بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ القدر — Surah Qadr
آیت نمبر 5
کل آیات: 5
قرآن کریم القدر آیت 5
آیت نمبر: 5 — سورۃ القدر islamicurdubooks.com ↗
سَلٰمٌ ۟ۛ ہِیَ حَتّٰی مَطۡلَعِ الۡفَجۡرِ ٪﴿۵﴾
وہ رات سراسر سلامتی ہے طلوع فجر تک
یہ رات سراسر سلامتی کی ہوتی ہے اور فجر کے طلوع ہونے تک (رہتی ہے)
وہ سلامتی ہے، صبح چمکتے تک
وہ (رات) سراسر سلامتی ہے طلوعِ صبح تک۔
وہ را ت فجر طلوع ہونے تک سراسر سلامتی ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

غیر متعلقہ روایات اور بحث ٭٭

مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے، اسی کا نام «اللَّيْلَةُ الْمُبَارَكَةُ» بھی ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے «إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ» ۱؎ [44-الدخان:3] ‏‏‏‏ اور یہ بھی قرآن سے ثابت ہے کہ یہ رات رمضان المبارک کے مہینے میں ہے، جیسے فرمایا «شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ» ۱؎ [2-البقرۃ:185] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا قول ہے کہ ”پورا قرآن پاک لوح محفوظ سے آسمان اول پر بیت العزت میں اس رات اترا، پھر تفصیل وار واقعات کے مطابق بتدریج تئیس سال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔‏‏‏‏“ پھر اللہ تعالیٰ لیلۃ القدر کی شان و شوکت کا اظہار فرماتا ہے کہ اس رات کی ایک زبردست برکت تو یہ ہے کہ قرآن کریم جیسی اعلیٰ نعمت اسی رات اتری، تو فرماتا ہے کہ ’ تمہیں کیا خبر کہ لیلۃ القدر کیا ہے؟ ‘ پھر خود ہی بتاتا ہے کہ ’ یہ ایک رات ایک ہزار مہینہ سے افضل ہے ‘۔ امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ ترمذی شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ایک روایت لائے ہیں کہ { یوسف بن سعد سے کہ ایک آدمی نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے جبکہ آپ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر لی کہا کہ ”تم نے ایمان والوں کے منہ کالے کر دئیے“ یا یوں کہا کہ ”اے مومنوں کے منہ سیاہ کرنے والے“، تو آپ نے فرمایا: ”اللہ تجھ پر رحم کرے، مجھ پر خفا نہ ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھلایا گیا کہ گویا آپ کے منبر پر بنو امیہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ برا معلوم ہوا تو «إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ» ۱؎ [108-الکوثر:1] ‏‏‏‏ نازل ہوئی یعنی جنت کی نہر کوثر آپ کو عطا کیے جانے کی خوشخبری ملی اور «إِنَّا أَنزَلْنَاهُ» اتری، پس ہزار مہینے سے وہ مراد ہیں جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بنو امیہ کی مملکت رہے گی، قاسم بن فضل حدانی کہتے ہیں ہم نے حساب لگایا تو وہ پورے ایک ہزار دن ہوئے، نہ ایک دن زیادہ، نہ ایک دن کم }۔ [سنن ترمذي:3350،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ امام ترمذی رحمہ اللہ اس روایت کو غریب بتلاتے ہیں اور اس کی سند میں یوسف بن سعد ہیں جو مجہول ہیں اور صرف اسی سند سے یہ مروی ہے۔

