«قارعہ» بھی قیامت کا ایک نام ہے جیسے «الْحَاقَّةِ» ، «الطَّامَّةِ» ، «الصَّاخَّةِ» ، «الْغَاشِيَةِ» وغیرہ اس کی بڑائی اور ہولناکی کے بیان کے لیے سوال ہوتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے؟ اس کا علم بغیر میرے بتائے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا، پھر خود بتاتا ہے کہ اس دن لوگ منتشر اور پراگندہ حیران و پریشان ادھر ادھر گھوم رہے ہوں گے، جس طرح پروانے ہوتے ہیں۔ اور جگہ فرمایا ہے «كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ» ۱؎ [54-القمر:7] گویا وہ ٹڈیاں ہیں پھیلی ہوئیں۔ پھر فرمایا: پہاڑوں کا یہ حال ہو گا کہ وہ دھنی ہوئی اون کی طرح ادھر ادھر اڑتے نظر آئیں گے، پھر فرماتا ہے اس دن ہر نیک و بد کا انجام ظاہر ہو جائے گا، نیکوں کی بزرگی اور بروں کی اہانت کھل جائے گی، جس کی نیکیاں وزن میں برائیوں سے بڑھ گئیں وہ عیش و آرام کی زندگی جنت میں بسر کرے گا، اور جس کی بدیاں نیکیوں پر چھا گئیں، بھلائیوں کا پلڑا ہلکا ہو گیا وہ جہنمی ہو جائے گا، وہ منہ کے بل اوندھا جہنم میں گرا دیا جائے گا۔ «ام» سے مراد دماغ ہے یعنی سر کے بل «ہاویہ» میں جائے گا اور یہ بھی معنی ہیں کہ فرشتے جہنم میں اس کے سر پر عذابوں کی بارش برسائیں گے اور یہ بھی مطلب ہے کہ اس کا اصلی ٹھکانا وہ جگہ ہے جہاں اس کے لیے قرار گاہ مقرر کیا گیا ہے وہ جہنم ہے۔ «هَاوِيَةٌ» جہنم کا نام ہے اسی لیے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں نہیں معلوم کہ «ہاویہ» کیا ہے؟ اب میں بتاتا ہوں کہ وہ شعلے مارتی بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔
اشعث بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مومن کی موت کے بعد فرشے اس کی روح کو ایمانداروں کی روحوں کی طرف لے جاتے ہیں اور فرتے ان سے کہتے ہیں کہ اپنے بھائی کی دلجوئی اور تسکین کرو یہ دنیا کے رنج و غم میں مبتلا تھا، اب وہ نیک روحیں اس سے پوچھتی ہیں کہ فلاں کا کیا حال ہے؟ وہ کہتا ہے کہ وہ تو مر چکا تمہارے پاس نہیں آیا تو یہ سمجھ لیتے ہیں اور کہتے ہیں پھونکو اسے وہ تو اپنی ماں «ہاویہ» میں پہنچا۔ ابن مردویہ کی ایک مرفوع حدیث میں یہ بیان خوب سبط سے ہے اور ہم نے بھی اسے کتاب «صفتہ النار» میں وارد کیا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل و کرم سے اس آگ جہنم سے نجات دے، آمین! پھر فرماتا ہے کہ وہ سخت تیز حرارت والی آگ ہے بڑے شعلے مارنے والی جھلسا دینے والی۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہاری یہ آگ تو اس کا سترھواں حصہ ہے“، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہلاکت کو تو یہی کافی ہے، آپ نے فرمایا: ”ہاں، لیکن آتش دوزخ تو اس سے انہتر حصے تیز ہے“ }۔ صحیح بخاری میں یہ حدیث ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ { ہر ایک حصہ اس آگ جیسا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3265] مسند احمد میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:467/2:صحیح] مسند احمد کی ایک حدیث میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ { یہ آگ باوجود اس آگ کا سترھواں حصہ ہونے کے پھر بھی دو مرتبہ سمندر کے پانی میں بجھا کر بھیجی گئی ہے اگر یہ نہ ہوتا تو اس سے بھی نفع نہ اٹھا سکتے }۔ ۱؎ [مسند احمد:244/2:صحیح] اور حدیث میں ہے { یہ آگ سوواں حصہ ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:379/2:اسنادہ قوی] طبرانی میں ہے { جانتے ہو کہ تمہاری اس آگ اور جہنم کی آگ کے درمیان کیا نسبت ہے؟ تمہاری اس آگ کے دھوئیں سے بھی ستر حصہ زیادہ سیاہ خود وہ آگ ہے }۔ ۱؎ [طبرانی اوسط:489:صحیح] ترمذی اور ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ { جہنم کی آگ ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سرخ ہوئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سفید ہو گئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سیاہ ہو گئی، پس وہ سخت سیاہ اور بالکل اندھیرے والی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4320،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی وہ ہے، جس کے پیروں میں آگ کی دو جوتیاں ہوں گی، جس سے اس کا دماغ کھدبدا رہا ہو گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:432/2:صحیح لغیرہ] بخاری و مسلم میں ہے کہ { آگ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے اللہ! میرا ایک حصہ دوسرے کو کھائے جا رہا ہے تو پروردگار نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی ایک جاڑے میں، ایک گرمی میں، پس سخت جاڑا جو تم پاتے ہو اس کا سرد سانس ہے اور سخت گرمی جو پڑتی ہے یہ اس کے گرم سانس کا اثر ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3657] اور حدیث میں ہے کہ { جب گرمی شدت کی پڑے تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو گرمی کی سختی جہنم کے جوش کی وجہ سے ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:536] «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ القارعہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
کھڑ کھڑا دینے والی
یہ سورت مکی ہے اور اس میں قیامت کے احوال، اعمال کے وزن اور ان کی جزا و سزا کا بیان ہے۔ (آیت 1){ اَلْقَارِعَةُ:”قَرَعَ يَقْرَعُ قَرْعًا“} (ف) شدت کے ساتھ دروازہ کھٹکھٹانا۔ {” اَلْقَارِعَةُ “ ” الطَّاۤمَّةُ، الصَّاۤخَّةُ، اَلْحَاۤقَّةُ، الْغَاشِيَةِ “} اور {” الْوَاقِعَةُ “ } کی طرح قیامت کا ایک نام ہے، کیونکہ صور کی آواز کانوں اور دلوں بلکہ ہر چیز کے ساتھ شدت سے ٹکرائے گی، حتیٰ کہ اس آواز کی وجہ سے زمین اور پہاڑ بھی ایک دوسرے سے ٹکرا جائیں گے،جیساکہ فرمایا: «وَ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةً» [ الحآقۃ: ۱۴ ] ”اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھایا جائے گا، پس دونوں ٹکرا دیے جائیں گے، ایک بار ٹکرا دینا۔“
«قارعہ» بھی قیامت کا ایک نام ہے جیسے «الْحَاقَّةِ» ، «الطَّامَّةِ» ، «الصَّاخَّةِ» ، «الْغَاشِيَةِ» وغیرہ اس کی بڑائی اور ہولناکی کے بیان کے لیے سوال ہوتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے؟ اس کا علم بغیر میرے بتائے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا، پھر خود بتاتا ہے کہ اس دن لوگ منتشر اور پراگندہ حیران و پریشان ادھر ادھر گھوم رہے ہوں گے، جس طرح پروانے ہوتے ہیں۔ اور جگہ فرمایا ہے «كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ» ۱؎ [54-القمر:7] گویا وہ ٹڈیاں ہیں پھیلی ہوئیں۔ پھر فرمایا: پہاڑوں کا یہ حال ہو گا کہ وہ دھنی ہوئی اون کی طرح ادھر ادھر اڑتے نظر آئیں گے، پھر فرماتا ہے اس دن ہر نیک و بد کا انجام ظاہر ہو جائے گا، نیکوں کی بزرگی اور بروں کی اہانت کھل جائے گی، جس کی نیکیاں وزن میں برائیوں سے بڑھ گئیں وہ عیش و آرام کی زندگی جنت میں بسر کرے گا، اور جس کی بدیاں نیکیوں پر چھا گئیں، بھلائیوں کا پلڑا ہلکا ہو گیا وہ جہنمی ہو جائے گا، وہ منہ کے بل اوندھا جہنم میں گرا دیا جائے گا۔ «ام» سے مراد دماغ ہے یعنی سر کے بل «ہاویہ» میں جائے گا اور یہ بھی معنی ہیں کہ فرشتے جہنم میں اس کے سر پر عذابوں کی بارش برسائیں گے اور یہ بھی مطلب ہے کہ اس کا اصلی ٹھکانا وہ جگہ ہے جہاں اس کے لیے قرار گاہ مقرر کیا گیا ہے وہ جہنم ہے۔ «هَاوِيَةٌ» جہنم کا نام ہے اسی لیے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں نہیں معلوم کہ «ہاویہ» کیا ہے؟ اب میں بتاتا ہوں کہ وہ شعلے مارتی بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔
