بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النمل — Surah Naml
آیت نمبر 51
کل آیات: 93
قرآن کریم النمل آیت 51
آیت نمبر: 51 — سورۃ النمل islamicurdubooks.com ↗
فَانۡظُرۡ کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ مَکۡرِہِمۡ ۙ اَنَّا دَمَّرۡنٰہُمۡ وَ قَوۡمَہُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿۵۱﴾
اب دیکھ لو کہ ان کی چال کا انجام کیا ہوا ہم نے تباہ کر کے رکھ دیا اُن کو اور ان کی پوری قوم کو
(اب) دیکھ لے ان کے مکر کا انجام کیسا کچھ ہوا؟ کہ ہم نے ان کو اور ان کی قوم کو سب کو غارت کردیا
تو دیکھو کیسا انجام ہوا ان کے مکر کا ہم نے ہلاک کردیا انہیں اور ان کی ساری قوم کو
تو دیکھو ان کی چال کا انجام کیا ہوا؟ ہم نے ان کو اور ان کی قوم کو تباہ و برباد کر دیا۔
پس دیکھ ان کی چال کا انجام کیسا ہوا کہ ہم نے انھیں اور ان کی قوم، سب کو ہلاک کر ڈالا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اونٹنی کو مار ڈالا ٭٭

ثمود کے شہر میں نوفسادی شخص تھے جن کی طبعیت میں اصلاح تھی ہی نہیں یہی ان کے رؤسا اور سردار تھے انہی کے مشورے اور حکم سے اونٹنی کو مار ڈالا گیا تھا ان کے نام یہ ہیں دعمی، دعیم، ھرما، ھریم، داب، صواب، مسطع، قدار بن سالف یہی آخری وہ شخص ہے جس نے اپنے ہاتھ سے اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں۔ جس کا بیان آیت «‏‏‏‏فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ» ۱؎ [54-القمر:29] ‏‏‏‏ اور آیت «‏‏‏‏إِذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا * فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّـهِ نَاقَةَ اللَّـهِ وَسُقْيَاهَا * فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُم بِذَنبِهِمْ فَسَوَّاهَا» ‏‏‏‏ ۱؎ [91-الشمس:14-12] ‏‏‏‏ میں ہے۔ یہی وہ لوگ تھے جو درہم کے سکے کو تھوڑا ساکتر لیتے تھے اور اسے چلاتے تھے۔ سکے کو کاٹنا بھی ایک طرح کا فساد ہے چنانچہ ابوداؤد وغیرہ میں حدیث ہے { جس میں بلاضرورت سکے کو جو مسلمانوں میں رائج ہو کاٹنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے } ۱؎ [سنن ابوداود:3449،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ الغرض ان کا یہ فساد بھی تھا اور دیگر فساد بھی بہت سارے تھے۔ اس ناپاک گروہ نے جمع ہو کر مشورہ کیا کہ آج رات کو صالح علیہ السلام کو اور اس کے گھرانے کو قتل کر ڈالو اس پر سب نے حلف اٹھائے اور مضبوط عہد و پیمان کئے۔ لیکن یہ لوگ صالح علیہ السلام تک پہنچیں اس سے پہلے عذاب الٰہی ان تک پہنچ گیا اور ان کا ستیاناس کر دیا۔ اوپر سے ایک چٹان لڑھکتی ہوئی اور ان سب سرداروں کے سر پھوٹ گئے سارے ہی ایک ساتھ مرگئے ان کے حوصلے بہت بڑھ گئے تھے خصوصا جب انہوں نے صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو قتل کیا۔ اور دیکھا کہ کوئی عذاب الٰہی نہیں آیا تو اب نبی اللہ علیہ السلام کے قتل پر آمادہ ہوئے۔ مشورے کئے کہ چپ چاپ اچانک اسے اور اس کے بال بچوں اور اس کے والی وارثوں کو ہلاک کر دو اور قوم سے کہہ دو کہ ہمیں کیا خبر؟ اگر صالح نبی علیہ السلام ہے تو ہمارے ہاتھ لگنے کا نہیں ورنہ اسے بھی اس کی اونٹنی کے ساتھ سلادو اس ارادے سے چلے راہ ہی میں تھے جو فرشتے نے پتھر سے ان سب کے دماغ پاش پاش کر دئیے۔ ان کے مشوروں میں جو اور جماعت شریک تھی انہوں نے جب دیکھا کہ انہیں گئے ہوئے عرصہ ہو گیا اور واپس نہیں آئے تو یہ خبر لینے چلے دیکھا کہ سب کے سر پھٹے ہوئے ہیں بھیجے نکلے پڑے ہیں اور سب مردہ ہیں۔ انہوں نے صالح علیہ السلام پر ان کے قتل کی تہمت رکھی اور انہیں مار ڈالنے کے لیے نکلے لیکن ان کی قوم ہتھیار لگا کر آ گئی اور کہنے لگے دیکھو اس نے تم سے کہا ہے کہ تین دن میں اللہ کا عذاب تم پر آئے گا تم یہ تین دن گذرنے دو۔ اگر یہ سچا ہے تو اس کے قتل سے اللہ کو اور ناراض کرو گے اور زیادہ سخت عذاب آئیں گے اور اگر یہ جھوٹا ہے تو پھر تمہارے ہاتھ سے بچ کر کہاں جائے گا؟ چنانچہ وہ لوگ چلے گئے۔

