بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
القلم
سورۃ القلم — 52 آیات — صفحہ 1 از 2
قرآن کریم Surah 68
نٓ وَ الۡقَلَمِ وَ مَا یَسۡطُرُوۡنَ ۙ﴿۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ن، قسم ہے قلم کی اور اُس چیز کی جسے لکھنے والے لکھ رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ن، قسم ہے قلم کی اور اس کی جو کچھ کہ وه (فرشتے) لکھتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
قلم اور ان کے لکھے کی قسم
علامہ محمد حسین نجفی
نون! قَسم ہے قلم کی اور اس کی جو کچھ لوگ لکھتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
ن۔ قسم ہے قلم کی! اور اس کی جو وہ لکھتے ہیں!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نون سے کیا مراد ہے؟ ٭٭

نون وغیرہ جیسے حروف ہجا کا مفصل بیان سورۃ البقرہ کے شروع میں گزر چکا ہے اس لیے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں، کہا گیا ہے کہ یہاں ”ن“ سے مراد وہ بڑی مچھلی ہے جو ایک محیط عالم پانی پر ہے جو ساتوں زمینوں کو اٹھائے ہوئے ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”سب سے پہلے اللہ نے قلم کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا ’ لکھ ‘ اس نے کہا: کیا لکھوں؟ فرمایا ’ تقدیر لکھ ڈال ‘ پس اس دن سے لے کر قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اس پر قلم جاری ہو گیا پھر اللہ تعالیٰ نے مچھلی پیدا کی اور پانی کے بخارات بلند کئے، جس سے آسمان بنے اور زمین کو اس مچھلی کی پیٹھ پر رکھا مچھلی نے حرکت کی جس سے زمین بھی ہلنے لگی پس زمین پر پہاڑ گاڑ کر اسے مضبوط اور ساکن کر دیا“، پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:14/29:قال امام حاكم:صحیح] ‏‏‏‏ مطلب یہ ہے کہ یہاں ”ن“ سے مراد یہ مچھلی ہے۔

طبرانی میں مرفوعاً مروی ہے کہ ”سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو اور مچھلی کو پیدا کیا، قلم نے دریافت کیا میں کیا لکھوں؟ حکم ہوا، ہر وہ چیز جو قیامت تک ہونے والی ہے“، پھر آپ نے پہلی آیت کی تلاوت کی، پس نون سے مراد یہ مچھلی ہے اور قلم سے مراد یہ قلم ہے۔ ۱؎ [طبرانی:8652-8653:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن عساکر کی حدیث میں ہے { سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا پھر نون یعنی دوات کو پھر قلم سے فرمایا: ’ لکھ ‘ اس نے پوچھا: کیا؟ فرمایا ’ جو ہو رہا ہے اور جو ہونے والا ہے ‘ عمل، رزق، عمر، موت وغیرہ، پس قلم نے سب کچھ لکھ لیا }۔ اس آیت میں یہی مراد ہے، پھر قلم پر مہر لگا دی اب وہ قیامت تک نہ چلے گا، پھر عقل کو پیدا کیا اور فرمایا ’ مجھے اپنی عزت کی قسم اپنے دوستوں میں تو میں تجھے کمال تک پہنچاؤں گا اور اپنے دشمنوں میں تجھے ناقص رکھوں گا ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ مشہور تھا کہ نون سے مراد وہ مچھلی ہے جو ساتویں زمین کے نیچے ہے“، بغوی رحمہ اللہ وغیرہ مفسرین فرماتے ہیں کہ ”اس مچھلی کی پیٹھ پر ایک چٹان ہے جس کی موٹائی آسمان و زمین کے برابر ہے اس پر ایک بیل ہے جس کے چالیس ہزار سینگ ہیں اس کی پیٹھ پر ساتوں زمینیں اور ان پر تمام مخلوق ہے۔‏‏‏‏“ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اور تعجب تو یہ ہے کہ ان بعض مفسرین نے اس حدیث کو بھی انہی معنی پر محمول کیا ہے جو مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ { جب سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آ گئے ہیں تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بہت کچھ سوالات کئے ـ کہا کہ میں وہ باتیں پوچھنا چاہتا ہوں جنہیں نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں جانتا بتائیے قیامت کے پہلی نشانی کیا ہے؟ اور جنتیوں کا پہلا کھانا کیا ہے؟ اور کیا وجہ ہے کہ کبھی بچہ اپنے باپ کی صورت میں ہوتا ہے کبھی ماں کی صورت پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ باتیں ابھی ابھی جبرائیل علیہ السلام نے مجھے بتا دیں“، سیدنا ابن سلام رضی اللہ عنہ کہنے لگے فرشتوں میں سے یہی فرشتہ ہے جو یہودیوں کا دشمن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! قیامت کی پہلی نشانی ایک آگ کا نکلنا ہے جو لوگوں کو مشرق کی طرف سے مغرب کی طرف لے جائے گی اور جنتیوں کا پہلا کھانا مچھلی کی کلیجی کی زیادتی ہے اور مرد کا پانی عورت کے پانی پر سابق آ جائے تو لڑکا ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر سبقت کر جائے تو وہی کھینچ لیتی ہے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:108/3:صحیح] ‏‏‏‏

دوسری حدیث میں اتنی زیادتی ہے کہ { پوچھا جنتیوں کے اس کھانے کے بعد انہیں کیا ملے گا؟ فرمایا: ”جنتی بیل ذبح کیا جائے گا جو جنت میں چرتا چگتا رہا تھا“، پوچھا: انہیں پانی کون سا ملے گا؟ فرمایا: ” «سلسبیل» نامی نہر کا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:315] ‏‏‏‏ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”مراد «ن» سے نور کی تختی ہے۔‏‏‏‏“ ایک مرسل غریب حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ اس سے مراد نور کی تختی اور نور کا حکم ہے جو قیامت تک کے حال پر چل چکا ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34540:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے خبر دی گئی ہے کہ ”یہ نورانی قلم سو سال کی طولانی رکھتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ «ن» سے مراد دوات ہے اور «قلم» سے مراد قلم ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [ضعیف] ‏‏‏‏ حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہما بھی یہی فرماتے ہیں۔ ایک بہت ہی غریب مرفوع حدیث میں بھی یہ مروی ہے جو ابن ابی حاتم میں ہے کہ { اللہ نے «نون» کو پیدا کیا اور وہ دوات ہے }۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”اللہ تعالیٰ نے «نون» یعنی دوات کو پیدا کیا اور قلم کو پیدا کیا، پھر فرمایا ’ لکھ ‘ اس نے پوچھا: ”کیا لکھوں؟“ فرمایا: ’ جو قیامت تک ہونے والا ہے ‘، اعمال خواہ نیک ہوں، خواہ بد، روزی خواہ حلال ہو، خواہ حرام، پھر یہ بھی کہ کون سی چیز دنیا میں کب آئے گی کس قدر رہے گی، کیسے نکلے گی، پھر اللہ تعالیٰ نے بندوں پر محافظ فرشتے مقرر کئے اور کتاب پر داروغے مقرر کئے، محافظ فرشتے ہر دن ان کے عمل خازن فرشتوں سے دریافت کر کے لکھ لیتے ہیں جب رزق ختم ہو جاتا ہے عمر پوری ہو جاتی ہے اجل آ پہنچتی ہے تو محافظ فرشتے داروغہ فرشتوں کے پاس آ کر پوچھتے ہیں بتاؤ آج کے دن کا کیا سامان ہے؟ وہ کہتے ہیں بس اس شخص کے لیے ہمارے پاس اب کچھ بھی نہیں رہا، یہ سن کر یہ فرشتے نیچے اترتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ مر گیا“ ـ اس بیان کے بعد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ”تم تو عرب ہو کیا تم نے قرآن میں محافظ فرشتوں کی بابت یہ نہیں پڑھا؟“ «اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [45-الجاثية:29] ‏‏‏‏ مطلب یہ ہے کہ ہم تمہارے اعمال کو اصل سے نقل کر لیا کرتے تھے۔

قلم سے کیا مراد ہے؟ ٭٭

یہ تو تھا لفظ «ن» کے متعلق بیان، اب «قلم» کی نسبت سنئے۔ بظاہر مراد یہاں عام قلم ہے جس سے لکھا جاتا ہے جیسے اور جگہ فرمان عالیشان ہے «‏‏‏‏الَّذِيْ عَلَّمَ بالْقَلَمِ» ‏‏‏‏ ۱؎ [96-العلق:4] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس اللہ نے قلم سے لکھنا سکھایا ‘، پس اس کی قسم کھا کر اس بات پر آگاہی کی جاتی ہے کہ مخلوق پر میری ایک نعمت یہ بھی ہے کہ میں نے انہیں لکھنا سکھایا جس سے علوم تک ان کے رسائی ہو سکے۔ اس لیے اس کے بعد فرمایا «ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [68- القلم:1] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس چیز کی قسم جو لکھتے ہیں ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کی تفسیر یہ بھی مروی ہے کہ اس چیز کی جو جانتے ہیں، سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے فرشتوں کا لکھنا ہے جو بندوں کے اعمال لکھتے ہیں“ اور مفسرین کہتے ہیں ”اس سے مراد وہ قلم ہے جو قدرتی طور پر چلا اور تقدیریں لکھیں آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے“، اور اس قول کی دلیل میں یہ جماعت وہ حدیثیں وارد کرتی ہے جو قلم کے ذکر میں مروی ہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قلم سے مراد وہ قلم ہے جس سے ذکر لکھا گیا۔

نبی دیوانہ نہیں ہوتا ٭٭

پھر فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! تو بحمد اللہ دیوانہ نہیں جیسے کہ تیری قوم کے جاہل منکرین حق کہتے ہیں بلکہ تیرے لیے اجر عظیم ہے اور ثواب بے پایاں ہے جو نہ ختم ہو، نہ ٹوٹے، نہ کٹے کیونکہ تو نے حق رسالت ادا کر دیا ہے اور ہماری راہ میں سخت سے سخت مصیبتیں جھیلی ہیں ہم تجھے بے حساب بدلہ دیں گے، تو بہت بڑے خلق پر ہے یعنی دین اسلام پر اور بہترین ادب پر ہے ‘۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اخلاق نبوی کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو آپ جواب دیتی ہیں کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن تھا“، سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی جیسے کہ قرآن میں ہے ـ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34559] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا؟ سائل سعید بن ہشام نے کہا ہاں پڑھا ہے آپ نے فرمایا: بس تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن کریم تھا۔ ۱؎ [عبد الرزاق فی التفسیر:3275] ‏‏‏‏ مسلم میں یہ حدیث پوری ہے جسے ہم سورۃ مزمل کی تفسیر میں بیان کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔

خلق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭

بنو سواد کے ایک شخص نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی سوال کیا تھا تو آپ نے یہی فرما کر پھر آیت «‏‏‏‏وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [68-القلم:4] ‏‏‏‏ پڑھی اس نے کہا: کوئی ایک آدھ واقعہ تو بیان کیجئے، ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”سنو! ایک مرتبہ میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا پکایا اور حفصہ نے بھی، میں نے اپنی لونڈی سے کہا: دیکھ اگر میرے کھانے سے پہلے حفصہ کے ہاں کا کھانا آ جائے تو برتن گرا دینا چنانچہ اس نے یہی کیا اور برتن بھی ٹوٹ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بکھرے ہوئے کھانے کو سمیٹنے لگے اور فرمایا: ”اس برتن کے بدلے ثابت برتن تم دو“ واللہ! اور کچھ ڈانٹا ڈپٹا نہیں۔ ۱؎ [مسند احمد:111/6:ضعیف] ‏‏‏‏ مطلب اس حدیث کا جو کئی طریق سے مختلف الفاظ میں کئی کتابوں میں ہے، یہ ہے کہ ایک تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جبلت اور پیدائش میں ہی اللہ نے پسندیدہ اخلاق، بہترین خصلتیں اور پاکیزہ عادتیں رکھی تھیں اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل قرآن کریم پر ایسا تھا کہ گویا احکام قرآن کا مجسم عملی نمونہ ہیں، ہر حکم کو بجا لانے اور ہر نہی سے رک جانے میں آپ کی حالت یہ تھی کہ گویا قرآن میں جو کچھ ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادتوں اور آپ کے کریمانہ اخلاق کا بیان ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال تک خدمت کی لیکن کسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اف تک نہیں کہا، کسی کرنے کے کام کو نہ کروں یا نہ کرنے کے کام کر گزروں تو بھی ڈانٹ ڈپٹ تو کجا اتنا بھی نہ فرماتے کہ ایسا کیوں ہوا؟ } ۱؎ [صحیح بخاری:6038] ‏‏‏‏ { نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ خوش خلق تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی سے زیادہ نرم، نہ تو ریشم ہے، نہ کوئی اور چیز۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینہ سے زیادہ خوشبو والی چیز میں نے تو کوئی نہیں سونگھی نہ مشک اور نہ عطر }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1973] ‏‏‏‏

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ مبارک ٭٭

صحیح بخاری میں ہے سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے زیادہ خلیق تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قد نہ تو بہت لمبا تھا نہ آپ پست قامت تھے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3549] ‏‏‏‏ اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ شمائل ترمذی میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایات ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے نہ تو کبھی کسی خادم یا غلام کو مارا، نہ بیوی بچوں کو، نہ کسی اور کو، ہاں اللہ کی راہ کا جہاد الگ چیز ہے، جب کبھی دو کاموں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پسند کرتے جو زیادہ آسان ہوتا، ہاں یہ اور بات ہے کہ اس میں کچھ گناہ ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بہت دور ہو جاتے، کبھی بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بدلہ کسی سے نہیں لیا ہاں یہ اور بات ہے کہ کوئی اللہ کی حرمتوں کو توڑتا ہو تو آپ اللہ کے احکام جاری کرنے کے لیے ضرور انتقام لیتے } ۱؎ [صحیح بخاری:3560] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ”میں بہترین اخلاق اور پاکیزہ ترین عادتوں کو پورا کرنے کے لیے آیا ہوں“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:2/381:صحیح] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! آپ اور آپ کے مخالف اور منکر ابھی ابھی جان لیں گے کہ دراصل بہکا ہوا اور گمراہ کون تھا؟ ‘ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏سَيَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ» ‏‏‏‏ ۱؎ [54-القمر:26] ‏‏‏‏ ’ انہیں ابھی کل ہی معلوم ہو جائے گا کہ جھوٹا اور شیخی باز کون تھا؟ ‘ جیسے اور جگہ ہے «وَاِنَّآ اَوْ اِيَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [34-سبأ:24] ‏‏‏‏ ’ ہم یا تم ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی پر ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی یہ حقیقت قیامت کے دن کھل جائے گی“، آپ سے مروی ہے کہ ” «مَفْتُونُ» مجنون کو کہتے ہیں۔‏‏‏‏“ مجاہد رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں یعنی کون شیطان سے نزدیک تر ہے؟ «مَفْتُونُ» کے ظاہری معنی یہ ہیں کہ جو حق سے بہک جائے اور گمراہ ہو جائے۔ «أَييِّكُمُ» پر ”ب“ کو اس لیے داخل کیا گیا ہے کہ دلالت ہو جائے کہ «‏‏‏‏فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [68-القلم:5] ‏‏‏‏ میں تضمین فعل ہے تو تقدیری عبارت کو ملا کر ترجمہ یوں ہو جائے گا کہ ’ تو بھی اور وہ بھی عنقریب جان لیں گے ‘ اور تو بھی اور وہ سب بھی بہت جلدی «مَفْتُونُ» کی خبر دے دیں گے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» پھر فرمایا کہ ’ تم میں سے بہکنے والے اور راہ راست والے سب اللہ پر ظاہر ہیں اسے خوب معلوم ہے کہ راہ راست سے کس کا قدم پھسل گیا ہے ‘۔
ن، قسم ہے قلم کی اور (1) اس کی جو کچھ وہ (فرشتے) لکھتے ہیں۔
(آیت 1) ➊ {” نٓ “} حروف تہجی میں سے ایک حرف ہے۔ مختلف سورتوں کی ابتدا میں آنے والے ان حروف سے اصل مراد اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، سب سے قریب بات یہ ہے کہ ان حروف کے ذکر سے تمام دنیا کو چیلنج کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید ان حروف تہجی ہی میں اتارا ہے، اگر تمھیں اس کے منزل من اللہ ہونے میں شک ہے تو حروف تہجی تمھارے بھی علم اور استعمال میں ہیں، تم بھی اس جیسی کوئی سورت بنا کر لے آؤ۔ اس کا قرینہ یہ ہے کہ عموماً یہ حروف جہاں بھی آتے ہیں ان کے بعد قرآن مجید، کتاب یا وحی کا ذکر آیا ہے۔ (واللہ اعلم) بعض مفسرین نے فرمایا {” نٓ “} کا معنی مچھلی ہے اور یہاں اس عظیم مچھلی کی قسم کھائی گئی ہے جس کی پشت پر ساتوں زمینیں رکھی ہوئی ہیں، لیکن یہ بات درست نہیں۔ ایک تو اس لیے کہ کسی صحیح حدیث سے ایسی کسی مچھلی کا وجود ہی ثابت نہیں، دوسرا اس لیے کہ بے شک کلام عرب میں ”نون “ کا معنی مچھلی ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا» ‏‏‏‏ [ الأنبیاء: ۸۷ ] ”اور مچھلی والے کو جب وہ غصے میں بھرا ہوا چلا گیا۔“ مگر یہاں یہ لفظ ”ن“ کی شکل میں ہے، ”نون“ کی شکل میں نہیں۔ علاوہ ازیں اگر اس سے مراد مچھلی ہوتی تو اس پر رفع، نصب یا جر کا اعراب ہونا چاہیے تھا اور آخر میں تنوین آنی چاہیے تھی، جب کہ یہاں اس کے آخر میں وقف ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ دوسرے حروف مقطعات مثلاً {” الٓمّٓ “} کی طرح حرف تہجی ہی ہے۔ بعض نے {” نٓ “} کا معنی دوات بتایا ہے،مگر یہ لغت میں غیر معروف ہے اور اس پر اعراب اور تنوین نہ ہونے سے بھی اس کی تردید ہوتی ہے۔ ➋ { وَ الْقَلَمِ …: ” الْقَلَمِ “} سے مراد لوح محفوظ پر لکھنے والا قلم بھی ہو سکتا ہے، جس کے متعلق ابنِ عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ خَلَقَهُ اللّٰهُ تَعَالَی الْقَلَمُ وَ أَمَرَهُ أَنْ يَّكْتُبَ كُلَّ شَيْءٍ يَكُوْنُ ] [ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ للألباني: 257/1، ح: ۱۳۳ ] ”سب سے پہلی چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی وہ قلم ہے اور اسے حکم دیا کہ ہر وہ چیز لکھ دے جو آئندہ ہوگی۔“ یہ حدیث ترمذی (۳۳۱۹)، ابو داؤد (۴۷۰۰) اور مسنداحمد (۵؍۳۱۷) میں بھی عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ اور وہ قلم بھی مراد ہو سکتا ہے جس سے لوگ لکھتے ہیں۔ لفظ عام ہے، اس لیے اسے کسی ایک قلم کے ساتھ خاص نہیں کیا جا سکتا۔ {” وَ مَا يَسْطُرُوْنَ “} میں لوحِ محفوظ میں لکھے ہوئے آسمانی صحیفے، قرآن مجید اور ابتدائے خلق سے لکھی ہوئی تمام کائنات کی تقدیر بھی شامل ہے اور انسان یا فرشتے جو کچھ لکھتے ہیں وہ سب کچھ بھی شامل ہے۔
مَاۤ اَنۡتَ بِنِعۡمَۃِ رَبِّکَ بِمَجۡنُوۡنٍ ۚ﴿۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم اپنے رب کے فضل سے مجنوں نہیں ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
تو اپنے رب کے فضل سے دیوانہ نہیں ہے
احمد رضا خان بریلوی
تم اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
کہ آپ(ص) اپنے پروردگار کے فضل و کرم سے دیوانے نہیں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
کہ تو اپنے رب کی نعمت سے ہرگز دیوانہ نہیں ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نون سے کیا مراد ہے؟ ٭٭

نون وغیرہ جیسے حروف ہجا کا مفصل بیان سورۃ البقرہ کے شروع میں گزر چکا ہے اس لیے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں، کہا گیا ہے کہ یہاں ”ن“ سے مراد وہ بڑی مچھلی ہے جو ایک محیط عالم پانی پر ہے جو ساتوں زمینوں کو اٹھائے ہوئے ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”سب سے پہلے اللہ نے قلم کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا ’ لکھ ‘ اس نے کہا: کیا لکھوں؟ فرمایا ’ تقدیر لکھ ڈال ‘ پس اس دن سے لے کر قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اس پر قلم جاری ہو گیا پھر اللہ تعالیٰ نے مچھلی پیدا کی اور پانی کے بخارات بلند کئے، جس سے آسمان بنے اور زمین کو اس مچھلی کی پیٹھ پر رکھا مچھلی نے حرکت کی جس سے زمین بھی ہلنے لگی پس زمین پر پہاڑ گاڑ کر اسے مضبوط اور ساکن کر دیا“، پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:14/29:قال امام حاكم:صحیح] ‏‏‏‏ مطلب یہ ہے کہ یہاں ”ن“ سے مراد یہ مچھلی ہے۔

طبرانی میں مرفوعاً مروی ہے کہ ”سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو اور مچھلی کو پیدا کیا، قلم نے دریافت کیا میں کیا لکھوں؟ حکم ہوا، ہر وہ چیز جو قیامت تک ہونے والی ہے“، پھر آپ نے پہلی آیت کی تلاوت کی، پس نون سے مراد یہ مچھلی ہے اور قلم سے مراد یہ قلم ہے۔ ۱؎ [طبرانی:8652-8653:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن عساکر کی حدیث میں ہے { سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا پھر نون یعنی دوات کو پھر قلم سے فرمایا: ’ لکھ ‘ اس نے پوچھا: کیا؟ فرمایا ’ جو ہو رہا ہے اور جو ہونے والا ہے ‘ عمل، رزق، عمر، موت وغیرہ، پس قلم نے سب کچھ لکھ لیا }۔ اس آیت میں یہی مراد ہے، پھر قلم پر مہر لگا دی اب وہ قیامت تک نہ چلے گا، پھر عقل کو پیدا کیا اور فرمایا ’ مجھے اپنی عزت کی قسم اپنے دوستوں میں تو میں تجھے کمال تک پہنچاؤں گا اور اپنے دشمنوں میں تجھے ناقص رکھوں گا ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ مشہور تھا کہ نون سے مراد وہ مچھلی ہے جو ساتویں زمین کے نیچے ہے“، بغوی رحمہ اللہ وغیرہ مفسرین فرماتے ہیں کہ ”اس مچھلی کی پیٹھ پر ایک چٹان ہے جس کی موٹائی آسمان و زمین کے برابر ہے اس پر ایک بیل ہے جس کے چالیس ہزار سینگ ہیں اس کی پیٹھ پر ساتوں زمینیں اور ان پر تمام مخلوق ہے۔‏‏‏‏“ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اور تعجب تو یہ ہے کہ ان بعض مفسرین نے اس حدیث کو بھی انہی معنی پر محمول کیا ہے جو مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ { جب سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آ گئے ہیں تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بہت کچھ سوالات کئے ـ کہا کہ میں وہ باتیں پوچھنا چاہتا ہوں جنہیں نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں جانتا بتائیے قیامت کے پہلی نشانی کیا ہے؟ اور جنتیوں کا پہلا کھانا کیا ہے؟ اور کیا وجہ ہے کہ کبھی بچہ اپنے باپ کی صورت میں ہوتا ہے کبھی ماں کی صورت پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ باتیں ابھی ابھی جبرائیل علیہ السلام نے مجھے بتا دیں“، سیدنا ابن سلام رضی اللہ عنہ کہنے لگے فرشتوں میں سے یہی فرشتہ ہے جو یہودیوں کا دشمن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! قیامت کی پہلی نشانی ایک آگ کا نکلنا ہے جو لوگوں کو مشرق کی طرف سے مغرب کی طرف لے جائے گی اور جنتیوں کا پہلا کھانا مچھلی کی کلیجی کی زیادتی ہے اور مرد کا پانی عورت کے پانی پر سابق آ جائے تو لڑکا ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر سبقت کر جائے تو وہی کھینچ لیتی ہے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:108/3:صحیح] ‏‏‏‏

دوسری حدیث میں اتنی زیادتی ہے کہ { پوچھا جنتیوں کے اس کھانے کے بعد انہیں کیا ملے گا؟ فرمایا: ”جنتی بیل ذبح کیا جائے گا جو جنت میں چرتا چگتا رہا تھا“، پوچھا: انہیں پانی کون سا ملے گا؟ فرمایا: ” «سلسبیل» نامی نہر کا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:315] ‏‏‏‏ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”مراد «ن» سے نور کی تختی ہے۔‏‏‏‏“ ایک مرسل غریب حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ اس سے مراد نور کی تختی اور نور کا حکم ہے جو قیامت تک کے حال پر چل چکا ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34540:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے خبر دی گئی ہے کہ ”یہ نورانی قلم سو سال کی طولانی رکھتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ «ن» سے مراد دوات ہے اور «قلم» سے مراد قلم ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [ضعیف] ‏‏‏‏ حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہما بھی یہی فرماتے ہیں۔ ایک بہت ہی غریب مرفوع حدیث میں بھی یہ مروی ہے جو ابن ابی حاتم میں ہے کہ { اللہ نے «نون» کو پیدا کیا اور وہ دوات ہے }۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”اللہ تعالیٰ نے «نون» یعنی دوات کو پیدا کیا اور قلم کو پیدا کیا، پھر فرمایا ’ لکھ ‘ اس نے پوچھا: ”کیا لکھوں؟“ فرمایا: ’ جو قیامت تک ہونے والا ہے ‘، اعمال خواہ نیک ہوں، خواہ بد، روزی خواہ حلال ہو، خواہ حرام، پھر یہ بھی کہ کون سی چیز دنیا میں کب آئے گی کس قدر رہے گی، کیسے نکلے گی، پھر اللہ تعالیٰ نے بندوں پر محافظ فرشتے مقرر کئے اور کتاب پر داروغے مقرر کئے، محافظ فرشتے ہر دن ان کے عمل خازن فرشتوں سے دریافت کر کے لکھ لیتے ہیں جب رزق ختم ہو جاتا ہے عمر پوری ہو جاتی ہے اجل آ پہنچتی ہے تو محافظ فرشتے داروغہ فرشتوں کے پاس آ کر پوچھتے ہیں بتاؤ آج کے دن کا کیا سامان ہے؟ وہ کہتے ہیں بس اس شخص کے لیے ہمارے پاس اب کچھ بھی نہیں رہا، یہ سن کر یہ فرشتے نیچے اترتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ مر گیا“ ـ اس بیان کے بعد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ”تم تو عرب ہو کیا تم نے قرآن میں محافظ فرشتوں کی بابت یہ نہیں پڑھا؟“ «اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [45-الجاثية:29] ‏‏‏‏ مطلب یہ ہے کہ ہم تمہارے اعمال کو اصل سے نقل کر لیا کرتے تھے۔

قلم سے کیا مراد ہے؟ ٭٭

یہ تو تھا لفظ «ن» کے متعلق بیان، اب «قلم» کی نسبت سنئے۔ بظاہر مراد یہاں عام قلم ہے جس سے لکھا جاتا ہے جیسے اور جگہ فرمان عالیشان ہے «‏‏‏‏الَّذِيْ عَلَّمَ بالْقَلَمِ» ‏‏‏‏ ۱؎ [96-العلق:4] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس اللہ نے قلم سے لکھنا سکھایا ‘، پس اس کی قسم کھا کر اس بات پر آگاہی کی جاتی ہے کہ مخلوق پر میری ایک نعمت یہ بھی ہے کہ میں نے انہیں لکھنا سکھایا جس سے علوم تک ان کے رسائی ہو سکے۔ اس لیے اس کے بعد فرمایا «ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [68- القلم:1] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس چیز کی قسم جو لکھتے ہیں ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کی تفسیر یہ بھی مروی ہے کہ اس چیز کی جو جانتے ہیں، سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے فرشتوں کا لکھنا ہے جو بندوں کے اعمال لکھتے ہیں“ اور مفسرین کہتے ہیں ”اس سے مراد وہ قلم ہے جو قدرتی طور پر چلا اور تقدیریں لکھیں آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے“، اور اس قول کی دلیل میں یہ جماعت وہ حدیثیں وارد کرتی ہے جو قلم کے ذکر میں مروی ہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قلم سے مراد وہ قلم ہے جس سے ذکر لکھا گیا۔

نبی دیوانہ نہیں ہوتا ٭٭

پھر فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! تو بحمد اللہ دیوانہ نہیں جیسے کہ تیری قوم کے جاہل منکرین حق کہتے ہیں بلکہ تیرے لیے اجر عظیم ہے اور ثواب بے پایاں ہے جو نہ ختم ہو، نہ ٹوٹے، نہ کٹے کیونکہ تو نے حق رسالت ادا کر دیا ہے اور ہماری راہ میں سخت سے سخت مصیبتیں جھیلی ہیں ہم تجھے بے حساب بدلہ دیں گے، تو بہت بڑے خلق پر ہے یعنی دین اسلام پر اور بہترین ادب پر ہے ‘۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اخلاق نبوی کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو آپ جواب دیتی ہیں کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن تھا“، سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی جیسے کہ قرآن میں ہے ـ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34559] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا؟ سائل سعید بن ہشام نے کہا ہاں پڑھا ہے آپ نے فرمایا: بس تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن کریم تھا۔ ۱؎ [عبد الرزاق فی التفسیر:3275] ‏‏‏‏ مسلم میں یہ حدیث پوری ہے جسے ہم سورۃ مزمل کی تفسیر میں بیان کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔

خلق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭

بنو سواد کے ایک شخص نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی سوال کیا تھا تو آپ نے یہی فرما کر پھر آیت «‏‏‏‏وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [68-القلم:4] ‏‏‏‏ پڑھی اس نے کہا: کوئی ایک آدھ واقعہ تو بیان کیجئے، ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”سنو! ایک مرتبہ میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا پکایا اور حفصہ نے بھی، میں نے اپنی لونڈی سے کہا: دیکھ اگر میرے کھانے سے پہلے حفصہ کے ہاں کا کھانا آ جائے تو برتن گرا دینا چنانچہ اس نے یہی کیا اور برتن بھی ٹوٹ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بکھرے ہوئے کھانے کو سمیٹنے لگے اور فرمایا: ”اس برتن کے بدلے ثابت برتن تم دو“ واللہ! اور کچھ ڈانٹا ڈپٹا نہیں۔ ۱؎ [مسند احمد:111/6:ضعیف] ‏‏‏‏ مطلب اس حدیث کا جو کئی طریق سے مختلف الفاظ میں کئی کتابوں میں ہے، یہ ہے کہ ایک تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جبلت اور پیدائش میں ہی اللہ نے پسندیدہ اخلاق، بہترین خصلتیں اور پاکیزہ عادتیں رکھی تھیں اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل قرآن کریم پر ایسا تھا کہ گویا احکام قرآن کا مجسم عملی نمونہ ہیں، ہر حکم کو بجا لانے اور ہر نہی سے رک جانے میں آپ کی حالت یہ تھی کہ گویا قرآن میں جو کچھ ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادتوں اور آپ کے کریمانہ اخلاق کا بیان ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال تک خدمت کی لیکن کسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اف تک نہیں کہا، کسی کرنے کے کام کو نہ کروں یا نہ کرنے کے کام کر گزروں تو بھی ڈانٹ ڈپٹ تو کجا اتنا بھی نہ فرماتے کہ ایسا کیوں ہوا؟ } ۱؎ [صحیح بخاری:6038] ‏‏‏‏ { نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ خوش خلق تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی سے زیادہ نرم، نہ تو ریشم ہے، نہ کوئی اور چیز۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینہ سے زیادہ خوشبو والی چیز میں نے تو کوئی نہیں سونگھی نہ مشک اور نہ عطر }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1973] ‏‏‏‏

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ مبارک ٭٭

صحیح بخاری میں ہے سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے زیادہ خلیق تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قد نہ تو بہت لمبا تھا نہ آپ پست قامت تھے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3549] ‏‏‏‏ اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ شمائل ترمذی میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایات ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے نہ تو کبھی کسی خادم یا غلام کو مارا، نہ بیوی بچوں کو، نہ کسی اور کو، ہاں اللہ کی راہ کا جہاد الگ چیز ہے، جب کبھی دو کاموں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پسند کرتے جو زیادہ آسان ہوتا، ہاں یہ اور بات ہے کہ اس میں کچھ گناہ ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بہت دور ہو جاتے، کبھی بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بدلہ کسی سے نہیں لیا ہاں یہ اور بات ہے کہ کوئی اللہ کی حرمتوں کو توڑتا ہو تو آپ اللہ کے احکام جاری کرنے کے لیے ضرور انتقام لیتے } ۱؎ [صحیح بخاری:3560] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ”میں بہترین اخلاق اور پاکیزہ ترین عادتوں کو پورا کرنے کے لیے آیا ہوں“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:2/381:صحیح] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! آپ اور آپ کے مخالف اور منکر ابھی ابھی جان لیں گے کہ دراصل بہکا ہوا اور گمراہ کون تھا؟ ‘ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏سَيَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ» ‏‏‏‏ ۱؎ [54-القمر:26] ‏‏‏‏ ’ انہیں ابھی کل ہی معلوم ہو جائے گا کہ جھوٹا اور شیخی باز کون تھا؟ ‘ جیسے اور جگہ ہے «وَاِنَّآ اَوْ اِيَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [34-سبأ:24] ‏‏‏‏ ’ ہم یا تم ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی پر ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی یہ حقیقت قیامت کے دن کھل جائے گی“، آپ سے مروی ہے کہ ” «مَفْتُونُ» مجنون کو کہتے ہیں۔‏‏‏‏“ مجاہد رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں یعنی کون شیطان سے نزدیک تر ہے؟ «مَفْتُونُ» کے ظاہری معنی یہ ہیں کہ جو حق سے بہک جائے اور گمراہ ہو جائے۔ «أَييِّكُمُ» پر ”ب“ کو اس لیے داخل کیا گیا ہے کہ دلالت ہو جائے کہ «‏‏‏‏فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [68-القلم:5] ‏‏‏‏ میں تضمین فعل ہے تو تقدیری عبارت کو ملا کر ترجمہ یوں ہو جائے گا کہ ’ تو بھی اور وہ بھی عنقریب جان لیں گے ‘ اور تو بھی اور وہ سب بھی بہت جلدی «مَفْتُونُ» کی خبر دے دیں گے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» پھر فرمایا کہ ’ تم میں سے بہکنے والے اور راہ راست والے سب اللہ پر ظاہر ہیں اسے خوب معلوم ہے کہ راہ راست سے کس کا قدم پھسل گیا ہے ‘۔
2۔ 1 یہ جواب قسم ہے، جس میں کفار کے قول کا رد ہے، وہ آپ کو مجنون (دیوانہ) کہتے تھے۔
(آیت 2تا4) ➊ {مَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍ …:} اللہ تعالیٰ نے قلم کی اور اس چیز کی قسم کھائی جو لکھنے والے لکھتے ہیں اور اس کے جواب میں تین باتیں ارشاد فرمائیں، پہلی یہ کہ آپ اللہ کے فضل سے مجنون(دیوانے) نہیں ہیں، دوسری یہ کہ آپ کے لیے ایسا اجر ہے جو منقطع ہونے والا نہیں اور تیسری یہ کہ یقینا آپ خلق عظیم پر ہیں۔ قسم جواب قسم کی تاکید کے لیے کھائی جاتی ہے اور عام طور پر اس کے لیے شاہد اور دلیل ہوتی ہے، یہاں قسم اور جواب قسم میں مناسبت یہ ہے کہ قلم اور قلم سے لکھنے والوں نے جو کچھ لکھا ہے وہ اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ کفار کا یہ کہنا غلط ہے کہ آپ دیوانے ہیں۔ تقدیر کے قلم نے لوحِ محفوظ میں ہزاروں سال پہلے آپ کی قسمت میں جو صدق و امانت، نبوت و رسالت اور دنیا و آخرت میں کامیابی اور عزت و رفعت لکھ دی ہے اور پہلے صحائف میں آپ کے متعلق جو پیش گوئیاں اور فضائل لکھے ہوئے ہیں، کراماً کاتبین آپ کے اعمال نامے میں جو کچھ لکھ رہے ہیں اور کسی بھی شخص کے اعمال نامے میں جو کچھ لکھا جا رہا ہے، قرآن مجید میں جو عقائد، احکام، قصص اور گزشتہ و آئندہ کی خبریں لکھی ہوئی ہیں، جن کا ایک شوشہ بھی نہ غلط ثابت ہوا ہے نہ ہو گا اور جس کی مثل چھوٹی سے چھوٹی سورت کوئی شخص پیش کر سکا ہے نہ کر سکے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلنے والے الفاظ، آپ کے افعال و احوال اور آپ کا بعض مواقع پر خاموش رہنا، یہ سب کچھ جو یاد کرنے والوں نے یاد کیا اور لکھنے والوں نے لکھا ہے اور قیامت تک یاد کرتے اور لکھتے چلے جائیں گے، اگر کوئی ان تمام لکھی ہوئی چیزوں پر غور کرے اور اس کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے بڑے بڑے عقل مندوں کی تحریروں کا موازنہ کرے اور سارے جہاں کے دیوانوں، یاوہ گو شاعروں، گپ بازوں اور افسانہ نویسوں کی لکھی ہوئی فضولیات کا بھی جائزہ لے تو وہ اسی نتیجے پر پہنچے گا کہ لوحِ محفوظ میں جس کی قسمت میں اتنی سعادتیں لکھ دی گئی ہیں،جس کی پیش گوئیاں پہلے آسمانی صحائف میں لکھی ہوئی ہیں، جو اُمی ہونے کے باوجود قرآن جیسی عظیم کتاب لے کر آیا ہے، جس کے اقوال و احوال اور افعال و تقریرات میں سے ہر چیز بے حد محبت و عقیدت سے لکھی گئی ہے اور قیامت تک محفوظ ہے اور تمام جہانوں کے لیے ہدایت کی روشنی مہیا کرتی ہے، اس کے متعلق کفار کا کہنا{ ” اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌ “} کہ آپ دیوانے ہیں (دیکھیے حجر: ۶) بالکل غلط ہے، آپ اللہ کے فضل سے ہرگز دیوانے نہیں ہیں۔ کفار کا یہ کہنا بھی غلط ہے کہ زمانے کی گردش کے ساتھ آپ کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ (طور:۳۰) اور یہ کہ آپ ابتر ہیں (کوثر:۳) اور یہ کہ آپ کے بعد آپ کا نام لینے والا بھی کوئی نہ ہو گا۔ نہیں، بلکہ یقین رکھو کہ آپ کے لیے وہ اجر ہے جو کبھی منقطع نہیں ہو گا۔ آپ کی وفات کے بعد آپ کی امت کے اعمال حسنہ بھی آپ کے نامۂ اعمال میں لکھے جاتے رہیں گے، کیونکہ وہ آپ کی تعلیم ہی سے کیے گئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ دَلَّ عَلٰی خَيْرٍ فَلَهٗ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ ] [ مسلم، الإمارۃ، باب فضل إعانۃ الغازي في سبیل اللّٰہ…: ۱۸۹۳ ] ”جو کسی نیکی کی طرف رہنمائی کرے تو اسے وہ نیکی کرنے والے کی طرح اجر ملے گا۔“اور کفار کا آپ کے متعلق یہ کہنا بھی غلط ہے کہ آپ شاعر ہیں یا کاہن ہیں یا نعوذ باللہ کذاب یا متکبر ہیں۔ (دیکھیے قمر:۲۵) نہیں، بلکہ آپ خلق عظیم پر ہیں۔ ان تینوں آیات میں مخاطب اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، مگر اصل میں یہ باتیں کفار کو سمجھائی جا رہی ہیں۔ ➋ {وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ:” خُلُقٍ “} کے لفظی معنی ہیں وہ عادتیں جو پیدائشی طور پر انسان میں پائی جاتی ہیں، یعنی وہ خصلتیں جو طبیعت میں پختہ ہو جائیں اور اس طرح عادت بن جائیں کہ بغیر سوچے سمجھے خود بخود سرزد ہوتی رہیں ”خلق“ کہلاتی ہیں۔ عام طور پر خلق سے مراد لوگوں سے اچھا برتاؤ کرنا اور انھیں خندہ پیشانی سے ملنا لیا جاتا ہے، اگرچہ خلق کے مفہوم میں یہ بھی شامل ہے مگر یہ خلق کا محدود مفہوم ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم میں سے ابن عباس رضی اللہ عنھما نے {” خُلُقٍ عَظِيْمٍ “} کی تفسیر دین سے کی ہے۔(طبری) اور عائشہ رضی اللہ عنھا سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلق کے متعلق پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا: [ كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ ] [ مسند أحمد: 91/6، ح: ۲۴۶۰۱۔ مسلم: ۷۴۶ ] ”آپ کا خلق قرآن تھا۔“ یعنی ابنِ عباس رضی اللہ عنھما کی تفسیر کے مطابق دین اسلام کی ہر بات پر آپ کا اس طرح عمل تھا جیسے وہ آپ کی طبعی عادت ہو اور بقول عائشہ رضی اللہ عنھا قرآن مجید آپ کا خلق یعنی آپ کی طبیعت بن گیا تھا۔ وہ سب کچھ جو قرآن میں ہے آپ سے بلا تکلف خود بخود عمل میں آتا تھا، جیسے وہ آپ کی طبعی خصلت ہے۔ قرآن میں جو حکم دیا گیا اس پر آپ کا عمل تھا اور جس سے منع کیا گیا اس سے مکمل اجتناب تھا، جو خوبیاں اختیار کرنے کی تلقین کی گئی آپ ان سے پوری طرح آراستہ تھے اور جن صفات کو ناپسندیدہ قرار دیا گیا ان کے قریب بھی نہیں پھٹکتے تھے۔ الغرض، آپ میں تمام انسانی خوبیاں جمع ہو گئی تھیں، مثلاً شرفِ نسب، کمال عقل، درستی فہم، کثرتِ علم، شدتِ حیا، کثرتِ عبادت، سخاوت، صدق، شجاعت، صبر، شکر، مروت، دوستی و محبت، میانہ روی، زہد، تواضع، شفقت، عدل، عفو، برداشت، صلہ رحمی، حسنِ معاشرت، حسنِ تدبیر، فصاحتِ لسان، قوتِ حواس، حسنِ صورت و غیرہ، جیسا کہ آپ کی زندگی کے حالات و واقعات میں مذکور ہے۔
وَ اِنَّ لَکَ لَاَجۡرًا غَیۡرَ مَمۡنُوۡنٍ ۚ﴿۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور یقیناً تمہارے لیے ایسا اجر ہے جس کا سلسلہ کبھی ختم ہونے والا نہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور بے شک تیرے لیے بے انتہا اجر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ضرور تمہارے لیے بے انتہا ثواب ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور بےشک آپ(ص) کے لئے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم ہو نے والانہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بے شک تیرے لیے یقینا ایسا اجر ہے جو منقطع ہونے والا نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نون سے کیا مراد ہے؟ ٭٭

نون وغیرہ جیسے حروف ہجا کا مفصل بیان سورۃ البقرہ کے شروع میں گزر چکا ہے اس لیے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں، کہا گیا ہے کہ یہاں ”ن“ سے مراد وہ بڑی مچھلی ہے جو ایک محیط عالم پانی پر ہے جو ساتوں زمینوں کو اٹھائے ہوئے ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”سب سے پہلے اللہ نے قلم کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا ’ لکھ ‘ اس نے کہا: کیا لکھوں؟ فرمایا ’ تقدیر لکھ ڈال ‘ پس اس دن سے لے کر قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اس پر قلم جاری ہو گیا پھر اللہ تعالیٰ نے مچھلی پیدا کی اور پانی کے بخارات بلند کئے، جس سے آسمان بنے اور زمین کو اس مچھلی کی پیٹھ پر رکھا مچھلی نے حرکت کی جس سے زمین بھی ہلنے لگی پس زمین پر پہاڑ گاڑ کر اسے مضبوط اور ساکن کر دیا“، پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:14/29:قال امام حاكم:صحیح] ‏‏‏‏ مطلب یہ ہے کہ یہاں ”ن“ سے مراد یہ مچھلی ہے۔

طبرانی میں مرفوعاً مروی ہے کہ ”سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو اور مچھلی کو پیدا کیا، قلم نے دریافت کیا میں کیا لکھوں؟ حکم ہوا، ہر وہ چیز جو قیامت تک ہونے والی ہے“، پھر آپ نے پہلی آیت کی تلاوت کی، پس نون سے مراد یہ مچھلی ہے اور قلم سے مراد یہ قلم ہے۔ ۱؎ [طبرانی:8652-8653:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن عساکر کی حدیث میں ہے { سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا پھر نون یعنی دوات کو پھر قلم سے فرمایا: ’ لکھ ‘ اس نے پوچھا: کیا؟ فرمایا ’ جو ہو رہا ہے اور جو ہونے والا ہے ‘ عمل، رزق، عمر، موت وغیرہ، پس قلم نے سب کچھ لکھ لیا }۔ اس آیت میں یہی مراد ہے، پھر قلم پر مہر لگا دی اب وہ قیامت تک نہ چلے گا، پھر عقل کو پیدا کیا اور فرمایا ’ مجھے اپنی عزت کی قسم اپنے دوستوں میں تو میں تجھے کمال تک پہنچاؤں گا اور اپنے دشمنوں میں تجھے ناقص رکھوں گا ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ مشہور تھا کہ نون سے مراد وہ مچھلی ہے جو ساتویں زمین کے نیچے ہے“، بغوی رحمہ اللہ وغیرہ مفسرین فرماتے ہیں کہ ”اس مچھلی کی پیٹھ پر ایک چٹان ہے جس کی موٹائی آسمان و زمین کے برابر ہے اس پر ایک بیل ہے جس کے چالیس ہزار سینگ ہیں اس کی پیٹھ پر ساتوں زمینیں اور ان پر تمام مخلوق ہے۔‏‏‏‏“ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اور تعجب تو یہ ہے کہ ان بعض مفسرین نے اس حدیث کو بھی انہی معنی پر محمول کیا ہے جو مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ { جب سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آ گئے ہیں تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بہت کچھ سوالات کئے ـ کہا کہ میں وہ باتیں پوچھنا چاہتا ہوں جنہیں نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں جانتا بتائیے قیامت کے پہلی نشانی کیا ہے؟ اور جنتیوں کا پہلا کھانا کیا ہے؟ اور کیا وجہ ہے کہ کبھی بچہ اپنے باپ کی صورت میں ہوتا ہے کبھی ماں کی صورت پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ باتیں ابھی ابھی جبرائیل علیہ السلام نے مجھے بتا دیں“، سیدنا ابن سلام رضی اللہ عنہ کہنے لگے فرشتوں میں سے یہی فرشتہ ہے جو یہودیوں کا دشمن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! قیامت کی پہلی نشانی ایک آگ کا نکلنا ہے جو لوگوں کو مشرق کی طرف سے مغرب کی طرف لے جائے گی اور جنتیوں کا پہلا کھانا مچھلی کی کلیجی کی زیادتی ہے اور مرد کا پانی عورت کے پانی پر سابق آ جائے تو لڑکا ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر سبقت کر جائے تو وہی کھینچ لیتی ہے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:108/3:صحیح] ‏‏‏‏

دوسری حدیث میں اتنی زیادتی ہے کہ { پوچھا جنتیوں کے اس کھانے کے بعد انہیں کیا ملے گا؟ فرمایا: ”جنتی بیل ذبح کیا جائے گا جو جنت میں چرتا چگتا رہا تھا“، پوچھا: انہیں پانی کون سا ملے گا؟ فرمایا: ” «سلسبیل» نامی نہر کا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:315] ‏‏‏‏ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”مراد «ن» سے نور کی تختی ہے۔‏‏‏‏“ ایک مرسل غریب حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ اس سے مراد نور کی تختی اور نور کا حکم ہے جو قیامت تک کے حال پر چل چکا ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34540:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے خبر دی گئی ہے کہ ”یہ نورانی قلم سو سال کی طولانی رکھتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ «ن» سے مراد دوات ہے اور «قلم» سے مراد قلم ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [ضعیف] ‏‏‏‏ حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہما بھی یہی فرماتے ہیں۔ ایک بہت ہی غریب مرفوع حدیث میں بھی یہ مروی ہے جو ابن ابی حاتم میں ہے کہ { اللہ نے «نون» کو پیدا کیا اور وہ دوات ہے }۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”اللہ تعالیٰ نے «نون» یعنی دوات کو پیدا کیا اور قلم کو پیدا کیا، پھر فرمایا ’ لکھ ‘ اس نے پوچھا: ”کیا لکھوں؟“ فرمایا: ’ جو قیامت تک ہونے والا ہے ‘، اعمال خواہ نیک ہوں، خواہ بد، روزی خواہ حلال ہو، خواہ حرام، پھر یہ بھی کہ کون سی چیز دنیا میں کب آئے گی کس قدر رہے گی، کیسے نکلے گی، پھر اللہ تعالیٰ نے بندوں پر محافظ فرشتے مقرر کئے اور کتاب پر داروغے مقرر کئے، محافظ فرشتے ہر دن ان کے عمل خازن فرشتوں سے دریافت کر کے لکھ لیتے ہیں جب رزق ختم ہو جاتا ہے عمر پوری ہو جاتی ہے اجل آ پہنچتی ہے تو محافظ فرشتے داروغہ فرشتوں کے پاس آ کر پوچھتے ہیں بتاؤ آج کے دن کا کیا سامان ہے؟ وہ کہتے ہیں بس اس شخص کے لیے ہمارے پاس اب کچھ بھی نہیں رہا، یہ سن کر یہ فرشتے نیچے اترتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ مر گیا“ ـ اس بیان کے بعد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ”تم تو عرب ہو کیا تم نے قرآن میں محافظ فرشتوں کی بابت یہ نہیں پڑھا؟“ «اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [45-الجاثية:29] ‏‏‏‏ مطلب یہ ہے کہ ہم تمہارے اعمال کو اصل سے نقل کر لیا کرتے تھے۔

قلم سے کیا مراد ہے؟ ٭٭

یہ تو تھا لفظ «ن» کے متعلق بیان، اب «قلم» کی نسبت سنئے۔ بظاہر مراد یہاں عام قلم ہے جس سے لکھا جاتا ہے جیسے اور جگہ فرمان عالیشان ہے «‏‏‏‏الَّذِيْ عَلَّمَ بالْقَلَمِ» ‏‏‏‏ ۱؎ [96-العلق:4] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس اللہ نے قلم سے لکھنا سکھایا ‘، پس اس کی قسم کھا کر اس بات پر آگاہی کی جاتی ہے کہ مخلوق پر میری ایک نعمت یہ بھی ہے کہ میں نے انہیں لکھنا سکھایا جس سے علوم تک ان کے رسائی ہو سکے۔ اس لیے اس کے بعد فرمایا «ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [68- القلم:1] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس چیز کی قسم جو لکھتے ہیں ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کی تفسیر یہ بھی مروی ہے کہ اس چیز کی جو جانتے ہیں، سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے فرشتوں کا لکھنا ہے جو بندوں کے اعمال لکھتے ہیں“ اور مفسرین کہتے ہیں ”اس سے مراد وہ قلم ہے جو قدرتی طور پر چلا اور تقدیریں لکھیں آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے“، اور اس قول کی دلیل میں یہ جماعت وہ حدیثیں وارد کرتی ہے جو قلم کے ذکر میں مروی ہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قلم سے مراد وہ قلم ہے جس سے ذکر لکھا گیا۔

نبی دیوانہ نہیں ہوتا ٭٭

پھر فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! تو بحمد اللہ دیوانہ نہیں جیسے کہ تیری قوم کے جاہل منکرین حق کہتے ہیں بلکہ تیرے لیے اجر عظیم ہے اور ثواب بے پایاں ہے جو نہ ختم ہو، نہ ٹوٹے، نہ کٹے کیونکہ تو نے حق رسالت ادا کر دیا ہے اور ہماری راہ میں سخت سے سخت مصیبتیں جھیلی ہیں ہم تجھے بے حساب بدلہ دیں گے، تو بہت بڑے خلق پر ہے یعنی دین اسلام پر اور بہترین ادب پر ہے ‘۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اخلاق نبوی کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو آپ جواب دیتی ہیں کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن تھا“، سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی جیسے کہ قرآن میں ہے ـ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34559] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا؟ سائل سعید بن ہشام نے کہا ہاں پڑھا ہے آپ نے فرمایا: بس تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن کریم تھا۔ ۱؎ [عبد الرزاق فی التفسیر:3275] ‏‏‏‏ مسلم میں یہ حدیث پوری ہے جسے ہم سورۃ مزمل کی تفسیر میں بیان کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔

خلق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭

بنو سواد کے ایک شخص نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی سوال کیا تھا تو آپ نے یہی فرما کر پھر آیت «‏‏‏‏وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [68-القلم:4] ‏‏‏‏ پڑھی اس نے کہا: کوئی ایک آدھ واقعہ تو بیان کیجئے، ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”سنو! ایک مرتبہ میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا پکایا اور حفصہ نے بھی، میں نے اپنی لونڈی سے کہا: دیکھ اگر میرے کھانے سے پہلے حفصہ کے ہاں کا کھانا آ جائے تو برتن گرا دینا چنانچہ اس نے یہی کیا اور برتن بھی ٹوٹ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بکھرے ہوئے کھانے کو سمیٹنے لگے اور فرمایا: ”اس برتن کے بدلے ثابت برتن تم دو“ واللہ! اور کچھ ڈانٹا ڈپٹا نہیں۔ ۱؎ [مسند احمد:111/6:ضعیف] ‏‏‏‏ مطلب اس حدیث کا جو کئی طریق سے مختلف الفاظ میں کئی کتابوں میں ہے، یہ ہے کہ ایک تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جبلت اور پیدائش میں ہی اللہ نے پسندیدہ اخلاق، بہترین خصلتیں اور پاکیزہ عادتیں رکھی تھیں اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل قرآن کریم پر ایسا تھا کہ گویا احکام قرآن کا مجسم عملی نمونہ ہیں، ہر حکم کو بجا لانے اور ہر نہی سے رک جانے میں آپ کی حالت یہ تھی کہ گویا قرآن میں جو کچھ ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادتوں اور آپ کے کریمانہ اخلاق کا بیان ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال تک خدمت کی لیکن کسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اف تک نہیں کہا، کسی کرنے کے کام کو نہ کروں یا نہ کرنے کے کام کر گزروں تو بھی ڈانٹ ڈپٹ تو کجا اتنا بھی نہ فرماتے کہ ایسا کیوں ہوا؟ } ۱؎ [صحیح بخاری:6038] ‏‏‏‏ { نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ خوش خلق تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی سے زیادہ نرم، نہ تو ریشم ہے، نہ کوئی اور چیز۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینہ سے زیادہ خوشبو والی چیز میں نے تو کوئی نہیں سونگھی نہ مشک اور نہ عطر }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1973] ‏‏‏‏

