بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النمل — Surah Naml
آیت نمبر 93
کل آیات: 93
قرآن کریم النمل آیت 93
آیت نمبر: 93 — سورۃ النمل islamicurdubooks.com ↗
وَ قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ سَیُرِیۡکُمۡ اٰیٰتِہٖ فَتَعۡرِفُوۡنَہَا ؕ وَ مَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿٪۹۳﴾
اِن سے کہو، تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، عنقریب وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھا دے گا اور تم انہیں پہچان لو گے، اور تیرا رب بے خبر نہیں ہے اُن اعمال سے جو تم لوگ کرتے ہو
کہہ دیجئے، کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کو سزاوار ہیں وه عنقریب اپنی نشانیاں دکھائے گا جنہیں تم (خود) پہچان لو گے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اس سے آپ کا رب غافل نہیں
اور فرماؤ کہ سب خوبیاں اللہ کے لیے عنقریب وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے گا تو انہیں پہچان لو گے اور اے محبوب! تمہارا رب غافل نہیں، اے لوگو! تمہارے اعمال سے،
اور آپ کہہ دیجئے! کہ سب تعریف اللہ کیلئے ہے وہ عنقریب تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے گا اور تم انہیں پہچان لوگے اور تمہارا پروردگار اس سے غافل نہیں ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔
اور کہہ دے سب تعریف اللہ کے لیے ہے، عنقریب وہ تمھیں اپنی نشانیاں دکھائے گا تو تم انھیں پہچان لو گے اور تیرا رب ہرگز اس سے غافل نہیں جو تم کرتے ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ تعالٰی کا حکم ، اعلان ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ آپ لوگوں میں اعلان کر دیں کہ میں اس شہر مکہ کے رب کی عبادت کا اور اس کی فرمانبرداری کا مامور ہوں۔ جیسے ارشاد ہے «قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِن كُنتُمْ فِي شَكٍّ مِّن دِينِي فَلَا أَعْبُدُ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ وَلَـٰكِنْ أَعْبُدُ اللَّـهَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ ۖ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ» ۱؎ [10-يونس:104] ‏‏‏‏ ’ کہ اے لوگو! اگر تمہیں میرے دین میں شک ہے تو ہواکرے میں توجن کی تم عبادت کر رہے ہو ان کی عبادت ہرگز نہیں کرونگا۔ میں اسی اللہ کا عابد ہوں جو تمہاری زندگی موت کا مالک ہے۔ ‘ یہاں مکہ شریف کی طرف ربوبیت کی اضافت صرف بزرگی اور شرافت کے اظہار کے لیے ہے جیسے فرمایا «فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَـٰذَا الْبَيْتِ * الَّذِي أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَآمَنَهُم مِّنْ خَوْفٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [106-قريش:4-3] ‏‏‏‏ ’ انہیں چاہیئے کہ اس شہر کے رب کی عبادت کریں جس نے انہیں اوروں کی بھوک کے وقت آسودہ اور اوروں کے خوف کے وقت بےخوف کررکھا ہے۔ ‘ یہاں فرمایا کہ اس شہر کو حرمت وعزت والا اس نے بنایا ہے۔ جیسے بخاری و مسلم میں ہے کہ { رضی اللہ عنہ قیامت آ جائے نہ اس کے کانٹے کاٹے جائیں نہ اس کا شکار خوف زدہ کیا جائے نہ اس میں گری پڑی کسی کی چیز اٹھائی جائے ہاں جو پہچان کر مالک کو پہنچانا چاہے اس کے لیے جائز ہے۔ اس کی گھاس بھی نہ کاٹی جائے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1349] ‏‏‏‏ یہ حدیث بہت سی کتابوں میں بہت سی سندوں کے ساتھ مروی ہے جیسے کہ احکام کی کتابوں میں تفصیل سے موجود ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

