیں، کھولتا ہوا پانی اور پیپ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دوزخیوں کا جھگڑا ٭٭
حمیم اس پانی کو کہتے ہیں جس کی حرارت اور گرمی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ اور غساق کہتے ہیں اس ٹھنڈک کو جس کی سردی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ پس ایک طرف آگ کا گرم عذاب دوسری جانب ٹھنڈک سرد عذاب اور اسی طرح قسم قسم کے، جوڑ جوڑ کے عذاب، جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر ایک ڈول غساق کا دنیا میں بہایا جائے تو تمام اہل دنیا بدبودار ہو جائیں۔ [سنن ترمذي:2584،قال الشيخ الألباني:ضعیف] سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں غساق نامی جہنم میں ایک نہر ہے جس میں سانپ بچھو وغیرہ کا زہر جمع ہوتا ہے پھر وہ گرم ہو کر اونٹنے لگتا ہے اس میں جہنمیوں کو غوطے دیئے جائیں گے جس سے ان کا سارا گوشت پوست جھڑ جائے گا اور پنڈلیوں میں لٹک جائے گا۔ جسے وہ اس طرح گھسیٹتے پھریں گے جیسے کوئی شخص اپنا کپڑا گھسیٹ رہا ہو۔ [ ابن ابی حاتم ]
غرض سردی کا عذاب الگ ہو گا گرمی کا الگ ہو گا حمیم پینے کو زقوم کھانے کو کبھی آگ کے پہاڑوں پر چڑھایا جاتا ہے تو کبھی آگ کے گڑھوں میں دھکیلا جاتا ہے اللہ ہمیں بچائے۔ اب جہنمیوں کا جھگڑا ان کا تنازع اور ایک دوسرے کو برا کہنا بیان ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے «كُلَّمَادَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا» [ 7- الاعراف: 38 ] ہر گروہ دوسرے پر بجائے سلام کے لعنت بھیجے گا۔ ایک دوسرے کو جھٹلائے گا اور ایک دوسرے پر الزام رکھے گا۔ ایک جماعت جو پہلے جہنم میں جا چکی ہے وہ دوسری جماعت کو داروغہ جہنم کے ساتھ آتی ہوئی دیکھ کر کہے گی کہ یہ گروہ جو تمہارے ساتھ ہے انہیں مرحبا نہ ہو اس لیے کہ یہ بھی جہنمی گروہ ہے۔ وہ آنے والے ان سے کہیں گے کہ تمہارے لیے مرحبا ہو تم ہی تو تھے کہ ہمیں ان برے کاموں کی طرف بلاتے رہے جن کا انجام یہ ہوا۔ پس بری منزل ہے۔ پھر کہیں گے کہ اے باری تعالیٰ جس نے ہمارے لیے اس کی تقدیم کی تو اسے دوگنا عذاب کر۔ جیسے فرمان ہے «قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ» [ 7- الاعراف: 38 ] یعنی پچھلے پہلوں کے لیے کہیں گے کہ پروردگار انہوں نے ہمیں گمراہ کر دیا تو انہیں آگ کا دگنا عذاب کر۔ اللہ فرمائے گا ہر ایک کے لیے دگنا ہی ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ یعنی ہر ایک کے لیے ایسا عذاب ہے جس کی انتہا اسی کے لیے ہے۔ چونکہ کفار وہاں مومنوں کو نہ پائیں گے جنہیں اپنے خیال میں بہکا ہوا جانتے تھے تو اس میں ذکر کریں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ ہمیں مسلمان جہنم میں نظر نہیں آتے؟ مجاہد فرماتے ہیں کہ ابوجہل کہے گا کہ بلال عمار صھیب وغیرہ وغیرہ کہاں ہیں؟ وہ تو نظر ہی نہیں آتے غرض ہر کافر یہی کہے گا کہ وہ لوگ جنہیں دنیا میں ہم شریر گنتے تھے وہ آج یہاں نظر نہیں آتے۔ کیا ہماری ہی غلطی تھی کہ ہم انہیں دنیا میں مذاق اڑاتے تھے؟ لیکن نہیں ایسا تو نہ تھا وہ ہوں گے تو جہنم میں ہی لیکن کہیں ادھر ادھر ہوں گے ہماری نگاہ میں نہیں پڑتے۔ اسی وقت جنتیوں کی طرف سے ندا آئے گی کہ اے دوزخیو! ادھر دیکھو ہم نے تو اپنے رب کے وعدے کو حق پایا تم اپنی کہو کیا اللہ کے وعدے کے سچے نکلے؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں بالکل سچ نکلے اسی وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔ اسی کا بیان آیات قرآنیہ «وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۭقَالُوْا نَعَمْ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ» [ 7- الاعراف: 44 ] سے «وَلَا أَنتُمْ تَحْزَنُونَ» [ 7- الاعراف: 49 ] ہے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو خبر میں تمہیں دے رہا ہوں کہ جہنمی اسی طرح لڑیں جھگڑیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے یہ بالکل سچی واقع اور ٹھیک خبر ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
57۔ 1 یہ ہے پینے گرم پانی اور پیپ، اسے چکھو، گرم کھولتا ہو پانی، جو ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا، جہنمیوں کی کھالوں سے جو پیپ اور گندا لہو نکلے گا یا نہایت ٹھنڈا پانی، جس کا پینا نہایت مشکل ہوگا۔
(آیت 57) {هٰذَا فَلْيَذُوْقُوْهُ حَمِيْمٌ وَّ غَسَّاقٌ: ” هٰذَا “} یعنی یہ ہے عذاب، سو وہ اسے چکھیں۔ {” حَمِيْمٌ “} انتہائی گرم پانی۔ {” غَسَّاقٌ “ } جہنمیوں کے چمڑوں سے بہنے والی پیپ۔ (مفردات) {”غَسَقَ الْجُرْحُ } (ض، س) {غَسَقَانًا“} جب اس سے پیپ وغیرہ نکلے۔ قاموس اور لغت کی دوسری کتابوں میں {”غَسَّاقٌ“} کا معنی {”اَلْبَارِدُ وَ الْمُنْتِنُ“} لکھا ہے، نہایت ٹھنڈا اور بدبو دار۔ قرآن مجید میں دو مقامات پر یہ لفظ {” حَمِيْمٌ “} کے مقابلہ میں آیا ہے، ایک یہاں اور ایک سورۂ نبا (۲۵) میں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اس کا معنی شدید ٹھنڈا اور بدبودار کرنا زیادہ مناسب ہے، کیونکہ جہنم میں گرمی (آگ) کا عذاب بھی ہے اور سردی (زمہریر) کا بھی۔ ابن کثیر نے فرمایا {”اَلْحَمِيْمُ“} انتہا کو پہنچا ہوا گرم اور {”غَسَّاقٌ“ } ایسا ٹھنڈا جس کی ٹھنڈک برداشت نہ ہو سکے۔
اور اس کے علاوہ اسی قسم کی دوسری چیزیں بھی ہوں گی۔
عبدالسلام بن محمد
اور دوسری اس کی ہم شکل کئی قسمیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دوزخیوں کا جھگڑا ٭٭
حمیم اس پانی کو کہتے ہیں جس کی حرارت اور گرمی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ اور غساق کہتے ہیں اس ٹھنڈک کو جس کی سردی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ پس ایک طرف آگ کا گرم عذاب دوسری جانب ٹھنڈک سرد عذاب اور اسی طرح قسم قسم کے، جوڑ جوڑ کے عذاب، جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر ایک ڈول غساق کا دنیا میں بہایا جائے تو تمام اہل دنیا بدبودار ہو جائیں۔ [سنن ترمذي:2584،قال الشيخ الألباني:ضعیف] سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں غساق نامی جہنم میں ایک نہر ہے جس میں سانپ بچھو وغیرہ کا زہر جمع ہوتا ہے پھر وہ گرم ہو کر اونٹنے لگتا ہے اس میں جہنمیوں کو غوطے دیئے جائیں گے جس سے ان کا سارا گوشت پوست جھڑ جائے گا اور پنڈلیوں میں لٹک جائے گا۔ جسے وہ اس طرح گھسیٹتے پھریں گے جیسے کوئی شخص اپنا کپڑا گھسیٹ رہا ہو۔ [ ابن ابی حاتم ]
غرض سردی کا عذاب الگ ہو گا گرمی کا الگ ہو گا حمیم پینے کو زقوم کھانے کو کبھی آگ کے پہاڑوں پر چڑھایا جاتا ہے تو کبھی آگ کے گڑھوں میں دھکیلا جاتا ہے اللہ ہمیں بچائے۔ اب جہنمیوں کا جھگڑا ان کا تنازع اور ایک دوسرے کو برا کہنا بیان ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے «كُلَّمَادَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا» [ 7- الاعراف: 38 ] ہر گروہ دوسرے پر بجائے سلام کے لعنت بھیجے گا۔ ایک دوسرے کو جھٹلائے گا اور ایک دوسرے پر الزام رکھے گا۔ ایک جماعت جو پہلے جہنم میں جا چکی ہے وہ دوسری جماعت کو داروغہ جہنم کے ساتھ آتی ہوئی دیکھ کر کہے گی کہ یہ گروہ جو تمہارے ساتھ ہے انہیں مرحبا نہ ہو اس لیے کہ یہ بھی جہنمی گروہ ہے۔ وہ آنے والے ان سے کہیں گے کہ تمہارے لیے مرحبا ہو تم ہی تو تھے کہ ہمیں ان برے کاموں کی طرف بلاتے رہے جن کا انجام یہ ہوا۔ پس بری منزل ہے۔ پھر کہیں گے کہ اے باری تعالیٰ جس نے ہمارے لیے اس کی تقدیم کی تو اسے دوگنا عذاب کر۔ جیسے فرمان ہے «قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ» [ 7- الاعراف: 38 ] یعنی پچھلے پہلوں کے لیے کہیں گے کہ پروردگار انہوں نے ہمیں گمراہ کر دیا تو انہیں آگ کا دگنا عذاب کر۔ اللہ فرمائے گا ہر ایک کے لیے دگنا ہی ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ یعنی ہر ایک کے لیے ایسا عذاب ہے جس کی انتہا اسی کے لیے ہے۔ چونکہ کفار وہاں مومنوں کو نہ پائیں گے جنہیں اپنے خیال میں بہکا ہوا جانتے تھے تو اس میں ذکر کریں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ ہمیں مسلمان جہنم میں نظر نہیں آتے؟ مجاہد فرماتے ہیں کہ ابوجہل کہے گا کہ بلال عمار صھیب وغیرہ وغیرہ کہاں ہیں؟ وہ تو نظر ہی نہیں آتے غرض ہر کافر یہی کہے گا کہ وہ لوگ جنہیں دنیا میں ہم شریر گنتے تھے وہ آج یہاں نظر نہیں آتے۔ کیا ہماری ہی غلطی تھی کہ ہم انہیں دنیا میں مذاق اڑاتے تھے؟ لیکن نہیں ایسا تو نہ تھا وہ ہوں گے تو جہنم میں ہی لیکن کہیں ادھر ادھر ہوں گے ہماری نگاہ میں نہیں پڑتے۔ اسی وقت جنتیوں کی طرف سے ندا آئے گی کہ اے دوزخیو! ادھر دیکھو ہم نے تو اپنے رب کے وعدے کو حق پایا تم اپنی کہو کیا اللہ کے وعدے کے سچے نکلے؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں بالکل سچ نکلے اسی وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔ اسی کا بیان آیات قرآنیہ «وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۭقَالُوْا نَعَمْ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ» [ 7- الاعراف: 44 ] سے «وَلَا أَنتُمْ تَحْزَنُونَ» [ 7- الاعراف: 49 ] ہے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو خبر میں تمہیں دے رہا ہوں کہ جہنمی اسی طرح لڑیں جھگڑیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے یہ بالکل سچی واقع اور ٹھیک خبر ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 58) {وَ اٰخَرُ مِنْ شَكْلِهٖۤ اَزْوَاجٌ: ” اٰخَرُ “} مبتدا ہے، {” مِنْ شَكْلِهٖۤ “ ”كَائِنٌ“} کے متعلق ہو کر اس کی صفت ہے اور {” اَزْوَاجٌ “} خبر ہے۔ یعنی ان کا عذاب صرف حمیم و غسّاق ہی نہیں ہو گا، بلکہ حمیم و غسّاق سے ملتی جلتی کئی شکلوں کا اور عذاب بھی ہو گا، مثلاً زمہریر، سموم، زقّوم اور صعود وغیرہ۔
(وہ جہنم کی طرف اپنے پیروؤں کو آتے دیکھ کر آپس میں کہیں گے) "یہ ایک لشکر تمہارے پاس گھسا چلا آ رہا ہے، کوئی خوش آمدید اِن کے لیے نہیں ہے، یہ آگ میں جھلسنے والے ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ ایک قوم ہے جو تمہارے ساتھ (آگ میں) جانے والی ہے، کوئی خوش آمدید ان کے لئے نہیں ہے یہی تو جہنم میں جانے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
ان سے کہا جائے گا یہ ایک اور فوج تمہارے ساتھ دھنسی پڑتی ہے جو تمہاری تھی وہ کہیں گے ان کو کھلی جگہ نہ ملیو آگ میں تو ان کو جانا ہی ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ ایک اور فوج ہے جو تمہارے ساتھ (جہنم میں) داخل ہو رہی ہے ان کیلئے کوئی خوش آمدید نہیں ہے یہ بھی جہنم میں داخل ہونے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
یہ ایک گروہ ہے جو تمھارے ساتھ گھستا چلا آنے والا ہے، انھیں کوئی خوش آمدید نہیں، یقینا یہ آگ میں داخل ہونے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دوزخیوں کا جھگڑا ٭٭
حمیم اس پانی کو کہتے ہیں جس کی حرارت اور گرمی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ اور غساق کہتے ہیں اس ٹھنڈک کو جس کی سردی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ پس ایک طرف آگ کا گرم عذاب دوسری جانب ٹھنڈک سرد عذاب اور اسی طرح قسم قسم کے، جوڑ جوڑ کے عذاب، جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر ایک ڈول غساق کا دنیا میں بہایا جائے تو تمام اہل دنیا بدبودار ہو جائیں۔ [سنن ترمذي:2584،قال الشيخ الألباني:ضعیف] سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں غساق نامی جہنم میں ایک نہر ہے جس میں سانپ بچھو وغیرہ کا زہر جمع ہوتا ہے پھر وہ گرم ہو کر اونٹنے لگتا ہے اس میں جہنمیوں کو غوطے دیئے جائیں گے جس سے ان کا سارا گوشت پوست جھڑ جائے گا اور پنڈلیوں میں لٹک جائے گا۔ جسے وہ اس طرح گھسیٹتے پھریں گے جیسے کوئی شخص اپنا کپڑا گھسیٹ رہا ہو۔ [ ابن ابی حاتم ]
غرض سردی کا عذاب الگ ہو گا گرمی کا الگ ہو گا حمیم پینے کو زقوم کھانے کو کبھی آگ کے پہاڑوں پر چڑھایا جاتا ہے تو کبھی آگ کے گڑھوں میں دھکیلا جاتا ہے اللہ ہمیں بچائے۔ اب جہنمیوں کا جھگڑا ان کا تنازع اور ایک دوسرے کو برا کہنا بیان ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے «كُلَّمَادَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا» [ 7- الاعراف: 38 ] ہر گروہ دوسرے پر بجائے سلام کے لعنت بھیجے گا۔ ایک دوسرے کو جھٹلائے گا اور ایک دوسرے پر الزام رکھے گا۔ ایک جماعت جو پہلے جہنم میں جا چکی ہے وہ دوسری جماعت کو داروغہ جہنم کے ساتھ آتی ہوئی دیکھ کر کہے گی کہ یہ گروہ جو تمہارے ساتھ ہے انہیں مرحبا نہ ہو اس لیے کہ یہ بھی جہنمی گروہ ہے۔ وہ آنے والے ان سے کہیں گے کہ تمہارے لیے مرحبا ہو تم ہی تو تھے کہ ہمیں ان برے کاموں کی طرف بلاتے رہے جن کا انجام یہ ہوا۔ پس بری منزل ہے۔ پھر کہیں گے کہ اے باری تعالیٰ جس نے ہمارے لیے اس کی تقدیم کی تو اسے دوگنا عذاب کر۔ جیسے فرمان ہے «قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ» [ 7- الاعراف: 38 ] یعنی پچھلے پہلوں کے لیے کہیں گے کہ پروردگار انہوں نے ہمیں گمراہ کر دیا تو انہیں آگ کا دگنا عذاب کر۔ اللہ فرمائے گا ہر ایک کے لیے دگنا ہی ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ یعنی ہر ایک کے لیے ایسا عذاب ہے جس کی انتہا اسی کے لیے ہے۔ چونکہ کفار وہاں مومنوں کو نہ پائیں گے جنہیں اپنے خیال میں بہکا ہوا جانتے تھے تو اس میں ذکر کریں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ ہمیں مسلمان جہنم میں نظر نہیں آتے؟ مجاہد فرماتے ہیں کہ ابوجہل کہے گا کہ بلال عمار صھیب وغیرہ وغیرہ کہاں ہیں؟ وہ تو نظر ہی نہیں آتے غرض ہر کافر یہی کہے گا کہ وہ لوگ جنہیں دنیا میں ہم شریر گنتے تھے وہ آج یہاں نظر نہیں آتے۔ کیا ہماری ہی غلطی تھی کہ ہم انہیں دنیا میں مذاق اڑاتے تھے؟ لیکن نہیں ایسا تو نہ تھا وہ ہوں گے تو جہنم میں ہی لیکن کہیں ادھر ادھر ہوں گے ہماری نگاہ میں نہیں پڑتے۔ اسی وقت جنتیوں کی طرف سے ندا آئے گی کہ اے دوزخیو! ادھر دیکھو ہم نے تو اپنے رب کے وعدے کو حق پایا تم اپنی کہو کیا اللہ کے وعدے کے سچے نکلے؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں بالکل سچ نکلے اسی وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔ اسی کا بیان آیات قرآنیہ «وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۭقَالُوْا نَعَمْ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ» [ 7- الاعراف: 44 ] سے «وَلَا أَنتُمْ تَحْزَنُونَ» [ 7- الاعراف: 49 ] ہے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو خبر میں تمہیں دے رہا ہوں کہ جہنمی اسی طرح لڑیں جھگڑیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے یہ بالکل سچی واقع اور ٹھیک خبر ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
59۔ 1 جہنم کے دروازوں پر کھڑے فرشتے ائمہء کفر اور پیشوایان ضلالت سے کہیں گے، جب پیروکار قسم کے کافر جہنم میں جائیں گے یا ائمہ کفر و ضلالت آپس میں یہ بات، پیروکاروں کی طرف اشارہ کرکے کہیں گے۔ 59۔ 2 یہ لیڈر، جہنم میں داخل ہونے والے کافروں کے لئے، فرشتوں کے جواب میں یا آپس میں کہیں گے رَحْبَۃ کے معنی وسعت و فراخی کے ہیں۔
