بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النمل — Surah Naml
آیت نمبر 57
کل آیات: 93
قرآن کریم النمل آیت 57
آیت نمبر: 57 — سورۃ النمل islamicurdubooks.com ↗
فَاَنۡجَیۡنٰہُ وَ اَہۡلَہٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَہٗ ۫ قَدَّرۡنٰہَا مِنَ الۡغٰبِرِیۡنَ ﴿۵۷﴾
آخر کار ہم نے بچا لیا اُس کو اور اُس کے گھر والوں کو، بجز اُس کی بیوی کے جس کا پیچھے رہ جانا ہم نے طے کر دیا تھا
پس ہم نے اسے اور اس کے اہل کو بجز اس کی بیوی کے سب کو بچالیا، اس کا اندازه تو باقی ره جانے والوں میں ہم لگا ہی چکے تھے
تو ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو نجات دی مگر اس کی عورت کو ہم نے ٹھہرادیا تھا کہ وہ رہ جانے والوں میں ہے
پس ہم نے آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو نجات دی سوائے آپ کی بیوی کے کہ جس کے بارے میں ہم نے فیصلہ کر دیا تھا کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہوگی۔
تو ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو بچالیا مگر اس کی بیوی۔ ہم نے اسے پیچھے رہنے والوں میں طے کر دیا تھا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ہم جنسوں سے جنسی تعلق (نتیجہ ایڈز) ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول لوط علیہ السلام کا واقعہ بیان فرما رہا ہے کہ آپ نے اپنی امت یعنی اپنی قوم کو اس کے نالائق فعل پر جس کا فاعل ان سے پہلے کوئی نہ ہوا تھا۔ یعنی اغلام بازی پر ڈرایا۔ تمام قوم کی یہ حالت تھی کہ مرد مردوں سے عورت عورتوں سے شہوت رانی کر لیا کرتی تھیں۔ ساتھ ہی اتنے بے حیاء ہو گئے تھے کہ اس پاجی فعل کو پوشیدہ کرنا بھی کچھ ضروری نہیں جانتے تھے۔ اپنے مجمعوں میں واہی فعل کرتے تھے۔ عورتوں کو چھوڑ مردوں کے پاس آتے تھے۔ اس لیے آپ نے فرمایا کہ اپنی اس جہالت سے باز آ جاؤ تم تو ایسے گئے گزرے اور اتنے نادان ہوئے کہ شرعی پاکیزگی کے ساتھ ہی تم سے طبعی طہارت بھی جاتی رہی۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِيْنَ * وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُم مِّنْ أَزْوَاجِكُم ۚ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ عَادُونَ» ۱؎ [26-الشعراء:166-165] ‏‏‏‏ ’ کیا تم مردوں کے پاس آتے ہو اور عورتوں کو جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے جوڑ بنائے ہیں چھوڑتے ہو؟ بلکہ تم حد سے نکل جانے والے لوگ ہو۔ ‘ قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ جب لوط علیہ السلام اور لوط والے تمہارے اس فعل سے بیزار ہیں اور نہ وہ تمہاری مانتے ہیں نہ تم ان کی۔ تو پھر ہمیشہ کی اس بحث و تکرار کو ختم کیوں نہیں کر دیتے؟ لوط علیہ السلام کے گھرانے کو دیس نکالا دے کر ان کے روزمرہ کے کچوکوں سے نجات حاصل کر لو۔

