بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ ص — Surah Sad
آیت نمبر 29
کل آیات: 88
قرآن کریم ص آیت 29
آیت نمبر: 29 — سورۃ ص islamicurdubooks.com ↗
کِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰہُ اِلَیۡکَ مُبٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوۡۤا اٰیٰتِہٖ وَ لِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴿۲۹﴾
یہ ایک بڑی برکت والی کتاب ہے جو (اے محمدؐ) ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ یہ لوگ اس کی آیات پر غور کریں اور عقل و فکر رکھنے والے اس سے سبق لیں
یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اس لئے نازل فرمایا ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور وفکر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں
یہ ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری برکت والی تاکہ اس کی آیتوں کو سوچیں اور عقلمند نصیحت مانیں،
یہ وہ بابرکت کتاب ہے جو ہم نے آپ پر نازل کی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ اہلِ عقل و فہم نصیحت حاصل کریں۔
یہ ایک کتاب ہے، ہم نے اسے تیری طرف نازل کیا ہے، بہت بابرکت ہے، تاکہ وہ اس کی آیات میں غوروفکر کریں اور تاکہ عقلوں والے نصیحت حاصل کریں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مخلوق کی پیدائش عبث اور بیکار نہیں ٭٭

ارشاد ہے کہ مخلوق کی پیدائش عبث اور بیکار نہیں یہ سب عبادتِ خالق کے لیے پیدا کی گئی ہے پھر ایک وقت آنے والا ہے کہ ماننے والے کی سربلندی کی جائے اور نہ ماننے والوں کو سخت سزا دی جائے۔ کافروں کا خیال ہے کہ ہم نے انہیں یونہی پیدا کر دیا ہے؟ اور آخرت اور دوسری زندگی کوئی چیز نہیں یہ غلط ہے۔ ان کافروں کو قیامت کے دن بڑی خرابی ہو گی کیونکہ اس آگ میں انہیں جلنا پڑے گا جو ان کے لیے اللہ کے فرشتوں نے بڑھکا رکھی ہے۔ یہ ناممکن ہے اور ان ہونی بات ہے کہ مومن و مفسد کو اور پرہیزگار اور بدکار کو ایک جیسا کر دیں۔ اگر قیامت آنے والی ہی نہ ہو تو یہ دونوں انجام کے لحاظ سے یکساں ہی رہے۔ حالانکہ یہ خلاف انصاف ہے قیامت ضرور آئے گی نیک کار جنت میں اور گنہگار جہنم میں جائیں گے۔ پس عقلی اقتضا بھی دار آخرت کے ثبوت کو ہی چاہتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ظالم پاپی اللہ کی درگاہ سے راندہ ہوا دنیا میں خوش وقت ہے مال اولاد فراغت تندرستی سب کچھ اس کے پاس ہے اور ایک مومن متقی پاک دامن ایک ایک پیسے سے تنگ ایک ایک راحت سے دور رہے تو حکمت علیم و حکیم و عادل کا اقتضاء یہ تھا کہ کوئی ایسا وقت بھی آئے کہ اس نمک حرام سے اس کی نمک حرامی کا بدلہ لیا جائے اور اس صابر و شاکر فرمانبردار کی نیکیوں کا اسے بدلہ دیا جائے اور یہی دار آخرت میں ہونا ہے۔

پس ثابت ہوا کہ اس جہان کے بعد ایک جہاں یقیناً ہے۔ چونکہ یہ پاک تعلیم قرآن سے ہی حاصل ہوئی ہے اور اس نیکی کا رہبر یہی ہے اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ یہ مبارک کتاب ہم نے تیری طرف نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اسے سمجھیں اور ذی عقل لوگ اس سے نصیحت حاصل کر سکیں۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس نے قرآن کے الفاظ حفظ کر لیے اور قرآن پر عمل نہیں کیا اس نے قرآن میں تدبر و غور بھی نہیں کیا لوگ کہتے ہیں ہم نے پورا قرآن پڑھ لیا لیکن قرآن کی ایک نصیحت یا قرآن کے ایک حکم کا نمونہ ان میں نظر نہیں آتا ایسا نہ چاہیئے۔ اصل غور و خوض اور نصیحت و عبرت عمل ہے۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 29) ➊ {كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ مُبٰرَكٌ:} یعنی جب نیک و بد ایک جیسے نہیں ہو سکتے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نیکی اور بدی کی راہ نمائی ضروری ہے۔ اس کے لیے یہ کتاب ہے جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی ہے، یہ بہت برکت والی ہے، یعنی اس میں بہت زیادہ خیر کی باتیں جمع ہیں۔ ➋ {لِيَدَّبَّرُوْۤا اٰيٰتِهٖ …: ” لِيَدَّبَّرُوْۤا “} اصل میں {”لِيَتَدَبَّرُوْا“} (تفعّل) ہے۔ یعنی یہ کتاب نازل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ اس کی آیات میں غور و فکر کریں اور عقلوں والے لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں، کیونکہ نصیحت وہی حاصل کیا کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ» [ الرعد: ۱۹ ] ”نصیحت تو صرف عقلوں والے ہی قبول کرتے ہیں۔“ آیات میں تدبّر کا فائدہ تب ہے جب آدمی ان پر عمل کرے۔ ابنِ کثیر رحمہ اللہ نے حسن بصری کا قول نقل فرمایا ہے: ”اللہ کی قسم! قرآن کا تدبّر صرف یہ نہیں کہ اس کے الفاظ حفظ کر لیے جائیں اور اس کی حدود و احکام کو ضائع کر دیا جائے، یہاں تک کہ کچھ لوگ کہتے ہیں، میں نے پورا قرآن پڑھ لیا ہے، حالانکہ قرآن کا کوئی اثر نہ ان کے اخلاق و عادات میں نظر آتا ہے نہ ان کے اعمال اور کاموں میں۔“ اسے ابنِ ابی حاتم نے روایت کیا۔ (ابن کثیر)
← پچھلی آیت (28) پوری سورۃ اگلی آیت (30) →