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ مبارک ٭٭

صحیح بخاری میں ہے سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے زیادہ خلیق تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قد نہ تو بہت لمبا تھا نہ آپ پست قامت تھے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3549] ‏‏‏‏ اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ شمائل ترمذی میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایات ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے نہ تو کبھی کسی خادم یا غلام کو مارا، نہ بیوی بچوں کو، نہ کسی اور کو، ہاں اللہ کی راہ کا جہاد الگ چیز ہے، جب کبھی دو کاموں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پسند کرتے جو زیادہ آسان ہوتا، ہاں یہ اور بات ہے کہ اس میں کچھ گناہ ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بہت دور ہو جاتے، کبھی بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بدلہ کسی سے نہیں لیا ہاں یہ اور بات ہے کہ کوئی اللہ کی حرمتوں کو توڑتا ہو تو آپ اللہ کے احکام جاری کرنے کے لیے ضرور انتقام لیتے } ۱؎ [صحیح بخاری:3560] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ”میں بہترین اخلاق اور پاکیزہ ترین عادتوں کو پورا کرنے کے لیے آیا ہوں“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:2/381:صحیح] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! آپ اور آپ کے مخالف اور منکر ابھی ابھی جان لیں گے کہ دراصل بہکا ہوا اور گمراہ کون تھا؟ ‘ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏سَيَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ» ‏‏‏‏ ۱؎ [54-القمر:26] ‏‏‏‏ ’ انہیں ابھی کل ہی معلوم ہو جائے گا کہ جھوٹا اور شیخی باز کون تھا؟ ‘ جیسے اور جگہ ہے «وَاِنَّآ اَوْ اِيَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [34-سبأ:24] ‏‏‏‏ ’ ہم یا تم ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی پر ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی یہ حقیقت قیامت کے دن کھل جائے گی“، آپ سے مروی ہے کہ ” «مَفْتُونُ» مجنون کو کہتے ہیں۔‏‏‏‏“ مجاہد رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں یعنی کون شیطان سے نزدیک تر ہے؟ «مَفْتُونُ» کے ظاہری معنی یہ ہیں کہ جو حق سے بہک جائے اور گمراہ ہو جائے۔ «أَييِّكُمُ» پر ”ب“ کو اس لیے داخل کیا گیا ہے کہ دلالت ہو جائے کہ «‏‏‏‏فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [68-القلم:5] ‏‏‏‏ میں تضمین فعل ہے تو تقدیری عبارت کو ملا کر ترجمہ یوں ہو جائے گا کہ ’ تو بھی اور وہ بھی عنقریب جان لیں گے ‘ اور تو بھی اور وہ سب بھی بہت جلدی «مَفْتُونُ» کی خبر دے دیں گے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» پھر فرمایا کہ ’ تم میں سے بہکنے والے اور راہ راست والے سب اللہ پر ظاہر ہیں اسے خوب معلوم ہے کہ راہ راست سے کس کا قدم پھسل گیا ہے ‘۔
3۔ 1 فریضہ نبوت کی ادائیگی میں جتنی زیادہ تکلیفیں برداشت کیں اور دشمنوں کی باتیں سنی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ ﴿۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور بیشک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور بیشک تو بہت بڑے (عمده) اخلاق پر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک تمہاری خُو بُو (خُلق) بڑی شان کی ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور بےشک آپ(ص) خلقِ عظیم کے مالک ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا تو ایک بڑے خلق پر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نون سے کیا مراد ہے؟ ٭٭

نون وغیرہ جیسے حروف ہجا کا مفصل بیان سورۃ البقرہ کے شروع میں گزر چکا ہے اس لیے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں، کہا گیا ہے کہ یہاں ”ن“ سے مراد وہ بڑی مچھلی ہے جو ایک محیط عالم پانی پر ہے جو ساتوں زمینوں کو اٹھائے ہوئے ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”سب سے پہلے اللہ نے قلم کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا ’ لکھ ‘ اس نے کہا: کیا لکھوں؟ فرمایا ’ تقدیر لکھ ڈال ‘ پس اس دن سے لے کر قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اس پر قلم جاری ہو گیا پھر اللہ تعالیٰ نے مچھلی پیدا کی اور پانی کے بخارات بلند کئے، جس سے آسمان بنے اور زمین کو اس مچھلی کی پیٹھ پر رکھا مچھلی نے حرکت کی جس سے زمین بھی ہلنے لگی پس زمین پر پہاڑ گاڑ کر اسے مضبوط اور ساکن کر دیا“، پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:14/29:قال امام حاكم:صحیح] ‏‏‏‏ مطلب یہ ہے کہ یہاں ”ن“ سے مراد یہ مچھلی ہے۔

طبرانی میں مرفوعاً مروی ہے کہ ”سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو اور مچھلی کو پیدا کیا، قلم نے دریافت کیا میں کیا لکھوں؟ حکم ہوا، ہر وہ چیز جو قیامت تک ہونے والی ہے“، پھر آپ نے پہلی آیت کی تلاوت کی، پس نون سے مراد یہ مچھلی ہے اور قلم سے مراد یہ قلم ہے۔ ۱؎ [طبرانی:8652-8653:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن عساکر کی حدیث میں ہے { سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا پھر نون یعنی دوات کو پھر قلم سے فرمایا: ’ لکھ ‘ اس نے پوچھا: کیا؟ فرمایا ’ جو ہو رہا ہے اور جو ہونے والا ہے ‘ عمل، رزق، عمر، موت وغیرہ، پس قلم نے سب کچھ لکھ لیا }۔ اس آیت میں یہی مراد ہے، پھر قلم پر مہر لگا دی اب وہ قیامت تک نہ چلے گا، پھر عقل کو پیدا کیا اور فرمایا ’ مجھے اپنی عزت کی قسم اپنے دوستوں میں تو میں تجھے کمال تک پہنچاؤں گا اور اپنے دشمنوں میں تجھے ناقص رکھوں گا ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ مشہور تھا کہ نون سے مراد وہ مچھلی ہے جو ساتویں زمین کے نیچے ہے“، بغوی رحمہ اللہ وغیرہ مفسرین فرماتے ہیں کہ ”اس مچھلی کی پیٹھ پر ایک چٹان ہے جس کی موٹائی آسمان و زمین کے برابر ہے اس پر ایک بیل ہے جس کے چالیس ہزار سینگ ہیں اس کی پیٹھ پر ساتوں زمینیں اور ان پر تمام مخلوق ہے۔‏‏‏‏“ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اور تعجب تو یہ ہے کہ ان بعض مفسرین نے اس حدیث کو بھی انہی معنی پر محمول کیا ہے جو مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ { جب سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آ گئے ہیں تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بہت کچھ سوالات کئے ـ کہا کہ میں وہ باتیں پوچھنا چاہتا ہوں جنہیں نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں جانتا بتائیے قیامت کے پہلی نشانی کیا ہے؟ اور جنتیوں کا پہلا کھانا کیا ہے؟ اور کیا وجہ ہے کہ کبھی بچہ اپنے باپ کی صورت میں ہوتا ہے کبھی ماں کی صورت پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ باتیں ابھی ابھی جبرائیل علیہ السلام نے مجھے بتا دیں“، سیدنا ابن سلام رضی اللہ عنہ کہنے لگے فرشتوں میں سے یہی فرشتہ ہے جو یہودیوں کا دشمن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! قیامت کی پہلی نشانی ایک آگ کا نکلنا ہے جو لوگوں کو مشرق کی طرف سے مغرب کی طرف لے جائے گی اور جنتیوں کا پہلا کھانا مچھلی کی کلیجی کی زیادتی ہے اور مرد کا پانی عورت کے پانی پر سابق آ جائے تو لڑکا ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر سبقت کر جائے تو وہی کھینچ لیتی ہے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:108/3:صحیح] ‏‏‏‏

دوسری حدیث میں اتنی زیادتی ہے کہ { پوچھا جنتیوں کے اس کھانے کے بعد انہیں کیا ملے گا؟ فرمایا: ”جنتی بیل ذبح کیا جائے گا جو جنت میں چرتا چگتا رہا تھا“، پوچھا: انہیں پانی کون سا ملے گا؟ فرمایا: ” «سلسبیل» نامی نہر کا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:315] ‏‏‏‏ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”مراد «ن» سے نور کی تختی ہے۔‏‏‏‏“ ایک مرسل غریب حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ اس سے مراد نور کی تختی اور نور کا حکم ہے جو قیامت تک کے حال پر چل چکا ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34540:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے خبر دی گئی ہے کہ ”یہ نورانی قلم سو سال کی طولانی رکھتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ «ن» سے مراد دوات ہے اور «قلم» سے مراد قلم ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [ضعیف] ‏‏‏‏ حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہما بھی یہی فرماتے ہیں۔ ایک بہت ہی غریب مرفوع حدیث میں بھی یہ مروی ہے جو ابن ابی حاتم میں ہے کہ { اللہ نے «نون» کو پیدا کیا اور وہ دوات ہے }۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”اللہ تعالیٰ نے «نون» یعنی دوات کو پیدا کیا اور قلم کو پیدا کیا، پھر فرمایا ’ لکھ ‘ اس نے پوچھا: ”کیا لکھوں؟“ فرمایا: ’ جو قیامت تک ہونے والا ہے ‘، اعمال خواہ نیک ہوں، خواہ بد، روزی خواہ حلال ہو، خواہ حرام، پھر یہ بھی کہ کون سی چیز دنیا میں کب آئے گی کس قدر رہے گی، کیسے نکلے گی، پھر اللہ تعالیٰ نے بندوں پر محافظ فرشتے مقرر کئے اور کتاب پر داروغے مقرر کئے، محافظ فرشتے ہر دن ان کے عمل خازن فرشتوں سے دریافت کر کے لکھ لیتے ہیں جب رزق ختم ہو جاتا ہے عمر پوری ہو جاتی ہے اجل آ پہنچتی ہے تو محافظ فرشتے داروغہ فرشتوں کے پاس آ کر پوچھتے ہیں بتاؤ آج کے دن کا کیا سامان ہے؟ وہ کہتے ہیں بس اس شخص کے لیے ہمارے پاس اب کچھ بھی نہیں رہا، یہ سن کر یہ فرشتے نیچے اترتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ مر گیا“ ـ اس بیان کے بعد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ”تم تو عرب ہو کیا تم نے قرآن میں محافظ فرشتوں کی بابت یہ نہیں پڑھا؟“ «اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [45-الجاثية:29] ‏‏‏‏ مطلب یہ ہے کہ ہم تمہارے اعمال کو اصل سے نقل کر لیا کرتے تھے۔

قلم سے کیا مراد ہے؟ ٭٭

یہ تو تھا لفظ «ن» کے متعلق بیان، اب «قلم» کی نسبت سنئے۔ بظاہر مراد یہاں عام قلم ہے جس سے لکھا جاتا ہے جیسے اور جگہ فرمان عالیشان ہے «‏‏‏‏الَّذِيْ عَلَّمَ بالْقَلَمِ» ‏‏‏‏ ۱؎ [96-العلق:4] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس اللہ نے قلم سے لکھنا سکھایا ‘، پس اس کی قسم کھا کر اس بات پر آگاہی کی جاتی ہے کہ مخلوق پر میری ایک نعمت یہ بھی ہے کہ میں نے انہیں لکھنا سکھایا جس سے علوم تک ان کے رسائی ہو سکے۔ اس لیے اس کے بعد فرمایا «ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [68- القلم:1] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس چیز کی قسم جو لکھتے ہیں ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کی تفسیر یہ بھی مروی ہے کہ اس چیز کی جو جانتے ہیں، سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے فرشتوں کا لکھنا ہے جو بندوں کے اعمال لکھتے ہیں“ اور مفسرین کہتے ہیں ”اس سے مراد وہ قلم ہے جو قدرتی طور پر چلا اور تقدیریں لکھیں آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے“، اور اس قول کی دلیل میں یہ جماعت وہ حدیثیں وارد کرتی ہے جو قلم کے ذکر میں مروی ہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قلم سے مراد وہ قلم ہے جس سے ذکر لکھا گیا۔

نبی دیوانہ نہیں ہوتا ٭٭

پھر فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! تو بحمد اللہ دیوانہ نہیں جیسے کہ تیری قوم کے جاہل منکرین حق کہتے ہیں بلکہ تیرے لیے اجر عظیم ہے اور ثواب بے پایاں ہے جو نہ ختم ہو، نہ ٹوٹے، نہ کٹے کیونکہ تو نے حق رسالت ادا کر دیا ہے اور ہماری راہ میں سخت سے سخت مصیبتیں جھیلی ہیں ہم تجھے بے حساب بدلہ دیں گے، تو بہت بڑے خلق پر ہے یعنی دین اسلام پر اور بہترین ادب پر ہے ‘۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اخلاق نبوی کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو آپ جواب دیتی ہیں کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن تھا“، سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی جیسے کہ قرآن میں ہے ـ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34559] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا؟ سائل سعید بن ہشام نے کہا ہاں پڑھا ہے آپ نے فرمایا: بس تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن کریم تھا۔ ۱؎ [عبد الرزاق فی التفسیر:3275] ‏‏‏‏ مسلم میں یہ حدیث پوری ہے جسے ہم سورۃ مزمل کی تفسیر میں بیان کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔

خلق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭

بنو سواد کے ایک شخص نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی سوال کیا تھا تو آپ نے یہی فرما کر پھر آیت «‏‏‏‏وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [68-القلم:4] ‏‏‏‏ پڑھی اس نے کہا: کوئی ایک آدھ واقعہ تو بیان کیجئے، ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”سنو! ایک مرتبہ میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا پکایا اور حفصہ نے بھی، میں نے اپنی لونڈی سے کہا: دیکھ اگر میرے کھانے سے پہلے حفصہ کے ہاں کا کھانا آ جائے تو برتن گرا دینا چنانچہ اس نے یہی کیا اور برتن بھی ٹوٹ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بکھرے ہوئے کھانے کو سمیٹنے لگے اور فرمایا: ”اس برتن کے بدلے ثابت برتن تم دو“ واللہ! اور کچھ ڈانٹا ڈپٹا نہیں۔ ۱؎ [مسند احمد:111/6:ضعیف] ‏‏‏‏ مطلب اس حدیث کا جو کئی طریق سے مختلف الفاظ میں کئی کتابوں میں ہے، یہ ہے کہ ایک تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جبلت اور پیدائش میں ہی اللہ نے پسندیدہ اخلاق، بہترین خصلتیں اور پاکیزہ عادتیں رکھی تھیں اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل قرآن کریم پر ایسا تھا کہ گویا احکام قرآن کا مجسم عملی نمونہ ہیں، ہر حکم کو بجا لانے اور ہر نہی سے رک جانے میں آپ کی حالت یہ تھی کہ گویا قرآن میں جو کچھ ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادتوں اور آپ کے کریمانہ اخلاق کا بیان ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال تک خدمت کی لیکن کسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اف تک نہیں کہا، کسی کرنے کے کام کو نہ کروں یا نہ کرنے کے کام کر گزروں تو بھی ڈانٹ ڈپٹ تو کجا اتنا بھی نہ فرماتے کہ ایسا کیوں ہوا؟ } ۱؎ [صحیح بخاری:6038] ‏‏‏‏ { نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ خوش خلق تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی سے زیادہ نرم، نہ تو ریشم ہے، نہ کوئی اور چیز۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینہ سے زیادہ خوشبو والی چیز میں نے تو کوئی نہیں سونگھی نہ مشک اور نہ عطر }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1973] ‏‏‏‏

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ مبارک ٭٭

صحیح بخاری میں ہے سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے زیادہ خلیق تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قد نہ تو بہت لمبا تھا نہ آپ پست قامت تھے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3549] ‏‏‏‏ اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ شمائل ترمذی میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایات ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے نہ تو کبھی کسی خادم یا غلام کو مارا، نہ بیوی بچوں کو، نہ کسی اور کو، ہاں اللہ کی راہ کا جہاد الگ چیز ہے، جب کبھی دو کاموں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پسند کرتے جو زیادہ آسان ہوتا، ہاں یہ اور بات ہے کہ اس میں کچھ گناہ ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بہت دور ہو جاتے، کبھی بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بدلہ کسی سے نہیں لیا ہاں یہ اور بات ہے کہ کوئی اللہ کی حرمتوں کو توڑتا ہو تو آپ اللہ کے احکام جاری کرنے کے لیے ضرور انتقام لیتے } ۱؎ [صحیح بخاری:3560] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ”میں بہترین اخلاق اور پاکیزہ ترین عادتوں کو پورا کرنے کے لیے آیا ہوں“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:2/381:صحیح] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! آپ اور آپ کے مخالف اور منکر ابھی ابھی جان لیں گے کہ دراصل بہکا ہوا اور گمراہ کون تھا؟ ‘ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏سَيَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ» ‏‏‏‏ ۱؎ [54-القمر:26] ‏‏‏‏ ’ انہیں ابھی کل ہی معلوم ہو جائے گا کہ جھوٹا اور شیخی باز کون تھا؟ ‘ جیسے اور جگہ ہے «وَاِنَّآ اَوْ اِيَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [34-سبأ:24] ‏‏‏‏ ’ ہم یا تم ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی پر ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی یہ حقیقت قیامت کے دن کھل جائے گی“، آپ سے مروی ہے کہ ” «مَفْتُونُ» مجنون کو کہتے ہیں۔‏‏‏‏“ مجاہد رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں یعنی کون شیطان سے نزدیک تر ہے؟ «مَفْتُونُ» کے ظاہری معنی یہ ہیں کہ جو حق سے بہک جائے اور گمراہ ہو جائے۔ «أَييِّكُمُ» پر ”ب“ کو اس لیے داخل کیا گیا ہے کہ دلالت ہو جائے کہ «‏‏‏‏فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [68-القلم:5] ‏‏‏‏ میں تضمین فعل ہے تو تقدیری عبارت کو ملا کر ترجمہ یوں ہو جائے گا کہ ’ تو بھی اور وہ بھی عنقریب جان لیں گے ‘ اور تو بھی اور وہ سب بھی بہت جلدی «مَفْتُونُ» کی خبر دے دیں گے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» پھر فرمایا کہ ’ تم میں سے بہکنے والے اور راہ راست والے سب اللہ پر ظاہر ہیں اسے خوب معلوم ہے کہ راہ راست سے کس کا قدم پھسل گیا ہے ‘۔
4۔ 1 خلق عظیم سے مراد اسلام، دین یا قرآن ہے مطلب ہے کہ تو اس خلق پر ہے جس کا حکم اللہ نے تجھے قرآن میں یا دین میں دیا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَسَتُبۡصِرُ وَ یُبۡصِرُوۡنَ ۙ﴿۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
عنقریب تم بھی دیکھ لو گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
پس اب تو بھی دیکھ لے گا اور یہ بھی دیکھ لیں گے
احمد رضا خان بریلوی
تو اب کوئی دم جاتا ہے کہ تم بھی دیکھ لو گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
عنقریب آپ بھی دیکھیں گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
پس جلد ہی تو دیکھ لے گا اور وہ بھی دیکھ لیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نون سے کیا مراد ہے؟ ٭٭

نون وغیرہ جیسے حروف ہجا کا مفصل بیان سورۃ البقرہ کے شروع میں گزر چکا ہے اس لیے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں، کہا گیا ہے کہ یہاں ”ن“ سے مراد وہ بڑی مچھلی ہے جو ایک محیط عالم پانی پر ہے جو ساتوں زمینوں کو اٹھائے ہوئے ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”سب سے پہلے اللہ نے قلم کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا ’ لکھ ‘ اس نے کہا: کیا لکھوں؟ فرمایا ’ تقدیر لکھ ڈال ‘ پس اس دن سے لے کر قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اس پر قلم جاری ہو گیا پھر اللہ تعالیٰ نے مچھلی پیدا کی اور پانی کے بخارات بلند کئے، جس سے آسمان بنے اور زمین کو اس مچھلی کی پیٹھ پر رکھا مچھلی نے حرکت کی جس سے زمین بھی ہلنے لگی پس زمین پر پہاڑ گاڑ کر اسے مضبوط اور ساکن کر دیا“، پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:14/29:قال امام حاكم:صحیح] ‏‏‏‏ مطلب یہ ہے کہ یہاں ”ن“ سے مراد یہ مچھلی ہے۔

طبرانی میں مرفوعاً مروی ہے کہ ”سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو اور مچھلی کو پیدا کیا، قلم نے دریافت کیا میں کیا لکھوں؟ حکم ہوا، ہر وہ چیز جو قیامت تک ہونے والی ہے“، پھر آپ نے پہلی آیت کی تلاوت کی، پس نون سے مراد یہ مچھلی ہے اور قلم سے مراد یہ قلم ہے۔ ۱؎ [طبرانی:8652-8653:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن عساکر کی حدیث میں ہے { سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا پھر نون یعنی دوات کو پھر قلم سے فرمایا: ’ لکھ ‘ اس نے پوچھا: کیا؟ فرمایا ’ جو ہو رہا ہے اور جو ہونے والا ہے ‘ عمل، رزق، عمر، موت وغیرہ، پس قلم نے سب کچھ لکھ لیا }۔ اس آیت میں یہی مراد ہے، پھر قلم پر مہر لگا دی اب وہ قیامت تک نہ چلے گا، پھر عقل کو پیدا کیا اور فرمایا ’ مجھے اپنی عزت کی قسم اپنے دوستوں میں تو میں تجھے کمال تک پہنچاؤں گا اور اپنے دشمنوں میں تجھے ناقص رکھوں گا ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ مشہور تھا کہ نون سے مراد وہ مچھلی ہے جو ساتویں زمین کے نیچے ہے“، بغوی رحمہ اللہ وغیرہ مفسرین فرماتے ہیں کہ ”اس مچھلی کی پیٹھ پر ایک چٹان ہے جس کی موٹائی آسمان و زمین کے برابر ہے اس پر ایک بیل ہے جس کے چالیس ہزار سینگ ہیں اس کی پیٹھ پر ساتوں زمینیں اور ان پر تمام مخلوق ہے۔‏‏‏‏“ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اور تعجب تو یہ ہے کہ ان بعض مفسرین نے اس حدیث کو بھی انہی معنی پر محمول کیا ہے جو مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ { جب سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آ گئے ہیں تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بہت کچھ سوالات کئے ـ کہا کہ میں وہ باتیں پوچھنا چاہتا ہوں جنہیں نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں جانتا بتائیے قیامت کے پہلی نشانی کیا ہے؟ اور جنتیوں کا پہلا کھانا کیا ہے؟ اور کیا وجہ ہے کہ کبھی بچہ اپنے باپ کی صورت میں ہوتا ہے کبھی ماں کی صورت پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ باتیں ابھی ابھی جبرائیل علیہ السلام نے مجھے بتا دیں“، سیدنا ابن سلام رضی اللہ عنہ کہنے لگے فرشتوں میں سے یہی فرشتہ ہے جو یہودیوں کا دشمن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! قیامت کی پہلی نشانی ایک آگ کا نکلنا ہے جو لوگوں کو مشرق کی طرف سے مغرب کی طرف لے جائے گی اور جنتیوں کا پہلا کھانا مچھلی کی کلیجی کی زیادتی ہے اور مرد کا پانی عورت کے پانی پر سابق آ جائے تو لڑکا ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر سبقت کر جائے تو وہی کھینچ لیتی ہے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:108/3:صحیح] ‏‏‏‏

دوسری حدیث میں اتنی زیادتی ہے کہ { پوچھا جنتیوں کے اس کھانے کے بعد انہیں کیا ملے گا؟ فرمایا: ”جنتی بیل ذبح کیا جائے گا جو جنت میں چرتا چگتا رہا تھا“، پوچھا: انہیں پانی کون سا ملے گا؟ فرمایا: ” «سلسبیل» نامی نہر کا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:315] ‏‏‏‏ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”مراد «ن» سے نور کی تختی ہے۔‏‏‏‏“ ایک مرسل غریب حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ اس سے مراد نور کی تختی اور نور کا حکم ہے جو قیامت تک کے حال پر چل چکا ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34540:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے خبر دی گئی ہے کہ ”یہ نورانی قلم سو سال کی طولانی رکھتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ «ن» سے مراد دوات ہے اور «قلم» سے مراد قلم ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [ضعیف] ‏‏‏‏ حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہما بھی یہی فرماتے ہیں۔ ایک بہت ہی غریب مرفوع حدیث میں بھی یہ مروی ہے جو ابن ابی حاتم میں ہے کہ { اللہ نے «نون» کو پیدا کیا اور وہ دوات ہے }۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”اللہ تعالیٰ نے «نون» یعنی دوات کو پیدا کیا اور قلم کو پیدا کیا، پھر فرمایا ’ لکھ ‘ اس نے پوچھا: ”کیا لکھوں؟“ فرمایا: ’ جو قیامت تک ہونے والا ہے ‘، اعمال خواہ نیک ہوں، خواہ بد، روزی خواہ حلال ہو، خواہ حرام، پھر یہ بھی کہ کون سی چیز دنیا میں کب آئے گی کس قدر رہے گی، کیسے نکلے گی، پھر اللہ تعالیٰ نے بندوں پر محافظ فرشتے مقرر کئے اور کتاب پر داروغے مقرر کئے، محافظ فرشتے ہر دن ان کے عمل خازن فرشتوں سے دریافت کر کے لکھ لیتے ہیں جب رزق ختم ہو جاتا ہے عمر پوری ہو جاتی ہے اجل آ پہنچتی ہے تو محافظ فرشتے داروغہ فرشتوں کے پاس آ کر پوچھتے ہیں بتاؤ آج کے دن کا کیا سامان ہے؟ وہ کہتے ہیں بس اس شخص کے لیے ہمارے پاس اب کچھ بھی نہیں رہا، یہ سن کر یہ فرشتے نیچے اترتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ مر گیا“ ـ اس بیان کے بعد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ”تم تو عرب ہو کیا تم نے قرآن میں محافظ فرشتوں کی بابت یہ نہیں پڑھا؟“ «اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [45-الجاثية:29] ‏‏‏‏ مطلب یہ ہے کہ ہم تمہارے اعمال کو اصل سے نقل کر لیا کرتے تھے۔

قلم سے کیا مراد ہے؟ ٭٭

یہ تو تھا لفظ «ن» کے متعلق بیان، اب «قلم» کی نسبت سنئے۔ بظاہر مراد یہاں عام قلم ہے جس سے لکھا جاتا ہے جیسے اور جگہ فرمان عالیشان ہے «‏‏‏‏الَّذِيْ عَلَّمَ بالْقَلَمِ» ‏‏‏‏ ۱؎ [96-العلق:4] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس اللہ نے قلم سے لکھنا سکھایا ‘، پس اس کی قسم کھا کر اس بات پر آگاہی کی جاتی ہے کہ مخلوق پر میری ایک نعمت یہ بھی ہے کہ میں نے انہیں لکھنا سکھایا جس سے علوم تک ان کے رسائی ہو سکے۔ اس لیے اس کے بعد فرمایا «ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [68- القلم:1] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس چیز کی قسم جو لکھتے ہیں ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کی تفسیر یہ بھی مروی ہے کہ اس چیز کی جو جانتے ہیں، سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے فرشتوں کا لکھنا ہے جو بندوں کے اعمال لکھتے ہیں“ اور مفسرین کہتے ہیں ”اس سے مراد وہ قلم ہے جو قدرتی طور پر چلا اور تقدیریں لکھیں آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے“، اور اس قول کی دلیل میں یہ جماعت وہ حدیثیں وارد کرتی ہے جو قلم کے ذکر میں مروی ہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قلم سے مراد وہ قلم ہے جس سے ذکر لکھا گیا۔

نبی دیوانہ نہیں ہوتا ٭٭

پھر فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! تو بحمد اللہ دیوانہ نہیں جیسے کہ تیری قوم کے جاہل منکرین حق کہتے ہیں بلکہ تیرے لیے اجر عظیم ہے اور ثواب بے پایاں ہے جو نہ ختم ہو، نہ ٹوٹے، نہ کٹے کیونکہ تو نے حق رسالت ادا کر دیا ہے اور ہماری راہ میں سخت سے سخت مصیبتیں جھیلی ہیں ہم تجھے بے حساب بدلہ دیں گے، تو بہت بڑے خلق پر ہے یعنی دین اسلام پر اور بہترین ادب پر ہے ‘۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اخلاق نبوی کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو آپ جواب دیتی ہیں کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن تھا“، سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی جیسے کہ قرآن میں ہے ـ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34559] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا؟ سائل سعید بن ہشام نے کہا ہاں پڑھا ہے آپ نے فرمایا: بس تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن کریم تھا۔ ۱؎ [عبد الرزاق فی التفسیر:3275] ‏‏‏‏ مسلم میں یہ حدیث پوری ہے جسے ہم سورۃ مزمل کی تفسیر میں بیان کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔

خلق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭

بنو سواد کے ایک شخص نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی سوال کیا تھا تو آپ نے یہی فرما کر پھر آیت «‏‏‏‏وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [68-القلم:4] ‏‏‏‏ پڑھی اس نے کہا: کوئی ایک آدھ واقعہ تو بیان کیجئے، ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”سنو! ایک مرتبہ میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا پکایا اور حفصہ نے بھی، میں نے اپنی لونڈی سے کہا: دیکھ اگر میرے کھانے سے پہلے حفصہ کے ہاں کا کھانا آ جائے تو برتن گرا دینا چنانچہ اس نے یہی کیا اور برتن بھی ٹوٹ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بکھرے ہوئے کھانے کو سمیٹنے لگے اور فرمایا: ”اس برتن کے بدلے ثابت برتن تم دو“ واللہ! اور کچھ ڈانٹا ڈپٹا نہیں۔ ۱؎ [مسند احمد:111/6:ضعیف] ‏‏‏‏ مطلب اس حدیث کا جو کئی طریق سے مختلف الفاظ میں کئی کتابوں میں ہے، یہ ہے کہ ایک تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جبلت اور پیدائش میں ہی اللہ نے پسندیدہ اخلاق، بہترین خصلتیں اور پاکیزہ عادتیں رکھی تھیں اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل قرآن کریم پر ایسا تھا کہ گویا احکام قرآن کا مجسم عملی نمونہ ہیں، ہر حکم کو بجا لانے اور ہر نہی سے رک جانے میں آپ کی حالت یہ تھی کہ گویا قرآن میں جو کچھ ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادتوں اور آپ کے کریمانہ اخلاق کا بیان ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال تک خدمت کی لیکن کسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اف تک نہیں کہا، کسی کرنے کے کام کو نہ کروں یا نہ کرنے کے کام کر گزروں تو بھی ڈانٹ ڈپٹ تو کجا اتنا بھی نہ فرماتے کہ ایسا کیوں ہوا؟ } ۱؎ [صحیح بخاری:6038] ‏‏‏‏ { نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ خوش خلق تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی سے زیادہ نرم، نہ تو ریشم ہے، نہ کوئی اور چیز۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینہ سے زیادہ خوشبو والی چیز میں نے تو کوئی نہیں سونگھی نہ مشک اور نہ عطر }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1973] ‏‏‏‏

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ مبارک ٭٭

صحیح بخاری میں ہے سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے زیادہ خلیق تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قد نہ تو بہت لمبا تھا نہ آپ پست قامت تھے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3549] ‏‏‏‏ اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ شمائل ترمذی میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایات ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے نہ تو کبھی کسی خادم یا غلام کو مارا، نہ بیوی بچوں کو، نہ کسی اور کو، ہاں اللہ کی راہ کا جہاد الگ چیز ہے، جب کبھی دو کاموں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پسند کرتے جو زیادہ آسان ہوتا، ہاں یہ اور بات ہے کہ اس میں کچھ گناہ ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بہت دور ہو جاتے، کبھی بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بدلہ کسی سے نہیں لیا ہاں یہ اور بات ہے کہ کوئی اللہ کی حرمتوں کو توڑتا ہو تو آپ اللہ کے احکام جاری کرنے کے لیے ضرور انتقام لیتے } ۱؎ [صحیح بخاری:3560] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ”میں بہترین اخلاق اور پاکیزہ ترین عادتوں کو پورا کرنے کے لیے آیا ہوں“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:2/381:صحیح] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! آپ اور آپ کے مخالف اور منکر ابھی ابھی جان لیں گے کہ دراصل بہکا ہوا اور گمراہ کون تھا؟ ‘ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏سَيَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ» ‏‏‏‏ ۱؎ [54-القمر:26] ‏‏‏‏ ’ انہیں ابھی کل ہی معلوم ہو جائے گا کہ جھوٹا اور شیخی باز کون تھا؟ ‘ جیسے اور جگہ ہے «وَاِنَّآ اَوْ اِيَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [34-سبأ:24] ‏‏‏‏ ’ ہم یا تم ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی پر ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی یہ حقیقت قیامت کے دن کھل جائے گی“، آپ سے مروی ہے کہ ” «مَفْتُونُ» مجنون کو کہتے ہیں۔‏‏‏‏“ مجاہد رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں یعنی کون شیطان سے نزدیک تر ہے؟ «مَفْتُونُ» کے ظاہری معنی یہ ہیں کہ جو حق سے بہک جائے اور گمراہ ہو جائے۔ «أَييِّكُمُ» پر ”ب“ کو اس لیے داخل کیا گیا ہے کہ دلالت ہو جائے کہ «‏‏‏‏فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [68-القلم:5] ‏‏‏‏ میں تضمین فعل ہے تو تقدیری عبارت کو ملا کر ترجمہ یوں ہو جائے گا کہ ’ تو بھی اور وہ بھی عنقریب جان لیں گے ‘ اور تو بھی اور وہ سب بھی بہت جلدی «مَفْتُونُ» کی خبر دے دیں گے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» پھر فرمایا کہ ’ تم میں سے بہکنے والے اور راہ راست والے سب اللہ پر ظاہر ہیں اسے خوب معلوم ہے کہ راہ راست سے کس کا قدم پھسل گیا ہے ‘۔
5۔ 1 یعنی جب حق واضح ہوجائے گا اور سارے پردے اٹھ جائیں گے اور یہ قیامت کے دن ہوگا بعض نے اسے جنگ بدر سے متعلق فرمایا ہے۔
(آیت 6،5){ فَسَتُبْصِرُ وَ يُبْصِرُوْنَ …:} آپ کے خلق عظیم کا تقاضا یہی ہے کہ ان کے مجنون کہنے اور دوسری تکلیف دہ باتوں پر صبر کریں۔ ”جلد ہی “سے مراد وہ مواقع ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مختلف طریقوں سے مدد کی، جن کا خلاصہ یہ ہے کہ آخر کار آپ کے جانی دشمن فوج در فوج آپ پر ایمان لا کر آپ کے جاں نثار دوست بن گئے اور جو مخالف رہے وہ بدر و احد اور خندق و فتح مکہ وغیرہ میں مردار ہوئے یا ذلیل و خوار ہوئے اور تمام جزیرۃ عرب پر اسلام کی حکومت قائم ہو گئی۔ پھر قیامت تک آپ کی امت کے ہاتھوں ہونے والی فتوحات اور اسلام کی سر بلندی سے بھی واضح ہو گیا کہ پاگل کون تھا؟ اس کے علاوہ ”جلد ہی“ سے مراد قیامت کا دن بھی ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقامِ محمود پر تشریف فرما ہوں گے، آپ کے ہاتھ میں {” لِوَاءُ الْحَمْدِ“} (حمد کا جھنڈا) ہوگا اور جب آپ حوض پر اپنے امتیوں کو پانی پلا رہے ہوں گے اور آپ کو جھٹلانے والے مجرم جہنم کی طرف دھکیلے جائیں گے، تب آپ بھی دیکھ لیں گے اور وہ بھی کہ دیوانہ کون ہے؟
بِاَىیِّکُمُ الۡمَفۡتُوۡنُ ﴿۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کہ تم میں سے کون جنون میں مبتلا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کہ تم میں سے کون فتنہ میں پڑا ہوا ہے
احمد رضا خان بریلوی
کہ تم میں کون مجنون تھا،
علامہ محمد حسین نجفی
کہ تم میں سے کون جُنون میں مبتلا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کہ تم میں سے کون فتنے میں ڈالا ہوا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نون سے کیا مراد ہے؟ ٭٭

نون وغیرہ جیسے حروف ہجا کا مفصل بیان سورۃ البقرہ کے شروع میں گزر چکا ہے اس لیے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں، کہا گیا ہے کہ یہاں ”ن“ سے مراد وہ بڑی مچھلی ہے جو ایک محیط عالم پانی پر ہے جو ساتوں زمینوں کو اٹھائے ہوئے ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”سب سے پہلے اللہ نے قلم کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا ’ لکھ ‘ اس نے کہا: کیا لکھوں؟ فرمایا ’ تقدیر لکھ ڈال ‘ پس اس دن سے لے کر قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اس پر قلم جاری ہو گیا پھر اللہ تعالیٰ نے مچھلی پیدا کی اور پانی کے بخارات بلند کئے، جس سے آسمان بنے اور زمین کو اس مچھلی کی پیٹھ پر رکھا مچھلی نے حرکت کی جس سے زمین بھی ہلنے لگی پس زمین پر پہاڑ گاڑ کر اسے مضبوط اور ساکن کر دیا“، پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:14/29:قال امام حاكم:صحیح] ‏‏‏‏ مطلب یہ ہے کہ یہاں ”ن“ سے مراد یہ مچھلی ہے۔

طبرانی میں مرفوعاً مروی ہے کہ ”سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو اور مچھلی کو پیدا کیا، قلم نے دریافت کیا میں کیا لکھوں؟ حکم ہوا، ہر وہ چیز جو قیامت تک ہونے والی ہے“، پھر آپ نے پہلی آیت کی تلاوت کی، پس نون سے مراد یہ مچھلی ہے اور قلم سے مراد یہ قلم ہے۔ ۱؎ [طبرانی:8652-8653:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن عساکر کی حدیث میں ہے { سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا پھر نون یعنی دوات کو پھر قلم سے فرمایا: ’ لکھ ‘ اس نے پوچھا: کیا؟ فرمایا ’ جو ہو رہا ہے اور جو ہونے والا ہے ‘ عمل، رزق، عمر، موت وغیرہ، پس قلم نے سب کچھ لکھ لیا }۔ اس آیت میں یہی مراد ہے، پھر قلم پر مہر لگا دی اب وہ قیامت تک نہ چلے گا، پھر عقل کو پیدا کیا اور فرمایا ’ مجھے اپنی عزت کی قسم اپنے دوستوں میں تو میں تجھے کمال تک پہنچاؤں گا اور اپنے دشمنوں میں تجھے ناقص رکھوں گا ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ مشہور تھا کہ نون سے مراد وہ مچھلی ہے جو ساتویں زمین کے نیچے ہے“، بغوی رحمہ اللہ وغیرہ مفسرین فرماتے ہیں کہ ”اس مچھلی کی پیٹھ پر ایک چٹان ہے جس کی موٹائی آسمان و زمین کے برابر ہے اس پر ایک بیل ہے جس کے چالیس ہزار سینگ ہیں اس کی پیٹھ پر ساتوں زمینیں اور ان پر تمام مخلوق ہے۔‏‏‏‏“ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اور تعجب تو یہ ہے کہ ان بعض مفسرین نے اس حدیث کو بھی انہی معنی پر محمول کیا ہے جو مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ { جب سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آ گئے ہیں تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بہت کچھ سوالات کئے ـ کہا کہ میں وہ باتیں پوچھنا چاہتا ہوں جنہیں نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں جانتا بتائیے قیامت کے پہلی نشانی کیا ہے؟ اور جنتیوں کا پہلا کھانا کیا ہے؟ اور کیا وجہ ہے کہ کبھی بچہ اپنے باپ کی صورت میں ہوتا ہے کبھی ماں کی صورت پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ باتیں ابھی ابھی جبرائیل علیہ السلام نے مجھے بتا دیں“، سیدنا ابن سلام رضی اللہ عنہ کہنے لگے فرشتوں میں سے یہی فرشتہ ہے جو یہودیوں کا دشمن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! قیامت کی پہلی نشانی ایک آگ کا نکلنا ہے جو لوگوں کو مشرق کی طرف سے مغرب کی طرف لے جائے گی اور جنتیوں کا پہلا کھانا مچھلی کی کلیجی کی زیادتی ہے اور مرد کا پانی عورت کے پانی پر سابق آ جائے تو لڑکا ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر سبقت کر جائے تو وہی کھینچ لیتی ہے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:108/3:صحیح] ‏‏‏‏

دوسری حدیث میں اتنی زیادتی ہے کہ { پوچھا جنتیوں کے اس کھانے کے بعد انہیں کیا ملے گا؟ فرمایا: ”جنتی بیل ذبح کیا جائے گا جو جنت میں چرتا چگتا رہا تھا“، پوچھا: انہیں پانی کون سا ملے گا؟ فرمایا: ” «سلسبیل» نامی نہر کا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:315] ‏‏‏‏ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”مراد «ن» سے نور کی تختی ہے۔‏‏‏‏“ ایک مرسل غریب حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ اس سے مراد نور کی تختی اور نور کا حکم ہے جو قیامت تک کے حال پر چل چکا ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34540:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے خبر دی گئی ہے کہ ”یہ نورانی قلم سو سال کی طولانی رکھتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ «ن» سے مراد دوات ہے اور «قلم» سے مراد قلم ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [ضعیف] ‏‏‏‏ حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہما بھی یہی فرماتے ہیں۔ ایک بہت ہی غریب مرفوع حدیث میں بھی یہ مروی ہے جو ابن ابی حاتم میں ہے کہ { اللہ نے «نون» کو پیدا کیا اور وہ دوات ہے }۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”اللہ تعالیٰ نے «نون» یعنی دوات کو پیدا کیا اور قلم کو پیدا کیا، پھر فرمایا ’ لکھ ‘ اس نے پوچھا: ”کیا لکھوں؟“ فرمایا: ’ جو قیامت تک ہونے والا ہے ‘، اعمال خواہ نیک ہوں، خواہ بد، روزی خواہ حلال ہو، خواہ حرام، پھر یہ بھی کہ کون سی چیز دنیا میں کب آئے گی کس قدر رہے گی، کیسے نکلے گی، پھر اللہ تعالیٰ نے بندوں پر محافظ فرشتے مقرر کئے اور کتاب پر داروغے مقرر کئے، محافظ فرشتے ہر دن ان کے عمل خازن فرشتوں سے دریافت کر کے لکھ لیتے ہیں جب رزق ختم ہو جاتا ہے عمر پوری ہو جاتی ہے اجل آ پہنچتی ہے تو محافظ فرشتے داروغہ فرشتوں کے پاس آ کر پوچھتے ہیں بتاؤ آج کے دن کا کیا سامان ہے؟ وہ کہتے ہیں بس اس شخص کے لیے ہمارے پاس اب کچھ بھی نہیں رہا، یہ سن کر یہ فرشتے نیچے اترتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ مر گیا“ ـ اس بیان کے بعد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ”تم تو عرب ہو کیا تم نے قرآن میں محافظ فرشتوں کی بابت یہ نہیں پڑھا؟“ «اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [45-الجاثية:29] ‏‏‏‏ مطلب یہ ہے کہ ہم تمہارے اعمال کو اصل سے نقل کر لیا کرتے تھے۔

قلم سے کیا مراد ہے؟ ٭٭

یہ تو تھا لفظ «ن» کے متعلق بیان، اب «قلم» کی نسبت سنئے۔ بظاہر مراد یہاں عام قلم ہے جس سے لکھا جاتا ہے جیسے اور جگہ فرمان عالیشان ہے «‏‏‏‏الَّذِيْ عَلَّمَ بالْقَلَمِ» ‏‏‏‏ ۱؎ [96-العلق:4] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس اللہ نے قلم سے لکھنا سکھایا ‘، پس اس کی قسم کھا کر اس بات پر آگاہی کی جاتی ہے کہ مخلوق پر میری ایک نعمت یہ بھی ہے کہ میں نے انہیں لکھنا سکھایا جس سے علوم تک ان کے رسائی ہو سکے۔ اس لیے اس کے بعد فرمایا «ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [68- القلم:1] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس چیز کی قسم جو لکھتے ہیں ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کی تفسیر یہ بھی مروی ہے کہ اس چیز کی جو جانتے ہیں، سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے فرشتوں کا لکھنا ہے جو بندوں کے اعمال لکھتے ہیں“ اور مفسرین کہتے ہیں ”اس سے مراد وہ قلم ہے جو قدرتی طور پر چلا اور تقدیریں لکھیں آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے“، اور اس قول کی دلیل میں یہ جماعت وہ حدیثیں وارد کرتی ہے جو قلم کے ذکر میں مروی ہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قلم سے مراد وہ قلم ہے جس سے ذکر لکھا گیا۔

نبی دیوانہ نہیں ہوتا ٭٭

پھر فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! تو بحمد اللہ دیوانہ نہیں جیسے کہ تیری قوم کے جاہل منکرین حق کہتے ہیں بلکہ تیرے لیے اجر عظیم ہے اور ثواب بے پایاں ہے جو نہ ختم ہو، نہ ٹوٹے، نہ کٹے کیونکہ تو نے حق رسالت ادا کر دیا ہے اور ہماری راہ میں سخت سے سخت مصیبتیں جھیلی ہیں ہم تجھے بے حساب بدلہ دیں گے، تو بہت بڑے خلق پر ہے یعنی دین اسلام پر اور بہترین ادب پر ہے ‘۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اخلاق نبوی کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو آپ جواب دیتی ہیں کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن تھا“، سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی جیسے کہ قرآن میں ہے ـ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34559] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا؟ سائل سعید بن ہشام نے کہا ہاں پڑھا ہے آپ نے فرمایا: بس تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن کریم تھا۔ ۱؎ [عبد الرزاق فی التفسیر:3275] ‏‏‏‏ مسلم میں یہ حدیث پوری ہے جسے ہم سورۃ مزمل کی تفسیر میں بیان کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔

خلق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭

بنو سواد کے ایک شخص نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی سوال کیا تھا تو آپ نے یہی فرما کر پھر آیت «‏‏‏‏وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [68-القلم:4] ‏‏‏‏ پڑھی اس نے کہا: کوئی ایک آدھ واقعہ تو بیان کیجئے، ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”سنو! ایک مرتبہ میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا پکایا اور حفصہ نے بھی، میں نے اپنی لونڈی سے کہا: دیکھ اگر میرے کھانے سے پہلے حفصہ کے ہاں کا کھانا آ جائے تو برتن گرا دینا چنانچہ اس نے یہی کیا اور برتن بھی ٹوٹ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بکھرے ہوئے کھانے کو سمیٹنے لگے اور فرمایا: ”اس برتن کے بدلے ثابت برتن تم دو“ واللہ! اور کچھ ڈانٹا ڈپٹا نہیں۔ ۱؎ [مسند احمد:111/6:ضعیف] ‏‏‏‏ مطلب اس حدیث کا جو کئی طریق سے مختلف الفاظ میں کئی کتابوں میں ہے، یہ ہے کہ ایک تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جبلت اور پیدائش میں ہی اللہ نے پسندیدہ اخلاق، بہترین خصلتیں اور پاکیزہ عادتیں رکھی تھیں اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل قرآن کریم پر ایسا تھا کہ گویا احکام قرآن کا مجسم عملی نمونہ ہیں، ہر حکم کو بجا لانے اور ہر نہی سے رک جانے میں آپ کی حالت یہ تھی کہ گویا قرآن میں جو کچھ ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادتوں اور آپ کے کریمانہ اخلاق کا بیان ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال تک خدمت کی لیکن کسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اف تک نہیں کہا، کسی کرنے کے کام کو نہ کروں یا نہ کرنے کے کام کر گزروں تو بھی ڈانٹ ڈپٹ تو کجا اتنا بھی نہ فرماتے کہ ایسا کیوں ہوا؟ } ۱؎ [صحیح بخاری:6038] ‏‏‏‏ { نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ خوش خلق تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی سے زیادہ نرم، نہ تو ریشم ہے، نہ کوئی اور چیز۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینہ سے زیادہ خوشبو والی چیز میں نے تو کوئی نہیں سونگھی نہ مشک اور نہ عطر }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1973] ‏‏‏‏

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ مبارک ٭٭

صحیح بخاری میں ہے سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے زیادہ خلیق تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قد نہ تو بہت لمبا تھا نہ آپ پست قامت تھے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3549] ‏‏‏‏ اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ شمائل ترمذی میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایات ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے نہ تو کبھی کسی خادم یا غلام کو مارا، نہ بیوی بچوں کو، نہ کسی اور کو، ہاں اللہ کی راہ کا جہاد الگ چیز ہے، جب کبھی دو کاموں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پسند کرتے جو زیادہ آسان ہوتا، ہاں یہ اور بات ہے کہ اس میں کچھ گناہ ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بہت دور ہو جاتے، کبھی بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بدلہ کسی سے نہیں لیا ہاں یہ اور بات ہے کہ کوئی اللہ کی حرمتوں کو توڑتا ہو تو آپ اللہ کے احکام جاری کرنے کے لیے ضرور انتقام لیتے } ۱؎ [صحیح بخاری:3560] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ”میں بہترین اخلاق اور پاکیزہ ترین عادتوں کو پورا کرنے کے لیے آیا ہوں“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:2/381:صحیح] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! آپ اور آپ کے مخالف اور منکر ابھی ابھی جان لیں گے کہ دراصل بہکا ہوا اور گمراہ کون تھا؟ ‘ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏سَيَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ» ‏‏‏‏ ۱؎ [54-القمر:26] ‏‏‏‏ ’ انہیں ابھی کل ہی معلوم ہو جائے گا کہ جھوٹا اور شیخی باز کون تھا؟ ‘ جیسے اور جگہ ہے «وَاِنَّآ اَوْ اِيَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [34-سبأ:24] ‏‏‏‏ ’ ہم یا تم ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی پر ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی یہ حقیقت قیامت کے دن کھل جائے گی“، آپ سے مروی ہے کہ ” «مَفْتُونُ» مجنون کو کہتے ہیں۔‏‏‏‏“ مجاہد رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں یعنی کون شیطان سے نزدیک تر ہے؟ «مَفْتُونُ» کے ظاہری معنی یہ ہیں کہ جو حق سے بہک جائے اور گمراہ ہو جائے۔ «أَييِّكُمُ» پر ”ب“ کو اس لیے داخل کیا گیا ہے کہ دلالت ہو جائے کہ «‏‏‏‏فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [68-القلم:5] ‏‏‏‏ میں تضمین فعل ہے تو تقدیری عبارت کو ملا کر ترجمہ یوں ہو جائے گا کہ ’ تو بھی اور وہ بھی عنقریب جان لیں گے ‘ اور تو بھی اور وہ سب بھی بہت جلدی «مَفْتُونُ» کی خبر دے دیں گے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» پھر فرمایا کہ ’ تم میں سے بہکنے والے اور راہ راست والے سب اللہ پر ظاہر ہیں اسے خوب معلوم ہے کہ راہ راست سے کس کا قدم پھسل گیا ہے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ضَلَّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ ۪ وَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُہۡتَدِیۡنَ ﴿۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تمہارا رب اُن لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں، اور وہی ان کو بھی اچھی طرح جانتا ہے جو راہ راست پر ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک تیرا رب اپنی راه سے بہکنے والوں کو خوب جانتا ہے، اور وه راه یافتہ لوگوں کو بھی بخوبی جانتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکے، اور وہ خوب جانتا ہے جو راہ پر ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک آپ(ص) کا پروردگار بہتر جانتا ہے کہ اس کی راہ سے بھٹکا ہواکون ہے؟ اور وہی انہیں خوب جانتا ہے جو ہدایت یافتہ ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا تیرا رب ہی زیادہ جاننے والا ہے اس کو جو اس کی راہ سے بھٹک گیا اور وہی زیادہ جاننے والا ہے ان کو جو سیدھی راہ پر ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نون سے کیا مراد ہے؟ ٭٭

نون وغیرہ جیسے حروف ہجا کا مفصل بیان سورۃ البقرہ کے شروع میں گزر چکا ہے اس لیے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں، کہا گیا ہے کہ یہاں ”ن“ سے مراد وہ بڑی مچھلی ہے جو ایک محیط عالم پانی پر ہے جو ساتوں زمینوں کو اٹھائے ہوئے ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”سب سے پہلے اللہ نے قلم کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا ’ لکھ ‘ اس نے کہا: کیا لکھوں؟ فرمایا ’ تقدیر لکھ ڈال ‘ پس اس دن سے لے کر قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اس پر قلم جاری ہو گیا پھر اللہ تعالیٰ نے مچھلی پیدا کی اور پانی کے بخارات بلند کئے، جس سے آسمان بنے اور زمین کو اس مچھلی کی پیٹھ پر رکھا مچھلی نے حرکت کی جس سے زمین بھی ہلنے لگی پس زمین پر پہاڑ گاڑ کر اسے مضبوط اور ساکن کر دیا“، پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:14/29:قال امام حاكم:صحیح] ‏‏‏‏ مطلب یہ ہے کہ یہاں ”ن“ سے مراد یہ مچھلی ہے۔

طبرانی میں مرفوعاً مروی ہے کہ ”سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو اور مچھلی کو پیدا کیا، قلم نے دریافت کیا میں کیا لکھوں؟ حکم ہوا، ہر وہ چیز جو قیامت تک ہونے والی ہے“، پھر آپ نے پہلی آیت کی تلاوت کی، پس نون سے مراد یہ مچھلی ہے اور قلم سے مراد یہ قلم ہے۔ ۱؎ [طبرانی:8652-8653:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن عساکر کی حدیث میں ہے { سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا پھر نون یعنی دوات کو پھر قلم سے فرمایا: ’ لکھ ‘ اس نے پوچھا: کیا؟ فرمایا ’ جو ہو رہا ہے اور جو ہونے والا ہے ‘ عمل، رزق، عمر، موت وغیرہ، پس قلم نے سب کچھ لکھ لیا }۔ اس آیت میں یہی مراد ہے، پھر قلم پر مہر لگا دی اب وہ قیامت تک نہ چلے گا، پھر عقل کو پیدا کیا اور فرمایا ’ مجھے اپنی عزت کی قسم اپنے دوستوں میں تو میں تجھے کمال تک پہنچاؤں گا اور اپنے دشمنوں میں تجھے ناقص رکھوں گا ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ مشہور تھا کہ نون سے مراد وہ مچھلی ہے جو ساتویں زمین کے نیچے ہے“، بغوی رحمہ اللہ وغیرہ مفسرین فرماتے ہیں کہ ”اس مچھلی کی پیٹھ پر ایک چٹان ہے جس کی موٹائی آسمان و زمین کے برابر ہے اس پر ایک بیل ہے جس کے چالیس ہزار سینگ ہیں اس کی پیٹھ پر ساتوں زمینیں اور ان پر تمام مخلوق ہے۔‏‏‏‏“ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اور تعجب تو یہ ہے کہ ان بعض مفسرین نے اس حدیث کو بھی انہی معنی پر محمول کیا ہے جو مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ { جب سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آ گئے ہیں تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بہت کچھ سوالات کئے ـ کہا کہ میں وہ باتیں پوچھنا چاہتا ہوں جنہیں نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں جانتا بتائیے قیامت کے پہلی نشانی کیا ہے؟ اور جنتیوں کا پہلا کھانا کیا ہے؟ اور کیا وجہ ہے کہ کبھی بچہ اپنے باپ کی صورت میں ہوتا ہے کبھی ماں کی صورت پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ باتیں ابھی ابھی جبرائیل علیہ السلام نے مجھے بتا دیں“، سیدنا ابن سلام رضی اللہ عنہ کہنے لگے فرشتوں میں سے یہی فرشتہ ہے جو یہودیوں کا دشمن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! قیامت کی پہلی نشانی ایک آگ کا نکلنا ہے جو لوگوں کو مشرق کی طرف سے مغرب کی طرف لے جائے گی اور جنتیوں کا پہلا کھانا مچھلی کی کلیجی کی زیادتی ہے اور مرد کا پانی عورت کے پانی پر سابق آ جائے تو لڑکا ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر سبقت کر جائے تو وہی کھینچ لیتی ہے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:108/3:صحیح] ‏‏‏‏

دوسری حدیث میں اتنی زیادتی ہے کہ { پوچھا جنتیوں کے اس کھانے کے بعد انہیں کیا ملے گا؟ فرمایا: ”جنتی بیل ذبح کیا جائے گا جو جنت میں چرتا چگتا رہا تھا“، پوچھا: انہیں پانی کون سا ملے گا؟ فرمایا: ” «سلسبیل» نامی نہر کا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:315] ‏‏‏‏ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”مراد «ن» سے نور کی تختی ہے۔‏‏‏‏“ ایک مرسل غریب حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ اس سے مراد نور کی تختی اور نور کا حکم ہے جو قیامت تک کے حال پر چل چکا ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34540:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے خبر دی گئی ہے کہ ”یہ نورانی قلم سو سال کی طولانی رکھتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ «ن» سے مراد دوات ہے اور «قلم» سے مراد قلم ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [ضعیف] ‏‏‏‏ حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہما بھی یہی فرماتے ہیں۔ ایک بہت ہی غریب مرفوع حدیث میں بھی یہ مروی ہے جو ابن ابی حاتم میں ہے کہ { اللہ نے «نون» کو پیدا کیا اور وہ دوات ہے }۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”اللہ تعالیٰ نے «نون» یعنی دوات کو پیدا کیا اور قلم کو پیدا کیا، پھر فرمایا ’ لکھ ‘ اس نے پوچھا: ”کیا لکھوں؟“ فرمایا: ’ جو قیامت تک ہونے والا ہے ‘، اعمال خواہ نیک ہوں، خواہ بد، روزی خواہ حلال ہو، خواہ حرام، پھر یہ بھی کہ کون سی چیز دنیا میں کب آئے گی کس قدر رہے گی، کیسے نکلے گی، پھر اللہ تعالیٰ نے بندوں پر محافظ فرشتے مقرر کئے اور کتاب پر داروغے مقرر کئے، محافظ فرشتے ہر دن ان کے عمل خازن فرشتوں سے دریافت کر کے لکھ لیتے ہیں جب رزق ختم ہو جاتا ہے عمر پوری ہو جاتی ہے اجل آ پہنچتی ہے تو محافظ فرشتے داروغہ فرشتوں کے پاس آ کر پوچھتے ہیں بتاؤ آج کے دن کا کیا سامان ہے؟ وہ کہتے ہیں بس اس شخص کے لیے ہمارے پاس اب کچھ بھی نہیں رہا، یہ سن کر یہ فرشتے نیچے اترتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ مر گیا“ ـ اس بیان کے بعد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ”تم تو عرب ہو کیا تم نے قرآن میں محافظ فرشتوں کی بابت یہ نہیں پڑھا؟“ «اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [45-الجاثية:29] ‏‏‏‏ مطلب یہ ہے کہ ہم تمہارے اعمال کو اصل سے نقل کر لیا کرتے تھے۔