(آیت 59) {هٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ …:} ابن کثیر نے فرمایا، یہاں اللہ تعالیٰ نے جہنمیوں کی ایک دوسرے سے کی جانے والی باتوں کا ذکر فرمایا ہے، جیسا کہ فرمایا: «كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا» [ الأعراف: ۳۸ ] ”جب بھی کوئی جماعت داخل ہو گی اپنے ساتھ والی کو لعنت کرے گی۔“ یعنی وہ سلام کے بجائے ایک دوسرے پر لعنت کریں گے اور ایک دوسرے کو جھوٹا اور کافر کہیں گے۔ چنانچہ وہ جماعت جو دوسری جماعت سے پہلے داخل ہو گی جب اس کے بعد والی جماعت جہنم کے دربان فرشتوں کے ساتھ داخل ہو گی تو پہلے والی جماعت فرشتوں سے کہے گی، یہ ایک گروہ ہے جو تمھارے ساتھ گھستا چلا آ رہا ہے، انھیں کوئی خوش آمدید نہیں، یقینا وہ آگ میں داخل ہونے والے ہیں۔
وہ اُن کو جواب دیں گے "نہیں بلکہ تم ہی جھلسے جا رہے ہو، کوئی خیر مقدم تمہارے لیے نہیں تم ہی تو یہ انجام ہمارے آگے لائے ہو، کیسی بری ہے یہ جائے قرار"
مولانا محمد جوناگڑھی
وه کہیں گے بلکہ تم ہی ہو جن کے لئے کوئی خوش آمدید نہیں ہے تم ہی نے تو اسے پہلے ہی سے ہمارے سامنے ﻻ رکھا تھا، پس رہنے کی بڑی بری جگہ ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہاں بھی تنگ جگہ میں رہیں تابع بولے بلکہ تمہیں کھلی جگہ نہ ملیو، یہ مصیبت تم ہمارے آگے لائے تو کیا ہی برا ٹھکانا
علامہ محمد حسین نجفی
وہ (ان کے جواب میں کہیں گے) تمہارے لئے خوش آمدید نہ ہو تم ہی یہ (دن) ہمارے سامنے لائے ہو! تو (جہنم) کیا برا ٹھکانا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ کہیں گے بلکہ تم ہو ،تمھارے لیے کوئی خوش آمدید نہیں، تم ہی اسے ہمارے آگے لائے ہو۔ سو یہ برا ٹھکانا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دوزخیوں کا جھگڑا ٭٭
حمیم اس پانی کو کہتے ہیں جس کی حرارت اور گرمی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ اور غساق کہتے ہیں اس ٹھنڈک کو جس کی سردی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ پس ایک طرف آگ کا گرم عذاب دوسری جانب ٹھنڈک سرد عذاب اور اسی طرح قسم قسم کے، جوڑ جوڑ کے عذاب، جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر ایک ڈول غساق کا دنیا میں بہایا جائے تو تمام اہل دنیا بدبودار ہو جائیں۔ [سنن ترمذي:2584،قال الشيخ الألباني:ضعیف] سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں غساق نامی جہنم میں ایک نہر ہے جس میں سانپ بچھو وغیرہ کا زہر جمع ہوتا ہے پھر وہ گرم ہو کر اونٹنے لگتا ہے اس میں جہنمیوں کو غوطے دیئے جائیں گے جس سے ان کا سارا گوشت پوست جھڑ جائے گا اور پنڈلیوں میں لٹک جائے گا۔ جسے وہ اس طرح گھسیٹتے پھریں گے جیسے کوئی شخص اپنا کپڑا گھسیٹ رہا ہو۔ [ ابن ابی حاتم ]
غرض سردی کا عذاب الگ ہو گا گرمی کا الگ ہو گا حمیم پینے کو زقوم کھانے کو کبھی آگ کے پہاڑوں پر چڑھایا جاتا ہے تو کبھی آگ کے گڑھوں میں دھکیلا جاتا ہے اللہ ہمیں بچائے۔ اب جہنمیوں کا جھگڑا ان کا تنازع اور ایک دوسرے کو برا کہنا بیان ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے «كُلَّمَادَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا» [ 7- الاعراف: 38 ] ہر گروہ دوسرے پر بجائے سلام کے لعنت بھیجے گا۔ ایک دوسرے کو جھٹلائے گا اور ایک دوسرے پر الزام رکھے گا۔ ایک جماعت جو پہلے جہنم میں جا چکی ہے وہ دوسری جماعت کو داروغہ جہنم کے ساتھ آتی ہوئی دیکھ کر کہے گی کہ یہ گروہ جو تمہارے ساتھ ہے انہیں مرحبا نہ ہو اس لیے کہ یہ بھی جہنمی گروہ ہے۔ وہ آنے والے ان سے کہیں گے کہ تمہارے لیے مرحبا ہو تم ہی تو تھے کہ ہمیں ان برے کاموں کی طرف بلاتے رہے جن کا انجام یہ ہوا۔ پس بری منزل ہے۔ پھر کہیں گے کہ اے باری تعالیٰ جس نے ہمارے لیے اس کی تقدیم کی تو اسے دوگنا عذاب کر۔ جیسے فرمان ہے «قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ» [ 7- الاعراف: 38 ] یعنی پچھلے پہلوں کے لیے کہیں گے کہ پروردگار انہوں نے ہمیں گمراہ کر دیا تو انہیں آگ کا دگنا عذاب کر۔ اللہ فرمائے گا ہر ایک کے لیے دگنا ہی ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ یعنی ہر ایک کے لیے ایسا عذاب ہے جس کی انتہا اسی کے لیے ہے۔ چونکہ کفار وہاں مومنوں کو نہ پائیں گے جنہیں اپنے خیال میں بہکا ہوا جانتے تھے تو اس میں ذکر کریں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ ہمیں مسلمان جہنم میں نظر نہیں آتے؟ مجاہد فرماتے ہیں کہ ابوجہل کہے گا کہ بلال عمار صھیب وغیرہ وغیرہ کہاں ہیں؟ وہ تو نظر ہی نہیں آتے غرض ہر کافر یہی کہے گا کہ وہ لوگ جنہیں دنیا میں ہم شریر گنتے تھے وہ آج یہاں نظر نہیں آتے۔ کیا ہماری ہی غلطی تھی کہ ہم انہیں دنیا میں مذاق اڑاتے تھے؟ لیکن نہیں ایسا تو نہ تھا وہ ہوں گے تو جہنم میں ہی لیکن کہیں ادھر ادھر ہوں گے ہماری نگاہ میں نہیں پڑتے۔ اسی وقت جنتیوں کی طرف سے ندا آئے گی کہ اے دوزخیو! ادھر دیکھو ہم نے تو اپنے رب کے وعدے کو حق پایا تم اپنی کہو کیا اللہ کے وعدے کے سچے نکلے؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں بالکل سچ نکلے اسی وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔ اسی کا بیان آیات قرآنیہ «وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۭقَالُوْا نَعَمْ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ» [ 7- الاعراف: 44 ] سے «وَلَا أَنتُمْ تَحْزَنُونَ» [ 7- الاعراف: 49 ] ہے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو خبر میں تمہیں دے رہا ہوں کہ جہنمی اسی طرح لڑیں جھگڑیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے یہ بالکل سچی واقع اور ٹھیک خبر ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
60۔ 1 یعنی تم ہی کفر و ضلالت کے راستے ہمارے سامنے مزین کرکے پیش کرتے تھے، یوں گویا اس عذاب جہنم کے پیش کار تم ہی ہو۔ یہ پیروکار، اپنے پیروی کرنے والوں سے کہیں گے۔
(آیت 60) {قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ …:} بعد میں داخل ہونے والے ان سے کہیں گے، بلکہ تمھارے لیے کوئی خوش آمدید نہیں، تمھی نے ہمیں اس کام کی دعوت دی جس نے ہمیں اس انجام تک پہنچایا، سو یہ ہمارا اور تمھارا بہت برا ٹھکانا ہے۔ یہ بات وہ محض دل ٹھنڈا کرنے کے لیے کہیں گے۔
پھر وہ کہیں گے "اے ہمارے رب، جس نے ہمیں اس انجام کو پہنچانے کا بندوبست کیا اُس کو دوزخ کا دوہرا عذاب دے"
مولانا محمد جوناگڑھی
وه کہیں گے اے ہمارے رب! جس نے (کفر کی رسم) ہمارے لئے پہلے سے نکالی ہو اس کے حق میں جہنم کی دگنی سزا کر دے
احمد رضا خان بریلوی
وہ بولے اے ہمارے رب جو یہ مصیبت ہمارے آگے لایا اسے آگ میں دُونا عذاب بڑھا،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار! جو (کمبخت) روزِ بد ہمارے آگے لایا ہے اسے دوزخ میں عذاب دے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ کہیں گے اے ہمارے رب! جو اس کو ہمارے آگے لایا ہے پس تو اسے آگ میں دگنا عذاب زیادہ کر ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دوزخیوں کا جھگڑا ٭٭
حمیم اس پانی کو کہتے ہیں جس کی حرارت اور گرمی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ اور غساق کہتے ہیں اس ٹھنڈک کو جس کی سردی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ پس ایک طرف آگ کا گرم عذاب دوسری جانب ٹھنڈک سرد عذاب اور اسی طرح قسم قسم کے، جوڑ جوڑ کے عذاب، جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر ایک ڈول غساق کا دنیا میں بہایا جائے تو تمام اہل دنیا بدبودار ہو جائیں۔ [سنن ترمذي:2584،قال الشيخ الألباني:ضعیف] سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں غساق نامی جہنم میں ایک نہر ہے جس میں سانپ بچھو وغیرہ کا زہر جمع ہوتا ہے پھر وہ گرم ہو کر اونٹنے لگتا ہے اس میں جہنمیوں کو غوطے دیئے جائیں گے جس سے ان کا سارا گوشت پوست جھڑ جائے گا اور پنڈلیوں میں لٹک جائے گا۔ جسے وہ اس طرح گھسیٹتے پھریں گے جیسے کوئی شخص اپنا کپڑا گھسیٹ رہا ہو۔ [ ابن ابی حاتم ]
غرض سردی کا عذاب الگ ہو گا گرمی کا الگ ہو گا حمیم پینے کو زقوم کھانے کو کبھی آگ کے پہاڑوں پر چڑھایا جاتا ہے تو کبھی آگ کے گڑھوں میں دھکیلا جاتا ہے اللہ ہمیں بچائے۔ اب جہنمیوں کا جھگڑا ان کا تنازع اور ایک دوسرے کو برا کہنا بیان ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے «كُلَّمَادَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا» [ 7- الاعراف: 38 ] ہر گروہ دوسرے پر بجائے سلام کے لعنت بھیجے گا۔ ایک دوسرے کو جھٹلائے گا اور ایک دوسرے پر الزام رکھے گا۔ ایک جماعت جو پہلے جہنم میں جا چکی ہے وہ دوسری جماعت کو داروغہ جہنم کے ساتھ آتی ہوئی دیکھ کر کہے گی کہ یہ گروہ جو تمہارے ساتھ ہے انہیں مرحبا نہ ہو اس لیے کہ یہ بھی جہنمی گروہ ہے۔ وہ آنے والے ان سے کہیں گے کہ تمہارے لیے مرحبا ہو تم ہی تو تھے کہ ہمیں ان برے کاموں کی طرف بلاتے رہے جن کا انجام یہ ہوا۔ پس بری منزل ہے۔ پھر کہیں گے کہ اے باری تعالیٰ جس نے ہمارے لیے اس کی تقدیم کی تو اسے دوگنا عذاب کر۔ جیسے فرمان ہے «قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ» [ 7- الاعراف: 38 ] یعنی پچھلے پہلوں کے لیے کہیں گے کہ پروردگار انہوں نے ہمیں گمراہ کر دیا تو انہیں آگ کا دگنا عذاب کر۔ اللہ فرمائے گا ہر ایک کے لیے دگنا ہی ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ یعنی ہر ایک کے لیے ایسا عذاب ہے جس کی انتہا اسی کے لیے ہے۔ چونکہ کفار وہاں مومنوں کو نہ پائیں گے جنہیں اپنے خیال میں بہکا ہوا جانتے تھے تو اس میں ذکر کریں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ ہمیں مسلمان جہنم میں نظر نہیں آتے؟ مجاہد فرماتے ہیں کہ ابوجہل کہے گا کہ بلال عمار صھیب وغیرہ وغیرہ کہاں ہیں؟ وہ تو نظر ہی نہیں آتے غرض ہر کافر یہی کہے گا کہ وہ لوگ جنہیں دنیا میں ہم شریر گنتے تھے وہ آج یہاں نظر نہیں آتے۔ کیا ہماری ہی غلطی تھی کہ ہم انہیں دنیا میں مذاق اڑاتے تھے؟ لیکن نہیں ایسا تو نہ تھا وہ ہوں گے تو جہنم میں ہی لیکن کہیں ادھر ادھر ہوں گے ہماری نگاہ میں نہیں پڑتے۔ اسی وقت جنتیوں کی طرف سے ندا آئے گی کہ اے دوزخیو! ادھر دیکھو ہم نے تو اپنے رب کے وعدے کو حق پایا تم اپنی کہو کیا اللہ کے وعدے کے سچے نکلے؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں بالکل سچ نکلے اسی وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔ اسی کا بیان آیات قرآنیہ «وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۭقَالُوْا نَعَمْ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ» [ 7- الاعراف: 44 ] سے «وَلَا أَنتُمْ تَحْزَنُونَ» [ 7- الاعراف: 49 ] ہے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو خبر میں تمہیں دے رہا ہوں کہ جہنمی اسی طرح لڑیں جھگڑیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے یہ بالکل سچی واقع اور ٹھیک خبر ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
61۔ 1 یعنی جنہوں نے ہمیں کفر کی دعوت دی اور اسے حق و صواب باور کرایا۔ یا جنہوں نے ہمیں کفر کی طرف بلا کر ہمارے لئے یہ عذاب آگے بھیجا۔ 61۔ 2 یہ وہی بات ہے جسے اور بھی کئی مقامات پر بیان کیا گیا ہے مثلًا (قَالَ ادْخُلُوْا فِيْٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ فِي النَّارِ ۭكُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا ۭ حَتّٰى اِذَا ادَّارَكُوْا فِيْهَا جَمِيْعًا ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ڛ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ) 7۔ الاعراف:38) (رَبَّنَآ اٰتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِيْرًا) 33۔ الاحزاب:68)۔
(آیت 61) {قَالُوْا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هٰذَا …:} جب اس سے دل ٹھنڈا نہ ہو گا تو اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے، اے ہمارے پروردگار! جو بھی اس عذاب کو ہمارے آگے لایا ہے تو اسے آگ میں دگنا عذاب کر، ایک خود گمراہ ہونے کا اور دوسرا ہمیں گمراہ کرنے کا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ قَالَتْ اُوْلٰىهُمْ لِاُخْرٰىهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ» [ الأعراف: ۳۸ ] ”تو ان کی پچھلی جماعت اپنے سے پہلی جماعت کے متعلق کہے گی اے ہمارے رب! ان لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا، تو انھیں آگ کا دگنا عذاب دے۔ فرمائے گا سبھی کے لیے دگنا ہے اور لیکن تم نہیں جانتے۔“ اس آیت سے ملتی جلتی آیت کے لیے دیکھیے سورۂ احزاب (۶۷، ۶۸)۔
اور وہ آپس میں کہیں گے "کیا بات ہے، ہم اُن لوگوں کو کہیں نہیں دیکھتے جنہیں ہم دنیا میں برا سمجھتے تھے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جہنمی کہیں گے کیا بات ہے کہ وه لوگ ہمیں دکھائی نہیں دیتے جنہیں ہم برے لوگوں میں شمار کرتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور بولے ہمیں کیا ہوا ہم ان مردوں کو نہیں دیکھتے جنہیں برا سمجھتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
وہ کہیں گے کہ کیا بات ہے ہم یہاں ان لوگوں کو نہیں دیکھ رہے جن کو ہم (دنیا میں) برے لوگوں میں شمار کرتے تھے؟
عبدالسلام بن محمد
اور وہ کہیں گے ہمیں کیا ہے کہ ہم ان آدمیوں کو نہیں دیکھ رہے جنھیںہم بد ترین لوگوں میں شمار کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دوزخیوں کا جھگڑا ٭٭
حمیم اس پانی کو کہتے ہیں جس کی حرارت اور گرمی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ اور غساق کہتے ہیں اس ٹھنڈک کو جس کی سردی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ پس ایک طرف آگ کا گرم عذاب دوسری جانب ٹھنڈک سرد عذاب اور اسی طرح قسم قسم کے، جوڑ جوڑ کے عذاب، جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر ایک ڈول غساق کا دنیا میں بہایا جائے تو تمام اہل دنیا بدبودار ہو جائیں۔ [سنن ترمذي:2584،قال الشيخ الألباني:ضعیف] سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں غساق نامی جہنم میں ایک نہر ہے جس میں سانپ بچھو وغیرہ کا زہر جمع ہوتا ہے پھر وہ گرم ہو کر اونٹنے لگتا ہے اس میں جہنمیوں کو غوطے دیئے جائیں گے جس سے ان کا سارا گوشت پوست جھڑ جائے گا اور پنڈلیوں میں لٹک جائے گا۔ جسے وہ اس طرح گھسیٹتے پھریں گے جیسے کوئی شخص اپنا کپڑا گھسیٹ رہا ہو۔ [ ابن ابی حاتم ]