مستدرک حاکم میں بھی یہ روایت ہے امام ترمذی رحمہ اللہ کا یہ فرمانا کہ یہ یوسف مجہول ہیں اس میں ذرا تذبذب ہے اس کے بہت سے شاگرد ہیں۔ یحییٰ بن معین کہتے ہیں یہ مشہور ہیں اور ثقہ ہیں اور اس کی سند میں کچھ اضطراب ہے جیسا بھی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» بہر صورت یہ بہت ہی منکر روایت ہے۔ ہمارے شیخ حافظ حجت ابوالحجاج مزی بھی اس روایت کو منکر بتلاتے ہیں (‏‏‏‏یہ یاد رہے کہ قاسم کا قول جو ترمذی کے حوالے سے بیان ہوا ہے کہ وہ کہتے ہیں ہم نے حساب لگایا تو بنو امیہ کی سلطنت ٹھیک ایک ہزار دن تک رہی یہ نسخے کی غلطی ہے۔ ایک ہزار مہینے لکھنا چاہیئے تھا، میں نے ترمذی شریف میں دیکھا تو وہاں بھی ایک ہزار مہینے ہیں اور آگے بھی یہی آتا ہے۔ مترجم) قاسم بن فضل حدانی کا یہ قول کہ بنو امیہ کی سلطنت کی ٹھیک مدت ایک ہزار مہینے تھی یہ بھی صحیح نہیں اس لیے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی مستقل سلطنت سنہ ۴٠ ہجری میں قائم ہوئی جبکہ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور امر خلافت آپ کو سونپ دیا اور سب لوگ بھی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت پر جمع ہو گئے اور اس سال کا نام ہی عام الجماعہ مشہور ہوا۔ پھر شام وغیرہ میں برابر بنو امیہ کی سلطنت قائم رہی ہاں تقریباً نو سال تک حرمین شریفین اور اہواز اور بعض شہروں پر سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی سلطنت ہو گئی تھی لیکن تاہم اس مدت میں بھی کلیۃً ان کے ہاتھ سے حکومت نہیں گئی۔ البتہ بعض شہروں پر سے حکومت ہٹ گئی تھی، ہاں سنہ ۱۳۲ ھ میں بنوالعباس نے ان سے خلافت اپنے قبضہ میں کر لی پس ان کی سلطنت کی مدت بانوے برس ہوئی اور یہ ایک ہزار ماہ سے بہت زیادہ ہے ایک ہزار مہینے کے تراسی سال چار ماہ ہوتے ہیں۔ ہاں قاسم بن فضل کا یہ حساب اس طرح تو تقریباً ٹھیک ہو جاتا ہے کہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی مدت خلافت اس گنتی میں سے نکال دی جائے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اس روایت کے ضعیف ہونے کی ایک یہ وجہ بھی ہے کہ بنو امیہ کی سلطنت کے زمانہ کی تو برائی اور مذمت بیان کرنی مقصود ہے اور لیلتہ القدر کی اس زمانہ پر فضیلت کا ثابت ہونا کچھ ان کے زمانے کی مذمت کی دلیل نہیں، لیلۃ القدر تو ہر طرح بزرگی والی ہے ہی اور یہ پوری سورت اس مبارک رات کی مدح و ستائش بیان کر رہی ہے، پس بنو امیہ کے زمانہ کے دنوں کی مذمت سے لیلۃ القدر کی کون سی فضیلت ثابت ہو جائے گی؟ یہ تو بالکل وہی مثل اصل ہو جائے گی کہ کوئی شخص تلوار کی تعریف کرتے ہوئے کہے کہ لکڑی سے بہت تیز ہے، کسی بہترین فضیلت والے شخص کو کسی کم درجہ کے ذلیل شخص پر فضیلت دینا تو اس شریف بزرگ کی توہین کرنا ہے۔ اور وجہ سنئے اس روایت کی بنا پر یہ ایک ہزار مہینے وہ ہوئے جن میں بنو امیہ کی سلطنت رہے گی اور یہ سورت اتری ہے مکہ شریف میں تو اس میں ان مہینوں کا حوالہ کیسے دیا جا سکتا ہے جو بنو امیہ کے زمانہ کے ہیں اس پر نہ تو کوئی لفظ دلالت کرتا ہے، نہ معنی کے طور پر یہ سمجھا جا سکتا ہے، منبر تو مدینہ میں قائم ہوتا ہے اور ہجرت کی ایک مدت بعد منبر بنایا جاتا ہے اور رکھا جاتا ہے۔ پس ان تمام وجوہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت ضعیف اور منکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ماہِ رمضان اور لیلتہ القدر کی فضیلت ٭٭