قلم سے کیا مراد ہے؟ ٭٭

یہ تو تھا لفظ «ن» کے متعلق بیان، اب «قلم» کی نسبت سنئے۔ بظاہر مراد یہاں عام قلم ہے جس سے لکھا جاتا ہے جیسے اور جگہ فرمان عالیشان ہے «‏‏‏‏الَّذِيْ عَلَّمَ بالْقَلَمِ» ‏‏‏‏ ۱؎ [96-العلق:4] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس اللہ نے قلم سے لکھنا سکھایا ‘، پس اس کی قسم کھا کر اس بات پر آگاہی کی جاتی ہے کہ مخلوق پر میری ایک نعمت یہ بھی ہے کہ میں نے انہیں لکھنا سکھایا جس سے علوم تک ان کے رسائی ہو سکے۔ اس لیے اس کے بعد فرمایا «ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [68- القلم:1] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس چیز کی قسم جو لکھتے ہیں ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کی تفسیر یہ بھی مروی ہے کہ اس چیز کی جو جانتے ہیں، سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے فرشتوں کا لکھنا ہے جو بندوں کے اعمال لکھتے ہیں“ اور مفسرین کہتے ہیں ”اس سے مراد وہ قلم ہے جو قدرتی طور پر چلا اور تقدیریں لکھیں آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے“، اور اس قول کی دلیل میں یہ جماعت وہ حدیثیں وارد کرتی ہے جو قلم کے ذکر میں مروی ہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قلم سے مراد وہ قلم ہے جس سے ذکر لکھا گیا۔

نبی دیوانہ نہیں ہوتا ٭٭

پھر فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! تو بحمد اللہ دیوانہ نہیں جیسے کہ تیری قوم کے جاہل منکرین حق کہتے ہیں بلکہ تیرے لیے اجر عظیم ہے اور ثواب بے پایاں ہے جو نہ ختم ہو، نہ ٹوٹے، نہ کٹے کیونکہ تو نے حق رسالت ادا کر دیا ہے اور ہماری راہ میں سخت سے سخت مصیبتیں جھیلی ہیں ہم تجھے بے حساب بدلہ دیں گے، تو بہت بڑے خلق پر ہے یعنی دین اسلام پر اور بہترین ادب پر ہے ‘۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اخلاق نبوی کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو آپ جواب دیتی ہیں کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن تھا“، سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی جیسے کہ قرآن میں ہے ـ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34559] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا؟ سائل سعید بن ہشام نے کہا ہاں پڑھا ہے آپ نے فرمایا: بس تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن کریم تھا۔ ۱؎ [عبد الرزاق فی التفسیر:3275] ‏‏‏‏ مسلم میں یہ حدیث پوری ہے جسے ہم سورۃ مزمل کی تفسیر میں بیان کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔

خلق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭

بنو سواد کے ایک شخص نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی سوال کیا تھا تو آپ نے یہی فرما کر پھر آیت «‏‏‏‏وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [68-القلم:4] ‏‏‏‏ پڑھی اس نے کہا: کوئی ایک آدھ واقعہ تو بیان کیجئے، ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”سنو! ایک مرتبہ میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا پکایا اور حفصہ نے بھی، میں نے اپنی لونڈی سے کہا: دیکھ اگر میرے کھانے سے پہلے حفصہ کے ہاں کا کھانا آ جائے تو برتن گرا دینا چنانچہ اس نے یہی کیا اور برتن بھی ٹوٹ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بکھرے ہوئے کھانے کو سمیٹنے لگے اور فرمایا: ”اس برتن کے بدلے ثابت برتن تم دو“ واللہ! اور کچھ ڈانٹا ڈپٹا نہیں۔ ۱؎ [مسند احمد:111/6:ضعیف] ‏‏‏‏ مطلب اس حدیث کا جو کئی طریق سے مختلف الفاظ میں کئی کتابوں میں ہے، یہ ہے کہ ایک تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جبلت اور پیدائش میں ہی اللہ نے پسندیدہ اخلاق، بہترین خصلتیں اور پاکیزہ عادتیں رکھی تھیں اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل قرآن کریم پر ایسا تھا کہ گویا احکام قرآن کا مجسم عملی نمونہ ہیں، ہر حکم کو بجا لانے اور ہر نہی سے رک جانے میں آپ کی حالت یہ تھی کہ گویا قرآن میں جو کچھ ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادتوں اور آپ کے کریمانہ اخلاق کا بیان ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال تک خدمت کی لیکن کسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اف تک نہیں کہا، کسی کرنے کے کام کو نہ کروں یا نہ کرنے کے کام کر گزروں تو بھی ڈانٹ ڈپٹ تو کجا اتنا بھی نہ فرماتے کہ ایسا کیوں ہوا؟ } ۱؎ [صحیح بخاری:6038] ‏‏‏‏ { نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ خوش خلق تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی سے زیادہ نرم، نہ تو ریشم ہے، نہ کوئی اور چیز۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینہ سے زیادہ خوشبو والی چیز میں نے تو کوئی نہیں سونگھی نہ مشک اور نہ عطر }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1973] ‏‏‏‏

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ مبارک ٭٭

صحیح بخاری میں ہے سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے زیادہ خلیق تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قد نہ تو بہت لمبا تھا نہ آپ پست قامت تھے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3549] ‏‏‏‏ اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ شمائل ترمذی میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایات ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے نہ تو کبھی کسی خادم یا غلام کو مارا، نہ بیوی بچوں کو، نہ کسی اور کو، ہاں اللہ کی راہ کا جہاد الگ چیز ہے، جب کبھی دو کاموں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پسند کرتے جو زیادہ آسان ہوتا، ہاں یہ اور بات ہے کہ اس میں کچھ گناہ ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بہت دور ہو جاتے، کبھی بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بدلہ کسی سے نہیں لیا ہاں یہ اور بات ہے کہ کوئی اللہ کی حرمتوں کو توڑتا ہو تو آپ اللہ کے احکام جاری کرنے کے لیے ضرور انتقام لیتے } ۱؎ [صحیح بخاری:3560] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ”میں بہترین اخلاق اور پاکیزہ ترین عادتوں کو پورا کرنے کے لیے آیا ہوں“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:2/381:صحیح] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! آپ اور آپ کے مخالف اور منکر ابھی ابھی جان لیں گے کہ دراصل بہکا ہوا اور گمراہ کون تھا؟ ‘ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏سَيَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ» ‏‏‏‏ ۱؎ [54-القمر:26] ‏‏‏‏ ’ انہیں ابھی کل ہی معلوم ہو جائے گا کہ جھوٹا اور شیخی باز کون تھا؟ ‘ جیسے اور جگہ ہے «وَاِنَّآ اَوْ اِيَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [34-سبأ:24] ‏‏‏‏ ’ ہم یا تم ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی پر ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی یہ حقیقت قیامت کے دن کھل جائے گی“، آپ سے مروی ہے کہ ” «مَفْتُونُ» مجنون کو کہتے ہیں۔‏‏‏‏“ مجاہد رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں یعنی کون شیطان سے نزدیک تر ہے؟ «مَفْتُونُ» کے ظاہری معنی یہ ہیں کہ جو حق سے بہک جائے اور گمراہ ہو جائے۔ «أَييِّكُمُ» پر ”ب“ کو اس لیے داخل کیا گیا ہے کہ دلالت ہو جائے کہ «‏‏‏‏فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [68-القلم:5] ‏‏‏‏ میں تضمین فعل ہے تو تقدیری عبارت کو ملا کر ترجمہ یوں ہو جائے گا کہ ’ تو بھی اور وہ بھی عنقریب جان لیں گے ‘ اور تو بھی اور وہ سب بھی بہت جلدی «مَفْتُونُ» کی خبر دے دیں گے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» پھر فرمایا کہ ’ تم میں سے بہکنے والے اور راہ راست والے سب اللہ پر ظاہر ہیں اسے خوب معلوم ہے کہ راہ راست سے کس کا قدم پھسل گیا ہے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَلَا تُطِعِ الۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
لہٰذا تم اِن جھٹلانے والوں کے دباؤ میں ہرگز نہ آؤ
مولانا محمد جوناگڑھی
پس تو جھٹلانے والوں کی نہ مان
احمد رضا خان بریلوی
تو جھٹلانے والوں کی بات نہ سننا،
علامہ محمد حسین نجفی
تو آپ(ص) جھٹلانے والوں کا کہنا نہ مانیں۔
عبدالسلام بن محمد
پس تو ان جھٹلانے والوں کا کہنا مت مان۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زیادہ قسمیں کھانے والے زیادہ جھوٹ بولتے ہیں ٭٭

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! جو نعمتیں ہم نے تجھے دیں، جو صراط مستقیم اور خلق عظیم ہم نے تجھے عطا فرمایا اب تجھے چاہیئے کہ ہماری نہ ماننے والوں کی تو نہ مان، ان کی تو عین خوشی ہے کہ آپ ذرا بھی نرم پڑیں تو یہ کھل کر کھیلیں ‘۔ اور یہ بھی مطلب ہے کہ ’ یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودان باطل کی طرف کچھ تو رخ کریں حق سے ذرا سا تو ادھر ادھر ہو جائیں ‘۔ پھر فرماتا ہے ’ زیادہ قسمیں کھانے والے کمینے شخص کی بھی نہ مان ‘ - چونکہ جھوٹے شخصوں کو اپنی ذلت اور کذب بیانی کے ظاہر ہو جانے کا ڈر رہتا ہے، اس لیے وہ قسمیں کھا کھا کر دوسرے کو اپنا یقین دلانا چاہتا ہے لگاتار قسموں پر قسمیں کھائے چلا جاتا ہے اور اللہ کے ناموں کو بے موقعہ استعمال کرتا پھرتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مَّهِينٍ» سے مراد «کاذب» ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں ضعیف دل والا۔ حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں «حَلَّافٍ» مکابرہ کرنے والا اور «مَّهِينٍ» ضعیف، «هَمَّازٍ» غیب کرنے والا، چغل خور جو ادھر کی ادھر لگائے اور ادھر کی ادھر تاکہ فساد ہو جائے۔ طبیعتوں میں نفرت اور دل میں دشمنی آ جائے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے میں دو قبریں آ گئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں کو عذاب ہو رہا اور کسی بڑے امر پر نہیں ایک تو پیشاب کرنے میں پردے کا خیال نہ رکھتا تھا۔ دوسرا چغل خور تھا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:216] ‏‏‏‏ فرماتے ہیں ”چغل خور جنت میں نہ جائے گا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:6056] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث اس وقت سنائی تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ یہ شخص خفیہ پولیس کا آدمی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:389/5:صحیح] ‏‏‏‏

سب سے بہتر اور برتر شخص ٭٭

مسند احمد کی حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ تم میں سب سے بھلا شخص کون ہے؟“ لوگوں نے کہا ضرور ارشاد فرمایئے، فرمایا: ”وہ کہ جب انہیں دیکھا جائے اللہ یاد آ جائے اور سن لو سب سے بدتر شخص وہ ہے جو چغل خور ہو دوستوں میں فساد ڈلوانے والا ہو پاک صاف لوگوں کو تہمت لگانے والا ہو“ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4119،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ترمذی میں بھی یہ روایت ہے۔ پھر ان بد لوگوں کے ناپاک خصائل بیان ہو رہے ہیں کہ ’ بھلائیوں سے باز رہنے والا اور باز رکھنے والا ہے، حلال چیزوں اور حلال کاموں سے ہٹ کر حرام خوری اور حرام کاری کرتا ہے، گنہگار، بدکردار، محرمات کو استعمال کرنے والا، بدخو، بدگو، جمع کرنے والا اور نہ دینے والا ہے ‘۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتی لوگ گرے پڑے عاجز و ضعیف ہیں جو اللہ کے ہاں اس بلند مرتبہ پر ہیں کہ اگر وہ قسم کھا بیٹھیں تو اللہ پوری کر دے اور جہنمی لوگ سرکش متکبر اور خودبین ہوتے ہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4918] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { جمع کرنے والے اور نہ دینے والے بدگو اور سخت خلق }۔ ۱؎ [مسند احمد:169/2:صحیح] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا «عُتُلٍّ بَعْدَ ذَٰلِكَ زَنِيمٍ» ۱؎ [68-القلم:13] ‏‏‏‏ کون ہے؟ فرمایا: ”بدخلق خوب کھانے پینے والا لوگوں پر ظلم کرنے والا پیٹو آدمی“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:4/227:صحیح] ‏‏‏‏ لیکن اس روایت کو اکثر راویوں نے مرسل بیان کیا ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے { اس نالائق شخص پر آسمان روتا ہے جسے اللہ نے تندرستی دی، پیٹ بھر کھانے کو دیا، مال و جاہ بھی عطا فرمائی پھر بھی لوگوں پر ظلم و ستم کر رہا ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34603:مرسل] ‏‏‏‏ یہ حدیث بھی دو مرسل طریقوں سے مروی ہے۔ غرض «عُتُلٍّ» کہتے ہیں جس کا بدن صحیح ہو، طاقتور ہو اور خوب کھانے پینے والا زور دار شخص ہو۔ «زَنِيمٍ» سے مراد بدنام ہے جو برائی میں مشہور ہو، لغت عرب میں «زَنِيمٍ» اسے کہتے ہیں جو کسی قوم میں سمجھا جاتا ہو لیکن دراصل اس کا نہ ہو، عرب شاعروں نے اسے اسی معنی میں باندھا ہے یعنی جس کا نسب صحیح نہ ہو، کہا گیا ہے کہ مراد اس سے اخنس بن شریق ثقفی ہے جو بنو زہرہ کا حلیف تھا اور بعض کہتے ہیں یہ اسود بن عبد یغوث زہری ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ولد الزنا مراد ہے، یہ بھی بیان ہوا ہے کہ جس طرح ایک بکری جو تمام بکریوں میں سے الگ تھلگ اپنا چرا ہوا کان اپنی گردن پر لٹکائے ہوئے ہو بیک نگاہ پہچان لی جاتی ہے اسی طرح کافر مومنوں میں پہچان لیا جاتا ہے۔ اسی طرح کے اور بھی بہت سے اقوال ہیں لیکن خلاصہ سب کا صرف اسی قدر ہے کہ «زنیم» وہ شخص ہے جو برائی سے مشہور ہو اور عموماً ایسے لوگ ادھر ادھر سے ملے ہوئے ہوتے ہیں جن کے صحیح نسب کا اور حقیقی باپ کا پتہ نہیں ہوتا ایسوں پر شیطان کا غلبہ بہت زیادہ رہا کرتا ہے۔ جیسے حدیث میں ہے { زنا کی اولاد جنت میں نہیں جائے گی }۔ ۱؎ [مجمع الزوائد:275/6:موضوع] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { زنا کی اولاد تین برے لوگوں کی برائی کا مجموعہ ہے، اگر وہ بھی اپنے ماں باپ کے سے کام کرے }۔ ۱؎ [مسند احمد:6/109:ضعیف] ‏‏‏‏

پھر فرمایا ’ اس کی ان شرارتوں کی وجہ یہ ہے کہ یہ مالدار اور بیٹوں کا باپ بن گیا ہے ہماری اس نعمت کا گن گانا تو کہاں ہماری آیتوں کو جھٹلاتا ہے اور توہین کر کے کہتا پھرتا ہے کہ یہ تو پرانے افسانے ہیں ‘۔ اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «‏‏‏‏ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا وَجَعَلْتُ لَهُ مَالًا مَّمْدُودًا وَبَنِينَ شُهُودًا وَمَهَّدتُّ لَهُ تَمْهِيدًا ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ كَلَّا إِنَّهُ كَانَ لِآيَاتِنَا عَنِيدًا سَأُرْهِقُهُ صَعُودًا إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ثُمَّ نَظَرَ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ فَقَالَ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا سِحْرٌ يُؤْثَرُ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ سَأُصْلِيهِ سَقَرَ» ۱؎ [74-المدثر:26-11] ‏‏‏‏ ’ مجھے چھوڑ دے اور اسے جسے میں نے یکتا پیدا کیا ہے اور بہت سا مال دیا ہے اور حاضر باش لڑکے دیئے ہیں اور بھی بہت کشادگی دے رکھی ہے پھر بھی اس کی طمع ہے کہ میں اسے اور دوں ہرگز ایسا نہیں ہو سکتا یہ تو میری آیتوں کا مخالف ہے میں اسے عنقریب بدترین مصیبت میں ڈالوں گا اس نے غور و فکر کرکے اندازہ لگایا یہ تباہ ہو۔ کتنی بری تجویز اس نے سوچی میں پھر کہتا ہوں، یہ برباد ہو اس نے کیسی بری تجویز کی اس نے پھر نظر ڈالی اور ترش رو ہو کہ منہ بنا لیا، پھر منہ پھیر کر اینٹھنے لگا اور کہہ دیا کہ یہ کلام اللہ تو پرانا نقل کیا ہوا جادو ہے، صاف ظاہر ہے کہ یہ انسانی کلام ہے، اس کی اس بات پر میں بھی اسے «سَقَرَ» میں ڈالوں گا تجھے کیا معلوم کہ «سَقَرَ» کیا ہے نہ وہ باقی رکھے نہ چھوڑے بدن پر لپٹ جاتی ہے اس پر انیس فرشتے متعین ہیں ‘۔ اسی طرح یہاں بھی فرمایا کہ ’ اس کی ناک پر ہم داغ لگائیں گے ‘ یعنی اسے ہم اس قدر رسوا کریں گے کہ اس کی برائی کسی پر پوشیدہ نہ رہے ہر ایک اسے جان پہچان لے جیسے نشان دار ناک والے کو بیک نگاہ ہزاروں میں لوگ پہچان لیتے ہیں اور جو داغ چھپائے نہ چھپ سکے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بدر والے دن اس کی ناک پر تلوار لگے گی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ قیامت والے دن جہنم کی مہر لگے گی یعنی منہ کالا کر دیا جائے گا تو ناک سے مراد پورا چہرہ ہوا۔ امام ابو جعفر ابن جریر نے ان تمام اقوال کو وارد کر کے فرمایا ہے کہ ”ان سب میں تطبیق اس طرح ہو جاتی ہے کہ یہ کل امور اس میں جمع ہو جائیں یہ بھی ہو وہ بھی ہو، دنیا میں رسوا ہو سچ مچ ناک پر نشان لگے آخرت میں بھی نشاندار مجرم بنے“، فی الواقع یہ بہت درست ہے۔ ابن ابی حاتم میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { بندہ ہزارہا برس تک اللہ کے ہاں مومن لکھا رہتا ہے لیکن مرتا اس حالت میں ہے کہ اللہ اس پر ناراض ہوتا ہے اور بندہ اللہ کے ہاں کافر ہزارہا سال تک لکھا رہتا ہے پھر مرتے وقت اللہ اس سے خوش ہو جاتا ہے جو شخص عیب گوئی اور چغل خوری کی حالت میں مرے جو لوگوں کو بدنام کرنے والا ہو قیامت کے دن اس کی ناک پر دونوں ہونٹوں کی طرف سے نشان لگا دیا جائے جو اس مجرم کی علامت بن جائے گا }۔ ۱؎ [طبرانی اوسط:8801:ضعیف] ‏‏‏‏
8۔ 1 اطاعت سے مراد یہاں وہ مدارات ہے جس کا اظہار انسان نے اپنے ضمیر کے خلاف کرتا ہے۔ یعنی مشرکوں کی طرف جھکنے اور ان کی خاطر مدارت کی ضرورت نہیں۔
(آیت 8) {فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِيْنَ:} اس آیت میں اور آئندہ آنے والی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جھٹلانے والوں کا کہنا مت مان اور نہ کسی ایسے شخص کا کہنا مان جو بہت قسمیں کھانے والا ذلیل ہے۔ معلوم ہوا یہ کام کرنے والے اللہ تعالیٰ کی نظر میں اتنے برے ہیں کہ وہ کوئی بات بھی کہیں مسلمان کے لیے ان کے کہنے پر چلنا جائز نہیں تو اللہ تعالیٰ کو یہ کس طرح گوارا ہو سکتا ہے کہ مسلمان خود ان جیسے کام کرنے لگیں۔ گویا جب ان صفات والوں کی اطاعت سے منع کیا گیا تو خود یہ صفات اختیار کرنے سے تو بدرجۂ اولیٰ منع کر دیا۔ ایک بات یہ معلوم ہوئی کہ کافر جو بات بھی مسلمان سے منوانا چاہتے ہیں، بظاہر وہ کتنی ہی خوبصورت کیوں نہ ہو، اس کے پیچھے ان کا کوئی نہ کوئی خبیث مقصد ضرور ہوتا ہے، اس لیے ان کا کہنا کسی صورت میں بھی نہیں ماننا چاہیے۔
وَدُّوۡا لَوۡ تُدۡہِنُ فَیُدۡہِنُوۡنَ ﴿۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ تو چاہتے ہیں کہ کچھ تم مداہنت کرو تو یہ بھی مداہنت کریں
مولانا محمد جوناگڑھی
وه تو چاہتے ہیں کہ تو ذرا ڈھیلا ہو تو یہ بھی ڈھیلے پڑ جائیں
احمد رضا خان بریلوی
وہ تو اس آرزو میں ہیں کہ کسی طرح تم نرمی کرو تو وہ بھی نرم پڑجائیں،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ (کفار) تو چاہتے ہیں کہ آپ(ص) (اپنے فرضِ منصبی کی ادائیگی میں) ڈھیلے پڑجائیں تو وہ بھی (مخالفت میں) ڈھیلے ہو جائیں۔
عبدالسلام بن محمد
وہ چاہتے ہیں کاش! تو نرمی کرے تو وہ بھی نرمی کریں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زیادہ قسمیں کھانے والے زیادہ جھوٹ بولتے ہیں ٭٭

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! جو نعمتیں ہم نے تجھے دیں، جو صراط مستقیم اور خلق عظیم ہم نے تجھے عطا فرمایا اب تجھے چاہیئے کہ ہماری نہ ماننے والوں کی تو نہ مان، ان کی تو عین خوشی ہے کہ آپ ذرا بھی نرم پڑیں تو یہ کھل کر کھیلیں ‘۔ اور یہ بھی مطلب ہے کہ ’ یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودان باطل کی طرف کچھ تو رخ کریں حق سے ذرا سا تو ادھر ادھر ہو جائیں ‘۔ پھر فرماتا ہے ’ زیادہ قسمیں کھانے والے کمینے شخص کی بھی نہ مان ‘ - چونکہ جھوٹے شخصوں کو اپنی ذلت اور کذب بیانی کے ظاہر ہو جانے کا ڈر رہتا ہے، اس لیے وہ قسمیں کھا کھا کر دوسرے کو اپنا یقین دلانا چاہتا ہے لگاتار قسموں پر قسمیں کھائے چلا جاتا ہے اور اللہ کے ناموں کو بے موقعہ استعمال کرتا پھرتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مَّهِينٍ» سے مراد «کاذب» ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں ضعیف دل والا۔ حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں «حَلَّافٍ» مکابرہ کرنے والا اور «مَّهِينٍ» ضعیف، «هَمَّازٍ» غیب کرنے والا، چغل خور جو ادھر کی ادھر لگائے اور ادھر کی ادھر تاکہ فساد ہو جائے۔ طبیعتوں میں نفرت اور دل میں دشمنی آ جائے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے میں دو قبریں آ گئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں کو عذاب ہو رہا اور کسی بڑے امر پر نہیں ایک تو پیشاب کرنے میں پردے کا خیال نہ رکھتا تھا۔ دوسرا چغل خور تھا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:216] ‏‏‏‏ فرماتے ہیں ”چغل خور جنت میں نہ جائے گا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:6056] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث اس وقت سنائی تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ یہ شخص خفیہ پولیس کا آدمی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:389/5:صحیح] ‏‏‏‏

سب سے بہتر اور برتر شخص ٭٭

مسند احمد کی حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ تم میں سب سے بھلا شخص کون ہے؟“ لوگوں نے کہا ضرور ارشاد فرمایئے، فرمایا: ”وہ کہ جب انہیں دیکھا جائے اللہ یاد آ جائے اور سن لو سب سے بدتر شخص وہ ہے جو چغل خور ہو دوستوں میں فساد ڈلوانے والا ہو پاک صاف لوگوں کو تہمت لگانے والا ہو“ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4119،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ترمذی میں بھی یہ روایت ہے۔ پھر ان بد لوگوں کے ناپاک خصائل بیان ہو رہے ہیں کہ ’ بھلائیوں سے باز رہنے والا اور باز رکھنے والا ہے، حلال چیزوں اور حلال کاموں سے ہٹ کر حرام خوری اور حرام کاری کرتا ہے، گنہگار، بدکردار، محرمات کو استعمال کرنے والا، بدخو، بدگو، جمع کرنے والا اور نہ دینے والا ہے ‘۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتی لوگ گرے پڑے عاجز و ضعیف ہیں جو اللہ کے ہاں اس بلند مرتبہ پر ہیں کہ اگر وہ قسم کھا بیٹھیں تو اللہ پوری کر دے اور جہنمی لوگ سرکش متکبر اور خودبین ہوتے ہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4918] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { جمع کرنے والے اور نہ دینے والے بدگو اور سخت خلق }۔ ۱؎ [مسند احمد:169/2:صحیح] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا «عُتُلٍّ بَعْدَ ذَٰلِكَ زَنِيمٍ» ۱؎ [68-القلم:13] ‏‏‏‏ کون ہے؟ فرمایا: ”بدخلق خوب کھانے پینے والا لوگوں پر ظلم کرنے والا پیٹو آدمی“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:4/227:صحیح] ‏‏‏‏ لیکن اس روایت کو اکثر راویوں نے مرسل بیان کیا ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے { اس نالائق شخص پر آسمان روتا ہے جسے اللہ نے تندرستی دی، پیٹ بھر کھانے کو دیا، مال و جاہ بھی عطا فرمائی پھر بھی لوگوں پر ظلم و ستم کر رہا ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34603:مرسل] ‏‏‏‏ یہ حدیث بھی دو مرسل طریقوں سے مروی ہے۔ غرض «عُتُلٍّ» کہتے ہیں جس کا بدن صحیح ہو، طاقتور ہو اور خوب کھانے پینے والا زور دار شخص ہو۔ «زَنِيمٍ» سے مراد بدنام ہے جو برائی میں مشہور ہو، لغت عرب میں «زَنِيمٍ» اسے کہتے ہیں جو کسی قوم میں سمجھا جاتا ہو لیکن دراصل اس کا نہ ہو، عرب شاعروں نے اسے اسی معنی میں باندھا ہے یعنی جس کا نسب صحیح نہ ہو، کہا گیا ہے کہ مراد اس سے اخنس بن شریق ثقفی ہے جو بنو زہرہ کا حلیف تھا اور بعض کہتے ہیں یہ اسود بن عبد یغوث زہری ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ولد الزنا مراد ہے، یہ بھی بیان ہوا ہے کہ جس طرح ایک بکری جو تمام بکریوں میں سے الگ تھلگ اپنا چرا ہوا کان اپنی گردن پر لٹکائے ہوئے ہو بیک نگاہ پہچان لی جاتی ہے اسی طرح کافر مومنوں میں پہچان لیا جاتا ہے۔ اسی طرح کے اور بھی بہت سے اقوال ہیں لیکن خلاصہ سب کا صرف اسی قدر ہے کہ «زنیم» وہ شخص ہے جو برائی سے مشہور ہو اور عموماً ایسے لوگ ادھر ادھر سے ملے ہوئے ہوتے ہیں جن کے صحیح نسب کا اور حقیقی باپ کا پتہ نہیں ہوتا ایسوں پر شیطان کا غلبہ بہت زیادہ رہا کرتا ہے۔ جیسے حدیث میں ہے { زنا کی اولاد جنت میں نہیں جائے گی }۔ ۱؎ [مجمع الزوائد:275/6:موضوع] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { زنا کی اولاد تین برے لوگوں کی برائی کا مجموعہ ہے، اگر وہ بھی اپنے ماں باپ کے سے کام کرے }۔ ۱؎ [مسند احمد:6/109:ضعیف] ‏‏‏‏

پھر فرمایا ’ اس کی ان شرارتوں کی وجہ یہ ہے کہ یہ مالدار اور بیٹوں کا باپ بن گیا ہے ہماری اس نعمت کا گن گانا تو کہاں ہماری آیتوں کو جھٹلاتا ہے اور توہین کر کے کہتا پھرتا ہے کہ یہ تو پرانے افسانے ہیں ‘۔ اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «‏‏‏‏ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا وَجَعَلْتُ لَهُ مَالًا مَّمْدُودًا وَبَنِينَ شُهُودًا وَمَهَّدتُّ لَهُ تَمْهِيدًا ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ كَلَّا إِنَّهُ كَانَ لِآيَاتِنَا عَنِيدًا سَأُرْهِقُهُ صَعُودًا إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ثُمَّ نَظَرَ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ فَقَالَ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا سِحْرٌ يُؤْثَرُ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ سَأُصْلِيهِ سَقَرَ» ۱؎ [74-المدثر:26-11] ‏‏‏‏ ’ مجھے چھوڑ دے اور اسے جسے میں نے یکتا پیدا کیا ہے اور بہت سا مال دیا ہے اور حاضر باش لڑکے دیئے ہیں اور بھی بہت کشادگی دے رکھی ہے پھر بھی اس کی طمع ہے کہ میں اسے اور دوں ہرگز ایسا نہیں ہو سکتا یہ تو میری آیتوں کا مخالف ہے میں اسے عنقریب بدترین مصیبت میں ڈالوں گا اس نے غور و فکر کرکے اندازہ لگایا یہ تباہ ہو۔ کتنی بری تجویز اس نے سوچی میں پھر کہتا ہوں، یہ برباد ہو اس نے کیسی بری تجویز کی اس نے پھر نظر ڈالی اور ترش رو ہو کہ منہ بنا لیا، پھر منہ پھیر کر اینٹھنے لگا اور کہہ دیا کہ یہ کلام اللہ تو پرانا نقل کیا ہوا جادو ہے، صاف ظاہر ہے کہ یہ انسانی کلام ہے، اس کی اس بات پر میں بھی اسے «سَقَرَ» میں ڈالوں گا تجھے کیا معلوم کہ «سَقَرَ» کیا ہے نہ وہ باقی رکھے نہ چھوڑے بدن پر لپٹ جاتی ہے اس پر انیس فرشتے متعین ہیں ‘۔ اسی طرح یہاں بھی فرمایا کہ ’ اس کی ناک پر ہم داغ لگائیں گے ‘ یعنی اسے ہم اس قدر رسوا کریں گے کہ اس کی برائی کسی پر پوشیدہ نہ رہے ہر ایک اسے جان پہچان لے جیسے نشان دار ناک والے کو بیک نگاہ ہزاروں میں لوگ پہچان لیتے ہیں اور جو داغ چھپائے نہ چھپ سکے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بدر والے دن اس کی ناک پر تلوار لگے گی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ قیامت والے دن جہنم کی مہر لگے گی یعنی منہ کالا کر دیا جائے گا تو ناک سے مراد پورا چہرہ ہوا۔ امام ابو جعفر ابن جریر نے ان تمام اقوال کو وارد کر کے فرمایا ہے کہ ”ان سب میں تطبیق اس طرح ہو جاتی ہے کہ یہ کل امور اس میں جمع ہو جائیں یہ بھی ہو وہ بھی ہو، دنیا میں رسوا ہو سچ مچ ناک پر نشان لگے آخرت میں بھی نشاندار مجرم بنے“، فی الواقع یہ بہت درست ہے۔ ابن ابی حاتم میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { بندہ ہزارہا برس تک اللہ کے ہاں مومن لکھا رہتا ہے لیکن مرتا اس حالت میں ہے کہ اللہ اس پر ناراض ہوتا ہے اور بندہ اللہ کے ہاں کافر ہزارہا سال تک لکھا رہتا ہے پھر مرتے وقت اللہ اس سے خوش ہو جاتا ہے جو شخص عیب گوئی اور چغل خوری کی حالت میں مرے جو لوگوں کو بدنام کرنے والا ہو قیامت کے دن اس کی ناک پر دونوں ہونٹوں کی طرف سے نشان لگا دیا جائے جو اس مجرم کی علامت بن جائے گا }۔ ۱؎ [طبرانی اوسط:8801:ضعیف] ‏‏‏‏
9۔ 1 وہ چاہتے ہیں کہ تو ان کے معبودوں کے بارے میں نرم رویہ اختیار کرے تو وہ بھی تیرے بارے میں نرم رویہ اختیار کریں باطل پرست اپنی باطل پرستی کو چھوڑنے میں ڈھیلے ہوجائیں گے۔ اس لئے حق میں خوشامد، حکمت، تبلیغ اور کار نبوت کے لئے سخت نقصان دہ ہے۔
(آیت 9){ وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُوْنَ:تُدْهِنُ”دُهْنٌ“} (تیل) سے مشتق ہے۔ جس طرح چمڑے وغیرہ کو تیل لگا کر نرم کیا جا تا ہے اس طرح بات کو نرم کر دینا۔ یعنی ان کی خواہش ہے کہ آپ اسلام کی تبلیغ میں اپنی سرگرمیاں کم کر دیں تو وہ بھی آپ کو ستانے میں کمی کر دیں، آپ اپنے دین میں کچھ ترمیم کرکے اس میں ان کے شرک اور دوسری گمراہیوں کی کچھ گنجائش نکال لیں تو وہ بھی آپ کے ساتھ صلح کرلیں گے۔ آپ خود جو چاہیں کریں، مگر تمام لوگوں کی زندگی کے ہر شعبہ مثلاً ان کے عقائد، معیشت اور معاشرت و حکومت وغیرہ میں اللہ کے حکم کی تنفیذ پر اصرار چھوڑ دیں تو وہ بھی آپ کے نماز روزے کو برداشت کرلیں، جیسا کہ ہمیشہ کی طرح آج بھی سیکولر لوگوں کا کہنا ہے کہ دین ذاتی مسئلہ ہے، حکومت میں اس کا کوئی دخل نہیں ہونا چاہیے۔ یاد رہے! جس چیز سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے وہ بات کو نرم کر دینا ہے، لہجے میں نرمی نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ خلق عظیم پر ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ کفار کو نرم کرنے کے لیے آپ اپنے موقف اور عقیدے میں نرمی کر دیں۔ رہی انداز اور لہجے میں نرمی تو وہ آپ کے خلق عظیم کا بھی تقاضا ہے اور اللہ کا حکم بھی۔ گویا آپ کو مداہنت سے منع کیا جا رہا ہے، مدارات سے نہیں۔
وَ لَا تُطِعۡ کُلَّ حَلَّافٍ مَّہِیۡنٍ ﴿ۙ۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہرگز نہ دبو کسی ایسے شخص سے جو بہت قسمیں کھانے والا بے وقعت آدمی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تو کسی ایسے شخص کا بھی کہا نہ ماننا جو زیاده قسمیں کھانے واﻻ
احمد رضا خان بریلوی
اور ہر ایسے کی بات نہ سننا جو بڑا قسمیں کھانے والا ذلیل
علامہ محمد حسین نجفی
اور آپ(ص) ہرگز ہر اس شخص کا کہنا نہ مانیں جو بہت (جھوٹی) قَسمیں کھانے والا ہے (اور) ذلیل ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور تو کسی بہت قسمیں کھانے والے ذلیل کا کہنا مت مان۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زیادہ قسمیں کھانے والے زیادہ جھوٹ بولتے ہیں ٭٭

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! جو نعمتیں ہم نے تجھے دیں، جو صراط مستقیم اور خلق عظیم ہم نے تجھے عطا فرمایا اب تجھے چاہیئے کہ ہماری نہ ماننے والوں کی تو نہ مان، ان کی تو عین خوشی ہے کہ آپ ذرا بھی نرم پڑیں تو یہ کھل کر کھیلیں ‘۔ اور یہ بھی مطلب ہے کہ ’ یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودان باطل کی طرف کچھ تو رخ کریں حق سے ذرا سا تو ادھر ادھر ہو جائیں ‘۔ پھر فرماتا ہے ’ زیادہ قسمیں کھانے والے کمینے شخص کی بھی نہ مان ‘ - چونکہ جھوٹے شخصوں کو اپنی ذلت اور کذب بیانی کے ظاہر ہو جانے کا ڈر رہتا ہے، اس لیے وہ قسمیں کھا کھا کر دوسرے کو اپنا یقین دلانا چاہتا ہے لگاتار قسموں پر قسمیں کھائے چلا جاتا ہے اور اللہ کے ناموں کو بے موقعہ استعمال کرتا پھرتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مَّهِينٍ» سے مراد «کاذب» ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں ضعیف دل والا۔ حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں «حَلَّافٍ» مکابرہ کرنے والا اور «مَّهِينٍ» ضعیف، «هَمَّازٍ» غیب کرنے والا، چغل خور جو ادھر کی ادھر لگائے اور ادھر کی ادھر تاکہ فساد ہو جائے۔ طبیعتوں میں نفرت اور دل میں دشمنی آ جائے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے میں دو قبریں آ گئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں کو عذاب ہو رہا اور کسی بڑے امر پر نہیں ایک تو پیشاب کرنے میں پردے کا خیال نہ رکھتا تھا۔ دوسرا چغل خور تھا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:216] ‏‏‏‏ فرماتے ہیں ”چغل خور جنت میں نہ جائے گا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:6056] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث اس وقت سنائی تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ یہ شخص خفیہ پولیس کا آدمی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:389/5:صحیح] ‏‏‏‏

سب سے بہتر اور برتر شخص ٭٭

مسند احمد کی حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ تم میں سب سے بھلا شخص کون ہے؟“ لوگوں نے کہا ضرور ارشاد فرمایئے، فرمایا: ”وہ کہ جب انہیں دیکھا جائے اللہ یاد آ جائے اور سن لو سب سے بدتر شخص وہ ہے جو چغل خور ہو دوستوں میں فساد ڈلوانے والا ہو پاک صاف لوگوں کو تہمت لگانے والا ہو“ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4119،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ترمذی میں بھی یہ روایت ہے۔ پھر ان بد لوگوں کے ناپاک خصائل بیان ہو رہے ہیں کہ ’ بھلائیوں سے باز رہنے والا اور باز رکھنے والا ہے، حلال چیزوں اور حلال کاموں سے ہٹ کر حرام خوری اور حرام کاری کرتا ہے، گنہگار، بدکردار، محرمات کو استعمال کرنے والا، بدخو، بدگو، جمع کرنے والا اور نہ دینے والا ہے ‘۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتی لوگ گرے پڑے عاجز و ضعیف ہیں جو اللہ کے ہاں اس بلند مرتبہ پر ہیں کہ اگر وہ قسم کھا بیٹھیں تو اللہ پوری کر دے اور جہنمی لوگ سرکش متکبر اور خودبین ہوتے ہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4918] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { جمع کرنے والے اور نہ دینے والے بدگو اور سخت خلق }۔ ۱؎ [مسند احمد:169/2:صحیح] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا «عُتُلٍّ بَعْدَ ذَٰلِكَ زَنِيمٍ» ۱؎ [68-القلم:13] ‏‏‏‏ کون ہے؟ فرمایا: ”بدخلق خوب کھانے پینے والا لوگوں پر ظلم کرنے والا پیٹو آدمی“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:4/227:صحیح] ‏‏‏‏ لیکن اس روایت کو اکثر راویوں نے مرسل بیان کیا ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے { اس نالائق شخص پر آسمان روتا ہے جسے اللہ نے تندرستی دی، پیٹ بھر کھانے کو دیا، مال و جاہ بھی عطا فرمائی پھر بھی لوگوں پر ظلم و ستم کر رہا ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34603:مرسل] ‏‏‏‏ یہ حدیث بھی دو مرسل طریقوں سے مروی ہے۔ غرض «عُتُلٍّ» کہتے ہیں جس کا بدن صحیح ہو، طاقتور ہو اور خوب کھانے پینے والا زور دار شخص ہو۔ «زَنِيمٍ» سے مراد بدنام ہے جو برائی میں مشہور ہو، لغت عرب میں «زَنِيمٍ» اسے کہتے ہیں جو کسی قوم میں سمجھا جاتا ہو لیکن دراصل اس کا نہ ہو، عرب شاعروں نے اسے اسی معنی میں باندھا ہے یعنی جس کا نسب صحیح نہ ہو، کہا گیا ہے کہ مراد اس سے اخنس بن شریق ثقفی ہے جو بنو زہرہ کا حلیف تھا اور بعض کہتے ہیں یہ اسود بن عبد یغوث زہری ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ولد الزنا مراد ہے، یہ بھی بیان ہوا ہے کہ جس طرح ایک بکری جو تمام بکریوں میں سے الگ تھلگ اپنا چرا ہوا کان اپنی گردن پر لٹکائے ہوئے ہو بیک نگاہ پہچان لی جاتی ہے اسی طرح کافر مومنوں میں پہچان لیا جاتا ہے۔ اسی طرح کے اور بھی بہت سے اقوال ہیں لیکن خلاصہ سب کا صرف اسی قدر ہے کہ «زنیم» وہ شخص ہے جو برائی سے مشہور ہو اور عموماً ایسے لوگ ادھر ادھر سے ملے ہوئے ہوتے ہیں جن کے صحیح نسب کا اور حقیقی باپ کا پتہ نہیں ہوتا ایسوں پر شیطان کا غلبہ بہت زیادہ رہا کرتا ہے۔ جیسے حدیث میں ہے { زنا کی اولاد جنت میں نہیں جائے گی }۔ ۱؎ [مجمع الزوائد:275/6:موضوع] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { زنا کی اولاد تین برے لوگوں کی برائی کا مجموعہ ہے، اگر وہ بھی اپنے ماں باپ کے سے کام کرے }۔ ۱؎ [مسند احمد:6/109:ضعیف] ‏‏‏‏

پھر فرمایا ’ اس کی ان شرارتوں کی وجہ یہ ہے کہ یہ مالدار اور بیٹوں کا باپ بن گیا ہے ہماری اس نعمت کا گن گانا تو کہاں ہماری آیتوں کو جھٹلاتا ہے اور توہین کر کے کہتا پھرتا ہے کہ یہ تو پرانے افسانے ہیں ‘۔ اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «‏‏‏‏ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا وَجَعَلْتُ لَهُ مَالًا مَّمْدُودًا وَبَنِينَ شُهُودًا وَمَهَّدتُّ لَهُ تَمْهِيدًا ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ كَلَّا إِنَّهُ كَانَ لِآيَاتِنَا عَنِيدًا سَأُرْهِقُهُ صَعُودًا إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ثُمَّ نَظَرَ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ فَقَالَ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا سِحْرٌ يُؤْثَرُ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ سَأُصْلِيهِ سَقَرَ» ۱؎ [74-المدثر:26-11] ‏‏‏‏ ’ مجھے چھوڑ دے اور اسے جسے میں نے یکتا پیدا کیا ہے اور بہت سا مال دیا ہے اور حاضر باش لڑکے دیئے ہیں اور بھی بہت کشادگی دے رکھی ہے پھر بھی اس کی طمع ہے کہ میں اسے اور دوں ہرگز ایسا نہیں ہو سکتا یہ تو میری آیتوں کا مخالف ہے میں اسے عنقریب بدترین مصیبت میں ڈالوں گا اس نے غور و فکر کرکے اندازہ لگایا یہ تباہ ہو۔ کتنی بری تجویز اس نے سوچی میں پھر کہتا ہوں، یہ برباد ہو اس نے کیسی بری تجویز کی اس نے پھر نظر ڈالی اور ترش رو ہو کہ منہ بنا لیا، پھر منہ پھیر کر اینٹھنے لگا اور کہہ دیا کہ یہ کلام اللہ تو پرانا نقل کیا ہوا جادو ہے، صاف ظاہر ہے کہ یہ انسانی کلام ہے، اس کی اس بات پر میں بھی اسے «سَقَرَ» میں ڈالوں گا تجھے کیا معلوم کہ «سَقَرَ» کیا ہے نہ وہ باقی رکھے نہ چھوڑے بدن پر لپٹ جاتی ہے اس پر انیس فرشتے متعین ہیں ‘۔ اسی طرح یہاں بھی فرمایا کہ ’ اس کی ناک پر ہم داغ لگائیں گے ‘ یعنی اسے ہم اس قدر رسوا کریں گے کہ اس کی برائی کسی پر پوشیدہ نہ رہے ہر ایک اسے جان پہچان لے جیسے نشان دار ناک والے کو بیک نگاہ ہزاروں میں لوگ پہچان لیتے ہیں اور جو داغ چھپائے نہ چھپ سکے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بدر والے دن اس کی ناک پر تلوار لگے گی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ قیامت والے دن جہنم کی مہر لگے گی یعنی منہ کالا کر دیا جائے گا تو ناک سے مراد پورا چہرہ ہوا۔ امام ابو جعفر ابن جریر نے ان تمام اقوال کو وارد کر کے فرمایا ہے کہ ”ان سب میں تطبیق اس طرح ہو جاتی ہے کہ یہ کل امور اس میں جمع ہو جائیں یہ بھی ہو وہ بھی ہو، دنیا میں رسوا ہو سچ مچ ناک پر نشان لگے آخرت میں بھی نشاندار مجرم بنے“، فی الواقع یہ بہت درست ہے۔ ابن ابی حاتم میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { بندہ ہزارہا برس تک اللہ کے ہاں مومن لکھا رہتا ہے لیکن مرتا اس حالت میں ہے کہ اللہ اس پر ناراض ہوتا ہے اور بندہ اللہ کے ہاں کافر ہزارہا سال تک لکھا رہتا ہے پھر مرتے وقت اللہ اس سے خوش ہو جاتا ہے جو شخص عیب گوئی اور چغل خوری کی حالت میں مرے جو لوگوں کو بدنام کرنے والا ہو قیامت کے دن اس کی ناک پر دونوں ہونٹوں کی طرف سے نشان لگا دیا جائے جو اس مجرم کی علامت بن جائے گا }۔ ۱؎ [طبرانی اوسط:8801:ضعیف] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 10) ➊ {وَ لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِيْنٍ:حَلَّافٍ”حَلَفَ يَحْلِفُ“} (ض) سے مبالغہ ہے، بہت قسمیں کھانے والا۔ {” مَهِيْنٍ”مَهُنَ يَمْهُنُ مَهَانَةً“} (ک) (حقیر، ذلیل ہونا) سے {”فَعِيْلٌ“} کے وزن پر ہے، حقیر، ذلیل۔ یہ دونوں صفتیں ایک دوسرے کو لازم ہیں، زیادہ قسمیں کھانے سے آدمی لوگوں کی نظر میں ذلیل ہو جاتا ہے اور لوگوں کی نگاہوں میں ذلیل اور بے اعتبار ہونے ہی کی وجہ سے وہ زیادہ قسمیں کھاتا ہے، تاکہ اپنی بات کا یقین دلائے، کیونکہ وہ خود سمجھتا ہے کہ لوگوں کے دل میں نہ اس کی عزت ہے نہ اعتبار۔ ➋ ان چھ آیات (۱۰ تا ۱۵) میں مذکور بری خصلتوںوالے شخص سے بعض مفسرین نے ایک خاص شخص مراد لیا ہے، مگر آیت کے الفاظ عام ہیں: «وَ لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِيْنٍ» ‏‏‏‏ کہ ”ایسی خصلتوں والے کسی شخص کا کہنا مت مان“ اس لیے ان خصلتوں والا ہر شخص آیت کا مصداق ہے۔ اس سے پہلی آیات میں مکذبین کی اطاعت سے منع فرمایا تھا، اب انھی جھٹلانے والوں کا ذکر ان خصلتوں کے ساتھ کیا ہے جو دین کو جھٹلانے کی وجہ سے عام طور پر آدمی میں پیدا ہو جاتی ہیں۔ یہ سب کفر کی صفات ہیں، آدمی کو کوشش کرنی چاہیے کہ ان میں سے کوئی بھی خصلت اس کے اندر پیدا نہ ہونے پائے۔
ہَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیۡمٍ ﴿ۙ۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
طعنے دیتا ہے، چغلیاں کھاتا پھرتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بے وقار، کمینہ، عیب گو، چغل خور
احمد رضا خان بریلوی
بہت طعنے دینے والا بہت اِدھر کی اُدھر لگاتا پھرنے والا
علامہ محمد حسین نجفی
جو بڑی نکتہ چینی کرنے والا (اور) چلتا پھرتا چغل خور ہے۔
عبدالسلام بن محمد
جو بہت طعنہ دینے والا، چغلی میں بہت دوڑ دھوپ کرنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زیادہ قسمیں کھانے والے زیادہ جھوٹ بولتے ہیں ٭٭

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! جو نعمتیں ہم نے تجھے دیں، جو صراط مستقیم اور خلق عظیم ہم نے تجھے عطا فرمایا اب تجھے چاہیئے کہ ہماری نہ ماننے والوں کی تو نہ مان، ان کی تو عین خوشی ہے کہ آپ ذرا بھی نرم پڑیں تو یہ کھل کر کھیلیں ‘۔ اور یہ بھی مطلب ہے کہ ’ یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودان باطل کی طرف کچھ تو رخ کریں حق سے ذرا سا تو ادھر ادھر ہو جائیں ‘۔ پھر فرماتا ہے ’ زیادہ قسمیں کھانے والے کمینے شخص کی بھی نہ مان ‘ - چونکہ جھوٹے شخصوں کو اپنی ذلت اور کذب بیانی کے ظاہر ہو جانے کا ڈر رہتا ہے، اس لیے وہ قسمیں کھا کھا کر دوسرے کو اپنا یقین دلانا چاہتا ہے لگاتار قسموں پر قسمیں کھائے چلا جاتا ہے اور اللہ کے ناموں کو بے موقعہ استعمال کرتا پھرتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مَّهِينٍ» سے مراد «کاذب» ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں ضعیف دل والا۔ حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں «حَلَّافٍ» مکابرہ کرنے والا اور «مَّهِينٍ» ضعیف، «هَمَّازٍ» غیب کرنے والا، چغل خور جو ادھر کی ادھر لگائے اور ادھر کی ادھر تاکہ فساد ہو جائے۔ طبیعتوں میں نفرت اور دل میں دشمنی آ جائے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے میں دو قبریں آ گئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں کو عذاب ہو رہا اور کسی بڑے امر پر نہیں ایک تو پیشاب کرنے میں پردے کا خیال نہ رکھتا تھا۔ دوسرا چغل خور تھا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:216] ‏‏‏‏ فرماتے ہیں ”چغل خور جنت میں نہ جائے گا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:6056] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث اس وقت سنائی تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ یہ شخص خفیہ پولیس کا آدمی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:389/5:صحیح] ‏‏‏‏

سب سے بہتر اور برتر شخص ٭٭

مسند احمد کی حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ تم میں سب سے بھلا شخص کون ہے؟“ لوگوں نے کہا ضرور ارشاد فرمایئے، فرمایا: ”وہ کہ جب انہیں دیکھا جائے اللہ یاد آ جائے اور سن لو سب سے بدتر شخص وہ ہے جو چغل خور ہو دوستوں میں فساد ڈلوانے والا ہو پاک صاف لوگوں کو تہمت لگانے والا ہو“ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4119،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ترمذی میں بھی یہ روایت ہے۔ پھر ان بد لوگوں کے ناپاک خصائل بیان ہو رہے ہیں کہ ’ بھلائیوں سے باز رہنے والا اور باز رکھنے والا ہے، حلال چیزوں اور حلال کاموں سے ہٹ کر حرام خوری اور حرام کاری کرتا ہے، گنہگار، بدکردار، محرمات کو استعمال کرنے والا، بدخو، بدگو، جمع کرنے والا اور نہ دینے والا ہے ‘۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتی لوگ گرے پڑے عاجز و ضعیف ہیں جو اللہ کے ہاں اس بلند مرتبہ پر ہیں کہ اگر وہ قسم کھا بیٹھیں تو اللہ پوری کر دے اور جہنمی لوگ سرکش متکبر اور خودبین ہوتے ہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4918] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { جمع کرنے والے اور نہ دینے والے بدگو اور سخت خلق }۔ ۱؎ [مسند احمد:169/2:صحیح] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا «عُتُلٍّ بَعْدَ ذَٰلِكَ زَنِيمٍ» ۱؎ [68-القلم:13] ‏‏‏‏ کون ہے؟ فرمایا: ”بدخلق خوب کھانے پینے والا لوگوں پر ظلم کرنے والا پیٹو آدمی“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:4/227:صحیح] ‏‏‏‏ لیکن اس روایت کو اکثر راویوں نے مرسل بیان کیا ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے { اس نالائق شخص پر آسمان روتا ہے جسے اللہ نے تندرستی دی، پیٹ بھر کھانے کو دیا، مال و جاہ بھی عطا فرمائی پھر بھی لوگوں پر ظلم و ستم کر رہا ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34603:مرسل] ‏‏‏‏ یہ حدیث بھی دو مرسل طریقوں سے مروی ہے۔ غرض «عُتُلٍّ» کہتے ہیں جس کا بدن صحیح ہو، طاقتور ہو اور خوب کھانے پینے والا زور دار شخص ہو۔ «زَنِيمٍ» سے مراد بدنام ہے جو برائی میں مشہور ہو، لغت عرب میں «زَنِيمٍ» اسے کہتے ہیں جو کسی قوم میں سمجھا جاتا ہو لیکن دراصل اس کا نہ ہو، عرب شاعروں نے اسے اسی معنی میں باندھا ہے یعنی جس کا نسب صحیح نہ ہو، کہا گیا ہے کہ مراد اس سے اخنس بن شریق ثقفی ہے جو بنو زہرہ کا حلیف تھا اور بعض کہتے ہیں یہ اسود بن عبد یغوث زہری ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ولد الزنا مراد ہے، یہ بھی بیان ہوا ہے کہ جس طرح ایک بکری جو تمام بکریوں میں سے الگ تھلگ اپنا چرا ہوا کان اپنی گردن پر لٹکائے ہوئے ہو بیک نگاہ پہچان لی جاتی ہے اسی طرح کافر مومنوں میں پہچان لیا جاتا ہے۔ اسی طرح کے اور بھی بہت سے اقوال ہیں لیکن خلاصہ سب کا صرف اسی قدر ہے کہ «زنیم» وہ شخص ہے جو برائی سے مشہور ہو اور عموماً ایسے لوگ ادھر ادھر سے ملے ہوئے ہوتے ہیں جن کے صحیح نسب کا اور حقیقی باپ کا پتہ نہیں ہوتا ایسوں پر شیطان کا غلبہ بہت زیادہ رہا کرتا ہے۔ جیسے حدیث میں ہے { زنا کی اولاد جنت میں نہیں جائے گی }۔ ۱؎ [مجمع الزوائد:275/6:موضوع] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { زنا کی اولاد تین برے لوگوں کی برائی کا مجموعہ ہے، اگر وہ بھی اپنے ماں باپ کے سے کام کرے }۔ ۱؎ [مسند احمد:6/109:ضعیف] ‏‏‏‏