غرض سردی کا عذاب الگ ہو گا گرمی کا الگ ہو گا حمیم پینے کو زقوم کھانے کو کبھی آگ کے پہاڑوں پر چڑھایا جاتا ہے تو کبھی آگ کے گڑھوں میں دھکیلا جاتا ہے اللہ ہمیں بچائے۔ اب جہنمیوں کا جھگڑا ان کا تنازع اور ایک دوسرے کو برا کہنا بیان ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے «كُلَّمَادَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا» [ 7- الاعراف: 38 ] ہر گروہ دوسرے پر بجائے سلام کے لعنت بھیجے گا۔ ایک دوسرے کو جھٹلائے گا اور ایک دوسرے پر الزام رکھے گا۔ ایک جماعت جو پہلے جہنم میں جا چکی ہے وہ دوسری جماعت کو داروغہ جہنم کے ساتھ آتی ہوئی دیکھ کر کہے گی کہ یہ گروہ جو تمہارے ساتھ ہے انہیں مرحبا نہ ہو اس لیے کہ یہ بھی جہنمی گروہ ہے۔ وہ آنے والے ان سے کہیں گے کہ تمہارے لیے مرحبا ہو تم ہی تو تھے کہ ہمیں ان برے کاموں کی طرف بلاتے رہے جن کا انجام یہ ہوا۔ پس بری منزل ہے۔ پھر کہیں گے کہ اے باری تعالیٰ جس نے ہمارے لیے اس کی تقدیم کی تو اسے دوگنا عذاب کر۔ جیسے فرمان ہے «قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ» [ 7- الاعراف: 38 ] یعنی پچھلے پہلوں کے لیے کہیں گے کہ پروردگار انہوں نے ہمیں گمراہ کر دیا تو انہیں آگ کا دگنا عذاب کر۔ اللہ فرمائے گا ہر ایک کے لیے دگنا ہی ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ یعنی ہر ایک کے لیے ایسا عذاب ہے جس کی انتہا اسی کے لیے ہے۔ چونکہ کفار وہاں مومنوں کو نہ پائیں گے جنہیں اپنے خیال میں بہکا ہوا جانتے تھے تو اس میں ذکر کریں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ ہمیں مسلمان جہنم میں نظر نہیں آتے؟ مجاہد فرماتے ہیں کہ ابوجہل کہے گا کہ بلال عمار صھیب وغیرہ وغیرہ کہاں ہیں؟ وہ تو نظر ہی نہیں آتے غرض ہر کافر یہی کہے گا کہ وہ لوگ جنہیں دنیا میں ہم شریر گنتے تھے وہ آج یہاں نظر نہیں آتے۔ کیا ہماری ہی غلطی تھی کہ ہم انہیں دنیا میں مذاق اڑاتے تھے؟ لیکن نہیں ایسا تو نہ تھا وہ ہوں گے تو جہنم میں ہی لیکن کہیں ادھر ادھر ہوں گے ہماری نگاہ میں نہیں پڑتے۔ اسی وقت جنتیوں کی طرف سے ندا آئے گی کہ اے دوزخیو! ادھر دیکھو ہم نے تو اپنے رب کے وعدے کو حق پایا تم اپنی کہو کیا اللہ کے وعدے کے سچے نکلے؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں بالکل سچ نکلے اسی وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔ اسی کا بیان آیات قرآنیہ «وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۭقَالُوْا نَعَمْ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ» [ 7- الاعراف: 44 ] سے «وَلَا أَنتُمْ تَحْزَنُونَ» [ 7- الاعراف: 49 ] ہے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو خبر میں تمہیں دے رہا ہوں کہ جہنمی اسی طرح لڑیں جھگڑیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے یہ بالکل سچی واقع اور ٹھیک خبر ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
62۔ 1 اَ شْرَار سے مراد فقراء مومنین ہیں، جیسے عمار، جناب، بلالو سلیمان وغیرہم ؓ، انہیں رؤسائے مکہ ازراہ خبث برے لوگ کہتے تھے اور اب بھی اہل باطل حق پر چلنے والوں کو بنیاد پرست، دہشت گرد، انتہا پسند وغیرہ القاب سے نوازتے ہیں۔
(آیت 62) {وَ قَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا …: ” الْاَشْرَارِ “ ”شَرٌّ“} کی جمع ہے، جو اصل میں {”أَشَرُّ“} اسم تفضیل ہے، بدترین لوگ۔ یعنی جہنمی آگ میں چاروں طرف نگاہ ڈالیں گے تو انھیں اپنے چودھری، سردار اور پیشوا تو نظر آئیں گے مگر وہ مومن نظر نہیں آئیں گے جنھیں وہ دنیا میں مذاق کیا کرتے تھے۔ اس پر وہ حسرت و افسوس اور تعجب سے کہیں گے، ہمیں کیا ہے کہ ہم جہنم میں اپنے ساتھ ان ایمان والوں کو نہیں دیکھ رہے جنھیں ہم دنیا میں بد ترین لوگوں میں شمار کرتے تھے؟
ہم نے یونہی ان کا مذاق بنا لیا تھا، یا وہ کہیں نظروں سے اوجھل ہیں؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا ہم نے ہی ان کا مذاق بنا رکھا تھا یا ہماری نگاہیں ان سے ہٹ گئی ہیں
احمد رضا خان بریلوی
کیا ہم نے انہیں ہنسی بنالیا یا آنکھیں ان کی طرف سے پھر گئیں
علامہ محمد حسین نجفی
کیا ہم نے بلاوجہ ان کا مذاق اڑایا تھا یا نگاہیں ان کی طرف سے چوک رہی ہیں؟
عبدالسلام بن محمد
کیا ہم نے انھیں مذاق بنائے رکھا، یا ہماری آنکھیں ان سے پھر گئی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دوزخیوں کا جھگڑا ٭٭
حمیم اس پانی کو کہتے ہیں جس کی حرارت اور گرمی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ اور غساق کہتے ہیں اس ٹھنڈک کو جس کی سردی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ پس ایک طرف آگ کا گرم عذاب دوسری جانب ٹھنڈک سرد عذاب اور اسی طرح قسم قسم کے، جوڑ جوڑ کے عذاب، جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر ایک ڈول غساق کا دنیا میں بہایا جائے تو تمام اہل دنیا بدبودار ہو جائیں۔ [سنن ترمذي:2584،قال الشيخ الألباني:ضعیف] سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں غساق نامی جہنم میں ایک نہر ہے جس میں سانپ بچھو وغیرہ کا زہر جمع ہوتا ہے پھر وہ گرم ہو کر اونٹنے لگتا ہے اس میں جہنمیوں کو غوطے دیئے جائیں گے جس سے ان کا سارا گوشت پوست جھڑ جائے گا اور پنڈلیوں میں لٹک جائے گا۔ جسے وہ اس طرح گھسیٹتے پھریں گے جیسے کوئی شخص اپنا کپڑا گھسیٹ رہا ہو۔ [ ابن ابی حاتم ]
غرض سردی کا عذاب الگ ہو گا گرمی کا الگ ہو گا حمیم پینے کو زقوم کھانے کو کبھی آگ کے پہاڑوں پر چڑھایا جاتا ہے تو کبھی آگ کے گڑھوں میں دھکیلا جاتا ہے اللہ ہمیں بچائے۔ اب جہنمیوں کا جھگڑا ان کا تنازع اور ایک دوسرے کو برا کہنا بیان ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے «كُلَّمَادَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا» [ 7- الاعراف: 38 ] ہر گروہ دوسرے پر بجائے سلام کے لعنت بھیجے گا۔ ایک دوسرے کو جھٹلائے گا اور ایک دوسرے پر الزام رکھے گا۔ ایک جماعت جو پہلے جہنم میں جا چکی ہے وہ دوسری جماعت کو داروغہ جہنم کے ساتھ آتی ہوئی دیکھ کر کہے گی کہ یہ گروہ جو تمہارے ساتھ ہے انہیں مرحبا نہ ہو اس لیے کہ یہ بھی جہنمی گروہ ہے۔ وہ آنے والے ان سے کہیں گے کہ تمہارے لیے مرحبا ہو تم ہی تو تھے کہ ہمیں ان برے کاموں کی طرف بلاتے رہے جن کا انجام یہ ہوا۔ پس بری منزل ہے۔ پھر کہیں گے کہ اے باری تعالیٰ جس نے ہمارے لیے اس کی تقدیم کی تو اسے دوگنا عذاب کر۔ جیسے فرمان ہے «قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ» [ 7- الاعراف: 38 ] یعنی پچھلے پہلوں کے لیے کہیں گے کہ پروردگار انہوں نے ہمیں گمراہ کر دیا تو انہیں آگ کا دگنا عذاب کر۔ اللہ فرمائے گا ہر ایک کے لیے دگنا ہی ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ یعنی ہر ایک کے لیے ایسا عذاب ہے جس کی انتہا اسی کے لیے ہے۔ چونکہ کفار وہاں مومنوں کو نہ پائیں گے جنہیں اپنے خیال میں بہکا ہوا جانتے تھے تو اس میں ذکر کریں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ ہمیں مسلمان جہنم میں نظر نہیں آتے؟ مجاہد فرماتے ہیں کہ ابوجہل کہے گا کہ بلال عمار صھیب وغیرہ وغیرہ کہاں ہیں؟ وہ تو نظر ہی نہیں آتے غرض ہر کافر یہی کہے گا کہ وہ لوگ جنہیں دنیا میں ہم شریر گنتے تھے وہ آج یہاں نظر نہیں آتے۔ کیا ہماری ہی غلطی تھی کہ ہم انہیں دنیا میں مذاق اڑاتے تھے؟ لیکن نہیں ایسا تو نہ تھا وہ ہوں گے تو جہنم میں ہی لیکن کہیں ادھر ادھر ہوں گے ہماری نگاہ میں نہیں پڑتے۔ اسی وقت جنتیوں کی طرف سے ندا آئے گی کہ اے دوزخیو! ادھر دیکھو ہم نے تو اپنے رب کے وعدے کو حق پایا تم اپنی کہو کیا اللہ کے وعدے کے سچے نکلے؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں بالکل سچ نکلے اسی وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔ اسی کا بیان آیات قرآنیہ «وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۭقَالُوْا نَعَمْ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ» [ 7- الاعراف: 44 ] سے «وَلَا أَنتُمْ تَحْزَنُونَ» [ 7- الاعراف: 49 ] ہے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو خبر میں تمہیں دے رہا ہوں کہ جہنمی اسی طرح لڑیں جھگڑیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے یہ بالکل سچی واقع اور ٹھیک خبر ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
63۔ 1 یعنی دنیا میں، جہاں ہم غلطی پر تھے؟ 63۔ 2 یا وہ بھی ہمارے ساتھ ہی یہیں کہیں ہیں، ہماری نظریں انہیں نہیں دیکھ پا رہی ہیں۔
(آیت 63){ اَتَّخَذْنٰهُمْ سِخْرِيًّا …:} یعنی اب دو ہی صورتیں ہیں، یا تو ہم غلطی پر تھے کہ انھیں ناحق مذاق کا نشانہ بناتے رہے، یا وہ بھی یہیں کہیں جہنم میں ہیں، مگر ہماری نگاہیں ان سے پھر گئی ہیں، جو وہ ہمیں نظر نہیں آ رہے۔
بے شک یہ بات سچی ہے، اہل دوزخ میں یہی کچھ جھگڑے ہونے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یقین جانو کہ دوزخیوں کا یہ جھگڑا ضرور ہی ہوگا
احمد رضا خان بریلوی
بیشک یہ ضرور حق ہے دوزخیوں کا باہم جھگڑ،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ بات بالکل سچی ہے کہ دوزخ والے آپس میں جھگڑیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ یہ آگ والوں کا آپس میں جھگڑنا یقینا حق ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دوزخیوں کا جھگڑا ٭٭
حمیم اس پانی کو کہتے ہیں جس کی حرارت اور گرمی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ اور غساق کہتے ہیں اس ٹھنڈک کو جس کی سردی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ پس ایک طرف آگ کا گرم عذاب دوسری جانب ٹھنڈک سرد عذاب اور اسی طرح قسم قسم کے، جوڑ جوڑ کے عذاب، جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر ایک ڈول غساق کا دنیا میں بہایا جائے تو تمام اہل دنیا بدبودار ہو جائیں۔ [سنن ترمذي:2584،قال الشيخ الألباني:ضعیف] سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں غساق نامی جہنم میں ایک نہر ہے جس میں سانپ بچھو وغیرہ کا زہر جمع ہوتا ہے پھر وہ گرم ہو کر اونٹنے لگتا ہے اس میں جہنمیوں کو غوطے دیئے جائیں گے جس سے ان کا سارا گوشت پوست جھڑ جائے گا اور پنڈلیوں میں لٹک جائے گا۔ جسے وہ اس طرح گھسیٹتے پھریں گے جیسے کوئی شخص اپنا کپڑا گھسیٹ رہا ہو۔ [ ابن ابی حاتم ]
غرض سردی کا عذاب الگ ہو گا گرمی کا الگ ہو گا حمیم پینے کو زقوم کھانے کو کبھی آگ کے پہاڑوں پر چڑھایا جاتا ہے تو کبھی آگ کے گڑھوں میں دھکیلا جاتا ہے اللہ ہمیں بچائے۔ اب جہنمیوں کا جھگڑا ان کا تنازع اور ایک دوسرے کو برا کہنا بیان ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے «كُلَّمَادَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا» [ 7- الاعراف: 38 ] ہر گروہ دوسرے پر بجائے سلام کے لعنت بھیجے گا۔ ایک دوسرے کو جھٹلائے گا اور ایک دوسرے پر الزام رکھے گا۔ ایک جماعت جو پہلے جہنم میں جا چکی ہے وہ دوسری جماعت کو داروغہ جہنم کے ساتھ آتی ہوئی دیکھ کر کہے گی کہ یہ گروہ جو تمہارے ساتھ ہے انہیں مرحبا نہ ہو اس لیے کہ یہ بھی جہنمی گروہ ہے۔ وہ آنے والے ان سے کہیں گے کہ تمہارے لیے مرحبا ہو تم ہی تو تھے کہ ہمیں ان برے کاموں کی طرف بلاتے رہے جن کا انجام یہ ہوا۔ پس بری منزل ہے۔ پھر کہیں گے کہ اے باری تعالیٰ جس نے ہمارے لیے اس کی تقدیم کی تو اسے دوگنا عذاب کر۔ جیسے فرمان ہے «قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ» [ 7- الاعراف: 38 ] یعنی پچھلے پہلوں کے لیے کہیں گے کہ پروردگار انہوں نے ہمیں گمراہ کر دیا تو انہیں آگ کا دگنا عذاب کر۔ اللہ فرمائے گا ہر ایک کے لیے دگنا ہی ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ یعنی ہر ایک کے لیے ایسا عذاب ہے جس کی انتہا اسی کے لیے ہے۔ چونکہ کفار وہاں مومنوں کو نہ پائیں گے جنہیں اپنے خیال میں بہکا ہوا جانتے تھے تو اس میں ذکر کریں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ ہمیں مسلمان جہنم میں نظر نہیں آتے؟ مجاہد فرماتے ہیں کہ ابوجہل کہے گا کہ بلال عمار صھیب وغیرہ وغیرہ کہاں ہیں؟ وہ تو نظر ہی نہیں آتے غرض ہر کافر یہی کہے گا کہ وہ لوگ جنہیں دنیا میں ہم شریر گنتے تھے وہ آج یہاں نظر نہیں آتے۔ کیا ہماری ہی غلطی تھی کہ ہم انہیں دنیا میں مذاق اڑاتے تھے؟ لیکن نہیں ایسا تو نہ تھا وہ ہوں گے تو جہنم میں ہی لیکن کہیں ادھر ادھر ہوں گے ہماری نگاہ میں نہیں پڑتے۔ اسی وقت جنتیوں کی طرف سے ندا آئے گی کہ اے دوزخیو! ادھر دیکھو ہم نے تو اپنے رب کے وعدے کو حق پایا تم اپنی کہو کیا اللہ کے وعدے کے سچے نکلے؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں بالکل سچ نکلے اسی وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔ اسی کا بیان آیات قرآنیہ «وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۭقَالُوْا نَعَمْ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ» [ 7- الاعراف: 44 ] سے «وَلَا أَنتُمْ تَحْزَنُونَ» [ 7- الاعراف: 49 ] ہے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو خبر میں تمہیں دے رہا ہوں کہ جہنمی اسی طرح لڑیں جھگڑیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے یہ بالکل سچی واقع اور ٹھیک خبر ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
64۔ 1 یعنی آپس میں ان کی تکرار اور ایک دوسرے کو مورد طعن بنانا، ایک ایسی حقیقت ہے جس میں تکلف نہیں ہوگا۔
(آیت 64){ اِنَّ ذٰلِكَ لَحَقٌّ …:} یعنی اگرچہ یہ بات تمھاری سمجھ میں آنا مشکل ہے کہ اتنے شدید عذاب اور نفسا نفسی میں ایک دوسرے سے جھگڑیں گے، مگر سن لو! یہ بات بالکل حق ہے کہ آگ میں جلنے والے ایک دوسرے سے سخت جھگڑیں گے اور یہ بھی ان کے عذاب کا ایک حصہ ہو گا۔
(اے نبیؐ) اِن سے کہو، "میں تو بس خبردار کر دینے والا ہوں کوئی حقیقی معبود نہیں مگر اللہ، جو یکتا ہے، سب پر غالب
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجئے! کہ میں تو صرف خبردار کرنے واﻻ ہوں اور بجز اللہ واحد غالب کے اور کوئی ﻻئق عبادت نہیں
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ میں ڈر سنانے والا ہی ہوں اور معبود کوئی نہیں مگر ایک اللہ سب پر غالب،
علامہ محمد حسین نجفی
آپ کہہ دیجئے! کہ میں تو صرف (عذابِ خدا سے) ایک ڈرانے والا ہوں اور اللہ کے سوا جو یکتا اور غالب ہے اور کوئی خدا نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں اور کوئی معبود نہیں مگر اللہ، جو ایک ہے ، بڑے دبدبے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نبی علیہ السلام کا خواب ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرماتا ہے کہ کافروں سے کہہ دو کہ میری نسبت تمہارے خیالات محض غلط ہیں میں تو تمہیں ڈر کی خبر پہچانے والا ہوں۔ اللہ وحدہ لا شریک لہ کے سوا اور کوئی قابل پرستش نہیں وہ اکیلا ہے وہ ہرچیز پر غالب ہے، ہرچیز اس کے ماتحت ہے۔ وہ زمین و آسمان اور ہرچیز کا مالک ہے اور سب تصرفات اسی کے قبضے میں ہیں۔ وہ عزتوں والا ہے اور باوجود اس عظمت و عزت کے بڑا بخشنے والا ہے۔ یہ بہت بڑی چیز ہے یعنی میرا رسول بن کر تمہاری طرف آنا پھر تم اے غافلو! اس سے اعراض کر رہے ہو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بڑی چیز ہے یعنی قرآن کریم۔ آدم علیہ السلام کے بارے میں فرشتوں میں جو کچھ اختلاف ہوا اگر رب کی وحی میرے پاس نہ آئی ہوتی تو مجھے اس کی بابت کیا علم ہوتا؟ ابلیس کا آپ کو سجدہ کرنے سے منکر ہونا اور رب کے سامنے اس کی مخالفت کرنا اور اپنی بڑائی جتانا وغیرہ ان سب باتوں کو میں کیا جانوں؟
