بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النمل — Surah Naml
آیت نمبر 91
کل آیات: 93
قرآن کریم النمل آیت 91
آیت نمبر: 91 — سورۃ النمل islamicurdubooks.com ↗
اِنَّمَاۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ رَبَّ ہٰذِہِ الۡبَلۡدَۃِ الَّذِیۡ حَرَّمَہَا وَ لَہٗ کُلُّ شَیۡءٍ ۫ وَّ اُمِرۡتُ اَنۡ اَکُوۡنَ مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿ۙ۹۱﴾
(اے محمدؐ، اِن سے کہو) "مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ اِس شہر کے رب کی بندگی کروں جس نے اِسے حرم بنایا ہے اور جو ہر چیز کا مالک ہے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلم بن کر رہوں
مجھے تو بس یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر کے پروردگار کی عبادت کرتا رہوں جس نے اسے حرمت واﻻ بنایا ہے، جس کی ملکیت ہر چیز ہے اور مجھے یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ میں فرماں برداروں میں ہو جاؤں
مجھے تو یہی حکم ہوا ہے کہ پوجوں اس شہر کے رب کو جس نے اسے حرمت والا کیا ہے اور سب کچھ اسی کا ہے، اور مجھے حکم ہوا ہے کہ فرمانبرداروں میں ہوں،
(اے رسول(ص)۔ کہو) مجھے تو بس یہی حکم ملا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے رہوں۔
مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی عبادت کروں جس نے اسے حرمت دی اور اسی کے لیے ہر چیز ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوجاؤں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ تعالٰی کا حکم ، اعلان ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ آپ لوگوں میں اعلان کر دیں کہ میں اس شہر مکہ کے رب کی عبادت کا اور اس کی فرمانبرداری کا مامور ہوں۔ جیسے ارشاد ہے «قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِن كُنتُمْ فِي شَكٍّ مِّن دِينِي فَلَا أَعْبُدُ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ وَلَـٰكِنْ أَعْبُدُ اللَّـهَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ ۖ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ» ۱؎ [10-يونس:104] ‏‏‏‏ ’ کہ اے لوگو! اگر تمہیں میرے دین میں شک ہے تو ہواکرے میں توجن کی تم عبادت کر رہے ہو ان کی عبادت ہرگز نہیں کرونگا۔ میں اسی اللہ کا عابد ہوں جو تمہاری زندگی موت کا مالک ہے۔ ‘ یہاں مکہ شریف کی طرف ربوبیت کی اضافت صرف بزرگی اور شرافت کے اظہار کے لیے ہے جیسے فرمایا «فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَـٰذَا الْبَيْتِ * الَّذِي أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَآمَنَهُم مِّنْ خَوْفٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [106-قريش:4-3] ‏‏‏‏ ’ انہیں چاہیئے کہ اس شہر کے رب کی عبادت کریں جس نے انہیں اوروں کی بھوک کے وقت آسودہ اور اوروں کے خوف کے وقت بےخوف کررکھا ہے۔ ‘ یہاں فرمایا کہ اس شہر کو حرمت وعزت والا اس نے بنایا ہے۔ جیسے بخاری و مسلم میں ہے کہ { رضی اللہ عنہ قیامت آ جائے نہ اس کے کانٹے کاٹے جائیں نہ اس کا شکار خوف زدہ کیا جائے نہ اس میں گری پڑی کسی کی چیز اٹھائی جائے ہاں جو پہچان کر مالک کو پہنچانا چاہے اس کے لیے جائز ہے۔ اس کی گھاس بھی نہ کاٹی جائے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1349] ‏‏‏‏ یہ حدیث بہت سی کتابوں میں بہت سی سندوں کے ساتھ مروی ہے جیسے کہ احکام کی کتابوں میں تفصیل سے موجود ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

