بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النمل — Surah Naml
آیت نمبر 29
کل آیات: 93
قرآن کریم النمل آیت 29
آیت نمبر: 29 — سورۃ النمل islamicurdubooks.com ↗
قَالَتۡ یٰۤاَیُّہَا الۡمَلَؤُا اِنِّیۡۤ اُلۡقِیَ اِلَیَّ کِتٰبٌ کَرِیۡمٌ ﴿۲۹﴾
ملکہ بولی "اے اہلِ دربار، میری طرف ایک بڑا اہم خط پھینکا گیا ہے
وه کہنے لگی اے سردارو! میری طرف ایک باوقعت خط ڈاﻻ گیا ہے
وہ عورت بولی اے سردارو! بیشک میری طرف ایک عزت والا خط ڈالا گیا
اس (ملکہ) نے کہا اے (دربار کے) سردارو! مجھے ایک معزز خط پہنچایا گیا ہے۔
اس (ملکہ) نے کہا اے سردارو! بے شک میری طرف ایک بہت عزت والا خط پھینکا گیا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

تحقیق شروع ہو گئی ٭٭

ہدہد کی خبر سنتے ہی سلیمان علیہ السلام نے اس کی تحقیق شروع کر دی کہ اگر یہ سچا ہے تو قابل معافی ہے اور اگر جھوٹا ہے تو قابل سزا ہے۔ اسی سے فرمایا کہ میرا یہ خط بلقیس کو جو وہاں کی فرمانروا ہے دے آ۔ اس خط کو چونچ میں لے کر یا پر سے بندھواکر ہدہد اڑا۔ وہاں پہنچ کر بلقیس کے محل میں گیا وہ اس وقت خلوت خانہ میں تھی۔ اس نے ایک طاق میں سے وہ خط اس کے سامنے رکھا اور ادب کے ساتھ ایک طرف ہو گیا۔ اسے سخت تعجب معلوم ہوا حیرت ہوئی اور ساتھ ہی کچھ خوف زدہ بھی ہوئی۔ خط کو اٹھا کر مہر توڑ کر خط کھول کر پڑھا اس کے مضمون سے واقف ہو کر اپنے امراء وزراء سردار اور رؤسا کو جمع کیا اور کہنے لگی کہ ایک باوقعت خط میرے سامنے ڈالا گیا ہے اس خط کا باوقعت ہونا اس پر اس سے بھی ظاہر ہو گیا تھا کہ ایک جانور اسے لاتا ہے وہ ہوشیاری اور احتیاط سے پہنچاتا ہے۔ سامنے با ادب رکھ کر ایک طرف ہو جاتا ہے تو جان گئی تھی کہ یہ خط مکرم ہے اور کسی باعزت شخص کا بھیجا ہوا ہے۔ پھر خط کامضمون سب کو پڑھ کرسنایا کہ یہ خط سلیمان علیہ السلام کا ہے اور اس کے شروع میں «‏‏‏‏بسم اللہ الرحمن الرحیم» لکھا ہوا ہے ساتھ ہی مسلمان ہونے اور تابع فرمان بننے کی دعوت ہے۔ اب سب نے پہچان لیا کہ یہ اللہ کے پیغمبر کا دعوت نامہ ہے اور ہم میں سے کسی میں ان کے مقابلے کی تاب وطاقت نہیں۔ پھر خط کی بلاغت اختصار اور وضاحت نے سب کو حیران کر دیا یہ مختصر سی عبارت بہت سی باتوں سے سوا ہے۔ دریا کو کوزہ میں بند کر دیا ہے علماء کرام کا مقولہ ہے کہ سلیمان علیہ السلام سے پہلے کسی نے خط میں «بسم اللہ الرحمن الرحیم» نہیں لکھی۔

