بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النمل — Surah Naml
آیت نمبر 21
کل آیات: 93
قرآن کریم النمل آیت 21
آیت نمبر: 21 — سورۃ النمل islamicurdubooks.com ↗
لَاُعَذِّبَنَّہٗ عَذَابًا شَدِیۡدًا اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّہٗۤ اَوۡ لَیَاۡتِیَنِّیۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۲۱﴾
میں اسے سخت سزا دوں گا، یا ذبح کر دوں گا، ورنہ اسے میرے سامنے معقول وجہ پیش کرنی ہو گی
یقیناً میں اسے سخت سزا دوں گا، یا اسے ذبح کر ڈالوں گا، یا میرے سامنے کوئی صریح دلیل بیان کرے
ضرور میں اسے سخت عذاب کرو ں گا یا ذبح کردوں گا یا کوئی روشن سند میرے پاس لائے
(اگر ایسا ہی ہے) تو میں اسے سخت سزا دوں گا۔ یا اسے ذبح کر دوں گا۔ یا پھر وہ کوئی واضح دلیل (عذر) میرے سامنے پیش کرے۔
یقینا میں اسے ضرور سزا دوں گا، بہت سخت سزا، یا میں ضرور ہی اسے ذبح کر دوں گا، یا وہ ضرور ہی میرے پاس کوئی واضح دلیل لے کر آئے گا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ہدہد ٭٭

ہدہد سلیمان علیہ السلام فوج کی میں مہندس کا کام کرتا تھا وہ بتلاتا تھا کہ پانی کہاں ہے؟ زمین کے اندر کا پانی اس کو اسطرح نظر آتا تھا جیسے کہ زمین کے اوپر کی چیز لوگوں کو نظر آتی ہے۔ جب سلیمان علیہ السلام جنگل میں ہوتے اس سے دریافت فرماتے کہ پانی کہاں ہے؟ یہ بتا دیتا کہ فلاں جگہ ہے۔ اتنا نیچا ہے اتنا اونچا ہے وغیرہ۔ سلیمان علیہ السلام اسی وقت جنات کو حکم دیتے اور کنواں کھود لیا جاتا۔ ایک دن اسی طرح جنگل میں تھے پرندوں کی تفتیش کی تاکہ پانی کی تلاش کا حکم دیں۔ اتفاق سے وہ موجود نہ تھا۔ اس پر آپ نے فرمایا آج ہدہد نظر نہیں آتا کیا پرندوں میں کہیں وہ چھپ گیا جو مجھے نظر نہ آیا۔ یا واقعی وہ حاضر نہیں؟

ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ تفسیر سن کر نافع بن ازرق خارجی نے اعتراض کیا تھا یہ بکواسی ہر وقت سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی باتوں پر بیجا اعتراض کیا کرتا تھا کہنے لگا آج تو تم ہارگئے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیوں؟ اس نے کہا آپ جو یہ فرماتے ہو کہ ہدہد زمین کے تلے کا پانی دیکھ لیتا تھا یہ کیسے صحیح ہوسکتا ہے ایک بچہ جال بچھاکر اسے مٹی سے ڈھک کر دانہ ڈال کر ہدہد کا شکار کر لیتا ہے اگر وہ زمین کے اندر کا پانی دیکھتا ہے تو زمین کے اوپر کا جال اسے کیوں نظر نہیں آتا؟ آپ نے فرمایا اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ تو یہ سمجھ جائے گا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما لاجواب ہو گیا تو مجھے جواب کی ضرورت نہ تھی سن جس وقت قضاء آ جاتی ہے آنکھیں اندھی ہو جاتی ہیں اور عقل جاتی رہتی ہے۔ نافع لاجواب ہو گیا اور کہا واللہ اب میں آپ پر اعتراض نہ کرونگا۔ عبداللہ برزی رحمہ اللہ ایک ولی کامل شخص تھے پیر جمعرات کا روزہ پابندی سے رکھا کرتے تھے۔ اسی (‏‏‏‏80)‏‏‏‏‏‏‏‏ سال کی عمر تھی ایک آنکھ سے کانے تھے۔ سلیمان بن زید نے ان سے آنکھ کے جانے کا سبب دریافت کیا تو آپ نے اس کے بتانے سے انکار کر دیا۔ یہ بھی پیچھے پڑ گئے مہینوں گذر گئے نہ وہ بتاتے نہ یہ سوال چھوڑتے آخر تنگ آ کر فرمایا لو سن لو میرے پاس دو خراسانی برزہ میں (‏‏‏‏جو دمشق کے پاس ایک شہر ہے) آئے اور مجھ سے کہا کہ میں انہیں برزہ کی وادی میں لے جاؤں میں انہیں وہاں لے گیا۔ انہوں نے انگیٹھیاں نکالیں بخور نکالے اور جلانے شروع کئے یہاں تک کہ تمام وادی خوشبو سے مہکنے لگی۔ اور ہر طرف سے سانپوں کی آمد شروع ہو گئی۔ لیکن بےپرواہی سے بیٹھے رہے کسی سانپ کی طرف التفات نہ کرتے تھے۔ تھوڑی دیر میں ایک سانپ آیا جو ہاتھ بھر کا تھا اور اس کی آنکھیں سونے کی طرح چمک رہی تھیں۔ یہ بہت ہی خوش ہوئے اور کہنے لگے اللہ کا شکر ہے ہماری سال بھر محنت ٹھکانے لگی۔ انہوں نے اس سانپ کو لے کر اس کی آنکھوں میں سلائی پھیر کر اپنی آنکھوں میں وہ سلائی پھیرلی میں نے ان سے کہا کہ میری آنکھوں میں بھی یہ سلائی پھیردو۔ انہوں نے انکار کر دیا میں نے ان سے منت سماجت کی بہ مشکل وہ راضی ہوئے اور میری داہنی آنکھ میں وہ سلائی پھیر دی اب جو میں دیکھتا ہوں تو زمین مجھے ایک شیشے کی طرح معلوم ہونے لگی جیسی اوپر کی چیزیں نظر آتی تھیں ایسی ہی زمین کے اندر کی چیزیں بھی دیکھ رہا تھا۔ انہوں نے مجھے سے کہا اب آپ ہمارے ساتھ ہی کچھ دور چلئے میں نے منظور کر لیا وہ باتیں کرتے ہوئے مجھے ساتھ لیے ہوئے چلے جب میں بستی سے بہت دور نکل گیا تو دونوں نے مجھے دونوں طرف سے پکڑ لیا اور ایک نے اپنی انگلی ڈال کر میری آنکھ نکالی اور اسے پھینک دیا۔ اور مجھیے یونہی بندھا ہوا وہیں چھوڑ کر دونوں کہیں چل دئیے۔ اتفاقاً وہاں سے ایک قافلہ گذرا اور انہوں نے مجھے اس حالت میں دیکھ کررحم کھایا قیدوبند سے مجھے آزاد کر دیا اور میں چلا آیا یہ قصہ ہے میری آنکھ کے جانے کا۔ (‏‏‏‏ابن عساکر) ۱؎ [تاریخ دمشق:130/19] ‏‏‏‏