پھر اس خاص چیز کی ملکیت ثابت کر کے اپنی عام ملکیت کا ذکر فرماتا ہے کہ ہرچیز کا رب اور مالک وہی ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی مالک نہ معبود۔ اور مجھے یہ حکم بھی ملا ہے کہ میں موحد مخلص مطیع اور فرمانبردار ہو کر رہوں۔ اور مجھے یہ بھی فرمایا گیا کہ میں لوگوں کو اللہ کا کلام پڑھ کر سناؤں۔ جیسے فرمان ہے «کہذَٰلِكَ نَتْلُوهُ عَلَيْكَ مِنَ الْآيَاتِ وَالذِّكْرِ الْحَكِيمِ» ۱؎ [3-آل عمران:58] ‏‏‏‏ ’ ہم یہ آیتیں اور یہ حکمت والا ذکر تیرے سامنے تلاوت کرتے ہیں۔ ‘ اور آیت «نَتْلُو عَلَيْكَ مِن نَّبَإِ مُوسَىٰ وَفِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [28-القصص:3] ‏‏‏‏ میں ہے ’ ہم تجھے موسیٰ اور فرعون کا صحیح واقعہ سناتے ہیں۔ ‘ مطلب یہ ہے کہ میں اللہ کامبلغ ہوں میں تمہیں جگا رہا ہوں۔ تمہیں ڈرا رہا ہوں۔ اگر میری مان کر راہ راست پر آؤ گے تو اپنا بھلاکرو گے۔ اور اگر میری نہ مانی تو میں اپنے تبلیغ کے فرض کو ادا کر کے سبکدوش ہو گیا ہوں۔ اگلے رسولوں نے بھی یہی کیا تھا اللہ کا کلام پہنچاکر اپنا دامن پاک کر لیا۔ جیسے فرمان ہے «وَإِن مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» ۱؎ [13-الرعد:40] ‏‏‏‏ ’ تجھ پر صرف پہنچادینا ہے حساب ہمارے ذمہ ہے۔ ‘ اور فرمایا «إِنَّمَا أَنتَ نَذِيرٌ ۚ وَاللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ» ‏‏‏‏ ۱؎ [11-هود:12] ‏‏‏‏ ’ تو صرف ڈرا دینے والا ہے اور ہرچیز پر وکیل اللہ ہی ہے۔ ‘ اللہ کے لیے تعریف ہے جو بندوں کی بیخبری میں انہیں عذاب نہیں کرتا بلکہ پہلے اپنا پیغام پہنچاتا ہے اپنی حجت تمام کرتا ہے بھلا برا سمجھا دیتا ہے۔ ہم تمہیں ایسی آیتیں دکھائیں گے کہ تم خود قائل ہو جاؤ۔ جیسے فرمایا آیت «سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِي الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ ۭ اَوَلَمْ يَكْ فِبِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ» ۱؎ [41-فصلت:53] ‏‏‏‏ ’ یعنی ہم انہیں خود ان کے نفسوں میں اور ان کے اردگرد ایسی نشانیاں دکھائیں گے کہ جن سے ان پر حق ظاہر ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے کرتوت سے غافل نہیں بلکہ اس کا علم ہر چھوٹی بڑی چیز کا احاطہٰ کئے ہوئے ہے۔ ‘ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے دیکھو لوگو! اللہ کو کسی چیز سے اپنے عمل سے غافل نہ جاننا۔ وہ ایک ایک مچھر سے ایک ایک پتنگے سے اور ایک ایک ذرے سے باخبر ہے۔ }

عمربن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اگر وہ غافل ہوتا تو انسان کے قدموں کے نشان سے جنہیں ہوا مٹادیتی ہے غفلت کر جاتا لیکن وہ ان نشانات کا بھی حافظ ہے اور عالم ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اکثر ان دو شعروں کو پڑھتے تھے جو یا تو آپ کے ہیں یا کسی اور کے۔ «اذا ماخلوت الدھر یوما فلا تقل» * «‏‏‏‏خلوت ولکن قل علی رقیب» ‏‏‏‏ یعنی جب تو کسی وقت بھی خلوت اور تنہائی میں ہو تو اپنے آپ کو تنہا اور اکیلا نہ سمجھنا بلکہ اپنے اللہ کو وہاں حاضر ناظر جاننا۔ وہ ایک ساعت بھی کسی سے غافل نہیں نہ کوئی مخفی اور پوشیدہ چیز اس کے علم سے باہر ہے۔ اللہ کے۔ فضل و کرم سے سورۃ النمل کی تفسیر ختم ہوئی۔