مسند احمد میں ہے ایک دن صبح کی نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت دیر لگا دی یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کا وقت آ گیا پھر بہت جلدی کرتے ہوئے آئے تکبیر کہی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلکی نماز پڑھائی۔ پھر ہم سے فرمایا ذرا دیر ٹھہرے رہو پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا رات کو میں تہجد کی نماز پڑھ رہا تھا جو مجھے اونگھ آنے لگی یہاں تک کہ میں جاگا میں نے دیکھا کہ گویا میں اپنے رب کے پاس ہوں میں نے اپنے پروردگار کو بہترین عمدہ صورت میں دیکھا مجھ سے جناب باری نے دریافت فرمایا جانتے ہو عالم بالا کے فرشتے اس وقت کس امر میں گفتگو اور سوال و جواب کر رہے ہیں؟ میں نے کہا میرے رب مجھے کیا خبر؟ تین مرتبہ کے سوال و جواب کے بعد میں نے دیکھا کہ میرے دونوں مونڈھوں کے درمیان اللہ عزوجل نے اپنا ہاتھ رکھا یہاں تک کہ انگلیوں کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی اور مجھ پر ہر ایک چیز روشن ہو گئی پھر مجھ سے سوال کیا اب بتاؤ ملاء اعلیٰ میں کیا بات چیت ہو رہی ہے؟ میں نے کہا گناہوں کے کفارے کی۔ فرمایا پھر تم بتاؤ کفارے کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نماز با جماعت کے لیے قدم اٹھا کر جانا۔ نمازوں کے بعد مسجدوں میں بیٹھے رہنا اور دل کے نہ چاہنے پر بھی کامل وضو کرنا۔ پھر مجھ سے میرے اللہ نے پوچھا درجے کیا ہیں؟ میں نے کہا کھانا کھلانا۔ نرم کلامی کرنا اور راتوں کو جب لوگ سوئے پڑے ہوں نماز پڑھنا۔ اب مجھ سے میرے رب نے فرمایا مانگ کیا مانگتا ہے؟ میں نے کہا میں نیکیوں کا کرنا برائیوں کا چھوڑنا مسکینوں سے محبت رکھنا اور تیری بخشش، تیرا رحم اور تیرا ارادہ جب کسی قوم کی آزمائش کا فتنے کے ساتھ ہو تو اسے فتنے میں مبتلا ہونے سے پہلے موت، تیری محبت اور تجھ سے محبت رکھنے والوں کی محبت اور ان کاموں کی چاہت جو تیری محبت سے قریب کرنے والے ہوں مانگتا ہوں اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ سراسر حق ہے اسے پڑھو پڑھاؤ سیکھو سکھاؤ۔ [مسند احمد:243/5:صحیح] [سنن ترمذي:3235،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث خواب کی ہے اور مشہور بھی یہی ہے بعض نے کہا ہے یہ جاگتے کا واقعہ ہے لیکن یہ غلط ہے بلکہ صحیح یہ ہے کہ یہ واقعہ خواب کا ہے اور یہ بھی خیال رہے کہ قرآن میں فرشتوں کی جس بات کا رد و بدل کرنا اس آیت میں مذکور ہے وہ یہ نہیں جو اس حدیث میں ہے بلکہ یہ سوال تو وہ ہے جس کا ذکر اس کے بعد ہی ہے ملاحظہ ہوں اگلی آیتیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 65) ➊ { قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنْذِرٌ …:} سورت کی ابتدا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے اور اللہ تعالیٰ کے ایک معبود برحق ہونے پر کفار کے تعجب اور انکار کا ذکر تھا اور ان کے یہ کہنے کا کہ کیا یہ ہمیں ہمارے اتنے معبودوں کے بجائے ایک ہی معبود کی عبادت کی دعوت دیتا ہے اور یہ کہ ہم تمام سرداروں کے ہوتے ہوئے اس پر وحی کیسے نازل ہو گئی؟ بلکہ یہ ساحر اور کذّاب ہے۔ کفار کی ان باتوں اور ان کے قیامت کے جھٹلانے اور اس کا مذاق اڑانے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صبر کا حکم دیا۔ اب سورت کے آخر میں پھر اسی مضمون کو دہرایا جا رہا ہے کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ میں تو بس ایک ڈرانے والا ہوں، نہ ساحر ہوں، نہ کذّاب، نہ کچھ اور۔ صرف ڈرانے والا اس لیے کہ بشارت ماننے والوں کے لیے ہوتی ہے، منکروں کو ڈرایا ہی جاتا ہے۔ ➋ { وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ:} عبادت کے لائق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ لفظ {” اللّٰهُ “} میں اگرچہ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات آ جاتی ہیں، کیونکہ یہ معبود برحق کا عَلم (نام) ہے، مگر یہاں اس کے واحد معبود ہونے کی دلیل کے طور پر اس کی پانچ صفات کا خاص طور پر ذکر فرمایا، پہلی صفت {” الْوَاحِدُ “} ہے، یعنی اس کے علاوہ ہر چیز جوڑا ہے، اکیلا وہی ہے۔ {” الْقَهَّارُ “} بڑے دبدبے والا، کوئی اس کے قہر کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا۔
آسمانوں اور زمین کا مالک اور اُن ساری چیزوں کا مالک جو ان کے درمیان ہیں، زبردست اور درگزر کرنے والا"
مولانا محمد جوناگڑھی
جو پروردگار ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، وه زبردست اور بڑا بخشنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
مالک آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے صاحب عزت بڑا بخشنے والا،
علامہ محمد حسین نجفی
وہی آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کا پروردگار ہے (اور وہ) بڑا زبردست (اور) بڑا بخشنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
جو آسمانوں کا اور زمین کا رب ہے اور ان چیزوں کا جو ان دونوں کے درمیان ہیں ، سب پر غالب، بہت بخشنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نبی علیہ السلام کا خواب ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرماتا ہے کہ کافروں سے کہہ دو کہ میری نسبت تمہارے خیالات محض غلط ہیں میں تو تمہیں ڈر کی خبر پہچانے والا ہوں۔ اللہ وحدہ لا شریک لہ کے سوا اور کوئی قابل پرستش نہیں وہ اکیلا ہے وہ ہرچیز پر غالب ہے، ہرچیز اس کے ماتحت ہے۔ وہ زمین و آسمان اور ہرچیز کا مالک ہے اور سب تصرفات اسی کے قبضے میں ہیں۔ وہ عزتوں والا ہے اور باوجود اس عظمت و عزت کے بڑا بخشنے والا ہے۔ یہ بہت بڑی چیز ہے یعنی میرا رسول بن کر تمہاری طرف آنا پھر تم اے غافلو! اس سے اعراض کر رہے ہو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بڑی چیز ہے یعنی قرآن کریم۔ آدم علیہ السلام کے بارے میں فرشتوں میں جو کچھ اختلاف ہوا اگر رب کی وحی میرے پاس نہ آئی ہوتی تو مجھے اس کی بابت کیا علم ہوتا؟ ابلیس کا آپ کو سجدہ کرنے سے منکر ہونا اور رب کے سامنے اس کی مخالفت کرنا اور اپنی بڑائی جتانا وغیرہ ان سب باتوں کو میں کیا جانوں؟
مسند احمد میں ہے ایک دن صبح کی نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت دیر لگا دی یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کا وقت آ گیا پھر بہت جلدی کرتے ہوئے آئے تکبیر کہی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلکی نماز پڑھائی۔ پھر ہم سے فرمایا ذرا دیر ٹھہرے رہو پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا رات کو میں تہجد کی نماز پڑھ رہا تھا جو مجھے اونگھ آنے لگی یہاں تک کہ میں جاگا میں نے دیکھا کہ گویا میں اپنے رب کے پاس ہوں میں نے اپنے پروردگار کو بہترین عمدہ صورت میں دیکھا مجھ سے جناب باری نے دریافت فرمایا جانتے ہو عالم بالا کے فرشتے اس وقت کس امر میں گفتگو اور سوال و جواب کر رہے ہیں؟ میں نے کہا میرے رب مجھے کیا خبر؟ تین مرتبہ کے سوال و جواب کے بعد میں نے دیکھا کہ میرے دونوں مونڈھوں کے درمیان اللہ عزوجل نے اپنا ہاتھ رکھا یہاں تک کہ انگلیوں کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی اور مجھ پر ہر ایک چیز روشن ہو گئی پھر مجھ سے سوال کیا اب بتاؤ ملاء اعلیٰ میں کیا بات چیت ہو رہی ہے؟ میں نے کہا گناہوں کے کفارے کی۔ فرمایا پھر تم بتاؤ کفارے کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نماز با جماعت کے لیے قدم اٹھا کر جانا۔ نمازوں کے بعد مسجدوں میں بیٹھے رہنا اور دل کے نہ چاہنے پر بھی کامل وضو کرنا۔ پھر مجھ سے میرے اللہ نے پوچھا درجے کیا ہیں؟ میں نے کہا کھانا کھلانا۔ نرم کلامی کرنا اور راتوں کو جب لوگ سوئے پڑے ہوں نماز پڑھنا۔ اب مجھ سے میرے رب نے فرمایا مانگ کیا مانگتا ہے؟ میں نے کہا میں نیکیوں کا کرنا برائیوں کا چھوڑنا مسکینوں سے محبت رکھنا اور تیری بخشش، تیرا رحم اور تیرا ارادہ جب کسی قوم کی آزمائش کا فتنے کے ساتھ ہو تو اسے فتنے میں مبتلا ہونے سے پہلے موت، تیری محبت اور تجھ سے محبت رکھنے والوں کی محبت اور ان کاموں کی چاہت جو تیری محبت سے قریب کرنے والے ہوں مانگتا ہوں اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ سراسر حق ہے اسے پڑھو پڑھاؤ سیکھو سکھاؤ۔ [مسند احمد:243/5:صحیح] [سنن ترمذي:3235،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث خواب کی ہے اور مشہور بھی یہی ہے بعض نے کہا ہے یہ جاگتے کا واقعہ ہے لیکن یہ غلط ہے بلکہ صحیح یہ ہے کہ یہ واقعہ خواب کا ہے اور یہ بھی خیال رہے کہ قرآن میں فرشتوں کی جس بات کا رد و بدل کرنا اس آیت میں مذکور ہے وہ یہ نہیں جو اس حدیث میں ہے بلکہ یہ سوال تو وہ ہے جس کا ذکر اس کے بعد ہی ہے ملاحظہ ہوں اگلی آیتیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 66) {رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَيْنَهُمَا …:} اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی تین صفات بیان ہوئی ہیں جو اللہ کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتیں، پھر کسی اور کی عبادت کیوں، جو نہ واحد ہے نہ قہر اور دبدبے کا مالک، نہ آسمان و زمین اور ان کے مابین کا رب ہے، نہ ہی اس کے ہاتھ میں قوت و اقتدار ہے اور نہ ہی گناہوں کو بخشنے کا اختیار؟
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرماتا ہے کہ کافروں سے کہہ دو کہ میری نسبت تمہارے خیالات محض غلط ہیں میں تو تمہیں ڈر کی خبر پہچانے والا ہوں۔ اللہ وحدہ لا شریک لہ کے سوا اور کوئی قابل پرستش نہیں وہ اکیلا ہے وہ ہرچیز پر غالب ہے، ہرچیز اس کے ماتحت ہے۔ وہ زمین و آسمان اور ہرچیز کا مالک ہے اور سب تصرفات اسی کے قبضے میں ہیں۔ وہ عزتوں والا ہے اور باوجود اس عظمت و عزت کے بڑا بخشنے والا ہے۔ یہ بہت بڑی چیز ہے یعنی میرا رسول بن کر تمہاری طرف آنا پھر تم اے غافلو! اس سے اعراض کر رہے ہو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بڑی چیز ہے یعنی قرآن کریم۔ آدم علیہ السلام کے بارے میں فرشتوں میں جو کچھ اختلاف ہوا اگر رب کی وحی میرے پاس نہ آئی ہوتی تو مجھے اس کی بابت کیا علم ہوتا؟ ابلیس کا آپ کو سجدہ کرنے سے منکر ہونا اور رب کے سامنے اس کی مخالفت کرنا اور اپنی بڑائی جتانا وغیرہ ان سب باتوں کو میں کیا جانوں؟
مسند احمد میں ہے ایک دن صبح کی نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت دیر لگا دی یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کا وقت آ گیا پھر بہت جلدی کرتے ہوئے آئے تکبیر کہی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلکی نماز پڑھائی۔ پھر ہم سے فرمایا ذرا دیر ٹھہرے رہو پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا رات کو میں تہجد کی نماز پڑھ رہا تھا جو مجھے اونگھ آنے لگی یہاں تک کہ میں جاگا میں نے دیکھا کہ گویا میں اپنے رب کے پاس ہوں میں نے اپنے پروردگار کو بہترین عمدہ صورت میں دیکھا مجھ سے جناب باری نے دریافت فرمایا جانتے ہو عالم بالا کے فرشتے اس وقت کس امر میں گفتگو اور سوال و جواب کر رہے ہیں؟ میں نے کہا میرے رب مجھے کیا خبر؟ تین مرتبہ کے سوال و جواب کے بعد میں نے دیکھا کہ میرے دونوں مونڈھوں کے درمیان اللہ عزوجل نے اپنا ہاتھ رکھا یہاں تک کہ انگلیوں کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی اور مجھ پر ہر ایک چیز روشن ہو گئی پھر مجھ سے سوال کیا اب بتاؤ ملاء اعلیٰ میں کیا بات چیت ہو رہی ہے؟ میں نے کہا گناہوں کے کفارے کی۔ فرمایا پھر تم بتاؤ کفارے کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نماز با جماعت کے لیے قدم اٹھا کر جانا۔ نمازوں کے بعد مسجدوں میں بیٹھے رہنا اور دل کے نہ چاہنے پر بھی کامل وضو کرنا۔ پھر مجھ سے میرے اللہ نے پوچھا درجے کیا ہیں؟ میں نے کہا کھانا کھلانا۔ نرم کلامی کرنا اور راتوں کو جب لوگ سوئے پڑے ہوں نماز پڑھنا۔ اب مجھ سے میرے رب نے فرمایا مانگ کیا مانگتا ہے؟ میں نے کہا میں نیکیوں کا کرنا برائیوں کا چھوڑنا مسکینوں سے محبت رکھنا اور تیری بخشش، تیرا رحم اور تیرا ارادہ جب کسی قوم کی آزمائش کا فتنے کے ساتھ ہو تو اسے فتنے میں مبتلا ہونے سے پہلے موت، تیری محبت اور تجھ سے محبت رکھنے والوں کی محبت اور ان کاموں کی چاہت جو تیری محبت سے قریب کرنے والے ہوں مانگتا ہوں اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ سراسر حق ہے اسے پڑھو پڑھاؤ سیکھو سکھاؤ۔ [مسند احمد:243/5:صحیح] [سنن ترمذي:3235،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث خواب کی ہے اور مشہور بھی یہی ہے بعض نے کہا ہے یہ جاگتے کا واقعہ ہے لیکن یہ غلط ہے بلکہ صحیح یہ ہے کہ یہ واقعہ خواب کا ہے اور یہ بھی خیال رہے کہ قرآن میں فرشتوں کی جس بات کا رد و بدل کرنا اس آیت میں مذکور ہے وہ یہ نہیں جو اس حدیث میں ہے بلکہ یہ سوال تو وہ ہے جس کا ذکر اس کے بعد ہی ہے ملاحظہ ہوں اگلی آیتیں۔
67۔ 1 یعنی میں تمہیں جس عذاب اخروی سے ڈرا رہا اور توحید کی دعوت دے رہا ہوں یہ بڑی خبر ہے، جس سے اعراض و غفلت نہ برتو، بلکہ اس پر توجہ دینے اور سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
(آیت 68،67) {قُلْ هُوَ نَبَؤٌا عَظِيْمٌ …:} پچھلی آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہنے کا حکم دیا کہ میں تو صرف ڈرانے والا ہوں اور معبود صرف اللہ ہے جو مذکورہ صفات کا مالک ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں اللہ کے عذاب سے اور قیامت سے ڈراتے تھے، جس پر وہ فوراً مطالبہ کرتے کہ وہ عذاب لاؤ، قیامت لے آؤ، یہ وعدہ کب پورا ہو گا؟ یہاں ان کا سوال ذکر کیے بغیر اس کا جواب دینے کا حکم دیا کہ ان سے کہہ دیجیے کہ وہ قیامت بہت بڑی خبر اور بہت بڑا واقعہ ہے جس سے تم منہ موڑنے والے ہو۔ رہا مجھ سے یہ سوال کہ وہ کب آئے گی؟ تو یہ بتانا میرا کام نہیں، قیامت تو بہت دور کی بات ہے، مجھے تو آسمانوں پر فرشتوں کی مجلس میں ہونے والی بات چیت اور بحث کا بھی کبھی علم نہیں ہوتا، سوائے اس کے جو میری طرف وحی کی جائے۔
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرماتا ہے کہ کافروں سے کہہ دو کہ میری نسبت تمہارے خیالات محض غلط ہیں میں تو تمہیں ڈر کی خبر پہچانے والا ہوں۔ اللہ وحدہ لا شریک لہ کے سوا اور کوئی قابل پرستش نہیں وہ اکیلا ہے وہ ہرچیز پر غالب ہے، ہرچیز اس کے ماتحت ہے۔ وہ زمین و آسمان اور ہرچیز کا مالک ہے اور سب تصرفات اسی کے قبضے میں ہیں۔ وہ عزتوں والا ہے اور باوجود اس عظمت و عزت کے بڑا بخشنے والا ہے۔ یہ بہت بڑی چیز ہے یعنی میرا رسول بن کر تمہاری طرف آنا پھر تم اے غافلو! اس سے اعراض کر رہے ہو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بڑی چیز ہے یعنی قرآن کریم۔ آدم علیہ السلام کے بارے میں فرشتوں میں جو کچھ اختلاف ہوا اگر رب کی وحی میرے پاس نہ آئی ہوتی تو مجھے اس کی بابت کیا علم ہوتا؟ ابلیس کا آپ کو سجدہ کرنے سے منکر ہونا اور رب کے سامنے اس کی مخالفت کرنا اور اپنی بڑائی جتانا وغیرہ ان سب باتوں کو میں کیا جانوں؟