اشعث بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مومن کی موت کے بعد فرشے اس کی روح کو ایمانداروں کی روحوں کی طرف لے جاتے ہیں اور فرتے ان سے کہتے ہیں کہ اپنے بھائی کی دلجوئی اور تسکین کرو یہ دنیا کے رنج و غم میں مبتلا تھا، اب وہ نیک روحیں اس سے پوچھتی ہیں کہ فلاں کا کیا حال ہے؟ وہ کہتا ہے کہ وہ تو مر چکا تمہارے پاس نہیں آیا تو یہ سمجھ لیتے ہیں اور کہتے ہیں پھونکو اسے وہ تو اپنی ماں «ہاویہ» میں پہنچا۔ ابن مردویہ کی ایک مرفوع حدیث میں یہ بیان خوب سبط سے ہے اور ہم نے بھی اسے کتاب «صفتہ النار» میں وارد کیا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل و کرم سے اس آگ جہنم سے نجات دے، آمین! پھر فرماتا ہے کہ وہ سخت تیز حرارت والی آگ ہے بڑے شعلے مارنے والی جھلسا دینے والی۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہاری یہ آگ تو اس کا سترھواں حصہ ہے“، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہلاکت کو تو یہی کافی ہے، آپ نے فرمایا: ”ہاں، لیکن آتش دوزخ تو اس سے انہتر حصے تیز ہے“ }۔ صحیح بخاری میں یہ حدیث ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ { ہر ایک حصہ اس آگ جیسا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3265] مسند احمد میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:467/2:صحیح] مسند احمد کی ایک حدیث میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ { یہ آگ باوجود اس آگ کا سترھواں حصہ ہونے کے پھر بھی دو مرتبہ سمندر کے پانی میں بجھا کر بھیجی گئی ہے اگر یہ نہ ہوتا تو اس سے بھی نفع نہ اٹھا سکتے }۔ ۱؎ [مسند احمد:244/2:صحیح] اور حدیث میں ہے { یہ آگ سوواں حصہ ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:379/2:اسنادہ قوی] طبرانی میں ہے { جانتے ہو کہ تمہاری اس آگ اور جہنم کی آگ کے درمیان کیا نسبت ہے؟ تمہاری اس آگ کے دھوئیں سے بھی ستر حصہ زیادہ سیاہ خود وہ آگ ہے }۔ ۱؎ [طبرانی اوسط:489:صحیح] ترمذی اور ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ { جہنم کی آگ ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سرخ ہوئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سفید ہو گئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سیاہ ہو گئی، پس وہ سخت سیاہ اور بالکل اندھیرے والی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4320،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی وہ ہے، جس کے پیروں میں آگ کی دو جوتیاں ہوں گی، جس سے اس کا دماغ کھدبدا رہا ہو گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:432/2:صحیح لغیرہ] بخاری و مسلم میں ہے کہ { آگ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے اللہ! میرا ایک حصہ دوسرے کو کھائے جا رہا ہے تو پروردگار نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی ایک جاڑے میں، ایک گرمی میں، پس سخت جاڑا جو تم پاتے ہو اس کا سرد سانس ہے اور سخت گرمی جو پڑتی ہے یہ اس کے گرم سانس کا اثر ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3657] اور حدیث میں ہے کہ { جب گرمی شدت کی پڑے تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو گرمی کی سختی جہنم کے جوش کی وجہ سے ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:536] «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ القارعہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
2۔ 1 یہ بھی قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے جسے اس سے قبل متعدد نام گزر چکے ہیں مثلاً اَ لْحاقَّۃُ، الطَّاَمَّۃُ، صَّاَخَّہُ، اَلْغَاشِیَۃُ، الْسَّاعَہُ، الْوَاقِعَۃُ وغیرہ، اسے الْقَارِعَۃُ اس لئے کہتے ہیں کہ یہ اپنی ہولناکیوں سے دلوں کو بیدار اور اللہ کے دشمنوں کو عذاب سے خبردار کر دے گی، جیسے دروازہ کھٹکھٹانے والا کرتا ہے۔
(آیت 3،2) {مَا الْقَارِعَةُ (2) وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُ:} یعنی وہ {” اَلْقَارِعَةُ “} کیا ہے؟ کس قدر عجیب اور کتنی خوف ناک ہے؟ تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ وہ ”قارعہ“ کیا چیز ہے؟ یعنی وہ اتنی عظیم الشان اور عجیب و غریب ہے کہ مخلوق میں سے کوئی اس کی شدت و عظمت جانتا ہی نہیں کہ تجھے بتائے۔ ہاں، اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے، اس لیے اس نے خود ہی اگلی آیت میں اپنے فضل سے اس کا کچھ حال بیان فرما دیا۔
اور تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ وہ کھٹکھٹانے والی کیا ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اعمال کا ترازو ٭٭
«قارعہ» بھی قیامت کا ایک نام ہے جیسے «الْحَاقَّةِ» ، «الطَّامَّةِ» ، «الصَّاخَّةِ» ، «الْغَاشِيَةِ» وغیرہ اس کی بڑائی اور ہولناکی کے بیان کے لیے سوال ہوتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے؟ اس کا علم بغیر میرے بتائے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا، پھر خود بتاتا ہے کہ اس دن لوگ منتشر اور پراگندہ حیران و پریشان ادھر ادھر گھوم رہے ہوں گے، جس طرح پروانے ہوتے ہیں۔ اور جگہ فرمایا ہے «كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ» ۱؎ [54-القمر:7] گویا وہ ٹڈیاں ہیں پھیلی ہوئیں۔ پھر فرمایا: پہاڑوں کا یہ حال ہو گا کہ وہ دھنی ہوئی اون کی طرح ادھر ادھر اڑتے نظر آئیں گے، پھر فرماتا ہے اس دن ہر نیک و بد کا انجام ظاہر ہو جائے گا، نیکوں کی بزرگی اور بروں کی اہانت کھل جائے گی، جس کی نیکیاں وزن میں برائیوں سے بڑھ گئیں وہ عیش و آرام کی زندگی جنت میں بسر کرے گا، اور جس کی بدیاں نیکیوں پر چھا گئیں، بھلائیوں کا پلڑا ہلکا ہو گیا وہ جہنمی ہو جائے گا، وہ منہ کے بل اوندھا جہنم میں گرا دیا جائے گا۔ «ام» سے مراد دماغ ہے یعنی سر کے بل «ہاویہ» میں جائے گا اور یہ بھی معنی ہیں کہ فرشتے جہنم میں اس کے سر پر عذابوں کی بارش برسائیں گے اور یہ بھی مطلب ہے کہ اس کا اصلی ٹھکانا وہ جگہ ہے جہاں اس کے لیے قرار گاہ مقرر کیا گیا ہے وہ جہنم ہے۔ «هَاوِيَةٌ» جہنم کا نام ہے اسی لیے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں نہیں معلوم کہ «ہاویہ» کیا ہے؟ اب میں بتاتا ہوں کہ وہ شعلے مارتی بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔
اشعث بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مومن کی موت کے بعد فرشے اس کی روح کو ایمانداروں کی روحوں کی طرف لے جاتے ہیں اور فرتے ان سے کہتے ہیں کہ اپنے بھائی کی دلجوئی اور تسکین کرو یہ دنیا کے رنج و غم میں مبتلا تھا، اب وہ نیک روحیں اس سے پوچھتی ہیں کہ فلاں کا کیا حال ہے؟ وہ کہتا ہے کہ وہ تو مر چکا تمہارے پاس نہیں آیا تو یہ سمجھ لیتے ہیں اور کہتے ہیں پھونکو اسے وہ تو اپنی ماں «ہاویہ» میں پہنچا۔ ابن مردویہ کی ایک مرفوع حدیث میں یہ بیان خوب سبط سے ہے اور ہم نے بھی اسے کتاب «صفتہ النار» میں وارد کیا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل و کرم سے اس آگ جہنم سے نجات دے، آمین! پھر فرماتا ہے کہ وہ سخت تیز حرارت والی آگ ہے بڑے شعلے مارنے والی جھلسا دینے والی۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہاری یہ آگ تو اس کا سترھواں حصہ ہے“، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہلاکت کو تو یہی کافی ہے، آپ نے فرمایا: ”ہاں، لیکن آتش دوزخ تو اس سے انہتر حصے تیز ہے“ }۔ صحیح بخاری میں یہ حدیث ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ { ہر ایک حصہ اس آگ جیسا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3265] مسند احمد میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:467/2:صحیح] مسند احمد کی ایک حدیث میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ { یہ آگ باوجود اس آگ کا سترھواں حصہ ہونے کے پھر بھی دو مرتبہ سمندر کے پانی میں بجھا کر بھیجی گئی ہے اگر یہ نہ ہوتا تو اس سے بھی نفع نہ اٹھا سکتے }۔ ۱؎ [مسند احمد:244/2:صحیح] اور حدیث میں ہے { یہ آگ سوواں حصہ ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:379/2:اسنادہ قوی] طبرانی میں ہے { جانتے ہو کہ تمہاری اس آگ اور جہنم کی آگ کے درمیان کیا نسبت ہے؟ تمہاری اس آگ کے دھوئیں سے بھی ستر حصہ زیادہ سیاہ خود وہ آگ ہے }۔ ۱؎ [طبرانی اوسط:489:صحیح] ترمذی اور ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ { جہنم کی آگ ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سرخ ہوئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سفید ہو گئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سیاہ ہو گئی، پس وہ سخت سیاہ اور بالکل اندھیرے والی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4320،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی وہ ہے، جس کے پیروں میں آگ کی دو جوتیاں ہوں گی، جس سے اس کا دماغ کھدبدا رہا ہو گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:432/2:صحیح لغیرہ] بخاری و مسلم میں ہے کہ { آگ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے اللہ! میرا ایک حصہ دوسرے کو کھائے جا رہا ہے تو پروردگار نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی ایک جاڑے میں، ایک گرمی میں، پس سخت جاڑا جو تم پاتے ہو اس کا سرد سانس ہے اور سخت گرمی جو پڑتی ہے یہ اس کے گرم سانس کا اثر ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3657] اور حدیث میں ہے کہ { جب گرمی شدت کی پڑے تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو گرمی کی سختی جہنم کے جوش کی وجہ سے ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:536] «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ القارعہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
