بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النمل — Surah Naml
آیت نمبر 63
کل آیات: 93
قرآن کریم النمل آیت 63
آیت نمبر: 63 — سورۃ النمل islamicurdubooks.com ↗
اَمَّنۡ یَّہۡدِیۡکُمۡ فِیۡ ظُلُمٰتِ الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ وَ مَنۡ یُّرۡسِلُ الرِّیٰحَ بُشۡرًۢا بَیۡنَ یَدَیۡ رَحۡمَتِہٖ ؕ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؕ تَعٰلَی اللّٰہُ عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿ؕ۶۳﴾
اور وہ کون ہے جو خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں تم کو راستہ دکھاتا ہے اور کون اپنی رحمت کے آگے ہواؤں کو خوشخبری لے کر بھیجتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دُوسرا خدا بھی (یہ کام کرتا) ہے؟ بہت بالا و برتر ہے اللہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں
کیا وه جو تمہیں خشکی اور تری کی تاریکیوں میں راه دکھاتا ہے اور جو اپنی رحمت سے پہلے ہی خوشخبریاں دینے والی ہوائیں چلاتا ہے، کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے جنہیں یہ شریک کرتے ہیں ان سب سے اللہ بلند وباﻻتر ہے
یا وہ جو تمہیں راہ دکھاتا ہے اندھیریوں میں خشکی اور تری کی اور وہ کہ ہوائیں بھیجتا ہے، اپنی رحمت کے آگے خوشحبری سناتی کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے، برتر ہے اللہ ان کے شرک سے،
جو خشکی اور تری کی تاریکیوں میں تمہاری راہنمائی کرتا ہے۔ اور اپنی (باران) رحمت سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری دینے والا بنا کر بھیجتا ہے کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الہ ہے؟ اللہ برتر و بالا ہے ان چیزوں سے جنہیں وہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔
یا وہ جو تمھیں خشکی اور سمندر کے اندھیروں میں راہ دکھاتا ہے اور وہ جو ہوائوں کو اپنی رحمت سے پہلے خوش خبری دینے کے لیے بھیجتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی (اور) معبود ہے؟ بہت بلند ہے اللہ اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ستاروں کے فوائد ٭٭

آسمان و زمین میں اللہ تعالیٰ نے ایسی نشانیاں رکھ دی ہیں کہ خشکی اور تری میں جو راہ بھول جائے وہ انہیں دیکھ کر راہ راست اختیار کر لے۔ جیسے فرمایا ہے کہ «وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ» ۱؎ [16-النحل:16] ‏‏‏‏ ’ ستاروں سے لوگ راہ پاتے ہیں ‘ «وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِهَا فِي ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ» ’ سمندروں میں خشکی میں انہیں دیکھ کر اپنا راستہ ٹھیک کر لیتے ہیں ‘ ۱؎ [6-الأنعام:97] ‏‏‏‏ بادل پانی بھرے برسیں اس سے پہلے ٹھنڈی اور بھینی بھینی ہوائیں چلاتا ہے۔ جس سے لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ اب رب کی رحمت برسے گی۔ اللہ کے سوا ان کاموں کا کرنے والا کوئی نہیں نہ کوئی ان پر قادر ہے۔ تمام شریکوں سے وہ الگ ہے پاک ہے سب سے بلند ہے۔

قدرت کاملہ کا ثبوت ٭٭

فرمان ہے کہ اللہ وہ ہے جو اپنی قدرت کاملہ سے مخلوقات کو بےنمونہ پیدا کرتا ہے۔ پھر انہیں فنا کر کے دوبارہ پیدا کرے گا۔ جب تم اسے پہلی دفعہ پیدا کرنے پر قادر مان رہے ہو تو دوبارہ کی پیدائش جو اس کے لیے بہت ہی آسان ہے اس پر قادر کیوں نہیں مانتے؟ آسمان سے بارش برسانا اور زمین سے اناج اگانا اور تمہاری روزی کا سامان آسمان اور زمین سے پیدا کرنا اسی کا کام ہے۔ جیسے سورۃ الطارق میں فرمایا «‏‏‏‏وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجْعِ» * «وَالْأَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ» ۱؎ [86-الطارق:12-11] ‏‏‏‏ ’ پانی والے آسمان کی اور پھوٹنے والی زمین کی قسم۔ ‘