پھر اس خاص چیز کی ملکیت ثابت کر کے اپنی عام ملکیت کا ذکر فرماتا ہے کہ ہرچیز کا رب اور مالک وہی ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی مالک نہ معبود۔ اور مجھے یہ حکم بھی ملا ہے کہ میں موحد مخلص مطیع اور فرمانبردار ہو کر رہوں۔ اور مجھے یہ بھی فرمایا گیا کہ میں لوگوں کو اللہ کا کلام پڑھ کر سناؤں۔ جیسے فرمان ہے «کہذَٰلِكَ نَتْلُوهُ عَلَيْكَ مِنَ الْآيَاتِ وَالذِّكْرِ الْحَكِيمِ» ۱؎ [3-آل عمران:58] ‏‏‏‏ ’ ہم یہ آیتیں اور یہ حکمت والا ذکر تیرے سامنے تلاوت کرتے ہیں۔ ‘ اور آیت «نَتْلُو عَلَيْكَ مِن نَّبَإِ مُوسَىٰ وَفِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [28-القصص:3] ‏‏‏‏ میں ہے ’ ہم تجھے موسیٰ اور فرعون کا صحیح واقعہ سناتے ہیں۔ ‘ مطلب یہ ہے کہ میں اللہ کامبلغ ہوں میں تمہیں جگا رہا ہوں۔ تمہیں ڈرا رہا ہوں۔ اگر میری مان کر راہ راست پر آؤ گے تو اپنا بھلاکرو گے۔ اور اگر میری نہ مانی تو میں اپنے تبلیغ کے فرض کو ادا کر کے سبکدوش ہو گیا ہوں۔ اگلے رسولوں نے بھی یہی کیا تھا اللہ کا کلام پہنچاکر اپنا دامن پاک کر لیا۔ جیسے فرمان ہے «وَإِن مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» ۱؎ [13-الرعد:40] ‏‏‏‏ ’ تجھ پر صرف پہنچادینا ہے حساب ہمارے ذمہ ہے۔ ‘ اور فرمایا «إِنَّمَا أَنتَ نَذِيرٌ ۚ وَاللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ» ‏‏‏‏ ۱؎ [11-هود:12] ‏‏‏‏ ’ تو صرف ڈرا دینے والا ہے اور ہرچیز پر وکیل اللہ ہی ہے۔ ‘ اللہ کے لیے تعریف ہے جو بندوں کی بیخبری میں انہیں عذاب نہیں کرتا بلکہ پہلے اپنا پیغام پہنچاتا ہے اپنی حجت تمام کرتا ہے بھلا برا سمجھا دیتا ہے۔ ہم تمہیں ایسی آیتیں دکھائیں گے کہ تم خود قائل ہو جاؤ۔ جیسے فرمایا آیت «سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِي الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ ۭ اَوَلَمْ يَكْ فِبِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ» ۱؎ [41-فصلت:53] ‏‏‏‏ ’ یعنی ہم انہیں خود ان کے نفسوں میں اور ان کے اردگرد ایسی نشانیاں دکھائیں گے کہ جن سے ان پر حق ظاہر ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے کرتوت سے غافل نہیں بلکہ اس کا علم ہر چھوٹی بڑی چیز کا احاطہٰ کئے ہوئے ہے۔ ‘ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے دیکھو لوگو! اللہ کو کسی چیز سے اپنے عمل سے غافل نہ جاننا۔ وہ ایک ایک مچھر سے ایک ایک پتنگے سے اور ایک ایک ذرے سے باخبر ہے۔ }

عمربن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اگر وہ غافل ہوتا تو انسان کے قدموں کے نشان سے جنہیں ہوا مٹادیتی ہے غفلت کر جاتا لیکن وہ ان نشانات کا بھی حافظ ہے اور عالم ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اکثر ان دو شعروں کو پڑھتے تھے جو یا تو آپ کے ہیں یا کسی اور کے۔ «اذا ماخلوت الدھر یوما فلا تقل» * «‏‏‏‏خلوت ولکن قل علی رقیب» ‏‏‏‏ یعنی جب تو کسی وقت بھی خلوت اور تنہائی میں ہو تو اپنے آپ کو تنہا اور اکیلا نہ سمجھنا بلکہ اپنے اللہ کو وہاں حاضر ناظر جاننا۔ وہ ایک ساعت بھی کسی سے غافل نہیں نہ کوئی مخفی اور پوشیدہ چیز اس کے علم سے باہر ہے۔ اللہ کے۔ فضل و کرم سے سورۃ النمل کی تفسیر ختم ہوئی۔