پھر فرمایا ’ اس کی ان شرارتوں کی وجہ یہ ہے کہ یہ مالدار اور بیٹوں کا باپ بن گیا ہے ہماری اس نعمت کا گن گانا تو کہاں ہماری آیتوں کو جھٹلاتا ہے اور توہین کر کے کہتا پھرتا ہے کہ یہ تو پرانے افسانے ہیں ‘۔ اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «‏‏‏‏ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا وَجَعَلْتُ لَهُ مَالًا مَّمْدُودًا وَبَنِينَ شُهُودًا وَمَهَّدتُّ لَهُ تَمْهِيدًا ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ كَلَّا إِنَّهُ كَانَ لِآيَاتِنَا عَنِيدًا سَأُرْهِقُهُ صَعُودًا إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ثُمَّ نَظَرَ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ فَقَالَ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا سِحْرٌ يُؤْثَرُ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ سَأُصْلِيهِ سَقَرَ» ۱؎ [74-المدثر:26-11] ‏‏‏‏ ’ مجھے چھوڑ دے اور اسے جسے میں نے یکتا پیدا کیا ہے اور بہت سا مال دیا ہے اور حاضر باش لڑکے دیئے ہیں اور بھی بہت کشادگی دے رکھی ہے پھر بھی اس کی طمع ہے کہ میں اسے اور دوں ہرگز ایسا نہیں ہو سکتا یہ تو میری آیتوں کا مخالف ہے میں اسے عنقریب بدترین مصیبت میں ڈالوں گا اس نے غور و فکر کرکے اندازہ لگایا یہ تباہ ہو۔ کتنی بری تجویز اس نے سوچی میں پھر کہتا ہوں، یہ برباد ہو اس نے کیسی بری تجویز کی اس نے پھر نظر ڈالی اور ترش رو ہو کہ منہ بنا لیا، پھر منہ پھیر کر اینٹھنے لگا اور کہہ دیا کہ یہ کلام اللہ تو پرانا نقل کیا ہوا جادو ہے، صاف ظاہر ہے کہ یہ انسانی کلام ہے، اس کی اس بات پر میں بھی اسے «سَقَرَ» میں ڈالوں گا تجھے کیا معلوم کہ «سَقَرَ» کیا ہے نہ وہ باقی رکھے نہ چھوڑے بدن پر لپٹ جاتی ہے اس پر انیس فرشتے متعین ہیں ‘۔ اسی طرح یہاں بھی فرمایا کہ ’ اس کی ناک پر ہم داغ لگائیں گے ‘ یعنی اسے ہم اس قدر رسوا کریں گے کہ اس کی برائی کسی پر پوشیدہ نہ رہے ہر ایک اسے جان پہچان لے جیسے نشان دار ناک والے کو بیک نگاہ ہزاروں میں لوگ پہچان لیتے ہیں اور جو داغ چھپائے نہ چھپ سکے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بدر والے دن اس کی ناک پر تلوار لگے گی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ قیامت والے دن جہنم کی مہر لگے گی یعنی منہ کالا کر دیا جائے گا تو ناک سے مراد پورا چہرہ ہوا۔ امام ابو جعفر ابن جریر نے ان تمام اقوال کو وارد کر کے فرمایا ہے کہ ”ان سب میں تطبیق اس طرح ہو جاتی ہے کہ یہ کل امور اس میں جمع ہو جائیں یہ بھی ہو وہ بھی ہو، دنیا میں رسوا ہو سچ مچ ناک پر نشان لگے آخرت میں بھی نشاندار مجرم بنے“، فی الواقع یہ بہت درست ہے۔ ابن ابی حاتم میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { بندہ ہزارہا برس تک اللہ کے ہاں مومن لکھا رہتا ہے لیکن مرتا اس حالت میں ہے کہ اللہ اس پر ناراض ہوتا ہے اور بندہ اللہ کے ہاں کافر ہزارہا سال تک لکھا رہتا ہے پھر مرتے وقت اللہ اس سے خوش ہو جاتا ہے جو شخص عیب گوئی اور چغل خوری کی حالت میں مرے جو لوگوں کو بدنام کرنے والا ہو قیامت کے دن اس کی ناک پر دونوں ہونٹوں کی طرف سے نشان لگا دیا جائے جو اس مجرم کی علامت بن جائے گا }۔ ۱؎ [طبرانی اوسط:8801:ضعیف] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 11) {هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِيْمٍ:هَمَّازٍ”هَمَزَ يَهْمُزُ هَمْزًا“} (ن) سے مبالغے کا صیغہ ہے، بہت طعنہ دینے والا، عیب لگانے والا۔ {” مَشَّآءٍ“ ”مَشٰي يَمْشِيْ مَشْيًا“} (ض) (چلنا) سے مبالغے کاصیغہ ہے، بہت چلنے والا، بہت دوڑ دھوپ کرنے والا۔ {”نَمِيْمٌ“} چغلی، خرابی ڈالنے کی نیت سے کسی کی بات دوسرے شخص تک پہنچانا۔ ان دونوں صفتوں کا خلاصہ دوسروں پر عیب لگانا ہے۔ {” هَمَّازٍ “} وہ جو دوسرے کے منہ پر عیب لگاتا اور طعنہ دیتا ہے۔ {” مَشَّآءٍ بِنَمِيْمٍ “} وہ جو پیٹھ پیچھے چغلی کرتا ہے۔ یعنی بس چلے تو جرأت سے منہ پر طعنہ زنی اور عیب جوئی کرتا ہے اور بس نہ چلے تو پیٹھ پیچھے دوڑ دھوپ جاری رکھتا ہے۔
مَّنَّاعٍ لِّلۡخَیۡرِ مُعۡتَدٍ اَثِیۡمٍ ﴿ۙ۱۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بھلائی سے روکتا ہے، ظلم و زیادتی میں حد سے گزر جانے والا ہے، سخت بد اعمال ہے، جفا کار ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بھلائی سے روکنے واﻻ حد سے بڑھ جانے واﻻ گنہگار
احمد رضا خان بریلوی
بھلائی سے بڑا روکنے والا حد سے بڑھنے والا گنہگار
علامہ محمد حسین نجفی
کارِ خیر سے بڑا منع کرنے والا، حد سے بڑھنے والا (اور) بڑا گنہگار ہے۔
عبدالسلام بن محمد
خیر کو بہت روکنے والا، حد سے بڑھنے والا، سخت گناہ گار ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زیادہ قسمیں کھانے والے زیادہ جھوٹ بولتے ہیں ٭٭

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! جو نعمتیں ہم نے تجھے دیں، جو صراط مستقیم اور خلق عظیم ہم نے تجھے عطا فرمایا اب تجھے چاہیئے کہ ہماری نہ ماننے والوں کی تو نہ مان، ان کی تو عین خوشی ہے کہ آپ ذرا بھی نرم پڑیں تو یہ کھل کر کھیلیں ‘۔ اور یہ بھی مطلب ہے کہ ’ یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودان باطل کی طرف کچھ تو رخ کریں حق سے ذرا سا تو ادھر ادھر ہو جائیں ‘۔ پھر فرماتا ہے ’ زیادہ قسمیں کھانے والے کمینے شخص کی بھی نہ مان ‘ - چونکہ جھوٹے شخصوں کو اپنی ذلت اور کذب بیانی کے ظاہر ہو جانے کا ڈر رہتا ہے، اس لیے وہ قسمیں کھا کھا کر دوسرے کو اپنا یقین دلانا چاہتا ہے لگاتار قسموں پر قسمیں کھائے چلا جاتا ہے اور اللہ کے ناموں کو بے موقعہ استعمال کرتا پھرتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مَّهِينٍ» سے مراد «کاذب» ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں ضعیف دل والا۔ حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں «حَلَّافٍ» مکابرہ کرنے والا اور «مَّهِينٍ» ضعیف، «هَمَّازٍ» غیب کرنے والا، چغل خور جو ادھر کی ادھر لگائے اور ادھر کی ادھر تاکہ فساد ہو جائے۔ طبیعتوں میں نفرت اور دل میں دشمنی آ جائے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے میں دو قبریں آ گئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں کو عذاب ہو رہا اور کسی بڑے امر پر نہیں ایک تو پیشاب کرنے میں پردے کا خیال نہ رکھتا تھا۔ دوسرا چغل خور تھا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:216] ‏‏‏‏ فرماتے ہیں ”چغل خور جنت میں نہ جائے گا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:6056] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث اس وقت سنائی تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ یہ شخص خفیہ پولیس کا آدمی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:389/5:صحیح] ‏‏‏‏

سب سے بہتر اور برتر شخص ٭٭

مسند احمد کی حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ تم میں سب سے بھلا شخص کون ہے؟“ لوگوں نے کہا ضرور ارشاد فرمایئے، فرمایا: ”وہ کہ جب انہیں دیکھا جائے اللہ یاد آ جائے اور سن لو سب سے بدتر شخص وہ ہے جو چغل خور ہو دوستوں میں فساد ڈلوانے والا ہو پاک صاف لوگوں کو تہمت لگانے والا ہو“ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4119،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ترمذی میں بھی یہ روایت ہے۔ پھر ان بد لوگوں کے ناپاک خصائل بیان ہو رہے ہیں کہ ’ بھلائیوں سے باز رہنے والا اور باز رکھنے والا ہے، حلال چیزوں اور حلال کاموں سے ہٹ کر حرام خوری اور حرام کاری کرتا ہے، گنہگار، بدکردار، محرمات کو استعمال کرنے والا، بدخو، بدگو، جمع کرنے والا اور نہ دینے والا ہے ‘۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتی لوگ گرے پڑے عاجز و ضعیف ہیں جو اللہ کے ہاں اس بلند مرتبہ پر ہیں کہ اگر وہ قسم کھا بیٹھیں تو اللہ پوری کر دے اور جہنمی لوگ سرکش متکبر اور خودبین ہوتے ہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4918] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { جمع کرنے والے اور نہ دینے والے بدگو اور سخت خلق }۔ ۱؎ [مسند احمد:169/2:صحیح] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا «عُتُلٍّ بَعْدَ ذَٰلِكَ زَنِيمٍ» ۱؎ [68-القلم:13] ‏‏‏‏ کون ہے؟ فرمایا: ”بدخلق خوب کھانے پینے والا لوگوں پر ظلم کرنے والا پیٹو آدمی“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:4/227:صحیح] ‏‏‏‏ لیکن اس روایت کو اکثر راویوں نے مرسل بیان کیا ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے { اس نالائق شخص پر آسمان روتا ہے جسے اللہ نے تندرستی دی، پیٹ بھر کھانے کو دیا، مال و جاہ بھی عطا فرمائی پھر بھی لوگوں پر ظلم و ستم کر رہا ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34603:مرسل] ‏‏‏‏ یہ حدیث بھی دو مرسل طریقوں سے مروی ہے۔ غرض «عُتُلٍّ» کہتے ہیں جس کا بدن صحیح ہو، طاقتور ہو اور خوب کھانے پینے والا زور دار شخص ہو۔ «زَنِيمٍ» سے مراد بدنام ہے جو برائی میں مشہور ہو، لغت عرب میں «زَنِيمٍ» اسے کہتے ہیں جو کسی قوم میں سمجھا جاتا ہو لیکن دراصل اس کا نہ ہو، عرب شاعروں نے اسے اسی معنی میں باندھا ہے یعنی جس کا نسب صحیح نہ ہو، کہا گیا ہے کہ مراد اس سے اخنس بن شریق ثقفی ہے جو بنو زہرہ کا حلیف تھا اور بعض کہتے ہیں یہ اسود بن عبد یغوث زہری ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ولد الزنا مراد ہے، یہ بھی بیان ہوا ہے کہ جس طرح ایک بکری جو تمام بکریوں میں سے الگ تھلگ اپنا چرا ہوا کان اپنی گردن پر لٹکائے ہوئے ہو بیک نگاہ پہچان لی جاتی ہے اسی طرح کافر مومنوں میں پہچان لیا جاتا ہے۔ اسی طرح کے اور بھی بہت سے اقوال ہیں لیکن خلاصہ سب کا صرف اسی قدر ہے کہ «زنیم» وہ شخص ہے جو برائی سے مشہور ہو اور عموماً ایسے لوگ ادھر ادھر سے ملے ہوئے ہوتے ہیں جن کے صحیح نسب کا اور حقیقی باپ کا پتہ نہیں ہوتا ایسوں پر شیطان کا غلبہ بہت زیادہ رہا کرتا ہے۔ جیسے حدیث میں ہے { زنا کی اولاد جنت میں نہیں جائے گی }۔ ۱؎ [مجمع الزوائد:275/6:موضوع] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { زنا کی اولاد تین برے لوگوں کی برائی کا مجموعہ ہے، اگر وہ بھی اپنے ماں باپ کے سے کام کرے }۔ ۱؎ [مسند احمد:6/109:ضعیف] ‏‏‏‏

پھر فرمایا ’ اس کی ان شرارتوں کی وجہ یہ ہے کہ یہ مالدار اور بیٹوں کا باپ بن گیا ہے ہماری اس نعمت کا گن گانا تو کہاں ہماری آیتوں کو جھٹلاتا ہے اور توہین کر کے کہتا پھرتا ہے کہ یہ تو پرانے افسانے ہیں ‘۔ اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «‏‏‏‏ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا وَجَعَلْتُ لَهُ مَالًا مَّمْدُودًا وَبَنِينَ شُهُودًا وَمَهَّدتُّ لَهُ تَمْهِيدًا ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ كَلَّا إِنَّهُ كَانَ لِآيَاتِنَا عَنِيدًا سَأُرْهِقُهُ صَعُودًا إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ثُمَّ نَظَرَ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ فَقَالَ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا سِحْرٌ يُؤْثَرُ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ سَأُصْلِيهِ سَقَرَ» ۱؎ [74-المدثر:26-11] ‏‏‏‏ ’ مجھے چھوڑ دے اور اسے جسے میں نے یکتا پیدا کیا ہے اور بہت سا مال دیا ہے اور حاضر باش لڑکے دیئے ہیں اور بھی بہت کشادگی دے رکھی ہے پھر بھی اس کی طمع ہے کہ میں اسے اور دوں ہرگز ایسا نہیں ہو سکتا یہ تو میری آیتوں کا مخالف ہے میں اسے عنقریب بدترین مصیبت میں ڈالوں گا اس نے غور و فکر کرکے اندازہ لگایا یہ تباہ ہو۔ کتنی بری تجویز اس نے سوچی میں پھر کہتا ہوں، یہ برباد ہو اس نے کیسی بری تجویز کی اس نے پھر نظر ڈالی اور ترش رو ہو کہ منہ بنا لیا، پھر منہ پھیر کر اینٹھنے لگا اور کہہ دیا کہ یہ کلام اللہ تو پرانا نقل کیا ہوا جادو ہے، صاف ظاہر ہے کہ یہ انسانی کلام ہے، اس کی اس بات پر میں بھی اسے «سَقَرَ» میں ڈالوں گا تجھے کیا معلوم کہ «سَقَرَ» کیا ہے نہ وہ باقی رکھے نہ چھوڑے بدن پر لپٹ جاتی ہے اس پر انیس فرشتے متعین ہیں ‘۔ اسی طرح یہاں بھی فرمایا کہ ’ اس کی ناک پر ہم داغ لگائیں گے ‘ یعنی اسے ہم اس قدر رسوا کریں گے کہ اس کی برائی کسی پر پوشیدہ نہ رہے ہر ایک اسے جان پہچان لے جیسے نشان دار ناک والے کو بیک نگاہ ہزاروں میں لوگ پہچان لیتے ہیں اور جو داغ چھپائے نہ چھپ سکے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بدر والے دن اس کی ناک پر تلوار لگے گی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ قیامت والے دن جہنم کی مہر لگے گی یعنی منہ کالا کر دیا جائے گا تو ناک سے مراد پورا چہرہ ہوا۔ امام ابو جعفر ابن جریر نے ان تمام اقوال کو وارد کر کے فرمایا ہے کہ ”ان سب میں تطبیق اس طرح ہو جاتی ہے کہ یہ کل امور اس میں جمع ہو جائیں یہ بھی ہو وہ بھی ہو، دنیا میں رسوا ہو سچ مچ ناک پر نشان لگے آخرت میں بھی نشاندار مجرم بنے“، فی الواقع یہ بہت درست ہے۔ ابن ابی حاتم میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { بندہ ہزارہا برس تک اللہ کے ہاں مومن لکھا رہتا ہے لیکن مرتا اس حالت میں ہے کہ اللہ اس پر ناراض ہوتا ہے اور بندہ اللہ کے ہاں کافر ہزارہا سال تک لکھا رہتا ہے پھر مرتے وقت اللہ اس سے خوش ہو جاتا ہے جو شخص عیب گوئی اور چغل خوری کی حالت میں مرے جو لوگوں کو بدنام کرنے والا ہو قیامت کے دن اس کی ناک پر دونوں ہونٹوں کی طرف سے نشان لگا دیا جائے جو اس مجرم کی علامت بن جائے گا }۔ ۱؎ [طبرانی اوسط:8801:ضعیف] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 12){ مَنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ اَثِيْمٍ:} ظلم کی دو قسمیں ہیں، پہلی قسم کسی کا حق جو آدمی کے ذمے ہو روک لینا، ادا نہ کرنا اور دوسری قسم کسی پر زیادتی کرنا۔ {” مَنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ “} میں پہلی قسم مبالغے کے ساتھ پائی جاتی ہے اور {” مُعْتَدٍ “} میں دوسری۔ {” اَثِيْمٍ “} کا ذکر اس کے ساتھ اس طرح ہے جس طرح {” وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ “} (اور گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو) میں ہے۔ (دیکھیے مائدہ: ۲)
عُتُلٍّۭ بَعۡدَ ذٰلِکَ زَنِیۡمٍ ﴿ۙ۱۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اَن سب عیوب کے ساتھ بد اصل ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
گردن کش پھر ساتھ ہی بے نسب ہو
احمد رضا خان بریلوی
درشت خُو اس سب پر طرہ یہ کہ اس کی اصل میں خطا
علامہ محمد حسین نجفی
سخت مزاج ہے اور ان (سب بری صفتوں) کے علاوہ وہ بداصل بھی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
سخت مزاج ہے، اس کے علاوہ بدنام ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زیادہ قسمیں کھانے والے زیادہ جھوٹ بولتے ہیں ٭٭

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! جو نعمتیں ہم نے تجھے دیں، جو صراط مستقیم اور خلق عظیم ہم نے تجھے عطا فرمایا اب تجھے چاہیئے کہ ہماری نہ ماننے والوں کی تو نہ مان، ان کی تو عین خوشی ہے کہ آپ ذرا بھی نرم پڑیں تو یہ کھل کر کھیلیں ‘۔ اور یہ بھی مطلب ہے کہ ’ یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودان باطل کی طرف کچھ تو رخ کریں حق سے ذرا سا تو ادھر ادھر ہو جائیں ‘۔ پھر فرماتا ہے ’ زیادہ قسمیں کھانے والے کمینے شخص کی بھی نہ مان ‘ - چونکہ جھوٹے شخصوں کو اپنی ذلت اور کذب بیانی کے ظاہر ہو جانے کا ڈر رہتا ہے، اس لیے وہ قسمیں کھا کھا کر دوسرے کو اپنا یقین دلانا چاہتا ہے لگاتار قسموں پر قسمیں کھائے چلا جاتا ہے اور اللہ کے ناموں کو بے موقعہ استعمال کرتا پھرتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مَّهِينٍ» سے مراد «کاذب» ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں ضعیف دل والا۔ حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں «حَلَّافٍ» مکابرہ کرنے والا اور «مَّهِينٍ» ضعیف، «هَمَّازٍ» غیب کرنے والا، چغل خور جو ادھر کی ادھر لگائے اور ادھر کی ادھر تاکہ فساد ہو جائے۔ طبیعتوں میں نفرت اور دل میں دشمنی آ جائے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے میں دو قبریں آ گئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں کو عذاب ہو رہا اور کسی بڑے امر پر نہیں ایک تو پیشاب کرنے میں پردے کا خیال نہ رکھتا تھا۔ دوسرا چغل خور تھا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:216] ‏‏‏‏ فرماتے ہیں ”چغل خور جنت میں نہ جائے گا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:6056] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث اس وقت سنائی تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ یہ شخص خفیہ پولیس کا آدمی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:389/5:صحیح] ‏‏‏‏

سب سے بہتر اور برتر شخص ٭٭

مسند احمد کی حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ تم میں سب سے بھلا شخص کون ہے؟“ لوگوں نے کہا ضرور ارشاد فرمایئے، فرمایا: ”وہ کہ جب انہیں دیکھا جائے اللہ یاد آ جائے اور سن لو سب سے بدتر شخص وہ ہے جو چغل خور ہو دوستوں میں فساد ڈلوانے والا ہو پاک صاف لوگوں کو تہمت لگانے والا ہو“ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4119،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ترمذی میں بھی یہ روایت ہے۔ پھر ان بد لوگوں کے ناپاک خصائل بیان ہو رہے ہیں کہ ’ بھلائیوں سے باز رہنے والا اور باز رکھنے والا ہے، حلال چیزوں اور حلال کاموں سے ہٹ کر حرام خوری اور حرام کاری کرتا ہے، گنہگار، بدکردار، محرمات کو استعمال کرنے والا، بدخو، بدگو، جمع کرنے والا اور نہ دینے والا ہے ‘۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتی لوگ گرے پڑے عاجز و ضعیف ہیں جو اللہ کے ہاں اس بلند مرتبہ پر ہیں کہ اگر وہ قسم کھا بیٹھیں تو اللہ پوری کر دے اور جہنمی لوگ سرکش متکبر اور خودبین ہوتے ہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4918] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { جمع کرنے والے اور نہ دینے والے بدگو اور سخت خلق }۔ ۱؎ [مسند احمد:169/2:صحیح] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا «عُتُلٍّ بَعْدَ ذَٰلِكَ زَنِيمٍ» ۱؎ [68-القلم:13] ‏‏‏‏ کون ہے؟ فرمایا: ”بدخلق خوب کھانے پینے والا لوگوں پر ظلم کرنے والا پیٹو آدمی“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:4/227:صحیح] ‏‏‏‏ لیکن اس روایت کو اکثر راویوں نے مرسل بیان کیا ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے { اس نالائق شخص پر آسمان روتا ہے جسے اللہ نے تندرستی دی، پیٹ بھر کھانے کو دیا، مال و جاہ بھی عطا فرمائی پھر بھی لوگوں پر ظلم و ستم کر رہا ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34603:مرسل] ‏‏‏‏ یہ حدیث بھی دو مرسل طریقوں سے مروی ہے۔ غرض «عُتُلٍّ» کہتے ہیں جس کا بدن صحیح ہو، طاقتور ہو اور خوب کھانے پینے والا زور دار شخص ہو۔ «زَنِيمٍ» سے مراد بدنام ہے جو برائی میں مشہور ہو، لغت عرب میں «زَنِيمٍ» اسے کہتے ہیں جو کسی قوم میں سمجھا جاتا ہو لیکن دراصل اس کا نہ ہو، عرب شاعروں نے اسے اسی معنی میں باندھا ہے یعنی جس کا نسب صحیح نہ ہو، کہا گیا ہے کہ مراد اس سے اخنس بن شریق ثقفی ہے جو بنو زہرہ کا حلیف تھا اور بعض کہتے ہیں یہ اسود بن عبد یغوث زہری ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ولد الزنا مراد ہے، یہ بھی بیان ہوا ہے کہ جس طرح ایک بکری جو تمام بکریوں میں سے الگ تھلگ اپنا چرا ہوا کان اپنی گردن پر لٹکائے ہوئے ہو بیک نگاہ پہچان لی جاتی ہے اسی طرح کافر مومنوں میں پہچان لیا جاتا ہے۔ اسی طرح کے اور بھی بہت سے اقوال ہیں لیکن خلاصہ سب کا صرف اسی قدر ہے کہ «زنیم» وہ شخص ہے جو برائی سے مشہور ہو اور عموماً ایسے لوگ ادھر ادھر سے ملے ہوئے ہوتے ہیں جن کے صحیح نسب کا اور حقیقی باپ کا پتہ نہیں ہوتا ایسوں پر شیطان کا غلبہ بہت زیادہ رہا کرتا ہے۔ جیسے حدیث میں ہے { زنا کی اولاد جنت میں نہیں جائے گی }۔ ۱؎ [مجمع الزوائد:275/6:موضوع] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { زنا کی اولاد تین برے لوگوں کی برائی کا مجموعہ ہے، اگر وہ بھی اپنے ماں باپ کے سے کام کرے }۔ ۱؎ [مسند احمد:6/109:ضعیف] ‏‏‏‏

پھر فرمایا ’ اس کی ان شرارتوں کی وجہ یہ ہے کہ یہ مالدار اور بیٹوں کا باپ بن گیا ہے ہماری اس نعمت کا گن گانا تو کہاں ہماری آیتوں کو جھٹلاتا ہے اور توہین کر کے کہتا پھرتا ہے کہ یہ تو پرانے افسانے ہیں ‘۔ اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «‏‏‏‏ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا وَجَعَلْتُ لَهُ مَالًا مَّمْدُودًا وَبَنِينَ شُهُودًا وَمَهَّدتُّ لَهُ تَمْهِيدًا ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ كَلَّا إِنَّهُ كَانَ لِآيَاتِنَا عَنِيدًا سَأُرْهِقُهُ صَعُودًا إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ثُمَّ نَظَرَ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ فَقَالَ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا سِحْرٌ يُؤْثَرُ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ سَأُصْلِيهِ سَقَرَ» ۱؎ [74-المدثر:26-11] ‏‏‏‏ ’ مجھے چھوڑ دے اور اسے جسے میں نے یکتا پیدا کیا ہے اور بہت سا مال دیا ہے اور حاضر باش لڑکے دیئے ہیں اور بھی بہت کشادگی دے رکھی ہے پھر بھی اس کی طمع ہے کہ میں اسے اور دوں ہرگز ایسا نہیں ہو سکتا یہ تو میری آیتوں کا مخالف ہے میں اسے عنقریب بدترین مصیبت میں ڈالوں گا اس نے غور و فکر کرکے اندازہ لگایا یہ تباہ ہو۔ کتنی بری تجویز اس نے سوچی میں پھر کہتا ہوں، یہ برباد ہو اس نے کیسی بری تجویز کی اس نے پھر نظر ڈالی اور ترش رو ہو کہ منہ بنا لیا، پھر منہ پھیر کر اینٹھنے لگا اور کہہ دیا کہ یہ کلام اللہ تو پرانا نقل کیا ہوا جادو ہے، صاف ظاہر ہے کہ یہ انسانی کلام ہے، اس کی اس بات پر میں بھی اسے «سَقَرَ» میں ڈالوں گا تجھے کیا معلوم کہ «سَقَرَ» کیا ہے نہ وہ باقی رکھے نہ چھوڑے بدن پر لپٹ جاتی ہے اس پر انیس فرشتے متعین ہیں ‘۔ اسی طرح یہاں بھی فرمایا کہ ’ اس کی ناک پر ہم داغ لگائیں گے ‘ یعنی اسے ہم اس قدر رسوا کریں گے کہ اس کی برائی کسی پر پوشیدہ نہ رہے ہر ایک اسے جان پہچان لے جیسے نشان دار ناک والے کو بیک نگاہ ہزاروں میں لوگ پہچان لیتے ہیں اور جو داغ چھپائے نہ چھپ سکے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بدر والے دن اس کی ناک پر تلوار لگے گی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ قیامت والے دن جہنم کی مہر لگے گی یعنی منہ کالا کر دیا جائے گا تو ناک سے مراد پورا چہرہ ہوا۔ امام ابو جعفر ابن جریر نے ان تمام اقوال کو وارد کر کے فرمایا ہے کہ ”ان سب میں تطبیق اس طرح ہو جاتی ہے کہ یہ کل امور اس میں جمع ہو جائیں یہ بھی ہو وہ بھی ہو، دنیا میں رسوا ہو سچ مچ ناک پر نشان لگے آخرت میں بھی نشاندار مجرم بنے“، فی الواقع یہ بہت درست ہے۔ ابن ابی حاتم میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { بندہ ہزارہا برس تک اللہ کے ہاں مومن لکھا رہتا ہے لیکن مرتا اس حالت میں ہے کہ اللہ اس پر ناراض ہوتا ہے اور بندہ اللہ کے ہاں کافر ہزارہا سال تک لکھا رہتا ہے پھر مرتے وقت اللہ اس سے خوش ہو جاتا ہے جو شخص عیب گوئی اور چغل خوری کی حالت میں مرے جو لوگوں کو بدنام کرنے والا ہو قیامت کے دن اس کی ناک پر دونوں ہونٹوں کی طرف سے نشان لگا دیا جائے جو اس مجرم کی علامت بن جائے گا }۔ ۱؎ [طبرانی اوسط:8801:ضعیف] ‏‏‏‏
13۔ 1 یہ ان کافروں کی اخلاقی پستیوں کا ذکر ہے جن کی خاطر پیغمبر کو خوش آمد کرنے سے روکا جا رہا ہے۔
(آیت 13){ عُتُلٍّ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِيْمٍ:عُتُلٍّ“ ”عَتَلَ يَعْتُلُ“} (ن،ض) سختی سے گھسیٹنا، جیسے فرمایا: «‏‏‏‏خُذُوْهُ فَاعْتِلُوْهُ اِلٰى سَوَآءِ الْجَحِيْمِ» [ الدخان: ۴۸ ] ”اسے پکڑو، پھر سختی سے کھینچتے ہوئے اسے بھڑکتی آگ کے درمیان تک لے جاؤ۔“ {” عُتُلٍّ “} موٹے جسم، موٹے دماغ اور سخت مزاج والا۔ {” زَنِيْمٍ “} کے دو معنی ہیں، ایک یہ کہ جو کسی قوم سے نہ ہو مگر اس میں سے ہونے کا دعویٰ کرے اور دوسرا معنی لئیم، جو کمینگی اور شرارت میں مشہور ہو۔ ”بدنام“ کے لفظ میں دونوں مفہوم ادا ہو رہے ہیں۔
اَنۡ کَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیۡنَ ﴿ؕ۱۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِس بنا پر کہ وہ بہت مال و اولاد رکھتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس کی سرکشی صرف اس لیے ہے کہ وه مال واﻻ اور بیٹوں واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اس پر کہ کچھ مال اور بیٹے رکھتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ سب کچھ اس بناء پر ہے کہ وہ مالدار اور اولاد والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس لیے کہ وہ مال اور بیٹوں والا رہا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زیادہ قسمیں کھانے والے زیادہ جھوٹ بولتے ہیں ٭٭

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! جو نعمتیں ہم نے تجھے دیں، جو صراط مستقیم اور خلق عظیم ہم نے تجھے عطا فرمایا اب تجھے چاہیئے کہ ہماری نہ ماننے والوں کی تو نہ مان، ان کی تو عین خوشی ہے کہ آپ ذرا بھی نرم پڑیں تو یہ کھل کر کھیلیں ‘۔ اور یہ بھی مطلب ہے کہ ’ یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودان باطل کی طرف کچھ تو رخ کریں حق سے ذرا سا تو ادھر ادھر ہو جائیں ‘۔ پھر فرماتا ہے ’ زیادہ قسمیں کھانے والے کمینے شخص کی بھی نہ مان ‘ - چونکہ جھوٹے شخصوں کو اپنی ذلت اور کذب بیانی کے ظاہر ہو جانے کا ڈر رہتا ہے، اس لیے وہ قسمیں کھا کھا کر دوسرے کو اپنا یقین دلانا چاہتا ہے لگاتار قسموں پر قسمیں کھائے چلا جاتا ہے اور اللہ کے ناموں کو بے موقعہ استعمال کرتا پھرتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مَّهِينٍ» سے مراد «کاذب» ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں ضعیف دل والا۔ حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں «حَلَّافٍ» مکابرہ کرنے والا اور «مَّهِينٍ» ضعیف، «هَمَّازٍ» غیب کرنے والا، چغل خور جو ادھر کی ادھر لگائے اور ادھر کی ادھر تاکہ فساد ہو جائے۔ طبیعتوں میں نفرت اور دل میں دشمنی آ جائے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے میں دو قبریں آ گئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں کو عذاب ہو رہا اور کسی بڑے امر پر نہیں ایک تو پیشاب کرنے میں پردے کا خیال نہ رکھتا تھا۔ دوسرا چغل خور تھا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:216] ‏‏‏‏ فرماتے ہیں ”چغل خور جنت میں نہ جائے گا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:6056] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث اس وقت سنائی تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ یہ شخص خفیہ پولیس کا آدمی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:389/5:صحیح] ‏‏‏‏

سب سے بہتر اور برتر شخص ٭٭

مسند احمد کی حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ تم میں سب سے بھلا شخص کون ہے؟“ لوگوں نے کہا ضرور ارشاد فرمایئے، فرمایا: ”وہ کہ جب انہیں دیکھا جائے اللہ یاد آ جائے اور سن لو سب سے بدتر شخص وہ ہے جو چغل خور ہو دوستوں میں فساد ڈلوانے والا ہو پاک صاف لوگوں کو تہمت لگانے والا ہو“ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4119،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ترمذی میں بھی یہ روایت ہے۔ پھر ان بد لوگوں کے ناپاک خصائل بیان ہو رہے ہیں کہ ’ بھلائیوں سے باز رہنے والا اور باز رکھنے والا ہے، حلال چیزوں اور حلال کاموں سے ہٹ کر حرام خوری اور حرام کاری کرتا ہے، گنہگار، بدکردار، محرمات کو استعمال کرنے والا، بدخو، بدگو، جمع کرنے والا اور نہ دینے والا ہے ‘۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتی لوگ گرے پڑے عاجز و ضعیف ہیں جو اللہ کے ہاں اس بلند مرتبہ پر ہیں کہ اگر وہ قسم کھا بیٹھیں تو اللہ پوری کر دے اور جہنمی لوگ سرکش متکبر اور خودبین ہوتے ہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4918] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { جمع کرنے والے اور نہ دینے والے بدگو اور سخت خلق }۔ ۱؎ [مسند احمد:169/2:صحیح] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا «عُتُلٍّ بَعْدَ ذَٰلِكَ زَنِيمٍ» ۱؎ [68-القلم:13] ‏‏‏‏ کون ہے؟ فرمایا: ”بدخلق خوب کھانے پینے والا لوگوں پر ظلم کرنے والا پیٹو آدمی“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:4/227:صحیح] ‏‏‏‏ لیکن اس روایت کو اکثر راویوں نے مرسل بیان کیا ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے { اس نالائق شخص پر آسمان روتا ہے جسے اللہ نے تندرستی دی، پیٹ بھر کھانے کو دیا، مال و جاہ بھی عطا فرمائی پھر بھی لوگوں پر ظلم و ستم کر رہا ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34603:مرسل] ‏‏‏‏ یہ حدیث بھی دو مرسل طریقوں سے مروی ہے۔ غرض «عُتُلٍّ» کہتے ہیں جس کا بدن صحیح ہو، طاقتور ہو اور خوب کھانے پینے والا زور دار شخص ہو۔ «زَنِيمٍ» سے مراد بدنام ہے جو برائی میں مشہور ہو، لغت عرب میں «زَنِيمٍ» اسے کہتے ہیں جو کسی قوم میں سمجھا جاتا ہو لیکن دراصل اس کا نہ ہو، عرب شاعروں نے اسے اسی معنی میں باندھا ہے یعنی جس کا نسب صحیح نہ ہو، کہا گیا ہے کہ مراد اس سے اخنس بن شریق ثقفی ہے جو بنو زہرہ کا حلیف تھا اور بعض کہتے ہیں یہ اسود بن عبد یغوث زہری ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ولد الزنا مراد ہے، یہ بھی بیان ہوا ہے کہ جس طرح ایک بکری جو تمام بکریوں میں سے الگ تھلگ اپنا چرا ہوا کان اپنی گردن پر لٹکائے ہوئے ہو بیک نگاہ پہچان لی جاتی ہے اسی طرح کافر مومنوں میں پہچان لیا جاتا ہے۔ اسی طرح کے اور بھی بہت سے اقوال ہیں لیکن خلاصہ سب کا صرف اسی قدر ہے کہ «زنیم» وہ شخص ہے جو برائی سے مشہور ہو اور عموماً ایسے لوگ ادھر ادھر سے ملے ہوئے ہوتے ہیں جن کے صحیح نسب کا اور حقیقی باپ کا پتہ نہیں ہوتا ایسوں پر شیطان کا غلبہ بہت زیادہ رہا کرتا ہے۔ جیسے حدیث میں ہے { زنا کی اولاد جنت میں نہیں جائے گی }۔ ۱؎ [مجمع الزوائد:275/6:موضوع] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { زنا کی اولاد تین برے لوگوں کی برائی کا مجموعہ ہے، اگر وہ بھی اپنے ماں باپ کے سے کام کرے }۔ ۱؎ [مسند احمد:6/109:ضعیف] ‏‏‏‏

پھر فرمایا ’ اس کی ان شرارتوں کی وجہ یہ ہے کہ یہ مالدار اور بیٹوں کا باپ بن گیا ہے ہماری اس نعمت کا گن گانا تو کہاں ہماری آیتوں کو جھٹلاتا ہے اور توہین کر کے کہتا پھرتا ہے کہ یہ تو پرانے افسانے ہیں ‘۔ اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «‏‏‏‏ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا وَجَعَلْتُ لَهُ مَالًا مَّمْدُودًا وَبَنِينَ شُهُودًا وَمَهَّدتُّ لَهُ تَمْهِيدًا ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ كَلَّا إِنَّهُ كَانَ لِآيَاتِنَا عَنِيدًا سَأُرْهِقُهُ صَعُودًا إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ثُمَّ نَظَرَ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ فَقَالَ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا سِحْرٌ يُؤْثَرُ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ سَأُصْلِيهِ سَقَرَ» ۱؎ [74-المدثر:26-11] ‏‏‏‏ ’ مجھے چھوڑ دے اور اسے جسے میں نے یکتا پیدا کیا ہے اور بہت سا مال دیا ہے اور حاضر باش لڑکے دیئے ہیں اور بھی بہت کشادگی دے رکھی ہے پھر بھی اس کی طمع ہے کہ میں اسے اور دوں ہرگز ایسا نہیں ہو سکتا یہ تو میری آیتوں کا مخالف ہے میں اسے عنقریب بدترین مصیبت میں ڈالوں گا اس نے غور و فکر کرکے اندازہ لگایا یہ تباہ ہو۔ کتنی بری تجویز اس نے سوچی میں پھر کہتا ہوں، یہ برباد ہو اس نے کیسی بری تجویز کی اس نے پھر نظر ڈالی اور ترش رو ہو کہ منہ بنا لیا، پھر منہ پھیر کر اینٹھنے لگا اور کہہ دیا کہ یہ کلام اللہ تو پرانا نقل کیا ہوا جادو ہے، صاف ظاہر ہے کہ یہ انسانی کلام ہے، اس کی اس بات پر میں بھی اسے «سَقَرَ» میں ڈالوں گا تجھے کیا معلوم کہ «سَقَرَ» کیا ہے نہ وہ باقی رکھے نہ چھوڑے بدن پر لپٹ جاتی ہے اس پر انیس فرشتے متعین ہیں ‘۔ اسی طرح یہاں بھی فرمایا کہ ’ اس کی ناک پر ہم داغ لگائیں گے ‘ یعنی اسے ہم اس قدر رسوا کریں گے کہ اس کی برائی کسی پر پوشیدہ نہ رہے ہر ایک اسے جان پہچان لے جیسے نشان دار ناک والے کو بیک نگاہ ہزاروں میں لوگ پہچان لیتے ہیں اور جو داغ چھپائے نہ چھپ سکے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بدر والے دن اس کی ناک پر تلوار لگے گی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ قیامت والے دن جہنم کی مہر لگے گی یعنی منہ کالا کر دیا جائے گا تو ناک سے مراد پورا چہرہ ہوا۔ امام ابو جعفر ابن جریر نے ان تمام اقوال کو وارد کر کے فرمایا ہے کہ ”ان سب میں تطبیق اس طرح ہو جاتی ہے کہ یہ کل امور اس میں جمع ہو جائیں یہ بھی ہو وہ بھی ہو، دنیا میں رسوا ہو سچ مچ ناک پر نشان لگے آخرت میں بھی نشاندار مجرم بنے“، فی الواقع یہ بہت درست ہے۔ ابن ابی حاتم میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { بندہ ہزارہا برس تک اللہ کے ہاں مومن لکھا رہتا ہے لیکن مرتا اس حالت میں ہے کہ اللہ اس پر ناراض ہوتا ہے اور بندہ اللہ کے ہاں کافر ہزارہا سال تک لکھا رہتا ہے پھر مرتے وقت اللہ اس سے خوش ہو جاتا ہے جو شخص عیب گوئی اور چغل خوری کی حالت میں مرے جو لوگوں کو بدنام کرنے والا ہو قیامت کے دن اس کی ناک پر دونوں ہونٹوں کی طرف سے نشان لگا دیا جائے جو اس مجرم کی علامت بن جائے گا }۔ ۱؎ [طبرانی اوسط:8801:ضعیف] ‏‏‏‏
14۔ 1 یعنی مذکورہ اخلاقی قباحتوں کا ارتکاب اس لئے کرتا ہے کہ اللہ نے اسے مال اور اولاد کی نعمتوں سے نوازا ہے یعنی وہ شکر کی بجائے کفران نعمت کرتا ہے، یعنی جس شخص کے اندر یہ خرابیاں ہوں، اس کی بات صرف اس لئے مان لی جائے کہ وہ مال اور اولاد رکھتا ہے۔
(آیت 14) {اَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِيْنَ:اَنْ كَانَ “} سے پہلے لام محذوف ہے، یعنی {”لِأَنْ كَانَ“} یہ {” لَا تُطِعْ “} کے متعلق ہے، یعنی محض اس لیے آپ اس کا کہنا نہ مانیں کہ وہ مال اور بیٹوں والا ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ وہ ہماری آیات کو پہلے لوگوں کی کہانیاں کہہ کر محض اس لیے جھٹلاتا ہے کہ وہ مال اور بیٹوں والا ہے، اگر ہم اسے مال اور بیٹے عطا نہ کرتے تو ایسا تکبر اور ایسی سرکشی اختیار نہ کرتا۔ اس صورت میں یہ بعد والی آیت سے متعلق ہے۔
اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیۡرُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۱۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جب ہماری آیات اُس کو سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلے وقتوں کے افسانے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہہ دیتا ہے کہ یہ تو اگلوں کے قصے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
جب اس پر ہماری آیتیں پڑھی جائیں کہتا ہے کہ اگلوں کی کہانیاں ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
جب اس کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ کہتا ہے کہ یہ تو اگلے لوگوں کے افسانے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
جب اس پر ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں تو کہتا ہے پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زیادہ قسمیں کھانے والے زیادہ جھوٹ بولتے ہیں ٭٭

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! جو نعمتیں ہم نے تجھے دیں، جو صراط مستقیم اور خلق عظیم ہم نے تجھے عطا فرمایا اب تجھے چاہیئے کہ ہماری نہ ماننے والوں کی تو نہ مان، ان کی تو عین خوشی ہے کہ آپ ذرا بھی نرم پڑیں تو یہ کھل کر کھیلیں ‘۔ اور یہ بھی مطلب ہے کہ ’ یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودان باطل کی طرف کچھ تو رخ کریں حق سے ذرا سا تو ادھر ادھر ہو جائیں ‘۔ پھر فرماتا ہے ’ زیادہ قسمیں کھانے والے کمینے شخص کی بھی نہ مان ‘ - چونکہ جھوٹے شخصوں کو اپنی ذلت اور کذب بیانی کے ظاہر ہو جانے کا ڈر رہتا ہے، اس لیے وہ قسمیں کھا کھا کر دوسرے کو اپنا یقین دلانا چاہتا ہے لگاتار قسموں پر قسمیں کھائے چلا جاتا ہے اور اللہ کے ناموں کو بے موقعہ استعمال کرتا پھرتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مَّهِينٍ» سے مراد «کاذب» ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں ضعیف دل والا۔ حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں «حَلَّافٍ» مکابرہ کرنے والا اور «مَّهِينٍ» ضعیف، «هَمَّازٍ» غیب کرنے والا، چغل خور جو ادھر کی ادھر لگائے اور ادھر کی ادھر تاکہ فساد ہو جائے۔ طبیعتوں میں نفرت اور دل میں دشمنی آ جائے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے میں دو قبریں آ گئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں کو عذاب ہو رہا اور کسی بڑے امر پر نہیں ایک تو پیشاب کرنے میں پردے کا خیال نہ رکھتا تھا۔ دوسرا چغل خور تھا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:216] ‏‏‏‏ فرماتے ہیں ”چغل خور جنت میں نہ جائے گا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:6056] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث اس وقت سنائی تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ یہ شخص خفیہ پولیس کا آدمی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:389/5:صحیح] ‏‏‏‏

سب سے بہتر اور برتر شخص ٭٭

مسند احمد کی حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ تم میں سب سے بھلا شخص کون ہے؟“ لوگوں نے کہا ضرور ارشاد فرمایئے، فرمایا: ”وہ کہ جب انہیں دیکھا جائے اللہ یاد آ جائے اور سن لو سب سے بدتر شخص وہ ہے جو چغل خور ہو دوستوں میں فساد ڈلوانے والا ہو پاک صاف لوگوں کو تہمت لگانے والا ہو“ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4119،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ترمذی میں بھی یہ روایت ہے۔ پھر ان بد لوگوں کے ناپاک خصائل بیان ہو رہے ہیں کہ ’ بھلائیوں سے باز رہنے والا اور باز رکھنے والا ہے، حلال چیزوں اور حلال کاموں سے ہٹ کر حرام خوری اور حرام کاری کرتا ہے، گنہگار، بدکردار، محرمات کو استعمال کرنے والا، بدخو، بدگو، جمع کرنے والا اور نہ دینے والا ہے ‘۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتی لوگ گرے پڑے عاجز و ضعیف ہیں جو اللہ کے ہاں اس بلند مرتبہ پر ہیں کہ اگر وہ قسم کھا بیٹھیں تو اللہ پوری کر دے اور جہنمی لوگ سرکش متکبر اور خودبین ہوتے ہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4918] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { جمع کرنے والے اور نہ دینے والے بدگو اور سخت خلق }۔ ۱؎ [مسند احمد:169/2:صحیح] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا «عُتُلٍّ بَعْدَ ذَٰلِكَ زَنِيمٍ» ۱؎ [68-القلم:13] ‏‏‏‏ کون ہے؟ فرمایا: ”بدخلق خوب کھانے پینے والا لوگوں پر ظلم کرنے والا پیٹو آدمی“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:4/227:صحیح] ‏‏‏‏ لیکن اس روایت کو اکثر راویوں نے مرسل بیان کیا ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے { اس نالائق شخص پر آسمان روتا ہے جسے اللہ نے تندرستی دی، پیٹ بھر کھانے کو دیا، مال و جاہ بھی عطا فرمائی پھر بھی لوگوں پر ظلم و ستم کر رہا ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34603:مرسل] ‏‏‏‏ یہ حدیث بھی دو مرسل طریقوں سے مروی ہے۔ غرض «عُتُلٍّ» کہتے ہیں جس کا بدن صحیح ہو، طاقتور ہو اور خوب کھانے پینے والا زور دار شخص ہو۔ «زَنِيمٍ» سے مراد بدنام ہے جو برائی میں مشہور ہو، لغت عرب میں «زَنِيمٍ» اسے کہتے ہیں جو کسی قوم میں سمجھا جاتا ہو لیکن دراصل اس کا نہ ہو، عرب شاعروں نے اسے اسی معنی میں باندھا ہے یعنی جس کا نسب صحیح نہ ہو، کہا گیا ہے کہ مراد اس سے اخنس بن شریق ثقفی ہے جو بنو زہرہ کا حلیف تھا اور بعض کہتے ہیں یہ اسود بن عبد یغوث زہری ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ولد الزنا مراد ہے، یہ بھی بیان ہوا ہے کہ جس طرح ایک بکری جو تمام بکریوں میں سے الگ تھلگ اپنا چرا ہوا کان اپنی گردن پر لٹکائے ہوئے ہو بیک نگاہ پہچان لی جاتی ہے اسی طرح کافر مومنوں میں پہچان لیا جاتا ہے۔ اسی طرح کے اور بھی بہت سے اقوال ہیں لیکن خلاصہ سب کا صرف اسی قدر ہے کہ «زنیم» وہ شخص ہے جو برائی سے مشہور ہو اور عموماً ایسے لوگ ادھر ادھر سے ملے ہوئے ہوتے ہیں جن کے صحیح نسب کا اور حقیقی باپ کا پتہ نہیں ہوتا ایسوں پر شیطان کا غلبہ بہت زیادہ رہا کرتا ہے۔ جیسے حدیث میں ہے { زنا کی اولاد جنت میں نہیں جائے گی }۔ ۱؎ [مجمع الزوائد:275/6:موضوع] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { زنا کی اولاد تین برے لوگوں کی برائی کا مجموعہ ہے، اگر وہ بھی اپنے ماں باپ کے سے کام کرے }۔ ۱؎ [مسند احمد:6/109:ضعیف] ‏‏‏‏

پھر فرمایا ’ اس کی ان شرارتوں کی وجہ یہ ہے کہ یہ مالدار اور بیٹوں کا باپ بن گیا ہے ہماری اس نعمت کا گن گانا تو کہاں ہماری آیتوں کو جھٹلاتا ہے اور توہین کر کے کہتا پھرتا ہے کہ یہ تو پرانے افسانے ہیں ‘۔ اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «‏‏‏‏ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا وَجَعَلْتُ لَهُ مَالًا مَّمْدُودًا وَبَنِينَ شُهُودًا وَمَهَّدتُّ لَهُ تَمْهِيدًا ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ كَلَّا إِنَّهُ كَانَ لِآيَاتِنَا عَنِيدًا سَأُرْهِقُهُ صَعُودًا إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ثُمَّ نَظَرَ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ فَقَالَ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا سِحْرٌ يُؤْثَرُ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ سَأُصْلِيهِ سَقَرَ» ۱؎ [74-المدثر:26-11] ‏‏‏‏ ’ مجھے چھوڑ دے اور اسے جسے میں نے یکتا پیدا کیا ہے اور بہت سا مال دیا ہے اور حاضر باش لڑکے دیئے ہیں اور بھی بہت کشادگی دے رکھی ہے پھر بھی اس کی طمع ہے کہ میں اسے اور دوں ہرگز ایسا نہیں ہو سکتا یہ تو میری آیتوں کا مخالف ہے میں اسے عنقریب بدترین مصیبت میں ڈالوں گا اس نے غور و فکر کرکے اندازہ لگایا یہ تباہ ہو۔ کتنی بری تجویز اس نے سوچی میں پھر کہتا ہوں، یہ برباد ہو اس نے کیسی بری تجویز کی اس نے پھر نظر ڈالی اور ترش رو ہو کہ منہ بنا لیا، پھر منہ پھیر کر اینٹھنے لگا اور کہہ دیا کہ یہ کلام اللہ تو پرانا نقل کیا ہوا جادو ہے، صاف ظاہر ہے کہ یہ انسانی کلام ہے، اس کی اس بات پر میں بھی اسے «سَقَرَ» میں ڈالوں گا تجھے کیا معلوم کہ «سَقَرَ» کیا ہے نہ وہ باقی رکھے نہ چھوڑے بدن پر لپٹ جاتی ہے اس پر انیس فرشتے متعین ہیں ‘۔ اسی طرح یہاں بھی فرمایا کہ ’ اس کی ناک پر ہم داغ لگائیں گے ‘ یعنی اسے ہم اس قدر رسوا کریں گے کہ اس کی برائی کسی پر پوشیدہ نہ رہے ہر ایک اسے جان پہچان لے جیسے نشان دار ناک والے کو بیک نگاہ ہزاروں میں لوگ پہچان لیتے ہیں اور جو داغ چھپائے نہ چھپ سکے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بدر والے دن اس کی ناک پر تلوار لگے گی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ قیامت والے دن جہنم کی مہر لگے گی یعنی منہ کالا کر دیا جائے گا تو ناک سے مراد پورا چہرہ ہوا۔ امام ابو جعفر ابن جریر نے ان تمام اقوال کو وارد کر کے فرمایا ہے کہ ”ان سب میں تطبیق اس طرح ہو جاتی ہے کہ یہ کل امور اس میں جمع ہو جائیں یہ بھی ہو وہ بھی ہو، دنیا میں رسوا ہو سچ مچ ناک پر نشان لگے آخرت میں بھی نشاندار مجرم بنے“، فی الواقع یہ بہت درست ہے۔ ابن ابی حاتم میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { بندہ ہزارہا برس تک اللہ کے ہاں مومن لکھا رہتا ہے لیکن مرتا اس حالت میں ہے کہ اللہ اس پر ناراض ہوتا ہے اور بندہ اللہ کے ہاں کافر ہزارہا سال تک لکھا رہتا ہے پھر مرتے وقت اللہ اس سے خوش ہو جاتا ہے جو شخص عیب گوئی اور چغل خوری کی حالت میں مرے جو لوگوں کو بدنام کرنے والا ہو قیامت کے دن اس کی ناک پر دونوں ہونٹوں کی طرف سے نشان لگا دیا جائے جو اس مجرم کی علامت بن جائے گا }۔ ۱؎ [طبرانی اوسط:8801:ضعیف] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
سَنَسِمُہٗ عَلَی الۡخُرۡطُوۡمِ ﴿۱۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
عنقریب ہم اس کی سونڈ پر داغ لگائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم بھی اس کی سونڈ (ناک) پر داغ دیں گے
احمد رضا خان بریلوی
قریب ہے کہ ہم اس کی سور کی سی تھوتھنی پر داغ دیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
ہم عنقریب اس کی سونڈ (نا ک) پر داغ لگائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
جلد ہی ہم اسے تھوتھنی پر داغ لگائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زیادہ قسمیں کھانے والے زیادہ جھوٹ بولتے ہیں ٭٭

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! جو نعمتیں ہم نے تجھے دیں، جو صراط مستقیم اور خلق عظیم ہم نے تجھے عطا فرمایا اب تجھے چاہیئے کہ ہماری نہ ماننے والوں کی تو نہ مان، ان کی تو عین خوشی ہے کہ آپ ذرا بھی نرم پڑیں تو یہ کھل کر کھیلیں ‘۔ اور یہ بھی مطلب ہے کہ ’ یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودان باطل کی طرف کچھ تو رخ کریں حق سے ذرا سا تو ادھر ادھر ہو جائیں ‘۔ پھر فرماتا ہے ’ زیادہ قسمیں کھانے والے کمینے شخص کی بھی نہ مان ‘ - چونکہ جھوٹے شخصوں کو اپنی ذلت اور کذب بیانی کے ظاہر ہو جانے کا ڈر رہتا ہے، اس لیے وہ قسمیں کھا کھا کر دوسرے کو اپنا یقین دلانا چاہتا ہے لگاتار قسموں پر قسمیں کھائے چلا جاتا ہے اور اللہ کے ناموں کو بے موقعہ استعمال کرتا پھرتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مَّهِينٍ» سے مراد «کاذب» ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں ضعیف دل والا۔ حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں «حَلَّافٍ» مکابرہ کرنے والا اور «مَّهِينٍ» ضعیف، «هَمَّازٍ» غیب کرنے والا، چغل خور جو ادھر کی ادھر لگائے اور ادھر کی ادھر تاکہ فساد ہو جائے۔ طبیعتوں میں نفرت اور دل میں دشمنی آ جائے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے میں دو قبریں آ گئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں کو عذاب ہو رہا اور کسی بڑے امر پر نہیں ایک تو پیشاب کرنے میں پردے کا خیال نہ رکھتا تھا۔ دوسرا چغل خور تھا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:216] ‏‏‏‏ فرماتے ہیں ”چغل خور جنت میں نہ جائے گا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:6056] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث اس وقت سنائی تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ یہ شخص خفیہ پولیس کا آدمی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:389/5:صحیح] ‏‏‏‏

