بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النمل — Surah Naml
آیت نمبر 72
کل آیات: 93
قرآن کریم النمل آیت 72
آیت نمبر: 72 — سورۃ النمل islamicurdubooks.com ↗
قُلۡ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنَ رَدِفَ لَکُمۡ بَعۡضُ الَّذِیۡ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ ﴿۷۲﴾
کہو کیا عجب کہ جس عذاب کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو اس کا ایک حصہ تمہارے قریب ہی آ لگا ہو
جواب دیجئے! کہ شاید بعض وه چیزیں جن کی تم جلدی مچا رہے ہو تم سے بہت ہی قریب ہوگئی ہوں
تم فرماؤ قریب ہے کہ تمہارے پیچھے آ لگی ہو بعض وہ چیز جس کی تم جلدی مچارہے ہو
آپ کہئے! بہت ممکن ہے کہ جس (عذاب) کیلئے تم جلدی کر رہے ہو اس کا کچھ حصہ تمہارے پیچھے آ لگا ہو(قریب آگیا ہو)۔
کہہ دے قریب ہے کہ تمھارے پیچھے آپہنچا ہو اس کا کچھ حصہ جو تم جلدی مانگ رہے ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

قیامت کے منکر ٭٭

مشرک چونکہ قیامت کے آنے کے قائل ہی نہیں۔ جرات سے اسے جلدی طلب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر سچے ہو تو بتاؤ وہ کب آئے گی۔ جناب باری کی طرف سے بواسطہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جواب مل رہا ہے کہ ممکن ہے وہ بالکل ہی قریب آ گئی ہو۔ جیسے اور آیت میں ہے «عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَرِيْبًا» ۱؎ [17-الإسراء:51] ‏‏‏‏ اور جگہ ہے «يَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرِينَ» ۱؎ [29-العنكبوت:54] ‏‏‏‏ ’ یہ عذابوں کو جلدی طلب کر رہے ہیں اور جہنم تو کافروں کو گھیرے ہوئے ہے۔‘ «لکم» کا لام ردف کے «عجل» کے معنی کو متضمن ہونے کی وجہ سے ہے۔ جیسے کہ مجاہد سے رحمہ اللہ مروی ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ کے تو انسانوں پر بہت ہی فضل و کرم ہیں۔ اس کی بےشمار نعمتیں ان کے پاس ہیں تاہم ان میں سے اکثر ناشکرے ہیں۔ جس طرح تمام ظاہر امور اس پر آشکارا ہیں اسی طرح تمام باطنی امور بھی اس پر ظاہر ہیں۔ جیسے فرمایا «سَوَاۗءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهٖ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۢ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ» ۱؎ [13-الرعد:10] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے «‏‏‏‏يَعْلَمُ السِّرَّ وَاَخْفٰي» ۱؎ [20-طه:7] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے «اَلَا حِيْنَ يَسْتَغْشُوْنَ ثِيَابَھُمْ ۙ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ ۚ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ» ‏‏‏‏ [11-هود:5] ‏‏‏‏ مطلب یہی ہے کہ ہر ظاہر وباطن کا وہ عالم ہے۔ پھر بیان فرماتا ہے کہ ہر غائب حاضر کا اسے علم ہے وہ علام الغیوب ہے۔ آسمان و زمین کی تمام چیزیں خواہ تم کو ان کا علم ہو یا نہ ہو اللہ کے ہاں کھلی کتاب میں لکھی ہوئی ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ کیا تو نہیں جانتا کہ آسمان و زمین کی ہر ایک چیز کا اللہ عالم ہے۔ سب کچھ کتاب میں موجود ہے اللہ پر سب کچھ آسان ہے۔

📖 احسن البیان

72-1اس سے مراد جنگ بدر کا وہ عذاب ہے جو قتل اور اسیری کی شکل میں کافروں کو پہنچایا یا عذاب قبر ہے رَدِفَ، قرب کے معنی میں ہے، جیسے سواری کی عقبی نشست پر بیٹھنے والے کو ردیف کہا جاتا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 72) {قُلْ عَسٰۤى اَنْ يَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ …:} ”ردیف“ اس شخص کو کہتے ہیں جو سواری پر کسی شخص کے پیچھے بیٹھا ہو۔ یعنی جلدی نہ مچاؤ، جس عذاب کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو، وہ ہرحال میں آکر رہے گا اور ہو سکتا ہے کہ اس کا کچھ حصہ تمھارے قریب آپہنچا ہو۔ اس کچھ حصے کا آغاز تو جنگِ بدر ہی سے ہو گیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں اس کچھ حصے کی کئی قسطوں سے کفار کو سابقہ پیش آتا رہا، پھر قبر کا عذاب بھی قریب ہے اور قیامت بھی کچھ دور نہیں، فرمایا: «{ اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ }» [ النحل: ۱ ] ”اللہ کا حکم آگیا، سو اس کے جلد آنے کا مطالبہ نہ کرو۔“
← پچھلی آیت (71) پوری سورۃ اگلی آیت (73) →