«قارعہ» بھی قیامت کا ایک نام ہے جیسے «الْحَاقَّةِ» ، «الطَّامَّةِ» ، «الصَّاخَّةِ» ، «الْغَاشِيَةِ» وغیرہ اس کی بڑائی اور ہولناکی کے بیان کے لیے سوال ہوتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے؟ اس کا علم بغیر میرے بتائے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا، پھر خود بتاتا ہے کہ اس دن لوگ منتشر اور پراگندہ حیران و پریشان ادھر ادھر گھوم رہے ہوں گے، جس طرح پروانے ہوتے ہیں۔ اور جگہ فرمایا ہے «كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ» ۱؎ [54-القمر:7] گویا وہ ٹڈیاں ہیں پھیلی ہوئیں۔ پھر فرمایا: پہاڑوں کا یہ حال ہو گا کہ وہ دھنی ہوئی اون کی طرح ادھر ادھر اڑتے نظر آئیں گے، پھر فرماتا ہے اس دن ہر نیک و بد کا انجام ظاہر ہو جائے گا، نیکوں کی بزرگی اور بروں کی اہانت کھل جائے گی، جس کی نیکیاں وزن میں برائیوں سے بڑھ گئیں وہ عیش و آرام کی زندگی جنت میں بسر کرے گا، اور جس کی بدیاں نیکیوں پر چھا گئیں، بھلائیوں کا پلڑا ہلکا ہو گیا وہ جہنمی ہو جائے گا، وہ منہ کے بل اوندھا جہنم میں گرا دیا جائے گا۔ «ام» سے مراد دماغ ہے یعنی سر کے بل «ہاویہ» میں جائے گا اور یہ بھی معنی ہیں کہ فرشتے جہنم میں اس کے سر پر عذابوں کی بارش برسائیں گے اور یہ بھی مطلب ہے کہ اس کا اصلی ٹھکانا وہ جگہ ہے جہاں اس کے لیے قرار گاہ مقرر کیا گیا ہے وہ جہنم ہے۔ «هَاوِيَةٌ» جہنم کا نام ہے اسی لیے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں نہیں معلوم کہ «ہاویہ» کیا ہے؟ اب میں بتاتا ہوں کہ وہ شعلے مارتی بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔
اشعث بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مومن کی موت کے بعد فرشے اس کی روح کو ایمانداروں کی روحوں کی طرف لے جاتے ہیں اور فرتے ان سے کہتے ہیں کہ اپنے بھائی کی دلجوئی اور تسکین کرو یہ دنیا کے رنج و غم میں مبتلا تھا، اب وہ نیک روحیں اس سے پوچھتی ہیں کہ فلاں کا کیا حال ہے؟ وہ کہتا ہے کہ وہ تو مر چکا تمہارے پاس نہیں آیا تو یہ سمجھ لیتے ہیں اور کہتے ہیں پھونکو اسے وہ تو اپنی ماں «ہاویہ» میں پہنچا۔ ابن مردویہ کی ایک مرفوع حدیث میں یہ بیان خوب سبط سے ہے اور ہم نے بھی اسے کتاب «صفتہ النار» میں وارد کیا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل و کرم سے اس آگ جہنم سے نجات دے، آمین! پھر فرماتا ہے کہ وہ سخت تیز حرارت والی آگ ہے بڑے شعلے مارنے والی جھلسا دینے والی۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہاری یہ آگ تو اس کا سترھواں حصہ ہے“، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہلاکت کو تو یہی کافی ہے، آپ نے فرمایا: ”ہاں، لیکن آتش دوزخ تو اس سے انہتر حصے تیز ہے“ }۔ صحیح بخاری میں یہ حدیث ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ { ہر ایک حصہ اس آگ جیسا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3265] مسند احمد میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:467/2:صحیح] مسند احمد کی ایک حدیث میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ { یہ آگ باوجود اس آگ کا سترھواں حصہ ہونے کے پھر بھی دو مرتبہ سمندر کے پانی میں بجھا کر بھیجی گئی ہے اگر یہ نہ ہوتا تو اس سے بھی نفع نہ اٹھا سکتے }۔ ۱؎ [مسند احمد:244/2:صحیح] اور حدیث میں ہے { یہ آگ سوواں حصہ ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:379/2:اسنادہ قوی] طبرانی میں ہے { جانتے ہو کہ تمہاری اس آگ اور جہنم کی آگ کے درمیان کیا نسبت ہے؟ تمہاری اس آگ کے دھوئیں سے بھی ستر حصہ زیادہ سیاہ خود وہ آگ ہے }۔ ۱؎ [طبرانی اوسط:489:صحیح] ترمذی اور ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ { جہنم کی آگ ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سرخ ہوئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سفید ہو گئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سیاہ ہو گئی، پس وہ سخت سیاہ اور بالکل اندھیرے والی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4320،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی وہ ہے، جس کے پیروں میں آگ کی دو جوتیاں ہوں گی، جس سے اس کا دماغ کھدبدا رہا ہو گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:432/2:صحیح لغیرہ] بخاری و مسلم میں ہے کہ { آگ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے اللہ! میرا ایک حصہ دوسرے کو کھائے جا رہا ہے تو پروردگار نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی ایک جاڑے میں، ایک گرمی میں، پس سخت جاڑا جو تم پاتے ہو اس کا سرد سانس ہے اور سخت گرمی جو پڑتی ہے یہ اس کے گرم سانس کا اثر ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3657] اور حدیث میں ہے کہ { جب گرمی شدت کی پڑے تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو گرمی کی سختی جہنم کے جوش کی وجہ سے ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:536] «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ القارعہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
4۔ 1 فراش، مچھر اور شمع کے گرد منڈلانے والے پرندے وغیرہ۔ مبثوث، منتشر اور بکھرے ہوئے۔ یعنی قیامت والے دن انسان بھی پروانوں کی طرح پراگندہ اور بکھرے ہوئے ہوں گے۔
(آیت 4) {يَوْمَ يَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ:”اَلْفَرَاشُ“} اسم جنس ہے، مفرد کے لیے {”فَرَاشَةٌ“} آتا ہے، پروانے۔ یعنی جس طرح پروانے بے شمار تعداد میں ایک دوسرے کے گرد اڑتے، گھومتے اور آپس میں ٹکراتے ہوئے آگ کی طرف تیزی سے جا رہے ہوتے ہیں اسی طرح سب لوگ ایسی ہی پریشانی اور تیزی کے ساتھ میدان محشر میں بلانے والے کی طرف جائیں گے، جیساکہ فرمایا: «خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ يَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌ (7) مُّهْطِعِيْنَ اِلَى الدَّاعِ» [ القمر: 8،7 ] ”ان کی نظریں جھکی ہوں گی، وہ قبروں سے نکلیں گے جیسے وہ پھیلی ہوئی ٹڈیاں ہوں۔ پکارنے والے کی طرف گردن اٹھا کر دوڑنے والے ہوں گے۔“ اور فرمایا: «مُهْطِعِيْنَ مُقْنِعِيْ رُءُوْسِهِمْ لَا يَرْتَدُّ اِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ وَ اَفْـِٕدَتُهُمْ هَوَآءٌ» [ إبراہیم: ۴۳ ] ”اس حال میں کہ تیز دوڑنے والے، اپنے سروں کو اوپر اٹھانے والے ہوں گے، ان کی نگاہ ان کی طرف نہیں لوٹے گی اور ان کے دل خالی ہوں گے۔“ اور فرمایا: «يَوْمَىِٕذٍ يَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِيَ لَا عِوَجَ لَهٗ» [ طٰہٰ: ۱۰۸ ] ”اس دن وہ پکارنے والے کا پیچھا کریں گے، جس کے لیے کوئی کجی نہ ہوگی۔“ اور وہاں پہنچ کر بھی انھیں قرار نہیں ہوگا، بلکہ اسی طرح بے قرار و بے تاب بھاگتے پھریں گے، فرمایا: «يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِيْهِ … لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَىِٕذٍ شَاْنٌ يُّغْنِيْهِ» [ عبس: ۳۴ تا ۳۷ ] ”جس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا … اس دن ان میں سے ہر شخص کی ایک ایسی حالت ہوگی جو اسے (دوسروں سے) بے پروا بنا دے گی۔“