ابن ابی حاتم میں ہے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا جو ایک ہزار ماہ تک اللہ کی راہ میں یعنی جہاد میں ہتھیار بند رہا مسلمانوں کو یہ سن کر تعجب معلوم ہوا تو اللہ عزوجل نے یہ سورت اتاری کہ لیلۃ القدر کی عبادت اس شخص کی ایک ہزار مہینے کی عبادت سے افضل ہے۔ [بیہقی فی السنن:306/4:ضیعف و مرسل] ‏‏‏‏ ابن جریر میں ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جو رات کو قیام کرتا تھا صبح تک اور دن میں دشمنان دین سے جہاد کرتا تھا شام تک ایک ہزار مہینے تک یہی کرتا رہا پس اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمایا کہ اس امت کے کسی شخص کا صرف لیلۃ القدر کا قیام اس عابد کی ایک ہزار مہینے کی اس عبادت سے افضل ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے چار عابدوں کا ذکر کیا جنہوں نے اسی سال تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کی تھی ایک آنکھ جھپکنے کے برابر بھی اللہ کے نافرمانی نہیں کی تھی ایوب علیہ السلام، زکریا علیہ السلام، حزقیل بن عجوز، یوشع بن نون علیہم السلام“، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت تعجب ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا کہ ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی امت نے اس جماعت کی اس عبادت پر تعجب کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے بھی افضل چیز آپ پر نازل فرمائی اور فرمایا کہ یہ افضل ہے اس سے جن پر آپ اور آپ کی امت نے تعجب ظاہر کیا تھا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم بے حد خوش ہوئے }۔ [باطل لا اصل لہ فی المرفوع] ‏‏‏‏ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ اس رات کا نیک عمل اس کا روزہ اس کی نماز ایک ہزار مہینوں کے روزے اور نماز سے افضل ہے جن میں لیلۃ القدر نہ ہو“ اور مفسرین کا بھی یہ قول ہے۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسی کو پسند فرمایا ہے کہ ”وہ ایک ہزار مہینے جن میں لیلۃ القدر نہ ہو“ یہی ٹھیک ہے اس کے سوا اور کوئی قول ٹھیک نہیں۔ جیسے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایک رات کی جہاد کی تیاری اس کے سوا ایک ہزار راتوں سے افضل ہے }۔ [مسند احمد:75/1:حسن] ‏‏‏‏ اسی طرح اور حدیث میں ہے کہ { جو شخص اچھی نیت اور اچھی حالت سے جمعہ کی نماز کے لیے جائے اس کے لیے ایک سال کے اعمال کا ثواب لکھا جاتا ہے سال بھر کے روزوں کا اور سال بھر کی نمازوں کا }۔ [سنن ترمذي:496،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اسی طرح کی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں پس مطلب یہ ہے کہ مراد ایک ہزار مہینے سے وہ مہینے ہیں جن میں لیلۃ القدر نہ آئے جیسے ایک ہزار راتوں سے مراد وہ راتیں ہیں جن میں کوئی رات اس عبادت کی نہ ہو اور جیسے جمعہ کی طرف جانے والے کو ایک سال کی نیکیاں یعنی وہ سال جس میں جمعہ نہ ہو۔

