بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النمل — Surah Naml
آیت نمبر 54
کل آیات: 93
قرآن کریم النمل آیت 54
آیت نمبر: 54 — سورۃ النمل islamicurdubooks.com ↗
وَ لُوۡطًا اِذۡ قَالَ لِقَوۡمِہٖۤ اَتَاۡتُوۡنَ الۡفَاحِشَۃَ وَ اَنۡتُمۡ تُبۡصِرُوۡنَ ﴿۵۴﴾
اور لوطؑ کو ہم نے بھیجا یاد کرو وہ وقت جب اس نے اپنی قوم سے کہا "کیا تم آنکھوں دیکھتے بدکاری کرتے ہو؟
اور لوط کا (ذکر کر) جبکہ اس نے اپنی قوم سے کہاکہ کیا باوجود دیکھنے بھالنے کے پھر بھی تم بدکاری کر رہے ہو؟
اور لوط کو جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا بے حیائی پر آتے ہو اور تم سوجھ رہے ہو
اور ہم نے لوط کو بھی (رسول بنا کر بھیجا) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم بے حیائی کا کام کرتے ہو حالانکہ تم دیکھ رہے ہو (جانتے بوجھتے ہو)۔
اور لوط کو جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا تم بے حیائی کو آتے ہو، جب کہ تم دیکھتے ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ہم جنسوں سے جنسی تعلق (نتیجہ ایڈز) ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول لوط علیہ السلام کا واقعہ بیان فرما رہا ہے کہ آپ نے اپنی امت یعنی اپنی قوم کو اس کے نالائق فعل پر جس کا فاعل ان سے پہلے کوئی نہ ہوا تھا۔ یعنی اغلام بازی پر ڈرایا۔ تمام قوم کی یہ حالت تھی کہ مرد مردوں سے عورت عورتوں سے شہوت رانی کر لیا کرتی تھیں۔ ساتھ ہی اتنے بے حیاء ہو گئے تھے کہ اس پاجی فعل کو پوشیدہ کرنا بھی کچھ ضروری نہیں جانتے تھے۔ اپنے مجمعوں میں واہی فعل کرتے تھے۔ عورتوں کو چھوڑ مردوں کے پاس آتے تھے۔ اس لیے آپ نے فرمایا کہ اپنی اس جہالت سے باز آ جاؤ تم تو ایسے گئے گزرے اور اتنے نادان ہوئے کہ شرعی پاکیزگی کے ساتھ ہی تم سے طبعی طہارت بھی جاتی رہی۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِيْنَ * وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُم مِّنْ أَزْوَاجِكُم ۚ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ عَادُونَ» ۱؎ [26-الشعراء:166-165] ‏‏‏‏ ’ کیا تم مردوں کے پاس آتے ہو اور عورتوں کو جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے جوڑ بنائے ہیں چھوڑتے ہو؟ بلکہ تم حد سے نکل جانے والے لوگ ہو۔ ‘ قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ جب لوط علیہ السلام اور لوط والے تمہارے اس فعل سے بیزار ہیں اور نہ وہ تمہاری مانتے ہیں نہ تم ان کی۔ تو پھر ہمیشہ کی اس بحث و تکرار کو ختم کیوں نہیں کر دیتے؟ لوط علیہ السلام کے گھرانے کو دیس نکالا دے کر ان کے روزمرہ کے کچوکوں سے نجات حاصل کر لو۔