سلیمان علیہ السلام کے اس ہدہد کا نام عنبر تھا، آپ فرماتے ہیں اگر فی الواقع وہ غیر حاضر ہے تو میں اسے سخت سزادوں گا اس کے پر نچوادوں گا اور اس کو پھنک دوں گا کہ کیڑے مکوڑے کھاجائیں یا میں اسے حلال کردونگا۔ یا یہ کہ وہ اپنے غیر حاضر ہونے کی کوئی معقول وجہ پیش کر دے۔ اتنے میں ہدہد آ گیا جانوروں نے اسے خبر دی کہ آج تیری خیر نہیں۔ بادشاہ سلامت عہد کر چکے ہیں کہ وہ تجھے مار ڈالیں گے۔ اس نے کہا یہ بیان کرو کہ آپ کے الفاظ کیا تھے؟ انہوں نے بیان کئے تو خوش ہو کر کہنے لگا پھر تو میں بچ جاؤں گا۔ مجاہد فرماتے ہیں اس کے بچاؤ کی وجہ اس کا اپنی ماں کے ساتھ سلوک تھا۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 21) {لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِيْدًا …:} ہُد ہُد کا بلااجازت غائب ہونا صریح نافرمانی تھا، اس لیے سلیمان علیہ السلام نے واضح عذر پیش نہ کرنے کی صورت میں اس کے لیے دو سزائیں سنائیں، ایک ذبح کر دینا اور دوسری ذبح سے کمتر کوئی سخت سزا۔ اس سے معلوم ہوا کہ سلطان کی بلاعذر نافرمانی پر تعزیر ہونی چاہیے، اگر کوئی مجاہد بلااجازت غائب ہوتا ہے تو دیکھا جائے گا کہ آیا یہ اس کا معمول ہے یا اتفاق سے ایسا ہوا ہے، پھر معمول ہونے کی صورت میں اس کی غیر حاضری اگر لشکر پر اثر انداز ہوتی ہے اور اس کے طرزِ عمل سے امیر کے احکام کی قدر و قیمت باقی نہ رہنے کا اندیشہ پیدا ہوتا ہے تو اس کا جرم بہت بڑا بن جاتا ہے۔ اسی طرح اس موقع کو بھی دیکھا جاتا ہے جس سے وہ غائب ہوا ہے، اگر اس کی ذمہ داری ایسی ہے کہ اس کے غائب ہونے یا سو جانے سے پورے لشکر کی تباہی کا خطرہ ہے تو ایسی کوتاہی معاف کرنے کا مطلب اپنے لشکر کو آپ ہی برباد کر دینا ہے۔ اس کے باوجود سلیمان علیہ السلام کا کمال انصاف اور تحمل دیکھیے کہ واضح دلیل پیش کرنے کی صورت میں اس سزا سے مستثنیٰ قرار دیا۔
← پچھلی آیت (20) پوری سورۃ اگلی آیت (22) →