مسند احمد میں ہے ایک دن صبح کی نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت دیر لگا دی یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کا وقت آ گیا پھر بہت جلدی کرتے ہوئے آئے تکبیر کہی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلکی نماز پڑھائی۔ پھر ہم سے فرمایا ذرا دیر ٹھہرے رہو پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا رات کو میں تہجد کی نماز پڑھ رہا تھا جو مجھے اونگھ آنے لگی یہاں تک کہ میں جاگا میں نے دیکھا کہ گویا میں اپنے رب کے پاس ہوں میں نے اپنے پروردگار کو بہترین عمدہ صورت میں دیکھا مجھ سے جناب باری نے دریافت فرمایا جانتے ہو عالم بالا کے فرشتے اس وقت کس امر میں گفتگو اور سوال و جواب کر رہے ہیں؟ میں نے کہا میرے رب مجھے کیا خبر؟ تین مرتبہ کے سوال و جواب کے بعد میں نے دیکھا کہ میرے دونوں مونڈھوں کے درمیان اللہ عزوجل نے اپنا ہاتھ رکھا یہاں تک کہ انگلیوں کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی اور مجھ پر ہر ایک چیز روشن ہو گئی پھر مجھ سے سوال کیا اب بتاؤ ملاء اعلیٰ میں کیا بات چیت ہو رہی ہے؟ میں نے کہا گناہوں کے کفارے کی۔ فرمایا پھر تم بتاؤ کفارے کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نماز با جماعت کے لیے قدم اٹھا کر جانا۔ نمازوں کے بعد مسجدوں میں بیٹھے رہنا اور دل کے نہ چاہنے پر بھی کامل وضو کرنا۔ پھر مجھ سے میرے اللہ نے پوچھا درجے کیا ہیں؟ میں نے کہا کھانا کھلانا۔ نرم کلامی کرنا اور راتوں کو جب لوگ سوئے پڑے ہوں نماز پڑھنا۔ اب مجھ سے میرے رب نے فرمایا مانگ کیا مانگتا ہے؟ میں نے کہا میں نیکیوں کا کرنا برائیوں کا چھوڑنا مسکینوں سے محبت رکھنا اور تیری بخشش، تیرا رحم اور تیرا ارادہ جب کسی قوم کی آزمائش کا فتنے کے ساتھ ہو تو اسے فتنے میں مبتلا ہونے سے پہلے موت، تیری محبت اور تجھ سے محبت رکھنے والوں کی محبت اور ان کاموں کی چاہت جو تیری محبت سے قریب کرنے والے ہوں مانگتا ہوں اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ سراسر حق ہے اسے پڑھو پڑھاؤ سیکھو سکھاؤ۔ [مسند احمد:243/5:صحیح] [سنن ترمذي:3235،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث خواب کی ہے اور مشہور بھی یہی ہے بعض نے کہا ہے یہ جاگتے کا واقعہ ہے لیکن یہ غلط ہے بلکہ صحیح یہ ہے کہ یہ واقعہ خواب کا ہے اور یہ بھی خیال رہے کہ قرآن میں فرشتوں کی جس بات کا رد و بدل کرنا اس آیت میں مذکور ہے وہ یہ نہیں جو اس حدیث میں ہے بلکہ یہ سوال تو وہ ہے جس کا ذکر اس کے بعد ہی ہے ملاحظہ ہوں اگلی آیتیں۔
(ان سے کہو) "مجھے اُس وقت کی کوئی خبر نہ تھی جب ملاء اعلیٰ میں جھگڑا ہو رہا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
مجھے ان بلند قدر فرشتوں کی (بات چیت کا) کوئی علم ہی نہیں جبکہ وه تکرار کر رہے تھے
احمد رضا خان بریلوی
مجھے عالم بالا کی کیا خبر تھی جب وہ جھگڑتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
مجھے تو ملاءِ اعلیٰ (عالمِ بالا) کی کوئی خبر نہ تھی جبکہ وہ (فرشتے) آپس میں بحث کر رہے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
مجھے سب سے اونچی مجلس کے متعلق کبھی کچھ علم نہیں، جب وہ آپس میں جھگڑتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نبی علیہ السلام کا خواب ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرماتا ہے کہ کافروں سے کہہ دو کہ میری نسبت تمہارے خیالات محض غلط ہیں میں تو تمہیں ڈر کی خبر پہچانے والا ہوں۔ اللہ وحدہ لا شریک لہ کے سوا اور کوئی قابل پرستش نہیں وہ اکیلا ہے وہ ہرچیز پر غالب ہے، ہرچیز اس کے ماتحت ہے۔ وہ زمین و آسمان اور ہرچیز کا مالک ہے اور سب تصرفات اسی کے قبضے میں ہیں۔ وہ عزتوں والا ہے اور باوجود اس عظمت و عزت کے بڑا بخشنے والا ہے۔ یہ بہت بڑی چیز ہے یعنی میرا رسول بن کر تمہاری طرف آنا پھر تم اے غافلو! اس سے اعراض کر رہے ہو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بڑی چیز ہے یعنی قرآن کریم۔ آدم علیہ السلام کے بارے میں فرشتوں میں جو کچھ اختلاف ہوا اگر رب کی وحی میرے پاس نہ آئی ہوتی تو مجھے اس کی بابت کیا علم ہوتا؟ ابلیس کا آپ کو سجدہ کرنے سے منکر ہونا اور رب کے سامنے اس کی مخالفت کرنا اور اپنی بڑائی جتانا وغیرہ ان سب باتوں کو میں کیا جانوں؟
مسند احمد میں ہے ایک دن صبح کی نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت دیر لگا دی یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کا وقت آ گیا پھر بہت جلدی کرتے ہوئے آئے تکبیر کہی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلکی نماز پڑھائی۔ پھر ہم سے فرمایا ذرا دیر ٹھہرے رہو پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا رات کو میں تہجد کی نماز پڑھ رہا تھا جو مجھے اونگھ آنے لگی یہاں تک کہ میں جاگا میں نے دیکھا کہ گویا میں اپنے رب کے پاس ہوں میں نے اپنے پروردگار کو بہترین عمدہ صورت میں دیکھا مجھ سے جناب باری نے دریافت فرمایا جانتے ہو عالم بالا کے فرشتے اس وقت کس امر میں گفتگو اور سوال و جواب کر رہے ہیں؟ میں نے کہا میرے رب مجھے کیا خبر؟ تین مرتبہ کے سوال و جواب کے بعد میں نے دیکھا کہ میرے دونوں مونڈھوں کے درمیان اللہ عزوجل نے اپنا ہاتھ رکھا یہاں تک کہ انگلیوں کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی اور مجھ پر ہر ایک چیز روشن ہو گئی پھر مجھ سے سوال کیا اب بتاؤ ملاء اعلیٰ میں کیا بات چیت ہو رہی ہے؟ میں نے کہا گناہوں کے کفارے کی۔ فرمایا پھر تم بتاؤ کفارے کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نماز با جماعت کے لیے قدم اٹھا کر جانا۔ نمازوں کے بعد مسجدوں میں بیٹھے رہنا اور دل کے نہ چاہنے پر بھی کامل وضو کرنا۔ پھر مجھ سے میرے اللہ نے پوچھا درجے کیا ہیں؟ میں نے کہا کھانا کھلانا۔ نرم کلامی کرنا اور راتوں کو جب لوگ سوئے پڑے ہوں نماز پڑھنا۔ اب مجھ سے میرے رب نے فرمایا مانگ کیا مانگتا ہے؟ میں نے کہا میں نیکیوں کا کرنا برائیوں کا چھوڑنا مسکینوں سے محبت رکھنا اور تیری بخشش، تیرا رحم اور تیرا ارادہ جب کسی قوم کی آزمائش کا فتنے کے ساتھ ہو تو اسے فتنے میں مبتلا ہونے سے پہلے موت، تیری محبت اور تجھ سے محبت رکھنے والوں کی محبت اور ان کاموں کی چاہت جو تیری محبت سے قریب کرنے والے ہوں مانگتا ہوں اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ سراسر حق ہے اسے پڑھو پڑھاؤ سیکھو سکھاؤ۔ [مسند احمد:243/5:صحیح] [سنن ترمذي:3235،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث خواب کی ہے اور مشہور بھی یہی ہے بعض نے کہا ہے یہ جاگتے کا واقعہ ہے لیکن یہ غلط ہے بلکہ صحیح یہ ہے کہ یہ واقعہ خواب کا ہے اور یہ بھی خیال رہے کہ قرآن میں فرشتوں کی جس بات کا رد و بدل کرنا اس آیت میں مذکور ہے وہ یہ نہیں جو اس حدیث میں ہے بلکہ یہ سوال تو وہ ہے جس کا ذکر اس کے بعد ہی ہے ملاحظہ ہوں اگلی آیتیں۔
69۔ 1 ملاء اعلٰی سے مراد فرشتے ہیں، یعنی وہ کس بات پر بحث کر رہے ہیں؟ میں نہیں جانتا۔ ممکن ہے، اس اختصام (بحث و تکرار) سے مراد وہ گفتگو ہو جو تخلیق آدم ؑ کے وقت ہوئی۔ جیسا کہ آگے اس کا ذکر آرہا ہے۔
(آیت 70،69) {مَا كَانَ لِيَ مِنْ عِلْمٍۭ …:} سب سے اونچی مجلس سے مراد آسمانوں پر فرشتوں کی مجلس ہے۔ {” كَانَ “} ہمیشگی کا معنی دیتا ہے، اس پر نفی آنے سے نفی کی ہمیشگی مراد ہوتی ہے، یعنی فرشتوں کی مجلس میں جو بحث ہوتی ہے مجھے اس کا کبھی کچھ علم نہیں ہوتا، میں عالم الغیب نہیں، اس کے متعلق میں جو کچھ تمھیں بتاتا ہوں وہ وحی الٰہی کے ذریعے سے مجھے معلوم ہوتا ہے اور وہ بھی صرف ان بحثوں کے متعلق کہ جن کا تعلق لوگوں کی ہدایت اور انھیں خبردار کرنے اور ڈرانے سے ہوتا ہے۔ یہ وحی الٰہی میری نبوت کی بھی دلیل ہے، کیونکہ اگر وحی نہ ہوتی تو میں ملأ اعلیٰ میں ہونے والی کوئی بات تمھیں نہ بتا سکتا۔ ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملأ اعلیٰ کی ایک مجلس کی گفتگو کا ذکر فرمایا، معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے صبح کی نماز سے رکے رہے، یہاں تک کہ قریب تھا کہ ہم سورج کی ٹکیہ دیکھ لیں، پھر آپ جلدی سے نکلے، نماز کی اقامت کہی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور اس میں اختصار سے کام لیا، جب سلام پھیرا تو آواز کے ساتھ ہمیں فرمایا، اپنی اپنی جگہ اسی طرح بیٹھے رہو، پھر فرمایا: [ أَمَا إِنِّيْ سَأُحَدِّثُكُمْ مَا حَبَسَنِيْ عَنْكُمُ الْغَدَاةَ إِنِّيْ قُمْتُ مِنَ اللَّيْلِ فَتَوَضَّأْتُ فَصَلَّيْتُ مَا قُدِّرَ لِيْ فَنَعَسْتُ فِيْ صَلاَتِيْ حَتَّی اسْتَثْقَلْتُ فَإِذَا أَنَا بِرَبِّيْ تَبَارَكَ وَ تَعَالٰی فِيْ أَحْسَنِ صُوْرَةٍ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ! قُلْتُ لَبَّيْكَ رَبِّ قَالَ فِيْمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلٰی؟ قُلْتُ لَا أَدْرِيْ قَالَهَا ثَلاَثًا قَالَ فَرَأَيْتُهُ وَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ حَتّٰی وَجَدْتُّ بَرْدَ أَنَامِلِهِ بَيْنَ ثَدْيَيَّ فَتَجَلّٰی لِيْ كُلُّ شَيْءٍ وَ عَرَفْتُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ! قُلْتُ لَبَّيْكَ رَبِّ قَالَ فِيْمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلٰی؟ قُلْتُ فِي الْكَفَّارَاتِ قَالَ مَا هُنَّ؟ قُلْتُ مَشْيُ الْأَقْدَامِ إِلَی الْجَمَاعَاتِ وَ الْجُلُوْسُ فِي الْمَسَاجِدِ بَعْدَ الصَّلَوَاتِ وَ إِسْبَاغُ الْوُضُوْءِ فِي الْمَكْرُوْهَاتِ قَالَ ثُمَّ فِيْمَ؟ قُلْتُ إِطْعَامُ الطَّعَامِ وَ لِيْنُ الْكَلاَمِ وَ الصَّلاَةُ بِاللَّيْلِ وَ النَّاسُ نِيَامٌ، قَالَ سَلْ قُلْتُ اللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَ تَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ وَ حُبَّ الْمَسَاكِيْنِ وَ أَنْ تَغْفِرَ لِيْ وَ تَرْحَمَنِيْ وَ إِذَا أَرَدْتَّ فِتْنَةً فِيْ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِيْ غَيْرَ مَفْتُوْنٍ وَأَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَ حُبَّ مَنْ يُّحِبُّكَ وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُ إِلٰی حُبِّكَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ إِنَّهَا حَقٌّ فَادْرُسُوْهَا ثُمَّ تَعَلَّمُوْهَا ] [ترمذي، التفسیر، باب سورۃ صٓ: ۳۲۳۵ ] ”سنو! میں تمھیں بتاؤں گا کہ آج صبح مجھے تم سے کس چیز نے روکے رکھا، میں رات کو اٹھا، وضو کیا اور جتنی نماز قسمت میں تھی وہ پڑھی، نماز میں مجھے نیند آگئی، حتیٰ کہ میں بوجھل ہو گیا تو اچانک میں اپنے رب کو بہترین صورت میں دیکھتا ہوں۔ اس نے فرمایا: ”اے محمد!“ میں نے کہا: ”حاضر ہوں، اے میرے رب!“ فرمایا: ”ملأ اعلیٰ کس چیز میں بحث کر رہے ہیں؟“ میں نے کہا: ”میں نہیں جانتا۔“ اللہ تعالیٰ نے یہ بات تین دفعہ کہی، تو میں نے اسے دیکھا کہ اس نے اپنی ہتھیلی میرے کندھوں کے درمیان رکھی، یہاں تک کہ میں نے اس کے پوروں کی ٹھنڈک اپنے سینے کے درمیان محسوس کی، تو میرے لیے ہر چیز روشن ہو گئی اور میں نے پہچان لی۔ پھر فرمایا: ”اے محمد!“ میں نے کہا: ”حاضر ہوں اے میرے رب!“ فرمایا: ”ملأ اعلیٰ کس چیز میں بحث کر رہے ہیں؟“ میں نے کہا: ”کفارات کے بارے میں۔“ فرمایا: ”وہ کیا ہیں؟“ میں نے کہا: ”پیدل چل کر جماعت (کے ساتھ نماز) کے لیے جانا اور نمازوں کے بعد مسجدوں میں بیٹھنا اور ناپسندیدہ وقتوں میں وضو کرنا۔“ فرمایا: ”پھر کس چیز میں؟“ میں نے کہا: ”کھانا کھلانے میں اور نرم کلام میں اور رات کو نماز کے بارے میں جب لوگ سوئے ہوئے ہوں۔“ فرمایا: ”مانگ۔“ تو میں نے یہ دعا کی: ”({اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ} “ سے لے کر {” يُقَرِّبُ إِلٰي حُبِّكَ“} تک) اے اللہ! میں تجھ سے نیکیاں کرنے کا سوال کرتا ہوں اور برائیاں ترک کرنے کا اور مسکینوں کی محبت کا اور یہ کہ تو مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم کرے اور جب تو کسی قوم میں فتنے کا ارادہ کرے تو مجھے فتنے میں مبتلا ہوئے بغیر فوت کر لے، اور میں تجھ سے تیری محبت کا سوال کرتا ہوں اور اس شخص کی محبت کا جو تجھ سے محبت کرتا ہے اور اس عمل کی محبت کا جو تیری محبت کے قریب کر دے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دعا حق ہے، اسے پڑھو، پھر اسے اچھی طرح سیکھو۔“ ترمذی نے فرمایا: ”یہ حدیث حسن صحیح ہے، میں نے محمد بن اسماعیل (بخاری) سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔“ شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔
مجھ کو تو وحی کے ذریعہ سے یہ باتیں صرف اس لیے بتائی جاتی ہیں کہ میں کھلا کھلا خبردار کرنے والا ہوں"
مولانا محمد جوناگڑھی
میری طرف فقط یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں تو صاف صاف آگاه کر دینے واﻻ ہوں
احمد رضا خان بریلوی
مجھے تو یہی وحی ہوتی ہے کہ میں نہیں مگر روشن ڈر سنانے والا
علامہ محمد حسین نجفی
میری طرف اس لئے وحی کی جاتی ہے کہ میں ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
میری طرف اس کے سوا وحی نہیں کی جاتی کہ میں تو صرف کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نبی علیہ السلام کا خواب ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرماتا ہے کہ کافروں سے کہہ دو کہ میری نسبت تمہارے خیالات محض غلط ہیں میں تو تمہیں ڈر کی خبر پہچانے والا ہوں۔ اللہ وحدہ لا شریک لہ کے سوا اور کوئی قابل پرستش نہیں وہ اکیلا ہے وہ ہرچیز پر غالب ہے، ہرچیز اس کے ماتحت ہے۔ وہ زمین و آسمان اور ہرچیز کا مالک ہے اور سب تصرفات اسی کے قبضے میں ہیں۔ وہ عزتوں والا ہے اور باوجود اس عظمت و عزت کے بڑا بخشنے والا ہے۔ یہ بہت بڑی چیز ہے یعنی میرا رسول بن کر تمہاری طرف آنا پھر تم اے غافلو! اس سے اعراض کر رہے ہو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بڑی چیز ہے یعنی قرآن کریم۔ آدم علیہ السلام کے بارے میں فرشتوں میں جو کچھ اختلاف ہوا اگر رب کی وحی میرے پاس نہ آئی ہوتی تو مجھے اس کی بابت کیا علم ہوتا؟ ابلیس کا آپ کو سجدہ کرنے سے منکر ہونا اور رب کے سامنے اس کی مخالفت کرنا اور اپنی بڑائی جتانا وغیرہ ان سب باتوں کو میں کیا جانوں؟
مسند احمد میں ہے ایک دن صبح کی نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت دیر لگا دی یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کا وقت آ گیا پھر بہت جلدی کرتے ہوئے آئے تکبیر کہی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلکی نماز پڑھائی۔ پھر ہم سے فرمایا ذرا دیر ٹھہرے رہو پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا رات کو میں تہجد کی نماز پڑھ رہا تھا جو مجھے اونگھ آنے لگی یہاں تک کہ میں جاگا میں نے دیکھا کہ گویا میں اپنے رب کے پاس ہوں میں نے اپنے پروردگار کو بہترین عمدہ صورت میں دیکھا مجھ سے جناب باری نے دریافت فرمایا جانتے ہو عالم بالا کے فرشتے اس وقت کس امر میں گفتگو اور سوال و جواب کر رہے ہیں؟ میں نے کہا میرے رب مجھے کیا خبر؟ تین مرتبہ کے سوال و جواب کے بعد میں نے دیکھا کہ میرے دونوں مونڈھوں کے درمیان اللہ عزوجل نے اپنا ہاتھ رکھا یہاں تک کہ انگلیوں کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی اور مجھ پر ہر ایک چیز روشن ہو گئی پھر مجھ سے سوال کیا اب بتاؤ ملاء اعلیٰ میں کیا بات چیت ہو رہی ہے؟ میں نے کہا گناہوں کے کفارے کی۔ فرمایا پھر تم بتاؤ کفارے کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نماز با جماعت کے لیے قدم اٹھا کر جانا۔ نمازوں کے بعد مسجدوں میں بیٹھے رہنا اور دل کے نہ چاہنے پر بھی کامل وضو کرنا۔ پھر مجھ سے میرے اللہ نے پوچھا درجے کیا ہیں؟ میں نے کہا کھانا کھلانا۔ نرم کلامی کرنا اور راتوں کو جب لوگ سوئے پڑے ہوں نماز پڑھنا۔ اب مجھ سے میرے رب نے فرمایا مانگ کیا مانگتا ہے؟ میں نے کہا میں نیکیوں کا کرنا برائیوں کا چھوڑنا مسکینوں سے محبت رکھنا اور تیری بخشش، تیرا رحم اور تیرا ارادہ جب کسی قوم کی آزمائش کا فتنے کے ساتھ ہو تو اسے فتنے میں مبتلا ہونے سے پہلے موت، تیری محبت اور تجھ سے محبت رکھنے والوں کی محبت اور ان کاموں کی چاہت جو تیری محبت سے قریب کرنے والے ہوں مانگتا ہوں اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ سراسر حق ہے اسے پڑھو پڑھاؤ سیکھو سکھاؤ۔ [مسند احمد:243/5:صحیح] [سنن ترمذي:3235،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث خواب کی ہے اور مشہور بھی یہی ہے بعض نے کہا ہے یہ جاگتے کا واقعہ ہے لیکن یہ غلط ہے بلکہ صحیح یہ ہے کہ یہ واقعہ خواب کا ہے اور یہ بھی خیال رہے کہ قرآن میں فرشتوں کی جس بات کا رد و بدل کرنا اس آیت میں مذکور ہے وہ یہ نہیں جو اس حدیث میں ہے بلکہ یہ سوال تو وہ ہے جس کا ذکر اس کے بعد ہی ہے ملاحظہ ہوں اگلی آیتیں۔