مسند احمد میں ہے { سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رمضان آ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو تم پر رمضان کا مہینہ آ گیا یہ بابرکت مہینہ آ گیا اس کے روزے اللہ نے تم پر فرض کیے ہیں اس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں شیاطین قید کر لیے جاتے ہیں اس میں ایک رات ہے جو ایک ہزار مہینے سے افضل ہے اس کی بھلائی سے محروم رہنے والا حقیقی بد قسمت ہے“ }۔ [مسند احمد230/2:صحیح] ‏‏‏‏ نسائی شریف میں بھی یہ روایت ہے چونکہ اس رات کی عبادت ایک ہزار مہینے کی عبادت سے افضل ہے اس لیے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص لیلۃ القدر کا قیام ایمانداری اور نیک نیتی سے کرے اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دئیے جاتے ہیں“ }۔ [صحیح بخاری:2014] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ اس رات کی برکت کی زیادتی کی وجہ سے بکثرت فرشتے اس میں نازل ہوتے ہیں۔ فرشتے تو ہر برکت اور رحمت کے ساتھ نازل ہوتے رہتے ہیں جیسے تلاوت قرآن کے وقت اترتے ہیں اور ذکر کی مجلسوں کو گھیر لیتے ہیں اور علم دین کے سیکھنے والوں کے لیے راضی خوشی اپنے پر بچھا دیا کرتے ہیں اور اس کی عزت و تکریم کرتے ہیں «روح» سے مراد یہاں جبرائیل علیہ السلام ہیں، یہ خاص کا عطف ہے عام پر۔ بعض کہتے ہیں «روح» کے نام کے ایک خاص قسم کے فرشتے ہیں جیسے کہ سورۃ «عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ» ۱؎ [78-النبأ:1] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں تفصیل سے گزر چکا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» پھر فرمایا وہ سراسر سلامتی والی رات ہے جس میں شیطان نہ تو برائی کر سکتا ہے نہ ایذاء پہنچا سکتا ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”اس میں تمام کاموں کا فیصلہ کیا جاتا ہے عمر اور رزق مقدر کیا جاتا ہے۔‏‏‏‏“ جیسے اور جگہ ہے «فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ» ۱؎ [44-الدخان:4] ‏‏‏‏ یعنی ’ اسی رات میں ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے ‘۔ شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس رات میں فرشتے مسجد والوں پر صبح تک سلام بھیجتے رہتے ہیں۔‏‏‏‏“ امام بیہقی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب فضائل اوقات میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ایک غریب اثر فرشتوں کے نازل ہونے میں اور نمازیوں پر ان کے گزرنے میں اور انہیں برکت حاصل ہونے میں وارد کیا ہے۔ ابن ابی حاتم میں کعب احبار رضی اللہ عنہ سے ایک عجیب و غریب بہت طول طویل اثر وارد کیا ہے جس میں فرشتوں کا سدرۃ المنتہیٰ سے جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ زمین پر آنا اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے دعائیں کرنا وارد ہے۔ ابوداؤد طیالسی فرماتے ہیں کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لیلۃ القدر ستائیسویں ہے یا انتیسویں اس رات میں فرشتے زمین پر سنگریزوں کی گنتی سے بھی زیادہ ہوتے ہیں }۔ [مسند طیالسی:2545:حسن] ‏‏‏‏ عبدالرحمٰن بن ابو یعلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس رات میں ہر امر سے سلامتی ہے یعنی کوئی نئی بات پیدا نہیں ہوتی۔‏‏‏‏“