سب سے بہتر اور برتر شخص ٭٭

مسند احمد کی حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ تم میں سب سے بھلا شخص کون ہے؟“ لوگوں نے کہا ضرور ارشاد فرمایئے، فرمایا: ”وہ کہ جب انہیں دیکھا جائے اللہ یاد آ جائے اور سن لو سب سے بدتر شخص وہ ہے جو چغل خور ہو دوستوں میں فساد ڈلوانے والا ہو پاک صاف لوگوں کو تہمت لگانے والا ہو“ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4119،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ترمذی میں بھی یہ روایت ہے۔ پھر ان بد لوگوں کے ناپاک خصائل بیان ہو رہے ہیں کہ ’ بھلائیوں سے باز رہنے والا اور باز رکھنے والا ہے، حلال چیزوں اور حلال کاموں سے ہٹ کر حرام خوری اور حرام کاری کرتا ہے، گنہگار، بدکردار، محرمات کو استعمال کرنے والا، بدخو، بدگو، جمع کرنے والا اور نہ دینے والا ہے ‘۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتی لوگ گرے پڑے عاجز و ضعیف ہیں جو اللہ کے ہاں اس بلند مرتبہ پر ہیں کہ اگر وہ قسم کھا بیٹھیں تو اللہ پوری کر دے اور جہنمی لوگ سرکش متکبر اور خودبین ہوتے ہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4918] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { جمع کرنے والے اور نہ دینے والے بدگو اور سخت خلق }۔ ۱؎ [مسند احمد:169/2:صحیح] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا «عُتُلٍّ بَعْدَ ذَٰلِكَ زَنِيمٍ» ۱؎ [68-القلم:13] ‏‏‏‏ کون ہے؟ فرمایا: ”بدخلق خوب کھانے پینے والا لوگوں پر ظلم کرنے والا پیٹو آدمی“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:4/227:صحیح] ‏‏‏‏ لیکن اس روایت کو اکثر راویوں نے مرسل بیان کیا ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے { اس نالائق شخص پر آسمان روتا ہے جسے اللہ نے تندرستی دی، پیٹ بھر کھانے کو دیا، مال و جاہ بھی عطا فرمائی پھر بھی لوگوں پر ظلم و ستم کر رہا ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34603:مرسل] ‏‏‏‏ یہ حدیث بھی دو مرسل طریقوں سے مروی ہے۔ غرض «عُتُلٍّ» کہتے ہیں جس کا بدن صحیح ہو، طاقتور ہو اور خوب کھانے پینے والا زور دار شخص ہو۔ «زَنِيمٍ» سے مراد بدنام ہے جو برائی میں مشہور ہو، لغت عرب میں «زَنِيمٍ» اسے کہتے ہیں جو کسی قوم میں سمجھا جاتا ہو لیکن دراصل اس کا نہ ہو، عرب شاعروں نے اسے اسی معنی میں باندھا ہے یعنی جس کا نسب صحیح نہ ہو، کہا گیا ہے کہ مراد اس سے اخنس بن شریق ثقفی ہے جو بنو زہرہ کا حلیف تھا اور بعض کہتے ہیں یہ اسود بن عبد یغوث زہری ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ولد الزنا مراد ہے، یہ بھی بیان ہوا ہے کہ جس طرح ایک بکری جو تمام بکریوں میں سے الگ تھلگ اپنا چرا ہوا کان اپنی گردن پر لٹکائے ہوئے ہو بیک نگاہ پہچان لی جاتی ہے اسی طرح کافر مومنوں میں پہچان لیا جاتا ہے۔ اسی طرح کے اور بھی بہت سے اقوال ہیں لیکن خلاصہ سب کا صرف اسی قدر ہے کہ «زنیم» وہ شخص ہے جو برائی سے مشہور ہو اور عموماً ایسے لوگ ادھر ادھر سے ملے ہوئے ہوتے ہیں جن کے صحیح نسب کا اور حقیقی باپ کا پتہ نہیں ہوتا ایسوں پر شیطان کا غلبہ بہت زیادہ رہا کرتا ہے۔ جیسے حدیث میں ہے { زنا کی اولاد جنت میں نہیں جائے گی }۔ ۱؎ [مجمع الزوائد:275/6:موضوع] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { زنا کی اولاد تین برے لوگوں کی برائی کا مجموعہ ہے، اگر وہ بھی اپنے ماں باپ کے سے کام کرے }۔ ۱؎ [مسند احمد:6/109:ضعیف] ‏‏‏‏

پھر فرمایا ’ اس کی ان شرارتوں کی وجہ یہ ہے کہ یہ مالدار اور بیٹوں کا باپ بن گیا ہے ہماری اس نعمت کا گن گانا تو کہاں ہماری آیتوں کو جھٹلاتا ہے اور توہین کر کے کہتا پھرتا ہے کہ یہ تو پرانے افسانے ہیں ‘۔ اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «‏‏‏‏ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا وَجَعَلْتُ لَهُ مَالًا مَّمْدُودًا وَبَنِينَ شُهُودًا وَمَهَّدتُّ لَهُ تَمْهِيدًا ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ كَلَّا إِنَّهُ كَانَ لِآيَاتِنَا عَنِيدًا سَأُرْهِقُهُ صَعُودًا إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ثُمَّ نَظَرَ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ فَقَالَ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا سِحْرٌ يُؤْثَرُ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ سَأُصْلِيهِ سَقَرَ» ۱؎ [74-المدثر:26-11] ‏‏‏‏ ’ مجھے چھوڑ دے اور اسے جسے میں نے یکتا پیدا کیا ہے اور بہت سا مال دیا ہے اور حاضر باش لڑکے دیئے ہیں اور بھی بہت کشادگی دے رکھی ہے پھر بھی اس کی طمع ہے کہ میں اسے اور دوں ہرگز ایسا نہیں ہو سکتا یہ تو میری آیتوں کا مخالف ہے میں اسے عنقریب بدترین مصیبت میں ڈالوں گا اس نے غور و فکر کرکے اندازہ لگایا یہ تباہ ہو۔ کتنی بری تجویز اس نے سوچی میں پھر کہتا ہوں، یہ برباد ہو اس نے کیسی بری تجویز کی اس نے پھر نظر ڈالی اور ترش رو ہو کہ منہ بنا لیا، پھر منہ پھیر کر اینٹھنے لگا اور کہہ دیا کہ یہ کلام اللہ تو پرانا نقل کیا ہوا جادو ہے، صاف ظاہر ہے کہ یہ انسانی کلام ہے، اس کی اس بات پر میں بھی اسے «سَقَرَ» میں ڈالوں گا تجھے کیا معلوم کہ «سَقَرَ» کیا ہے نہ وہ باقی رکھے نہ چھوڑے بدن پر لپٹ جاتی ہے اس پر انیس فرشتے متعین ہیں ‘۔ اسی طرح یہاں بھی فرمایا کہ ’ اس کی ناک پر ہم داغ لگائیں گے ‘ یعنی اسے ہم اس قدر رسوا کریں گے کہ اس کی برائی کسی پر پوشیدہ نہ رہے ہر ایک اسے جان پہچان لے جیسے نشان دار ناک والے کو بیک نگاہ ہزاروں میں لوگ پہچان لیتے ہیں اور جو داغ چھپائے نہ چھپ سکے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بدر والے دن اس کی ناک پر تلوار لگے گی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ قیامت والے دن جہنم کی مہر لگے گی یعنی منہ کالا کر دیا جائے گا تو ناک سے مراد پورا چہرہ ہوا۔ امام ابو جعفر ابن جریر نے ان تمام اقوال کو وارد کر کے فرمایا ہے کہ ”ان سب میں تطبیق اس طرح ہو جاتی ہے کہ یہ کل امور اس میں جمع ہو جائیں یہ بھی ہو وہ بھی ہو، دنیا میں رسوا ہو سچ مچ ناک پر نشان لگے آخرت میں بھی نشاندار مجرم بنے“، فی الواقع یہ بہت درست ہے۔ ابن ابی حاتم میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { بندہ ہزارہا برس تک اللہ کے ہاں مومن لکھا رہتا ہے لیکن مرتا اس حالت میں ہے کہ اللہ اس پر ناراض ہوتا ہے اور بندہ اللہ کے ہاں کافر ہزارہا سال تک لکھا رہتا ہے پھر مرتے وقت اللہ اس سے خوش ہو جاتا ہے جو شخص عیب گوئی اور چغل خوری کی حالت میں مرے جو لوگوں کو بدنام کرنے والا ہو قیامت کے دن اس کی ناک پر دونوں ہونٹوں کی طرف سے نشان لگا دیا جائے جو اس مجرم کی علامت بن جائے گا }۔ ۱؎ [طبرانی اوسط:8801:ضعیف] ‏‏‏‏
16۔ 1 بعض کے نزدیک اس کا تعلق دنیا سے ہے، مثلًا کہا جاتا ہے کہ جنگ بدر میں ان کافروں کے ناکوں کو تلواروں کا نشانہ بنایا گیا۔ اور بعض کہتے ہیں کہ یہ قیامت والے دن جہنمیوں کی علامت ہوگی کہ ان کے ناکوں کو داغ دیا جائے گا یا اس کا مطلب چہروں کی سیاہی ہے۔ جیسا کہ کافروں کے چہرے اس دن سیاہ ہونگے۔ بعض کہتے ہیں کہ کافروں کا یہ حشر دنیا اور آخرت دونوں جگہ ممکن ہے۔
(آیت 16) {سَنَسِمُهٗ عَلَى الْخُرْطُوْمِ:” الْخُرْطُوْمِ “} کا لفظ اصل میں درندوں کی ناک (تھوتھنی) یا ہاتھی کی سونڈ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ان بد خصلتوں والے انسان کی ناک کو تحقیر و مذمت کے لیے” خرطوم“ کہا گیا ہے۔ سرکش آدمی چونکہ اپنی ناک اونچی رکھنے ہی کے لیے حق سے انکار کرتا ہے، اس لیے قیامت کے دن اسی ناک پر داغ لگایا جائے گا جو اس کی ذلت کا نشان ہو گا۔ {”وَسَمَ يَسِمُ“} (ض) کا معنی داغ اور نشان لگانا ہے۔
اِنَّا بَلَوۡنٰہُمۡ کَمَا بَلَوۡنَاۤ اَصۡحٰبَ الۡجَنَّۃِ ۚ اِذۡ اَقۡسَمُوۡا لَیَصۡرِمُنَّہَا مُصۡبِحِیۡنَ ﴿ۙ۱۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے اِن (اہل مکہ) کو اُسی طرح آزمائش میں ڈالا ہے جس طرح ایک باغ کے مالکوں کو آزمائش میں ڈالا تھا، جب اُنہوں نے قسم کھائی کہ صبح سویرے ضرور اپنے باغ کے پھل توڑیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک ہم نے انہیں اسی طرح آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جبکہ انہوں نے قسمیں کھائیں کہ صبح ہوتے ہی اس باغ کے پھل اتار لیں گے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ہم نے انہیں جانچا جیسا اس باغ والوں کو جانچا تھا جب انہوں نے قسم کھائی کہ ضرور صبح ہوتے اس کھیت کو کاٹ لیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
ہم نے ان (کفارِ مکہ) کو اسی طرح آزمائش میں ڈالا ہے جس طرح ایک باغ والوں کو آزمائش میں ڈالا تھا جب انہوں نے قَسم کھائی تھی کہ وہ صبح سویرے ضرور اس کا پھل توڑ لیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا ہم نے انھیں آزمایا ہے، جیسے ہم نے باغ والوں کو آزمایا، جب انھوں نے قسم کھائی کہ صبح ہوتے ہوتے اس کا پھل ضرور ہی توڑ لیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی ٭٭

یہاں ان کافروں کی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبری کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کر دیا ہے۔ تو فرماتا ہے کہ ’ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور ہمیں ان کو بھی دینا پڑے بلکہ کل پھل اور میوے خود ہی لے آئیں گے، اپنی اس تدبیر کی کامیابی پر انہیں غرور تھا اور اس خوشی میں پھولے ہوئے تھے یہاں تک کہ اللہ کو بھی بھول گئے ان شاء اللہ تک کسی کی زبان سے نہ نکلا اس لیے ان کی یہ قسم پوری نہ ہوئی، رات ہی رات میں ان کے پہنچنے سے پہلے آسمانی آفت نے سارے باغ کو جلا کر خاکستر کر دیا ایسا ہو گیا جیسے سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی ‘۔ اسی لیے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگو گناہوں سے بچو گناہوں کی شامت کی وجہ سے انسان اس روزی سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے جو اس کے لیے تیار کر دی گئی ہے۔‏‏‏‏“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو آیتوں کی تلاوت کی کہ ’ یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہ کے اپنے باغ کے پھل اور اس کی پیداوار سے بے نصیب ہو گئے ‘ }۔ ۱؎ [الدار المنثور للسیوطی:395/6:ضعیف] ‏‏‏‏

صبح کے وقت یہ آپس میں ایک دوسرے کو آوازیں دینے لگے کہ اگر پھل اتارنے کا ارادہ ہے تو اب دیر نہ لگاؤ سویرے ہی چل پڑو، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ باغ انگور کا تھا، اب یہ چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے چلے تاکہ کوئی سن نہ لے اور غریب غرباء کو پتہ نہ لگ جائے، چونکہ ان کی سرگوشیاں اس اللہ سے تو پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں جو دلی ارادوں سے بھی پوری طرح واقف رہتا ہے وہ بیان فرماتا ہے کہ ’ ان کی وہ خفیہ باتیں یہ تھیں کہ دیکھو ہوشیار رہو کوئی مسکین بھنک پا کر کہیں آج آ نہ جائے ہرگز کسی فقیر کو باغ میں گھسنے ہی نہ دینا ‘۔ اب قوت و شدت کے ساتھ پختہ ارادے اور غریبوں پر غصے کے ساتھ اپنے باغ کو چلے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حَرْد» ان کی بستی کا نام تھا، لیکن یہ کچھ زیادہ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔ یہ جانتے تھے کہ اب ہم پھلوں پر قابض ہیں ابھی اتار کر سب لے آئیں گے۔
17۔ 1 مراد اہل مکہ ہیں یعنی ہم نے ان کو مال و دولت سے نوازا تاکہ وہ اللہ کا شکر کریں نہ کہ کفر وتکبر لیکن انہوں نے کفر و استکبار کیا تو ہم نے انہیں بھوک اور قحط کی آزمائش میں ڈال دیا جس میں وہ نبی کی بددعا کی وجہ سے کچھ عرصہ مبتلا رہے۔ 17۔ 2 باغ والوں کا قصہ عربوں میں مشہور تھا۔ یہ باغ (یمن) سے دو فرسخ کے فاصلے پر تھا اس کا مالک اس کی پیداوار غربا و مساکین پر بھی خرچ کرتا تھا، لیکن اس کے مرنے کے بعد جب اس کی اولاد اس کی وارث بنی تو انہوں نے کہا کہ ہمارے تو اپنے اخراجات بمشکل پورے ہوتے ہیں، ہم اس کی آمدنی میں سے مساکین اور سائلین کو کس طرح دیں؟ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس باغ کو تباہ کردیا، کہتے ہیں یہ واقعہ حضرت عیسیٰ ؑ کے آسمان پر اٹھائے جانے کے تھوڑے عرصے بعد پیش آیا (فتح القدیر) یہ ساری تفصیل تفسیری روایات کی ہے۔
(آیت 17) ➊ { اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ …:} اہل مکہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی بے شمار نعمتوں سے نوازا تھا۔ تمام لوگ حج کے لیے ان کے پاس آتے اور اپنی ضروریات کے لیے ان کے گاہک بنتے تھے، وہ جہاں جاتے اہلِ حرم ہونے کی وجہ سے انھیں کوئی کچھ نہ کہتا۔ ہر قسم کا میوہ ان کے شہر پہنچ جاتا، ان کی تجارت خوب چمکی ہوئی تھی اور وہ نہایت مال دار اور مکمل امن کی نعمت سے بہرہ ور تھے۔ ان نعمتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ انعام بھی کیا کہ ان میں اپنا آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث فرمایا، مگر انھوں نے اس نعمت کی قدر نہ کی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا دیا، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر بھوک اور خوف کا عذاب مسلط کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ چلے جانے کے بعد قریش نے آپ کے ساتھ جنگوں کا سلسلہ شروع کر دیا، جس سے وہ خود بھی غیر محفوظ ہو گئے اور ان کی تجارت بھی برباد ہو گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بددعا سے ان پر قحط مسلط ہو گیا، یہاں تک کہ وہ مردار تک کھا گئے۔ [ دیکھیے بخاري: ۴۸۲۱، ۴۸۰۹ ] اللہ تعالیٰ نے اہلِ مکہ کی اس حالت کا ذکر ان آیات میں بھی بیان کیا ہے: «‏‏‏‏وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَىِٕنَّةً يَّاْتِيْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَ الْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ (112) وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ» ‏‏‏‏ [ النحل: ۱۱۲، ۱۱۳ ] ”اور اللہ نے ایک بستی کی مثال بیان کی جو امن والی، اطمینان والی تھی، اس کے پاس اس کا رزق کھلا ہر جگہ سے آتا تھا، تو اس نے اللہ کی نعمتوں کی نا شکری کی تو اللہ نے اسے بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا، اس کے بدلے جو وہ کیا کرتے تھے۔ اور بلاشبہ یقینا ان کے پاس انھی میں سے ایک رسول آیا تو انھوں نے اسے جھٹلا دیا، تو انھیں عذاب نے اس حال میں آپکڑا کہ وہ ظالم تھے۔“ یہاں اہلِ مکہ کی نا شکری اور اس پر سزا کے لیے بطور مثال ایک باغ والوں کا قصہ بیان کیا اور فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ» ‏‏‏‏ ”بے شک ہم نے مکذبین کو نعمت دے کر آزمایا جس طرح باغ والوں کو نعمت دے کر آزمایا تھا۔“یہ چند بھائی تھے جنھیں اللہ تعالیٰ نے بہت شاندار باغ عطا فرمایا تھا، مگر بجائے اس کے کہ وہ اسے اللہ کی نعمت سمجھ کر اس میں سے اللہ تعالیٰ کا حصہ نکالتے، انھوں نے قسم کھالی کہ صبح ہوتے ہی اس کا پھل توڑ لیں گے، کسی مسکین کو نہ آنے دیں گے اور نہ انھیں کچھ دیں گے، مگر اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان کے جانے سے پہلے ہی آگ لگنے یا کسی اور آسمانی آفت سے باغ برباد ہو گیا۔ صبح گئے تو وہاں کچھ بھی نہ تھا۔ ➋ {” بَلَوْنٰهُمْ”بَلَا يَبْلُوْ“} (ن) آزمانا، مصیبت میں مبتلا کرنا، انعام کرنا۔ {” لَيَصْرِمُنَّهَا“ ”صَرَمَ يَصْرِمُ“} (ض) کاٹنا، کٹنا۔ {”صَرِيْمٌ“} کٹا ہوا۔ یہ باغ کہاں تھا اور باغ والے کون تھے؟ قرآن نے ذکر نہیں فرمایا، کیونکہ قرآن واقعات کو بطور تاریخ نہیں بلکہ بطور عبرت بیان کرتا ہے اور اس کے لیے نفس واقعہ ہی کافی ہے۔ اس مقام پر سورۂ کہف کی آیات (۳۲ تا ۴۴) بھی دیکھ لیں، وہاں بھی عبرت دلانے کے لیے دو باغ رکھنے والے کی مثال بیان کی گئی ہے۔
وَ لَا یَسۡتَثۡنُوۡنَ ﴿۱۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور وہ کوئی استثناء نہیں کر رہے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور انشاءاللہ نہ کہا
احمد رضا خان بریلوی
اور انشاء اللہ نہ کہا
علامہ محمد حسین نجفی
اور انہوں نے کوئی استثناء نہیں کیا تھا (انشاء اللہ نہیں کہا تھا)۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ کوئی استثنا نہیں کر رہے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی ٭٭

یہاں ان کافروں کی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبری کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کر دیا ہے۔ تو فرماتا ہے کہ ’ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور ہمیں ان کو بھی دینا پڑے بلکہ کل پھل اور میوے خود ہی لے آئیں گے، اپنی اس تدبیر کی کامیابی پر انہیں غرور تھا اور اس خوشی میں پھولے ہوئے تھے یہاں تک کہ اللہ کو بھی بھول گئے ان شاء اللہ تک کسی کی زبان سے نہ نکلا اس لیے ان کی یہ قسم پوری نہ ہوئی، رات ہی رات میں ان کے پہنچنے سے پہلے آسمانی آفت نے سارے باغ کو جلا کر خاکستر کر دیا ایسا ہو گیا جیسے سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی ‘۔ اسی لیے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگو گناہوں سے بچو گناہوں کی شامت کی وجہ سے انسان اس روزی سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے جو اس کے لیے تیار کر دی گئی ہے۔‏‏‏‏“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو آیتوں کی تلاوت کی کہ ’ یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہ کے اپنے باغ کے پھل اور اس کی پیداوار سے بے نصیب ہو گئے ‘ }۔ ۱؎ [الدار المنثور للسیوطی:395/6:ضعیف] ‏‏‏‏

صبح کے وقت یہ آپس میں ایک دوسرے کو آوازیں دینے لگے کہ اگر پھل اتارنے کا ارادہ ہے تو اب دیر نہ لگاؤ سویرے ہی چل پڑو، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ باغ انگور کا تھا، اب یہ چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے چلے تاکہ کوئی سن نہ لے اور غریب غرباء کو پتہ نہ لگ جائے، چونکہ ان کی سرگوشیاں اس اللہ سے تو پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں جو دلی ارادوں سے بھی پوری طرح واقف رہتا ہے وہ بیان فرماتا ہے کہ ’ ان کی وہ خفیہ باتیں یہ تھیں کہ دیکھو ہوشیار رہو کوئی مسکین بھنک پا کر کہیں آج آ نہ جائے ہرگز کسی فقیر کو باغ میں گھسنے ہی نہ دینا ‘۔ اب قوت و شدت کے ساتھ پختہ ارادے اور غریبوں پر غصے کے ساتھ اپنے باغ کو چلے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حَرْد» ان کی بستی کا نام تھا، لیکن یہ کچھ زیادہ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔ یہ جانتے تھے کہ اب ہم پھلوں پر قابض ہیں ابھی اتار کر سب لے آئیں گے۔
یعنی صبح ہوتے ہی پھل اتار لیں گے اور پیداوار کاٹ لیں گے۔
(آیت 18) {وَ لَا يَسْتَثْنُوْنَ: ”اَلْاِسْتِثْنَاءُ“} کسی چیز کو عام حکم سے علیحدہ کرنا، ان شاء اللہ کہنا۔ آیت کے دو معنی ہیں، ایک یہ کہ انھیں اپنے منصوبے کی کامیابی کا اتنا یقین تھا کہ انھوں نے ان شاء اللہ بھی نہیں کہا اور وہ اللہ کی قدرت و مشیت کو بھی بھول گئے۔ دوسرا یہ کہ انھوں نے سارا پھل اتار لینے کی قسم کھائی۔ عام طور پر پھل چنتے وقت کچھ پھل مساکین کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے، لیکن انھوں نے اس کا استثنا بھی نہیں کیا۔
فَطَافَ عَلَیۡہَا طَآئِفٌ مِّنۡ رَّبِّکَ وَ ہُمۡ نَآئِمُوۡنَ ﴿۱۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
رات کو وہ سوئے پڑے تھے کہ تمہارے رب کی طرف سے ایک بلا اس باغ پر پھر گئی
مولانا محمد جوناگڑھی
پس اس پر تیرے رب کی جانب سے ایک بلا چاروں طرف گھوم گئی اور یہ سو ہی رہے تھے
احمد رضا خان بریلوی
تو اس پر تیرے رب کی طرف سے ایک پھیری کرنے والا پھیرا کر گیا اور وہ سوتے تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر (راتوں رات) جب کہ وہ لوگ ابھی سوئے ہوئے تھے آپ(ص) کے پروردگار کی طرف سے ایک آفت چکر لگا گئی۔
عبدالسلام بن محمد
پس اس پر تیرے رب کی طرف سے ایک اچانک عذاب پھر گیا، جب کہ وہ سوئے ہوئے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی ٭٭

یہاں ان کافروں کی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبری کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کر دیا ہے۔ تو فرماتا ہے کہ ’ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور ہمیں ان کو بھی دینا پڑے بلکہ کل پھل اور میوے خود ہی لے آئیں گے، اپنی اس تدبیر کی کامیابی پر انہیں غرور تھا اور اس خوشی میں پھولے ہوئے تھے یہاں تک کہ اللہ کو بھی بھول گئے ان شاء اللہ تک کسی کی زبان سے نہ نکلا اس لیے ان کی یہ قسم پوری نہ ہوئی، رات ہی رات میں ان کے پہنچنے سے پہلے آسمانی آفت نے سارے باغ کو جلا کر خاکستر کر دیا ایسا ہو گیا جیسے سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی ‘۔ اسی لیے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگو گناہوں سے بچو گناہوں کی شامت کی وجہ سے انسان اس روزی سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے جو اس کے لیے تیار کر دی گئی ہے۔‏‏‏‏“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو آیتوں کی تلاوت کی کہ ’ یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہ کے اپنے باغ کے پھل اور اس کی پیداوار سے بے نصیب ہو گئے ‘ }۔ ۱؎ [الدار المنثور للسیوطی:395/6:ضعیف] ‏‏‏‏

صبح کے وقت یہ آپس میں ایک دوسرے کو آوازیں دینے لگے کہ اگر پھل اتارنے کا ارادہ ہے تو اب دیر نہ لگاؤ سویرے ہی چل پڑو، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ باغ انگور کا تھا، اب یہ چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے چلے تاکہ کوئی سن نہ لے اور غریب غرباء کو پتہ نہ لگ جائے، چونکہ ان کی سرگوشیاں اس اللہ سے تو پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں جو دلی ارادوں سے بھی پوری طرح واقف رہتا ہے وہ بیان فرماتا ہے کہ ’ ان کی وہ خفیہ باتیں یہ تھیں کہ دیکھو ہوشیار رہو کوئی مسکین بھنک پا کر کہیں آج آ نہ جائے ہرگز کسی فقیر کو باغ میں گھسنے ہی نہ دینا ‘۔ اب قوت و شدت کے ساتھ پختہ ارادے اور غریبوں پر غصے کے ساتھ اپنے باغ کو چلے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حَرْد» ان کی بستی کا نام تھا، لیکن یہ کچھ زیادہ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔ یہ جانتے تھے کہ اب ہم پھلوں پر قابض ہیں ابھی اتار کر سب لے آئیں گے۔
19۔ 1 بعض کہتے ہیں، راتوں رات اسے آگ لگ گئی، بعض کہتے ہیں، جبرائیل ؑ نے آکر اسے تہس نہس کردیا۔
(آیت 20،19) {فَطَافَ عَلَيْهَا طَآىِٕفٌ مِّنْ رَّبِّكَ …: ” طَآىِٕفٌ “} پھر جانے والا، چکر لگانے والا۔ مراد اللہ کی طرف سے اچانک عذاب ہے جس کے ایک ہی چکر سے باغ کا نام و نشان مٹ گیا، یعنی رات باغ کو آگ لگ گئی اور صبح زمین صاف تھی، جس طرح کھیتی کٹنے کے بعد ہوتی ہے۔
فَاَصۡبَحَتۡ کَالصَّرِیۡمِ ﴿ۙ۲۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اُس کا حال ایسا ہو گیا جیسے کٹی ہوئی فصل ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
پس وه باغ ایسا ہو گیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی
احمد رضا خان بریلوی
تو صبح رہ گیا جیسے پھل ٹوٹا ہوا
علامہ محمد حسین نجفی
تو وہ (باغ) کٹی ہوئی فصل کی طرح ہوگیا۔
عبدالسلام بن محمد
تو صبح کووہ (باغ) کٹی ہوئی کھیتی کی طرح ہو گیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی ٭٭

یہاں ان کافروں کی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبری کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کر دیا ہے۔ تو فرماتا ہے کہ ’ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور ہمیں ان کو بھی دینا پڑے بلکہ کل پھل اور میوے خود ہی لے آئیں گے، اپنی اس تدبیر کی کامیابی پر انہیں غرور تھا اور اس خوشی میں پھولے ہوئے تھے یہاں تک کہ اللہ کو بھی بھول گئے ان شاء اللہ تک کسی کی زبان سے نہ نکلا اس لیے ان کی یہ قسم پوری نہ ہوئی، رات ہی رات میں ان کے پہنچنے سے پہلے آسمانی آفت نے سارے باغ کو جلا کر خاکستر کر دیا ایسا ہو گیا جیسے سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی ‘۔ اسی لیے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگو گناہوں سے بچو گناہوں کی شامت کی وجہ سے انسان اس روزی سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے جو اس کے لیے تیار کر دی گئی ہے۔‏‏‏‏“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو آیتوں کی تلاوت کی کہ ’ یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہ کے اپنے باغ کے پھل اور اس کی پیداوار سے بے نصیب ہو گئے ‘ }۔ ۱؎ [الدار المنثور للسیوطی:395/6:ضعیف] ‏‏‏‏

صبح کے وقت یہ آپس میں ایک دوسرے کو آوازیں دینے لگے کہ اگر پھل اتارنے کا ارادہ ہے تو اب دیر نہ لگاؤ سویرے ہی چل پڑو، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ باغ انگور کا تھا، اب یہ چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے چلے تاکہ کوئی سن نہ لے اور غریب غرباء کو پتہ نہ لگ جائے، چونکہ ان کی سرگوشیاں اس اللہ سے تو پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں جو دلی ارادوں سے بھی پوری طرح واقف رہتا ہے وہ بیان فرماتا ہے کہ ’ ان کی وہ خفیہ باتیں یہ تھیں کہ دیکھو ہوشیار رہو کوئی مسکین بھنک پا کر کہیں آج آ نہ جائے ہرگز کسی فقیر کو باغ میں گھسنے ہی نہ دینا ‘۔ اب قوت و شدت کے ساتھ پختہ ارادے اور غریبوں پر غصے کے ساتھ اپنے باغ کو چلے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حَرْد» ان کی بستی کا نام تھا، لیکن یہ کچھ زیادہ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔ یہ جانتے تھے کہ اب ہم پھلوں پر قابض ہیں ابھی اتار کر سب لے آئیں گے۔
20۔ 1 یعنی جس طرح کھیتی کٹنے کے بعد خشک ہوجاتی ہے، اس طرح سارا باغ اجڑ گیا، بعض نے ترجمہ یہ کیا ہے، سیاہ رات کی طرح ہوگیا، یعنی جل کر۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَتَنَادَوۡا مُصۡبِحِیۡنَ ﴿ۙ۲۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
صبح اُن لوگوں نے ایک دوسرے کو پکارا
مولانا محمد جوناگڑھی
اب صبح ہوتے ہی انہوں نے ایک دوسرے کو آوازیں دیں
احمد رضا خان بریلوی
پھر انہوں نے صبح ہوتے ایک دوسرے کو پکارا،
علامہ محمد حسین نجفی
پس انہوں نے صبح ہوتے ہی ایک دوسرے کو آواز دی۔
عبدالسلام بن محمد
پھر انھوں نے صبح ہوتے ہی ایک دوسرے کو آواز دی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی ٭٭

یہاں ان کافروں کی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبری کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کر دیا ہے۔ تو فرماتا ہے کہ ’ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور ہمیں ان کو بھی دینا پڑے بلکہ کل پھل اور میوے خود ہی لے آئیں گے، اپنی اس تدبیر کی کامیابی پر انہیں غرور تھا اور اس خوشی میں پھولے ہوئے تھے یہاں تک کہ اللہ کو بھی بھول گئے ان شاء اللہ تک کسی کی زبان سے نہ نکلا اس لیے ان کی یہ قسم پوری نہ ہوئی، رات ہی رات میں ان کے پہنچنے سے پہلے آسمانی آفت نے سارے باغ کو جلا کر خاکستر کر دیا ایسا ہو گیا جیسے سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی ‘۔ اسی لیے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگو گناہوں سے بچو گناہوں کی شامت کی وجہ سے انسان اس روزی سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے جو اس کے لیے تیار کر دی گئی ہے۔‏‏‏‏“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو آیتوں کی تلاوت کی کہ ’ یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہ کے اپنے باغ کے پھل اور اس کی پیداوار سے بے نصیب ہو گئے ‘ }۔ ۱؎ [الدار المنثور للسیوطی:395/6:ضعیف] ‏‏‏‏

صبح کے وقت یہ آپس میں ایک دوسرے کو آوازیں دینے لگے کہ اگر پھل اتارنے کا ارادہ ہے تو اب دیر نہ لگاؤ سویرے ہی چل پڑو، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ باغ انگور کا تھا، اب یہ چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے چلے تاکہ کوئی سن نہ لے اور غریب غرباء کو پتہ نہ لگ جائے، چونکہ ان کی سرگوشیاں اس اللہ سے تو پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں جو دلی ارادوں سے بھی پوری طرح واقف رہتا ہے وہ بیان فرماتا ہے کہ ’ ان کی وہ خفیہ باتیں یہ تھیں کہ دیکھو ہوشیار رہو کوئی مسکین بھنک پا کر کہیں آج آ نہ جائے ہرگز کسی فقیر کو باغ میں گھسنے ہی نہ دینا ‘۔ اب قوت و شدت کے ساتھ پختہ ارادے اور غریبوں پر غصے کے ساتھ اپنے باغ کو چلے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حَرْد» ان کی بستی کا نام تھا، لیکن یہ کچھ زیادہ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔ یہ جانتے تھے کہ اب ہم پھلوں پر قابض ہیں ابھی اتار کر سب لے آئیں گے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 22،21) {فَتَنَادَوْا مُصْبِحِيْنَ …: ” عَلٰى حَرْثِكُمْ “} اپنے کھیت پر۔ معلوم ہوا کہ باغ کے ساتھ کھیتی بھی تھی۔
اَنِ اغۡدُوۡا عَلٰی حَرۡثِکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰرِمِیۡنَ ﴿۲۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کہ اگر پھل توڑنے ہیں تو سویرے سویرے اپنی کھیتی کی طرف نکل چلو
مولانا محمد جوناگڑھی
کہ اگر تمہیں پھل اتارنے ہیں تو اپنی کھیتی پر سویرے ہی سویرے چل پڑو
احمد رضا خان بریلوی
کہ تڑکے اپنی کھیتی چلو اگر تمہیں کاٹنی ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
کہ اگر تم نے پھل توڑنا ہے تو سویرے سویرے اپنی کھیتی کی طرف چلو۔
عبدالسلام بن محمد
کہ صبح صبح اپنے کھیت پر جا پہنچو، اگرتم پھل توڑنے والے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی ٭٭

یہاں ان کافروں کی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبری کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کر دیا ہے۔ تو فرماتا ہے کہ ’ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور ہمیں ان کو بھی دینا پڑے بلکہ کل پھل اور میوے خود ہی لے آئیں گے، اپنی اس تدبیر کی کامیابی پر انہیں غرور تھا اور اس خوشی میں پھولے ہوئے تھے یہاں تک کہ اللہ کو بھی بھول گئے ان شاء اللہ تک کسی کی زبان سے نہ نکلا اس لیے ان کی یہ قسم پوری نہ ہوئی، رات ہی رات میں ان کے پہنچنے سے پہلے آسمانی آفت نے سارے باغ کو جلا کر خاکستر کر دیا ایسا ہو گیا جیسے سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی ‘۔ اسی لیے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگو گناہوں سے بچو گناہوں کی شامت کی وجہ سے انسان اس روزی سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے جو اس کے لیے تیار کر دی گئی ہے۔‏‏‏‏“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو آیتوں کی تلاوت کی کہ ’ یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہ کے اپنے باغ کے پھل اور اس کی پیداوار سے بے نصیب ہو گئے ‘ }۔ ۱؎ [الدار المنثور للسیوطی:395/6:ضعیف] ‏‏‏‏

صبح کے وقت یہ آپس میں ایک دوسرے کو آوازیں دینے لگے کہ اگر پھل اتارنے کا ارادہ ہے تو اب دیر نہ لگاؤ سویرے ہی چل پڑو، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ باغ انگور کا تھا، اب یہ چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے چلے تاکہ کوئی سن نہ لے اور غریب غرباء کو پتہ نہ لگ جائے، چونکہ ان کی سرگوشیاں اس اللہ سے تو پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں جو دلی ارادوں سے بھی پوری طرح واقف رہتا ہے وہ بیان فرماتا ہے کہ ’ ان کی وہ خفیہ باتیں یہ تھیں کہ دیکھو ہوشیار رہو کوئی مسکین بھنک پا کر کہیں آج آ نہ جائے ہرگز کسی فقیر کو باغ میں گھسنے ہی نہ دینا ‘۔ اب قوت و شدت کے ساتھ پختہ ارادے اور غریبوں پر غصے کے ساتھ اپنے باغ کو چلے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حَرْد» ان کی بستی کا نام تھا، لیکن یہ کچھ زیادہ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔ یہ جانتے تھے کہ اب ہم پھلوں پر قابض ہیں ابھی اتار کر سب لے آئیں گے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَانۡطَلَقُوۡا وَ ہُمۡ یَتَخَافَتُوۡنَ ﴿ۙ۲۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
چنانچہ وہ چل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر یہ سب چپکے چپکے یہ باتیں کرتے ہوئے چلے
احمد رضا خان بریلوی
تو چلے اور آپس میں آہستہ آہستہ کہتے جاتے تھے کہ
علامہ محمد حسین نجفی
تو وہ اس حال میں چل پڑے کہ چپکے چپکے ایک دوسرے سے کہتے جاتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
چنانچہ وہ چل پڑے اور وہ چپکے چپکے آپس میں باتیں کرتے جاتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی ٭٭

یہاں ان کافروں کی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبری کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کر دیا ہے۔ تو فرماتا ہے کہ ’ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور ہمیں ان کو بھی دینا پڑے بلکہ کل پھل اور میوے خود ہی لے آئیں گے، اپنی اس تدبیر کی کامیابی پر انہیں غرور تھا اور اس خوشی میں پھولے ہوئے تھے یہاں تک کہ اللہ کو بھی بھول گئے ان شاء اللہ تک کسی کی زبان سے نہ نکلا اس لیے ان کی یہ قسم پوری نہ ہوئی، رات ہی رات میں ان کے پہنچنے سے پہلے آسمانی آفت نے سارے باغ کو جلا کر خاکستر کر دیا ایسا ہو گیا جیسے سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی ‘۔ اسی لیے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگو گناہوں سے بچو گناہوں کی شامت کی وجہ سے انسان اس روزی سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے جو اس کے لیے تیار کر دی گئی ہے۔‏‏‏‏“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو آیتوں کی تلاوت کی کہ ’ یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہ کے اپنے باغ کے پھل اور اس کی پیداوار سے بے نصیب ہو گئے ‘ }۔ ۱؎ [الدار المنثور للسیوطی:395/6:ضعیف] ‏‏‏‏

صبح کے وقت یہ آپس میں ایک دوسرے کو آوازیں دینے لگے کہ اگر پھل اتارنے کا ارادہ ہے تو اب دیر نہ لگاؤ سویرے ہی چل پڑو، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ باغ انگور کا تھا، اب یہ چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے چلے تاکہ کوئی سن نہ لے اور غریب غرباء کو پتہ نہ لگ جائے، چونکہ ان کی سرگوشیاں اس اللہ سے تو پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں جو دلی ارادوں سے بھی پوری طرح واقف رہتا ہے وہ بیان فرماتا ہے کہ ’ ان کی وہ خفیہ باتیں یہ تھیں کہ دیکھو ہوشیار رہو کوئی مسکین بھنک پا کر کہیں آج آ نہ جائے ہرگز کسی فقیر کو باغ میں گھسنے ہی نہ دینا ‘۔ اب قوت و شدت کے ساتھ پختہ ارادے اور غریبوں پر غصے کے ساتھ اپنے باغ کو چلے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حَرْد» ان کی بستی کا نام تھا، لیکن یہ کچھ زیادہ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔ یہ جانتے تھے کہ اب ہم پھلوں پر قابض ہیں ابھی اتار کر سب لے آئیں گے۔
23۔ 1 یعنی باغ کی طرف جانے کے لئے ایک تو صبح صبح نکلے دوسرے آہستہ آہستہ باتیں کرتے ہوئے گئے تاکہ کسی کو ان کے جانے کا علم نہ ہو۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اَنۡ لَّا یَدۡخُلَنَّہَا الۡیَوۡمَ عَلَیۡکُمۡ مِّسۡکِیۡنٌ ﴿ۙ۲۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کہ آج کوئی مسکین تمہارے پاس باغ میں نہ آنے پائے
مولانا محمد جوناگڑھی
کہ آج کے دن کوئی مسکین تمہارے پاس نہ آنے پائے
احمد رضا خان بریلوی
ہرگز آج کوئی مسکین تمہارے باغ میں آنے نہ پائے،
علامہ محمد حسین نجفی
کہ خبردار! آج تمہارے پاس اس باغ میں کوئی مسکین نہ آنے پا ئے۔
عبدالسلام بن محمد
کہ آج اس (باغ) میں تمھارے پاس کوئی مسکین ہر گز داخل نہ ہونے پائے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی ٭٭

یہاں ان کافروں کی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبری کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کر دیا ہے۔ تو فرماتا ہے کہ ’ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور ہمیں ان کو بھی دینا پڑے بلکہ کل پھل اور میوے خود ہی لے آئیں گے، اپنی اس تدبیر کی کامیابی پر انہیں غرور تھا اور اس خوشی میں پھولے ہوئے تھے یہاں تک کہ اللہ کو بھی بھول گئے ان شاء اللہ تک کسی کی زبان سے نہ نکلا اس لیے ان کی یہ قسم پوری نہ ہوئی، رات ہی رات میں ان کے پہنچنے سے پہلے آسمانی آفت نے سارے باغ کو جلا کر خاکستر کر دیا ایسا ہو گیا جیسے سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی ‘۔ اسی لیے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگو گناہوں سے بچو گناہوں کی شامت کی وجہ سے انسان اس روزی سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے جو اس کے لیے تیار کر دی گئی ہے۔‏‏‏‏“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو آیتوں کی تلاوت کی کہ ’ یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہ کے اپنے باغ کے پھل اور اس کی پیداوار سے بے نصیب ہو گئے ‘ }۔ ۱؎ [الدار المنثور للسیوطی:395/6:ضعیف] ‏‏‏‏

صبح کے وقت یہ آپس میں ایک دوسرے کو آوازیں دینے لگے کہ اگر پھل اتارنے کا ارادہ ہے تو اب دیر نہ لگاؤ سویرے ہی چل پڑو، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ باغ انگور کا تھا، اب یہ چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے چلے تاکہ کوئی سن نہ لے اور غریب غرباء کو پتہ نہ لگ جائے، چونکہ ان کی سرگوشیاں اس اللہ سے تو پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں جو دلی ارادوں سے بھی پوری طرح واقف رہتا ہے وہ بیان فرماتا ہے کہ ’ ان کی وہ خفیہ باتیں یہ تھیں کہ دیکھو ہوشیار رہو کوئی مسکین بھنک پا کر کہیں آج آ نہ جائے ہرگز کسی فقیر کو باغ میں گھسنے ہی نہ دینا ‘۔ اب قوت و شدت کے ساتھ پختہ ارادے اور غریبوں پر غصے کے ساتھ اپنے باغ کو چلے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حَرْد» ان کی بستی کا نام تھا، لیکن یہ کچھ زیادہ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔ یہ جانتے تھے کہ اب ہم پھلوں پر قابض ہیں ابھی اتار کر سب لے آئیں گے۔
24۔ 1 یعنی وہ ایک دوسرے کو کہتے رہے کہ آج کوئی باغ میں آکر ہم سے کچھ نہ مانگے جس طرح ہمارے باپ کے زمانے میں آیا کرتے تھے اور وہ اپنا حصہ لے جاتے تھے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَّ غَدَوۡا عَلٰی حَرۡدٍ قٰدِرِیۡنَ ﴿۲۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ کچھ نہ دینے کا فیصلہ کیے ہوئے صبح سویرے جلدی جلدی اِس طرح وہاں گئے جیسے کہ وہ (پھل توڑنے پر) قادر ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور لپکے ہوئے صبح صبح گئے۔ (سمجھ رہے تھے) کہ ہم قابو پاگئے
احمد رضا خان بریلوی
اور تڑکے چلے اپنے اس ارادہ پر قدرت سمجھتے
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ اس (مسکین کو کچھ نہ دینے) پر قادر سمجھ کر نکلے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ صبح سویرے پختہ ارادے کے ساتھ اس حال میں نکلے کہ (اپنے خیال میں پھل توڑنے پر) قادر تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی ٭٭

یہاں ان کافروں کی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبری کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کر دیا ہے۔ تو فرماتا ہے کہ ’ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور ہمیں ان کو بھی دینا پڑے بلکہ کل پھل اور میوے خود ہی لے آئیں گے، اپنی اس تدبیر کی کامیابی پر انہیں غرور تھا اور اس خوشی میں پھولے ہوئے تھے یہاں تک کہ اللہ کو بھی بھول گئے ان شاء اللہ تک کسی کی زبان سے نہ نکلا اس لیے ان کی یہ قسم پوری نہ ہوئی، رات ہی رات میں ان کے پہنچنے سے پہلے آسمانی آفت نے سارے باغ کو جلا کر خاکستر کر دیا ایسا ہو گیا جیسے سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی ‘۔ اسی لیے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگو گناہوں سے بچو گناہوں کی شامت کی وجہ سے انسان اس روزی سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے جو اس کے لیے تیار کر دی گئی ہے۔‏‏‏‏“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو آیتوں کی تلاوت کی کہ ’ یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہ کے اپنے باغ کے پھل اور اس کی پیداوار سے بے نصیب ہو گئے ‘ }۔ ۱؎ [الدار المنثور للسیوطی:395/6:ضعیف] ‏‏‏‏