70۔ 1 یعنی میری ذمہ داری یہی ہے کہ میں وہ فرائض و پیغام تمہیں بتادوں جن کے اختیار کرنے سے تم عذاب الٰہی سے بچ جاؤ گے۔
جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا "میں مٹی سے ایک بشر بنانے والا ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
جبکہ آپ کے رب نے فرشتوں سے ارشاد فرمایا کہ میں مٹی سے انسان کو پیدا کرنے واﻻ ہوں
احمد رضا خان بریلوی
جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں مٹی سے انسان بناؤں گا
علامہ محمد حسین نجفی
(وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے) جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں گیلی مٹی سے ایک بشر (انسان) پیدا کرنے والا ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ بے شک میں تھوڑی سی مٹی سے ایک بشر بنانے والا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی ٭٭
یہ قصہ سورۃ البقرہ، سورۃ الاعراف، سورۃ الحجر، سورۃ الإسراء، سورۃ الکہف اور اس سورۃ ص میں بیان ہوا ہے۔ آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہو جائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہو گئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا؟ یہ تکبر! اور یہ سرکشی؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی؟ اس خطاکار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہو گیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہو گیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہو جا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کر دی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ کو منظور بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا «قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا» [ 17- الإسراء: 62 ] ، اور «اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ» [ 15- الحجر: 42 ] فالحق کو مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے «وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ» [ 32- السجدة: 13 ] یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے «قَالَ اذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَّوْفُورًا» [ 17-سورة الإسراء: 65 ] ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
71۔ 1 یہ قصہ اس سے قبل سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة بنی اسرائیل اور سورة کہف میں بیان ہوچکا ہے اب اسے یہاں بھی اجمالاً بیان کیا جا رہا ہے۔ 71۔ 2 یعنی ایک جسم، جنس بشر سے بنانے والا ہوں۔ انسان کو بشر، زمین سے اس کی مباشرت کی وجہ سے کہا۔ یعنی زمین سے ہی اس کی ساری وابستگی ہے اور وہ سب کچھ اسی زمین پر کرتا ہے۔ یا اس لئے کہ وہ بادی البشرۃ ہے۔ یعنی اس کا جسم یا چہرہ ظاہر ہے
(آیت 71تا74) ➊ { اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ…:} یہ ملأ اعلیٰ میں ہونے والی ایک بحث کا ذکر ہے جو آدم علیہ السلام کی پیدائش کے متعلق ہوئی۔ اس مجلس میں فرشتوں کے ساتھ ابلیس بھی تھا اور اسے بھی آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ تفصیل سورۂ اعراف (۱۱) میں دیکھیے۔ مفسر رازی نے فرمایا: ”اس قصّے کے یہاں خاص طور پر ذکر کی مناسبت یہ ہے کہ کفار کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے سے روکنے والی چیز ان کا حسد اور کبر تھا، ابلیس پر لعنت کا سبب بھی اس کا آدم علیہ السلام پر حسد اور کبر تھا، اس لیے کفار کو یہ قصّہ سنایا۔“ ➋ اللہ تعالیٰ کے آدم علیہ السلام کو مٹی سے بنانے، اس میں اپنی روح پھونکنے، فرشتوں کو آدم کے سامنے سجدے کا حکم دینے اور شیطان کے سجدے سے انکار اور اس کے نتیجے کے متعلق تفصیل پہلے کئی مقامات پر گزر چکی ہے۔ مثلاً دیکھیے سورۂ بقرہ (۳۰ تا ۳۸)، حجر (۲۵ تا ۴۳)، اعراف (۱۱ تا ۲۵)، بنی اسرائیل (۶۱ تا ۶۵)، کہف (۵۰) اور سورۂ طٰہٰ (۱۱۶ تا ۱۲۳)۔
پھر جب میں اسے پوری طرح بنا دوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم اس کے آگے سجدے میں گر جاؤ"
مولانا محمد جوناگڑھی
سو جب میں اسے ٹھیک ٹھاک کر لوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں، تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا
احمد رضا خان بریلوی
پھر جب میں اسے ٹھیک بنالوں اور اس میں اپنی طرف کی روح پھونکوں تو تم اس کے لیے سجدے میں گرنا،
علامہ محمد حسین نجفی
جب میں اسے تیار کر لوں اور اس میں اپنی خاص روح پھونک دوں تو تم اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جانا۔
عبدالسلام بن محمد
تو جب میں اسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح سے پھونک دوں تو تم اس کے سامنے سجدہ کرتے ہوئے گر جاؤ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی ٭٭
یہ قصہ سورۃ البقرہ، سورۃ الاعراف، سورۃ الحجر، سورۃ الإسراء، سورۃ الکہف اور اس سورۃ ص میں بیان ہوا ہے۔ آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہو جائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہو گئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا؟ یہ تکبر! اور یہ سرکشی؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی؟ اس خطاکار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہو گیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہو گیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہو جا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کر دی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ کو منظور بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا «قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا» [ 17- الإسراء: 62 ] ، اور «اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ» [ 15- الحجر: 42 ] فالحق کو مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے «وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ» [ 32- السجدة: 13 ] یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے «قَالَ اذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَّوْفُورًا» [ 17-سورة الإسراء: 65 ] ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
72۔ 1 یعنی اسے انسانی پیکر میں ڈھال لوں اور اس کے تمام اجزا درست اور برابر کرلوں۔ 72۔ 2 یعنی وہ روح، جس کا میں ہی مالک ہوں، میرے سوا اس کا کوئی اختیار نہیں رکھتا اور جس کے پھونکتے ہی یہ پیکر خاکی، زندگی، حرکت اور توانائی سے بہرہ یاب ہوجائے گا۔ انسان کے شرف و عظمت کے لئے یہی بات کافی ہے کہ اس میں وہ روح پھونکی گئی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی روح قرار دیا ہے۔ 72۔ 3 یہ سجدہ تحیہ یا سجدہ تعظیم ہے، سجدہ عبادت نہیں۔ یہ تعظیمی سجدہ پہلے جائز تھا، اسی لئے اللہ نے آدم ؑ کے لئے فرشتوں کو اس کا حکم دیا۔ اب اسلام میں تعظیمی سجدہ بھی کسی کے لئے جائز نہیں ہے۔ حدیث میں آتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر یہ جائز ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے (مشکوٰۃ، کتاب النکاح
تو سب فرشتو ں نے سجدہ کیا ایک ایک نے کہ کوئی باقی نہ رہا،
علامہ محمد حسین نجفی
تو (حسب الحکم) سب فرشتوں نے سجدہ کیا۔
عبدالسلام بن محمد
پس تمام فرشتوں، سب کے سب نے سجدہ کیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی ٭٭
یہ قصہ سورۃ البقرہ، سورۃ الاعراف، سورۃ الحجر، سورۃ الإسراء، سورۃ الکہف اور اس سورۃ ص میں بیان ہوا ہے۔ آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہو جائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہو گئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا؟ یہ تکبر! اور یہ سرکشی؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی؟ اس خطاکار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہو گیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہو گیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہو جا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کر دی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ کو منظور بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا «قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا» [ 17- الإسراء: 62 ] ، اور «اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ» [ 15- الحجر: 42 ] فالحق کو مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے «وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ» [ 32- السجدة: 13 ] یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے «قَالَ اذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَّوْفُورًا» [ 17-سورة الإسراء: 65 ] ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
73۔ 1 یہ انسان کا دوسرا شرف ہے کہ اسے مسجود ملائک بنایا۔ یعنی فرشتے جیسی مقدس مخلوق نے تعظیماً سجدہ کیا۔
مگر ابلیس نے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا اور وہ کافروں میں سے ہو گیا
مولانا محمد جوناگڑھی
مگر ابلیس نے (نہ کیا)، اس نے تکبر کیا اور وه تھا کافروں میں سے
احمد رضا خان بریلوی
مگر ابلیس نے اس نے غرور کیا اور وہ تھا ہی کافروں میں
علامہ محمد حسین نجفی
سوائے ابلیس کے کہ اس نے تکبر کیا اور کافروں میں سے ہوگیا۔
عبدالسلام بن محمد
سوائے ابلیس کے، اس نے تکبر کیا اور کافروں سے ہو گیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی ٭٭
یہ قصہ سورۃ البقرہ، سورۃ الاعراف، سورۃ الحجر، سورۃ الإسراء، سورۃ الکہف اور اس سورۃ ص میں بیان ہوا ہے۔ آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہو جائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہو گئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا؟ یہ تکبر! اور یہ سرکشی؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی؟ اس خطاکار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہو گیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہو گیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہو جا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کر دی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ کو منظور بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا «قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا» [ 17- الإسراء: 62 ] ، اور «اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ» [ 15- الحجر: 42 ] فالحق کو مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے «وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ» [ 32- السجدة: 13 ] یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے «قَالَ اذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَّوْفُورًا» [ 17-سورة الإسراء: 65 ] ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
74۔ 1 اگر ابلیس کو صفات ملائکہ سے متصف مانا جائے تو یہ استثنا متصل ہوگا یعنی ابلیس اس حکم سجدہ میں داخل ہوگا بصورت دیگر یہ استثنا منقطع ہے یعنی وہ اس حکم میں داخل نہیں تھا لیکن آسمان پر رہنے کی وجہ سے اسے بھی حکم دیا گیا۔ مگر اس نے تکبر کی وجہ سے انکار کردیا۔ 74۔ 2 یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت اور اس کی اطاعت سے استکبار کی وجہ سے وہ کافر ہوگیا۔ یا اللہ کے علم میں وہ کافر تھا۔
رب نے فرمایا "اے ابلیس، تجھے کیا چیز اُس کو سجدہ کرنے سے مانع ہوئی جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے؟ تو بڑا بن رہا ہے یا تو ہے ہی کچھ اونچے درجے کی ہستیوں میں سے؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا اے ابلیس! تجھے اسے سجده کرنے سے کس چیز نے روکا جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا۔ کیا تو کچھ گھمنڈ میں آگیا ہے؟ یا تو بڑے درجے والوں میں سے ہے
احمد رضا خان بریلوی
فرمایا اے ابلیس تجھے کس چیز نے روکا کہ تو اس کے لیے سجدہ کرے جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تجھے غرور آگیا یا تو تھا ہی مغروروں میں
علامہ محمد حسین نجفی
ارشاد ہوا اے ابلیس! تجھے کس چیز نے روکا کہ اس کے سامنے سجدہ کرے جسے میں نے اپنی طاقت و قدرت سے پیدا کیا ہے؟ کیا تو نے تکبر کیا ہے یا تو سرکشوں میں سے ہوگیا ہے؟
عبدالسلام بن محمد
فرمایا اے ابلیس!تجھے کس چیز نے روکا کہ تو اس کے لیے سجدہ کرے جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا؟ کیا تو بڑا بن گیا، یا تھا ہی اونچے لوگوں میں سے ؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی ٭٭
یہ قصہ سورۃ البقرہ، سورۃ الاعراف، سورۃ الحجر، سورۃ الإسراء، سورۃ الکہف اور اس سورۃ ص میں بیان ہوا ہے۔ آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہو جائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہو گئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا؟ یہ تکبر! اور یہ سرکشی؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی؟ اس خطاکار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہو گیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہو گیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہو جا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کر دی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ کو منظور بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا «قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا» [ 17- الإسراء: 62 ] ، اور «اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ» [ 15- الحجر: 42 ] فالحق کو مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے «وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ» [ 32- السجدة: 13 ] یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے «قَالَ اذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَّوْفُورًا» [ 17-سورة الإسراء: 65 ] ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
75۔ 1 یہ بھی انسان کے شرف و عظمت کے اظہار کے لئے فرمایا، ورنہ ہر چیز کا خالق اللہ ہی ہے۔
