بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النمل — Surah Naml
آیت نمبر 69
کل آیات: 93
قرآن کریم النمل آیت 69
آیت نمبر: 69 — سورۃ النمل islamicurdubooks.com ↗
قُلۡ سِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَانۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿۶۹﴾
کہو ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ مجرموں کا کیا انجام ہو چکا ہے
کہہ دیجئے کہ زمین میں چل پھر کر ذرا دیکھو تو سہی کہ گنہگاروں کا کیسا انجام ہوا؟
تم فرماؤ زمین میں چل کر دیکھو، کیسا ہوا نجام مجرموں کا
آپ کہئے کہ زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ مجرموں کا کیا انجام ہوا؟
کہہ زمین میں چلو پھرو ، پھر دیکھو مجرموں کا انجام کیسا ہوا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

حیات ثانی کے منکر ٭٭

یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ منکرین قیامت کی سمجھ میں اب تک بھی نہیں آیا کہ مرنے اور سڑ گل جانے کے بعد مٹی اور راکھ ہو جانے کے بعد ہم دوبارہ کیسے پیدا کئے جائیں گے؟ وہ اس پر سخت متعجب ہیں۔ کہتے ہیں مدتوں سے اگلے زمانوں سے یہ سنتے تو چلے آتے ہیں لیکن ہم نے تو کسی کو مرنے کے بعد جیتا ہوا دیکھا نہیں۔ سنی سنائی باتیں ہیں انہوں نے اپنے اگلوں سے انہوں نے اپنے سے پہلے والوں سے سنیں ہم تک پہنچیں لیکن سب عقل سے دور ہیں۔

اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب بتاتا ہے کہ ان سے کہو ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھیں کہ رسولوں کو جھوٹا جاننے والوں اور قیامت کو نہ ماننے والوں کا کیسا دردرناک حسرت ناک انجام ہوا؟ ہلاک اور تباہ ہو گئے اور نبیوں اور ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ نے بچا لیا۔ یہ نبیوں کی سچائی کی دلیل ہے۔ پھر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہیں کہ یہ تجھے اور میرے کلام کو جھٹلاتے ہیں لیکن تو ان پر افسوس اور رنج نہ کر۔ ان کے پیچھے اپنی جان کو روگ نہ لگا۔ یہ تیرے ساتھ جو روباہ بازیاں کر رہے ہیں اور جو چالیں چل رہے ہیں ہمیں خوب علم ہے تو بیفکر رہ۔ تجھے اور تیرے دن کو ہم عروج دینے والے ہیں۔ دنیا جہاں پر تجھے ہم بلندی دیں گے۔

📖 احسن البیان

1 یہ ان کافروں کے قول کا جواب ہے کہ پچھلی قوموں کو دیکھو کہ کیا ان پر اللہ کا عذاب نہیں آیا؟ جو پیغمبروں کی صداقت کی دلیل ہے۔ اسی طرح قیامت اور اس زندگی کے بارے میں بھی ہمارے رسول جو کہتے ہیں، یقینا سچ ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 69) ➊ { قُلْ سِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ …:} یہ کفار کے اعتراض کا جواب ہے کہ زمین میں چلو پھرو اور دیکھو مجرموں کا انجام کیا ہوا، تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ پیغمبروں نے ان نافرمانوں سے جو وعدہ کیا تھا وہ پورا ہو کر رہا اور پیغمبروں کی کوئی بات جھوٹی نہیں ہوئی۔ اب جو ان پیغمبروں نے کہا ہے کہ ایک دن قیامت ضرور آئے گی اور اس میں لوگوں کو ان کے نیک اعمال کی جزا اور برے اعمال کی سزا ملے گی تو ان کی یہ بات بھی جھوٹی نہیں ہو سکتی۔ ➋ {فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِيْنَ:} قیامت کے منکروں کو مجرم قرار دیا گیا ہے، کیونکہ انسان کو جرم اور ظلم و زیادتی سے روکنے والی چیز صرف اور صرف آخرت کا یقین ہے۔ یہ نہ ہو تو آدمی کو مجرم بننے سے کوئی چیز باز رکھ سکتی ہی نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا دستور ہے کہ جب قیامت کے منکروں کے جرائم حد سے بڑھ جاتے ہیں تو اس کا زبردست ہاتھ انھیں تباہ و برباد کر کے دنیا کو ان کے وجود اور ان کے جرائم سے نجات دیتا ہے، مگر ان کے جرائم کا پورا بدلا تو انھیں آخرت ہی میں دیا جائے گا۔ دنیا میں اگر کوئی بچ بھی گیا تو آخرت میں بچ کر کہاں جائے گا۔
← پچھلی آیت (68) پوری سورۃ اگلی آیت (70) →