جب کافروں نے پختہ ارادہ کر لیا اور اس پر جم گئے اور اجماع ہو گیا تو اللہ نے انہیں کو ہلاک کر دیا اور اپنے پاک بندے لوط علیہ السلام کو اور ان کی اہل کو ان سے جو عذاب ان پر آئے ان سے بچا لیا۔ ہاں آپ کی بیوی جو قوم کے ساتھ ہی تھی وہ پہلے سے ہی ان ہلاک ہونے والوں میں لکھی جا چکی تھی وہ یہاں باقی رہ گئی اور عذاب کے ساتھ تباہ ہوئی کیونکہ یہ انہیں ان کے دین اور ان کے طریقوں میں مدد دیتی تھی ان کی بد اعمالیوں کو پسند کرتی تھی۔ اسی نے لوط علیہ السلام کے مہمانوں کی خبر قوم کو دی تھی۔ لیکن یہ خیال رہے کہ معاذاللہ ان کی اس فحش کاری میں یہ شریک نہ تھی۔ اللہ کے نبی علیہ السلام کی بزرگی کے خلاف ہے کہ ان کی بیوی بدکار ہو۔ اس قوم پر آسمان سے پتھر برسائے گئے جن پر ان کے نام کندہ تھے ہر ایک پر اسی کے نام کا پتھر آیا اور ایک بھی ان میں سے بچ نہ سکا۔ ظالموں سے اللہ کی سزا دور نہیں۔ ان پر حجت ربانی قائم ہو چکی تھی۔ انہیں ڈرایا اور دھمکایا جا چکا تھا۔ تبلیغ رسالت کافی طور پر ہو چکی تھی۔ لیکن انہوں نے مخالفت میں جھٹلانے میں اور اپنی بےایمانی پر اڑنے میں کمی نہیں کی۔ نبی اللہ لوط علیہ السلام کو تکلیفیں پہنچائیں بلکہ انہیں نکال دینے کا ارادہ کیا اس وقت اس بدترین بارش نے یعنی سنگ باری نے انہیں فناکر دیا۔

📖 احسن البیان

57-1یعنی پہلے ہی اس کی بابت یہ اندازہ یعنی تقدیر الٰہی میں تھا وہ انہی پیچھے رہ جانے والوں میں ہوگی جو عذاب سے دو چار ہونگے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 58،57) ➊ {فَاَنْجَيْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ …:} اس کی تفصیل سورۂ ہود (۸۱ تا ۸۳) میں ملاحظہ فرمائیں۔ اس سورت میں موسیٰ علیہ السلام کے بعد تین انبیاء سلیمان، صالح اور لوط علیھم السلام کے حالات کا ذکر ہوا ہے اور ان کے حالات میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات میں مشابہت کا کوئی نہ کوئی پہلو ضرور پایا جاتا ہے۔ مثلاً سلیمان علیہ السلام نے ملکہ سبا کو پیغام بھیجا تھا کہ اگر تم مطیع فرمان بن کر حاضر ہو جاؤ تو بہتر، ورنہ ہم ایسے لشکر سے تم پر حملہ کریں گے جس کے مقابلے کی تم تاب نہ لا سکو گے۔ چنانچہ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین مکہ پر ایسا ہی لشکر لائے تھے۔ صالح علیہ السلام کو ان کی قوم نے بلوے کی صورت میں شب خون مار کر قتل کرنا چاہا، لیکن اللہ تعالیٰ نے انھیں نجات دے دی۔ قریشِ مکہ نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سلوک کرنا چاہا مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کی سازش سے بال بال بچا لیا۔ لوط علیہ السلام کی قوم کو ان کی قوم نے شہر سے نکال دینے کی دھمکیاں دیں، جب کہ قریش مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عملاً شہر سے نکل جانے پر مجبور کر دیا۔ (کیلانی) ➋ ابو حیان اندلسی نے فرمایا کہ لوط علیہ السلام کے قصے سے یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ پورے قرآن میں لوط علیہ السلام کے انھیں اس بے حیائی سے روکنے ہی کا ذکر ہے، توحید کی دعوت کا ذکر نہیں، اس کی وجہ یا تو یہ ہو سکتی ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ شرک نہ کرتے ہوں، لیکن اس برے کام کی ایجاد اور اپنے رسول کو جھٹلانے کی وجہ سے ان پر عذاب آیا ہو، جیسا کہ سورۂ شعراء میں ہے: «{ كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍ المُرْسَلِيْنَ}» [ الشعراء: ۱۶۰ ] ”لوط کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا۔“ یا یہ وجہ ہے کہ وہ تھے تو مشرک لیکن جب لوط علیہ السلام نے دیکھا کہ وہ بہیمیت میں بلکہ اس سے بھی نیچے درجے میں گر چکے ہیں، تو ضروری سمجھا کہ پہلے انھیں انسانیت کے رتبے کی دعوت دی جائے، پھر توحید کی دعوت دی جائے۔ (البحر المحیط)
← پچھلی آیت (56) پوری سورۃ اگلی آیت (58) →