(آیت 75تا85) ➊ { قَالَ يٰۤاِبْلِيْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ:} اس آیت سے آدم علیہ السلام کا شرف اور ان کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صاف لفظوں میں فرمایا کہ میں نے اسے اپنے دو ہاتھوں سے بنایا۔ بعض لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں کا انکار کرتے ہیں اور اس کی تاویل کرتے ہیں، مگر جب خود اس نے اپنے ہاتھوں کا ذکر فرمایا ہے تو اس کا انکار کیسے کیا جا سکتا ہے؟ تفصیل سورۂ مائدہ کی آیت (۶۴) میں اللہ تعالیٰ کے فرمان: «بَلْ يَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ» کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔ ➋ { اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِيْنَ: ” اَسْتَكْبَرْتَ “} اصل میں {”أَ اِسْتَكْبَرْتَ“} تھا، ہمزہ استفہام آنے کے بعد ہمزہ وصلی کی ضرورت نہ رہی، اس لیے اسے حذف کر دیا۔ تفصیل سورۂ حجر (۳۲ تا ۴۰) میں دیکھیے۔
اُس نے جواب دیا "میں اُس سے بہتر ہوں، آپ نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اس نے جواب دیا کہ میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے بنایا، اور اسے مٹی سے بنایا ہے
احمد رضا خان بریلوی
بولا میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے پیدا کیا،
علامہ محمد حسین نجفی
اس نے کہا میں اس (آدم(ع)) سے بہتر ہوں (کیونکہ) تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے گیلی مٹی سے پیدا کیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور تو نے اسے مٹی سے پیدا کیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی ٭٭
یہ قصہ سورۃ البقرہ، سورۃ الاعراف، سورۃ الحجر، سورۃ الإسراء، سورۃ الکہف اور اس سورۃ ص میں بیان ہوا ہے۔ آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہو جائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہو گئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا؟ یہ تکبر! اور یہ سرکشی؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی؟ اس خطاکار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہو گیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہو گیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہو جا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کر دی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ کو منظور بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا «قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا» [ 17- الإسراء: 62 ] ، اور «اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ» [ 15- الحجر: 42 ] فالحق کو مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے «وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ» [ 32- السجدة: 13 ] یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے «قَالَ اذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَّوْفُورًا» [ 17-سورة الإسراء: 65 ] ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
76۔ 1 یعنی شیطان نے یہ سمجھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ حالانکہ یہ سب جواہر (ہم جنس یا قریب قریب ایک ہی درجے میں) ہیں۔ اس میں سے کسی کو دوسرے پر شرف کسی عارض (خارجی سبب) ہی کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے اور یہ عارض، آگ کے مقابلے میں، مٹی کے حصے میں آیا، کہ اللہ نے اسی سے آدم ؑ کو اپنے ہاتھوں سے بنایا۔ پھر اس میں اپنی روح پھونکی اس لحاظ سے مٹی ہی کو آگ کے مقابلے میں شرف و عظمت حاصل ہے۔ علاوہ ازیں آگ کا کام جلا کر خاکستر کردینا، جب کہ مٹی اس کے برعکس انواع و اقسام کی پیداوار کا مأخذ ہے۔
فرمایا تو جنت سے نکل جا کہ تو راندھا (لعنت کیا) گیا
علامہ محمد حسین نجفی
ارشاد ہوا تو یہاں (جنت) سے نکل جا کیونکہ تو راندۂ درگاہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
فرمایا پھر اس سے نکل جا، کیونکہ بلا شبہ تو مردود ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی ٭٭
یہ قصہ سورۃ البقرہ، سورۃ الاعراف، سورۃ الحجر، سورۃ الإسراء، سورۃ الکہف اور اس سورۃ ص میں بیان ہوا ہے۔ آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہو جائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہو گئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا؟ یہ تکبر! اور یہ سرکشی؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی؟ اس خطاکار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہو گیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہو گیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہو جا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کر دی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ کو منظور بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا «قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا» [ 17- الإسراء: 62 ] ، اور «اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ» [ 15- الحجر: 42 ] فالحق کو مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے «وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ» [ 32- السجدة: 13 ] یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے «قَالَ اذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَّوْفُورًا» [ 17-سورة الإسراء: 65 ] ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
یہ قصہ سورۃ البقرہ، سورۃ الاعراف، سورۃ الحجر، سورۃ الإسراء، سورۃ الکہف اور اس سورۃ ص میں بیان ہوا ہے۔ آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہو جائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہو گئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا؟ یہ تکبر! اور یہ سرکشی؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی؟ اس خطاکار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہو گیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہو گیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہو جا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کر دی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ کو منظور بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا «قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا» [ 17- الإسراء: 62 ] ، اور «اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ» [ 15- الحجر: 42 ] فالحق کو مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے «وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ» [ 32- السجدة: 13 ] یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے «قَالَ اذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَّوْفُورًا» [ 17-سورة الإسراء: 65 ] ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
وہ بولا "ا ے میرے رب، یہ بات ہے تو پھر مجھے اُس وقت تک کے لیے مہلت دے دے جب یہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہنے لگا میرے رب مجھے لوگوں کے اٹھ کھڑے ہونے کے دن تک مہلت دے
احمد رضا خان بریلوی
بولا اے میرے رب ایسا ہے تو مجھے مہلت دے اس دن تک کہ اٹھائے جائیں
علامہ محمد حسین نجفی
اس نے کہا اے پروردگار! مجھے اس دن تک مہلت دے جب لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا اے میرے رب !پھر مجھے اس دن تک کے لیے مہلت دے جس میں یہ اٹھا ئے جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی ٭٭
یہ قصہ سورۃ البقرہ، سورۃ الاعراف، سورۃ الحجر، سورۃ الإسراء، سورۃ الکہف اور اس سورۃ ص میں بیان ہوا ہے۔ آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہو جائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہو گئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا؟ یہ تکبر! اور یہ سرکشی؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی؟ اس خطاکار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہو گیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہو گیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہو جا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کر دی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ کو منظور بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا «قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا» [ 17- الإسراء: 62 ] ، اور «اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ» [ 15- الحجر: 42 ] فالحق کو مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے «وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ» [ 32- السجدة: 13 ] یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے «قَالَ اذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَّوْفُورًا» [ 17-سورة الإسراء: 65 ] ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
فرمایا پس بے شک تو ان لوگوں سے ہے جنھیں مہلت دی گئی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی ٭٭
یہ قصہ سورۃ البقرہ، سورۃ الاعراف، سورۃ الحجر، سورۃ الإسراء، سورۃ الکہف اور اس سورۃ ص میں بیان ہوا ہے۔ آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہو جائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہو گئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا؟ یہ تکبر! اور یہ سرکشی؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی؟ اس خطاکار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہو گیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہو گیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہو جا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کر دی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ کو منظور بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا «قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا» [ 17- الإسراء: 62 ] ، اور «اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ» [ 15- الحجر: 42 ] فالحق کو مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے «وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ» [ 32- السجدة: 13 ] یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے «قَالَ اذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَّوْفُورًا» [ 17-سورة الإسراء: 65 ] ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
یہ قصہ سورۃ البقرہ، سورۃ الاعراف، سورۃ الحجر، سورۃ الإسراء، سورۃ الکہف اور اس سورۃ ص میں بیان ہوا ہے۔ آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہو جائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہو گئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا؟ یہ تکبر! اور یہ سرکشی؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی؟ اس خطاکار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہو گیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہو گیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہو جا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کر دی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ کو منظور بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا «قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا» [ 17- الإسراء: 62 ] ، اور «اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ» [ 15- الحجر: 42 ] فالحق کو مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے «وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ» [ 32- السجدة: 13 ] یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے «قَالَ اذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَّوْفُورًا» [ 17-سورة الإسراء: 65 ] ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
اس نے کہا "تیری عزت کی قسم، میں اِن سب لوگو ں کو بہکا کر رہوں گا
مولانا محمد جوناگڑھی
کہنے لگا پھر تو تیری عزت کی قسم! میں ان سب کو یقیناً بہکا دوں گا
احمد رضا خان بریلوی
بولا تیری عزت کی قسم ضرور میں ان سب کو گمراہ کردوں گا،
علامہ محمد حسین نجفی
ابلیس نے کہا تیری عزت کی قسم! میں سب لوگوں کو گمراہ کروں گا۔
عبدالسلام بن محمد
کہا تو قسم ہے تیری عزت کی! کہ میں ضرور بالضرور ان سب کو گمراہ کر دوں گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی ٭٭
یہ قصہ سورۃ البقرہ، سورۃ الاعراف، سورۃ الحجر، سورۃ الإسراء، سورۃ الکہف اور اس سورۃ ص میں بیان ہوا ہے۔ آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہو جائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہو گئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا؟ یہ تکبر! اور یہ سرکشی؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی؟ اس خطاکار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہو گیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہو گیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہو جا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کر دی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ کو منظور بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا «قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا» [ 17- الإسراء: 62 ] ، اور «اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ» [ 15- الحجر: 42 ] فالحق کو مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے «وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ» [ 32- السجدة: 13 ] یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے «قَالَ اذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَّوْفُورًا» [ 17-سورة الإسراء: 65 ] ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
یہ قصہ سورۃ البقرہ، سورۃ الاعراف، سورۃ الحجر، سورۃ الإسراء، سورۃ الکہف اور اس سورۃ ص میں بیان ہوا ہے۔ آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہو جائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہو گئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا؟ یہ تکبر! اور یہ سرکشی؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی؟ اس خطاکار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہو گیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہو گیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہو جا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کر دی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ کو منظور بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا «قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا» [ 17- الإسراء: 62 ] ، اور «اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ» [ 15- الحجر: 42 ] فالحق کو مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے «وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ» [ 32- السجدة: 13 ] یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے «قَالَ اذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَّوْفُورًا» [ 17-سورة الإسراء: 65 ] ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
