بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النمل — Surah Naml
آیت نمبر 16
کل آیات: 93
قرآن کریم النمل آیت 16
آیت نمبر: 16 — سورۃ النمل islamicurdubooks.com ↗
وَ وَرِثَ سُلَیۡمٰنُ دَاوٗدَ وَ قَالَ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّیۡرِ وَ اُوۡتِیۡنَا مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ ؕ اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۶﴾
اور داؤدؑ کا وارث سلیمانؑ ہوا اور اس نے کہا "“لوگو، ہمیں پرندوں کی بولیاں سکھائی گئی ہیں اور ہمیں ہر طرح کی چیزیں دی گئی ہیں، بیشک یہ (اللہ کا) نمایاں فضل ہے"
اور داؤد کے وارث سلیمان ہوئے اور کہنے لگے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہم سب کچھ میں سے دیئے گئے ہیں۔ بیشک یہ بالکل کھلا ہوا فضل الٰہی ہے
اور سلیمان داؤد کا جانشین ہوا اور کہا اے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی اور ہر چیز میں سے ہم کو عطا ہوا بیشک یہی ظاہر فضل ہے
اور سلیمان داؤد کے وارث ہوئے اور کہا اے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولی کی تعلیم دی گئی ہے اور ہمیں ہر قسم کی چیزیں عطا کی گئی ہیں۔ بےشک یہ (اللہ کا) کھلا ہوا فضل و کرم ہے۔
اور سلیمان دائود کا وارث بنا اور اس نے کہا اے لوگو!ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی اور ہمیں ہر چیز میں سے حصہ دیا گیا ہے۔ بے شک یہ یقینا یہی واضح فضل ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

داؤد اور سلیمان علیھما السلام پر خصوصی انعامات ٭٭

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان نعمتوں کی خبر دے رہا ہے جو اس نے اپنے بندے اور نبی سلیمان علیہ السلام اور داؤد علیہ السلام پر فرمائی تھیں کہ کس طرح دونوں جہان کی دولت سے انہیں مالا مال فرمایا۔ ان نعمتوں کے ساتھ ہی اپنے شکرئیے کی بھی توفیق دی تھی۔ دونوں باپ بیٹے ہر وقت اللہ کی نعمتوں پر اس کی شکر گزاری کیا کرتے تھے اور اس کی تعریفیں بیان کرتے رہتے تھے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے لکھاہے کہ جس بندے کو اللہ تعالیٰ جو نعمتیں دے اور ان پر وہ اللہ کی حمد کرے تو اس کی حمد ان نعمتوں سے بہت افضل ہے دیکھو خود کتاب اللہ میں یہ نکتہ موجود ہے پھر آپ نے یہی آیت لکھ کر لکھا کہ ان دونوں پیغمبروں کو جو نعمت دی گئی تھی اس سے افضل نعمت کیا ہو گی۔ داؤد علیہ السلام کے وارث سلیمان علیہ السلام ہوئے اس سے مراد مال کی وراثت نہیں بلکہ ملک ونبوت کی وراثت ہے۔ اگر مالی میراث مراد ہوتی تو اس میں صرف سلیمان علیہ السلام کا نام نہ آتا کیونکہ داؤد کی سو (‏‏‏‏100) بیویاں تھیں۔ انبیاء علیہم السلام کی مال کی میراث نہیں بٹتی۔ چنانچہ سید الانبیاء علیہ السلام کا ارشاد ہے { ہم جماعت انبیاء ہیں ہمارے ورثے نہیں بٹا کرتے ہم جو کچھ چھوڑ جائیں صدقہ ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3094] ‏‏‏‏