صبح کے وقت یہ آپس میں ایک دوسرے کو آوازیں دینے لگے کہ اگر پھل اتارنے کا ارادہ ہے تو اب دیر نہ لگاؤ سویرے ہی چل پڑو، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ باغ انگور کا تھا، اب یہ چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے چلے تاکہ کوئی سن نہ لے اور غریب غرباء کو پتہ نہ لگ جائے، چونکہ ان کی سرگوشیاں اس اللہ سے تو پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں جو دلی ارادوں سے بھی پوری طرح واقف رہتا ہے وہ بیان فرماتا ہے کہ ’ ان کی وہ خفیہ باتیں یہ تھیں کہ دیکھو ہوشیار رہو کوئی مسکین بھنک پا کر کہیں آج آ نہ جائے ہرگز کسی فقیر کو باغ میں گھسنے ہی نہ دینا ‘۔ اب قوت و شدت کے ساتھ پختہ ارادے اور غریبوں پر غصے کے ساتھ اپنے باغ کو چلے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حَرْد» ان کی بستی کا نام تھا، لیکن یہ کچھ زیادہ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔ یہ جانتے تھے کہ اب ہم پھلوں پر قابض ہیں ابھی اتار کر سب لے آئیں گے۔
25۔ 1 یعنی اپنے معاملے کا انہوں نے اندازہ کرلیا، یا اپنے ارادے سے انہوں نے باغ پر قدرت حاصل کرلی، یا مطلب ہے مساکین پر انہوں نے قابو پا لیا۔
(آیت 25) {وَ غَدَوْا عَلٰى حَرْدٍ قٰدِرِيْنَ:حَرْدٍ “} کا ایک معنی ہے قصد و ارادہ،یعنی وہ پختہ ارادے کے ساتھ نکلے کہ کسی مسکین کو باغ میں گھسنے نہیں دیں گے اور دوسرا معنی ہے شدید غصہ، یعنی وہ مساکین پر سخت غصے کے عالم میں نکلے۔ دونوں صورتوں میں {” قٰدِرِيْنَ “} کا معنی ہے ”اس حال میں کہ وہ اپنے خیال میں باغ کے پھل پر قادر تھے۔“ {” حَرْدٍ “} کا تیسرا معنی ہے روکنا، یعنی وہ صبح صبح اس حال میں نکلے کہ (اپنے خیال میں) مساکین کو روکنے پر قادر تھے۔
فَلَمَّا رَاَوۡہَا قَالُوۡۤا اِنَّا لَضَآلُّوۡنَ ﴿ۙ۲۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مگر جب باغ کو دیکھا تو کہنے لگے "ہم راستہ بھول گئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جب انہوں نے باغ دیکھا تو کہنے لگے یقیناً ہم راستہ بھول گئے
احمد رضا خان بریلوی
پھر جب اسے بولے بیشک ہم راستہ بہک گئے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب باغ کو (برباد) دیکھا تو کہا کہ ہم راستہ بھول گئے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پس جب انھوں نے اسے دیکھا تو انھوں نے کہا بلاشبہ ہم یقینا راستہ بھولے ہوئے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
لیکن جب وہاں پہنچے تو ہکا بکا رہ گئے، کہ لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ میوؤں سے لدے ہوئے درخت اور پکے ہوئے پھل سب غارت اور برباد ہو چکے ہیں سارے باغ میں آندھی پھر گئی ہے اور کل باغ میوؤں سمیت جل کر کوئلہ ہو گیا ہے، کوئی پھل نصف دام کا بھی نہیں رہا، ساری تروتازگی پژمردگی سے بدل گئی ہے، باغ سارا کا سارا جل کر راکھ ہو گیا ہے درختوں کے کالے کالے ڈراؤنے ٹنڈ کھڑے ہوئے ہیں، پہلے تو سمجھے کہ ہم راہ بھول گئے کسی اور باغ میں چلے آئے اور یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ ہمارا طریقہ کار غلط تھا جس کا یہ نتیجہ ہے۔ پھر بغور دیکھنے سے جب یقین ہو گیا کہ باغ تو ہمارا ہی ہے تب سمجھ گئے اور کہنے لگے، ہے تو یہی لیکن ہم بدقسمت ہیں، ہمارے نصیب میں ہی اس کا پھل اور فائدہ نہیں، ان سب میں جو عدل و انصاف والا اور بھلائی اور بہتری والا تھا وہ بول پڑا کہ دیکھو میں تو پہلے ہی تم سے کہتا تھا کہ تم ان شاء اللہ کیوں نہیں کہتے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان کے زمانہ میں سبحان اللہ کہنا بھی ان شاء اللہ کہنے کے قائم مقام تھا۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کے معنی ہی ان شاء اللہ کہنے کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بہتر شخص نے ان سے کہا کہ دیکھو میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم کیوں اللہ کی پاکیزگی اور اس کی حمد و ثناء نہیں کرتے؟ یہ سن کر اب وہ کہنے لگے ہمارا رب پاک ہے، بیشک ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اب اطاعت بجا لائے جبکہ عذاب پہنچ چکا، اب اپنی تقصیر کو مانا جب سزا دے دی گئی، اب تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے بہت ہی برا کیا کہ مسکینوں کا حق مارنا چاہا اور اللہ کی فرمانبرداری سے رک گئے، پھر سب نے کہا کہ کوئی شک نہیں ہماری سرکشی حد سے بڑھ گئی اسی وجہ سے اللہ کا عذاب آیا، پھر کہتے ہیں شاید ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے یعنی دنیا میں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آخرت کے خیال سے انہوں نے یہ کہا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» بعض سلف کا قول ہے کہ یہ واقعہ اہل یمن کا ہے، سعید بن جیبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ لوگ ضروان کے رہنے والے تھے جو صنعاء سے چھ میل کے فاصلہ پر ایک بستی ہے اور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اہل حبشہ تھے۔ مذہباً اہل کتاب تھے یہ باغ انہیں ان کے باپ کے ورثے میں ملا تھا اس کا یہ دستور تھا کہ باغ کی پیداوار میں سے باغ کا خرچ نکال کر اپنے اور اپنے بال بچوں کے لیے سال بھر کا خرچ رکھ کر باقی نفع اللہ کے نام صدقہ کر دیتا تھا اس کے انتقال کے بعد ان بچوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ ہمارا باپ تو بے وقوف تھا جو اتنی بڑی رقم ہر سال ادھر ادھر دے دیتا تھا ہم ان فقیروں کو اگر نہ دیں اور اپنا مال باقاعدہ سنبھالیں تو بہت جلد دولت مند بن جائیں یہ ارادہ انہوں نے پختہ کر لیا تو ان پر وہ عذاب آیا جس نے اصل مال بھی تباہ کر دیا اور بالکل خالی ہاتھ رہ گئے۔ پھر فرماتا ہے ’ جو شخص بھی اللہ کے حکموں کے خلاف کرے اور اللہ کی نعمتوں میں بخل کرے اور مسکینوں محتاجوں کا حق ادا نہ کرے اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرے اس پر اسی طرح کے عذاب نازل ہوتے ہیں اور یہ تو دنیوی عذاب ہیں آخرت کے عذاب تو ابھی باقی ہیں جو سخت تر اور بدتر ہیں ‘۔ بیہقی کی ایک حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت کھیتی کاٹنے اور باغ کے پھل اتارنے سے منع فرما دیا ہے }۔ ۱؎ [السنن الکبری للبیھقی:9/298-290:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏
26۔ 1 یعنی باغ والی جگہ کو راکھ کا ڈھیر یا اسے تباہ برباد دیکھا۔ (1) یعنی پہلے پہل تو ایک دوسرے کو کہا۔
(آیت 27،26) {فَلَمَّا رَاَوْهَا قَالُوْۤا اِنَّا لَضَآلُّوْنَ …:} جب باغ نظر نہ آیا تو پہلے تو یہ سمجھے کہ ہم بھول گئے ہیں، پھر جب یقین ہو گیا کہ یہ صاف زمین ہمارا ہی باغ ہے تو کہنے لگے ہماری قسمت پھوٹ گئی۔
بَلۡ نَحۡنُ مَحۡرُوۡمُوۡنَ ﴿۲۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
نہیں، بلکہ ہم محروم رہ گئے"
مولانا محمد جوناگڑھی
نہیں نہیں بلکہ ہماری قسمت پھوٹ گئی
احمد رضا خان بریلوی
بلکہ ہم بے نصیب ہوئے
علامہ محمد حسین نجفی
بلکہ ہم محروم ہو گئے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بلکہ ہم بے نصیب ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
لیکن جب وہاں پہنچے تو ہکا بکا رہ گئے، کہ لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ میوؤں سے لدے ہوئے درخت اور پکے ہوئے پھل سب غارت اور برباد ہو چکے ہیں سارے باغ میں آندھی پھر گئی ہے اور کل باغ میوؤں سمیت جل کر کوئلہ ہو گیا ہے، کوئی پھل نصف دام کا بھی نہیں رہا، ساری تروتازگی پژمردگی سے بدل گئی ہے، باغ سارا کا سارا جل کر راکھ ہو گیا ہے درختوں کے کالے کالے ڈراؤنے ٹنڈ کھڑے ہوئے ہیں، پہلے تو سمجھے کہ ہم راہ بھول گئے کسی اور باغ میں چلے آئے اور یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ ہمارا طریقہ کار غلط تھا جس کا یہ نتیجہ ہے۔ پھر بغور دیکھنے سے جب یقین ہو گیا کہ باغ تو ہمارا ہی ہے تب سمجھ گئے اور کہنے لگے، ہے تو یہی لیکن ہم بدقسمت ہیں، ہمارے نصیب میں ہی اس کا پھل اور فائدہ نہیں، ان سب میں جو عدل و انصاف والا اور بھلائی اور بہتری والا تھا وہ بول پڑا کہ دیکھو میں تو پہلے ہی تم سے کہتا تھا کہ تم ان شاء اللہ کیوں نہیں کہتے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان کے زمانہ میں سبحان اللہ کہنا بھی ان شاء اللہ کہنے کے قائم مقام تھا۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کے معنی ہی ان شاء اللہ کہنے کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بہتر شخص نے ان سے کہا کہ دیکھو میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم کیوں اللہ کی پاکیزگی اور اس کی حمد و ثناء نہیں کرتے؟ یہ سن کر اب وہ کہنے لگے ہمارا رب پاک ہے، بیشک ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اب اطاعت بجا لائے جبکہ عذاب پہنچ چکا، اب اپنی تقصیر کو مانا جب سزا دے دی گئی، اب تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے بہت ہی برا کیا کہ مسکینوں کا حق مارنا چاہا اور اللہ کی فرمانبرداری سے رک گئے، پھر سب نے کہا کہ کوئی شک نہیں ہماری سرکشی حد سے بڑھ گئی اسی وجہ سے اللہ کا عذاب آیا، پھر کہتے ہیں شاید ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے یعنی دنیا میں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آخرت کے خیال سے انہوں نے یہ کہا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» بعض سلف کا قول ہے کہ یہ واقعہ اہل یمن کا ہے، سعید بن جیبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ لوگ ضروان کے رہنے والے تھے جو صنعاء سے چھ میل کے فاصلہ پر ایک بستی ہے اور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اہل حبشہ تھے۔ مذہباً اہل کتاب تھے یہ باغ انہیں ان کے باپ کے ورثے میں ملا تھا اس کا یہ دستور تھا کہ باغ کی پیداوار میں سے باغ کا خرچ نکال کر اپنے اور اپنے بال بچوں کے لیے سال بھر کا خرچ رکھ کر باقی نفع اللہ کے نام صدقہ کر دیتا تھا اس کے انتقال کے بعد ان بچوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ ہمارا باپ تو بے وقوف تھا جو اتنی بڑی رقم ہر سال ادھر ادھر دے دیتا تھا ہم ان فقیروں کو اگر نہ دیں اور اپنا مال باقاعدہ سنبھالیں تو بہت جلد دولت مند بن جائیں یہ ارادہ انہوں نے پختہ کر لیا تو ان پر وہ عذاب آیا جس نے اصل مال بھی تباہ کر دیا اور بالکل خالی ہاتھ رہ گئے۔ پھر فرماتا ہے ’ جو شخص بھی اللہ کے حکموں کے خلاف کرے اور اللہ کی نعمتوں میں بخل کرے اور مسکینوں محتاجوں کا حق ادا نہ کرے اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرے اس پر اسی طرح کے عذاب نازل ہوتے ہیں اور یہ تو دنیوی عذاب ہیں آخرت کے عذاب تو ابھی باقی ہیں جو سخت تر اور بدتر ہیں ‘۔ بیہقی کی ایک حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت کھیتی کاٹنے اور باغ کے پھل اتارنے سے منع فرما دیا ہے }۔ ۱؎ [السنن الکبری للبیھقی:9/298-290:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏
27۔ 1 پھر جب غور کیا تو جان گئے کہ یہ آفت زدہ اور تباہ شدہ باغ ہمارا ہی ہے جسے اللہ نے ہمارے طرز عمل کی پاداش میں ایسا کردیا اور واقعی یہ ہماری بدنصیبی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
قَالَ اَوۡسَطُہُمۡ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّکُمۡ لَوۡ لَا تُسَبِّحُوۡنَ ﴿۲۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُن میں جو سب سے بہتر آدمی تھا اُس نے کہا "میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
ان سب میں جو بہتر تھا اس نے کہا کہ میں تم سے نہ کہتا تھا کہ تم اللہ کی پاکیزگی کیوں نہیں بیان کرتے؟
احمد رضا خان بریلوی
ان میں جو سب سے غنیمت تھا بولا کیا میں تم سے نہیں کہتا تھا کہ تسبیح کیوں نہیں کرتے
علامہ محمد حسین نجفی
جو ان میں سے بہتر آدمی تھا اس نے کہا کہ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ (خدا کی) تسبیح کیوں نہیں کرتے؟
عبدالسلام بن محمد
ان میں سے بہتر نے کہا کیا میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
لیکن جب وہاں پہنچے تو ہکا بکا رہ گئے، کہ لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ میوؤں سے لدے ہوئے درخت اور پکے ہوئے پھل سب غارت اور برباد ہو چکے ہیں سارے باغ میں آندھی پھر گئی ہے اور کل باغ میوؤں سمیت جل کر کوئلہ ہو گیا ہے، کوئی پھل نصف دام کا بھی نہیں رہا، ساری تروتازگی پژمردگی سے بدل گئی ہے، باغ سارا کا سارا جل کر راکھ ہو گیا ہے درختوں کے کالے کالے ڈراؤنے ٹنڈ کھڑے ہوئے ہیں، پہلے تو سمجھے کہ ہم راہ بھول گئے کسی اور باغ میں چلے آئے اور یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ ہمارا طریقہ کار غلط تھا جس کا یہ نتیجہ ہے۔ پھر بغور دیکھنے سے جب یقین ہو گیا کہ باغ تو ہمارا ہی ہے تب سمجھ گئے اور کہنے لگے، ہے تو یہی لیکن ہم بدقسمت ہیں، ہمارے نصیب میں ہی اس کا پھل اور فائدہ نہیں، ان سب میں جو عدل و انصاف والا اور بھلائی اور بہتری والا تھا وہ بول پڑا کہ دیکھو میں تو پہلے ہی تم سے کہتا تھا کہ تم ان شاء اللہ کیوں نہیں کہتے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان کے زمانہ میں سبحان اللہ کہنا بھی ان شاء اللہ کہنے کے قائم مقام تھا۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کے معنی ہی ان شاء اللہ کہنے کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بہتر شخص نے ان سے کہا کہ دیکھو میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم کیوں اللہ کی پاکیزگی اور اس کی حمد و ثناء نہیں کرتے؟ یہ سن کر اب وہ کہنے لگے ہمارا رب پاک ہے، بیشک ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اب اطاعت بجا لائے جبکہ عذاب پہنچ چکا، اب اپنی تقصیر کو مانا جب سزا دے دی گئی، اب تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے بہت ہی برا کیا کہ مسکینوں کا حق مارنا چاہا اور اللہ کی فرمانبرداری سے رک گئے، پھر سب نے کہا کہ کوئی شک نہیں ہماری سرکشی حد سے بڑھ گئی اسی وجہ سے اللہ کا عذاب آیا، پھر کہتے ہیں شاید ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے یعنی دنیا میں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آخرت کے خیال سے انہوں نے یہ کہا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» بعض سلف کا قول ہے کہ یہ واقعہ اہل یمن کا ہے، سعید بن جیبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ لوگ ضروان کے رہنے والے تھے جو صنعاء سے چھ میل کے فاصلہ پر ایک بستی ہے اور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اہل حبشہ تھے۔ مذہباً اہل کتاب تھے یہ باغ انہیں ان کے باپ کے ورثے میں ملا تھا اس کا یہ دستور تھا کہ باغ کی پیداوار میں سے باغ کا خرچ نکال کر اپنے اور اپنے بال بچوں کے لیے سال بھر کا خرچ رکھ کر باقی نفع اللہ کے نام صدقہ کر دیتا تھا اس کے انتقال کے بعد ان بچوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ ہمارا باپ تو بے وقوف تھا جو اتنی بڑی رقم ہر سال ادھر ادھر دے دیتا تھا ہم ان فقیروں کو اگر نہ دیں اور اپنا مال باقاعدہ سنبھالیں تو بہت جلد دولت مند بن جائیں یہ ارادہ انہوں نے پختہ کر لیا تو ان پر وہ عذاب آیا جس نے اصل مال بھی تباہ کر دیا اور بالکل خالی ہاتھ رہ گئے۔ پھر فرماتا ہے ’ جو شخص بھی اللہ کے حکموں کے خلاف کرے اور اللہ کی نعمتوں میں بخل کرے اور مسکینوں محتاجوں کا حق ادا نہ کرے اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرے اس پر اسی طرح کے عذاب نازل ہوتے ہیں اور یہ تو دنیوی عذاب ہیں آخرت کے عذاب تو ابھی باقی ہیں جو سخت تر اور بدتر ہیں ‘۔ بیہقی کی ایک حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت کھیتی کاٹنے اور باغ کے پھل اتارنے سے منع فرما دیا ہے }۔ ۱؎ [السنن الکبری للبیھقی:9/298-290:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏
28۔ 1 بعض نے تسبیح سے مراد انشاء اللہ کہنا مراد لیا ہے۔
(آیت 29،28) {قَالَ اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ …: ” اَوْسَطُهُمْ “} کا معنی ان کے درمیان والا بھی ہے اور ان میں سے افضل بھی، جیسے فرمایا: «وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۱۴۳ ] ”اور اسی طرح ہم نے تمھیں سب سے بہتر امت بنایا۔“ تو ان میں سے جو بہتر تھا اس نے انھیں ان کے خبیث ارادے کے وقت نصیحت کی تھی {” لَوْ لَا تُسَبِّحُوْنَ “} کہ تم اللہ کی تسبیح کیوں نہیں کرتے اور اس بری نیت سے توبہ کیوں نہیں کرتے؟ مگر انھوں نے اس کی بات نہیں مانی تھی، اب اس نے انھیں وہ بات یاد دلائی۔ {” لَوْ لَا تُسَبِّحُوْنَ “} کا معنی بعض نے یہ کیا ہے کہ ”تم ان شاء اللہ کیوں نہیں کہتے؟“ مگر سارا پھل توڑنے کا ارادہ کر کے ”ان شاء اللہ“ پڑھ بھی لیتے تو کچھ فائدہ نہ تھا، اس لیے یہی معنی درست معلوم ہوتا ہے کہ اس نے کہا تم اپنے رب کو یاد کیوں نہیں کرتے، اس کا ہر عیب سے پاک ہونا خصوصاً اس قسم کے بخل سے اور مسکینوں کو محروم کرنے کے ارادے سے پاک ہونا کیوں یاد نہیں کرتے کہ تم بھی اس بخل اور کمینگی سے بچ جاؤ۔ اس معنی کے درست ہونے کا ایک قرینہ یہ ہے کہ جب ان کے بھائی نے انھیں اپنی بات یاد دلائی تو انھوں نے {” سُبْحٰنَ رَبِّنَا“} کہہ کر اس وقت ”سبحان اللہ “نہ کہنے کی تلافی کی کوشش کی۔
قَالُوۡا سُبۡحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا کُنَّا ظٰلِمِیۡنَ ﴿۲۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
و ہ پکار اٹھے پاک ہے ہمارا رب، واقعی ہم گناہ گار تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
تو سب کہنے لگے ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم ہی ﻇالم تھے
احمد رضا خان بریلوی
بولے پاکی ہے ہمارے رب کو بیشک ہم ظالم تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
(تب) انہوں نے کہا کہ پاک ہے ہمارا پروردگار بےشک ہم ظالم تھے۔
عبدالسلام بن محمد
انھوں نے کہا ہمارا رب پاک ہے، بلاشبہ ہم ہی ظالم تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
لیکن جب وہاں پہنچے تو ہکا بکا رہ گئے، کہ لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ میوؤں سے لدے ہوئے درخت اور پکے ہوئے پھل سب غارت اور برباد ہو چکے ہیں سارے باغ میں آندھی پھر گئی ہے اور کل باغ میوؤں سمیت جل کر کوئلہ ہو گیا ہے، کوئی پھل نصف دام کا بھی نہیں رہا، ساری تروتازگی پژمردگی سے بدل گئی ہے، باغ سارا کا سارا جل کر راکھ ہو گیا ہے درختوں کے کالے کالے ڈراؤنے ٹنڈ کھڑے ہوئے ہیں، پہلے تو سمجھے کہ ہم راہ بھول گئے کسی اور باغ میں چلے آئے اور یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ ہمارا طریقہ کار غلط تھا جس کا یہ نتیجہ ہے۔ پھر بغور دیکھنے سے جب یقین ہو گیا کہ باغ تو ہمارا ہی ہے تب سمجھ گئے اور کہنے لگے، ہے تو یہی لیکن ہم بدقسمت ہیں، ہمارے نصیب میں ہی اس کا پھل اور فائدہ نہیں، ان سب میں جو عدل و انصاف والا اور بھلائی اور بہتری والا تھا وہ بول پڑا کہ دیکھو میں تو پہلے ہی تم سے کہتا تھا کہ تم ان شاء اللہ کیوں نہیں کہتے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان کے زمانہ میں سبحان اللہ کہنا بھی ان شاء اللہ کہنے کے قائم مقام تھا۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کے معنی ہی ان شاء اللہ کہنے کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بہتر شخص نے ان سے کہا کہ دیکھو میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم کیوں اللہ کی پاکیزگی اور اس کی حمد و ثناء نہیں کرتے؟ یہ سن کر اب وہ کہنے لگے ہمارا رب پاک ہے، بیشک ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اب اطاعت بجا لائے جبکہ عذاب پہنچ چکا، اب اپنی تقصیر کو مانا جب سزا دے دی گئی، اب تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے بہت ہی برا کیا کہ مسکینوں کا حق مارنا چاہا اور اللہ کی فرمانبرداری سے رک گئے، پھر سب نے کہا کہ کوئی شک نہیں ہماری سرکشی حد سے بڑھ گئی اسی وجہ سے اللہ کا عذاب آیا، پھر کہتے ہیں شاید ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے یعنی دنیا میں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آخرت کے خیال سے انہوں نے یہ کہا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» بعض سلف کا قول ہے کہ یہ واقعہ اہل یمن کا ہے، سعید بن جیبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ لوگ ضروان کے رہنے والے تھے جو صنعاء سے چھ میل کے فاصلہ پر ایک بستی ہے اور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اہل حبشہ تھے۔ مذہباً اہل کتاب تھے یہ باغ انہیں ان کے باپ کے ورثے میں ملا تھا اس کا یہ دستور تھا کہ باغ کی پیداوار میں سے باغ کا خرچ نکال کر اپنے اور اپنے بال بچوں کے لیے سال بھر کا خرچ رکھ کر باقی نفع اللہ کے نام صدقہ کر دیتا تھا اس کے انتقال کے بعد ان بچوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ ہمارا باپ تو بے وقوف تھا جو اتنی بڑی رقم ہر سال ادھر ادھر دے دیتا تھا ہم ان فقیروں کو اگر نہ دیں اور اپنا مال باقاعدہ سنبھالیں تو بہت جلد دولت مند بن جائیں یہ ارادہ انہوں نے پختہ کر لیا تو ان پر وہ عذاب آیا جس نے اصل مال بھی تباہ کر دیا اور بالکل خالی ہاتھ رہ گئے۔ پھر فرماتا ہے ’ جو شخص بھی اللہ کے حکموں کے خلاف کرے اور اللہ کی نعمتوں میں بخل کرے اور مسکینوں محتاجوں کا حق ادا نہ کرے اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرے اس پر اسی طرح کے عذاب نازل ہوتے ہیں اور یہ تو دنیوی عذاب ہیں آخرت کے عذاب تو ابھی باقی ہیں جو سخت تر اور بدتر ہیں ‘۔ بیہقی کی ایک حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت کھیتی کاٹنے اور باغ کے پھل اتارنے سے منع فرما دیا ہے }۔ ۱؎ [السنن الکبری للبیھقی:9/298-290:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏
29۔ 1 یعنی اب انہیں احساس ہوا کہ ہم نے اپنے باپ کے طرز عمل کے خلاف قدم اٹھا کر غلطی کا ارتکاب کیا ہے جس کی سزا اللہ نے ہمیں دی ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ معصیت کا عزم اور اس کے لیے ابتدائی اقدامات بھی ارتکاب معصیت کی طرح جرم ہے جس پر مؤاخذہ ہوسکتا ہے صرف وہ ارادہ معاف ہے جو وسوسے کی حد تک ہو۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَاَقۡبَلَ بَعۡضُہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ یَّتَلَاوَمُوۡنَ ﴿۳۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر اُن میں سے ہر ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگا
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر وه ایک دوسرے کی طرف رخ کر کے آپس میں ملامت کرنے لگے
احمد رضا خان بریلوی
اب ایک دوسرے کی طرف ملامت کرتا متوجہ ہوا
علامہ محمد حسین نجفی
پھر وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر باہم لعنت ملامت کرنے لگے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر ان کا ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوا،آپس میں ملامت کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
لیکن جب وہاں پہنچے تو ہکا بکا رہ گئے، کہ لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ میوؤں سے لدے ہوئے درخت اور پکے ہوئے پھل سب غارت اور برباد ہو چکے ہیں سارے باغ میں آندھی پھر گئی ہے اور کل باغ میوؤں سمیت جل کر کوئلہ ہو گیا ہے، کوئی پھل نصف دام کا بھی نہیں رہا، ساری تروتازگی پژمردگی سے بدل گئی ہے، باغ سارا کا سارا جل کر راکھ ہو گیا ہے درختوں کے کالے کالے ڈراؤنے ٹنڈ کھڑے ہوئے ہیں، پہلے تو سمجھے کہ ہم راہ بھول گئے کسی اور باغ میں چلے آئے اور یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ ہمارا طریقہ کار غلط تھا جس کا یہ نتیجہ ہے۔ پھر بغور دیکھنے سے جب یقین ہو گیا کہ باغ تو ہمارا ہی ہے تب سمجھ گئے اور کہنے لگے، ہے تو یہی لیکن ہم بدقسمت ہیں، ہمارے نصیب میں ہی اس کا پھل اور فائدہ نہیں، ان سب میں جو عدل و انصاف والا اور بھلائی اور بہتری والا تھا وہ بول پڑا کہ دیکھو میں تو پہلے ہی تم سے کہتا تھا کہ تم ان شاء اللہ کیوں نہیں کہتے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان کے زمانہ میں سبحان اللہ کہنا بھی ان شاء اللہ کہنے کے قائم مقام تھا۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کے معنی ہی ان شاء اللہ کہنے کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بہتر شخص نے ان سے کہا کہ دیکھو میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم کیوں اللہ کی پاکیزگی اور اس کی حمد و ثناء نہیں کرتے؟ یہ سن کر اب وہ کہنے لگے ہمارا رب پاک ہے، بیشک ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اب اطاعت بجا لائے جبکہ عذاب پہنچ چکا، اب اپنی تقصیر کو مانا جب سزا دے دی گئی، اب تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے بہت ہی برا کیا کہ مسکینوں کا حق مارنا چاہا اور اللہ کی فرمانبرداری سے رک گئے، پھر سب نے کہا کہ کوئی شک نہیں ہماری سرکشی حد سے بڑھ گئی اسی وجہ سے اللہ کا عذاب آیا، پھر کہتے ہیں شاید ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے یعنی دنیا میں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آخرت کے خیال سے انہوں نے یہ کہا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» بعض سلف کا قول ہے کہ یہ واقعہ اہل یمن کا ہے، سعید بن جیبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ لوگ ضروان کے رہنے والے تھے جو صنعاء سے چھ میل کے فاصلہ پر ایک بستی ہے اور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اہل حبشہ تھے۔ مذہباً اہل کتاب تھے یہ باغ انہیں ان کے باپ کے ورثے میں ملا تھا اس کا یہ دستور تھا کہ باغ کی پیداوار میں سے باغ کا خرچ نکال کر اپنے اور اپنے بال بچوں کے لیے سال بھر کا خرچ رکھ کر باقی نفع اللہ کے نام صدقہ کر دیتا تھا اس کے انتقال کے بعد ان بچوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ ہمارا باپ تو بے وقوف تھا جو اتنی بڑی رقم ہر سال ادھر ادھر دے دیتا تھا ہم ان فقیروں کو اگر نہ دیں اور اپنا مال باقاعدہ سنبھالیں تو بہت جلد دولت مند بن جائیں یہ ارادہ انہوں نے پختہ کر لیا تو ان پر وہ عذاب آیا جس نے اصل مال بھی تباہ کر دیا اور بالکل خالی ہاتھ رہ گئے۔ پھر فرماتا ہے ’ جو شخص بھی اللہ کے حکموں کے خلاف کرے اور اللہ کی نعمتوں میں بخل کرے اور مسکینوں محتاجوں کا حق ادا نہ کرے اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرے اس پر اسی طرح کے عذاب نازل ہوتے ہیں اور یہ تو دنیوی عذاب ہیں آخرت کے عذاب تو ابھی باقی ہیں جو سخت تر اور بدتر ہیں ‘۔ بیہقی کی ایک حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت کھیتی کاٹنے اور باغ کے پھل اتارنے سے منع فرما دیا ہے }۔ ۱؎ [السنن الکبری للبیھقی:9/298-290:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 30تا32) {فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ …: ” يَتَلَاوَمُوْنَ”لَامَ يَلُوْمُ“} سے باب تفاعل ہے جس کے معنی میں تشارک ہوتا ہے، ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔ {” طٰغِيْنَ”طَغٰي يَطْغٰي“} (ف) سے اسم فاعل کی جمع ہے۔ اب ان میں سے ہر ایک نے دوسرے کو ملامت شروع کر دی، کوئی کسی کو قصور وار ٹھہراتا تو کوئی کسی کو، پھر خود ہی کہنے لگے کہ ہائے ہماری بربادی! ہم ہی حد سے بڑھ گئے تھے کہ اللہ کے مال کو اپنا مال سمجھ بیٹھے اور حق دار کو محروم کرنے کے منصوبے بنانے لگے۔ اب ہم توبہ کرتے ہیں، اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اپنے رب سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ہمیں اس کے بدلے میں اس سے بہتر عطا فرمائے گا۔
قَالُوۡا یٰوَیۡلَنَاۤ اِنَّا کُنَّا طٰغِیۡنَ ﴿۳۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
آخر کو انہوں نے کہا "افسوس ہمارے حال پر، بے شک ہم سرکش ہو گئے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
کہنے لگے ہائے افسوس! یقیناً ہم سرکش تھے
احمد رضا خان بریلوی
بولے ہائے خرابی ہماری بیشک ہم سرکش تھے
علامہ محمد حسین نجفی
(اور) کہنے لگے وائے ہو ہم پر! بےشک ہم سرکش ہو گئے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
انھوں نے کہا ہائے ہماری ہلاکت! یقینا ہم ہی حد سے بڑھے ہوئے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
لیکن جب وہاں پہنچے تو ہکا بکا رہ گئے، کہ لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ میوؤں سے لدے ہوئے درخت اور پکے ہوئے پھل سب غارت اور برباد ہو چکے ہیں سارے باغ میں آندھی پھر گئی ہے اور کل باغ میوؤں سمیت جل کر کوئلہ ہو گیا ہے، کوئی پھل نصف دام کا بھی نہیں رہا، ساری تروتازگی پژمردگی سے بدل گئی ہے، باغ سارا کا سارا جل کر راکھ ہو گیا ہے درختوں کے کالے کالے ڈراؤنے ٹنڈ کھڑے ہوئے ہیں، پہلے تو سمجھے کہ ہم راہ بھول گئے کسی اور باغ میں چلے آئے اور یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ ہمارا طریقہ کار غلط تھا جس کا یہ نتیجہ ہے۔ پھر بغور دیکھنے سے جب یقین ہو گیا کہ باغ تو ہمارا ہی ہے تب سمجھ گئے اور کہنے لگے، ہے تو یہی لیکن ہم بدقسمت ہیں، ہمارے نصیب میں ہی اس کا پھل اور فائدہ نہیں، ان سب میں جو عدل و انصاف والا اور بھلائی اور بہتری والا تھا وہ بول پڑا کہ دیکھو میں تو پہلے ہی تم سے کہتا تھا کہ تم ان شاء اللہ کیوں نہیں کہتے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان کے زمانہ میں سبحان اللہ کہنا بھی ان شاء اللہ کہنے کے قائم مقام تھا۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کے معنی ہی ان شاء اللہ کہنے کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بہتر شخص نے ان سے کہا کہ دیکھو میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم کیوں اللہ کی پاکیزگی اور اس کی حمد و ثناء نہیں کرتے؟ یہ سن کر اب وہ کہنے لگے ہمارا رب پاک ہے، بیشک ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اب اطاعت بجا لائے جبکہ عذاب پہنچ چکا، اب اپنی تقصیر کو مانا جب سزا دے دی گئی، اب تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے بہت ہی برا کیا کہ مسکینوں کا حق مارنا چاہا اور اللہ کی فرمانبرداری سے رک گئے، پھر سب نے کہا کہ کوئی شک نہیں ہماری سرکشی حد سے بڑھ گئی اسی وجہ سے اللہ کا عذاب آیا، پھر کہتے ہیں شاید ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے یعنی دنیا میں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آخرت کے خیال سے انہوں نے یہ کہا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» بعض سلف کا قول ہے کہ یہ واقعہ اہل یمن کا ہے، سعید بن جیبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ لوگ ضروان کے رہنے والے تھے جو صنعاء سے چھ میل کے فاصلہ پر ایک بستی ہے اور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اہل حبشہ تھے۔ مذہباً اہل کتاب تھے یہ باغ انہیں ان کے باپ کے ورثے میں ملا تھا اس کا یہ دستور تھا کہ باغ کی پیداوار میں سے باغ کا خرچ نکال کر اپنے اور اپنے بال بچوں کے لیے سال بھر کا خرچ رکھ کر باقی نفع اللہ کے نام صدقہ کر دیتا تھا اس کے انتقال کے بعد ان بچوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ ہمارا باپ تو بے وقوف تھا جو اتنی بڑی رقم ہر سال ادھر ادھر دے دیتا تھا ہم ان فقیروں کو اگر نہ دیں اور اپنا مال باقاعدہ سنبھالیں تو بہت جلد دولت مند بن جائیں یہ ارادہ انہوں نے پختہ کر لیا تو ان پر وہ عذاب آیا جس نے اصل مال بھی تباہ کر دیا اور بالکل خالی ہاتھ رہ گئے۔ پھر فرماتا ہے ’ جو شخص بھی اللہ کے حکموں کے خلاف کرے اور اللہ کی نعمتوں میں بخل کرے اور مسکینوں محتاجوں کا حق ادا نہ کرے اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرے اس پر اسی طرح کے عذاب نازل ہوتے ہیں اور یہ تو دنیوی عذاب ہیں آخرت کے عذاب تو ابھی باقی ہیں جو سخت تر اور بدتر ہیں ‘۔ بیہقی کی ایک حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت کھیتی کاٹنے اور باغ کے پھل اتارنے سے منع فرما دیا ہے }۔ ۱؎ [السنن الکبری للبیھقی:9/298-290:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
عَسٰی رَبُّنَاۤ اَنۡ یُّبۡدِلَنَا خَیۡرًا مِّنۡہَاۤ اِنَّاۤ اِلٰی رَبِّنَا رٰغِبُوۡنَ ﴿۳۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بعید نہیں کہ ہمارا رب ہمیں بدلے میں اِس سے بہتر باغ عطا فرمائے، ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا عجب ہے کہ ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے دے ہم تو اب اپنے رب سے ہی آرزو رکھتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
امید ہے ہمیں ہمارا رب اس سے بہتر بدل دے ہم اپنے رب کی طرف رغبت لاتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
امید ہے کہ ہمارا پروردگار ہمیں اس (باغ) کے بدلے اس سے بہتر باغ عطا کر دے ہم اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
امید ہے کہ ہمارا رب ہمیں اس کے بدلے میں اس سے بہتر عطا فرمائے گا۔یقینا (اب) ہم اپنے رب ہی کی طرف راغب ہونے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
لیکن جب وہاں پہنچے تو ہکا بکا رہ گئے، کہ لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ میوؤں سے لدے ہوئے درخت اور پکے ہوئے پھل سب غارت اور برباد ہو چکے ہیں سارے باغ میں آندھی پھر گئی ہے اور کل باغ میوؤں سمیت جل کر کوئلہ ہو گیا ہے، کوئی پھل نصف دام کا بھی نہیں رہا، ساری تروتازگی پژمردگی سے بدل گئی ہے، باغ سارا کا سارا جل کر راکھ ہو گیا ہے درختوں کے کالے کالے ڈراؤنے ٹنڈ کھڑے ہوئے ہیں، پہلے تو سمجھے کہ ہم راہ بھول گئے کسی اور باغ میں چلے آئے اور یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ ہمارا طریقہ کار غلط تھا جس کا یہ نتیجہ ہے۔ پھر بغور دیکھنے سے جب یقین ہو گیا کہ باغ تو ہمارا ہی ہے تب سمجھ گئے اور کہنے لگے، ہے تو یہی لیکن ہم بدقسمت ہیں، ہمارے نصیب میں ہی اس کا پھل اور فائدہ نہیں، ان سب میں جو عدل و انصاف والا اور بھلائی اور بہتری والا تھا وہ بول پڑا کہ دیکھو میں تو پہلے ہی تم سے کہتا تھا کہ تم ان شاء اللہ کیوں نہیں کہتے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان کے زمانہ میں سبحان اللہ کہنا بھی ان شاء اللہ کہنے کے قائم مقام تھا۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کے معنی ہی ان شاء اللہ کہنے کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بہتر شخص نے ان سے کہا کہ دیکھو میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم کیوں اللہ کی پاکیزگی اور اس کی حمد و ثناء نہیں کرتے؟ یہ سن کر اب وہ کہنے لگے ہمارا رب پاک ہے، بیشک ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اب اطاعت بجا لائے جبکہ عذاب پہنچ چکا، اب اپنی تقصیر کو مانا جب سزا دے دی گئی، اب تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے بہت ہی برا کیا کہ مسکینوں کا حق مارنا چاہا اور اللہ کی فرمانبرداری سے رک گئے، پھر سب نے کہا کہ کوئی شک نہیں ہماری سرکشی حد سے بڑھ گئی اسی وجہ سے اللہ کا عذاب آیا، پھر کہتے ہیں شاید ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے یعنی دنیا میں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آخرت کے خیال سے انہوں نے یہ کہا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» بعض سلف کا قول ہے کہ یہ واقعہ اہل یمن کا ہے، سعید بن جیبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ لوگ ضروان کے رہنے والے تھے جو صنعاء سے چھ میل کے فاصلہ پر ایک بستی ہے اور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اہل حبشہ تھے۔ مذہباً اہل کتاب تھے یہ باغ انہیں ان کے باپ کے ورثے میں ملا تھا اس کا یہ دستور تھا کہ باغ کی پیداوار میں سے باغ کا خرچ نکال کر اپنے اور اپنے بال بچوں کے لیے سال بھر کا خرچ رکھ کر باقی نفع اللہ کے نام صدقہ کر دیتا تھا اس کے انتقال کے بعد ان بچوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ ہمارا باپ تو بے وقوف تھا جو اتنی بڑی رقم ہر سال ادھر ادھر دے دیتا تھا ہم ان فقیروں کو اگر نہ دیں اور اپنا مال باقاعدہ سنبھالیں تو بہت جلد دولت مند بن جائیں یہ ارادہ انہوں نے پختہ کر لیا تو ان پر وہ عذاب آیا جس نے اصل مال بھی تباہ کر دیا اور بالکل خالی ہاتھ رہ گئے۔ پھر فرماتا ہے ’ جو شخص بھی اللہ کے حکموں کے خلاف کرے اور اللہ کی نعمتوں میں بخل کرے اور مسکینوں محتاجوں کا حق ادا نہ کرے اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرے اس پر اسی طرح کے عذاب نازل ہوتے ہیں اور یہ تو دنیوی عذاب ہیں آخرت کے عذاب تو ابھی باقی ہیں جو سخت تر اور بدتر ہیں ‘۔ بیہقی کی ایک حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت کھیتی کاٹنے اور باغ کے پھل اتارنے سے منع فرما دیا ہے }۔ ۱؎ [السنن الکبری للبیھقی:9/298-290:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏
32۔ 1 کہتے ہیں کہ انہوں نے آپس میں عہد کیا کہ اب اگر اللہ نے ہمیں مال دیا تو اپنے باپ کی طرح اس میں سے غربا اور مساکین کا حق ادا کریں گے۔ اسلئے ندامت اور توبہ کے ساتھ رب سے امیدیں بھی وابستہ کیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
کَذٰلِکَ الۡعَذَابُ ؕ وَ لَعَذَابُ الۡاٰخِرَۃِ اَکۡبَرُ ۘ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿٪۳۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ایسا ہوتا ہے عذاب اور آخرت کا عذاب اِس سے بھی بڑا ہے، کاش یہ لوگ اِس کو جانتے
مولانا محمد جوناگڑھی
یوں ہی آفت آتی ہے اور آخرت کی آفت بہت بڑی ہے۔ کاش انہیں سمجھ ہوتی
احمد رضا خان بریلوی
مار ایسی ہوتی ہے اور بیشک آخرت کی مار سب سے بڑی، کیا اچھا تھا اگر وہ جانتے
علامہ محمد حسین نجفی
اسی طرح عذاب آتا ہے اور آخرت کا عذاب تو (اس سے بھی) بہت بڑا ہے کاش کہ یہ لوگ جانتے۔
عبدالسلام بن محمد
اسی طرح (ہوتا) ہے عذاب۔ اور یقینا آخرت کا عذاب کہیں بڑا ہے، کاش ! وہ جانتے ہوتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
لیکن جب وہاں پہنچے تو ہکا بکا رہ گئے، کہ لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ میوؤں سے لدے ہوئے درخت اور پکے ہوئے پھل سب غارت اور برباد ہو چکے ہیں سارے باغ میں آندھی پھر گئی ہے اور کل باغ میوؤں سمیت جل کر کوئلہ ہو گیا ہے، کوئی پھل نصف دام کا بھی نہیں رہا، ساری تروتازگی پژمردگی سے بدل گئی ہے، باغ سارا کا سارا جل کر راکھ ہو گیا ہے درختوں کے کالے کالے ڈراؤنے ٹنڈ کھڑے ہوئے ہیں، پہلے تو سمجھے کہ ہم راہ بھول گئے کسی اور باغ میں چلے آئے اور یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ ہمارا طریقہ کار غلط تھا جس کا یہ نتیجہ ہے۔ پھر بغور دیکھنے سے جب یقین ہو گیا کہ باغ تو ہمارا ہی ہے تب سمجھ گئے اور کہنے لگے، ہے تو یہی لیکن ہم بدقسمت ہیں، ہمارے نصیب میں ہی اس کا پھل اور فائدہ نہیں، ان سب میں جو عدل و انصاف والا اور بھلائی اور بہتری والا تھا وہ بول پڑا کہ دیکھو میں تو پہلے ہی تم سے کہتا تھا کہ تم ان شاء اللہ کیوں نہیں کہتے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان کے زمانہ میں سبحان اللہ کہنا بھی ان شاء اللہ کہنے کے قائم مقام تھا۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کے معنی ہی ان شاء اللہ کہنے کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بہتر شخص نے ان سے کہا کہ دیکھو میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم کیوں اللہ کی پاکیزگی اور اس کی حمد و ثناء نہیں کرتے؟ یہ سن کر اب وہ کہنے لگے ہمارا رب پاک ہے، بیشک ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اب اطاعت بجا لائے جبکہ عذاب پہنچ چکا، اب اپنی تقصیر کو مانا جب سزا دے دی گئی، اب تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے بہت ہی برا کیا کہ مسکینوں کا حق مارنا چاہا اور اللہ کی فرمانبرداری سے رک گئے، پھر سب نے کہا کہ کوئی شک نہیں ہماری سرکشی حد سے بڑھ گئی اسی وجہ سے اللہ کا عذاب آیا، پھر کہتے ہیں شاید ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے یعنی دنیا میں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آخرت کے خیال سے انہوں نے یہ کہا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» بعض سلف کا قول ہے کہ یہ واقعہ اہل یمن کا ہے، سعید بن جیبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ لوگ ضروان کے رہنے والے تھے جو صنعاء سے چھ میل کے فاصلہ پر ایک بستی ہے اور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اہل حبشہ تھے۔ مذہباً اہل کتاب تھے یہ باغ انہیں ان کے باپ کے ورثے میں ملا تھا اس کا یہ دستور تھا کہ باغ کی پیداوار میں سے باغ کا خرچ نکال کر اپنے اور اپنے بال بچوں کے لیے سال بھر کا خرچ رکھ کر باقی نفع اللہ کے نام صدقہ کر دیتا تھا اس کے انتقال کے بعد ان بچوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ ہمارا باپ تو بے وقوف تھا جو اتنی بڑی رقم ہر سال ادھر ادھر دے دیتا تھا ہم ان فقیروں کو اگر نہ دیں اور اپنا مال باقاعدہ سنبھالیں تو بہت جلد دولت مند بن جائیں یہ ارادہ انہوں نے پختہ کر لیا تو ان پر وہ عذاب آیا جس نے اصل مال بھی تباہ کر دیا اور بالکل خالی ہاتھ رہ گئے۔ پھر فرماتا ہے ’ جو شخص بھی اللہ کے حکموں کے خلاف کرے اور اللہ کی نعمتوں میں بخل کرے اور مسکینوں محتاجوں کا حق ادا نہ کرے اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرے اس پر اسی طرح کے عذاب نازل ہوتے ہیں اور یہ تو دنیوی عذاب ہیں آخرت کے عذاب تو ابھی باقی ہیں جو سخت تر اور بدتر ہیں ‘۔ بیہقی کی ایک حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت کھیتی کاٹنے اور باغ کے پھل اتارنے سے منع فرما دیا ہے }۔ ۱؎ [السنن الکبری للبیھقی:9/298-290:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏
یعنی اللہ کے حکم کی مخالفت اور اللہ کے دیے مال میں بخل کرنے والوں کو ہم دنیا میں اسی طرح عذاب دیتے ہیں۔ 33۔ 1 لیکن افسوس وہ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے، اس لئے پروا نہیں کرتے۔
(آیت 33) {كَذٰلِكَ الْعَذَابُ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ …:} اہلِ مکہ کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ نعمت کی نا شکری پر عذاب اس طرح ہوتا ہے جس طرح باغ والوں پر آیا اور آخرت کا عذاب تو اس سے کہیں بڑا ہے، کیونکہ دنیا کے عذاب کے بعد تو توبہ و استغفار کی گنجائش ہے، جیسا کہ اس باغ والوں نے توبہ کرلی اور توبہ کے بعد عذاب سے ہونے والے نقصان کی تلافی کی بھی امید ہے، جیساکہ باغ والوں نے بہتر باغ ملنے کی امید رکھی، مگر آخرت کے عذاب کے بعد ان میں سے کسی چیز کی گنجائش نہیں۔
اِنَّ لِلۡمُتَّقِیۡنَ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ جَنّٰتِ النَّعِیۡمِ ﴿۳۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یقیناً خدا ترس لوگوں کے لیے اُن کے رب کے ہاں نعمت بھری جنتیں ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
پرہیزگاروں کے لیے ان کے رب کے پاس نعمتوں والی جنتیں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ڈر والوں کے لیے ان کے رب کے پاس چین کے باغ ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک پرہیزگاروں کیلئے ان کے پروردگار کے ہاں نعمت و آسائش کے باغات ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ ڈرنے والوں کے لیے ان کے رب کے ہاں نعمت والے باغات ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے ٭٭

اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لیے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں۔ پھر فرماتا ہے ’ کیا ہو سکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہو جائیں؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہو سکتا، کیا ہو گیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور گزشتہ لوگوں کے ہاتھوں تم پچھلوں تک پہنچتی ہو اور اس میں وہی ہو جو تمہاری چاہت ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ ہمارا کوئی مضبوط وعدہ اور عہد تم سے ہے کہ تم جو کہہ رہے ہو وہی ہو گا اور تمہاری بے جا اور غلط خواہشیں پوری ہو کر ہی رہیں گی؟ ان سے ذرا پوچھو تو کہ اس بات کا کون ضامن ہے اور کس کے ذمے یہ کفالت ہے؟ نہ سہی تمہارے جو جھوٹے معبود ہیں انہی کو اپنی سچائی کے ثبوت میں پیش کرو ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 34){ اِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ:} پچھلی آیات میں بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے نہ ڈرنے کی پاداش میں کس طرح باغ والوں کا باغ برباد ہوا اور آخرت کا عذاب تو اس سے بھی بڑا ہے۔ دنیا کے باغ کے بعد آخرت کے باغات کا ذکر کیا اور فرمایا کہ رب تعالیٰ سے ڈرنے والوں کے لیے ان کے رب کے پاس ایک نہیں بلکہ نعمت والے کئی باغ ہیں۔
اَفَنَجۡعَلُ الۡمُسۡلِمِیۡنَ کَالۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿ؕ۳۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا ہم فرماں برداروں کا حال مجرموں کا سا کر دیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا ہم مسلمانوں کو مثل گناه گاروں کے کردیں گے
احمد رضا خان بریلوی
کیا ہم مسلمانوں کو مجرموں کا سا کردیں
علامہ محمد حسین نجفی
کیا ہم فرمانبرداروں کو مجرموں کی مانند کر دیں گے؟
عبدالسلام بن محمد
تو کیا ہم فرماں برداروں کو جرم کرنے والوں کی طرح کر دیں گے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے ٭٭

اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لیے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں۔ پھر فرماتا ہے ’ کیا ہو سکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہو جائیں؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہو سکتا، کیا ہو گیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور گزشتہ لوگوں کے ہاتھوں تم پچھلوں تک پہنچتی ہو اور اس میں وہی ہو جو تمہاری چاہت ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ ہمارا کوئی مضبوط وعدہ اور عہد تم سے ہے کہ تم جو کہہ رہے ہو وہی ہو گا اور تمہاری بے جا اور غلط خواہشیں پوری ہو کر ہی رہیں گی؟ ان سے ذرا پوچھو تو کہ اس بات کا کون ضامن ہے اور کس کے ذمے یہ کفالت ہے؟ نہ سہی تمہارے جو جھوٹے معبود ہیں انہی کو اپنی سچائی کے ثبوت میں پیش کرو ‘۔
35۔ 1 مشرکین مکہ کہتے تھے کہ اگر قیامت ہوئی تو وہاں بھی ہم مسلمانوں سے بہتر ہی ہونگے، جیسے دنیا میں ہم مسلمانوں سے زیادہ آسودہ حال ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں فرمایا، یہ کس طرح ممکن ہے ہم مسلمانوں کو یعنی اپنے فرماں برداروں کو مجرموں یعنی نافرمانوں کی طرح کردیں گے مطلب یہ ہے کہ یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ اللہ تعالیٰ عدل وانصاف کے خلاف دونوں کو یکساں کردے۔
(آیت 36،35){ اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِيْنَ …:} مشرکین کہا کرتے تھے کہ اوّل تو مرنے کے بعد زندگی کی بات ہی غلط ہے، اگر یہ سچ ہے اور مرنے کے بعد عذاب یا ثواب ہونا ہے تو ہم یہاں مسلمانوں کی بہ نسبت خوش حال ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کے ہم پر راضی ہونے کی دلیل ہے، آخرت میں بھی وہ نعمتیں اور باغات ہمیں کو ملیں گے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بات کی تردید کی اور فرمایا کہ اللہ کے ہاں اندھیر نہیں کہ حکم ماننے والوں سے اور مجرموں سے ایک جیسا سلوک کیا جائے۔
مَا لَکُمۡ ٝ کَیۡفَ تَحۡکُمُوۡنَ ﴿ۚ۳۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، تم کیسے حکم لگاتے ہو؟
مولانا محمد جوناگڑھی
تمہیں کیا ہوگیا، کیسے فیصلے کر رہے ہو؟
احمد رضا خان بریلوی
تمہیں کیا ہوا کیسا حکم لگاتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ تم کیسے فیصلے کرتے ہو؟
عبدالسلام بن محمد
کیا ہے تمھیں، تم کیسے فیصلے کرتے ہو؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے ٭٭

اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لیے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں۔ پھر فرماتا ہے ’ کیا ہو سکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہو جائیں؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہو سکتا، کیا ہو گیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور گزشتہ لوگوں کے ہاتھوں تم پچھلوں تک پہنچتی ہو اور اس میں وہی ہو جو تمہاری چاہت ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ ہمارا کوئی مضبوط وعدہ اور عہد تم سے ہے کہ تم جو کہہ رہے ہو وہی ہو گا اور تمہاری بے جا اور غلط خواہشیں پوری ہو کر ہی رہیں گی؟ ان سے ذرا پوچھو تو کہ اس بات کا کون ضامن ہے اور کس کے ذمے یہ کفالت ہے؟ نہ سہی تمہارے جو جھوٹے معبود ہیں انہی کو اپنی سچائی کے ثبوت میں پیش کرو ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اَمۡ لَکُمۡ کِتٰبٌ فِیۡہِ تَدۡرُسُوۡنَ ﴿ۙ۳۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو؟
احمد رضا خان بریلوی
کیا تمہارے لیے کوئی کتاب ہے اس میں پڑھتے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تمہارے پاس کوئی (آسمانی) کتاب ہے جس میں تم (یہ) پڑھتے ہو؟
عبدالسلام بن محمد
یا تمھارے پاس کوئی کتاب ہے، جس میں تم (یہ) پڑھتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے ٭٭

اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لیے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں۔ پھر فرماتا ہے ’ کیا ہو سکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہو جائیں؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہو سکتا، کیا ہو گیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور گزشتہ لوگوں کے ہاتھوں تم پچھلوں تک پہنچتی ہو اور اس میں وہی ہو جو تمہاری چاہت ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ ہمارا کوئی مضبوط وعدہ اور عہد تم سے ہے کہ تم جو کہہ رہے ہو وہی ہو گا اور تمہاری بے جا اور غلط خواہشیں پوری ہو کر ہی رہیں گی؟ ان سے ذرا پوچھو تو کہ اس بات کا کون ضامن ہے اور کس کے ذمے یہ کفالت ہے؟ نہ سہی تمہارے جو جھوٹے معبود ہیں انہی کو اپنی سچائی کے ثبوت میں پیش کرو ‘۔
37۔ 1 جس میں یہ بات لکھی ہوئی ہے جس کا تم دعویٰ کر رہے ہو، کہ وہاں بھی تمہارے لئے وہ کچھ ہو جسے تم پسند کرتے ہو۔
(آیت 38،37) ➊ { اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِيْهِ تَدْرُسُوْنَ …:} کفار جو کہتے تھے کہ ہمیں آخرت میں بھی جنت و نعمت ملے گی، اس بات کی تردید ایک اور طرح سے ہے، فرمایا تمھیں یہ بات کیسے معلوم ہوئی؟ اگر کہو کہ تمھیں خود اللہ تعالیٰ نے بتائی ہے تو بتاؤ تمھارے پاس اللہ تعالیٰ کی کون سی کتاب ہے جس میں تم نے پڑھا ہے کہ آخرت میں تمھیں تمھاری پسند ہی کی چیزیں ملیں گی؟ صاف ظاہر ہے کہ نہ تمھارے پاس ایسی کوئی کتاب ہے اور نہ تمھارا یہ گمان کچھ حقیقت رکھتا ہے۔ ➋ {” تَخَيَّرُوْنَ “} باب تفعّل میں سے {”تَتَخَيَّرُوْنَ“} ہے، ایک تاء حذف کر دی ہے۔ {” اِنَّ لَكُمْ فِيْهِ لَمَا تَخَيَّرُوْنَ “} جملہ بن کر {” تَدْرُسُوْنَ “} کا مفعول بہ ہے۔ {” اِنَّ “} کا ہمزہ مفتوح ہونا چاہیے تھا، لیکن {” تَخَيَّرُوْنَ “} پر لام آنے کی وجہ سے مکسور ہو گیا۔ ترجمہ یہ ہو گا ”کیا تمھارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ بات پڑھتے ہو کہ تمھارے لیے آخرت میں وہی ہو گا جو تم پسند کرو گے؟“
اِنَّ لَکُمۡ فِیۡہِ لَمَا تَخَیَّرُوۡنَ ﴿ۚ۳۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کہ تمہارے لیے ضرور وہاں وہی کچھ ہے جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کہ اس میں تمہاری من مانی باتیں ہوں؟
احمد رضا خان بریلوی
کہ تمہارے لیے اس میں جو تم پسند کرو،
علامہ محمد حسین نجفی
کہ تمہارے لئے اس میں وہ کچھ ہے جو تم پسند کرتے ہو؟
عبدالسلام بن محمد
کہ بے شک تمھارے لیے آخرت میں یقینا وہی ہو گا جو تم پسند کرو گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے ٭٭

اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لیے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں۔ پھر فرماتا ہے ’ کیا ہو سکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہو جائیں؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہو سکتا، کیا ہو گیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور گزشتہ لوگوں کے ہاتھوں تم پچھلوں تک پہنچتی ہو اور اس میں وہی ہو جو تمہاری چاہت ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ ہمارا کوئی مضبوط وعدہ اور عہد تم سے ہے کہ تم جو کہہ رہے ہو وہی ہو گا اور تمہاری بے جا اور غلط خواہشیں پوری ہو کر ہی رہیں گی؟ ان سے ذرا پوچھو تو کہ اس بات کا کون ضامن ہے اور کس کے ذمے یہ کفالت ہے؟ نہ سہی تمہارے جو جھوٹے معبود ہیں انہی کو اپنی سچائی کے ثبوت میں پیش کرو ‘۔
39۔ 1 یا ہم نے تم سے پکا عہد کر رکھا ہے، جو قیامت تک باقی رہنے والا ہے کہ تمہارے لئے وہی کچھ ہوگا جس کا تم اپنی بابت فیصلہ کرو گے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اَمۡ لَکُمۡ اَیۡمَانٌ عَلَیۡنَا بَالِغَۃٌ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ۙ اِنَّ لَکُمۡ لَمَا تَحۡکُمُوۡنَ ﴿ۚ۳۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یا پھر کیا تمہارے لیے روز قیامت تک ہم پر کچھ عہد و پیمان ثابت ہیں کہ تمہیں وہی کچھ ملے گا جس کا تم حکم لگاؤ؟
مولانا محمد جوناگڑھی
یا تم نے ہم سے کچھ قسمیں لی ہیں؟ جو قیامت تک باقی رہیں کہ تمہارے لیے وه سب ہے جو تم اپنی طرف سے مقرر کر لو
احمد رضا خان بریلوی
یا تمہارے لیے ہم پر کچھ قسمیں ہیں قیامت تک پہنچتی ہوئی کہ تمہیں ملے گا جو کچھ دعویٰ کرتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
یا کیا تم نے ہم سے کچھ قَسمیں لی ہیں کہ قیامت میں تمہارے لئے وہی کچھ ہے جس کا تم حکم لگاؤ گے (فیصلہ کرو گے؟)
عبدالسلام بن محمد
یا تمھارے پاس ہمارے ذمے کوئی حلفیہ عہد ہیں، جو قیامت کے دن تک جاپہنچنے والے ہیں کہ بے شک تمھارے لیے یقینا وہی ہوگا جو تم فیصلہ کرو گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے ٭٭

اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لیے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں۔ پھر فرماتا ہے ’ کیا ہو سکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہو جائیں؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہو سکتا، کیا ہو گیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور گزشتہ لوگوں کے ہاتھوں تم پچھلوں تک پہنچتی ہو اور اس میں وہی ہو جو تمہاری چاہت ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ ہمارا کوئی مضبوط وعدہ اور عہد تم سے ہے کہ تم جو کہہ رہے ہو وہی ہو گا اور تمہاری بے جا اور غلط خواہشیں پوری ہو کر ہی رہیں گی؟ ان سے ذرا پوچھو تو کہ اس بات کا کون ضامن ہے اور کس کے ذمے یہ کفالت ہے؟ نہ سہی تمہارے جو جھوٹے معبود ہیں انہی کو اپنی سچائی کے ثبوت میں پیش کرو ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 39){ اَمْ لَكُمْ اَيْمَانٌ عَلَيْنَا بَالِغَةٌ …: ” اَيْمَانٌ”يَمِيْنٌ“} کی جمع ہے، قسم، حلفیہ عہد۔ فرمایا، یا پھر تمھارے پاس ہمارے کوئی حلفیہ عہد ہوں جو قیامت تک کے لیے ہوں کہ تمھیں وہی ملے گا جو تم فیصلہ کرو گے۔ ظاہر ہے ہمارا عہد اگر ہے بھی تو ان سے ہے جو ایمان اور عمل صالح سے متصف ہیں، مجرموں اور ظالموں سے تو ہمارا کوئی عہد ہے ہی نہیں، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏لَا يَنَالُ عَهْدِي الظّٰلِمِيْنَ» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۱۲۴ ] ”میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا۔“
سَلۡہُمۡ اَیُّہُمۡ بِذٰلِکَ زَعِیۡمٌ ﴿ۚۛ۴۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِن سے پوچھو تم میں سے کون اِس کا ضامن ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
ان سے پوچھو تو کہ ان میں سے کون اس بات کا ذمہدار (اور دعویدار) ہے؟
احمد رضا خان بریلوی
تم ان سے پوچھو ان میں کون سا اس کا ضامن ہے
علامہ محمد حسین نجفی
ان سے پوچھئے کہ ان میں سے کون ان (بےبنیاد باتوں) کا ضامن ہے؟
عبدالسلام بن محمد
ان سے پوچھ ان میں سے کون اس کا ضامن ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے ٭٭

اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لیے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں۔ پھر فرماتا ہے ’ کیا ہو سکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہو جائیں؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہو سکتا، کیا ہو گیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور گزشتہ لوگوں کے ہاتھوں تم پچھلوں تک پہنچتی ہو اور اس میں وہی ہو جو تمہاری چاہت ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ ہمارا کوئی مضبوط وعدہ اور عہد تم سے ہے کہ تم جو کہہ رہے ہو وہی ہو گا اور تمہاری بے جا اور غلط خواہشیں پوری ہو کر ہی رہیں گی؟ ان سے ذرا پوچھو تو کہ اس بات کا کون ضامن ہے اور کس کے ذمے یہ کفالت ہے؟ نہ سہی تمہارے جو جھوٹے معبود ہیں انہی کو اپنی سچائی کے ثبوت میں پیش کرو ‘۔
40۔ 1 کہ کیا وہ قیامت والے دن ان کے لئے وہی کچھ فیصلہ کروائے گا، جو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لئے فرمائے گا۔
(آیت 40){ سَلْهُمْ اَيُّهُمْ بِذٰلِكَ زَعِيْمٌ:} ان سے پوچھیے! ان میں سے کون اس کا ذمہ لیتا ہے کہ آخرت میں انھیں وہی ملے گا جو وہ کہیں گے۔
اَمۡ لَہُمۡ شُرَکَآءُ ۚۛ فَلۡیَاۡتُوۡا بِشُرَکَآئِہِمۡ اِنۡ کَانُوۡا صٰدِقِیۡنَ ﴿۴۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یا پھر اِن کے ٹھیرائے ہوئے کچھ شریک ہیں (جنہوں نے اِس کا ذمہ لیا ہو)؟ یہ بات ہے تو لائیں اپنے شریکوں کو اگر یہ سچے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا ان کے کوئی شریک ہیں؟ تو چاہئے کہ اپنے اپنے شریکوں کو لے آئیں اگر یہ سچے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
یا ان کے پاس کچھ شریک ہیں تو اپنے شریکوں کو لے کر آئیں اگر سچے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
یا انکے کچھ آدمی (ہمارے) شریک ہیں؟ تو اگر وہ سچے ہیں تو پھر اپنے وہ شریک پیش کریں۔
عبدالسلام بن محمد
یا ان کے کوئی شریک ہیں؟ تو وہ اپنے شریک لے آئیں، اگر وہ سچے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے ٭٭

اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لیے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں۔ پھر فرماتا ہے ’ کیا ہو سکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہو جائیں؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہو سکتا، کیا ہو گیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور گزشتہ لوگوں کے ہاتھوں تم پچھلوں تک پہنچتی ہو اور اس میں وہی ہو جو تمہاری چاہت ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ ہمارا کوئی مضبوط وعدہ اور عہد تم سے ہے کہ تم جو کہہ رہے ہو وہی ہو گا اور تمہاری بے جا اور غلط خواہشیں پوری ہو کر ہی رہیں گی؟ ان سے ذرا پوچھو تو کہ اس بات کا کون ضامن ہے اور کس کے ذمے یہ کفالت ہے؟ نہ سہی تمہارے جو جھوٹے معبود ہیں انہی کو اپنی سچائی کے ثبوت میں پیش کرو ‘۔
41۔ 1 یا جن کو انہوں نے شریک ٹھہرا رکھا ہے وہ ان کی مدد کر کے ان کو اچھا مقام دلوا دیں گے؟ اگر ان کے شریک ایسے ہیں تو ان کو سامنے لائیں تاکہ ان کی صداقت واضح ہو۔
(آیت 41){ اَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُ …:} یا اگر یہ خود ضمانت نہیں دے سکتے تو کیا ان کے پاس ایسی ہستیاں ہیں جو اللہ کے شریک ہوں اور انھیں آخرت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے زبردستی چھڑوا کر جنت دلوانے کا ذمہ دے سکیں؟ اگر سچے ہیں تو وہ شریک سامنے لائیں۔
یَوۡمَ یُکۡشَفُ عَنۡ سَاقٍ وَّ یُدۡعَوۡنَ اِلَی السُّجُوۡدِ فَلَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ ﴿ۙ۴۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جس روز سخت وقت آ پڑے گا اور لوگوں کو سجدہ کرنے کے لیے بلایا جائے گا تو یہ لوگ سجدہ نہ کر سکیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی اور سجدے کے لیے بلائے جائیں گے تو (سجده) نہ کر سکیں گے
احمد رضا خان بریلوی
جس دن ایک ساق کھولی جائے گی (جس کے معنی اللہ ہی جانتا ہے) اور سجدہ کو بلائے جائیں گے تو نہ کرسکیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
(وہ دن یاد کرنے کے لائق ہے) جب پنڈلی کھولی جائے گی (یعنی سخت وقت ہوگا) اور ان (کافروں) کو سجدہ کیلئے بلایا جائے گا تو (اس وقت) وہ سجدہ نہیں کر سکیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
جس دن پنڈلی کھولی جائے گی اور وہ سجدے کی طرف بلائے جائیں گے تو وہ طاقت نہیں رکھیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سجدہ اس وقت منافقوں کے بس میں نہیں ہو گا ٭٭