یہ قصہ سورۃ البقرہ، سورۃ الاعراف، سورۃ الحجر، سورۃ الإسراء، سورۃ الکہف اور اس سورۃ ص میں بیان ہوا ہے۔ آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہو جائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہو گئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا؟ یہ تکبر! اور یہ سرکشی؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی؟ اس خطاکار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہو گیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہو گیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہو جا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کر دی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ کو منظور بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا «قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا» [ 17- الإسراء: 62 ] ، اور «اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ» [ 15- الحجر: 42 ] فالحق کو مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے «وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ» [ 32- السجدة: 13 ] یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے «قَالَ اذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَّوْفُورًا» [ 17-سورة الإسراء: 65 ] ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
کہ میں جہنم کو تجھ سے اور اُن سب لوگوں سے بھر دوں گا جو اِن انسانوں میں سے تیری پیروی کریں گے"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہ تجھ سے اور تیرے تمام ماننے والوں سے میں (بھی) جہنم کو بھر دوں گا
احمد رضا خان بریلوی
بیشک میں ضرور جہنم بھردوں گا تجھ سے اور ان میں سے جتنے تیری پیروی کریں گے سب سے،
علامہ محمد حسین نجفی
کہ میں بھی دوزخ بھر دوں گا تجھ سے اور ان لوگوں سے جو تیری پیروی کریں گے۔
عبدالسلام بن محمد
کہ میں ضرور بالضرور جہنم کو تجھ سے اور ان سب لوگوں سے بھر دوں گا، جو ان میں سے تیری پیروی کریں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی ٭٭
یہ قصہ سورۃ البقرہ، سورۃ الاعراف، سورۃ الحجر، سورۃ الإسراء، سورۃ الکہف اور اس سورۃ ص میں بیان ہوا ہے۔ آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہو جائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہو گئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا؟ یہ تکبر! اور یہ سرکشی؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی؟ اس خطاکار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہو گیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہو گیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہو جا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کر دی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ کو منظور بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا «قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا» [ 17- الإسراء: 62 ] ، اور «اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ» [ 15- الحجر: 42 ] فالحق کو مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے «وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ» [ 32- السجدة: 13 ] یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے «قَالَ اذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَّوْفُورًا» [ 17-سورة الإسراء: 65 ] ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
(اے نبیؐ) اِن سے کہہ دو کہ میں اس تبلیغ پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا، اور نہ میں بناوٹی لوگوں میں سے ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس پر کوئی بدلہ طلب نہیں کرتا اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ میں اس قرآن پر تم سے کچھ اجر نہیں مانگتا اور میں بناوٹ والوں سے نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
آپ(ص) کہہ دیجئے! کہ اس (تبلیغِ رسالت) پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا اور نہ ہی میں بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے میںتم سے اس پر کوئی اجرت نہیں مانگتا اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں سے ہوں ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ لوگوں میں آپ اعلان کر دیں کہ میں تبلیغ دین پر اور احکام قرآن پر تم سے کوئی اجرت و بدلہ نہیں مانگتا۔ اس سے میرا مقصود کوئی دنیوی نفع حاصل کرنا نہیں اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں، کہ اللہ نے نہ اتارا ہو اور میں جوڑ لوں۔ مجھے تو جو کچھ پہنچایا جاتا ہے وہی میں تمہیں پہنچا دیتا ہوں نہ کمی کروں نہ زیادتی اور میرا مقصود اس سے صرف رضائے رب اور مرضی مولیٰ ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں لوگو! جسے کسی مسئلہ کا علم ہو وہ اسے لوگوں سے بیان کر دے اور جو نہ جانتا ہو وہ کہدے کہ اللہ جانے۔ دیکھو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہی فرمایا کہ میں تکلف کرنے والا نہیں ہوں۔ یہ قرآن تمام انسانوں اور جنوں کے لیے نصیحت ہے جیسے اور آیت میں ہے «لِأُنذِرَكُم بِهِ وَمَن بَلَغَ ۚ أَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ أَنَّ مَعَ اللَّـهِ آلِهَةً أُخْرَىٰ ۚ قُل لَّا أَشْهَدُ ۚ قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ وَإِنَّنِي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ» [ 6-الانعام: 19 ] تاکہ میں تمہیں اور جن جن لوگوں تک یہ پہنچے آگاہ اور ہوشیار کر دوں اور آیت میں ہے کہ «وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الْأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ» [ 11-هود: 17 ] جو شخص بھی اس سے کفر کرے وہ جہنمی ہے۔ میری باتوں کی حقیقت میرے کلام کی تصدیق میرے بیان کی سچائی میرے زبان کی صداقت تمہیں ابھی ابھی معلوم ہو جائے گی یعنی مرتے ہی، قیامت کے قائم ہوتے ہی۔ موت کے وقت یقین آ جائے گا اور میری کہی ہوئی خبریں اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔ «واللہ اعلم بالصواب» ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ ص کی تفسیم ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کے انعام و احسان پر اس کا شکر ہے۔
86۔ 1 یعنی اس دعوت و تبلیغ سے میرا مقصد صرف امر الٰہی ہے، دنیا کمانا نہیں۔ 86۔ 2 یعنی اپنی طرف سے گھڑ کر اللہ کی طرف ایسی بات منسوب کردوں جو اس نے نہ کہی ہو یا میں تمہیں ایسی بات کی طرف دعوت دوں جس کا حکم اللہ نے مجھے نہ دیا ہو بلکہ کوئی کمی بیشی کئے بغیر میں اللہ کے احکام تم تک پہنچا رہا ہوں۔
(آیت 86) ➊ {قُلْ مَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ …:} یعنی آپ ان سے کہہ دیں کہ میں دین کی تبلیغ پر تم سے کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا، نہ میرا مقصود اس سے کوئی دنیوی فائدہ حاصل کرنا ہے اور نہ ہی میں تکلّف کرنے والوں سے ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے نازل نہ کیا ہو اور میں اپنے پاس سے بنا لوں، یا کسی دوسرے کی بات کو اپنی طرف منسوب کر لوں۔ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ہم عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انھوں نے فرمایا: [ نُهِيْنَا عَنِ التَّكَلُّفِ ] [ بخاري، الإعتصام بالکتاب والسنۃ، باب ما یکرہ من کثرۃ السؤال و من تکلف…: ۷۲۹۳ ] ”ہمیں تکلّف سے منع کر دیا گیا ہے۔“ ➋ { ” الْمُتَكَلِّفِيْنَ “} کا مطلب عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس قول سے بھی معلوم ہوتا ہے جو امام بخاری رحمہ اللہ نے اس سورت کی تفسیر میں نقل فرمایا ہے، مسروق کہتے ہیں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور انھوں نے فرمایا: [ يَا أَيُّهَا النَّاسُ! مَنْ عَلِمَ شَيْئًا فَلْيَقُلْ بِهِ، وَ مَنْ لَّمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلِ اللّٰهُ أَعْلَمُ، فَإِنَّ مِنَ الْعِلْمِ أَنْ يَّقُوْلَ لِمَا لَا يَعْلَمُ اللّٰهُ أَعْلَمُ، قَالَ اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ لِنَبِيِّهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُلْ مَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِيْنَ» ] [ بخاري، التفسیر، باب، قولہ: «وما أنا من المتکلفین» : ۴۸۰۹ ] ”لوگو! جو شخص کوئی چیز جانتا ہے وہ اسے بیان کرے اور جو نہیں جانتا وہ کہہ دے ”اللہ اعلم“ کہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے، کیونکہ یہ بھی علم میں داخل ہے کہ جو بات نہ جانتا ہو اس کے متعلق کہہ دے ”اللہ اعلم“ کہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ اللہ عز و جل نے اپنے نبی سے فرمایا: «قُلْ مَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِيْنَ» ”کہہ دے میں تم سے اس پر کوئی اجرت نہیں مانگتا اور نہ ہی میں بناوٹ کرنے والوں سے ہوں۔“
یہ تو تمام جہان والوں کے لئے سراسر نصیحت (وعبرت) ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہ تو نہیں مگر نصیحت سارے جہان کے لیے،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ (قرآن) نہیں ہے مگر سب جہانوں کیلئے نصیحت۔
عبدالسلام بن محمد
نہیں ہے یہ مگر ایک نصیحت تمام جہانوں کے لیے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ لوگوں میں آپ اعلان کر دیں کہ میں تبلیغ دین پر اور احکام قرآن پر تم سے کوئی اجرت و بدلہ نہیں مانگتا۔ اس سے میرا مقصود کوئی دنیوی نفع حاصل کرنا نہیں اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں، کہ اللہ نے نہ اتارا ہو اور میں جوڑ لوں۔ مجھے تو جو کچھ پہنچایا جاتا ہے وہی میں تمہیں پہنچا دیتا ہوں نہ کمی کروں نہ زیادتی اور میرا مقصود اس سے صرف رضائے رب اور مرضی مولیٰ ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں لوگو! جسے کسی مسئلہ کا علم ہو وہ اسے لوگوں سے بیان کر دے اور جو نہ جانتا ہو وہ کہدے کہ اللہ جانے۔ دیکھو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہی فرمایا کہ میں تکلف کرنے والا نہیں ہوں۔ یہ قرآن تمام انسانوں اور جنوں کے لیے نصیحت ہے جیسے اور آیت میں ہے «لِأُنذِرَكُم بِهِ وَمَن بَلَغَ ۚ أَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ أَنَّ مَعَ اللَّـهِ آلِهَةً أُخْرَىٰ ۚ قُل لَّا أَشْهَدُ ۚ قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ وَإِنَّنِي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ» [ 6-الانعام: 19 ] تاکہ میں تمہیں اور جن جن لوگوں تک یہ پہنچے آگاہ اور ہوشیار کر دوں اور آیت میں ہے کہ «وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الْأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ» [ 11-هود: 17 ] جو شخص بھی اس سے کفر کرے وہ جہنمی ہے۔ میری باتوں کی حقیقت میرے کلام کی تصدیق میرے بیان کی سچائی میرے زبان کی صداقت تمہیں ابھی ابھی معلوم ہو جائے گی یعنی مرتے ہی، قیامت کے قائم ہوتے ہی۔ موت کے وقت یقین آ جائے گا اور میری کہی ہوئی خبریں اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔ «واللہ اعلم بالصواب» ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ ص کی تفسیم ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کے انعام و احسان پر اس کا شکر ہے۔
87۔ 1 یعنی یہ قرآن، وحی یا وہ دعوت، جو میں پیش کر رہا ہوں، دنیا بھر کے انسانوں اور جنات کے لئے نصیحت ہے۔ بشرطیکہ کوئی اس سے نصیحت حاصل کرنے کا قصد کرے۔
(آیت 87) {اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ:} اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ یوسف (۱۰۴)۔
اور تھوڑی مدت ہی گزرے گی کہ تمہیں اس کا حال خود معلوم ہو جائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً تم اس کی حقیقت کو کچھ ہی وقت کے بعد (صحیح طور پر) جان لو گے
احمد رضا خان بریلوی
اور ضرور ایک وقت کے بعد تم اس کی خبر جانو گے
علامہ محمد حسین نجفی
اور تمہیں کچھ مدت کے بعد اس کی خبر معلوم ہو جائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
اور یقینا تم اس کی خبر کچھ وقت کے بعد ضرور جان لو گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ لوگوں میں آپ اعلان کر دیں کہ میں تبلیغ دین پر اور احکام قرآن پر تم سے کوئی اجرت و بدلہ نہیں مانگتا۔ اس سے میرا مقصود کوئی دنیوی نفع حاصل کرنا نہیں اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں، کہ اللہ نے نہ اتارا ہو اور میں جوڑ لوں۔ مجھے تو جو کچھ پہنچایا جاتا ہے وہی میں تمہیں پہنچا دیتا ہوں نہ کمی کروں نہ زیادتی اور میرا مقصود اس سے صرف رضائے رب اور مرضی مولیٰ ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں لوگو! جسے کسی مسئلہ کا علم ہو وہ اسے لوگوں سے بیان کر دے اور جو نہ جانتا ہو وہ کہدے کہ اللہ جانے۔ دیکھو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہی فرمایا کہ میں تکلف کرنے والا نہیں ہوں۔ یہ قرآن تمام انسانوں اور جنوں کے لیے نصیحت ہے جیسے اور آیت میں ہے «لِأُنذِرَكُم بِهِ وَمَن بَلَغَ ۚ أَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ أَنَّ مَعَ اللَّـهِ آلِهَةً أُخْرَىٰ ۚ قُل لَّا أَشْهَدُ ۚ قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ وَإِنَّنِي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ» [ 6-الانعام: 19 ] تاکہ میں تمہیں اور جن جن لوگوں تک یہ پہنچے آگاہ اور ہوشیار کر دوں اور آیت میں ہے کہ «وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الْأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ» [ 11-هود: 17 ] جو شخص بھی اس سے کفر کرے وہ جہنمی ہے۔ میری باتوں کی حقیقت میرے کلام کی تصدیق میرے بیان کی سچائی میرے زبان کی صداقت تمہیں ابھی ابھی معلوم ہو جائے گی یعنی مرتے ہی، قیامت کے قائم ہوتے ہی۔ موت کے وقت یقین آ جائے گا اور میری کہی ہوئی خبریں اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔ «واللہ اعلم بالصواب» ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ ص کی تفسیم ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کے انعام و احسان پر اس کا شکر ہے۔
88۔ 1 یعنی قرآن نے جن چیزوں کو بیان کیا ہے، جو وعدے وعید ذکر کئے ہیں، ان کی حقیقت و صداقت بہت جلد تمہارے سامنے آجائے گی۔ چناچہ اس کی صداقت یوم بدر کو واضح ہوئی، فتح مکہ کے دن ہوئی یا پھر موت کے وقت تو سب پر ہی واضح ہوجاتی ہے۔
(آیت 88) {وَ لَتَعْلَمُنَّ نَبَاَهٗ بَعْدَ حِيْنٍ:} یعنی قرآن مجید میں جو وعدے یا وعید آئے ہیں، یا اس نے آئندہ کے متعلق جو کچھ بتایا ہے ان کا حق ہونا کچھ وقت کے بعد دنیا میں دیکھ لو گے، جیسا کہ بدر اور دوسرے مواقع پر کفار نے دیکھ لیا، یا پھر موت کے بعد قیامت کے دن ہر حال میں دیکھ لو گے۔