«قارعہ» بھی قیامت کا ایک نام ہے جیسے «الْحَاقَّةِ» ، «الطَّامَّةِ» ، «الصَّاخَّةِ» ، «الْغَاشِيَةِ» وغیرہ اس کی بڑائی اور ہولناکی کے بیان کے لیے سوال ہوتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے؟ اس کا علم بغیر میرے بتائے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا، پھر خود بتاتا ہے کہ اس دن لوگ منتشر اور پراگندہ حیران و پریشان ادھر ادھر گھوم رہے ہوں گے، جس طرح پروانے ہوتے ہیں۔ اور جگہ فرمایا ہے «كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ» ۱؎ [54-القمر:7] گویا وہ ٹڈیاں ہیں پھیلی ہوئیں۔ پھر فرمایا: پہاڑوں کا یہ حال ہو گا کہ وہ دھنی ہوئی اون کی طرح ادھر ادھر اڑتے نظر آئیں گے، پھر فرماتا ہے اس دن ہر نیک و بد کا انجام ظاہر ہو جائے گا، نیکوں کی بزرگی اور بروں کی اہانت کھل جائے گی، جس کی نیکیاں وزن میں برائیوں سے بڑھ گئیں وہ عیش و آرام کی زندگی جنت میں بسر کرے گا، اور جس کی بدیاں نیکیوں پر چھا گئیں، بھلائیوں کا پلڑا ہلکا ہو گیا وہ جہنمی ہو جائے گا، وہ منہ کے بل اوندھا جہنم میں گرا دیا جائے گا۔ «ام» سے مراد دماغ ہے یعنی سر کے بل «ہاویہ» میں جائے گا اور یہ بھی معنی ہیں کہ فرشتے جہنم میں اس کے سر پر عذابوں کی بارش برسائیں گے اور یہ بھی مطلب ہے کہ اس کا اصلی ٹھکانا وہ جگہ ہے جہاں اس کے لیے قرار گاہ مقرر کیا گیا ہے وہ جہنم ہے۔ «هَاوِيَةٌ» جہنم کا نام ہے اسی لیے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں نہیں معلوم کہ «ہاویہ» کیا ہے؟ اب میں بتاتا ہوں کہ وہ شعلے مارتی بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔
اشعث بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مومن کی موت کے بعد فرشے اس کی روح کو ایمانداروں کی روحوں کی طرف لے جاتے ہیں اور فرتے ان سے کہتے ہیں کہ اپنے بھائی کی دلجوئی اور تسکین کرو یہ دنیا کے رنج و غم میں مبتلا تھا، اب وہ نیک روحیں اس سے پوچھتی ہیں کہ فلاں کا کیا حال ہے؟ وہ کہتا ہے کہ وہ تو مر چکا تمہارے پاس نہیں آیا تو یہ سمجھ لیتے ہیں اور کہتے ہیں پھونکو اسے وہ تو اپنی ماں «ہاویہ» میں پہنچا۔ ابن مردویہ کی ایک مرفوع حدیث میں یہ بیان خوب سبط سے ہے اور ہم نے بھی اسے کتاب «صفتہ النار» میں وارد کیا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل و کرم سے اس آگ جہنم سے نجات دے، آمین! پھر فرماتا ہے کہ وہ سخت تیز حرارت والی آگ ہے بڑے شعلے مارنے والی جھلسا دینے والی۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہاری یہ آگ تو اس کا سترھواں حصہ ہے“، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہلاکت کو تو یہی کافی ہے، آپ نے فرمایا: ”ہاں، لیکن آتش دوزخ تو اس سے انہتر حصے تیز ہے“ }۔ صحیح بخاری میں یہ حدیث ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ { ہر ایک حصہ اس آگ جیسا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3265] مسند احمد میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:467/2:صحیح] مسند احمد کی ایک حدیث میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ { یہ آگ باوجود اس آگ کا سترھواں حصہ ہونے کے پھر بھی دو مرتبہ سمندر کے پانی میں بجھا کر بھیجی گئی ہے اگر یہ نہ ہوتا تو اس سے بھی نفع نہ اٹھا سکتے }۔ ۱؎ [مسند احمد:244/2:صحیح] اور حدیث میں ہے { یہ آگ سوواں حصہ ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:379/2:اسنادہ قوی] طبرانی میں ہے { جانتے ہو کہ تمہاری اس آگ اور جہنم کی آگ کے درمیان کیا نسبت ہے؟ تمہاری اس آگ کے دھوئیں سے بھی ستر حصہ زیادہ سیاہ خود وہ آگ ہے }۔ ۱؎ [طبرانی اوسط:489:صحیح] ترمذی اور ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ { جہنم کی آگ ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سرخ ہوئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سفید ہو گئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سیاہ ہو گئی، پس وہ سخت سیاہ اور بالکل اندھیرے والی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4320،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی وہ ہے، جس کے پیروں میں آگ کی دو جوتیاں ہوں گی، جس سے اس کا دماغ کھدبدا رہا ہو گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:432/2:صحیح لغیرہ] بخاری و مسلم میں ہے کہ { آگ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے اللہ! میرا ایک حصہ دوسرے کو کھائے جا رہا ہے تو پروردگار نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی ایک جاڑے میں، ایک گرمی میں، پس سخت جاڑا جو تم پاتے ہو اس کا سرد سانس ہے اور سخت گرمی جو پڑتی ہے یہ اس کے گرم سانس کا اثر ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3657] اور حدیث میں ہے کہ { جب گرمی شدت کی پڑے تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو گرمی کی سختی جہنم کے جوش کی وجہ سے ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:536] «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ القارعہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
عھن، اس اون کو کہتے ہیں جو مختلف رنگوں کے ساتھ رنگی ہوئی ہو، منفوش، دھنی ہوئی۔ یہ پہاڑوں کی وہ کیفیت بیان کی گئی ہے جو قیامت والے دن انکی ہوگی۔ قرآن کریم میں پہاڑوں کی یہ کیفیت مختلف انداز میں بیان کی گئی ہے، جسکی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔ اب آگے ان دو فریقوں کا اجمالی ذکر کیا جا رہا ہے جو قیامت والے دن اعمال کے اعتبار سے ہوں گے۔
(آیت 5){ وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِ: ”اَلْعِهْنُ“} اُون یا رنگین اُون۔ {” الْمَنْفُوْشِ “} دھنکی ہوئی۔ قیامت کے دن پہاڑ دُھنک کر اون یا روئی کے گالوں کی طرح کر دیے جائیں گے، جیساکہ فرمایا: «وَ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا» [ طٰہٰ: ۱۰۵ ] ”اور وہ تجھ سے پہاڑوں کے متعلق سوال کرتے ہیں، تو کہہ دے کہ میرا رب انھیں خوب اچھی طرح دُھنک کر رکھ دے گا۔“ چونکہ پہاڑ سرخ، سیاہ، سفید اور بے شمار رنگوں والے ہیں، اس لیے جب وہ دُھنکے جائیں گے تو رنگی اور دھنکی ہوئی اُون کی طرح ہو جائیں گے۔قیامت کے دن پہاڑوں پر گزرنے والے مختلف احوال کے لیے دیکھیے سورئہ نبا (۲۰) کی تفسیر۔
«قارعہ» بھی قیامت کا ایک نام ہے جیسے «الْحَاقَّةِ» ، «الطَّامَّةِ» ، «الصَّاخَّةِ» ، «الْغَاشِيَةِ» وغیرہ اس کی بڑائی اور ہولناکی کے بیان کے لیے سوال ہوتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے؟ اس کا علم بغیر میرے بتائے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا، پھر خود بتاتا ہے کہ اس دن لوگ منتشر اور پراگندہ حیران و پریشان ادھر ادھر گھوم رہے ہوں گے، جس طرح پروانے ہوتے ہیں۔ اور جگہ فرمایا ہے «كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ» ۱؎ [54-القمر:7] گویا وہ ٹڈیاں ہیں پھیلی ہوئیں۔ پھر فرمایا: پہاڑوں کا یہ حال ہو گا کہ وہ دھنی ہوئی اون کی طرح ادھر ادھر اڑتے نظر آئیں گے، پھر فرماتا ہے اس دن ہر نیک و بد کا انجام ظاہر ہو جائے گا، نیکوں کی بزرگی اور بروں کی اہانت کھل جائے گی، جس کی نیکیاں وزن میں برائیوں سے بڑھ گئیں وہ عیش و آرام کی زندگی جنت میں بسر کرے گا، اور جس کی بدیاں نیکیوں پر چھا گئیں، بھلائیوں کا پلڑا ہلکا ہو گیا وہ جہنمی ہو جائے گا، وہ منہ کے بل اوندھا جہنم میں گرا دیا جائے گا۔ «ام» سے مراد دماغ ہے یعنی سر کے بل «ہاویہ» میں جائے گا اور یہ بھی معنی ہیں کہ فرشتے جہنم میں اس کے سر پر عذابوں کی بارش برسائیں گے اور یہ بھی مطلب ہے کہ اس کا اصلی ٹھکانا وہ جگہ ہے جہاں اس کے لیے قرار گاہ مقرر کیا گیا ہے وہ جہنم ہے۔ «هَاوِيَةٌ» جہنم کا نام ہے اسی لیے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں نہیں معلوم کہ «ہاویہ» کیا ہے؟ اب میں بتاتا ہوں کہ وہ شعلے مارتی بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔
اشعث بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مومن کی موت کے بعد فرشے اس کی روح کو ایمانداروں کی روحوں کی طرف لے جاتے ہیں اور فرتے ان سے کہتے ہیں کہ اپنے بھائی کی دلجوئی اور تسکین کرو یہ دنیا کے رنج و غم میں مبتلا تھا، اب وہ نیک روحیں اس سے پوچھتی ہیں کہ فلاں کا کیا حال ہے؟ وہ کہتا ہے کہ وہ تو مر چکا تمہارے پاس نہیں آیا تو یہ سمجھ لیتے ہیں اور کہتے ہیں پھونکو اسے وہ تو اپنی ماں «ہاویہ» میں پہنچا۔ ابن مردویہ کی ایک مرفوع حدیث میں یہ بیان خوب سبط سے ہے اور ہم نے بھی اسے کتاب «صفتہ النار» میں وارد کیا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل و کرم سے اس آگ جہنم سے نجات دے، آمین! پھر فرماتا ہے کہ وہ سخت تیز حرارت والی آگ ہے بڑے شعلے مارنے والی جھلسا دینے والی۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہاری یہ آگ تو اس کا سترھواں حصہ ہے“، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہلاکت کو تو یہی کافی ہے، آپ نے فرمایا: ”ہاں، لیکن آتش دوزخ تو اس سے انہتر حصے تیز ہے“ }۔ صحیح بخاری میں یہ حدیث ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ { ہر ایک حصہ اس آگ جیسا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3265] مسند احمد میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:467/2:صحیح] مسند احمد کی ایک حدیث میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ { یہ آگ باوجود اس آگ کا سترھواں حصہ ہونے کے پھر بھی دو مرتبہ سمندر کے پانی میں بجھا کر بھیجی گئی ہے اگر یہ نہ ہوتا تو اس سے بھی نفع نہ اٹھا سکتے }۔ ۱؎ [مسند احمد:244/2:صحیح] اور حدیث میں ہے { یہ آگ سوواں حصہ ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:379/2:اسنادہ قوی] طبرانی میں ہے { جانتے ہو کہ تمہاری اس آگ اور جہنم کی آگ کے درمیان کیا نسبت ہے؟ تمہاری اس آگ کے دھوئیں سے بھی ستر حصہ زیادہ سیاہ خود وہ آگ ہے }۔ ۱؎ [طبرانی اوسط:489:صحیح] ترمذی اور ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ { جہنم کی آگ ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سرخ ہوئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سفید ہو گئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سیاہ ہو گئی، پس وہ سخت سیاہ اور بالکل اندھیرے والی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4320،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی وہ ہے، جس کے پیروں میں آگ کی دو جوتیاں ہوں گی، جس سے اس کا دماغ کھدبدا رہا ہو گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:432/2:صحیح لغیرہ] بخاری و مسلم میں ہے کہ { آگ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے اللہ! میرا ایک حصہ دوسرے کو کھائے جا رہا ہے تو پروردگار نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی ایک جاڑے میں، ایک گرمی میں، پس سخت جاڑا جو تم پاتے ہو اس کا سرد سانس ہے اور سخت گرمی جو پڑتی ہے یہ اس کے گرم سانس کا اثر ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3657] اور حدیث میں ہے کہ { جب گرمی شدت کی پڑے تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو گرمی کی سختی جہنم کے جوش کی وجہ سے ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:536] «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ القارعہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
6۔ 1 موازین، میزان کی جمع ہے۔ ترازو، جس میں صحائف اعمال تولے جائیں گے۔ جیسا کہ اس کا ذکر (وَالْوَزْنُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ ۚ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِيْنُهٗ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ) 7۔ الاعراف:8) (اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ وَلِقَاۗىِٕهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيْمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَزْنًا 15۔) 18۔ الکہف:15) اور (وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا ۭ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَيْنَا بِهَا ۭ وَكَفٰى بِنَا حٰسِـبِيْنَ 47) 21۔ الانبیاء:47) میں بھی گزرا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہاں یہ میزان نہیں، موزون کی جمع ہے یعنی ایسے اعمال جن کی اللہ کے ہاں کوئی اہمیت اور خاص وزن ہوگا (فتح القدیر) لیکن پہلا مفہوم ہی راجح اور صحیح ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جن کی نیکیاں زیادہ ہوں گی تو وزن اعمال کے وقت ان کی نیکیوں والا پلڑا بھاری ہوجائے گا۔
(آیت 6) {فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِيْنُهٗ: ”مَوَازِيْنُ“ ”مِيْزَانٌ“} کی جمع ہے،ترازو۔ مراد ترازو کے پلڑے ہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۸،۹) کی تفسیر۔ اس کے بعد اعمال کا وزن ہوگا۔ {” مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِيْنُهٗ “} (جس کے پلڑے بھاری ہوگئے) سے مراد نیکیوں کے پلڑے ہیں۔
«قارعہ» بھی قیامت کا ایک نام ہے جیسے «الْحَاقَّةِ» ، «الطَّامَّةِ» ، «الصَّاخَّةِ» ، «الْغَاشِيَةِ» وغیرہ اس کی بڑائی اور ہولناکی کے بیان کے لیے سوال ہوتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے؟ اس کا علم بغیر میرے بتائے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا، پھر خود بتاتا ہے کہ اس دن لوگ منتشر اور پراگندہ حیران و پریشان ادھر ادھر گھوم رہے ہوں گے، جس طرح پروانے ہوتے ہیں۔ اور جگہ فرمایا ہے «كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ» ۱؎ [54-القمر:7] گویا وہ ٹڈیاں ہیں پھیلی ہوئیں۔ پھر فرمایا: پہاڑوں کا یہ حال ہو گا کہ وہ دھنی ہوئی اون کی طرح ادھر ادھر اڑتے نظر آئیں گے، پھر فرماتا ہے اس دن ہر نیک و بد کا انجام ظاہر ہو جائے گا، نیکوں کی بزرگی اور بروں کی اہانت کھل جائے گی، جس کی نیکیاں وزن میں برائیوں سے بڑھ گئیں وہ عیش و آرام کی زندگی جنت میں بسر کرے گا، اور جس کی بدیاں نیکیوں پر چھا گئیں، بھلائیوں کا پلڑا ہلکا ہو گیا وہ جہنمی ہو جائے گا، وہ منہ کے بل اوندھا جہنم میں گرا دیا جائے گا۔ «ام» سے مراد دماغ ہے یعنی سر کے بل «ہاویہ» میں جائے گا اور یہ بھی معنی ہیں کہ فرشتے جہنم میں اس کے سر پر عذابوں کی بارش برسائیں گے اور یہ بھی مطلب ہے کہ اس کا اصلی ٹھکانا وہ جگہ ہے جہاں اس کے لیے قرار گاہ مقرر کیا گیا ہے وہ جہنم ہے۔ «هَاوِيَةٌ» جہنم کا نام ہے اسی لیے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں نہیں معلوم کہ «ہاویہ» کیا ہے؟ اب میں بتاتا ہوں کہ وہ شعلے مارتی بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔
اشعث بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مومن کی موت کے بعد فرشے اس کی روح کو ایمانداروں کی روحوں کی طرف لے جاتے ہیں اور فرتے ان سے کہتے ہیں کہ اپنے بھائی کی دلجوئی اور تسکین کرو یہ دنیا کے رنج و غم میں مبتلا تھا، اب وہ نیک روحیں اس سے پوچھتی ہیں کہ فلاں کا کیا حال ہے؟ وہ کہتا ہے کہ وہ تو مر چکا تمہارے پاس نہیں آیا تو یہ سمجھ لیتے ہیں اور کہتے ہیں پھونکو اسے وہ تو اپنی ماں «ہاویہ» میں پہنچا۔ ابن مردویہ کی ایک مرفوع حدیث میں یہ بیان خوب سبط سے ہے اور ہم نے بھی اسے کتاب «صفتہ النار» میں وارد کیا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل و کرم سے اس آگ جہنم سے نجات دے، آمین! پھر فرماتا ہے کہ وہ سخت تیز حرارت والی آگ ہے بڑے شعلے مارنے والی جھلسا دینے والی۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہاری یہ آگ تو اس کا سترھواں حصہ ہے“، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہلاکت کو تو یہی کافی ہے، آپ نے فرمایا: ”ہاں، لیکن آتش دوزخ تو اس سے انہتر حصے تیز ہے“ }۔ صحیح بخاری میں یہ حدیث ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ { ہر ایک حصہ اس آگ جیسا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3265] مسند احمد میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:467/2:صحیح] مسند احمد کی ایک حدیث میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ { یہ آگ باوجود اس آگ کا سترھواں حصہ ہونے کے پھر بھی دو مرتبہ سمندر کے پانی میں بجھا کر بھیجی گئی ہے اگر یہ نہ ہوتا تو اس سے بھی نفع نہ اٹھا سکتے }۔ ۱؎ [مسند احمد:244/2:صحیح] اور حدیث میں ہے { یہ آگ سوواں حصہ ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:379/2:اسنادہ قوی] طبرانی میں ہے { جانتے ہو کہ تمہاری اس آگ اور جہنم کی آگ کے درمیان کیا نسبت ہے؟ تمہاری اس آگ کے دھوئیں سے بھی ستر حصہ زیادہ سیاہ خود وہ آگ ہے }۔ ۱؎ [طبرانی اوسط:489:صحیح] ترمذی اور ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ { جہنم کی آگ ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سرخ ہوئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سفید ہو گئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سیاہ ہو گئی، پس وہ سخت سیاہ اور بالکل اندھیرے والی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4320،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی وہ ہے، جس کے پیروں میں آگ کی دو جوتیاں ہوں گی، جس سے اس کا دماغ کھدبدا رہا ہو گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:432/2:صحیح لغیرہ] بخاری و مسلم میں ہے کہ { آگ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے اللہ! میرا ایک حصہ دوسرے کو کھائے جا رہا ہے تو پروردگار نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی ایک جاڑے میں، ایک گرمی میں، پس سخت جاڑا جو تم پاتے ہو اس کا سرد سانس ہے اور سخت گرمی جو پڑتی ہے یہ اس کے گرم سانس کا اثر ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3657] اور حدیث میں ہے کہ { جب گرمی شدت کی پڑے تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو گرمی کی سختی جہنم کے جوش کی وجہ سے ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:536] «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ القارعہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