اوپر بیان ہو چکا ہے کہ ’ پرہیزگار لوگوں کے لیے نعمتوں والی جنتیں ہیں ‘، اس لئے یہاں بیان ہو رہا ہے کہ یہ جنتیں انہیں کب ملیں گی؟ تو فرمایا کہ ’ اس دن جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی ‘۔ یعنی قیامت کے دن، جو دن بڑی ہولناکیوں والا، زلزلوں والا، امتحان والا اور آزمائش والا اور بڑے بڑے اہم امور کے ظاہر ہونے کا دن ہو گا۔ صحیح بخاری میں اس جگہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے کہ { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، فرماتے تھے ”ہمارا رب اپنی پنڈلی کھول دے گا پس ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت سجدے میں گر پڑے گی ہاں دنیا میں جو لوگ دکھاوے سناوے کے لیے سجدہ کرتے تھے وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی کمر تختہ کی طرف ہو جائے گی، یعنی ان سے سجدے کے لیے جھکا نہ جائے گا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4919] ‏‏‏‏ یہ حدیث بخاری مسلم دونوں میں ہے اور دوسری کتابوں میں بھی ہے کئی کئی سندوں سے الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ مروی ہے اور یہ حدیث مطول ہے اور مشہور ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ دن تکلیف دکھ درد اور شدت کا دن ہے۔‏‏‏‏“ [ابن جریر] ‏‏‏‏ اور ابن جریر اسے دوسری سند سے شک کے ساتھ بیان کرتے ہیں وہ سیدنا ابن مسعود یا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے «‏‏‏‏يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّيُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ» ۱؎ [68-القلم:42] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں بہت بڑا عظیم الشان امر مروی ہے۔ جیسے شاعر کا قول ہے «وَقَامَتِ الْحَرْبُ بِنَا عَنْ سَاقٍ» یہاں بھی لڑائی کی عظمت اور بڑائی بیان کی گئی ہے، مجاہد رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں قیامت کے دن کی یہ گھڑی بہت سخت ہو گی، آپ فرماتے ہیں یہ امر بہت سخت بڑی گھبراہٹ والا اور ہولناک ہے، آپ فرماتے ہیں جس وقت امر کھول دیا جائے گا اعمال ظاہر ہو جائیں گے اور یہ کھلنا آخرت کا آ جاتا ہے اور اس سے کام کا کھل جانا ہے۔ یہ سب روایتیں ابن جریر میں ہیں۔ اس کے بعد یہ حدیث ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفسیر میں فرمایا: ”مراد بہت بڑا نور ہے لوگ اس کے سامنے سجدے میں گر پڑیں گے“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:42/29:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث ابویعلیٰ میں بھی ہے اور اس کی اسناد میں ایک مبہم راوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» (‏‏‏‏یاد رہے کہ صحیح تفسیر وہی ہے جو بخاری مسلم کے حوالے سے اوپر مرفوع حدیث میں گزری کہ اللہ عزوجل اپنی پنڈلی کھولے گا، دوسری حدیث بھی مطلب کے لحاظ سے ٹھیک ہے کیونکہ اللہ خود نور اور اقوال بھی اس طرح ٹھیک ہیں کہ جہانوں کے پروردگار کی پنڈلی بھی ظاہر ہو گی اور ساتھ ہی وہ ہولناکیاں اور شدتیں بھی ہوں گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» مترجم)

دنیا میں سجدہ نہ کرنے والے کی قیامت کو حالت ٭٭

پھر فرمایا ’ جس دن ان لوگوں کی آنکھیں اوپر کو نہ اٹھیں گی اور ذلیل و پست ہو جائیں گے کیونکہ دنیا میں بڑے سرکش اور کبر و غرور والے تھے، صحت اور سلامتی کی حالت میں دنیا میں جب انہیں سجدے کے لیے بلایا جاتا تھا تو رک جاتے تھے جس کی سزا یہ ملی کہ آج سجدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن نہیں کر سکتے پہلے کر سکتے تھے لیکن نہیں کرتے تھے، اللہ تعالیٰ کی تجلی دیکھ کر مومن سب سجدے میں گر پڑیں گے لیکن کافر و منافق سجدہ نہ کر سکیں گے، کمر تختہ ہو جائے گی، جھکے گی ہی نہیں بلکہ پیٹھ کے بل چت گر پڑیں گے، یہاں بھی ان کی حالت مومنوں کے خلاف تھی، وہاں بھی خلاف ہی رہے گی ‘۔ پھر فرمایا ’ مجھے اور میری اس حدیث یعنی قرآن کو جھٹلانے والوں کو تو چھوڑ دے، اس میں بڑی وعید ہے اور سخت ڈانٹ ہے کہ تو ٹھہر جا میں خود ان سے نپٹ لوں گا، دیکھ تو سہی کہ کس طرح بتدریج انہیں پکڑتا ہوں یہ اپنی سرکشی اور غرور میں پڑتے جائیں گے، میری ڈھیل کے راز کو نہ سمجھیں گے اور پھر ایک دم یہ پاپ کا گھڑا پھوٹے گا اور میں اچانک انہیں پکڑ لوں گا۔ میں انہیں بڑھاتا رہوں گا یہ بدمست ہوتے چلے جائیں گے وہ اسے کرامت سمجھیں گے حالانکہ وہ اہانت ہو گی ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُم بِهِ مِن مَّالٍ وَبَنِينَ نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَل لَّا يَشْعُرُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:56،55] ‏‏‏‏، یعنی ’ کیا ان کا گمان ہے کہ مال و اولاد کا بڑھنا ان کے لیے ہماری جانب سے کسی بھلائی کی بنا پر ہے، نہیں بلکہ یہ بے شعور ہیں ‘۔ اور جگہ فرمایا «‏‏‏‏فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:44] ‏‏‏‏ ’ جب یہ ہمارے وعظ و پند کو بھلا چکے تو ہم نے ان پر تمام چیزوں کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ انہیں جو دیا گیا تھا اس پر اترانے لگے تو ہم نے انہیں ناگہانی پکڑ لیا اور ان کی امیدیں منقطع ہو گئیں ‘۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے ’ میں انہیں ڈھیل دوں گا، بڑھاؤں گا اور اونچا کروں گا یہ میرا داؤ ہے اور میری تدبیر میرے مخالفوں اور میرے نافرمانوں کے ساتھ بہت بڑی ہے ‘۔

بخاری مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4686] ‏‏‏‏ «‏‏‏‏وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» ۱؎ [11-ھود:102] ‏‏‏‏ یعنی ’ اسی طرح ہے تیرے رب کی پکڑ جبکہ وہ کسی بستی والوں کو پکڑتا ہے جو ظالم ہوتے ہیں اس کی پکڑ بڑی درد ناک اور بہت سخت ہے ‘۔ پھر فرمایا ’ تو کچھ ان سے اجرت اور بدلہ تو مانگتا ہی نہیں جو ان پر بھاری پڑتا ہو جس تاوان سے یہ جھکے جاتے ہوں، نہ ان کے پاس کوئی علم غیب ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں ‘۔ ان دونوں جملوں کی تفسیر سورۃ والطور میں گزر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ اے نبی! آپ انہیں اللہ عزوجل کی طرف بغیر اجرت اور بغیر مال طلبی کے اور بغیر بدلے کی چاہت کے بلا رہے ہیں آپ کی غرض سوائے ثواب حاصل کرنے کے اور کوئی نہیں اس پر بھی یہ لوگ صرف اپنی جہالت اور کفر اور سرکشی کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں۔
42۔ 1 بعض نے کشف ساق سے مراد قیامت کی ہولناکیاں [ ا۔ ی ] لی ہیں لیکن ایک صحیح حدیث اس کی تفسیر اس طرح بیان ہوئی ہے کہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کھولے گا (جس طرح اس کی شان کے لائق ہے) تو ہر مومن مرد اور عورت اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجائیں گے البتہ وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جو دکھلاوے اور شہرت کے لئے سجدہ کرتے تھے وہ سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی ریڑھ کی ہڈی کے منکے، تختے کی طرح ایک ہڈی بن جائیں گے جس کی وجہ سے ان کے لئے جھکنا ناممکن ہوجائے گا (صحیح بخاری) اللہ تعالیٰ کی پنڈلی کس طرح کی ہوگی؟ اسے وہ کس طرح کھولے گا؟ اس کیفیت ہم نہ جان سکتے ہیں نہ بیان کرسکتے ہیں۔ اس لئے جس طرح ہم بلا کیف و بلاشبہ اس کی آنکھوں، کان، ہاتھ وغیرہ پر ایمان رکھتے ہیں، اسی طرح پنڈلی کا ذکر بھی قرآن اور حدیث میں ہے، اس پر بلاکیف ایمان رکھنا ضروری ہے۔ یہی سلف اور محدثین کا مسلک ہے۔
(آیت 42) ➊ {يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ …: ” يَوْمَ “} یا تو پچھلی آیت {” فَلْيَاْتُوْا بِشُرَكَآىِٕهِمْ “} کے متعلق ہے، یعنی دنیا میں تو ہو سکتا ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے جھوٹ موٹ شریک گنوا دیں جو ان کی رہائی کے ذمہ دار بننے کا دعویٰ کریں، مگر اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اگر سچے ہیں تو اس دن اپنے شریک سامنے لائیں جس دن پنڈلی سے پردہ ہٹایا جائے گا اور لوگوں کو سجدے کے لیے بلایا جائے گا تو یہ لوگ سجدہ نہیں کر سکیں گے۔ یا یہ {” اِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ “} کے متعلق ہے، یعنی متقین کو نعمت والی جنتیں اس دن ملیں گی جب پنڈلی سے پردہ ہٹایا جائے گا۔ ➋ {” يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ “} کا ایک معنی تو وہ ہے جو ان لفظوں کا سادہ ترجمہ ہے اور خود بخود ظاہر ہو رہا ہے اور ایک وہ ہے جو ان لفظوں کے سادہ ترجمہ سے ہٹ کر کیا گیا ہے اور جو لغت عرب کا ایک محاورہ ہے۔ وہ معنی جو لفظوں کا سادہ ترجمہ ہے اور خود بخود ظاہر ہو رہا ہے یہ ہے کہ ”جس دن پنڈلی کھولی جائے گی۔“ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی ظاہر فرمائے گا اور لوگوں کو سجدے کے لیے بلایا جائے گا۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کا یہی مطلب بیان فرمایا ہے اور صحیح سند کے ساتھ آپ سے یہی مروی ہے، چنانچہ صحیح بخاری میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يَكْشِفُ رَبُّنَا عَنْ سَاقِهِ فَيَسْجُدُ لَهٗ كُلُّ مُؤْمِنٍ وَ مُؤْمِنَةٍ وَ يَبْقٰی مَنْ كَانَ يَسْجُدُ فِي الدُّنْيَا رِيَاءً وَ سُمْعَةً فَيَذْهَبُ لِيَسْجُدَ فَيَعُوْدُ ظَهْرُهٗ طَبَقًا وَاحِدًا ] [بخاري، التفسیر، باب: «یوم یکشف عن ساق» : ۴۹۱۹ ] ”ہمارا رب اپنی پنڈلی کھولے گا تو ہر مومن مرد اور مومن عورت اس کو سجدہ کریں گے اور وہ شخص باقی رہ جائے گا جو دنیا میں دکھانے اور سنانے کے لیے سجدہ کرتا تھا، وہ سجدہ کرنے لگے گا تو اس کی پیٹھ ایک طبق ہوجائے گی(یعنی دوہری نہیں ہو سکے گی)۔“ اس حدیث میں صاف الفاظ موجود ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کھولے گا، بلکہ صحیح بخاری کے ایک اور مقام پر ہے کہ ہر قوم جس کسی کی پرستش کرتی تھی اس کے پیچھے چلی جائے گی، صلیب والے صلیب کے پیچھے، بتوں والے بتوں کے پیچھے اور دوسرے معبودوں والے اپنے اپنے معبودوں کے پیچھے چلے جائیں گے، صرف وہ لوگ رہ جائیں گے جو صرف اللہ کی عبادت کرتے تھے، خواہ نیک ہوں یا بد وہ اللہ تعالیٰ کا انتظار کر رہے ہوں گے، اللہ ان سے پوچھے گا: [ هَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهٗ آيَةٌ تَعْرِفُوْنَهُ؟ فَيَقُوْلُوْنَ السَّاقُ فَيَكْشِفُ عَنْ سَاقِهِ فَيَسْجُدُ لَهُ ] [بخاري، التوحید، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «وجوہ یومئذ ناظرۃ…» : ۷۴۳۹ ] ”کیا تمھارے اور تمھارے رب کے درمیان کوئی نشانی ہے جسے تم پہچانتے ہو؟“ وہ کہیں گے: ”پنڈلی ہے۔“ تو اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کھولے گا اور ہر مومن اسے سجدہ کرے گا۔“ اس سے معلوم ہوا کہ پنڈلی کھولنے سے مراد یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کھولے گا اور یہ اللہ تعالیٰ کے درمیان اور اہل ایمان کے درمیان طے شدہ نشانی ہو گی اور اس نشانی کو دیکھ کر اہل ایمان رب تعالیٰ کے سامنے سجدے میں گر جائیں گے۔ یہ حدیث صحیح بخاری کے علاوہ حدیث کی دوسری بہت سی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ اتنی اعلیٰ درجے کی صحیح سند کے ساتھ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آیت کی تفسیر آنے کے بعد کسی اور تفسیر کی نہ ضرورت رہتی ہے اور نہ گنجائش، مگر چونکہ بہت سے مفسرین نے اس آیت کی ایک اور تفسیر کی ہے اس لیے وہ بھی ذکر کی جاتی ہے۔ ان مفسرین کا کہنا یہ ہے کہ ” کشفِ ساق “ لغت عرب کا ایک محاورہ ہے، جو شدت سے کنایہ ہے، یعنی {” يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ “} کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کا دن بہت سخت ہو گا، کیونکہ جب کوئی سختی یا مشکل پیش آتی ہے تو آدمی پنڈلی سے کپڑا اٹھا کر کمر کس لیتا ہے۔ یہ تفسیر ابن عباس رضی اللہ عنھما سے منقول ہے اور بعض تابعین جیسے مجاہد، عکرمہ اور ابراہیم نخعی رحمھم اللہ وغیرہ سے بھی آئی ہے۔ یہ تفسیر اگرچہ درست ہے اور لغت عرب میں یہ محاورہ استعمال بھی ہوتا ہے، مگر پہلی تفسیر (یعنی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کھولے گا) میں قرآن کے صریح الفاظ کو ملحوظ رکھا گیا ہے اور یہ تفسیر اس ذات گرامی نے کی ہے جس پر قرآن نازل ہوا تھا، اس لیے یہی مقدم ہے۔ البتہ دونوں تفسیروں میں کوئی تعارض نہیں، اس دن اللہ تعالیٰ کی پنڈلی بھی ظاہر ہو گی اور اس دن کی شدت میں بھی کوئی شبہ نہیں۔خود ابن عباس رضی اللہ عنھما نے اللہ تعالیٰ کی پنڈلی ظاہر ہونے کا کبھی انکار نہیں فرمایا اور نہ دیگر صحابہ میں سے کسی نے ان الفاظ کا انکار کیا ہے جو اللہ تعالیٰ کے متعلق اس سلسلے میں قرآن یا حدیث میں آئے ہیں۔ قرآن مجید میں چونکہ یہ صراحت نہیں کہ اللہ کی پنڈلی ظاہر ہوگی بلکہ صرف پنڈلی کا لفظ ہے، اس لیے ابن عباس رضی اللہ عنھما نے اس کا مفہوم یہ لیا کہ کشف ساق سے اس دن کی شدت مراد ہے اور یہ مراد لینا لغت عرب کے بالکل مطابق ہے، مگر ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صراحت نقل فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کی پنڈلی ظاہر ہو گی، اس لیے مقدم وہی مفہوم ہو گا جو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا، اگرچہ قیامت کے دن کی شدت بھی اپنی جگہ حقیقت ہے۔ افسوس تو ان لوگوں پر ہے جنھوں نے صاف کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ کی پنڈلی ظاہر نہیں ہو گی، نہ اس کی پنڈلی ہے۔ ان لوگوں نے اس سے بڑھ کر اس قسم کے ان تمام الفاظ کا انکار کر دیا جو قرآن میں آئے ہیں، مثلاً ہاتھ، چہرہ، آنکھ، پاؤں وغیرہ اور کہا کہ اگر ہم یہ مانیں تو اللہ تعالیٰ کا جسم لازم آتا ہے اور اس کا ہمارے جیسا ہونا لازم آتا ہے، جب کہ اس نے خود فرمایا: «لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ» ‏‏‏‏ [ الشورٰی: ۱۱ ] ”اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔“ یہ لوگ ان تمام الفاظ کی کوئی نہ کوئی تاویل کرتے اور ان صفات کے ماننے والوں کو ”مشبہہ“ قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ ان کی اس بات کا جواب خود اسی آیت میں موجود ہے جسے وہ اپنی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ وَ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ» ‏‏‏‏ [ الشورٰی: ۱۱ ] ”اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔“ یعنی یہ بھی مانو کہ اللہ کی مثل کوئی چیز نہیں اور یہ بھی مانو کہ وہ سمیع بھی ہے اور بصیر بھی۔ یہ خیال کر کے اس کے سمیع و بصیر ہونے کا انکار نہ کر دینا کہ ہم بھی سمیع اور بصیر ہیں، اگر اسے سمیع و بصیر مانا تو اس کا ہمارے مشابہ ہونا لازم آئے گا۔ نہیں، اس کا سمیع و بصیر ہونا تمھارے سمیع و بصیر ہونے کے مشابہ نہیں ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی پنڈلی، اس کا چہرہ، اس کا قدم اور جو کچھ اس نے خود اپنے متعلق بتایا سب برحق ہے، مگر اس کی پنڈلی مخلوق کی پنڈلی کے مشابہ نہیں، نہ کوئی اور صفت مخلوق کی صفت کے مشابہ ہے، وہ اسی طرح ہے جس طرح اس کی شان کے لائق ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ صفاتِ الٰہی والی آیات و احادیث کے متعلق سلف صالحین کا طریقہ یہی ہے کہ ان کے ظاہر الفاظ پر ایمان لانا چاہیے اور ان کی کیفیت اللہ کے سپرد کر دینی چاہیے۔جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی ان صفات کا انکار کیا ہے درحقیقت وہ خود تشبیہ میں مبتلا ہیں کہ انھوں نے اللہ کی پنڈلی، اس کے چہرے اور دوسری صفات کو اپنے اعضا جیسا سمجھا اور یہ سمجھ کر ان سے انکار کر دیا۔ اگر وہ ان صفات کو اپنی صفات کی مثل خیال نہ کرتے تو کبھی انکار نہ کرتے۔
خَاشِعَۃً اَبۡصَارُہُمۡ تَرۡہَقُہُمۡ ذِلَّۃٌ ؕ وَ قَدۡ کَانُوۡا یُدۡعَوۡنَ اِلَی السُّجُوۡدِ وَ ہُمۡ سٰلِمُوۡنَ ﴿۴۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِن کی نگاہیں نیچی ہوں گی، ذلت اِن پر چھا رہی ہوگی یہ جب صحیح و سالم تھے اُس وقت اِنہیں سجدے کے لیے بلایا جاتا تھا (اور یہ انکار کرتے تھے)
مولانا محمد جوناگڑھی
نگاہیں نیچی ہوں گی اور ان پر ذلت و خواری چھارہی ہوگی، حاﻻنکہ یہ سجدے کے لیے (اس وقت بھی) بلائے جاتے تھے جب کہ صحیح سالم تھے
احمد رضا خان بریلوی
نیچی نگاہیں کیے ہوئے ان پر خواری چڑھ رہی ہوگی، اور بیشک دنیا میں سجدہ کے لیے بلائے جاتے تھے جب تندرست تھے
علامہ محمد حسین نجفی
ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی (اور) ان پر ذلت چھائی ہوگی حالانکہ انہیں اس وقت (بھی دنیا میں) سجدہ کی دعوت دی جاتی تھی جب وہ صحیح و سالم تھے۔
عبدالسلام بن محمد
ان کی نگاہیں نیچی ہوں گی، ذلت انھیں گھیرے ہوئے ہو گی، حالانکہ انھیں سجدے کی طرف بلایا جاتا تھا، جب کہ وہ صحیح سالم تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سجدہ اس وقت منافقوں کے بس میں نہیں ہو گا ٭٭

اوپر بیان ہو چکا ہے کہ ’ پرہیزگار لوگوں کے لیے نعمتوں والی جنتیں ہیں ‘، اس لئے یہاں بیان ہو رہا ہے کہ یہ جنتیں انہیں کب ملیں گی؟ تو فرمایا کہ ’ اس دن جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی ‘۔ یعنی قیامت کے دن، جو دن بڑی ہولناکیوں والا، زلزلوں والا، امتحان والا اور آزمائش والا اور بڑے بڑے اہم امور کے ظاہر ہونے کا دن ہو گا۔ صحیح بخاری میں اس جگہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے کہ { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، فرماتے تھے ”ہمارا رب اپنی پنڈلی کھول دے گا پس ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت سجدے میں گر پڑے گی ہاں دنیا میں جو لوگ دکھاوے سناوے کے لیے سجدہ کرتے تھے وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی کمر تختہ کی طرف ہو جائے گی، یعنی ان سے سجدے کے لیے جھکا نہ جائے گا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4919] ‏‏‏‏ یہ حدیث بخاری مسلم دونوں میں ہے اور دوسری کتابوں میں بھی ہے کئی کئی سندوں سے الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ مروی ہے اور یہ حدیث مطول ہے اور مشہور ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ دن تکلیف دکھ درد اور شدت کا دن ہے۔‏‏‏‏“ [ابن جریر] ‏‏‏‏ اور ابن جریر اسے دوسری سند سے شک کے ساتھ بیان کرتے ہیں وہ سیدنا ابن مسعود یا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے «‏‏‏‏يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّيُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ» ۱؎ [68-القلم:42] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں بہت بڑا عظیم الشان امر مروی ہے۔ جیسے شاعر کا قول ہے «وَقَامَتِ الْحَرْبُ بِنَا عَنْ سَاقٍ» یہاں بھی لڑائی کی عظمت اور بڑائی بیان کی گئی ہے، مجاہد رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں قیامت کے دن کی یہ گھڑی بہت سخت ہو گی، آپ فرماتے ہیں یہ امر بہت سخت بڑی گھبراہٹ والا اور ہولناک ہے، آپ فرماتے ہیں جس وقت امر کھول دیا جائے گا اعمال ظاہر ہو جائیں گے اور یہ کھلنا آخرت کا آ جاتا ہے اور اس سے کام کا کھل جانا ہے۔ یہ سب روایتیں ابن جریر میں ہیں۔ اس کے بعد یہ حدیث ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفسیر میں فرمایا: ”مراد بہت بڑا نور ہے لوگ اس کے سامنے سجدے میں گر پڑیں گے“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:42/29:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث ابویعلیٰ میں بھی ہے اور اس کی اسناد میں ایک مبہم راوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» (‏‏‏‏یاد رہے کہ صحیح تفسیر وہی ہے جو بخاری مسلم کے حوالے سے اوپر مرفوع حدیث میں گزری کہ اللہ عزوجل اپنی پنڈلی کھولے گا، دوسری حدیث بھی مطلب کے لحاظ سے ٹھیک ہے کیونکہ اللہ خود نور اور اقوال بھی اس طرح ٹھیک ہیں کہ جہانوں کے پروردگار کی پنڈلی بھی ظاہر ہو گی اور ساتھ ہی وہ ہولناکیاں اور شدتیں بھی ہوں گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» مترجم)

دنیا میں سجدہ نہ کرنے والے کی قیامت کو حالت ٭٭

پھر فرمایا ’ جس دن ان لوگوں کی آنکھیں اوپر کو نہ اٹھیں گی اور ذلیل و پست ہو جائیں گے کیونکہ دنیا میں بڑے سرکش اور کبر و غرور والے تھے، صحت اور سلامتی کی حالت میں دنیا میں جب انہیں سجدے کے لیے بلایا جاتا تھا تو رک جاتے تھے جس کی سزا یہ ملی کہ آج سجدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن نہیں کر سکتے پہلے کر سکتے تھے لیکن نہیں کرتے تھے، اللہ تعالیٰ کی تجلی دیکھ کر مومن سب سجدے میں گر پڑیں گے لیکن کافر و منافق سجدہ نہ کر سکیں گے، کمر تختہ ہو جائے گی، جھکے گی ہی نہیں بلکہ پیٹھ کے بل چت گر پڑیں گے، یہاں بھی ان کی حالت مومنوں کے خلاف تھی، وہاں بھی خلاف ہی رہے گی ‘۔ پھر فرمایا ’ مجھے اور میری اس حدیث یعنی قرآن کو جھٹلانے والوں کو تو چھوڑ دے، اس میں بڑی وعید ہے اور سخت ڈانٹ ہے کہ تو ٹھہر جا میں خود ان سے نپٹ لوں گا، دیکھ تو سہی کہ کس طرح بتدریج انہیں پکڑتا ہوں یہ اپنی سرکشی اور غرور میں پڑتے جائیں گے، میری ڈھیل کے راز کو نہ سمجھیں گے اور پھر ایک دم یہ پاپ کا گھڑا پھوٹے گا اور میں اچانک انہیں پکڑ لوں گا۔ میں انہیں بڑھاتا رہوں گا یہ بدمست ہوتے چلے جائیں گے وہ اسے کرامت سمجھیں گے حالانکہ وہ اہانت ہو گی ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُم بِهِ مِن مَّالٍ وَبَنِينَ نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَل لَّا يَشْعُرُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:56،55] ‏‏‏‏، یعنی ’ کیا ان کا گمان ہے کہ مال و اولاد کا بڑھنا ان کے لیے ہماری جانب سے کسی بھلائی کی بنا پر ہے، نہیں بلکہ یہ بے شعور ہیں ‘۔ اور جگہ فرمایا «‏‏‏‏فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:44] ‏‏‏‏ ’ جب یہ ہمارے وعظ و پند کو بھلا چکے تو ہم نے ان پر تمام چیزوں کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ انہیں جو دیا گیا تھا اس پر اترانے لگے تو ہم نے انہیں ناگہانی پکڑ لیا اور ان کی امیدیں منقطع ہو گئیں ‘۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے ’ میں انہیں ڈھیل دوں گا، بڑھاؤں گا اور اونچا کروں گا یہ میرا داؤ ہے اور میری تدبیر میرے مخالفوں اور میرے نافرمانوں کے ساتھ بہت بڑی ہے ‘۔

بخاری مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4686] ‏‏‏‏ «‏‏‏‏وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» ۱؎ [11-ھود:102] ‏‏‏‏ یعنی ’ اسی طرح ہے تیرے رب کی پکڑ جبکہ وہ کسی بستی والوں کو پکڑتا ہے جو ظالم ہوتے ہیں اس کی پکڑ بڑی درد ناک اور بہت سخت ہے ‘۔ پھر فرمایا ’ تو کچھ ان سے اجرت اور بدلہ تو مانگتا ہی نہیں جو ان پر بھاری پڑتا ہو جس تاوان سے یہ جھکے جاتے ہوں، نہ ان کے پاس کوئی علم غیب ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں ‘۔ ان دونوں جملوں کی تفسیر سورۃ والطور میں گزر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ اے نبی! آپ انہیں اللہ عزوجل کی طرف بغیر اجرت اور بغیر مال طلبی کے اور بغیر بدلے کی چاہت کے بلا رہے ہیں آپ کی غرض سوائے ثواب حاصل کرنے کے اور کوئی نہیں اس پر بھی یہ لوگ صرف اپنی جہالت اور کفر اور سرکشی کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں۔
43۔ 1 یعنی دنیا کے برعکس ان کا معاملہ ہوگا دنیا میں تکبر وعناد کی وجہ سے ان کی گردنیں اکڑی ہوتی تھیں۔ 43۔ 2 یعنی صحت مند اور توانا تھے، اللہ کی عبادت میں کوئی چیز ان کے لئے مانع نہیں تھی۔ لیکن دنیا میں اللہ کی عبادت سے یہ دور رہے۔
(آیت 43) {وَ قَدْ كَانُوْا يُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ وَ هُمْ سٰلِمُوْنَ:} گویا آخرت میں ان کی پیٹھ کا تختہ بن جانا اور ان کا سجدے کے قابل نہ رہنا اس بات کی سزا ہے کہ انھوں نے دنیا میں صحیح سالم ہوتے ہوئے ایک اللہ کو سجدہ کرنے کی دعوت قبول نہ کی۔
فَذَرۡنِیۡ وَ مَنۡ یُّکَذِّبُ بِہٰذَا الۡحَدِیۡثِ ؕ سَنَسۡتَدۡرِجُہُمۡ مِّنۡ حَیۡثُ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۴۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پس اے نبیؐ، تم اِس کلام کے جھٹلانے والوں کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو ہم ایسے طریقہ سے اِن کو بتدریج تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ اِن کو خبر بھی نہ ہوگی
مولانا محمد جوناگڑھی
پس مجھے اور اس کلام کو جھٹلانے والے کو چھوڑ دے ہم انہیں اس طرح آہستہ آہستہ کھینچیں گے کہ انہیں معلوم بھی نہ ہوگا
احمد رضا خان بریلوی
تو جو اس بات کو جھٹلاتا ہے اسے مجھ پر چھوڑ دو قریب ہے کہ ہم انہیں آہستہ آہستہ لے جائیں گے جہاں سے انہیں خبر نہ ہوگی،
علامہ محمد حسین نجفی
پس (اے رسول(ص)) آپ(ص) مجھے اور اس کو چھوڑ دیں جو اس کتاب کو جھٹلاتا ہے ہم انہیں اس طرح بتدریج تباہی کی طرف لے جائیںگے کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی۔
عبدالسلام بن محمد
پس چھوڑ مجھے اور اس کو جو اس بات کو جھٹلاتا ہے، ہم ضرور انھیں آہستہ آہستہ (ہلاکت کی طرف) اس طرح سے لے جائیں گے کہ وہ نہیں جانیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سجدہ اس وقت منافقوں کے بس میں نہیں ہو گا ٭٭

اوپر بیان ہو چکا ہے کہ ’ پرہیزگار لوگوں کے لیے نعمتوں والی جنتیں ہیں ‘، اس لئے یہاں بیان ہو رہا ہے کہ یہ جنتیں انہیں کب ملیں گی؟ تو فرمایا کہ ’ اس دن جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی ‘۔ یعنی قیامت کے دن، جو دن بڑی ہولناکیوں والا، زلزلوں والا، امتحان والا اور آزمائش والا اور بڑے بڑے اہم امور کے ظاہر ہونے کا دن ہو گا۔ صحیح بخاری میں اس جگہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے کہ { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، فرماتے تھے ”ہمارا رب اپنی پنڈلی کھول دے گا پس ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت سجدے میں گر پڑے گی ہاں دنیا میں جو لوگ دکھاوے سناوے کے لیے سجدہ کرتے تھے وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی کمر تختہ کی طرف ہو جائے گی، یعنی ان سے سجدے کے لیے جھکا نہ جائے گا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4919] ‏‏‏‏ یہ حدیث بخاری مسلم دونوں میں ہے اور دوسری کتابوں میں بھی ہے کئی کئی سندوں سے الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ مروی ہے اور یہ حدیث مطول ہے اور مشہور ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ دن تکلیف دکھ درد اور شدت کا دن ہے۔‏‏‏‏“ [ابن جریر] ‏‏‏‏ اور ابن جریر اسے دوسری سند سے شک کے ساتھ بیان کرتے ہیں وہ سیدنا ابن مسعود یا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے «‏‏‏‏يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّيُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ» ۱؎ [68-القلم:42] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں بہت بڑا عظیم الشان امر مروی ہے۔ جیسے شاعر کا قول ہے «وَقَامَتِ الْحَرْبُ بِنَا عَنْ سَاقٍ» یہاں بھی لڑائی کی عظمت اور بڑائی بیان کی گئی ہے، مجاہد رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں قیامت کے دن کی یہ گھڑی بہت سخت ہو گی، آپ فرماتے ہیں یہ امر بہت سخت بڑی گھبراہٹ والا اور ہولناک ہے، آپ فرماتے ہیں جس وقت امر کھول دیا جائے گا اعمال ظاہر ہو جائیں گے اور یہ کھلنا آخرت کا آ جاتا ہے اور اس سے کام کا کھل جانا ہے۔ یہ سب روایتیں ابن جریر میں ہیں۔ اس کے بعد یہ حدیث ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفسیر میں فرمایا: ”مراد بہت بڑا نور ہے لوگ اس کے سامنے سجدے میں گر پڑیں گے“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:42/29:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث ابویعلیٰ میں بھی ہے اور اس کی اسناد میں ایک مبہم راوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» (‏‏‏‏یاد رہے کہ صحیح تفسیر وہی ہے جو بخاری مسلم کے حوالے سے اوپر مرفوع حدیث میں گزری کہ اللہ عزوجل اپنی پنڈلی کھولے گا، دوسری حدیث بھی مطلب کے لحاظ سے ٹھیک ہے کیونکہ اللہ خود نور اور اقوال بھی اس طرح ٹھیک ہیں کہ جہانوں کے پروردگار کی پنڈلی بھی ظاہر ہو گی اور ساتھ ہی وہ ہولناکیاں اور شدتیں بھی ہوں گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» مترجم)

دنیا میں سجدہ نہ کرنے والے کی قیامت کو حالت ٭٭

پھر فرمایا ’ جس دن ان لوگوں کی آنکھیں اوپر کو نہ اٹھیں گی اور ذلیل و پست ہو جائیں گے کیونکہ دنیا میں بڑے سرکش اور کبر و غرور والے تھے، صحت اور سلامتی کی حالت میں دنیا میں جب انہیں سجدے کے لیے بلایا جاتا تھا تو رک جاتے تھے جس کی سزا یہ ملی کہ آج سجدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن نہیں کر سکتے پہلے کر سکتے تھے لیکن نہیں کرتے تھے، اللہ تعالیٰ کی تجلی دیکھ کر مومن سب سجدے میں گر پڑیں گے لیکن کافر و منافق سجدہ نہ کر سکیں گے، کمر تختہ ہو جائے گی، جھکے گی ہی نہیں بلکہ پیٹھ کے بل چت گر پڑیں گے، یہاں بھی ان کی حالت مومنوں کے خلاف تھی، وہاں بھی خلاف ہی رہے گی ‘۔ پھر فرمایا ’ مجھے اور میری اس حدیث یعنی قرآن کو جھٹلانے والوں کو تو چھوڑ دے، اس میں بڑی وعید ہے اور سخت ڈانٹ ہے کہ تو ٹھہر جا میں خود ان سے نپٹ لوں گا، دیکھ تو سہی کہ کس طرح بتدریج انہیں پکڑتا ہوں یہ اپنی سرکشی اور غرور میں پڑتے جائیں گے، میری ڈھیل کے راز کو نہ سمجھیں گے اور پھر ایک دم یہ پاپ کا گھڑا پھوٹے گا اور میں اچانک انہیں پکڑ لوں گا۔ میں انہیں بڑھاتا رہوں گا یہ بدمست ہوتے چلے جائیں گے وہ اسے کرامت سمجھیں گے حالانکہ وہ اہانت ہو گی ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُم بِهِ مِن مَّالٍ وَبَنِينَ نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَل لَّا يَشْعُرُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:56،55] ‏‏‏‏، یعنی ’ کیا ان کا گمان ہے کہ مال و اولاد کا بڑھنا ان کے لیے ہماری جانب سے کسی بھلائی کی بنا پر ہے، نہیں بلکہ یہ بے شعور ہیں ‘۔ اور جگہ فرمایا «‏‏‏‏فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:44] ‏‏‏‏ ’ جب یہ ہمارے وعظ و پند کو بھلا چکے تو ہم نے ان پر تمام چیزوں کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ انہیں جو دیا گیا تھا اس پر اترانے لگے تو ہم نے انہیں ناگہانی پکڑ لیا اور ان کی امیدیں منقطع ہو گئیں ‘۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے ’ میں انہیں ڈھیل دوں گا، بڑھاؤں گا اور اونچا کروں گا یہ میرا داؤ ہے اور میری تدبیر میرے مخالفوں اور میرے نافرمانوں کے ساتھ بہت بڑی ہے ‘۔

بخاری مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4686] ‏‏‏‏ «‏‏‏‏وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» ۱؎ [11-ھود:102] ‏‏‏‏ یعنی ’ اسی طرح ہے تیرے رب کی پکڑ جبکہ وہ کسی بستی والوں کو پکڑتا ہے جو ظالم ہوتے ہیں اس کی پکڑ بڑی درد ناک اور بہت سخت ہے ‘۔ پھر فرمایا ’ تو کچھ ان سے اجرت اور بدلہ تو مانگتا ہی نہیں جو ان پر بھاری پڑتا ہو جس تاوان سے یہ جھکے جاتے ہوں، نہ ان کے پاس کوئی علم غیب ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں ‘۔ ان دونوں جملوں کی تفسیر سورۃ والطور میں گزر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ اے نبی! آپ انہیں اللہ عزوجل کی طرف بغیر اجرت اور بغیر مال طلبی کے اور بغیر بدلے کی چاہت کے بلا رہے ہیں آپ کی غرض سوائے ثواب حاصل کرنے کے اور کوئی نہیں اس پر بھی یہ لوگ صرف اپنی جہالت اور کفر اور سرکشی کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں۔
44۔ 1 یعنی میں ہی ان سے نمٹ لوں گا تو ان کی فکر نہ کر یہ ڈھیل دینے کا ذکر ہے۔ قرآن میں کئی جگہ بیان کیا گیا ہے اور حدیث میں بھی وضاحت کی گئی ہے کہ نافرمانی کے باوجود دنیاوی مال و اسباب کی فراوانی، اللہ کا فضل نہیں ہے، اللہ کے قانون پھر جب وہ گرفت کرنے پر آتا ہے تو کوئی بچانے والا نہیں ہوتا۔
(آیت 45،44) {فَذَرْنِيْ وَ مَنْ يُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِيْثِ …:} یعنی جھٹلانے والوں کو سزا دینے میں اگر تاخیر ہو رہی ہے تو آپ فکر مت کریں، انھیں ہمارے سپرد کر دیں، پھر ہم جانیں اور وہ۔ {” سَنَسْتَدْرِجُهُمْ “} ہم انھیں درجہ بدرجہ ہلاکت کی طرف لے جائیں گے، یعنی ہم انھیں عمر، صحت اور دوسری نعمتیں مسلسل دیتے جائیں گے، وہ شکر کے بجائے کفر میں بڑھتے جائیں گے اور انجام کار جہنم میں پہنچ جائیں گے۔ کفر و فسق کے باوجود نعمتیں بڑھتی جائیں تو یہ اللہ کی طرف سے استدراج اور اس کی خفیہ تدبیر ہے۔ دیکھیے سورۂ مومنون (۵۶)، انعام (۴۴) اور اعراف (۱۸۳)۔
وَ اُمۡلِیۡ لَہُمۡ ؕ اِنَّ کَیۡدِیۡ مَتِیۡنٌ ﴿۴۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
میں اِن کی رسی دراز کر رہا ہوں، میری چال بڑی زبردست ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور میں انہیں ڈھیل دوں گا، بیشک میری تدبیر بڑی مضبوط ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور میں انہیں ڈھیل دوں گا، بیشک میری خفیہ تدبیر بہت پکی ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور میں انہیں مہلت دے رہا ہوں۔ بےشک میری تدبیر بڑی مضبوط ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور میں انھیں مہلت دوں گا، یقیناً میری خفیہ تدبیر بہت مضبوط ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سجدہ اس وقت منافقوں کے بس میں نہیں ہو گا ٭٭

اوپر بیان ہو چکا ہے کہ ’ پرہیزگار لوگوں کے لیے نعمتوں والی جنتیں ہیں ‘، اس لئے یہاں بیان ہو رہا ہے کہ یہ جنتیں انہیں کب ملیں گی؟ تو فرمایا کہ ’ اس دن جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی ‘۔ یعنی قیامت کے دن، جو دن بڑی ہولناکیوں والا، زلزلوں والا، امتحان والا اور آزمائش والا اور بڑے بڑے اہم امور کے ظاہر ہونے کا دن ہو گا۔ صحیح بخاری میں اس جگہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے کہ { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، فرماتے تھے ”ہمارا رب اپنی پنڈلی کھول دے گا پس ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت سجدے میں گر پڑے گی ہاں دنیا میں جو لوگ دکھاوے سناوے کے لیے سجدہ کرتے تھے وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی کمر تختہ کی طرف ہو جائے گی، یعنی ان سے سجدے کے لیے جھکا نہ جائے گا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4919] ‏‏‏‏ یہ حدیث بخاری مسلم دونوں میں ہے اور دوسری کتابوں میں بھی ہے کئی کئی سندوں سے الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ مروی ہے اور یہ حدیث مطول ہے اور مشہور ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ دن تکلیف دکھ درد اور شدت کا دن ہے۔‏‏‏‏“ [ابن جریر] ‏‏‏‏ اور ابن جریر اسے دوسری سند سے شک کے ساتھ بیان کرتے ہیں وہ سیدنا ابن مسعود یا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے «‏‏‏‏يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّيُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ» ۱؎ [68-القلم:42] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں بہت بڑا عظیم الشان امر مروی ہے۔ جیسے شاعر کا قول ہے «وَقَامَتِ الْحَرْبُ بِنَا عَنْ سَاقٍ» یہاں بھی لڑائی کی عظمت اور بڑائی بیان کی گئی ہے، مجاہد رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں قیامت کے دن کی یہ گھڑی بہت سخت ہو گی، آپ فرماتے ہیں یہ امر بہت سخت بڑی گھبراہٹ والا اور ہولناک ہے، آپ فرماتے ہیں جس وقت امر کھول دیا جائے گا اعمال ظاہر ہو جائیں گے اور یہ کھلنا آخرت کا آ جاتا ہے اور اس سے کام کا کھل جانا ہے۔ یہ سب روایتیں ابن جریر میں ہیں۔ اس کے بعد یہ حدیث ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفسیر میں فرمایا: ”مراد بہت بڑا نور ہے لوگ اس کے سامنے سجدے میں گر پڑیں گے“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:42/29:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث ابویعلیٰ میں بھی ہے اور اس کی اسناد میں ایک مبہم راوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» (‏‏‏‏یاد رہے کہ صحیح تفسیر وہی ہے جو بخاری مسلم کے حوالے سے اوپر مرفوع حدیث میں گزری کہ اللہ عزوجل اپنی پنڈلی کھولے گا، دوسری حدیث بھی مطلب کے لحاظ سے ٹھیک ہے کیونکہ اللہ خود نور اور اقوال بھی اس طرح ٹھیک ہیں کہ جہانوں کے پروردگار کی پنڈلی بھی ظاہر ہو گی اور ساتھ ہی وہ ہولناکیاں اور شدتیں بھی ہوں گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» مترجم)

دنیا میں سجدہ نہ کرنے والے کی قیامت کو حالت ٭٭

پھر فرمایا ’ جس دن ان لوگوں کی آنکھیں اوپر کو نہ اٹھیں گی اور ذلیل و پست ہو جائیں گے کیونکہ دنیا میں بڑے سرکش اور کبر و غرور والے تھے، صحت اور سلامتی کی حالت میں دنیا میں جب انہیں سجدے کے لیے بلایا جاتا تھا تو رک جاتے تھے جس کی سزا یہ ملی کہ آج سجدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن نہیں کر سکتے پہلے کر سکتے تھے لیکن نہیں کرتے تھے، اللہ تعالیٰ کی تجلی دیکھ کر مومن سب سجدے میں گر پڑیں گے لیکن کافر و منافق سجدہ نہ کر سکیں گے، کمر تختہ ہو جائے گی، جھکے گی ہی نہیں بلکہ پیٹھ کے بل چت گر پڑیں گے، یہاں بھی ان کی حالت مومنوں کے خلاف تھی، وہاں بھی خلاف ہی رہے گی ‘۔ پھر فرمایا ’ مجھے اور میری اس حدیث یعنی قرآن کو جھٹلانے والوں کو تو چھوڑ دے، اس میں بڑی وعید ہے اور سخت ڈانٹ ہے کہ تو ٹھہر جا میں خود ان سے نپٹ لوں گا، دیکھ تو سہی کہ کس طرح بتدریج انہیں پکڑتا ہوں یہ اپنی سرکشی اور غرور میں پڑتے جائیں گے، میری ڈھیل کے راز کو نہ سمجھیں گے اور پھر ایک دم یہ پاپ کا گھڑا پھوٹے گا اور میں اچانک انہیں پکڑ لوں گا۔ میں انہیں بڑھاتا رہوں گا یہ بدمست ہوتے چلے جائیں گے وہ اسے کرامت سمجھیں گے حالانکہ وہ اہانت ہو گی ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُم بِهِ مِن مَّالٍ وَبَنِينَ نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَل لَّا يَشْعُرُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:56،55] ‏‏‏‏، یعنی ’ کیا ان کا گمان ہے کہ مال و اولاد کا بڑھنا ان کے لیے ہماری جانب سے کسی بھلائی کی بنا پر ہے، نہیں بلکہ یہ بے شعور ہیں ‘۔ اور جگہ فرمایا «‏‏‏‏فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:44] ‏‏‏‏ ’ جب یہ ہمارے وعظ و پند کو بھلا چکے تو ہم نے ان پر تمام چیزوں کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ انہیں جو دیا گیا تھا اس پر اترانے لگے تو ہم نے انہیں ناگہانی پکڑ لیا اور ان کی امیدیں منقطع ہو گئیں ‘۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے ’ میں انہیں ڈھیل دوں گا، بڑھاؤں گا اور اونچا کروں گا یہ میرا داؤ ہے اور میری تدبیر میرے مخالفوں اور میرے نافرمانوں کے ساتھ بہت بڑی ہے ‘۔

بخاری مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4686] ‏‏‏‏ «‏‏‏‏وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» ۱؎ [11-ھود:102] ‏‏‏‏ یعنی ’ اسی طرح ہے تیرے رب کی پکڑ جبکہ وہ کسی بستی والوں کو پکڑتا ہے جو ظالم ہوتے ہیں اس کی پکڑ بڑی درد ناک اور بہت سخت ہے ‘۔ پھر فرمایا ’ تو کچھ ان سے اجرت اور بدلہ تو مانگتا ہی نہیں جو ان پر بھاری پڑتا ہو جس تاوان سے یہ جھکے جاتے ہوں، نہ ان کے پاس کوئی علم غیب ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں ‘۔ ان دونوں جملوں کی تفسیر سورۃ والطور میں گزر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ اے نبی! آپ انہیں اللہ عزوجل کی طرف بغیر اجرت اور بغیر مال طلبی کے اور بغیر بدلے کی چاہت کے بلا رہے ہیں آپ کی غرض سوائے ثواب حاصل کرنے کے اور کوئی نہیں اس پر بھی یہ لوگ صرف اپنی جہالت اور کفر اور سرکشی کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اَمۡ تَسۡـَٔلُہُمۡ اَجۡرًا فَہُمۡ مِّنۡ مَّغۡرَمٍ مُّثۡقَلُوۡنَ ﴿ۚ۴۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا تم اِن سے کوئی اجر طلب کر رہے ہو کہ یہ اس چٹی کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہوں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا تو ان سے کوئی اجرت چاہتا ہے جس کے تاوان سے یہ دبے جاتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
یا تم ان سے اجرت مانگتے ہو کہ وہ چٹی کے بوجھ میں دبے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
کیا آپ(ص) ان سے کوئی اجرت طلب کرتے ہیں کہ وہ اس تاوان کے بوجھ تلے دبےجاتے ہیں؟
عبدالسلام بن محمد
یا تو ان سے کوئی مزدوری طلب کرتا ہے کہ وہ تاوان سے بوجھل ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سجدہ اس وقت منافقوں کے بس میں نہیں ہو گا ٭٭

اوپر بیان ہو چکا ہے کہ ’ پرہیزگار لوگوں کے لیے نعمتوں والی جنتیں ہیں ‘، اس لئے یہاں بیان ہو رہا ہے کہ یہ جنتیں انہیں کب ملیں گی؟ تو فرمایا کہ ’ اس دن جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی ‘۔ یعنی قیامت کے دن، جو دن بڑی ہولناکیوں والا، زلزلوں والا، امتحان والا اور آزمائش والا اور بڑے بڑے اہم امور کے ظاہر ہونے کا دن ہو گا۔ صحیح بخاری میں اس جگہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے کہ { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، فرماتے تھے ”ہمارا رب اپنی پنڈلی کھول دے گا پس ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت سجدے میں گر پڑے گی ہاں دنیا میں جو لوگ دکھاوے سناوے کے لیے سجدہ کرتے تھے وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی کمر تختہ کی طرف ہو جائے گی، یعنی ان سے سجدے کے لیے جھکا نہ جائے گا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4919] ‏‏‏‏ یہ حدیث بخاری مسلم دونوں میں ہے اور دوسری کتابوں میں بھی ہے کئی کئی سندوں سے الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ مروی ہے اور یہ حدیث مطول ہے اور مشہور ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ دن تکلیف دکھ درد اور شدت کا دن ہے۔‏‏‏‏“ [ابن جریر] ‏‏‏‏ اور ابن جریر اسے دوسری سند سے شک کے ساتھ بیان کرتے ہیں وہ سیدنا ابن مسعود یا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے «‏‏‏‏يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّيُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ» ۱؎ [68-القلم:42] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں بہت بڑا عظیم الشان امر مروی ہے۔ جیسے شاعر کا قول ہے «وَقَامَتِ الْحَرْبُ بِنَا عَنْ سَاقٍ» یہاں بھی لڑائی کی عظمت اور بڑائی بیان کی گئی ہے، مجاہد رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں قیامت کے دن کی یہ گھڑی بہت سخت ہو گی، آپ فرماتے ہیں یہ امر بہت سخت بڑی گھبراہٹ والا اور ہولناک ہے، آپ فرماتے ہیں جس وقت امر کھول دیا جائے گا اعمال ظاہر ہو جائیں گے اور یہ کھلنا آخرت کا آ جاتا ہے اور اس سے کام کا کھل جانا ہے۔ یہ سب روایتیں ابن جریر میں ہیں۔ اس کے بعد یہ حدیث ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفسیر میں فرمایا: ”مراد بہت بڑا نور ہے لوگ اس کے سامنے سجدے میں گر پڑیں گے“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:42/29:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث ابویعلیٰ میں بھی ہے اور اس کی اسناد میں ایک مبہم راوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» (‏‏‏‏یاد رہے کہ صحیح تفسیر وہی ہے جو بخاری مسلم کے حوالے سے اوپر مرفوع حدیث میں گزری کہ اللہ عزوجل اپنی پنڈلی کھولے گا، دوسری حدیث بھی مطلب کے لحاظ سے ٹھیک ہے کیونکہ اللہ خود نور اور اقوال بھی اس طرح ٹھیک ہیں کہ جہانوں کے پروردگار کی پنڈلی بھی ظاہر ہو گی اور ساتھ ہی وہ ہولناکیاں اور شدتیں بھی ہوں گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» مترجم)

دنیا میں سجدہ نہ کرنے والے کی قیامت کو حالت ٭٭

پھر فرمایا ’ جس دن ان لوگوں کی آنکھیں اوپر کو نہ اٹھیں گی اور ذلیل و پست ہو جائیں گے کیونکہ دنیا میں بڑے سرکش اور کبر و غرور والے تھے، صحت اور سلامتی کی حالت میں دنیا میں جب انہیں سجدے کے لیے بلایا جاتا تھا تو رک جاتے تھے جس کی سزا یہ ملی کہ آج سجدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن نہیں کر سکتے پہلے کر سکتے تھے لیکن نہیں کرتے تھے، اللہ تعالیٰ کی تجلی دیکھ کر مومن سب سجدے میں گر پڑیں گے لیکن کافر و منافق سجدہ نہ کر سکیں گے، کمر تختہ ہو جائے گی، جھکے گی ہی نہیں بلکہ پیٹھ کے بل چت گر پڑیں گے، یہاں بھی ان کی حالت مومنوں کے خلاف تھی، وہاں بھی خلاف ہی رہے گی ‘۔ پھر فرمایا ’ مجھے اور میری اس حدیث یعنی قرآن کو جھٹلانے والوں کو تو چھوڑ دے، اس میں بڑی وعید ہے اور سخت ڈانٹ ہے کہ تو ٹھہر جا میں خود ان سے نپٹ لوں گا، دیکھ تو سہی کہ کس طرح بتدریج انہیں پکڑتا ہوں یہ اپنی سرکشی اور غرور میں پڑتے جائیں گے، میری ڈھیل کے راز کو نہ سمجھیں گے اور پھر ایک دم یہ پاپ کا گھڑا پھوٹے گا اور میں اچانک انہیں پکڑ لوں گا۔ میں انہیں بڑھاتا رہوں گا یہ بدمست ہوتے چلے جائیں گے وہ اسے کرامت سمجھیں گے حالانکہ وہ اہانت ہو گی ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُم بِهِ مِن مَّالٍ وَبَنِينَ نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَل لَّا يَشْعُرُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:56،55] ‏‏‏‏، یعنی ’ کیا ان کا گمان ہے کہ مال و اولاد کا بڑھنا ان کے لیے ہماری جانب سے کسی بھلائی کی بنا پر ہے، نہیں بلکہ یہ بے شعور ہیں ‘۔ اور جگہ فرمایا «‏‏‏‏فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:44] ‏‏‏‏ ’ جب یہ ہمارے وعظ و پند کو بھلا چکے تو ہم نے ان پر تمام چیزوں کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ انہیں جو دیا گیا تھا اس پر اترانے لگے تو ہم نے انہیں ناگہانی پکڑ لیا اور ان کی امیدیں منقطع ہو گئیں ‘۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے ’ میں انہیں ڈھیل دوں گا، بڑھاؤں گا اور اونچا کروں گا یہ میرا داؤ ہے اور میری تدبیر میرے مخالفوں اور میرے نافرمانوں کے ساتھ بہت بڑی ہے ‘۔

بخاری مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4686] ‏‏‏‏ «‏‏‏‏وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» ۱؎ [11-ھود:102] ‏‏‏‏ یعنی ’ اسی طرح ہے تیرے رب کی پکڑ جبکہ وہ کسی بستی والوں کو پکڑتا ہے جو ظالم ہوتے ہیں اس کی پکڑ بڑی درد ناک اور بہت سخت ہے ‘۔ پھر فرمایا ’ تو کچھ ان سے اجرت اور بدلہ تو مانگتا ہی نہیں جو ان پر بھاری پڑتا ہو جس تاوان سے یہ جھکے جاتے ہوں، نہ ان کے پاس کوئی علم غیب ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں ‘۔ ان دونوں جملوں کی تفسیر سورۃ والطور میں گزر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ اے نبی! آپ انہیں اللہ عزوجل کی طرف بغیر اجرت اور بغیر مال طلبی کے اور بغیر بدلے کی چاہت کے بلا رہے ہیں آپ کی غرض سوائے ثواب حاصل کرنے کے اور کوئی نہیں اس پر بھی یہ لوگ صرف اپنی جہالت اور کفر اور سرکشی کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں۔
46۔ 1 یہ خطاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے لیکن سرزنش ان کو کی جا رہی ہے جو آپ پر ایمان نہیں لا رہے تھے۔
(آیت 46){ اَمْ تَسْـَٔلُهُمْ اَجْرًا …:} ان کے اسلام قبول نہ کرنے کا ایک عذر یہ ہو سکتا ہے کہ آپ ان سے کوئی اجرت مانگتے ہوں جو ان کے لیے خواہ مخواہ کی چٹی اور بوجھ ہو، ظاہر ہے کہ ایسا ہر گز نہیں ہے۔
اَمۡ عِنۡدَہُمُ الۡغَیۡبُ فَہُمۡ یَکۡتُبُوۡنَ ﴿۴۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا اِن کے پاس غیب کا علم ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
یا کیا ان کے پاس علم غیب ہے جسے وه لکھتے ہوں
احمد رضا خان بریلوی
یا ان کے پاس غیب ہے کہ وہ لکھ رہے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
یا کیا ان کے پاس غیب ہے سو جسے وہ لکھ رہے ہیں؟
عبدالسلام بن محمد
یا ان کے پاس غیب کا علم ہے، تو وہ لکھتے جا تے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سجدہ اس وقت منافقوں کے بس میں نہیں ہو گا ٭٭