قتادہ رحمہ اللہ اور ابن زید رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”یہ رات سراسر سلامتی والی ہے کوئی برائی صبح ہونے تک نہیں ہوتی۔‏‏‏‏“ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”لیلۃ القدر آخری دس راتوں میں ہے جو ان میں طلب ثواب کی نیت سے قیام کرے اللہ تعالیٰ اس کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف فرما دیتا ہے یہ رات اکائی کی ہے یعنی اکیسویں یا تیسویں یا پچیسویں یا ستائیسویں یا آخری رات۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”یہ رات بالکل صاف اور ایسی روشن ہوتی ہے کہ گویا چاند چڑھا ہوا ہے اس میں سکون اور دلجمعی ہوتی ہے، نہ سردی زیادہ ہوتی ہے، نہ گرمی، صبح تک ستارے نہیں جھڑتے ایک نشانی اس کی یہ بھی ہے کہ اس صبح کو سورج تیز شعاؤں کے ساتھ نہیں نکلتا بلکہ وہ چودہویں رات کی طرح صاف نکلتا ہے۔ اس دن اس کے ساتھ شیطان بھی نہیں نکلتا }۔ [مسند احمد:323/5:حسن] ‏‏‏‏ یہ اسناد تو صحیح ہے لیکن متن میں غرابت ہے۔ اور بعض الفاظ میں نکارت بھی ہے اور ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”لیلۃ القدر صاف پر سکون سردی گرمی سے خالی رات ہے اس کی صبح مدھم روشنی والا سرخ رنگ نکلتا ہے“ }۔ [مسند طیالسی:2680:صحیح] ‏‏‏‏ ابوعاصم نبیل اپنی اسناد سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا: ”میں لیلۃ القدر دکھلایا گیا پھر بھلا دیا گیا یہ آخری دس راتوں میں ہے یہ صاف شفاف سکون و وقار والی رات ہے نہ زیادہ سردی ہوتی ہے نہ زیادہ گرمی اس قدر روشنی رات ہوتی ہے کہ یہ معلوم ہوتا ہے گویا چاند چڑھا ہوا ہے سورج کے ساتھ شیطان نہیں نکلتا یہاں تک کہ دھوپ چڑھ جائے“ }۔ [صحیح ابن خریمہ:2190] ‏‏‏‏

فصل ٭٭

اس بات میں علماء کا اختلاف ہے کہ لیلۃ القدر اگلی امتوں میں بھی تھی یا صرف اسی امت کو خصوصیت کے ساتھ عطا کی گئی ہے۔ پس ایک حدیث میں تو یہ آیا ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نظریں ڈالیں اور یہ معلوم کیا کہ سابقہ لوگوں کی عمریں بہت زیادہ ہوتی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال گزرا کہ میری امت کی عمریں ان کے مقابلہ میں کم ہیں تو نیکیاں بھی کم رہیں گیں اور پھر درجات اور ثواب میں بھی کمی رہیں گی، تو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ رات عنایت فرمائی اور اس کا ثواب ایک ہزار مہینے کی عبادت سے زیادہ دینے کا وعدہ فرمایا }۔ [مؤطا:321/1:مرسل] ‏‏‏‏ اس حدیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف اسی امت کو یہ رات دی گئی ہے بلکہ صاحب عدۃ نے جو شافعیہ میں سے ایک امام ہیں جمہور علماء کا یہی قول نقل کیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اور خطابی نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے لیکن ایک اور حدیث ہے جس سے یہ معلوم ہوتا کہ یہ رات جس طرح اس امت میں ہے، اگلی امتوں میں بھی تھی، چنانچہ مرثد رحمہ اللہ فرماتے ہیں { میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے لیلۃ القدر کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سوال کیا تھا؟ آپ نے فرمایا: سنو! میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اکثر باتیں دریافت کرتا رہتا تھا ایک مرتبہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ تو فرمائیے کہ لیلۃ القدر رمضان میں ہی ہے یا اور مہینوں میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان میں۔‏‏‏‏“ میں نے کہا: اچھا یا رسول اللہ! یہ انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ہی ہے کہ جب تک وہ ہیں یہ بھی ہے جب انبیاء علیہم السلام قبض کئے جاتے ہیں تو یہ اٹھ جاتی ہیں یا یہ قیامت تک باقی رہیں گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ”نہیں وہ قیامت تک باقی رہے گی“، میں نے کہا: اچھا رمضان کے کس حصہ میں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے رمضان کے پہلے اور آخری عشرہ میں ڈھونڈ۔‏‏‏‏“ پھر میں خاموش ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اور باتوں میں مشغول ہو گئے۔ میں نے پھر موقع پا کر سوال کیا کہ یا رسول اللہ! ان دونوں عشروں میں سے کس عشرے میں اس رات کو تلاش کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آخری عشرے میں، بس کچھ نہ پوچھنا۔‏‏‏‏“ میں پھر چپکا ہو گیا لیکن پھر موقعہ پا کر میں نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول! آپ کی قسم ہے میرا بھی کچھ حق آپ پر ہے فرما دیجئیے کہ وہ کون سی رات ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غصے ہوئے میں نے تو کبھی آپ کو اپنے اوپر اتنا غصہ ہوتے ہوئے دیکھا ہی نہیں اور فرمایا: ”آخری ہفتہ میں تلاش کرو، اب کچھ نہ پوچھنا“ }۔ [مسند احمد:171/5:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ روایت نسائی میں بھی مروی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ رات اگلی امتوں میں بھی تھی، اور اس حدیث سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی قیامت تک ہر سال آتی رہے گی۔ بعض شیعہ حضرات کا قول ہے کہ یہ رات بالکل اٹھ گئی، یہ قول غلط ہے ان کو غلط فہمی اس حدیث سے ہوئی ہے جس میں ہے کہ وہ اٹھا لی گئی اور ممکن ہے کہ تمہارے لیے اسی میں بہتری ہو یہ حدیث پوری بھی آئے گی۔