📖 احسن البیان

91-1اس سے مراد مکہ شہر ہے اس کا بطور خاص اس لئے ذکر کیا ہے کہ اسی میں خانہ کعبہ ہے اور یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی سب سے زیادہ محبوب تھا ' حرمت والا ' کا مطلب ہے اس میں خون ریزی کرنا، ظلم کرنا، شکار کرنا درخت کاٹنا حتّٰی کہ کانٹا توڑنا بھی منع ہے (بخاری کتاب الجنائز)

📖 القرآن الکریم

(آیت 91) ➊ {اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ هٰذِهِ الْبَلْدَةِ …:} اس آیت میں قریشِ مکہ پر چوٹ ہے کہ تم لوگ جو اس شہر میں رہتے ہو جسے اللہ تعالیٰ نے حرمت والا اور جائے امن قرار دیا ہے، جہاں نہ کسی کو قتل کیا جاتا ہے، نہ کسی پر ظلم ہوتا ہے، نہ اس میں شکار کی اجازت ہے، نہ اس کے درخت کاٹنے کی، جس کی وجہ سے تم بے شمار فوائد اٹھا رہے ہو۔ اللہ کے گھر کے متولی ہونے کی وجہ سے ساری دنیا میں تمھاری عزت اور تمھارا وقار قائم ہے۔ سارے عرب میں کسی کی جان اور مال محفوظ نہیں، لوگوں کو ان کے گھروں سے اٹھا لیا جاتا ہے، ان کے اموال لوٹ لیے جاتے ہیں، مگر بیت اللہ کی وجہ سے مکہ میں بھی تمھیں اس کی نعمت میسر ہے اور ہر جانب سے وافر رزق تمھیں پہنچتا ہے۔ سردی میں یمن کی طرف اور گرمی میں شام کی طرف تمھارے تجارتی قافلے جاتے ہیں۔ کعبہ کے احترام کی وجہ سے کوئی انھیں لوٹنے کی جرأت نہیں کرتا۔ تم بھی مانتے ہو کہ یہ سب کچھ اس گھر کے رب کی وجہ سے ہے، ان بتوں کی وجہ سے نہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ تمھارا حق تو یہ تھا کہ تم اس شہر کے رب کی عبادت کرتے جس نے تمھیں بھوک میں کھانا اور خوف میں امن عطا کیا، فرمایا: «{ فَلْيَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَيْتِ (3) الَّذِيْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ وَّ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ }» [ القریش: ۳، ۴ ] ”تو ان پر لازم ہے کہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں۔ وہ جس نے انھیں بھوک سے (بچا کر) کھانا دیا اور خوف سے (بچا کر) امن دیا۔“ فرمایا، ان سے کہہ دو تم ان نعمتوں کی ناشکری کرتے ہوئے غیراللہ کی عبادت کرتے ہو تو تمھاری مرضی، مجھے تو یہی حکم ہے کہ میں اس گھر کے رب کی عبادت کروں جس نے اسے حرمت والا بنایا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا: [ إِنَّ هٰذَا الْبَلَدَ حَرَّمَهُ اللّٰهُ، لَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ وَلَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا ] [ بخاري، الحج، باب فضل الحرم …: ۱۵۸۷ ] ”اس شہر کو اللہ تعالیٰ نے حرم قرار دیا، نہ اس کے کانٹے والے درخت کاٹے جائیں اور نہ اس کے شکار کو ڈرایا جائے اور نہ اس میں کوئی گری ہوئی چیز اٹھائے، مگر جو اس کا اعلان کرتا رہے۔“ ➋ { وَ لَهٗ كُلُّ شَيْءٍ:} یہ لفظ اس لیے فرمایا کہ کوئی شخص یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت صرف اس لیے ہے کہ وہ شہر مکہ کا رب ہے، اس لیے ساتھ ہی فرمایا کہ ہر چیز کا مالک بھی وہی ہے، اس لیے مجھے اس کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے۔ ➌ { وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ انعام (۱۶۱ تا ۱۶۳)۔
← پچھلی آیت (90) پوری سورۃ اگلی آیت (92) →