📖 احسن البیان

93-1کہ جو کسی کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک دلیل قائم نہیں کردیتا۔ 93-2ہم انھیں آفاق وانفس میں اپنی نشانیاں دکھلائیں گے تاکہ ان پر حق واضح ہوجائے اگر زندگی میں یہ نشانیاں دیکھ کر ایمان نہیں لاتے تو موت کے وقت تو ان نشانیوں کو دیکھ کر ضرور پہچان لیتے ہیں۔ لیکن اس وقت کی معرفت کوئی فائدہ نہیں پہنچاتی، اس لئے کہ اس وقت ایمان مقبول نہیں۔ 93-2بلکہ ہر چیز کو وہ دیکھ رہا ہے۔ اس میں کافروں کے لئے ترہیب شدید اور تہدید عظیم ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 93) ➊ { وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ:} اور کہہ دے کہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام صفات کمال کا جامع ہے۔ کسی کے ہدایت قبول کرنے یا نہ کرنے سے اس کی حمد میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ اگر تمام جنّ و انس اور پہلے اور پچھلے سب سے متقی شخص کے دل والے ہو جائیں تو اس سے اس کی بادشاہت میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا اور اگر تمام جنّ و انس اور اول و آخر سب سے فاجر شخص کے دل والے ہو جائیں تو اس سے اس کی بادشاہت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ ➋ { سَيُرِيْكُمْ اٰيٰتِهٖ فَتَعْرِفُوْنَهَا:} عنقریب وہ تمھیں اپنی نشانیاں دکھائے گا، تو تم انھیں پہچان لو گے کہ ہاں یہ وہی نشانیاں ہیں جن کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے کیا تھا، مگر اس وقت کا پہچاننا تمھیں کوئی فائدہ نہ دے سکے گا۔ یہ خطاب کفار مکہ سے ہے، اسلامی فتوحات اور تباہ شدہ قوموں کے آثار بھی ان میں شامل ہیں اور قرب قیامت کی نشانیاں بھی اس کے تحت آجاتی ہیں۔ دیکھیے سورۂ حٰم السجدہ (۵۳)۔ ➌ { وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ:} آیت کے اس جملے کے تحت ابن کثیر نے ابن ابی حاتم سے جید سند کے ساتھ عمر بن عبدالعزیز کا قول ذکر کیا ہے، انھوں نے فرمایا: [ فَلَوْ كَانَ اللّٰهُ مُغْفِلًا شَيْئًا لَأَغْفَلَ مَا تَعَفِّي الرِّيَاحُ مِنْ أَثَرِ قَدَمَيِ ابْنِ آدَمَ ] [ ابن کثیر: 219/6 ] ”اگر اللہ تعالیٰ کسی چیز سے غفلت کرنے والا ہوتا، تو ابن آدم کے قدموں کے نشانوں سے ضرور غفلت برتتا، جنھیں ہوائیں مٹا دیتی ہیں (مگر اللہ تعالیٰ ان سے بھی غافل نہیں)۔“ مراد یہ آیت ہے: «{ اِنَّا نَحْنُ نُحْيِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْ }» [ یٰس: ۱۲ ] ”بے شک ہم ہی مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور ہم لکھ رہے ہیں جو عمل انھوں نے آگے بھیجے اور ان کے چھوڑے ہوئے نشان بھی۔“ اور ابن کثیر نے امام احمد رحمہ اللہ کے متعلق نقل فرمایا کہ وہ یہ دو اشعار پڑھا کرتے تھے، جو یا تو ان کے ہیں یا کسی اور کے: {إِذَا مَا خَلَوْتَ الدَّهْرَ يَوْمًا فَلاَ تَقُلْ خَلَوْتُ وَلٰكِنْ قُلْ عَلَيَّ رَقِيْبُ وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ يَغْفُلُ سَاعَةً وَ لَا أَنَّ مَا يَخْفٰي عَلَيْهِ يَغِيْبُ} ”یعنی جب تو کسی بھی وقت اکیلا ہو تو یہ نہ کہنا کہ میں اکیلا ہوں، بلکہ کہنا کہ مجھ پر ایک زبردست نگران ہے اور نہ کبھی گمان کرنا کہ اللہ تعالیٰ ایک لمحے کے لیے بھی غافل ہے اور نہ یہ کہ کوئی پوشیدہ چیز اس کے علم سے باہر ہے۔“
← پچھلی آیت (92) پوری سورۃ اگلی آیت →