مطلب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے یہ ہے کہ اس رات کی تعین اور اس کا تقرر بھی اٹھ گیا، نہ یہ کہ سرے سے لیلۃ القدر ہی اٹھ گئی مندرجہ بالا حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ رات رمضان شریف میں آتی ہے کسی اور مہینہ میں نہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور علماء کوفہ کا قول ہے کہ سارے سال میں ایک رات ہے اور ہر مہینہ میں اس کا ہو جانا ممکن ہے۔ یہ حدیث اس کے خلاف ہے سنن ابوداؤد میں باب ہے کہ اس شخص کی دلیل جو کہتا ہے لیلۃ القدر سارے رمضان میں ہے۔ پھر حدیث لائے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سارے رمضان میں ہے }۔ [سنن ابوداود:1387،قال الشيخ الألباني:ضعیف و الصحیح موقوف] ‏‏‏‏ اس کی سند کے کل راوی ثقہ ہیں یہ موقوف بھی مروی ہیں۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے ایک روایت میں ہے کہ ”رمضان المبارک کے سارے مہینہ میں اس رات کا ہونا ممکن ہے“ غزالی رحمہ اللہ نے اسی کو نقل کیا ہے لیکن رافعی رحمہ اللہ اسے بالکل غریب بتلاتے ہیں۔

فصل ٭٭

ابو زرین رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں کہ ”رمضان کی پہلی رات ہی لیلۃ القدر ہے۔‏‏‏‏“ امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”یہ سترھویں شب ہے۔‏‏‏‏“ ابوداؤد میں اس مضمون کی ایک حدیث مرفوع مروی ہے۔ [سنن ابوداود:1384،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اور سیدنا ابن مسعود، سیدنا زید بن ارقم اور عثمان بن العاص رضی اللہ عنہم سے موقوف بھی مروی ہے۔ حسن بصری کا مذہب بھی یہی نقل کیا گیا ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ رمضان المبارک کی یہی سترھویں رات شب جمعہ تھی اور یہی رات بدر کی رات تھی اور سترھویں تاریخ کو جنگ بدر واقع ہوئی تھی جس دن کو قرآن نے یوم الفرقان کہا ہے۔ سیدنا علی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”انیسویں رات لیلۃ القدر ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اکیسویں رات ہے۔‏‏‏‏“