سلیمان اللہ علیہ السلام اللہ کی نعمتیں یاد کرتے ہیں فرماتے ہیں یہ پورا ملک اور یہ زبردست طاقت کہ انسان، جن، پرند سب تابع فرمان ہیں، پرندوں کی زبان بھی سمجھ لیتے ہیں یہ خاص اللہ کا فضل و کرم ہے۔ جو کسی انسان پر نہیں ہوا۔ بعض جاہلوں نے کہا ہے کہ اس وقت پرند بھی انسانی زبان بولتے تھے۔ یہ محض ان کی بےعلمی ہے بھلا سمجھو تو سہی اگر واقعی یہی بات ہوتی تو پھر اس میں سلیمان علیہ السلام کی خصوصیت ہی کیا تھی۔ جسے آپ اس فخر سے بیان فرماتے کہ ہمیں پرندوں کی زبان سکھا دی گئی پھر تو ہر شخص پرند کی بولی سمجھتا اور سلیمان علیہ السلام کی خصوصیت جاتی رہتی۔ یہ محض غلط ہے پرند اور حیوانات ہمیشہ سے ہی ایسے رہے ان کی بولیاں بھی ایسی ہی رہیں۔ یہ خاص اللہ کا فضل تھا کہ سلیمان علیہ السلام ہر چرند پرند کی زبان سمجھتے تھے۔ ساتھ ہی یہ نعمت بھی حاصل ہوئی تھی۔ کہ ایک بادشاہت میں جن جن چیزوں کی ضروت ہوتی ہے سب سلیمان علیہ السلام کو قدرت نے مہیا کر دی تھیں۔ یہ تھا اللہ کا کھلا احسان آپ پر۔

مسند امام احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں داؤد علیہ السلام بہت ہی غیرت والے تھے جب آپ گھر سے باہر جاتے تو دروازے بند کر جاتے پھر کسی کو اندر جانے کی اجازت نہ تھی ایک مرتبہ آپ اسی طرح باہر تشریف لے گئے۔ تھوڑی دیر بعد ایک بیوی صاحبہ کی نظر اٹھی تو دیکھتی ہیں کہ گھر کے بیچوں بیچ ایک صاحب کھڑے ہیں حیران ہو گئیں اور دوسروں کو دکھایا۔ آپس میں سب کہنے لگیں یہ کہاں سے آ گئے؟ اللہ کی قسم داؤد علیہ السلام بھی آ گئے آپ نے بھی انہیں کھڑا دیکھا اور دریافت کیا کہ تم کون ہو؟ اس نے جواب دیا وہ جسے کوئی دروازہ یا کوئی روک نہ سکے وہ جو کسی بڑے سے بڑے کی مطلق پرواہ نہ کرے۔ داؤد علیہ السلام سمجھ گئے اور فرمانے لگے مرحبا مرحبا آپ تو ملک الموت ہیں اسی وقت ملک الموت نے آپ کی روح قبض کی۔ سورج نکل آیا اور آپ پر دھوپ آ گئی تو سلیمان علیہ السلام نے پرندوں کو حکم دیا کہ وہ داؤد علیہ السلام پر سایہ کریں انہوں نے اپنے پر کھول کر ایسی گہری چھاؤں کر دی کہ زمین پر اندھیرا سا چھا گیا پھر حکم دیا کہ ایک ایک کر کے اپنے سب پروں کو سمیٹ لو۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرندوں نے پھر پر کیسے سمیٹے؟ آپ نے فرمایا اپنا ہاتھ سمیٹ کر بتلایا کہ اس طرح۔ اس پر اس دن سرخ رنگ گدھ غالب آ گئے۔ } ۱؎ [مسند احمد:419/2:ضعیف] ‏‏‏‏ سلیمان علیہ السلام کا لشکر جمع ہوا جس میں انسان جن پرند سب تھے۔ آپ سے قریب انسان تھے پھر جن تھے پرند آپ کے سروں پر رہتے تھے۔ گرمیوں میں سایہ کر لیتے تھے۔ سب اپنے اپنے مرتبے پر قائم تھے۔ جس کی جو جگہ مقررر تھی وہ وہیں رہتا۔

جب ان لشکروں کو لے کر سلیمان علیہ السلام چلے۔ ایک جنگل پر گذر ہوا جہاں چیونٹیوں کا لشکر تھا۔ سلیمان علیہ السلام لشکر کو دیکھ کر ایک چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں سے کہا کہ جاؤ اپنے اپنے سوراخوں میں چلی جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ لشکر سلیمان علیہ السلام کا لشکر چلتا ہوا تمہیں روند ڈالے اور انہیں علم بھی نہ ہو۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس چیونٹی کا نام ترس تھا یہ بنو شیصان کے قبیلے سے تھی۔ تھی بھی لنگڑی بقدر بھیڑیئے کے اسے خوف ہوا کہیں سب روندی جائیں گی اور پس جائیگی یہ سن کر سلیمان علیہ السلام کو تبسم بلکہ ہنسی آ گئی اور اسی وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے اپنی ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرنا جو تو نے مجھ پر انعام کی ہیں مثلا پرندوں اور حیوانوں کی زبان سکھا دینا وغیرہ۔ نیز جو نعمتیں تو نے میرے والدین پر انعام کی ہیں کہ وہ مسلمان مومن ہوئے وغیرہ۔ اور مجھے نیک عمل کرنے کی توفیق دے جن سے تو خوش ہو اور جب میری موت آ جائے تو مجھے اپنے نیک بندوں اور بلند رفقاء میں ملادے جو تیرے دوست ہیں۔ مفسرین کا قول ہے کہ یہ وادی شام میں تھی۔ بعض اور جگہ بتاتے ہیں۔ یہ جیونٹی مثل مکھیوں کے پردار تھی۔ اور بھی اقوال ہیں نوف بکالی کہتے ہیں یہ بھیڑئیے کے برابر تھی۔ ممکن ہے اصل میں لفظ ذباب ہو یعنی مکھی کے برابر اور کاتب کی غلطی وہ ذیاب لکھ دیا گیا ہو یعنی بھیڑیا۔ سلیمان علیہ السلام چونکہ جانوروں کی بولیاں سمجھتے تھے اس کی بات کو بھی سمجھ گئے اور بے اختیار ہنسی آ گئی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ سلیمان بن داؤد علیہ السلام استسقاء کے لیے نکلے تو دیکھا کہ ایک چیونٹی الٹی لیٹی ہوئی اپنے پاؤں آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے دعا کر رہی ہے کہ اے اللہ ہم بھی تیری مخلوق ہیں پانی برسنے کی محتاجی ہمیں بھی ہے۔ اگر پانی نہ برسا تو ہم ہلاک ہو جائیں گے اس چیونٹی کی یہ دعا سن کر آپ نے لوگوں میں اعلان کیا لوٹ چلو کسی اور ہی کی دعا سے تم پانی پلائے گئے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں نبیوں میں سے کسی نبی کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا انہوں نے چیونٹیوں کے سوراخ میں آگ لگانے کا حکم دے دیا اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی کہ اے پیغمبر محض ایک چونٹی کے کاٹنے پر تو نے ایک گروہ کے گروہ کو جو ہماری تسبیح خواں تھا۔ ہلاک کر دیا۔ تجھے بدلہ لینا تھا تو اسی سے لیتا۔ } [صحیح بخاری:3019] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

16-1اس سے مراد نبوت اور بادشاہت کی وراثت ہے، جس کے وارث صرف سلیمان ؑ قرار پائے۔ ورنہ حضرت داؤد ؑ کے اور بھی بیٹے تھے جو اس کی وراثت سے محروم رہے۔ ویسے بھی انبیاء کی وراثت علم میں ہی ہوتی ہے، جو مال اسباب وہ چھوڑ جاتے ہیں، وہ صدقہ ہوتا ہے، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے (البخاری کتاب الفرائض و مسلم، کتاب الجہاد) 16-2بولیاں تو تمام جانور کی سکھلائی گئی تھیں لیکن پرندوں کا ذکر بطور خاص اس لئے کیا گیا ہے کہ پرندے سائے کے لئے ہر وقت ساتھ رہتے تھے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ صرف پرندوں کی بولیاں سکھلائی گئی تھیں اور چونٹیاں بھی منجملہ پرندوں کے ہیں۔ (فتح القدیر) 16-3جس کی ان کو ضرورت تھی، جیسے علم، نبوت، حکمت، مال، جن و انس اور طیور و حیوانات کی تسخیر وغیرہ۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 16) ➊ { وَ وَرِثَ سُلَيْمٰنُ دَاوٗدَ …:} اس سے مراد مال و جائداد کی وراثت نہیں بلکہ نبوت و سلطنت اور علم و عمل کی وراثت ہے۔ اگر مال و جائداد کی وراثت ہوتی تو وارث کے طور پر صرف سلیمان علیہ السلام کا ذکر نہ ہوتا بلکہ اس میں داؤد علیہ السلام کے دوسرے بیٹے بھی شریک ہوتے۔ علاوہ ازیں اگر ان کے ذاتی اموال کی وراثت ہی مراد ہو تو سلیمان علیہ السلام کا {”يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ “} کہہ کر سب لوگوں کو بتانا بے معنی ہو جاتا ہے۔ انبیائے کرام علیھم السلام کے اموال و جائداد کا کوئی وارث نہیں ہوتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَا نُوْرَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ] [ بخاري، الفرائض، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم لا نورث…: ۶۷۲۷، عن عائشۃ رضی اللہ عنھا ] ”ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو چھوڑ جائیں صدقہ ہے۔“ اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءَ وَ إِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوْا دِيْنَارًا وَلَا دِرْهَمًا، وَرَّثُوا الْعِلْمَ فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ ] [أبوداوٗد، العلم، باب في فضل العلم: ۳۶۴۱، قال الألباني صحیح ] ”یقینا علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء نے ورثے میں دینار و درہم نہیں چھوڑے، انھوں نے صرف علم کا ورثہ چھوڑا ہے، توجو اسے حاصل کر لے اس نے بہت بڑا حصہ حاصل کر لیا۔“ مزید دیکھیے سورۂ مریم (۵، ۶)۔ ➋ { وَ قَالَ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ:} یعنی ہمیں پرندوں کی بولی سمجھنا سکھایا گیا ہے، بلکہ بولنا بھی، جیسا کہ سلیمان علیہ السلام کا ہُد ہُد سے مکالمہ آگے آ رہا ہے، پھر انھیں صرف پرندوں ہی نہیں بلکہ تمام حیوانات کی بولی سکھائی گئی تھی، جیسا کہ چیونٹی کی بات سننے کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ پرندوں کا ذکر اختصار کے لیے ہے، کیونکہ پرندے تمام جانداروں سے زیادہ انسان سے دور رہنے اور بدکنے والے ہیں۔ جب داؤد اور سلیمان علیھما السلام ان کی بولی جانتے تھے تو دوسرے جانوروں کی بولی کا علم تو انھیں بالاولیٰ تھا، جو انسان کے قریب رہتے ہیں۔ تمام جانوروں میں سے پرندوں کا ذکر خاص طور پر اس لیے بھی ہے کہ وہ ان کی فوج کا باقاعدہ حصہ تھے۔ پرندوں کی بولی کے علم سے مراد اندازوں پر مبنی علم نہیں، جو علم الحیوانات کے ماہرین ایجاد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، بلکہ مراد واضح طور پر ان کی باتوں کو سمجھنا ہے، جو ان کے لیے اللہ تعالیٰ کا عطا کر دہ خاص معجزہ تھا۔ ➌ { وَ اُوْتِيْنَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ:” كُلِّ شَيْءٍ “} سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ اس میں علم و نبوت، مال و حکمت حتیٰ کہ جنوں، انسانوں، پرندوں، حیوانات اور ہوا وغیرہ کی تسخیر سبھی چیزیں شامل ہیں۔ (شوکانی) یہاں {” كُلِّ “} کا لفظ کثیر کے معنی میں ہے، جیسا کہ ہُد ہُد نے ملکہ سبا کے متعلق کہا تھا: «{ وَ اُوْتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ }» [النمل: ۲۳ ] ”اور اسے ہر چیز میں سے حصہ دیا گیا ہے۔“ حالانکہ صاف ظاہر ہے کہ اسے ہر چیز میں سے حصہ تو نہیں ملا تھا، اور جیسا کہ قوم عاد پر آنے والی آندھی کے متعلق فرمایا: «{ تُدَمِّرُ كُلَّ شَيْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا[الأحقاف: ۲۵ ] ”وہ (آندھی) ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے برباد کر دے گی۔“ ➍ { اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِيْنُ:} فضل کا معنی برتری ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ نعمتیں عطا کرنے کے لیے بے شمار انسانوں میں سے ہمیں منتخب فرمایا، یقینا یہ واضح برتری ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمائی ہے۔ یہ بتانے سے سلیمان علیہ السلام کا مقصد فخر کا نہیں بلکہ شکر کا اظہار تھا۔ اس کے علاوہ لوگوں کو یہ بات بتانا ان کی ذمہ داری تھی، تاکہ لوگ ان کی قدر پہچانیں اور ان کی اطاعت کریں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ ] [ ترمذي، تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ بني إسرائیل: ۳۱۴۸، قال الألباني صحیح ] ”میں قیامت کے دن اولاد آدم کا سردار ہوں اور کوئی فخر نہیں۔“
← پچھلی آیت (15) پوری سورۃ اگلی آیت (17) →