اوپر بیان ہو چکا ہے کہ ’ پرہیزگار لوگوں کے لیے نعمتوں والی جنتیں ہیں ‘، اس لئے یہاں بیان ہو رہا ہے کہ یہ جنتیں انہیں کب ملیں گی؟ تو فرمایا کہ ’ اس دن جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی ‘۔ یعنی قیامت کے دن، جو دن بڑی ہولناکیوں والا، زلزلوں والا، امتحان والا اور آزمائش والا اور بڑے بڑے اہم امور کے ظاہر ہونے کا دن ہو گا۔ صحیح بخاری میں اس جگہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے کہ { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، فرماتے تھے ”ہمارا رب اپنی پنڈلی کھول دے گا پس ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت سجدے میں گر پڑے گی ہاں دنیا میں جو لوگ دکھاوے سناوے کے لیے سجدہ کرتے تھے وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی کمر تختہ کی طرف ہو جائے گی، یعنی ان سے سجدے کے لیے جھکا نہ جائے گا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4919] ‏‏‏‏ یہ حدیث بخاری مسلم دونوں میں ہے اور دوسری کتابوں میں بھی ہے کئی کئی سندوں سے الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ مروی ہے اور یہ حدیث مطول ہے اور مشہور ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ دن تکلیف دکھ درد اور شدت کا دن ہے۔‏‏‏‏“ [ابن جریر] ‏‏‏‏ اور ابن جریر اسے دوسری سند سے شک کے ساتھ بیان کرتے ہیں وہ سیدنا ابن مسعود یا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے «‏‏‏‏يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّيُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ» ۱؎ [68-القلم:42] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں بہت بڑا عظیم الشان امر مروی ہے۔ جیسے شاعر کا قول ہے «وَقَامَتِ الْحَرْبُ بِنَا عَنْ سَاقٍ» یہاں بھی لڑائی کی عظمت اور بڑائی بیان کی گئی ہے، مجاہد رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں قیامت کے دن کی یہ گھڑی بہت سخت ہو گی، آپ فرماتے ہیں یہ امر بہت سخت بڑی گھبراہٹ والا اور ہولناک ہے، آپ فرماتے ہیں جس وقت امر کھول دیا جائے گا اعمال ظاہر ہو جائیں گے اور یہ کھلنا آخرت کا آ جاتا ہے اور اس سے کام کا کھل جانا ہے۔ یہ سب روایتیں ابن جریر میں ہیں۔ اس کے بعد یہ حدیث ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفسیر میں فرمایا: ”مراد بہت بڑا نور ہے لوگ اس کے سامنے سجدے میں گر پڑیں گے“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:42/29:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث ابویعلیٰ میں بھی ہے اور اس کی اسناد میں ایک مبہم راوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» (‏‏‏‏یاد رہے کہ صحیح تفسیر وہی ہے جو بخاری مسلم کے حوالے سے اوپر مرفوع حدیث میں گزری کہ اللہ عزوجل اپنی پنڈلی کھولے گا، دوسری حدیث بھی مطلب کے لحاظ سے ٹھیک ہے کیونکہ اللہ خود نور اور اقوال بھی اس طرح ٹھیک ہیں کہ جہانوں کے پروردگار کی پنڈلی بھی ظاہر ہو گی اور ساتھ ہی وہ ہولناکیاں اور شدتیں بھی ہوں گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» مترجم)

دنیا میں سجدہ نہ کرنے والے کی قیامت کو حالت ٭٭

پھر فرمایا ’ جس دن ان لوگوں کی آنکھیں اوپر کو نہ اٹھیں گی اور ذلیل و پست ہو جائیں گے کیونکہ دنیا میں بڑے سرکش اور کبر و غرور والے تھے، صحت اور سلامتی کی حالت میں دنیا میں جب انہیں سجدے کے لیے بلایا جاتا تھا تو رک جاتے تھے جس کی سزا یہ ملی کہ آج سجدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن نہیں کر سکتے پہلے کر سکتے تھے لیکن نہیں کرتے تھے، اللہ تعالیٰ کی تجلی دیکھ کر مومن سب سجدے میں گر پڑیں گے لیکن کافر و منافق سجدہ نہ کر سکیں گے، کمر تختہ ہو جائے گی، جھکے گی ہی نہیں بلکہ پیٹھ کے بل چت گر پڑیں گے، یہاں بھی ان کی حالت مومنوں کے خلاف تھی، وہاں بھی خلاف ہی رہے گی ‘۔ پھر فرمایا ’ مجھے اور میری اس حدیث یعنی قرآن کو جھٹلانے والوں کو تو چھوڑ دے، اس میں بڑی وعید ہے اور سخت ڈانٹ ہے کہ تو ٹھہر جا میں خود ان سے نپٹ لوں گا، دیکھ تو سہی کہ کس طرح بتدریج انہیں پکڑتا ہوں یہ اپنی سرکشی اور غرور میں پڑتے جائیں گے، میری ڈھیل کے راز کو نہ سمجھیں گے اور پھر ایک دم یہ پاپ کا گھڑا پھوٹے گا اور میں اچانک انہیں پکڑ لوں گا۔ میں انہیں بڑھاتا رہوں گا یہ بدمست ہوتے چلے جائیں گے وہ اسے کرامت سمجھیں گے حالانکہ وہ اہانت ہو گی ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُم بِهِ مِن مَّالٍ وَبَنِينَ نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَل لَّا يَشْعُرُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:56،55] ‏‏‏‏، یعنی ’ کیا ان کا گمان ہے کہ مال و اولاد کا بڑھنا ان کے لیے ہماری جانب سے کسی بھلائی کی بنا پر ہے، نہیں بلکہ یہ بے شعور ہیں ‘۔ اور جگہ فرمایا «‏‏‏‏فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:44] ‏‏‏‏ ’ جب یہ ہمارے وعظ و پند کو بھلا چکے تو ہم نے ان پر تمام چیزوں کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ انہیں جو دیا گیا تھا اس پر اترانے لگے تو ہم نے انہیں ناگہانی پکڑ لیا اور ان کی امیدیں منقطع ہو گئیں ‘۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے ’ میں انہیں ڈھیل دوں گا، بڑھاؤں گا اور اونچا کروں گا یہ میرا داؤ ہے اور میری تدبیر میرے مخالفوں اور میرے نافرمانوں کے ساتھ بہت بڑی ہے ‘۔

بخاری مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4686] ‏‏‏‏ «‏‏‏‏وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» ۱؎ [11-ھود:102] ‏‏‏‏ یعنی ’ اسی طرح ہے تیرے رب کی پکڑ جبکہ وہ کسی بستی والوں کو پکڑتا ہے جو ظالم ہوتے ہیں اس کی پکڑ بڑی درد ناک اور بہت سخت ہے ‘۔ پھر فرمایا ’ تو کچھ ان سے اجرت اور بدلہ تو مانگتا ہی نہیں جو ان پر بھاری پڑتا ہو جس تاوان سے یہ جھکے جاتے ہوں، نہ ان کے پاس کوئی علم غیب ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں ‘۔ ان دونوں جملوں کی تفسیر سورۃ والطور میں گزر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ اے نبی! آپ انہیں اللہ عزوجل کی طرف بغیر اجرت اور بغیر مال طلبی کے اور بغیر بدلے کی چاہت کے بلا رہے ہیں آپ کی غرض سوائے ثواب حاصل کرنے کے اور کوئی نہیں اس پر بھی یہ لوگ صرف اپنی جہالت اور کفر اور سرکشی کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں۔
47۔ 1 یعنی کیا غیب کا علم ان کے پاس ہے لوح محفوظ ان کے تصرف میں ہے کہ اس میں سے جو بات چاہتے ہیں نقل کرلیتے ہیں اس لیے یہ تیری اطاعت اختیار کرنے اور تجھ پر ایمان لانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے اس کا جواب یہ ہے کہ نہیں ایسا نہیں ہے۔
(آیت 47){ اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَيْبُ …:} یا یہ عذر ہو سکتا ہے کہ ان کے پاس غیب کا علم ہے اور وہ خود کتاب الٰہی لکھ سکتے ہیں تو انھیں آپ پر ایمان لانے کی کیا ضرورت ہے؟ یا انھوں نے غیب سے معلوم کرکے لکھ دیا ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول نہیں ہیں، یا انھوں نے اپنے متعلق غیب سے معلوم کرکے لکھ رکھا ہے کہ انھیں آخرت میں بھی دنیا جیسی نعمتیں ملتی رہیں گی، ظاہر ہے کہ ایسا بھی ہر گز نہیں ہے۔
فَاصۡبِرۡ لِحُکۡمِ رَبِّکَ وَ لَا تَکُنۡ کَصَاحِبِ الۡحُوۡتِ ۘ اِذۡ نَادٰی وَ ہُوَ مَکۡظُوۡمٌ ﴿ؕ۴۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پس اپنے رب کا فیصلہ صادر ہونے تک صبر کرو اور مچھلی والے (یونس علیہ اسلام) کی طرح نہ ہو جاؤ، جب اُس نے پکارا تھا اور وہ غم سے بھرا ہوا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
پس تو اپنے رب کے حکم کا صبر سے (انتظار کر) اور مچھلی والے کی طرح نہ ہو جا جب کہ اس نے غم کی حالت میں دعا کی
احمد رضا خان بریلوی
تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کر و اور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا تھا
علامہ محمد حسین نجفی
پس آپ(ص) اپنے پروردگار کے فیصلے تک صبر کریں اور مچھلی والے (جنابِ یونس(ع)) کی طرح نہ ہوں جب انہوں نے اس حال میں (اپنے پروردگار کو) پکارا کہ وہ غم و غصہ سے بھرے ہوۓ تھے (یا مغموم تھے)۔
عبدالسلام بن محمد
پس اپنے رب کے فیصلے تک صبر کر اور مچھلی والے کی طرح نہ ہو، جب اس نے پکارا، اس حال میں کہ وہ غم سے بھرا ہوا تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مصائب سے نجات دلانے والی دعا، نظر، فال اور شگون ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! اپنی قوم کی ایذاء پر اور ان کے جھٹلانے پر صبر و ضبط کرو عنقریب اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہونے والا ہے، انجام کار آپ کا اور آپ کے ماتحتوں کا ہی غلبہ ہو گا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دیکھو تم مچھلی والے نبی کی طرح نہ ہونا ‘۔ اس سے مراد یونس بن متی علیہ السلام ہیں جبکہ وہ اپنی قوم پر غضب ناک ہو کر نکل کھڑے ہوئے پھر جو ہوا سو ہوا، یعنی آپ علیہ السلام کا جہاز میں سوار ہونا مچھلی کا آپ کو نگل جانا اور سمندر کی تہہ میں بیٹھ جانا اور ان تہ بہ تہ اندھیروں میں اس قدر نیچے آپ کا سمندر میں اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی بیان کرتے ہوئے سننا اور خود آپ کا بھی پکارنا اور «‏‏‏‏لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ» ۱؎ [21-الأنبياء:87] ‏‏‏‏ پڑھنا پھر آپ کی دعا کا قبول ہونا، اس غم سے نجات پانا وغیرہ جس واقعہ کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے۔ جس کے بیان کے بعد اللہ سبحان و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ «‏‏‏‏فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ» ۱؎ [21-الأنبياء:88] ‏‏‏‏ ’ ہم اسی طرح ایمانداروں کو نجات دیا کرتے ہیں ‘ اور فرماتا ہے کہ «فَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ لَلَبِثَ فِي بَطْنِهِ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ» ۱؎ [37-الصافات:143-144] ‏‏‏‏ ’ اگر وہ تسبیح نہ کرتے تو قیامت تک اسی کے پیٹ میں پڑے رہتے ‘۔ یہاں بھی فرمان ہے کہ ’ جب اس نے غم اور دکھ کی حالت میں ہمیں پکارا ‘، پہلے بیان ہو چکا ہے کہ یونس علیہ السلام کی زبان سے نکلتے ہی یہ کلمہ عرش پر پہنچا، فرشتوں نے کہا یا رب اس کمزور غیر معروف شخص کی آواز تو ایسی معلوم ہوتی ہے جیسے پہلے کی سنی ہوئی ہو۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ’ کیا تم نے اسے پہچانا نہیں؟ ‘ فرشتوں نے عرض کیا نہیں، جناب باری نے فرمایا: ’ یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے ‘۔ فرشتوں نے کہا پروردگار! پھر تو تیرا یہ بندہ وہ ہے جس کے اعمال صالحہ ہر روز آسمانوں پر چڑھتے رہے جس کی دعائیں ہر وقت قبولیت کا درجہ پاتی رہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’ سچ ہے ‘، فرشتوں نے کہا پھر اے ارحم الراحمین! ان کی آسانیوں کے وقت کے نیک اعمال کی بنا پر انہیں اس سختی سے نجات عطا فرما، چنانچہ فرمان باری ہوا کہ ’ اے مچھلی! تو انہیں اگل دے ‘ اور مچھلی نے انہیں کنارے پر آ کر اگل دیا۔ یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ’ اللہ نے اسے پھر برگزیدہ بنا لیا اور نیک کاروں میں کر دیا ‘۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”کسی کو لائق نہیں کہ وہ اپنے آپ کو یونس بن متی سے افضل بتائے“ }۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ حدیث ہے، ۱؎ [صحیح بخاری:3395] ‏‏‏‏ اگلی آیت کا مطلب یہ ہے کہ ’ تیرے بغض و حسد کی وجہ سے یہ کفار تو اپنی آنکھوں سے گھور گھور کر تجھے پھسلا دینا چاہتے ہیں اگر اللہ کی طرف سے حمایت اور بچاؤ نہ ہوتا تو یقیناً یہ ایسا کر گزرتے ‘، اس آیت میں دلیل ہے اس امر پر کہ نظر کا لگنا اور اس کی تاثیر کا اللہ کے حکم سے ہونا حق ہے جیسا کہ بہت سی احادیث میں بھی ہے جو کئی کئی سندوں سے مروی ہے۔ ابوداؤد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دم جھاڑا صرف نظر کا اور زہریلے جانوروں کا اور نہ تھمنے والے خون کا ہے“ } ۱؎ [سنن ابوداود:3889،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ بعض سندوں میں نظر کا لفظ نہیں یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3513،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور صحیح مسلم میں بھی ایک قصہ کے ساتھ موقوفاً مروی ہے، ۱؎ [صحیح مسلم:200] ‏‏‏‏ اور بخاری اور ترمذی میں بھی ہے۔ ایک غریب حدیث ابویعلیٰ میں ہے کہ { نظر میں کچھ بھی حق نہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:5/146:صحیح] ‏‏‏‏ { سب سے سچا شگون فال ہے }، یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے غریب کہتے ہیں ۱؎ [سنن ترمذي:2061،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { کوئی ڈر، خوف، الو اور نظر نہیں اور نیک فالی سب سے زیادہ سچا فال ہے }۔ اور روایت میں ہے کہ { نظر حق ہے، نظر حق ہے، وہ بلندی والے کو بھی اتار دیتی ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:294/1:حسن] ‏‏‏‏

نظر لگنا حق ہے ٭٭

صحیح مسلم میں ہے { نظر حق ہے اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کرنے والی ہوتی تو نظر کر جاتی جب تم سے غسل کرایا جائے تو غسل کر لیا کرو }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2188] ‏‏‏‏ عبدالرزاق میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو ان الفاظ کے ساتھ پناہ میں دیتے «أُعِيذكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّه التَّامَّة مِنْ كُلّ شَيْطَان وَهَامَة وَمِنْ كُلّ عَيْن لَامَّة» یعنی تم دونوں کو اللہ تعالیٰ کے بھرپور کلمات کی پناہ میں سونپتا ہوں ہر شیطان سے اور ہر ایک زہریلے جانور سے اور ہر ایک لگ جانے والی نظر سے، اور فرماتے کہ ابراہیم علیہ السلام بھی اسحاق اور اسماعیل کو انہی الفاظ سے اللہ کی پناہ میں دیا کرتے تھے }، یہ حدیث سنن میں اور بخاری شریف میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3371] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے کہ { سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ غسل کر رہے تھے عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے میں نے تو آج تک ایسا بدن کسی پردہ نشین کا بھی نہیں دیکھا بس ذرا سی دیر میں وہ بیہوش ہو کر گر پڑے لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! ان کی خبر لیجئے یہ تو بیہوش ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی پر تمہارا شک بھی ہے؟“ لوگوں نے کہا، ہاں، عامر بن ربیعہ پر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کیوں کوئی اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی کسی ایسی چیز کو دیکھے کہ اسے بہت اچھی لگے تو اسے چاہیئے کہ اس کے لیے برکت کی دعا کرے“، پھر پانی منگوا کر عامر سے فرمایا: ”تم وضو کرو، منہ اور کہنیوں تک ہاتھ اور گھٹنے اور تہمبد کے اندر کا حصہ جسم دھو ڈالو“ }۔ دوسری روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برتن کو اس کی پیٹھ کے پیچھے سے اوندھا دو“ }۔ نسائی وغیرہ میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ ۱؎ [سنن نسائی:7617،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

نظر لگنے کا دم ٭٭

ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنات کی اور انسانوں کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے، جب سورۃ معوذتیں نازل ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لے لیا اور سب کو چھوڑ دیا }، ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3511،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مسند وغیرہ میں ہے کہ { جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا اے نبی! کیا آپ بیمار ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا «بِسْمِ اللَّه أَرْقِيك مِنْ كُلّ شَيْء يُؤْذِيك مِنْ شَرّ كُلّ نَفْس أَوْ عَيْن حَاسِد اللَّه يَشْفِيك بِسْمِ اللَّه أَرْقِيك» }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2186] ‏‏‏‏ بعض روایات میں کچھ الفاظ کا ہیر پھیر بھی ہے، بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ { یقیناً نظر کا لگ جانا برحق ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5740] ‏‏‏‏ مسند کی ایک حدیث میں ہے کہ { اس کا سبب شیطان ہے اور ابن آدم کا حسد ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:2/439:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند کی اور روایت میں ہے { سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ شگون تین چیزوں میں ہے گھر، گھوڑا اور عورت تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ کہوں گا جو آپ نے نہیں فرمایا، ہاں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ تو سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: ”سب سے سچا شگون نیک فالی ہے اور نظر کا لگنا حق ہے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:289/2:صحیح لغیرہ] ‏‏‏‏ ترمذی وغیرہ میں ہے کہ { سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا یا رسول اللہ! سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے بچوں کو نظر لگ جایا کرتی ہے تو کیا میں کچھ دم کرا لیا کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کر جانے والی ہوتی تو وہ نظر تھی“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2059،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ { { سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نظر بد سے دم کرنے کا حکم مروی ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5738] ‏‏‏‏

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نظر لگانے والے کو حکم کیا جاتا تھا کہ وہ وضو کرے اور جس کو نظر لگی ہے اسے اس پانی سے غسل کرایا جاتا تھا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3880،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { نہیں ہے الو اور نظر حق ہے اور سب سے سچا شگون فال ہے }۔ مسند احمد میں بھی سیدنا سہل اور سیدنا عامر رضی اللہ عنہما والا قصہ جو اوپر بیان ہوا قدرے تفصیل کے ساتھ مروی ہے، ۱؎ [مسند احمد:486/3:صحیح] ‏‏‏‏ بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ { یہ دونوں بزرگ غسل کے ارادے سے چلے اور سیدنا عامر رضی اللہ عنہ پانی میں غسل کے لیے اترے اور ان کا بدن دیکھ کر سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کی نظر لگ گئی اور وہ وہیں پانی میں خرخراہٹ کرنے لگے میں نے تین مرتبہ آوازیں دیں لیکن جواب نہ ملا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور واقعہ سنایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لائے اور تھوڑے سے پانی میں کھچ کھچ کرتے ہوئے، تہمبد اونچا اٹھائے ہوئے، وہاں تک پہنچے اور ان کے سینے میں ہاتھ مارا اور دعا کی «اللَّهُمَّ اِصْرِفْ عَنْهُ حَرّهَا وَبَرْدهَا وَوَصَبهَا» ”اے اللہ! تو اس سے اس کی گرمی اور سردی اور تکلیف دور کر دے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:447/3:ضعیف] ‏‏‏‏

مسند بزار میں ہے کہ { میری امت کی قضاء و قدر کے بعد اکثر موت نظر سے ہو گی }۔ ۱؎ [مسند بزار:3052:ضعیف] ‏‏‏‏ فرماتے ہیں { نظر حق ہے انسان کو قبر تک پہنچا دیتی ہے اور اونٹ کو ہنڈیا تک، میری امت کی اکثر ہلاکی اسی میں ہے }۔ ۱؎ [ضعیف] ‏‏‏‏ ایک اور صحیح سند سے بھی یہ روایت مروی ہے، ۱؎ [ابو نعیم فی الحیلة:90/7] ‏‏‏‏ فرمان رسالت ہے کہ { ایک کی بیماری دوسرے کو نہیں لگتی اور نہ الو کی وجہ سے بربادی کا یقین کر لینا کوئی حقیقت رکھتا ہے اور نہ حسد کوئی چیز ہے، ہاں نظر سچ ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:2/222:صحیح] ‏‏‏‏ ابن عساکر میں ہے کہ { جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت غمزدہ تھے جب پوچھا تو فرمایا: ”حسن اور حسین کو نظر لگ گئی ہے“، فرمایا: یہ سچائی کے قابل چیز ہے نظر واقعی لگتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات پڑھ کر انہیں پناہ میں کیوں نہ دیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”وہ کلمات کیا ہیں؟“ فرمایا: یوں کہیئے «للَّهُمَّ ذَا السُّلْطَان الْعَظِيم وَالْمَنّ الْقَدِيم ذَا الْوَجْه الْكَرِيم وَلِيّ الْكَلِمَات التَّامَّات وَالدَّعَوَات الْمُسْتَجَابَات عَافِ الْحَسَن وَالْحُسَيْن مِنْ أَنْفُس الْجِنّ وَأَعْيُن الْإِنْس» یعنی اے اللہ! اے بہت بڑی بادشاہی والے، اے زبردست قدیم احسانوں والے، اے بزرگ تر چہرے والے، اے پورے کلموں والے اور اے دعاؤں کو قبولیت کا درجہ دینے والے تو حسن اور حسین کو تمام جنات کی ہواؤں سے اور تمام انسان کی آنکھوں سے اپنی پناہ دے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی وہیں دونوں بچے اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھیلنے کودنے لگے تو حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”لوگو اپنی جانوں کو اپنی بیویوں کو اور اپنی اولاد کو اسی پناہ کے ساتھ پناہ دیا کرو، اس جیسی اور کوئی پناہ کی دعا نہیں“ }۔ ۱؎ [ابن عساکر فی تاریخہ:503/8] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ ’ جہاں یہ کافر اپنی حقارت بھری نظریں آپ پر ڈالتے ہیں وہاں اپنی طعنہ آمیز زبان بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کھولتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو قرآن لانے میں مجنون ہیں ‘۔ اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتا ہے ’ قرآن تو اللہ ان کی طرف سے تمام عالم کے لیے نصیحت نامہ ہے ‘۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ نون کی تفسیم ختم ہوئی۔
48۔ 1 جنہوں نے اپنی قوم کی روش تکذیب کو دیکھتے ہوئے عجلت سے کام لیا اور رب کے فیصلے کے بغیر ہی از خود اپنی قوم کو چھوڑ کر چلے گئے۔ جس کے نتیجے میں انہیں مچھلی کے پیٹ میں، جب کہ وہ غم واندوہ سے بھرے ہوئے تھے اپنے رب کو مدد کے لئے پکارنا پڑا۔ جیسے کہ تفصیل پہلے گزر چکی ہے،
(آیت 48){ فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ …:} مچھلی والے سے مراد یونس علیہ السلام ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلقین کی جا رہی ہے کہ آپ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کا انتظار صبر سے کریں، عذاب آنے میں دیر سے پریشان نہ ہوں اور انھیں دی ہوئی مہلت کو لمباسمجھ کر جلد بازی اور اکتاہٹ میں کوئی ایسا کام نہ کر بیٹھیں جیسا مچھلی والے(یونس علیہ السلام) سے سرزد ہوا کہ وہ اجازت کے بغیر قوم کو چھوڑ کر چلے گئے۔ یونس علیہ السلام کے واقعہ کے لیے دیکھیے سورۂ یونس (۹۸)، انبیاء (88،87) اور صافات (۱۳۹ تا ۱۴۸)۔ یونس علیہ السلام کی ندا یہ تھی: «‏‏‏‏اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّيْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ» ‏‏‏‏ [ الأنبیاء: ۸۷ ] ”تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، تو پاک ہے، یقینا میں ظلم کرنے والوں میں سے تھا۔“ {” وَ هُوَ مَكْظُوْمٌ “} (غم سے بھرے ہوئے ہونے) کا مطلب یہ ہے کہ اس دن ان کے دل میں کئی غم اور صدمے اکٹھے ہو گئے تھے، ایک قوم کے ایمان نہ لانے کا غم، دوسرا صریح اجازت کے بغیر اپنے چلے آنے کا، تیسرا سمندر میں پھینک دیے جانے کا اور چوتھا مچھلی کے پیٹ میں قید ہو جانے کا۔ ان سب غموں اور صدموں کا علاج انھوں نے بارگاہ الٰہی میں دعا، تسبیح اور استغفار سے کیا اور اللہ تعالیٰ نے انھیں ہر غم سے نجات عطا فرما دی۔
لَوۡ لَاۤ اَنۡ تَدٰرَکَہٗ نِعۡمَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ لَنُبِذَ بِالۡعَرَآءِ وَ ہُوَ مَذۡمُوۡمٌ ﴿۴۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اگر اس کے رب کی مہربانی اُس کے شامل حال نہ ہو جاتی تو وہ مذموم ہو کر چٹیل میدان میں پھینک دیا جاتا
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر اسے اس کے رب کی نعمت نہ پالیتی تو یقیناً وه برے حالوں میں چٹیل میدان میں ڈال دیا جاتا
احمد رضا خان بریلوی
اگر اس کے رب کی نعمت اس کی خبر کو نہ پہنچ جاتی تو ضرور میدان پر پھینک دیا جاتا الزام دیا ہوا
علامہ محمد حسین نجفی
اگر ان کے پروردگار کا فضل و کرم ان کے شاملِ حال نہ ہوتا تو انہیں اس حال میں چٹیل میدان میں پھینک دیا جاتا کہ وہ مذموم ہوتے۔
عبدالسلام بن محمد
اگر یہ نہ ہوتا کہ اسے اس کے رب کی نعمت نے سنبھال لیا تو یقینا وہ چٹیل زمین پر اس حال میں پھینکا جاتا کہ وہ مذمت کیا ہوا ہوتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مصائب سے نجات دلانے والی دعا، نظر، فال اور شگون ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! اپنی قوم کی ایذاء پر اور ان کے جھٹلانے پر صبر و ضبط کرو عنقریب اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہونے والا ہے، انجام کار آپ کا اور آپ کے ماتحتوں کا ہی غلبہ ہو گا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دیکھو تم مچھلی والے نبی کی طرح نہ ہونا ‘۔ اس سے مراد یونس بن متی علیہ السلام ہیں جبکہ وہ اپنی قوم پر غضب ناک ہو کر نکل کھڑے ہوئے پھر جو ہوا سو ہوا، یعنی آپ علیہ السلام کا جہاز میں سوار ہونا مچھلی کا آپ کو نگل جانا اور سمندر کی تہہ میں بیٹھ جانا اور ان تہ بہ تہ اندھیروں میں اس قدر نیچے آپ کا سمندر میں اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی بیان کرتے ہوئے سننا اور خود آپ کا بھی پکارنا اور «‏‏‏‏لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ» ۱؎ [21-الأنبياء:87] ‏‏‏‏ پڑھنا پھر آپ کی دعا کا قبول ہونا، اس غم سے نجات پانا وغیرہ جس واقعہ کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے۔ جس کے بیان کے بعد اللہ سبحان و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ «‏‏‏‏فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ» ۱؎ [21-الأنبياء:88] ‏‏‏‏ ’ ہم اسی طرح ایمانداروں کو نجات دیا کرتے ہیں ‘ اور فرماتا ہے کہ «فَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ لَلَبِثَ فِي بَطْنِهِ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ» ۱؎ [37-الصافات:143-144] ‏‏‏‏ ’ اگر وہ تسبیح نہ کرتے تو قیامت تک اسی کے پیٹ میں پڑے رہتے ‘۔ یہاں بھی فرمان ہے کہ ’ جب اس نے غم اور دکھ کی حالت میں ہمیں پکارا ‘، پہلے بیان ہو چکا ہے کہ یونس علیہ السلام کی زبان سے نکلتے ہی یہ کلمہ عرش پر پہنچا، فرشتوں نے کہا یا رب اس کمزور غیر معروف شخص کی آواز تو ایسی معلوم ہوتی ہے جیسے پہلے کی سنی ہوئی ہو۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ’ کیا تم نے اسے پہچانا نہیں؟ ‘ فرشتوں نے عرض کیا نہیں، جناب باری نے فرمایا: ’ یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے ‘۔ فرشتوں نے کہا پروردگار! پھر تو تیرا یہ بندہ وہ ہے جس کے اعمال صالحہ ہر روز آسمانوں پر چڑھتے رہے جس کی دعائیں ہر وقت قبولیت کا درجہ پاتی رہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’ سچ ہے ‘، فرشتوں نے کہا پھر اے ارحم الراحمین! ان کی آسانیوں کے وقت کے نیک اعمال کی بنا پر انہیں اس سختی سے نجات عطا فرما، چنانچہ فرمان باری ہوا کہ ’ اے مچھلی! تو انہیں اگل دے ‘ اور مچھلی نے انہیں کنارے پر آ کر اگل دیا۔ یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ’ اللہ نے اسے پھر برگزیدہ بنا لیا اور نیک کاروں میں کر دیا ‘۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”کسی کو لائق نہیں کہ وہ اپنے آپ کو یونس بن متی سے افضل بتائے“ }۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ حدیث ہے، ۱؎ [صحیح بخاری:3395] ‏‏‏‏ اگلی آیت کا مطلب یہ ہے کہ ’ تیرے بغض و حسد کی وجہ سے یہ کفار تو اپنی آنکھوں سے گھور گھور کر تجھے پھسلا دینا چاہتے ہیں اگر اللہ کی طرف سے حمایت اور بچاؤ نہ ہوتا تو یقیناً یہ ایسا کر گزرتے ‘، اس آیت میں دلیل ہے اس امر پر کہ نظر کا لگنا اور اس کی تاثیر کا اللہ کے حکم سے ہونا حق ہے جیسا کہ بہت سی احادیث میں بھی ہے جو کئی کئی سندوں سے مروی ہے۔ ابوداؤد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دم جھاڑا صرف نظر کا اور زہریلے جانوروں کا اور نہ تھمنے والے خون کا ہے“ } ۱؎ [سنن ابوداود:3889،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ بعض سندوں میں نظر کا لفظ نہیں یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3513،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور صحیح مسلم میں بھی ایک قصہ کے ساتھ موقوفاً مروی ہے، ۱؎ [صحیح مسلم:200] ‏‏‏‏ اور بخاری اور ترمذی میں بھی ہے۔ ایک غریب حدیث ابویعلیٰ میں ہے کہ { نظر میں کچھ بھی حق نہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:5/146:صحیح] ‏‏‏‏ { سب سے سچا شگون فال ہے }، یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے غریب کہتے ہیں ۱؎ [سنن ترمذي:2061،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { کوئی ڈر، خوف، الو اور نظر نہیں اور نیک فالی سب سے زیادہ سچا فال ہے }۔ اور روایت میں ہے کہ { نظر حق ہے، نظر حق ہے، وہ بلندی والے کو بھی اتار دیتی ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:294/1:حسن] ‏‏‏‏

نظر لگنا حق ہے ٭٭

صحیح مسلم میں ہے { نظر حق ہے اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کرنے والی ہوتی تو نظر کر جاتی جب تم سے غسل کرایا جائے تو غسل کر لیا کرو }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2188] ‏‏‏‏ عبدالرزاق میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو ان الفاظ کے ساتھ پناہ میں دیتے «أُعِيذكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّه التَّامَّة مِنْ كُلّ شَيْطَان وَهَامَة وَمِنْ كُلّ عَيْن لَامَّة» یعنی تم دونوں کو اللہ تعالیٰ کے بھرپور کلمات کی پناہ میں سونپتا ہوں ہر شیطان سے اور ہر ایک زہریلے جانور سے اور ہر ایک لگ جانے والی نظر سے، اور فرماتے کہ ابراہیم علیہ السلام بھی اسحاق اور اسماعیل کو انہی الفاظ سے اللہ کی پناہ میں دیا کرتے تھے }، یہ حدیث سنن میں اور بخاری شریف میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3371] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے کہ { سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ غسل کر رہے تھے عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے میں نے تو آج تک ایسا بدن کسی پردہ نشین کا بھی نہیں دیکھا بس ذرا سی دیر میں وہ بیہوش ہو کر گر پڑے لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! ان کی خبر لیجئے یہ تو بیہوش ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی پر تمہارا شک بھی ہے؟“ لوگوں نے کہا، ہاں، عامر بن ربیعہ پر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کیوں کوئی اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی کسی ایسی چیز کو دیکھے کہ اسے بہت اچھی لگے تو اسے چاہیئے کہ اس کے لیے برکت کی دعا کرے“، پھر پانی منگوا کر عامر سے فرمایا: ”تم وضو کرو، منہ اور کہنیوں تک ہاتھ اور گھٹنے اور تہمبد کے اندر کا حصہ جسم دھو ڈالو“ }۔ دوسری روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برتن کو اس کی پیٹھ کے پیچھے سے اوندھا دو“ }۔ نسائی وغیرہ میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ ۱؎ [سنن نسائی:7617،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

نظر لگنے کا دم ٭٭

ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنات کی اور انسانوں کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے، جب سورۃ معوذتیں نازل ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لے لیا اور سب کو چھوڑ دیا }، ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3511،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مسند وغیرہ میں ہے کہ { جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا اے نبی! کیا آپ بیمار ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا «بِسْمِ اللَّه أَرْقِيك مِنْ كُلّ شَيْء يُؤْذِيك مِنْ شَرّ كُلّ نَفْس أَوْ عَيْن حَاسِد اللَّه يَشْفِيك بِسْمِ اللَّه أَرْقِيك» }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2186] ‏‏‏‏ بعض روایات میں کچھ الفاظ کا ہیر پھیر بھی ہے، بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ { یقیناً نظر کا لگ جانا برحق ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5740] ‏‏‏‏ مسند کی ایک حدیث میں ہے کہ { اس کا سبب شیطان ہے اور ابن آدم کا حسد ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:2/439:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند کی اور روایت میں ہے { سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ شگون تین چیزوں میں ہے گھر، گھوڑا اور عورت تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ کہوں گا جو آپ نے نہیں فرمایا، ہاں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ تو سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: ”سب سے سچا شگون نیک فالی ہے اور نظر کا لگنا حق ہے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:289/2:صحیح لغیرہ] ‏‏‏‏ ترمذی وغیرہ میں ہے کہ { سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا یا رسول اللہ! سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے بچوں کو نظر لگ جایا کرتی ہے تو کیا میں کچھ دم کرا لیا کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کر جانے والی ہوتی تو وہ نظر تھی“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2059،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ { { سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نظر بد سے دم کرنے کا حکم مروی ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5738] ‏‏‏‏

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نظر لگانے والے کو حکم کیا جاتا تھا کہ وہ وضو کرے اور جس کو نظر لگی ہے اسے اس پانی سے غسل کرایا جاتا تھا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3880،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { نہیں ہے الو اور نظر حق ہے اور سب سے سچا شگون فال ہے }۔ مسند احمد میں بھی سیدنا سہل اور سیدنا عامر رضی اللہ عنہما والا قصہ جو اوپر بیان ہوا قدرے تفصیل کے ساتھ مروی ہے، ۱؎ [مسند احمد:486/3:صحیح] ‏‏‏‏ بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ { یہ دونوں بزرگ غسل کے ارادے سے چلے اور سیدنا عامر رضی اللہ عنہ پانی میں غسل کے لیے اترے اور ان کا بدن دیکھ کر سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کی نظر لگ گئی اور وہ وہیں پانی میں خرخراہٹ کرنے لگے میں نے تین مرتبہ آوازیں دیں لیکن جواب نہ ملا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور واقعہ سنایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لائے اور تھوڑے سے پانی میں کھچ کھچ کرتے ہوئے، تہمبد اونچا اٹھائے ہوئے، وہاں تک پہنچے اور ان کے سینے میں ہاتھ مارا اور دعا کی «اللَّهُمَّ اِصْرِفْ عَنْهُ حَرّهَا وَبَرْدهَا وَوَصَبهَا» ”اے اللہ! تو اس سے اس کی گرمی اور سردی اور تکلیف دور کر دے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:447/3:ضعیف] ‏‏‏‏

مسند بزار میں ہے کہ { میری امت کی قضاء و قدر کے بعد اکثر موت نظر سے ہو گی }۔ ۱؎ [مسند بزار:3052:ضعیف] ‏‏‏‏ فرماتے ہیں { نظر حق ہے انسان کو قبر تک پہنچا دیتی ہے اور اونٹ کو ہنڈیا تک، میری امت کی اکثر ہلاکی اسی میں ہے }۔ ۱؎ [ضعیف] ‏‏‏‏ ایک اور صحیح سند سے بھی یہ روایت مروی ہے، ۱؎ [ابو نعیم فی الحیلة:90/7] ‏‏‏‏ فرمان رسالت ہے کہ { ایک کی بیماری دوسرے کو نہیں لگتی اور نہ الو کی وجہ سے بربادی کا یقین کر لینا کوئی حقیقت رکھتا ہے اور نہ حسد کوئی چیز ہے، ہاں نظر سچ ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:2/222:صحیح] ‏‏‏‏ ابن عساکر میں ہے کہ { جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت غمزدہ تھے جب پوچھا تو فرمایا: ”حسن اور حسین کو نظر لگ گئی ہے“، فرمایا: یہ سچائی کے قابل چیز ہے نظر واقعی لگتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات پڑھ کر انہیں پناہ میں کیوں نہ دیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”وہ کلمات کیا ہیں؟“ فرمایا: یوں کہیئے «للَّهُمَّ ذَا السُّلْطَان الْعَظِيم وَالْمَنّ الْقَدِيم ذَا الْوَجْه الْكَرِيم وَلِيّ الْكَلِمَات التَّامَّات وَالدَّعَوَات الْمُسْتَجَابَات عَافِ الْحَسَن وَالْحُسَيْن مِنْ أَنْفُس الْجِنّ وَأَعْيُن الْإِنْس» یعنی اے اللہ! اے بہت بڑی بادشاہی والے، اے زبردست قدیم احسانوں والے، اے بزرگ تر چہرے والے، اے پورے کلموں والے اور اے دعاؤں کو قبولیت کا درجہ دینے والے تو حسن اور حسین کو تمام جنات کی ہواؤں سے اور تمام انسان کی آنکھوں سے اپنی پناہ دے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی وہیں دونوں بچے اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھیلنے کودنے لگے تو حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”لوگو اپنی جانوں کو اپنی بیویوں کو اور اپنی اولاد کو اسی پناہ کے ساتھ پناہ دیا کرو، اس جیسی اور کوئی پناہ کی دعا نہیں“ }۔ ۱؎ [ابن عساکر فی تاریخہ:503/8] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ ’ جہاں یہ کافر اپنی حقارت بھری نظریں آپ پر ڈالتے ہیں وہاں اپنی طعنہ آمیز زبان بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کھولتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو قرآن لانے میں مجنون ہیں ‘۔ اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتا ہے ’ قرآن تو اللہ ان کی طرف سے تمام عالم کے لیے نصیحت نامہ ہے ‘۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ نون کی تفسیم ختم ہوئی۔
49۔ 1 یعنی اگر اللہ تعالیٰ انہیں توبہ و مناجات کی توفیق نہ دیتا اور ان کی دعا قبول نہ فرماتا تو ساحل سمندر کے بجائے جہاں ان کے سائے اور خوراک کے لئے بیلدار درخت اگا دیا گیا، کسی بنجر زمین میں پھینک دیا جاتا اور عند اللہ ان کی حیثیت بھی مذموم رہتی، جب کہ قبولیت دعا کے بعد وہ محمود ہوگئے۔
(آیت 49){ لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ …:} اگر یونس علیہ السلام تسبیح و استغفار نہ کرتے تو قیامت کے دن تک مچھلی کے پیٹ میں رہتے۔ (دیکھیے صافات: 144،143) تسبیح کے بعد دائمی قید کا فیصلہ ختم ہوگیا، مگر مرتبے میں جو کمی ہوئی اور اپنی خطا کی وجہ سے جس ملامت کے سزاوار ٹھہرے، اگر ان کے رب کی نعمت انھیں نہ سنبھالتی اور ان کی خطا معاف نہ کر دی جاتی اور اسی حالت میں عراء(چٹیل زمین) میں پھینک دیے جاتے تو اس حالت میں وہ مذموم ہوتے، مگر نعمت الٰہی سے تمام کوتاہیوں کی تلافی کے بعد عراء میں پھینکے گئے تو وہ مذموم نہ تھے بلکہ محمود تھے۔
فَاجۡتَبٰہُ رَبُّہٗ فَجَعَلَہٗ مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۵۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
آخرکار اُس کے رب نے اسے برگزیدہ فرما لیا اور اِسے صالح بندوں میں شامل کر دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
اسے اس کے رب نے پھر نوازا اور اسے نیک کاروں میں کر دیا
احمد رضا خان بریلوی
تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے قربِ خاص کے سزاواروں (حقداروں) میں کرلیا،
علامہ محمد حسین نجفی
مگر ان کے پروردگار نے انہیں منتخب کر لیا اور انہیں (اپنے) نیکوکار بندوں سے بنا دیا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اس کے رب نے اسے چن لیا، پس اسے نیکوں میں شامل کر دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مصائب سے نجات دلانے والی دعا، نظر، فال اور شگون ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! اپنی قوم کی ایذاء پر اور ان کے جھٹلانے پر صبر و ضبط کرو عنقریب اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہونے والا ہے، انجام کار آپ کا اور آپ کے ماتحتوں کا ہی غلبہ ہو گا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دیکھو تم مچھلی والے نبی کی طرح نہ ہونا ‘۔ اس سے مراد یونس بن متی علیہ السلام ہیں جبکہ وہ اپنی قوم پر غضب ناک ہو کر نکل کھڑے ہوئے پھر جو ہوا سو ہوا، یعنی آپ علیہ السلام کا جہاز میں سوار ہونا مچھلی کا آپ کو نگل جانا اور سمندر کی تہہ میں بیٹھ جانا اور ان تہ بہ تہ اندھیروں میں اس قدر نیچے آپ کا سمندر میں اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی بیان کرتے ہوئے سننا اور خود آپ کا بھی پکارنا اور «‏‏‏‏لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ» ۱؎ [21-الأنبياء:87] ‏‏‏‏ پڑھنا پھر آپ کی دعا کا قبول ہونا، اس غم سے نجات پانا وغیرہ جس واقعہ کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے۔ جس کے بیان کے بعد اللہ سبحان و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ «‏‏‏‏فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ» ۱؎ [21-الأنبياء:88] ‏‏‏‏ ’ ہم اسی طرح ایمانداروں کو نجات دیا کرتے ہیں ‘ اور فرماتا ہے کہ «فَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ لَلَبِثَ فِي بَطْنِهِ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ» ۱؎ [37-الصافات:143-144] ‏‏‏‏ ’ اگر وہ تسبیح نہ کرتے تو قیامت تک اسی کے پیٹ میں پڑے رہتے ‘۔ یہاں بھی فرمان ہے کہ ’ جب اس نے غم اور دکھ کی حالت میں ہمیں پکارا ‘، پہلے بیان ہو چکا ہے کہ یونس علیہ السلام کی زبان سے نکلتے ہی یہ کلمہ عرش پر پہنچا، فرشتوں نے کہا یا رب اس کمزور غیر معروف شخص کی آواز تو ایسی معلوم ہوتی ہے جیسے پہلے کی سنی ہوئی ہو۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ’ کیا تم نے اسے پہچانا نہیں؟ ‘ فرشتوں نے عرض کیا نہیں، جناب باری نے فرمایا: ’ یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے ‘۔ فرشتوں نے کہا پروردگار! پھر تو تیرا یہ بندہ وہ ہے جس کے اعمال صالحہ ہر روز آسمانوں پر چڑھتے رہے جس کی دعائیں ہر وقت قبولیت کا درجہ پاتی رہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’ سچ ہے ‘، فرشتوں نے کہا پھر اے ارحم الراحمین! ان کی آسانیوں کے وقت کے نیک اعمال کی بنا پر انہیں اس سختی سے نجات عطا فرما، چنانچہ فرمان باری ہوا کہ ’ اے مچھلی! تو انہیں اگل دے ‘ اور مچھلی نے انہیں کنارے پر آ کر اگل دیا۔ یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ’ اللہ نے اسے پھر برگزیدہ بنا لیا اور نیک کاروں میں کر دیا ‘۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”کسی کو لائق نہیں کہ وہ اپنے آپ کو یونس بن متی سے افضل بتائے“ }۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ حدیث ہے، ۱؎ [صحیح بخاری:3395] ‏‏‏‏ اگلی آیت کا مطلب یہ ہے کہ ’ تیرے بغض و حسد کی وجہ سے یہ کفار تو اپنی آنکھوں سے گھور گھور کر تجھے پھسلا دینا چاہتے ہیں اگر اللہ کی طرف سے حمایت اور بچاؤ نہ ہوتا تو یقیناً یہ ایسا کر گزرتے ‘، اس آیت میں دلیل ہے اس امر پر کہ نظر کا لگنا اور اس کی تاثیر کا اللہ کے حکم سے ہونا حق ہے جیسا کہ بہت سی احادیث میں بھی ہے جو کئی کئی سندوں سے مروی ہے۔ ابوداؤد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دم جھاڑا صرف نظر کا اور زہریلے جانوروں کا اور نہ تھمنے والے خون کا ہے“ } ۱؎ [سنن ابوداود:3889،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ بعض سندوں میں نظر کا لفظ نہیں یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3513،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور صحیح مسلم میں بھی ایک قصہ کے ساتھ موقوفاً مروی ہے، ۱؎ [صحیح مسلم:200] ‏‏‏‏ اور بخاری اور ترمذی میں بھی ہے۔ ایک غریب حدیث ابویعلیٰ میں ہے کہ { نظر میں کچھ بھی حق نہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:5/146:صحیح] ‏‏‏‏ { سب سے سچا شگون فال ہے }، یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے غریب کہتے ہیں ۱؎ [سنن ترمذي:2061،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { کوئی ڈر، خوف، الو اور نظر نہیں اور نیک فالی سب سے زیادہ سچا فال ہے }۔ اور روایت میں ہے کہ { نظر حق ہے، نظر حق ہے، وہ بلندی والے کو بھی اتار دیتی ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:294/1:حسن] ‏‏‏‏

نظر لگنا حق ہے ٭٭

صحیح مسلم میں ہے { نظر حق ہے اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کرنے والی ہوتی تو نظر کر جاتی جب تم سے غسل کرایا جائے تو غسل کر لیا کرو }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2188] ‏‏‏‏ عبدالرزاق میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو ان الفاظ کے ساتھ پناہ میں دیتے «أُعِيذكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّه التَّامَّة مِنْ كُلّ شَيْطَان وَهَامَة وَمِنْ كُلّ عَيْن لَامَّة» یعنی تم دونوں کو اللہ تعالیٰ کے بھرپور کلمات کی پناہ میں سونپتا ہوں ہر شیطان سے اور ہر ایک زہریلے جانور سے اور ہر ایک لگ جانے والی نظر سے، اور فرماتے کہ ابراہیم علیہ السلام بھی اسحاق اور اسماعیل کو انہی الفاظ سے اللہ کی پناہ میں دیا کرتے تھے }، یہ حدیث سنن میں اور بخاری شریف میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3371] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے کہ { سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ غسل کر رہے تھے عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے میں نے تو آج تک ایسا بدن کسی پردہ نشین کا بھی نہیں دیکھا بس ذرا سی دیر میں وہ بیہوش ہو کر گر پڑے لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! ان کی خبر لیجئے یہ تو بیہوش ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی پر تمہارا شک بھی ہے؟“ لوگوں نے کہا، ہاں، عامر بن ربیعہ پر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کیوں کوئی اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی کسی ایسی چیز کو دیکھے کہ اسے بہت اچھی لگے تو اسے چاہیئے کہ اس کے لیے برکت کی دعا کرے“، پھر پانی منگوا کر عامر سے فرمایا: ”تم وضو کرو، منہ اور کہنیوں تک ہاتھ اور گھٹنے اور تہمبد کے اندر کا حصہ جسم دھو ڈالو“ }۔ دوسری روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برتن کو اس کی پیٹھ کے پیچھے سے اوندھا دو“ }۔ نسائی وغیرہ میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ ۱؎ [سنن نسائی:7617،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

نظر لگنے کا دم ٭٭

ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنات کی اور انسانوں کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے، جب سورۃ معوذتیں نازل ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لے لیا اور سب کو چھوڑ دیا }، ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3511،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مسند وغیرہ میں ہے کہ { جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا اے نبی! کیا آپ بیمار ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا «بِسْمِ اللَّه أَرْقِيك مِنْ كُلّ شَيْء يُؤْذِيك مِنْ شَرّ كُلّ نَفْس أَوْ عَيْن حَاسِد اللَّه يَشْفِيك بِسْمِ اللَّه أَرْقِيك» }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2186] ‏‏‏‏ بعض روایات میں کچھ الفاظ کا ہیر پھیر بھی ہے، بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ { یقیناً نظر کا لگ جانا برحق ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5740] ‏‏‏‏ مسند کی ایک حدیث میں ہے کہ { اس کا سبب شیطان ہے اور ابن آدم کا حسد ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:2/439:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند کی اور روایت میں ہے { سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ شگون تین چیزوں میں ہے گھر، گھوڑا اور عورت تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ کہوں گا جو آپ نے نہیں فرمایا، ہاں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ تو سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: ”سب سے سچا شگون نیک فالی ہے اور نظر کا لگنا حق ہے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:289/2:صحیح لغیرہ] ‏‏‏‏ ترمذی وغیرہ میں ہے کہ { سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا یا رسول اللہ! سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے بچوں کو نظر لگ جایا کرتی ہے تو کیا میں کچھ دم کرا لیا کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کر جانے والی ہوتی تو وہ نظر تھی“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2059،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ { { سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نظر بد سے دم کرنے کا حکم مروی ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5738] ‏‏‏‏

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نظر لگانے والے کو حکم کیا جاتا تھا کہ وہ وضو کرے اور جس کو نظر لگی ہے اسے اس پانی سے غسل کرایا جاتا تھا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3880،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { نہیں ہے الو اور نظر حق ہے اور سب سے سچا شگون فال ہے }۔ مسند احمد میں بھی سیدنا سہل اور سیدنا عامر رضی اللہ عنہما والا قصہ جو اوپر بیان ہوا قدرے تفصیل کے ساتھ مروی ہے، ۱؎ [مسند احمد:486/3:صحیح] ‏‏‏‏ بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ { یہ دونوں بزرگ غسل کے ارادے سے چلے اور سیدنا عامر رضی اللہ عنہ پانی میں غسل کے لیے اترے اور ان کا بدن دیکھ کر سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کی نظر لگ گئی اور وہ وہیں پانی میں خرخراہٹ کرنے لگے میں نے تین مرتبہ آوازیں دیں لیکن جواب نہ ملا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور واقعہ سنایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لائے اور تھوڑے سے پانی میں کھچ کھچ کرتے ہوئے، تہمبد اونچا اٹھائے ہوئے، وہاں تک پہنچے اور ان کے سینے میں ہاتھ مارا اور دعا کی «اللَّهُمَّ اِصْرِفْ عَنْهُ حَرّهَا وَبَرْدهَا وَوَصَبهَا» ”اے اللہ! تو اس سے اس کی گرمی اور سردی اور تکلیف دور کر دے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:447/3:ضعیف] ‏‏‏‏

مسند بزار میں ہے کہ { میری امت کی قضاء و قدر کے بعد اکثر موت نظر سے ہو گی }۔ ۱؎ [مسند بزار:3052:ضعیف] ‏‏‏‏ فرماتے ہیں { نظر حق ہے انسان کو قبر تک پہنچا دیتی ہے اور اونٹ کو ہنڈیا تک، میری امت کی اکثر ہلاکی اسی میں ہے }۔ ۱؎ [ضعیف] ‏‏‏‏ ایک اور صحیح سند سے بھی یہ روایت مروی ہے، ۱؎ [ابو نعیم فی الحیلة:90/7] ‏‏‏‏ فرمان رسالت ہے کہ { ایک کی بیماری دوسرے کو نہیں لگتی اور نہ الو کی وجہ سے بربادی کا یقین کر لینا کوئی حقیقت رکھتا ہے اور نہ حسد کوئی چیز ہے، ہاں نظر سچ ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:2/222:صحیح] ‏‏‏‏ ابن عساکر میں ہے کہ { جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت غمزدہ تھے جب پوچھا تو فرمایا: ”حسن اور حسین کو نظر لگ گئی ہے“، فرمایا: یہ سچائی کے قابل چیز ہے نظر واقعی لگتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات پڑھ کر انہیں پناہ میں کیوں نہ دیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”وہ کلمات کیا ہیں؟“ فرمایا: یوں کہیئے «للَّهُمَّ ذَا السُّلْطَان الْعَظِيم وَالْمَنّ الْقَدِيم ذَا الْوَجْه الْكَرِيم وَلِيّ الْكَلِمَات التَّامَّات وَالدَّعَوَات الْمُسْتَجَابَات عَافِ الْحَسَن وَالْحُسَيْن مِنْ أَنْفُس الْجِنّ وَأَعْيُن الْإِنْس» یعنی اے اللہ! اے بہت بڑی بادشاہی والے، اے زبردست قدیم احسانوں والے، اے بزرگ تر چہرے والے، اے پورے کلموں والے اور اے دعاؤں کو قبولیت کا درجہ دینے والے تو حسن اور حسین کو تمام جنات کی ہواؤں سے اور تمام انسان کی آنکھوں سے اپنی پناہ دے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی وہیں دونوں بچے اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھیلنے کودنے لگے تو حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”لوگو اپنی جانوں کو اپنی بیویوں کو اور اپنی اولاد کو اسی پناہ کے ساتھ پناہ دیا کرو، اس جیسی اور کوئی پناہ کی دعا نہیں“ }۔ ۱؎ [ابن عساکر فی تاریخہ:503/8] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ ’ جہاں یہ کافر اپنی حقارت بھری نظریں آپ پر ڈالتے ہیں وہاں اپنی طعنہ آمیز زبان بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کھولتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو قرآن لانے میں مجنون ہیں ‘۔ اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتا ہے ’ قرآن تو اللہ ان کی طرف سے تمام عالم کے لیے نصیحت نامہ ہے ‘۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ نون کی تفسیم ختم ہوئی۔
50۔ 1 اس کا مطلب ہے کہ انہیں توانا اور تندرست کرنے کے بعد دوبارہ رسالت سے نواز کر انہیں اپنی قوم کی طرف بھیجا گیا، جیسا کہ (وَاَنْۢبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةً مِّنْ يَّقْطِيْنٍ 146؀ۚ) 37۔ الصافات:146) سے بھی واضح ہے۔
(آیت 50){ فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ:} چنے ہوئے تو پہلے بھی تھے، اب ان کا مرتبہ اور بڑھا دیا اور انھیں اعلیٰ درجے کے نیک اور صالح بندوں میں داخل کر دیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا يَنْبَغِيْ لِعَبْدٍ أَنْ يَّقُوْلَ إِنِّيْ خَيْرٌ مِّنْ يُوْنُسَ بْنِ مَتّٰی ] [ بخاري، الأنبیاء، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «‏‏‏‏و إن یونس…» : ۳۴۱۳] ”کسی بندے کو لائق نہیں کہ وہ کہے میں یونس بن متیّٰ سے بہتر ہوں۔“