بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النمل — Surah Naml
آیت نمبر 1
کل آیات: 93
قرآن کریم النمل آیت 1
آیت نمبر: 1 — سورۃ النمل islamicurdubooks.com ↗
طٰسٓ ۟ تِلۡکَ اٰیٰتُ الۡقُرۡاٰنِ وَ کِتَابٍ مُّبِیۡنٍ ۙ﴿۱﴾
ط س یہ آیات ہیں قرآن اور کتاب مبین کی
طٰس، یہ آیتیں ہیں قرآن کی (یعنی واضح) اور روشن کتاب کی
یہ آیتیں ہیں قرآن اور روشن کتاب کی
طا۔ سین۔ یہ قرآن واضح کتاب کی آیتیں ہیں۔
طس، یہ کامل قرآن اور واضح کتاب کی آیات ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

تفسیر سورۂ نمل ٭٭

حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان پر پوری بحث سورۃ البقرہ کے شروع میں ہم کر چکے ہیں۔ یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں۔ قرآن کریم جو کھلی ہوئی واضح روشن اور ظاہر کتاب ہے۔ یہ اس کی آیتیں ہیں جو مومنوں کے لیے ہدایت وبشارت ہیں۔ کیونکہ وہی اس پر ایمان لاتے ہیں اس کی اتباع کرتے ہیں اسے سچا جانتے ہیں اس میں حکم احکام ہیں ان پر عمل کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو نمازیں صحیح طور پر پڑھتے ہیں فرضوں میں کمی نہیں کرتے اسی طرح فرض زکوٰۃ کو بھی نہیں روکتے، دار آخرت پر کامل یقین رکھتے ہیں موت کے بعد کی زندگی اور جزا سزا کو بھی مانتے ہیں۔ جنت ودوزخ کو حق جانتے ہیں۔ چنانچہ اور روایت میں بھی ہے کہ ایمانداروں کے لیے تو یہ قرآن ہدایت اور شفاہے اور بے ایمانوں کے کان تو بہرے ہیں ان میں روئی دئیے ہوئے ہیں۔

اس سے خوشخبری پرہیزگاروں کو ہے اور بدکرداروں کو اس میں ڈراوا ہے۔ یہاں بھی فرماتا ہے کہ جو اسے جھٹلائیں اور قیامت کے آنے کو نہ مانیں ہم بھی انہیں چھوڑ دیتے ہیں ان کی برائیاں انہیں اچھی لگنے لگتی ہیں۔ اسی میں وہ بڑھتے اور پھولتے پھلتے رہتے ہیں اور اپنی سرکشی اور گمراہی میں بڑھتے رہتے ہیں۔ ان کی نگاہیں اور دل الٹ جاتے ہیں انہیں دنیا اور آخرت میں بدترین سزائیں ہونگی اور قیامت کے دن تمام اہل محشر میں سب سے زیادہ خسارے میں یہی رہیں گے بیشک آپ اے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے ہی قرآن لے رہے ہیں۔ ہم حکیم ہیں امرو نہی کی حکمت کو بخوبی جانتے ہیں علیم ہیں چھوٹے بڑے تمام کاموں سے بخوبی خبردار ہیں۔ پس قرآن کی تمام خبریں بالکل صدق وصداقت والی ہیں اور اس کے حکم احکام سب کے سب سراسر عدل والے ہیں جیسے فرمان ہے آیت «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا ۭلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» ‏‏‏‏ ۱؎ [6-الأنعام:1] ‏‏‏‏ [6-الأنعام:115] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

طس، یہ آیتیں ہیں قرآن کی (یعنی واضح) اور روشن کتاب کی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 1){ طٰسٓ تِلْكَ اٰيٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ كِتَابٍ مُّبِيْنٍ:} یہاں قرآن کا ذکر پہلے ہے جب کہ سورۂ حجر میں اس کے برعکس کتاب کا ذکر پہلے ہے، وہاں فرمایا: «{ الٓرٰ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ وَ قُرْاٰنٍ مُّبِيْنٍ }» [ الحجر: ۱ ] {” الٓرٰ۔} یہ کامل کتاب اور واضح قرآن کی آیات ہیں۔“ یہ فرق کیوں ہے؟ ابو حیان اور زمخشری کے مطابق یہ فرق ظاہر نہیں ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ بعض معطوف علیہ اور معطوف ایسے ہوتے ہیں جن میں سے کسی کو پہلے ذکر کرنے کی کوئی وجہ ترجیح نہیں ہوتی، جسے چاہو پہلے ذکر کر دو اور جسے چاہو بعد میں، جیسا کہ {” وَ قُوْلُوْا حِطَّةٌ “} اور {” وَ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا “} میں ہے۔ قرآن اور کتاب کے عطف کا معاملہ بھی یہی ہے، جبکہ بعض ایسے ہوتے ہیں جن میں معطوف علیہ کو پہلے لانے کی وجہ ظاہر ہوتی ہے، جیسے: «{ شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآىِٕمًۢا بِالْقِسْطِ }» [ آل عمران: ۱۸ ] ”اللہ نے گواہی دی کہ حقیقت یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی، اس حال میں کہ وہ انصاف پر قائم ہے۔“ ابن عاشور نے ایک وجہ ترجیح بیان کی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ سورۂ حجر میں اس آیت کے بعد کفار کے قیامت کے دن حسرت و افسوس کا ذکر ہے، جب کہ یہاں اس کے بعد ایمان والوں کے لیے اس کے ہدایت اور بشارت ہونے کا ذکر ہے۔ کفار کو چونکہ قرآن پڑھنے سے کوئی تعلق نہیں، اس لیے وہاں کتاب کا ذکر پہلے فرمایا، کیونکہ کتاب تو ہر حال میں ان پر حجت ہے۔ مومنین کا تعلق قرآن لکھنے سے زیادہ پڑھنے کے ساتھ ہے، اس لیے یہاں قرآن کا ذکر پہلے فرمایا۔ (التحریر والتنویر)
← پچھلی آیت پوری سورۃ اگلی آیت (2) →