بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النمل — Surah Naml
آیت نمبر 6
کل آیات: 93
قرآن کریم النمل آیت 6
آیت نمبر: 6 — سورۃ النمل islamicurdubooks.com ↗
وَ اِنَّکَ لَتُلَقَّی الۡقُرۡاٰنَ مِنۡ لَّدُنۡ حَکِیۡمٍ عَلِیۡمٍ ﴿۶﴾
اور (اے محمدؐ) بلاشبہ تم یہ قرآن ایک حکیم و علیم ہستی کی طرف سے پا رہے ہو
بیشک آپ کو اللہ حکیم وعلیم کی طرف سے قرآن سکھایا جارہا ہے۔
اور بیشک تم قرآن سکھائے جاتے اور حکمت والے علم والے کی طرف سے
(اے رسول(ص)) بےشک آپ کو یہ قرآن ایک بڑے حکمت والے، بڑے علم والے کی طرف سے عطا کیا جا رہا ہے۔
اور بلاشبہ یقینا تجھے قرآن ایک کمال حکمت والے،سب کچھ جاننے والے کے پاس سے عطا کیا جاتا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

تفسیر سورۂ نمل ٭٭

حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان پر پوری بحث سورۃ البقرہ کے شروع میں ہم کر چکے ہیں۔ یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں۔ قرآن کریم جو کھلی ہوئی واضح روشن اور ظاہر کتاب ہے۔ یہ اس کی آیتیں ہیں جو مومنوں کے لیے ہدایت وبشارت ہیں۔ کیونکہ وہی اس پر ایمان لاتے ہیں اس کی اتباع کرتے ہیں اسے سچا جانتے ہیں اس میں حکم احکام ہیں ان پر عمل کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو نمازیں صحیح طور پر پڑھتے ہیں فرضوں میں کمی نہیں کرتے اسی طرح فرض زکوٰۃ کو بھی نہیں روکتے، دار آخرت پر کامل یقین رکھتے ہیں موت کے بعد کی زندگی اور جزا سزا کو بھی مانتے ہیں۔ جنت ودوزخ کو حق جانتے ہیں۔ چنانچہ اور روایت میں بھی ہے کہ ایمانداروں کے لیے تو یہ قرآن ہدایت اور شفاہے اور بے ایمانوں کے کان تو بہرے ہیں ان میں روئی دئیے ہوئے ہیں۔

اس سے خوشخبری پرہیزگاروں کو ہے اور بدکرداروں کو اس میں ڈراوا ہے۔ یہاں بھی فرماتا ہے کہ جو اسے جھٹلائیں اور قیامت کے آنے کو نہ مانیں ہم بھی انہیں چھوڑ دیتے ہیں ان کی برائیاں انہیں اچھی لگنے لگتی ہیں۔ اسی میں وہ بڑھتے اور پھولتے پھلتے رہتے ہیں اور اپنی سرکشی اور گمراہی میں بڑھتے رہتے ہیں۔ ان کی نگاہیں اور دل الٹ جاتے ہیں انہیں دنیا اور آخرت میں بدترین سزائیں ہونگی اور قیامت کے دن تمام اہل محشر میں سب سے زیادہ خسارے میں یہی رہیں گے بیشک آپ اے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے ہی قرآن لے رہے ہیں۔ ہم حکیم ہیں امرو نہی کی حکمت کو بخوبی جانتے ہیں علیم ہیں چھوٹے بڑے تمام کاموں سے بخوبی خبردار ہیں۔ پس قرآن کی تمام خبریں بالکل صدق وصداقت والی ہیں اور اس کے حکم احکام سب کے سب سراسر عدل والے ہیں جیسے فرمان ہے آیت «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا ۭلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» ‏‏‏‏ ۱؎ [6-الأنعام:1] ‏‏‏‏ [6-الأنعام:115] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 6) ➊ {وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ …: ” مِنْ لَّدُنْ “} (کے پاس سے) کے لفظ سے قرآن مجید کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شدّتِ اتصال بیان کرنا مقصود ہے کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ تجھے اپنے پاس سے عطا کر رہا ہے۔ یہ کسی مخلوق کا کلام نہیں کہ جس کا علم ناقص ہو، یا جو معاملات کی حکمت سے نا آشنا ہو، بلکہ یہ ایک کمال حکمت والے ہر چیز کا علم رکھنے والے نے اپنے پاس سے تجھے عطا کیا ہے، جس کا ہر کام اور ہر حکم حکمت سے بھرا ہوا ہے اور جسے ماضی، حال اور مستقبل کا پورا علم ہے، اس لیے نہ اس کی کوئی خبر غلط ہوتی ہے اور نہ اس کی تدبیر میں کوئی غلطی ہوتی ہے۔ ➋ { حَكِيْمٍ عَلِيْمٍ:} دونوں صفات کا گزشتہ آیات سے بھی تعلق ہے اور آئندہ انبیاء کے قصوں کے ساتھ بھی کہ ان انبیاء کی بعثت، ان پر گزرنے والے واقعات اور آپ کی طرف ان کی صحیح ترین صورت میں وحی اللہ تعالیٰ کی ان دو صفات کا اظہار ہے۔ یہ دونوں الفاظ مبالغہ کے لیے آتے ہیں۔ ان کو نکرہ لانے سے مزید مبالغہ پیدا ہو گیا ہے، یعنی ایک انوکھے کمال حکمت و علم رکھنے والے کے پاس سے۔
← پچھلی آیت (5) پوری سورۃ اگلی آیت (7) →