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان شریف کے دس پہلے دن کا اعتکاف کیا ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی اعتکاف بیٹھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا کہ ”جسے آپ ڈھونڈتے ہیں وہ تو آپ کے آگے ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس سے بیس تک کا اعتکاف کیا اور ہم نے بھی۔ پھر جبرائیل علیہ السلام آئے اور یہی فرمایا کہ ”جسے آپ ڈھونڈتے ہیں وہ تو ابھی بھی آگے ہے یعنی لیلۃ القدر۔‏‏‏‏“ پس رمضان کی بیسویں تاریخ کی صبح کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطبہ فرمایا اور فرمایا کہ ”میرے ساتھ اعتکاف کرنے والوں کو چاہیئے کہ وہ پھر اعتکاف میں بیٹھ جائیں میں نے لیلۃ القدر دیکھ لی لیکن میں بھول گیا، لیلۃ القدر آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہے، میں نے دیکھا ہے کہ گویا میں کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں۔‏‏‏‏“ راوی حدیث فرماتے ہیں کہ مسجد نبوی کی چھت صرف کھجور کے پتوں کی تھی آسمان پر اس وقت ابر کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا بھی نہ تھا، پھر ابر اٹھا اور بارش ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب سچا ہوا اور میں نے خود دیکھا کہ نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر تر مٹی لگی ہوئی تھی اسی روایت کے ایک طریق میں ہے کہ یہ اکیسویں رات کا واقعہ ہے }۔ [صحیح بخاری:2018] ‏‏‏‏ یہ حدیث صحیح بخاری، صحیح مسلم دونوں میں ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”تمام روایتوں میں سے زیادہ صحیح یہی حدیث ہے۔‏‏‏‏“ یہ بھی کہا گیا ہے کہ لیلۃ القدر رمضان شریف کی تئیسویں رات ہے اور اس کی دلیل عبداللہ بن انیس کی صحیح مسلم والی ایسی ہی ایک روایت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ چوبیسویں رات ہے۔ ابوداؤد طیالسی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”لیلۃ القدر چوبیسویں شب ہے“ }۔ [مسند طیالسی:2167] ‏‏‏‏ اس کی سند بھی صحیح ہے مسند احمد میں بھی یہ روایت ہے۔ [مسند احمد:12/6:ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن اس کی سند میں ابن لہیعہ ہیں جو ضعیف ہیں۔ بخاری میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن ہیں مروی ہے کہ یہ پہلی ساتویں ہے آخری دس میں سے، یہ موقوف روایت ہی صحیح ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا ابن مسعود ابن عباس جابر رضی اللہ عنہم حسن، قتادہ عبداللہ بن وہب رحمہ اللہ علیہم بھی فرماتے ہیں کہ چوبیسویں رات لیلۃ القدر ہے۔ سورۃ البقرہ کی تفسیر میں واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کی روایت کی ہوئی مرفوع حدیث بیان ہو چکی ہے کہ قرآن کریم رمضان شریف کی چوبیسویں رات کو اترا۔ بعض کہتے ہیں پچیسویں رات لیلۃ القدر ہے ان کی دلیل بخاری شریف کی یہ حدیث ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے رمضان کے آخری عشرے میں ڈھونڈو۔ نو باقی رہیں تب، سات باقی رہیں تب، پانچ باقی رہیں تب“ }۔ [صحیح بخاری:2021] ‏‏‏‏ اکثر محدثین نے اس کا یہی مطلب بیان کیا ہے کہ اس سے مراد طاق راتیں ہیں یہی زیادہ ظاہر ہے اور زیادہ مشہور ہے گو بعض اوروں نے اسے جفت راتوں پر بھی محمول کیا ہے جیسے کہ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اسے جفت پر محمول کیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ستائیسویں رات ہے اس کی دلیل صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے جس میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”یہ ستائیسویں رات ہے“ }۔ [صحیح مسلم:762] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے { سیدنا زر رضی اللہ عنہ نے ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ کے بھائی عبداللہ بن مسعود تو فرماتے ہیں جو شخص سال بھر راتوں کو قیام کرے گا وہ لیلۃ القدر کو پائے گا آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے وہ جانتے ہیں کہ یہ رات رمضان میں ہی ہے یہ ستائیسویں رات رمضان کی ہے پھر اس بات پر سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے قسم کھائی میں نے پوچھا: آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا؟ جواب دیا کہ ان نشانیوں کو دیکھنے سے جو ہم بتائے گئے ہیں کہ اس دن سورج شعاعوں بغیر نکلتا ہے }۔ [صحیح مسلم:762] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ یہ رات رمضان میں ہی ہے، آپ نے اس پر ان شاءاللہ بھی نہیں فرمایا اور پختہ قسم کھا لی پھر فرمایا: مجھے خوب معلوم ہے کہ وہ کون سی رات ہے جس میں قیام کرنے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے یہ ستائیسویں رات ہے اس کی نشانی یہ ہے کہ اس کی صبح کو سورج سفید رنگ نکلتا ہے اور تیزی زیادہ نہیں ہوتی“ }۔ [صحیح مسلم:762] ‏‏‏‏ سیدنا معاویہ، ابن عمر، ابن عباس رضی اللہ عنہم وغیرہ سے بھی مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ رات ستائیسویں رات ہے“ }۔ سلف کی ایک جماعت نے بھی یہی کہا ہے اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا مختار مسلک بھی یہی ہے اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے ایک روایت اسی قول کی منقول ہے۔