ایک غریب اور ضعیف حدیث ابن ابی حاتم میں ہے { سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا کہ آپ نے فرمایا میں ایک ایسی آیت جانتا ہوں جو مجھ سے پہلے سلیمان بن داؤد علیہ السلام کے بعد کسی نبی پر نہیں اتری میں نے کہا حضور وہ کون سی آیت ہے؟ آپ نے فرمایا مسجد سے جانے سے پہلے ہی میں تجھے بتا دوں گا اب آپ نکلنے لگے ایک پاؤں مسجد سے باہر رکھ بھی دیامیرے جی میں آیا شاید آپ بھول گئے۔ اتنے میں آپ نے یہی آیت پڑھی۔ } ۱؎ [ضعیف:اس میں عبدالکریم راوی ضعیف ہے] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { جب تک یہ آیت نہیں اتری تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعا «باسمک اللہم» تحریر فرمایا کرتے تھے۔ جب یہ آیت اتری آپ نے «بسم اللہ الرحمن الرحیم» لکھنا شرع کیا۔ } خط کا مضمون صرف اسی قدر تھا کہ میرے سامنے سرکشی نہ کرو مجھے مجبور نہ کرو میری بات مان لو تکبر سے کام نہ لو موحد مخلص مطیع بن کر میرے پاس چلی آؤ۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت29تا31) ➊ { قَالَتْ يٰۤاَيُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّيْۤ اُلْقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيْمٌ …:} چنانچہ اس نے اپنی سلطنت کے سرداروں اور مشیروں کو جمع کیا اور انھیں مخاطب کرکے کہا: ”اے سردارو! میری طرف ایک بہت عزت والا خط پھینکا گیا ہے۔“ ملکہ نے اس خط کو بہت عزت والا اس لیے کہا کہ ایک تو وہ عجیب و غریب اور غیر معمولی طریقے سے آیا تھا، کسی سفارتی وفد کے بجائے ایک پرندے نے اسے لا پھینکا تھا۔ دوسرے وہ سلیمان جیسے باشکوہ بادشاہ کی طرف سے تھا جو شام و فلسطین اور اردگرد کے علاقوں کے فرماں روا تھے۔ تیسرے اس کی ابتدا بتوں یا دیوتاؤں کے نام کے بجائے اللہ رحمان ورحیم کے نام سے تھی، پھر اتنا مختصر اور جامع کہ لکھنے والے کی پوری مراد چند لفظوں میں مکمل ادا ہو رہی تھی اور اس نے نہایت بارعب اور پُر ہیبت لہجے میں صاف صاف حکم دیا تھا کہ سرکشی چھوڑ کر اطاعت کرو اور تابع فرمان یا مسلمان بن کر اس کے سامنے حاضر ہو جاؤ۔ ➋ اس خط سے خط لکھنے کے کئی آداب معلوم ہو رہے ہیں، ایک یہ کہ خط لکھنے والے کو خط کے شروع میں اپنا تعارف کرانا ضروری ہے کہ یہ خط کس کی طرف سے ہے۔ دوسرا یہ کہ خط کی ابتدا {” بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ “} سے ہونی چاہیے۔ تیسرا یہ کہ خط مختصر، جامع اور واضح ہونا چاہیے۔ قرآن میں مذکور الفاظ کے مطابق خط لکھنے والے کا نام {” بِسْمِ اللّٰهِ “} سے پہلے ہے، مگر مفسرین فرماتے ہیں کہ ملکہ چونکہ اپنے الفاظ میں خط کا تذکرہ کر رہی تھی، اس لیے اس نے {” مِنْ سُلَيْمٰنَ “} کا ذکر پہلے کر دیا، ورنہ {” بِسْمِ اللّٰهِ “} اس سے پہلے ہے، جیسا کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط سے واضح ہے کہ ان میں ابتدا اس طرح ہوتی ہے: [ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ اِلٰی هِرَقْلَ عَظِيْمِ الرُّوْمِ… ] [ بخاري، بدء الوحي، باب کیف کان بدء الوحي: ۷ ] ➌ {” وَ اْتُوْنِيْ مُسْلِمِيْنَ “} کے دو معنی ہیں، ایک یہ کہ ”میرے پاس تابع فرمان بن کر آ جاؤ۔“ یہ شاہی جلال کا آئینہ دار ہے، دوسرا یہ کہ مسلمان ہو کر میرے پاس آ جاؤ، یہ پیغمبرانہ شان کا اظہار ہے۔ سلیمان علیہ السلام میں دونوں صفات موجود تھیں، اس لیے مطلب یہ ہو گا کہ مسلمان بن کر میرے پاس حاضر ہو جاؤ، اگر اسلام قبول نہیں تو تابع فرمان تمھیں ہر حال میں ہونا پڑے گا۔ فرمایا: «{ حَتّٰى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ }» [ التوبۃ: ۲۹ ] ”یہاں تک کہ وہ ہاتھ سے جزیہ دیں اور وہ حقیر ہوں۔“
← پچھلی آیت (28) پوری سورۃ اگلی آیت (30) →