7۔ 1 یعنی ایسی زندگی جس کو وہ صاحب زندگی پسند کرے گا۔
(آیت 7) {فَهُوَ فِيْ عِيْشَةٍ رَّاضِيَةٍ: ”عَاشَ يَعِيْشُ عَيْشًا وَمَعَاشًا وَ عِيْشَةً وَ مَعِيْشَهً“} (ض) زندگی والا ہونا۔ {” عِيْشَةٍ “ ”فِعْلَةٌ“} کے وزن پر مصدر ہے، جو حالت اور کیفیت پر دلالت کرتا ہے، تو {” عِيْشَةٍ “} زندگی کی حالت۔ {” رَاضِيَةٍ “ ”رَضِيَ يَرْضٰي رِضًا“} (س) سے ہے، یہاں {” رَاضِيَةٍ “} بمعنی {” ذَاتُ الرِّضَا“} ہے، یعنی خوشی والی زندگی، جیسے {” تَامِرٌ“} کھجور والے کو اور {”لَابِنٌ“} دودھ والے کو کہا جاتا ہے۔
«قارعہ» بھی قیامت کا ایک نام ہے جیسے «الْحَاقَّةِ» ، «الطَّامَّةِ» ، «الصَّاخَّةِ» ، «الْغَاشِيَةِ» وغیرہ اس کی بڑائی اور ہولناکی کے بیان کے لیے سوال ہوتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے؟ اس کا علم بغیر میرے بتائے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا، پھر خود بتاتا ہے کہ اس دن لوگ منتشر اور پراگندہ حیران و پریشان ادھر ادھر گھوم رہے ہوں گے، جس طرح پروانے ہوتے ہیں۔ اور جگہ فرمایا ہے «كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ» ۱؎ [54-القمر:7] گویا وہ ٹڈیاں ہیں پھیلی ہوئیں۔ پھر فرمایا: پہاڑوں کا یہ حال ہو گا کہ وہ دھنی ہوئی اون کی طرح ادھر ادھر اڑتے نظر آئیں گے، پھر فرماتا ہے اس دن ہر نیک و بد کا انجام ظاہر ہو جائے گا، نیکوں کی بزرگی اور بروں کی اہانت کھل جائے گی، جس کی نیکیاں وزن میں برائیوں سے بڑھ گئیں وہ عیش و آرام کی زندگی جنت میں بسر کرے گا، اور جس کی بدیاں نیکیوں پر چھا گئیں، بھلائیوں کا پلڑا ہلکا ہو گیا وہ جہنمی ہو جائے گا، وہ منہ کے بل اوندھا جہنم میں گرا دیا جائے گا۔ «ام» سے مراد دماغ ہے یعنی سر کے بل «ہاویہ» میں جائے گا اور یہ بھی معنی ہیں کہ فرشتے جہنم میں اس کے سر پر عذابوں کی بارش برسائیں گے اور یہ بھی مطلب ہے کہ اس کا اصلی ٹھکانا وہ جگہ ہے جہاں اس کے لیے قرار گاہ مقرر کیا گیا ہے وہ جہنم ہے۔ «هَاوِيَةٌ» جہنم کا نام ہے اسی لیے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں نہیں معلوم کہ «ہاویہ» کیا ہے؟ اب میں بتاتا ہوں کہ وہ شعلے مارتی بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔
اشعث بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مومن کی موت کے بعد فرشے اس کی روح کو ایمانداروں کی روحوں کی طرف لے جاتے ہیں اور فرتے ان سے کہتے ہیں کہ اپنے بھائی کی دلجوئی اور تسکین کرو یہ دنیا کے رنج و غم میں مبتلا تھا، اب وہ نیک روحیں اس سے پوچھتی ہیں کہ فلاں کا کیا حال ہے؟ وہ کہتا ہے کہ وہ تو مر چکا تمہارے پاس نہیں آیا تو یہ سمجھ لیتے ہیں اور کہتے ہیں پھونکو اسے وہ تو اپنی ماں «ہاویہ» میں پہنچا۔ ابن مردویہ کی ایک مرفوع حدیث میں یہ بیان خوب سبط سے ہے اور ہم نے بھی اسے کتاب «صفتہ النار» میں وارد کیا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل و کرم سے اس آگ جہنم سے نجات دے، آمین! پھر فرماتا ہے کہ وہ سخت تیز حرارت والی آگ ہے بڑے شعلے مارنے والی جھلسا دینے والی۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہاری یہ آگ تو اس کا سترھواں حصہ ہے“، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہلاکت کو تو یہی کافی ہے، آپ نے فرمایا: ”ہاں، لیکن آتش دوزخ تو اس سے انہتر حصے تیز ہے“ }۔ صحیح بخاری میں یہ حدیث ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ { ہر ایک حصہ اس آگ جیسا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3265] مسند احمد میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:467/2:صحیح] مسند احمد کی ایک حدیث میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ { یہ آگ باوجود اس آگ کا سترھواں حصہ ہونے کے پھر بھی دو مرتبہ سمندر کے پانی میں بجھا کر بھیجی گئی ہے اگر یہ نہ ہوتا تو اس سے بھی نفع نہ اٹھا سکتے }۔ ۱؎ [مسند احمد:244/2:صحیح] اور حدیث میں ہے { یہ آگ سوواں حصہ ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:379/2:اسنادہ قوی] طبرانی میں ہے { جانتے ہو کہ تمہاری اس آگ اور جہنم کی آگ کے درمیان کیا نسبت ہے؟ تمہاری اس آگ کے دھوئیں سے بھی ستر حصہ زیادہ سیاہ خود وہ آگ ہے }۔ ۱؎ [طبرانی اوسط:489:صحیح] ترمذی اور ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ { جہنم کی آگ ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سرخ ہوئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سفید ہو گئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سیاہ ہو گئی، پس وہ سخت سیاہ اور بالکل اندھیرے والی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4320،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی وہ ہے، جس کے پیروں میں آگ کی دو جوتیاں ہوں گی، جس سے اس کا دماغ کھدبدا رہا ہو گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:432/2:صحیح لغیرہ] بخاری و مسلم میں ہے کہ { آگ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے اللہ! میرا ایک حصہ دوسرے کو کھائے جا رہا ہے تو پروردگار نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی ایک جاڑے میں، ایک گرمی میں، پس سخت جاڑا جو تم پاتے ہو اس کا سرد سانس ہے اور سخت گرمی جو پڑتی ہے یہ اس کے گرم سانس کا اثر ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3657] اور حدیث میں ہے کہ { جب گرمی شدت کی پڑے تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو گرمی کی سختی جہنم کے جوش کی وجہ سے ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:536] «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ القارعہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
8۔ 1 جس کی برائیاں نیکیوں پر غالب ہوں گی اور برائیوں کا پلڑا بھاری اور نیکیوں کا ہلکا ہوگا۔
(آیت 9،8){ وَ اَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُهٗ …: ” هَاوِيَةٌ “ ”هَوٰي يَهْوِيْ هُوِيًّا“} (ض) گرنا۔ {” هَاوِيَةٌ “} کا لفظی معنی گڑھا ہے جس میں گرا جائے، مراد جہنم ہے۔ {” فَاُمُّهٗ “} ”اس کی ماں“ مراد اس کا ٹھکانا ہے، جس طرح ماں اپنے بچے کو گود میں جگہ دیتی ہے۔
«قارعہ» بھی قیامت کا ایک نام ہے جیسے «الْحَاقَّةِ» ، «الطَّامَّةِ» ، «الصَّاخَّةِ» ، «الْغَاشِيَةِ» وغیرہ اس کی بڑائی اور ہولناکی کے بیان کے لیے سوال ہوتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے؟ اس کا علم بغیر میرے بتائے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا، پھر خود بتاتا ہے کہ اس دن لوگ منتشر اور پراگندہ حیران و پریشان ادھر ادھر گھوم رہے ہوں گے، جس طرح پروانے ہوتے ہیں۔ اور جگہ فرمایا ہے «كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ» ۱؎ [54-القمر:7] گویا وہ ٹڈیاں ہیں پھیلی ہوئیں۔ پھر فرمایا: پہاڑوں کا یہ حال ہو گا کہ وہ دھنی ہوئی اون کی طرح ادھر ادھر اڑتے نظر آئیں گے، پھر فرماتا ہے اس دن ہر نیک و بد کا انجام ظاہر ہو جائے گا، نیکوں کی بزرگی اور بروں کی اہانت کھل جائے گی، جس کی نیکیاں وزن میں برائیوں سے بڑھ گئیں وہ عیش و آرام کی زندگی جنت میں بسر کرے گا، اور جس کی بدیاں نیکیوں پر چھا گئیں، بھلائیوں کا پلڑا ہلکا ہو گیا وہ جہنمی ہو جائے گا، وہ منہ کے بل اوندھا جہنم میں گرا دیا جائے گا۔ «ام» سے مراد دماغ ہے یعنی سر کے بل «ہاویہ» میں جائے گا اور یہ بھی معنی ہیں کہ فرشتے جہنم میں اس کے سر پر عذابوں کی بارش برسائیں گے اور یہ بھی مطلب ہے کہ اس کا اصلی ٹھکانا وہ جگہ ہے جہاں اس کے لیے قرار گاہ مقرر کیا گیا ہے وہ جہنم ہے۔ «هَاوِيَةٌ» جہنم کا نام ہے اسی لیے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں نہیں معلوم کہ «ہاویہ» کیا ہے؟ اب میں بتاتا ہوں کہ وہ شعلے مارتی بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔
اشعث بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مومن کی موت کے بعد فرشے اس کی روح کو ایمانداروں کی روحوں کی طرف لے جاتے ہیں اور فرتے ان سے کہتے ہیں کہ اپنے بھائی کی دلجوئی اور تسکین کرو یہ دنیا کے رنج و غم میں مبتلا تھا، اب وہ نیک روحیں اس سے پوچھتی ہیں کہ فلاں کا کیا حال ہے؟ وہ کہتا ہے کہ وہ تو مر چکا تمہارے پاس نہیں آیا تو یہ سمجھ لیتے ہیں اور کہتے ہیں پھونکو اسے وہ تو اپنی ماں «ہاویہ» میں پہنچا۔ ابن مردویہ کی ایک مرفوع حدیث میں یہ بیان خوب سبط سے ہے اور ہم نے بھی اسے کتاب «صفتہ النار» میں وارد کیا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل و کرم سے اس آگ جہنم سے نجات دے، آمین! پھر فرماتا ہے کہ وہ سخت تیز حرارت والی آگ ہے بڑے شعلے مارنے والی جھلسا دینے والی۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہاری یہ آگ تو اس کا سترھواں حصہ ہے“، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہلاکت کو تو یہی کافی ہے، آپ نے فرمایا: ”ہاں، لیکن آتش دوزخ تو اس سے انہتر حصے تیز ہے“ }۔ صحیح بخاری میں یہ حدیث ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ { ہر ایک حصہ اس آگ جیسا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3265] مسند احمد میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:467/2:صحیح] مسند احمد کی ایک حدیث میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ { یہ آگ باوجود اس آگ کا سترھواں حصہ ہونے کے پھر بھی دو مرتبہ سمندر کے پانی میں بجھا کر بھیجی گئی ہے اگر یہ نہ ہوتا تو اس سے بھی نفع نہ اٹھا سکتے }۔ ۱؎ [مسند احمد:244/2:صحیح] اور حدیث میں ہے { یہ آگ سوواں حصہ ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:379/2:اسنادہ قوی] طبرانی میں ہے { جانتے ہو کہ تمہاری اس آگ اور جہنم کی آگ کے درمیان کیا نسبت ہے؟ تمہاری اس آگ کے دھوئیں سے بھی ستر حصہ زیادہ سیاہ خود وہ آگ ہے }۔ ۱؎ [طبرانی اوسط:489:صحیح] ترمذی اور ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ { جہنم کی آگ ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سرخ ہوئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سفید ہو گئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سیاہ ہو گئی، پس وہ سخت سیاہ اور بالکل اندھیرے والی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4320،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی وہ ہے، جس کے پیروں میں آگ کی دو جوتیاں ہوں گی، جس سے اس کا دماغ کھدبدا رہا ہو گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:432/2:صحیح لغیرہ] بخاری و مسلم میں ہے کہ { آگ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے اللہ! میرا ایک حصہ دوسرے کو کھائے جا رہا ہے تو پروردگار نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی ایک جاڑے میں، ایک گرمی میں، پس سخت جاڑا جو تم پاتے ہو اس کا سرد سانس ہے اور سخت گرمی جو پڑتی ہے یہ اس کے گرم سانس کا اثر ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3657] اور حدیث میں ہے کہ { جب گرمی شدت کی پڑے تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو گرمی کی سختی جہنم کے جوش کی وجہ سے ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:536] «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ القارعہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
9۔ 1 ہاویہ جہنم کا نام ہے اس کو ہاویہ اس لیے کہتے ہیں کہ جہنمی اس کی گہرائی میں گرے گا۔ اور اس کو ام (ماں) سے اس لیے تعبیر کیا کہ جس طرح انسان کے لیے ماں، جائے پناہ ہوتی ہے اسی طرح جہنمیوں کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔ بعض کہتے ہیں کہ ام کے معنی دماغ کے ہیں۔ جہنمی، جہنم میں سرکے بل ڈالے جائیں گے۔ (ابن کثیر)
«قارعہ» بھی قیامت کا ایک نام ہے جیسے «الْحَاقَّةِ» ، «الطَّامَّةِ» ، «الصَّاخَّةِ» ، «الْغَاشِيَةِ» وغیرہ اس کی بڑائی اور ہولناکی کے بیان کے لیے سوال ہوتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے؟ اس کا علم بغیر میرے بتائے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا، پھر خود بتاتا ہے کہ اس دن لوگ منتشر اور پراگندہ حیران و پریشان ادھر ادھر گھوم رہے ہوں گے، جس طرح پروانے ہوتے ہیں۔ اور جگہ فرمایا ہے «كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ» ۱؎ [54-القمر:7] گویا وہ ٹڈیاں ہیں پھیلی ہوئیں۔ پھر فرمایا: پہاڑوں کا یہ حال ہو گا کہ وہ دھنی ہوئی اون کی طرح ادھر ادھر اڑتے نظر آئیں گے، پھر فرماتا ہے اس دن ہر نیک و بد کا انجام ظاہر ہو جائے گا، نیکوں کی بزرگی اور بروں کی اہانت کھل جائے گی، جس کی نیکیاں وزن میں برائیوں سے بڑھ گئیں وہ عیش و آرام کی زندگی جنت میں بسر کرے گا، اور جس کی بدیاں نیکیوں پر چھا گئیں، بھلائیوں کا پلڑا ہلکا ہو گیا وہ جہنمی ہو جائے گا، وہ منہ کے بل اوندھا جہنم میں گرا دیا جائے گا۔ «ام» سے مراد دماغ ہے یعنی سر کے بل «ہاویہ» میں جائے گا اور یہ بھی معنی ہیں کہ فرشتے جہنم میں اس کے سر پر عذابوں کی بارش برسائیں گے اور یہ بھی مطلب ہے کہ اس کا اصلی ٹھکانا وہ جگہ ہے جہاں اس کے لیے قرار گاہ مقرر کیا گیا ہے وہ جہنم ہے۔ «هَاوِيَةٌ» جہنم کا نام ہے اسی لیے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں نہیں معلوم کہ «ہاویہ» کیا ہے؟ اب میں بتاتا ہوں کہ وہ شعلے مارتی بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔
اشعث بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مومن کی موت کے بعد فرشے اس کی روح کو ایمانداروں کی روحوں کی طرف لے جاتے ہیں اور فرتے ان سے کہتے ہیں کہ اپنے بھائی کی دلجوئی اور تسکین کرو یہ دنیا کے رنج و غم میں مبتلا تھا، اب وہ نیک روحیں اس سے پوچھتی ہیں کہ فلاں کا کیا حال ہے؟ وہ کہتا ہے کہ وہ تو مر چکا تمہارے پاس نہیں آیا تو یہ سمجھ لیتے ہیں اور کہتے ہیں پھونکو اسے وہ تو اپنی ماں «ہاویہ» میں پہنچا۔ ابن مردویہ کی ایک مرفوع حدیث میں یہ بیان خوب سبط سے ہے اور ہم نے بھی اسے کتاب «صفتہ النار» میں وارد کیا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل و کرم سے اس آگ جہنم سے نجات دے، آمین! پھر فرماتا ہے کہ وہ سخت تیز حرارت والی آگ ہے بڑے شعلے مارنے والی جھلسا دینے والی۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہاری یہ آگ تو اس کا سترھواں حصہ ہے“، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہلاکت کو تو یہی کافی ہے، آپ نے فرمایا: ”ہاں، لیکن آتش دوزخ تو اس سے انہتر حصے تیز ہے“ }۔ صحیح بخاری میں یہ حدیث ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ { ہر ایک حصہ اس آگ جیسا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3265] مسند احمد میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:467/2:صحیح] مسند احمد کی ایک حدیث میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ { یہ آگ باوجود اس آگ کا سترھواں حصہ ہونے کے پھر بھی دو مرتبہ سمندر کے پانی میں بجھا کر بھیجی گئی ہے اگر یہ نہ ہوتا تو اس سے بھی نفع نہ اٹھا سکتے }۔ ۱؎ [مسند احمد:244/2:صحیح] اور حدیث میں ہے { یہ آگ سوواں حصہ ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:379/2:اسنادہ قوی] طبرانی میں ہے { جانتے ہو کہ تمہاری اس آگ اور جہنم کی آگ کے درمیان کیا نسبت ہے؟ تمہاری اس آگ کے دھوئیں سے بھی ستر حصہ زیادہ سیاہ خود وہ آگ ہے }۔ ۱؎ [طبرانی اوسط:489:صحیح] ترمذی اور ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ { جہنم کی آگ ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سرخ ہوئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سفید ہو گئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سیاہ ہو گئی، پس وہ سخت سیاہ اور بالکل اندھیرے والی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4320،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی وہ ہے، جس کے پیروں میں آگ کی دو جوتیاں ہوں گی، جس سے اس کا دماغ کھدبدا رہا ہو گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:432/2:صحیح لغیرہ] بخاری و مسلم میں ہے کہ { آگ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے اللہ! میرا ایک حصہ دوسرے کو کھائے جا رہا ہے تو پروردگار نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی ایک جاڑے میں، ایک گرمی میں، پس سخت جاڑا جو تم پاتے ہو اس کا سرد سانس ہے اور سخت گرمی جو پڑتی ہے یہ اس کے گرم سانس کا اثر ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3657] اور حدیث میں ہے کہ { جب گرمی شدت کی پڑے تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو گرمی کی سختی جہنم کے جوش کی وجہ سے ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:536] «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ القارعہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