فی الواقع ان سے نبی اللہ صالح علیہ السلام نے صاف فرما دیا تھا کہ تم نے اللہ کی اونٹنی کو قتل کیا ہے تو تم اب تین دن تک مزے اڑالو پھر اللہ کا سچا وعدہ ہو کر رہے گا۔ یہ لوگ صالح علیہ السلام کی زبانی یہ سب سن کر کہنے لگے یہ تو اتنی مدت سے کہہ رہا ہے آؤ ہم آج ہی اس سے فارغ ہو جائیں جس پتھر سے اونٹنی نکلی تھی اسی پہاڑی پر صالح علیہ السلام کی ایک مسجد تھی جہاں آپ نماز پڑھاکرتے تھے انہوں نے مشورہ کیا کہ جب وہ نماز کو آئے اسی وقت راہ میں ہی اس کا کام تمام کر دو۔ جب پہاڑی پر چڑھنے لگے تو دیکھا کہ اوپر سے ایک چٹان لڑھکتی ہوئی آ رہی ہے اس سے بچنے کے لیے ایک غار میں گھس گئے چٹان آ کر غار کے منہ میں اس طرح ٹھہر گیا کہ غار کامنہ بالکل بند ہو گیا۔ سب کے سب ہلاک ہو گئے اور کسی کو پتہ بھی نہ چلا کہ کہاں گئے؟ انہیں یہاں عذاب آیا وہاں باقی والے وہیں ہلاک کر دئیے گئے نہ ان کی خبر انہیں ہوئی اور نہ ان کی انہیں۔

صالح علیہ السلام اور باایمان لوگوں کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے اور اپنی جانیں اللہ کے عذابوں میں گنوادیں۔ انہوں نے مکر کیا اور ہم نے ان کی چال بازی کا مزہ انہیں چکھا دیا۔ اور انہیں اس سے ذرا پہلے بھی مطلق علم نہ ہو سکا۔ انجام کار ان کی فریب بازیوں کا یہ ہوا کہ سب کے سب تباہ و برباد ہوئے۔ یہ ہیں ان کی بستیاں جو سنسان پڑی ہیں ان کے ظلم کی وجہ سے یہ ہلاک ہو گئے ان کے بارونق شہر تباہ کر دئے گئے ذی علم لوگ ان نشانوں سے عبرت حاصل کر سکتے ہیں۔ ہم نے ایماندار متقیوں کو بال بال بچا لیا۔

📖 احسن البیان

51-1یعنی ہم نے مذکورہ-9سرداروں کو ہی نہیں، بلکہ ان کی قوم کو بھی مکمل طور پر ہلاک کردیا۔ کیونکہ وہ قوم ہلاکت کے اصل سبب کفر میں مکمل طور پر ان کے ساتھ شریک تھی اور گو عملی طور ان کے منصوبہ قتل میں شریک نہ ہوسکی تھی۔ کیونکہ یہ منصوبہ خفیہ تھا۔ لیکن ان کی منشاء اور دلی آرزو کے عین مطابق تھا اس لئے وہ بھی گویا اس مکر میں شریک تھی جو-9افراد نے حضرت صالح ؑ اور ان کے اہل کے خلاف تیار کیا تھا۔ اس لئے پوری قوم ہی ہلاکت کی مستحق قرار پائی۔

📖 القرآن الکریم

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
← پچھلی آیت (50) پوری سورۃ اگلی آیت (52) →