اور آیت میں ہے «هُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ ۚ يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا ۖ وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ ۚ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ» ‏‏‏‏ ۱؎ [57-الحديد:4] ‏‏‏‏ ’ یعنی اللہ خوب جانتا ہے ہر اس چیز کو جو آسمان میں سما جائے اور جو زمین سے باہر اگ آئے۔ اور جو آسمان سے اترے اور جو اس پر چڑھے۔ پس آسمان سے مینہ برسانے والا اسے زمین میں ادھر اھر تک پہنچانے والا اور اس کی وجہ سے طرح طرح کے پھل پھول اناج گھاس پات اگانے والا وہی ہے جو تمہاری اور تمہارے جانوروں کی روزیاں ہیں۔ ‘ یقیناً یہ تمام چیزیں صاحب عقل کے لیے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔ اپنی ان قدرتوں کو اور اپنے ان گراں بہا احسانوں کو بیان فرما کر فرمایا کہ کیا اللہ کے ساتھ ان کاموں کا کرنے والا کوئی اور بھی ہے؟ جس کی عبادت کی جائے اگر تم اللہ کے سوا دوسروں کو معبود ماننے کے دعوے کو دلیل سے ثابت کر سکتے ہو تو وہ دلیل پیش کرو؟ لیکن چونکہ وہ محض بےدلیل ہیں اس لیے دوسری آیت میں فرما دیا کہ «وَمَن يَدْعُ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ لَا بُرْهَانَ لَهُ بِهِ فَإِنَّمَا حِسَابُهُ عِندَ رَبِّهِ ۚ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الْكَافِرُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:117] ‏‏‏‏ ’ اللہ کے ساتھ جو دوسرے کو بھی پوجے جس کی کوئی دلیل بھی اس کے پاس نہ ہو وہ یقیناً کافر ہے اور نجات سے محروم ہے۔‘

📖 احسن البیان

63-1یعنی آسمانوں پر ستاروں کو درخشانی عطا کرنے والا کون ہے؟ جن سے تم تاریکیوں میں راہ پاتے ہو، پہاڑوں اور وادیوں کا پیدا کرنے والا کون ہے جو ایک دوسرے کے لئے سرحدوں کا کام بھی دیتے ہیں اور راستوں کی نشان دہی کا بھی۔ 63-2یعنی بارش سے پہلے ٹھنڈی ہوائیں، جو بارش کی خوشخبری ہی نہیں ہوتیں، بلکہ ان سے خشک سالی کے مارے ہوئے لوگوں میں خوشی کی لہر بھی دوڑ جاتی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 63) ➊ { اَمَّنْ يَّهْدِيْكُمْ فِيْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ:} یعنی یا وہ بہتر ہے جس نے ستاروں کے ذریعے سے ایسا انتظام کر دیا ہے کہ تم رات کے اندھیرے میں بھی اپنا راستہ تلاش کر سکتے ہو۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکیمانہ تدبیروں میں سے ایک ہے کہ اس نے بحری اور بری سفروں میں انسان کی رہنمائی کے لیے وہ ذرائع پیدا کر دیے ہیں جن سے وہ اپنی سمت، سفر اور منزل مقصود کی طرف راہ متعین کرتا ہے۔ دن کے وقت زمین کی مختلف علامتیں اور آفتاب کے طلوع و غروب کی سمتیں اس کی مدد کرتی ہیں اور تاریک راتوں میں تارے اس کی رہنمائی کرتے ہیں۔ سورۂ نحل میں ان سب کو اللہ تعالیٰ کے احسانات میں شمار کیا گیا ہے، فرمایا: «{ وَ عَلٰمٰتٍ وَ بِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُوْنَ }» [ النحل: ۱۶ ] ”اور علامتیں (بنائیں) اور ستاروں کے ساتھ وہ راستہ معلوم کرتے ہیں۔“ (تفہیم القرآن) پھر مقناطیس میں قطب نمائی کی خاصیت رکھ کر بندوں کو اس سے آگاہ کر دینا بحرو بر اور دن رات میں رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ ➋ { وَ مَنْ يُّرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ:} رحمت سے مراد یہاں بارش ہے، جس کے آنے سے پہلے ہوائیں اس کی آمد کی خبر کر دیتی ہیں۔
← پچھلی آیت (62) پوری سورۃ اگلی آیت (64) →