10۔ 1 یہ استفہام اس کی ہولناکی اور شدت عذاب کو بیان کرنے کے لئے ہے کہ انسان کے وہم و تصور سے بالا ہے انسانی علوم اس کا احاطہ نہیں کرسکتے اور اس کی کنہ نہیں جان سکتے۔
(آیت 10) ➊ {وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَاهِيَهْ: ” مَاۤ اَدْرٰىكَ “} کے ساتھ سوال اس کی ہولناکی نمایاں کرنے کے لیے ہے۔ ➋ { ” مَاهِيَهْ “} اصل میں {”مَا هِيَ“} ہے، وہ کیا ہے؟ یاء کے فتحہ کی حفاظت کے لیے وقف کے وقت اس کے بعد ساکن ہاء لگا دیتے ہیں، اسے ہائے وقف کہتے ہیں جو ملا کر پڑھیں تو گر جاتی ہے۔ بعض قراء ملا کر پڑھنے کی صورت میں بھی اسے باقی رکھتے ہیں۔
«قارعہ» بھی قیامت کا ایک نام ہے جیسے «الْحَاقَّةِ» ، «الطَّامَّةِ» ، «الصَّاخَّةِ» ، «الْغَاشِيَةِ» وغیرہ اس کی بڑائی اور ہولناکی کے بیان کے لیے سوال ہوتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے؟ اس کا علم بغیر میرے بتائے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا، پھر خود بتاتا ہے کہ اس دن لوگ منتشر اور پراگندہ حیران و پریشان ادھر ادھر گھوم رہے ہوں گے، جس طرح پروانے ہوتے ہیں۔ اور جگہ فرمایا ہے «كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ» ۱؎ [54-القمر:7] گویا وہ ٹڈیاں ہیں پھیلی ہوئیں۔ پھر فرمایا: پہاڑوں کا یہ حال ہو گا کہ وہ دھنی ہوئی اون کی طرح ادھر ادھر اڑتے نظر آئیں گے، پھر فرماتا ہے اس دن ہر نیک و بد کا انجام ظاہر ہو جائے گا، نیکوں کی بزرگی اور بروں کی اہانت کھل جائے گی، جس کی نیکیاں وزن میں برائیوں سے بڑھ گئیں وہ عیش و آرام کی زندگی جنت میں بسر کرے گا، اور جس کی بدیاں نیکیوں پر چھا گئیں، بھلائیوں کا پلڑا ہلکا ہو گیا وہ جہنمی ہو جائے گا، وہ منہ کے بل اوندھا جہنم میں گرا دیا جائے گا۔ «ام» سے مراد دماغ ہے یعنی سر کے بل «ہاویہ» میں جائے گا اور یہ بھی معنی ہیں کہ فرشتے جہنم میں اس کے سر پر عذابوں کی بارش برسائیں گے اور یہ بھی مطلب ہے کہ اس کا اصلی ٹھکانا وہ جگہ ہے جہاں اس کے لیے قرار گاہ مقرر کیا گیا ہے وہ جہنم ہے۔ «هَاوِيَةٌ» جہنم کا نام ہے اسی لیے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں نہیں معلوم کہ «ہاویہ» کیا ہے؟ اب میں بتاتا ہوں کہ وہ شعلے مارتی بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔
اشعث بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مومن کی موت کے بعد فرشے اس کی روح کو ایمانداروں کی روحوں کی طرف لے جاتے ہیں اور فرتے ان سے کہتے ہیں کہ اپنے بھائی کی دلجوئی اور تسکین کرو یہ دنیا کے رنج و غم میں مبتلا تھا، اب وہ نیک روحیں اس سے پوچھتی ہیں کہ فلاں کا کیا حال ہے؟ وہ کہتا ہے کہ وہ تو مر چکا تمہارے پاس نہیں آیا تو یہ سمجھ لیتے ہیں اور کہتے ہیں پھونکو اسے وہ تو اپنی ماں «ہاویہ» میں پہنچا۔ ابن مردویہ کی ایک مرفوع حدیث میں یہ بیان خوب سبط سے ہے اور ہم نے بھی اسے کتاب «صفتہ النار» میں وارد کیا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل و کرم سے اس آگ جہنم سے نجات دے، آمین! پھر فرماتا ہے کہ وہ سخت تیز حرارت والی آگ ہے بڑے شعلے مارنے والی جھلسا دینے والی۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہاری یہ آگ تو اس کا سترھواں حصہ ہے“، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہلاکت کو تو یہی کافی ہے، آپ نے فرمایا: ”ہاں، لیکن آتش دوزخ تو اس سے انہتر حصے تیز ہے“ }۔ صحیح بخاری میں یہ حدیث ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ { ہر ایک حصہ اس آگ جیسا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3265] مسند احمد میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:467/2:صحیح] مسند احمد کی ایک حدیث میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ { یہ آگ باوجود اس آگ کا سترھواں حصہ ہونے کے پھر بھی دو مرتبہ سمندر کے پانی میں بجھا کر بھیجی گئی ہے اگر یہ نہ ہوتا تو اس سے بھی نفع نہ اٹھا سکتے }۔ ۱؎ [مسند احمد:244/2:صحیح] اور حدیث میں ہے { یہ آگ سوواں حصہ ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:379/2:اسنادہ قوی] طبرانی میں ہے { جانتے ہو کہ تمہاری اس آگ اور جہنم کی آگ کے درمیان کیا نسبت ہے؟ تمہاری اس آگ کے دھوئیں سے بھی ستر حصہ زیادہ سیاہ خود وہ آگ ہے }۔ ۱؎ [طبرانی اوسط:489:صحیح] ترمذی اور ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ { جہنم کی آگ ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سرخ ہوئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سفید ہو گئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سیاہ ہو گئی، پس وہ سخت سیاہ اور بالکل اندھیرے والی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4320،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی وہ ہے، جس کے پیروں میں آگ کی دو جوتیاں ہوں گی، جس سے اس کا دماغ کھدبدا رہا ہو گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:432/2:صحیح لغیرہ] بخاری و مسلم میں ہے کہ { آگ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے اللہ! میرا ایک حصہ دوسرے کو کھائے جا رہا ہے تو پروردگار نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی ایک جاڑے میں، ایک گرمی میں، پس سخت جاڑا جو تم پاتے ہو اس کا سرد سانس ہے اور سخت گرمی جو پڑتی ہے یہ اس کے گرم سانس کا اثر ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3657] اور حدیث میں ہے کہ { جب گرمی شدت کی پڑے تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو گرمی کی سختی جہنم کے جوش کی وجہ سے ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:536] «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ القارعہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
11۔ 1 جس طرح حدیث میں آتا ہے کہ انسان دنیا میں جو آگ جلاتا ہے، یہ جہنم کی آگ کا سترواں حصہ ہے، جہنم کی آگ دنیا کی آگ سے 69 درجہ زیادہ ہے (صحیح بخاری، کتاب بدء الخلق، باب صفۃ لنار وأنھا مخلوقۃ مسلم، کتاب الجنۃ، باب فی شدۃ حرنار جھنم) ایک اور حدیث میں ہے کہ " آگ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ میرا ایک حصہ دوسرے حصے کو کھائے جا رہا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت فرما دی۔ ایک سانس گرمی میں اور ایک سانس سردی میں پس جو سخت سردی ہوتی ہے یہ اس کا ٹھنڈا سانس ہے، اور نہایت سخت گرمی جو پڑتی ہے، وہ جہنم کا گرم سانس ہے " (بخاری، کتاب و باب مذکور) ایک اور حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " جب گرمی زیادہ سخت ہو تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو، اس لیے کہ گرمی کی شدت جہنم کے جوش کی وجہ سے ہے۔ (حوالہ مذکور، مسلم، کتاب المساجد)
(آیت 11) {نَارٌ حَامِيَةٌ: ” حَامِيَةٌ “ ”حَمِيَ يَحْمٰي حَمْيًا“} (س) (گرم ہونا) سے اسم فاعل ہے، یعنی وہ ہاویہ صرف ایک بے انتہا گہرا گڑھا ہی نہیں بلکہ سراسر آگ ہے، جو سخت گرم ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ نَارُكُمْ جُزْءٌ مِّنْ سَبْعِيْنَ جُزْءًا مِّنْ نَارِ جَهَنَّمَ ] [ بخاري، بدء الخلق، باب صفۃ النار وأنھا مخلوقۃ: ۳۲۶۵] ”تمھاری آگ جہنم کی آگ کے ستر (۷۰) حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔“ اللہ ہمیں اس سے محفوظ رکھے۔ (آمین)