بعض سلف نے قرآن کریم کے الفاظ سے بھی اس کے ثبوت کا حوالہ دیا ہے اس طرح کہ «هِيَ» اس سورت میں ستائیسواں کلمہ ہے اور اس کے معنی ہیں ”یہ۔‏‏‏‏“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» طبرانی میں ہے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جمع کیا اور ان سے لیلۃ القدر کی بابت سوال کیا تو سب کا اجماع اس امر پر ہوا کہ یہ رمضان کے آخری عشرہ میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس وقت فرمایا کہ میں تو یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ کون سی رات ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر کہو وہ کون سی رات ہے؟ فرمایا اس آخری عشرے میں سات گزرنے پر یا سات باقی رہنے پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کیسے معلوم ہوا تو جواب دیا کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے آسمان بھی سات پیدا کیے اور زمین بھی سات بنائیں، مہینہ بھی ہفتوں پر ہے، انسان کی پیدائش بھی سات پر ہے، کھانا بھی سات ہے، سجدہ بھی سات پر ہے، طواف بیت اللہ کی تعداد بھی سات کی ہے، رمی جمار کی کنکریاں بھی سات ہیں اور اسی طرح کی سات کی گنتی کی بہت سی چیزیں اور گنوا دیں۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرم

📖 احسن البیان

5۔ 1 یعنی اس میں شر نہیں۔ یا اس معنی میں سلامتی والی ہے کہ مومن اس رات کو شیطان کے شر سے محفوظ رہتے ہیں یا فرشتے اہل ایمان کو سلام عرض کرتے ہیں، یا فرشتے ہی آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرتے ہیں۔ شب قدر کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور خاص یہ دعا بتلائی ہے، اللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُو تُحِبُّ العَفْوَ فَاعْفُ۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 5) ➊ {سَلٰمٌ هِيَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ:سَلٰمٌ “} خبر مقدم اور {” هِيَ “} مبتدا مؤخر ہے، یعنی وہ رات طلوع فجر تک سراسر سلامتی ہے۔ مغرب سے فجر تک رات بھر اس میں اہلِ ایمان شیطان کے شر اور ہر قسم کے فتنے سے سلامت رہتے ہیں اور اپنے دلوں میں عجیب اطمینان و سکون اور سلامتی محسوس کرتے ہیں۔ ➋ لیلۃ القدر، اس کی تلاش اور اعتکاف کے مسائل و فضائل کے لیے کتب احادیث کا مطالعہ فرمائیں۔
← پچھلی آیت (4) پوری سورۃ اگلی آیت →