جب کافروں نے پختہ ارادہ کر لیا اور اس پر جم گئے اور اجماع ہو گیا تو اللہ نے انہیں کو ہلاک کر دیا اور اپنے پاک بندے لوط علیہ السلام کو اور ان کی اہل کو ان سے جو عذاب ان پر آئے ان سے بچا لیا۔ ہاں آپ کی بیوی جو قوم کے ساتھ ہی تھی وہ پہلے سے ہی ان ہلاک ہونے والوں میں لکھی جا چکی تھی وہ یہاں باقی رہ گئی اور عذاب کے ساتھ تباہ ہوئی کیونکہ یہ انہیں ان کے دین اور ان کے طریقوں میں مدد دیتی تھی ان کی بد اعمالیوں کو پسند کرتی تھی۔ اسی نے لوط علیہ السلام کے مہمانوں کی خبر قوم کو دی تھی۔ لیکن یہ خیال رہے کہ معاذاللہ ان کی اس فحش کاری میں یہ شریک نہ تھی۔ اللہ کے نبی علیہ السلام کی بزرگی کے خلاف ہے کہ ان کی بیوی بدکار ہو۔ اس قوم پر آسمان سے پتھر برسائے گئے جن پر ان کے نام کندہ تھے ہر ایک پر اسی کے نام کا پتھر آیا اور ایک بھی ان میں سے بچ نہ سکا۔ ظالموں سے اللہ کی سزا دور نہیں۔ ان پر حجت ربانی قائم ہو چکی تھی۔ انہیں ڈرایا اور دھمکایا جا چکا تھا۔ تبلیغ رسالت کافی طور پر ہو چکی تھی۔ لیکن انہوں نے مخالفت میں جھٹلانے میں اور اپنی بےایمانی پر اڑنے میں کمی نہیں کی۔ نبی اللہ لوط علیہ السلام کو تکلیفیں پہنچائیں بلکہ انہیں نکال دینے کا ارادہ کیا اس وقت اس بدترین بارش نے یعنی سنگ باری نے انہیں فناکر دیا۔

📖 احسن البیان

54-1یعنی لوط ؑ کا قصہ یاد کرو، جب لوط ؑ نے کہا یہ قوم عموریہ اور سدوم بستیوں میں رہائش پذیر تھی۔ 54-2یعنی یہ جاننے کے باوجود کہ یہ بےحیائی کا کام ہے۔ یہ بصارت قلب ہے۔ اور اگر بصارت ظاہری یعنی آنکھوں سے دیکھنا مراد ہو تو معنی ہونگے کہ نظروں کے سامنے یہ کام کرتے ہو، یعنی تمہاری سرکشی اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ چھپنے کا تکلف بھی نہیں کرتے ہو۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 54) {وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ …:} لوط علیہ السلام کے قصے کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۸۰ تا ۸۴)، ہود (۷۷ تا ۸۳)، حجر (۶۱ تا ۷۷)، انبیاء (۷۱ تا ۷۵)، شعراء (۱۶۰ تا ۱۷۵)، عنکبوت (۲۸ تا ۳۵)، صافات (۱۳۳ تا ۱۳۸) اور قمر (۳۳ تا ۳۹)۔ صالح علیہ السلام کے واقعہ کے بعد، جو قرابت رکھنے والوں کی طرف مبعوث تھے اور جن کی قوم مومن و کافر دو گروہوں میں تقسیم ہو گئی تھی، اس پیغمبر کا ذکر کیا جو اپنی قوم میں اجنبی تھا اور جس پر اہل سدوم میں سے ایک شخص بھی ایمان نہیں لایا، یہ پیغمبر لوط علیہ السلام تھے۔ {” الْفَاحِشَةَ “} وہ کام جو برائی میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو۔ {” تُبْصِرُوْنَ “} یہ بصیرت سے بھی ہو سکتا ہے اور بصارت سے بھی۔ بصیرت سے ہو تو مطلب یہ کہ تم یہ انتہائی بے حیائی کا کام کرتے ہو جب کہ خود بھی سمجھتے ہو کہ یہ گندا اور خلاف فطرت فعل ہے، جو تم سے پہلے کسی قوم نے نہیں کیا اور حقیر سے حقیر جانور بھی ایسا کام نہیں کرتے اور بصارت سے ہو تو مطلب یہ ہے کہ تم اس قدر بے حیا ہو چکے ہو کہ ایک دوسرے کی آنکھوں کے سامنے یہ کام کرتے ہو، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ تَاْتُوْنَ فِيْ نَادِيْكُمُ الْمُنْكَرَ }» [ العنکبوت: ۲۹ ] ”اور تم اپنی مجلس میں برا کام کرتے ہو۔“
← پچھلی آیت (53) پوری سورۃ اگلی آیت (55) →